Popunder ads

Breaking

China لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
China لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 2 مارچ، 2020

2:09 PM

کروناوائرس،مصرکی خاتون وزیر ِصحت کادورۂ چین

چین سےپھیلنےوالے کرونا وائرس دنیابھرکومتاثرکرچکاہےتاہم  وائرس پھیلنےکےبعد بعض ممالک پرسفری پابندیاں سمیت سرحدیں  بھی بندکردی گئی ہیں۔
اس کےباوجود مصری خاتون وزیر صحت ڈاکٹر ہالہ زاید ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد کے ہمراہ گزشتہ روز( اتوار) کوبیجنگ کادورہ کیا۔
عرب میڈیاکےمطابق بیجنگ روانگی سےقبل قاہرہ کےبین الاقوامی ہوائی اڈے پرصحافیوں سےگفتگوکرتےہوئےمصری خاتون وزیرصحت ڈاکٹرھالہ کاکہناتھاکہ ’’میں صدرعبدالفتاح السیسی کی طرف سے چینی قوم کے لیے ایک تحفہ لےکرجارہی ہوں۔ اس موقعے پر مصرمیں چین کے سفیر بھی موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ چین ہمارا دوست ملک ہے۔آج چین مشکل میں ہے اور ہم چین کی اس مشکل سے نکلنے میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔ مصر چین کے لیے انسانی بنیادوں پر جو کچھ کرسکتا ہے وہ ضرور کرے گا۔
خاتون وزیرنےکامزید کہنا تھاکہ مصرنےکرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ مصراورعالمی ادارٔہ صحت کے ساتھ مکمل ہم آہنگی ہے اوراب بتدریج صورت حال بہترہورہی ہے۔
ڈاکٹرھالہ زاید نےانکشاف کیا کہ مصر میں 1443 افراد کوکروناسےملتی جلتی علامات ظاہرہونےکےبعد اسپتالوں میں داخل کردیاگیاہے تاہم ان کے مکمل طبی معائنے کے بعد ہی یہ معلوم ہوسکے گا کہ آیا وہ کرونا وائرس سےمتاثرہیں یانہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر السیسی نے اتوار کے روز کرونا وائرس سے نمٹنے کے احتیاطی منصوبوں پر ایک اجلاس منعقد کیا اور تمام احتیاطی اقدامات اٹھانے کے لیے سخت صدارتی ہدایات موجود ہیں۔
اس سے قبل مصرمیں عالمی ادارہ صحت کےنمائندے جان جبورنےہفتےکےروزایک پریس بیان میں کہاتھاکہ مصری حکام کرونا وائرس سے نمٹنےکےلیےپیشہ وارانہ طریقےسےکام کر رہے ہیں۔
واضح  رہے کہ  چین سے شروع ہونےوالا کروناوائرس اب دنیاکےکئی ممالک میں پھیل چکا ہے۔ دنیابھرمیں اس وائرس سے 87 ہزار 694 افراد بیمار ہوئے۔ ان میں سے 42 ہزار 689 افراد صحت مند ہوگئے۔ کورونا سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد 2 ہزار 995 ہے۔
کروناوائرس سےمرنےوالوں کی تعداد میں چین سرفہرست جہاں اب تک 2 ہزار 870 افراد ہلاک ہوچکےہیں۔ جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 79 ہزار 828 ہو گئی ہے۔
2:01 PM

چاند پر ریت کی 40 فٹ گہری تہہ دریافت

Spread the love
بیجنگ: چینی ماہرین نے چاند کے تاریک حصے پر بھیجے گئے خودکار مشن کی مدد سے وہاں ایک بڑے گڑھے میں بھری ہوئی، ریت کی ایک موٹی تہہ دریافت کر لی ہے جو 40 فٹ تک گہری ہے۔ اب تک ہمارا یہی خیال تھا کہ چاند ایک پتھریلی جگہ ہے جس کی سطح پر تھوڑی بہت ریت بھی بکھری ہو ئی ہے، لیکن گزشتہ برس چاند پر اُترنے والی گاڑی (روور) ’’یوٹو 2‘‘ کی تازہ دریافت سے اندازہ ہوتا ہے کہ چاند پر ہمارے سابقہ اندازوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ریت موجود ہوسکتی ہے۔
واضح رہے کہ خلائی گاڑی ’’یوٹو 2‘‘ چاند پر بھیجے گئے چینی مشن ’’چانگ ای 4‘‘ کا حصہ ہے جبکہ یہ چاند کے تاریک حصے پر کامیابی سے اترنے والی اوّلین متحرک انسانی مشین بھی ہے۔ ’’چاند کے تاریک حصے‘‘ سے مراد چاند کا وہ حصہ ہے جو ہمیشہ زمین سے مخالف سمت پر رہتا ہے اور ہمیں دکھائی نہیں دیتا۔
چاند کا قریبی مشاہدہ کرنے کےلیے اس گاڑی کو خصوصی آلات سے لیس کیا گیا ہے جن میں ایک ہائی فریکوئنسی ریڈار بھی شامل ہے جو چاند کی پتھریلی سطح کے اندر، سیکڑوں فٹ کی گہرائی میں جھانک سکتا ہے۔
اس ریڈار کے ذریعے چینی ماہرین پچھلے ایک سال سے چاند کا وہ اندرونی حصہ کھنگال رہے ہیں جو سطح کے قریب یعنی قدرے کم گہرائی پر ہے۔ اسی تحقیق سے معلوم ہوا کہ چاند کی سطح پر ریت کی تہہ ہمارے اندازوں کے مقابلے میں خاصی زیادہ ہے۔
یہ بات دلچسپی سے پڑھی جائے گی کہ چاند پر موجود ریت، زمینی ساحلوں پر اور ریگستانوں میں پائی جانے والی ریت سے بھی زیادہ باریک اور کسی باریک سفوف کی مانند ہے۔
ماہرین اس نکتے پر متفق ہیں کہ یہ ریت آج سے اربوں سال پہلے ہونے والے شہابی تصادموں کی باقیات میں سے ہے، جنہوں نے چاند کی بڑی بڑی چٹانوں کو ریزہ ریزہ کرکے باریک سفوف جیسی شکل میں تبدیل کردیا تھا۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جب زمین اور چاند نئے نئے وجود میں آئے تھے تو اُس زمانے میں ان دونوں پر شہابِ ثاقب کی گویا بارش برس رہی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زمین پر پانی، ہوا اور دوسرے قدرتی عوامل کے نتیجے میں شہابِ ثاقب کی کم و بیش تمام باقیات غائب ہوگئیں لیکن چاند پر ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ اسی بناء پر چاند کی سطح گزشتہ تین یا ساڑھے تین ارب سال سے تقریباً ایسی ہی چلی آرہی ہے۔
انسان کا منصوبہ ہے کہ مستقبل قریب یا بعید میں وہ چاند پر بھی بستیاں بسائے گا… اور ان بستیوں کی درست منصوبہ بندی کرنے کےلیے ہمارا یہ جاننا ضروری ہے کہ چاند کی سطح پر مضبوط و ہموار چٹانیں کہاں کہاں واقع ہیں؛ ریت کیسی ہے، کتنے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے اور اس کی گہرائی کتنی ہے، وغیرہ۔
ان سب کے علاوہ، چاند کی سطح پر موجود ریت پر مزید تحقیق کرکے ہم چاند کے علاوہ زمین اور نظامِ شمسی کے اپنے ابتدائی ادوار اور ارتقاء کو زیادہ بہتر طور پر سمجھنے میں بھی مدد لے سکیں گے۔
10:29 AM

چینی خلائی گاڑی نے چاند پر ریت کی 40 فٹ گہری تہہ دریافت کرلی

بیجنگ(انٹرنیشنل ڈیسک)چینی ماہرین نے چاند کے تاریک حصے پر بھیجے گئے خودکار مشن کی مدد سے وہاں ایک بڑے گڑھے میں بھری ہوئی، ریت کی ایک موٹی تہہ دریافت کر لی ہے جو 40 فٹ تک گہری ہے۔ اب تک ہمارا یہی خیال تھا کہ چاند ایک پتھریلی جگہ ہے جس کی سطح پر تھوڑی بہت ریت بھی بکھری ہو ئی ہے، لیکن گزشتہ برس چاند پر اْترنے والی گاڑی (روور) ’’یوٹو 2‘‘ کی تازہ دریافت سے اندازہ ہوتا ہے کہ چاند پر ہمارے سابقہ اندازوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ریت موجود ہوسکتی ہے۔واضح رہے کہ خلائی گاڑی ’’یوٹو 2‘‘ چاند پر بھیجے گئے چینی مشن ’’چانگ ای 4‘‘ کا حصہ ہے۔