Popunder ads

Breaking

facebook لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
facebook لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 4 مارچ، 2020

10:24 AM

ایف آئی اے اور فیس بک ہو گئیں ایک، کس مقصد کیلئے ان کو اکٹھا ہونا پڑا؟؟ جانئے اس خبر میں

اس کے علاوہ جدید سوشل میڈیا رجحانات اور ٹرینڈز سے آگاہ رکھنے کے لیے افسران کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے لیے تربیت فراہم کرنے کی بھی پیشکش کی ہے۔
ایشیا پیسیفک کے فیس بک ہیڈکوارٹر کی ایک انتظامی ٹیم نے سیفٹی پالیسی کے سربراہ ایمبر ہاکس اور ٹرسٹ اینڈ سیفٹی کے منیجر مائیکل یون کی سربراہی میں ایف آئی کے ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا کے دفتر کا دورہ کیا اور سائبر جرائم کی روک تھام بالخصوص بچوں اور خواتین کی حفاظت کے لیے تعاون پر گفتگو کی۔
ملاقات کے حوالے سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل احسان صدیق اور ڈائریکٹر وقار احمد چوہان نے فیس بک ٹیم کو سائبر جرائم کا مقابلہ کرنے کے لیے ادارے کے کردار کے بارے میں بریف کیا۔
علاوہ ازیں ڈیٹا شیئرنگ میں باہمی اشتراک اور تعاون کے معاملات کے ساتھ ساتھ پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین میں سائبر جرائم کی آگاہی پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
ایف آئی اے کے بیان کے مطابق ’اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ ادارہ خواتین اور بچوں کے خلاف سائبر جرائم پر فیس بک سے رابطے کے لیے ہر صوبے میں سائبر کرائم ونگ کا ایک فوکل پرسن نامزد کرے گا‘۔
دوسری جانب قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونکیشن کا بھی اجلاس ہوا۔
سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونکیشن اور پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین نے کمیٹی کو سٹیزن پروٹیکشن (اگینسٹ آن لائن ہارم) رولز 2020 پر بریف کیا تاہم کمیٹی بریفنگ سے مطمئن نہیں ہوئی۔
کمیٹی اراکین کی آرا یہ تھی کہ ان قواعد پر قومی اسمبلی میں بات ہونی چاہیئے جس کے بعد انہیں مزید وضاحت کے لیے اسٹینڈنگ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بھیجنا چاہیئے۔
اراکین نے کہا کہ کمیٹی کی تجاویز کے بعد بھی ان مذکورہ بالا قواعد کو ایوان میں بھجوانا چاہیئے۔
کمیٹی نے اجلاس کا ایجنڈا موخر کرتے ہوئے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی، وزارت قانون و انصاف، پی ٹی اے، نیکٹا، این ٹی سی اور ایف آئی اے کو آئندہ اجلاس میں اراکین کو مزید بریف کرنے کی ہدایت کردی۔

10:17 AM

ایف آئی اے اور فیس بک ہو گئیں ایک، کس مقصد کیلئے ان کو اکٹھا ہونا پڑا؟؟ جانیئے اس رپورٹ میں

اس کے علاوہ جدید سوشل میڈیا رجحانات اور ٹرینڈز سے آگاہ رکھنے کے لیے افسران کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے لیے تربیت فراہم کرنے کی بھی پیشکش کی ہے۔
ایشیا پیسیفک کے فیس بک ہیڈکوارٹر کی ایک انتظامی ٹیم نے سیفٹی پالیسی کے سربراہ ایمبر ہاکس اور ٹرسٹ اینڈ سیفٹی کے منیجر مائیکل یون کی سربراہی میں ایف آئی کے ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا کے دفتر کا دورہ کیا اور سائبر جرائم کی روک تھام بالخصوص بچوں اور خواتین کی حفاظت کے لیے تعاون پر گفتگو کی۔
ملاقات کے حوالے سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل احسان صدیق اور ڈائریکٹر وقار احمد چوہان نے فیس بک ٹیم کو سائبر جرائم کا مقابلہ کرنے کے لیے ادارے کے کردار کے بارے میں بریف کیا۔
علاوہ ازیں ڈیٹا شیئرنگ میں باہمی اشتراک اور تعاون کے معاملات کے ساتھ ساتھ پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین میں سائبر جرائم کی آگاہی پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
ایف آئی اے کے بیان کے مطابق ’اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ ادارہ خواتین اور بچوں کے خلاف سائبر جرائم پر فیس بک سے رابطے کے لیے ہر صوبے میں سائبر کرائم ونگ کا ایک فوکل پرسن نامزد کرے گا‘۔
دوسری جانب قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونکیشن کا بھی اجلاس ہوا۔
سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونکیشن اور پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین نے کمیٹی کو سٹیزن پروٹیکشن (اگینسٹ آن لائن ہارم) رولز 2020 پر بریف کیا تاہم کمیٹی بریفنگ سے مطمئن نہیں ہوئی۔
کمیٹی اراکین کی آرا یہ تھی کہ ان قواعد پر قومی اسمبلی میں بات ہونی چاہیئے جس کے بعد انہیں مزید وضاحت کے لیے اسٹینڈنگ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بھیجنا چاہیئے۔
اراکین نے کہا کہ کمیٹی کی تجاویز کے بعد بھی ان مذکورہ بالا قواعد کو ایوان میں بھجوانا چاہیئے۔
کمیٹی نے اجلاس کا ایجنڈا موخر کرتے ہوئے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی، وزارت قانون و انصاف، پی ٹی اے، نیکٹا، این ٹی سی اور ایف آئی اے کو آئندہ اجلاس میں اراکین کو مزید بریف کرنے کی ہدایت کردی۔

ہفتہ، 29 فروری، 2020

6:19 PM

‏گوگل، فیس بک اورٹوئیٹرکی پاکستان میں سروس بند کرنے کی دھمکی

سرچ انجن ‏گوگل، سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک اور ٹوئیٹر نے پاکستان میں اپنی سروسز بندکرنے کی دھمکی دے دی۔
تفصیلات کے مطابق  ‏ایشیائی انٹرنیٹ کولیشن ( اے آئی سی) گروپ  نے پاکستان میں سوشل میڈیا ریگولیش کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان کو خط لکھ دیا۔
خط میں وزیر اعظم کو مخاطب کرکے کہا گیا کہ‏پاکستان میں سوشل میڈیا سے متعلق نئے قوانین پر عمل اے آئی سی  کے لیے  بہت مشکل ہے۔
خط میں لکھا گیا کہ  ‏گوگل،فیس بک اور ٹوئیٹر سروسز بند ہونے سے عام صارف اور کاروباری حضرات  سمیت 70 ملین صارف متاثرہوں گے۔‏
ذرائع کے مطابق ‏ اے آئی سی  کی جانب سے خط ملنے کے بعد وفاقی حکومت  نے نئے سوشل میڈیا قوانین پر عملدرآمد روکنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
وزارت آئی ٹی  کے حکام   کے مطابق ‏نئے سوشل میڈیا قوانین پر نظرثانی اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے لیےکمیٹی قائم کردی گئی ہے۔4 رکنی کمیٹی نئے سوشل میڈیا  قوانین پر عملدر آمد روک کر اس کا جائزہ لےگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ‏وفاقی حکومت کی قائم کردہ کمیٹی تمام شراکت داروں سے مشاورت کرے گی۔‏‏کمیٹی کےسربراہ چیئر مین پی ٹی اے میجر جنرل ریٹائرڈ عامر عظیم باجوہ ہوں گے۔
‏کمیٹی میں ڈیجیٹل پاکستان کی سربراہ تانیہ ایدروس،سوشل میڈیافوکل پرسن ڈاکٹر ارسلان   اور ‏ایڈیشنل سیکرٹری وزارت آئی ٹی  اس کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ‏مشاورتی عمل میں وزیرانسانی حقوق شیریں مزاری ، بیرسٹرعلی ظفر کو بھی شامل کیا  جائے گا۔‏کمیٹی 2 ماہ میں حتمی رپورٹ تیار کرکے وزیر اعظم کو پیش کرے گی۔

6:16 PM

گوگل، فیس بک اور ٹوئٹر کی پاکستان میں سروس بند کرنے کی دھمکی

اسلام آباد: حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا قوانین متعارف کرانے کے فیصلے کے بعد  فیس بک، گوگل اور ٹوئٹر نے پاکستان سے میں سروسز بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔
سوشل میڈیا کی بڑی کمپنیوں نے دھمکی پاکستان کے نئے مجوزہ سوشل میڈیا قوانین کی وجہ سے دی ہے۔
اس حوالے سے ایشیائی انٹرنیٹ کولیش گروپ (اے آئی سی جی) نے مجوزہ سوشل میڈیا ریگولیش کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھ دیا ہے۔
مزید پڑھیں: 
ایشیائی انٹرنیٹ کولیش گروپ نے خط میں کہا ہے پاکستان میں سوشل میڈیا سے متعلق نئے قوانین پرعمل اے آئی سی کیلئے مشکل ہے۔
خط  میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں گوگل، فیس بک اور ٹوئیٹر سروس بند ہونے سے 70 ملین صارفین متاثر ہوں گے۔ ان قوانین سےعام صارف اور کاروباری حضرات بھی متاثر ہوں گے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ  نئے قوانین کے تحت پاکستان میں سروسز جاری رکھنا بہت مشکل ہے۔
خیال رہے کہ ایشیائی انٹرنیٹ کولیش گروپ فیس بک، گوگل اور ٹوئٹر ایشیائی انٹرنیٹ کولیش گروپ کا حصہ ہیں۔
خیال رہے کہ سوشل میڈیا سے متعلق مجوزہ قوانین پر مشاورت کے لیے وفاقی حکومت نے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
مزید پڑھیں: 
اعلامیہ کے مطابق چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) عامر عظیم باجوہ کمیٹی کے چیئرمین مقرر کردیے گئے ہیں۔
اعلامیہ کے مطابق کمیٹی سول سوسائٹی اور ٹیکنالوجی کی کمپنیوں سے قوانین پرمشاورت کرے گی۔ سوشل میڈیا قوانین پر مشاورت کا عمل 2 ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔
سوشل میڈیا سے متعلق مشاورتی کمیٹی کے ارکان میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری، بیرسٹرعلی ظفر،ڈاکٹر ارسلان خالد اور ایڈیشنل سیکرٹری وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی شامل ہیں۔
خیال رہے کہ اس سے قبل وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ سوشل میڈیا قوانین کا مقصد مثبت اظہار رائے یا سیاسی اختلافات کو دبانا نہیں ہے۔
18 فروری کو سوشل میڈیا کے مجوزہ قوانین پر نظرثانی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے عمران خان نے مجوزہ قوانین پر عملدرآمد سے قبل اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کی ہدایت کر دی تھی۔
6:06 PM

فیس بک نے کریئرٹراسٹوڈیو موبائل ایپ لانچ کر دی

ویب ڈیسک :فیس بک نے اپنے صارفین کے لیے کریئرٹراسٹوڈیوموبائل ایپ متعارف کروادی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق فیس بک نے پہلی بار انڈروئڈ صارفین کے لیے ایک ایسی ایپ متعارف کروائی ہے جس کی مدد سے صارفین اب موبائل فون سے اپنے متعلقہ فیس بک پیجز بھی چلاسکے گے ۔اس  ایپ کومتعارف کروانے کا مقصد  پیجز چلانے والے صارفین   کو موبائل پر یہ سہولت مہیا کرنا ہے ۔

بدھ، 26 فروری، 2020

12:02 PM

فیس بک نے کریئرٹراسٹوڈیو موبائل ایپ لانچ کر دی

فیس بک نے اپنے صارفین کے لیے کریئرٹراسٹوڈیوموبائل ایپ متعارف کروادی ہے ۔تفصیلات کے مطابق فیس بک نے پہلی بار انڈروئڈ صارفین کے لیے ایک ایسی ایپ متعارف کروائی ہے جس کی مدد سے صارفین اب موبائل فون سے اپنے متعلقہ فیس بک پیجز بھی چلاسکے گے ۔اس  ایپ کومتعارف کروانے کا مقصد  پیجز چلانے والے صارفین   کو موبائل پر یہ سہولت مہیا کرنا ہے ۔اس ایپ کی مدد سےآپ بطور ایڈمن اپنے پیج کی تمام سرگرمیاں،کونٹینٹ  اور کارکردگی بھی دیکھ سکیں گے اور اس کے علاوہ پیچ کے صارفین سے بھی رابطہ کر سکیں گے ۔ فرق صرف اتناہے کہ آپ اب اپنے فیس بک پیجز کو ڈسک ٹاپ کی بجائے موبائل پر بھی استعمال کر سکیں گے ۔ 

جمعرات، 23 جنوری، 2020

4:45 PM

فیس بک نے واٹس ایپ سے متعلق اپنا متنازع منصوبہ فی الحال روک دیا

فیس بک نے واٹس ایپ سے متعلق اپنا متنازع منصوبہ فی الحال روک دیا ہے۔فیس بک نے فروری 2014میں 2کروڑ 20لاکھ ڈالرز کی خطیر رقم میں واٹس ایپ کو خریدا تھا۔ واٹس ایپ کے شریک بانیان جین کوم اور بریان ایکٹن مسلسل اس منصوبے کی مخالفت کرتے رہے اور پھر یہی ان کے کمپنی سے استعفے کی بھی وجہ بنی۔ٹیک پوائنٹ کے مطابق وال اسٹریٹ جنرل نے اپنی ایک رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ جین کوم اور بریان ایکٹن نے کمپنی سے جانے سے پہلے واٹس ایپ کی ٹرمز آف سروس یعنی خدمت کی شرائط میں تبدیلی کرتے ہوئے واضح طور پر ایپ میں اشتہارات شامل کرنے پر پابندی لگا دی جس کے باعث فیس بک کے لیے اس سلسلے میں دشواریاں اور بڑھ گئیں۔فیس بک ماضی میں بھی اپنی ٹرمز آف سروس کو تبدیل کر چکا ہے لیکن واٹس ایپ پر اشتہارات چلانے کے لیے اسے صارفین سے باقاعدہ نوٹیفکیشن چاہیے جو کہ ان کے لیے تعلقات عامہ کے مسائل پیدا کرے گا۔ابھی تک فیس بک نے مکمل طور پر واٹس ایپ سے اشتہارات ہٹانے کے منصوبے کو ترک نہیں کیا ہے بلکہ اب وہ واٹس ایپ کے اسٹیٹس پر اشتہارات چلانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔یاد رہے کہ واٹس ایپ اپنے آغاز کے وقت ایک سال کے لیے فری ہوتا تھا جس کے بعد صارفین سے تقریبا ایک ڈالر یعنی 0.99 ڈالر سالانہ فیس وصول کی جاتی تھی، لیکن فیس بک نے واٹس ایپ کو خریدنے کے بعد اسی بالکل فری کر دیا تھا اور ایپ کے ذریعے پیسے کمانے کے حوالے سے اپنا الگ منصوبہ سامنے لایا۔