Popunder ads

Breaking

Coronavirus لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Coronavirus لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 8 مارچ، 2020

9:58 AM

کورونا وائرس پر فتح یاب کراچی کا نوجوان ڈسچارج ہوگیا

کرونا وائرس کو شکست دینے والے یحییٰ جعفری کو آغا خان اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان میں کروناوائرس کے پہلے مریض کو صحتیابی کے بعد اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ، 22سالہ طالب علم نجی اسپتال میں زیرعلاج تھا۔
ذرائع کے مطابق22 سالہ نوجوان یحییٰ جعفری اسپتال سے ڈسچارج ہو کر رشتہ داروں کے گھر شفٹ ہو گئے، یحییٰ جعفری کچھ دنوں تک رشتہ داروں کے گھر قیام کریں گے
یاد رہے گذشتہ روز ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے مریض کے صحت یاب ہونے سے متعلق اعلان کرتے ہوئے کہا تھا بہت خوشی ہےسندھ میں کرونا وائرس کا پہلا مریض صحتیاب ہوا، علاج کےبعد مریض کا کرونا ٹیسٹ منفی آیا ہے، نوجوان کو جلد اسپتال سے ڈسچارج کیا جائے گا۔
محکمہ صحت سندھ نے بھی  کرونا وائرس کے پہلے مریض یحییٰ جعفری کے صحت یاب ہونے کی تصدیق کی تھی۔
کراچی کے نوجوان نے کورونا وائرس کو شکست دے دی
 واضح رہے کہ 22 سالہ یحی جعفری میں 26 فروری کو کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جبکہ 22 سالہ یحییٰ جعفری 20 فروری کو بذریعہ پرواز ایران سے کراچی آیا تھا۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق پھیپھڑوں کے شدید عارضے میں مبتلا کرنے والا وائرس جو چین سے شروع ہوا تھا اب 38 ممالک تک پھیل چکا ہے۔ چین میں اب تک کورونا وائرس سے 78 ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 2700 ہلاک ہوئے ہیں۔
یہ وائرس پاکستان اور اس کے ہمسایہ ممالک میں پہنچ چکا ہے۔ پاکستان میں اگرچہ اس کے صرف دو کیسز کی تصدیق ہوئی ہے تاہم ایران اور افغانستان سے ملحق سرحدوں کے علاوہ بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر سکریننگ بڑھا دی گئی ہے۔
ہزاروں افراد کا علاج اب بھی جاری ہے اور شاید کچھ مر بھی جائیں اس لیے شرح اموات بڑھ بھی سکتی ہے لیکن یہ بھی غیر واضح ہے کہ ہلکی پھلکے علامات والے کتنے کیسز ہیں جو رپورٹ ہی نہیں ہوئے، اس صورت میں شرح اموات کم بھی ہو سکتی ہے
9:51 AM

Coronavirus: اٹلی میں 1 کروڑ 60 لاکھ افراد کو لاک ڈاؤن کا سامنا

Getty Images
اٹلی نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ افراد کی آبادی پر مشتمل علاقے کو لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس میں لمبارڈی اور شمالی اور مشرقی اٹلی کے گیارہ صوبے بھی شامل ہیں۔
قرنطینہ کا دورانیہ اپریل کے اوائل تک جاری رہے گا۔
ملک میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں اور جمنیزیم، سوئمنگ پولز، میوزیم اور سکینگ ریزارٹ بند کر دیے جائیں گے۔
اٹلی یورپ میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔
اتوار کو شروع ہونے والے ان اقدامات کی زد میں ملکی اقتصادیات کے اہم مراکز میلان اور سیاحتی مقام وینس بھی آئیں گے۔
اٹلی میں ہلاکتوں کی تعداد 230 سے تجاوز کر گئی ہے۔ حکام کی جانب سے جاری رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 50 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
سنیچر کو سامنے آنے والے اعدادوشمار کے مطابق متاثرہ افراد کی تعداد 1200 سے بڑھ کر 5883 تک پہنچ چکی ہے۔

چین میں قرنطینہ کے لیے مختص ہوٹل منہدم

AFP
یہ ہوٹل 2018 میں کھلا اور اس میں 80 کمرے تھے۔
چین کے شہر کونزو میں شینجیا ہوٹل کی عمارت زمیں بوس ہوگئی ہے۔ اس عمارت کو کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے لیے قرنطینہ کی سہولت کے لیے استعمال کیا جارہا تھا۔
پانچ منزلہ اس عمارت میں کل 70 افراد تھے جن میں سے 40 کو ملبے سے نکال لیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں ایمرجنسی ورکرز کو عمارت کے ملبے میں لوگوں کو تلاش کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس بات کی ابھی تک نشاندہی نہیں ہو سکی کہ یہ عمارت کیوں گری اور ابھی تک کتنے لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔
یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق ساڑھے سات بجے پیش آیا۔ چینی مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ ہوٹل قرنطینہ کے لیے استعمال کیا جارہا تھا اور ان میں وہ افراد موجود تھے جن کا کورونا وائرس لاحق ہونے والے افراد کے ساتھ قریبی تعلق رہ چکا تھا۔
یہ ہوٹل 2018 میں کھلا اور اس میں 80 کمرے تھے۔
EPA
چینی مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ ہوٹل کرنتھینا کے لیے استعمال کیا جارہا تھا
یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق شام سات بجکر 30 منٹ پر پیش آیا۔
یہ ہوٹل سنہ 2018 میں کھلا تھا اور اس میں 80 گیسٹ روم ہیں۔
چین کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ اس عمارت کو کورونا وائرس کے مریضوں سے رابطے میں رہنے والے افراد کی مانیٹرنگ کی غرض سے قرنطینہ کی سہولت کے لیے استعمال کیا جارہا تھا۔
بیجنگ نیوز سے بات کرتے ہوئے ایک عورت نے کہا کہ ان کے رشتہ دار جن میں ان کی بہن بھی شامل تھیں، اس عمارت میں قائم قرنطینہ میں موجود تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ خود بھی ایک دوسرے ہوٹل میں جو قرنطینہ کے لیے استعمال ہو رہا ہے، میں موجود ہیں۔
Twitter/ Global Times
جمعے کے روز چینی ریاست فوجیان کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں کورونا وائرس کے 296 کیسز ہیں جبکہ دس ہزار سے زائد لوگوں کو نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
صحت کے عالمی ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً ایک لاکھ لوگوں کو وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، زیادہ تر ہلاکتیں چینی صوبے ہوبائی میں ہوئی ہیں جہاں سے اس وائرس کی شروعات ہوئی۔

دنیا بھر میں کورونا وائرس کی صورتحال

پوپ فرانسس کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر اتوار کے روز کی دعا ِ خصوصی اینجلس پریئر، اجتماع کے بجائے انٹرنیٹ پر لائیو سٹریم کے دوران کریں گے۔
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ساحل کے نزدیک روکے گئے بحری جہاز میں موجوں لوگوں میں سے اکیس میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
صحت کے عالمی ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً ایک لاکھ لوگوں کو وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
15 امریکی شہریوں کو بیتلیہم میں قرنطینہ میں ڈال دیا گیا ہے۔
سنیچر کو شائع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق چین کی درآمدات کو وائرس سے شدید نقصان ہوا ہے۔
سلوواکیا، پیرو اور ٹوگو میں کورونا وائرس کے پہلے کیسز سامنے آئے ہیں۔
برطانیہ میں ایک 80 برس کے شخص کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے دوسرے فرد بن گئے ہیں۔
فرانس نے کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے بعد ملک بھر میں سکول بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کینیڈا نے پہلے ایسے کیس کی تصدیق کردی ہے جس میں تشخیص شدہ شخص ملک سے باہر نہیں گیا اور ایسے کیس شخص سے رابطے میں نہیں تھا جسے کورونا وائرس ہو۔
مالٹا میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کی دھمکی کے بعد ایک بحری بیڑے کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔

9:50 AM

کورونا وائرس،متحدہ عرب امارات میں سکول ایک ماہ کے لیے بند

دبئی: کورونا وائرس کے خدشے کے پیش ِ نظر متحدہ عرب امارات نے اتوار سے سکول ایک ماہ کے لیے بند کرنے کا اعلان کردیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق چین سے پھیلنے والا کورونا وائرس اب متحدہ عرب امارات میں بھی اپنے پنجے گاڑنے لگا ہے ۔متحدہ عرب امارات میں کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 30 سے بڑھ کر 45 ہوگئی ہے ۔ کویت میں کورونا وائرس کے  3نئے مریض جبکہ  قطر میں 12 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں ۔
9:16 AM

کورونا وائرس: پہلے سے مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کورونا وائرس سے کیسے بچیں؟

Getty Images
پھیپڑوں کے امراض کے لیے کام کرنے والی برٹس لنگ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ وہ فیس ماسک کے استعمال کی تجویز نہیں دیں گے کیونکہ ان کے موثر ہونے کے زیادہ شواہد موجود نہیں۔
دنیا بھر میں وبائی شکل اختیار کرنے والا کورونا وائرس کسی کو بھی ہوسکتا ہے لیکن ان لوگوں کو کورونا وائرس سے خطرہ زیادہ ہے جو کہ ضیعف ہیں یا جنھیں پہلے سےصحت کے مسائل ہیں۔
اس وائرس سے چین میں ہزاروں کی تعداد میں اموات ہوئی ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں زیاہ تعداد معمر لوگوں کی ہیں جو کے پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا تھے۔
اگر آپ کو پہلے سے کوئی بیماری یا صحت کے مسائل کا سامنا ہے تو آپ کو یہ سوچ کر پریشانی ہو رہی ہوگی۔ یہاں ہم آپ کو کچھ ماہرینِ صحت کی تجاویز بتا رہے ہیں۔

اسی بارے میں

کس کو خطرہ ہے؟

دنیا بھر میں کورونا وائرس کی صورتحال

میں کیسے اس سے بچوں؟

صفائی کا خیال اس وائرس کو مزید پھیلنے سے روک سکتا ہے۔

کیا مجھے فیس ماسک کا استعمال کرنا چاہیے؟

کیا مجھے عوامی مقامات میں جانے سے پرہیز کرنی چاہیے؟

اگر میری طبیعت خراب ہونے لگے تو مجھے کرنا چاہیے؟

Getty Images
سب سے اہم چیز ہے کہ آپ اس انفیکشن کو ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات کریں۔

کیا میں اپنی دوائیاں لینا بند کردوں؟

میں دمے کا مریض ہوں، مجھے کیا کرنا چاہیے؟

مجھے ذیابطیس ہے میں کیا کروں؟

اگر مجھے کوئی اور بیماری ہے تو میں کیا کروں؟

حاملہ خواتین کو خطرہ ہے؟

میں سگریٹ پیتا ہوں، کیا مجھے خطرہ ہے؟

میں عمر رسیدہ ہوں، کیا مجھے خود کو الگ کر لینا چاہیے؟

جمعہ، 6 مارچ، 2020

1:58 PM

جنگلی جانور کھانے پر پابندی عائد، کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے چین کا بڑا فیصلہ

چینی حکام نے جنگلی جانوروں کو پالنے اور فروخت کرنے پر بھی پابندی لگا دی، ماہرین نے حکام کے فیصلے کو احسن اقدام قرار دے دیا۔
حکام نے چمگادڑیں ،سانپ اور دیگر جنگلی جانور کھانے پر پابندی عائد کر دی۔ماہرین صحت نے پہلے بھی خبردار کیا تھا کہ جنگلی جانورکو خوراک کا حصہ بنانے سے مہلک وائرس کو پھیلنے میں مدد مل رہی ہے۔مگر اہل چین بھی کیا کرتے زبان کا چسکا چھوڑے نہیں چھٹتا۔ 
چینی حکام نے جنگلی حیات کو فارمز میں بھی پالنے پر پابندی عائد کی ہے اور ان جانوروں کی مارکیٹ میں فروخت بھی ممنوع ہو گی۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ دو ہزار دو میں سارس وائرس بھی سانپوں کی وجہ پھیلا تھا۔ اب کورونا وائرس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ جنگلی حیات خاص طور پر چمگاڈروں کی وجہ پھیلا ہے۔
1:56 PM

کورونا وائرس کا انسان سے جانور میں منتقلی کاپہلاکیس

فوٹو : اے ایف پی
کورونا وائرس کی انسان سے جانور میں منتقلی کا پہلا کیس رپورٹ ہوگیا، محکمہ صحت کے مطابق ہانگ کانگ میں مہلک مرض سے متاثرہ شخص کے پالتو کتے کا ٹیسٹ بھی پازیٹو آگیا۔
ہانگ کانگ کے طبی ماہرين نے لوگوں کو خبردار کيا ہے کہ کورونا وائرس کے مريض انسانوں کے ساتھ ساتھ پالتو جانوروں سے بھی دور رہيں۔
دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہلاک افراد کی تعداد 3 ہزار 300 سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ متاثرہ مریضوں کی تعداد 96 ہزار سے بھی زیادہ ہے، 53 ہزار مریض صحتیاب ہوچکے ہیں۔
ہانگ کانگ کے محکمہ صحت نے تصدیق کی ہے کہ کورونا وائرس کے ايک مريض کے پالتو کتے ميں ہلکے درجے کا انفيکشن پايا گيا ہے۔
چین سے شروع ہونیوالے مہلک مرض سے ایران، اٹلی، پاکستان، جاپان، جنوبی کوریا، امریکا، برطانیہ، فرانس سمیت دنیا کے 60 کے قریب ممالک میں پھیل چکا ہے۔
12:53 PM

کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلاﺅ کو روکنے کےلئے عمرہ اور مسجد نبوی میں اجتماعات پر عارضی پابندی عائد کی گئی ہے، ترجمان سعودی وزارت خارجہ

ریاض۔ 5 مارچ (اے پی پی)سعودی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلاﺅ کو روکنے کے لئے عمرہ اور مسجد نبوی میں اجتماعات پر عارضی پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ حرمین الشریفین میں پانچ وقت کی نمازوں کی ادائیگی باقاعدگی سے جاری ہے۔ ترجمان سعودی وزارت خارجہ کے مطابق کرونا وائرس کے باعث عمرہ کی ادائیگی کا عمل عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ عمرہ کی ادائیگی کا عمل عارضی طور پر معطل کرنے کا مقصد کرونا وائرس کے ممکنہ پھیلاﺅ کو روکنا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ حرم کے ساتھ ساتھ مسجد نبوی میں زائرین کے اجتماع پر عارضی پابندی عائد کی گئی ہے تاہم حرمین الشریفین میں پانچ وقت کی نمازوں کی ادائیگی باقاعدگی سے جاری ہے۔
11:36 AM

کورونا وائرس کی وجہ سے 9 سال پرانی فلم کی مقبولیت میں اضافہ

ہالی وڈ کی 9 سال قبل ریلیز ہونے والی فلم ’کونٹیجن‘ نے ریلیز کے وقت باکس آفس پر 60 ملین ڈالرز کمائی کی تھی لیکن اب 2020 میں جان لیوا کورونا وائرس کے پیشِ نظر فلم کی مقبولیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔اسٹیوین سوڈربرگ کی ہدایت کاری میں بننے والی ہالی وڈ فلم ’کونٹیجن‘ کی 2020 میں مقبولیت کی وجہ کووڈ 19 یعنی کورونا وائرس ہے کیونکہ اس فلم کی کہانی افسانوی بیماری ’ایم ای وی-1‘ پر مبنی ہے جو کہ ایشیا سے پھیلنے کے بعد دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کی ہلاکتوں کی وجہ بنی۔’ وارنر بروس‘ کی 2011 میں ریلیز ہونے والی فلم اب 2020 میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی فلموں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر آگئی ہے۔لوگوں کو اس فلم میں افسانوی اور حقیقی بیماری میں کافی حد تک مماثلت نظر آئی اور یہی وجہ ہے کہ 9 سال بعد دوبارہ اس فلم کو بے شمار لوگوں کی جانب سے دیکھا جانے لگا۔فلم ’کونٹیجن‘ ریلیز کے 9 سال بعد آئی ٹیونز کی ٹاپ 10 فہرست میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ ایمازون پرائم کے چارٹ میں بھی سب سے اوپر ہے۔ہالی وڈ کی اس فلم میں دکھائی جانے والی افسانوی بیماری حقیقی کورونا وائرس سے زیادہ خطرناک وبا دکھائی گئی ہے۔اس حوالے سے فلم کے پروڈیوسر مائیکل شیمبرگ کا کہنا ہے کہ ’ہم لوگوں کو ڈرانا نہیں چاہتے کہ وہ سب مرنے والے ہیں‘۔فلم کے پروڈیوسر نے مزید کہا کہ ’اگر یہ ڈرؤانی ہے تو اس کا صرف یہ مقصد ہے کہ لوگوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے حوالے سے ڈرانا ہے‘۔واضح رہے کہ فلم کی کہانی میں ایک ایسی خاتون کو دکھایا گیا ہے جو کہ ہانگ کانگ سے واپس آنے کے بعد مر جاتی ہیں اور ان کی مرنے کی وجہ ایک ایسی بیماری ہوتی ہے جس سے انسان نا واقف ہوتے ہیں۔علاوہ ازیں فلم میں دکھایا گیا ہے کہ مرنے والی خاتون کے شوہر کو بھی کچھ دن بعد ایسی ہی علامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کے بعد اس افسانوی وبا کیخلاف جنگ کا آغاز ہوتا ہے۔فلم ’کونٹیجن‘ میں محققین اس افسانوی وبا کے خلاف ویکسین تیار کرنے میں بھی کامیاب ہوگئے تھے۔
11:02 AM

کرونا وائرس کا پھیلاؤ: امریکی ریاست کیلی فورنیا میں ایمرجنسی نافذ

ویب ڈیسک — 
امریکہ میں کرونا وائرس سے 11 ہلاکتوں اور نئے کیسز سامنے آنے کے بعد ریاست کیلی فورنیا میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
​ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ بدھ کو کیلی فورنیا میں ہونے والی پہلی ہلاکت کے فوری بعد کیا گیا ہے۔ اس سے قبل ریاست واشنگٹن میں کرونا وائرس سے 10 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیورم نے ایمرجنسی کے نفاذ کے ساتھ ہی ایک بیان بھی جاری کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کیلی فورنیا میں کرونا وائرس سے مجموعی طور پر اب تک 53 افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔
کیلی فورنیا کے گورنر کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ کررونا وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے ہر سطح پر کوششیں کی جا رہی ہیں۔
10:55 AM

امریکہ میں کرونا وائرس سے مزید 2 اموات، تعداد 11 ہوگئی

ویب ڈیسک — 
امریکہ میں کرونا وائرس سے مزید دو افراد چل بسے جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد گیارہ ہوگئی ہے۔ ان میں سے دس اموات ریاست واشنگٹن میں ہوئی ہیں جبکہ بدھ کو شمالی کیرولائنا میں ایک شخص کا انتقال ہوا۔
کیلی فورنیا کی لاس اینجلس کاؤنٹی میں وائرس کے چھ مریضوں کی تصدیق کے بعد ہیلتھ ایمرجنسی لگادی گئی ہے جبکہ نیویارک میں 9 نئے کیس سامنے آئے ہیں۔
امریکہ میں وائرس میں مبتلا افراد کی تعداد کم از کم 130 ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ٹیسٹ کا دائرہ بڑھایا جائے تو مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی وائرس کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ خاص طور پر اس کا نشانہ چین ہے جہاں 119 نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور 38 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ 20 جنوری کے بعد یہ چین میں سب سے کم تعداد ہے۔ چین کے بعد سب سے زیادہ متاثر ملک جنوبی کوریا میں کیسز کی تعداد 5200 سے زیادہ ہوچکی ہے۔ ایران میں مریضوں کی تعداد 3 ہزار اور اٹلی میں 2200 تک پہنچ گئی ہے۔
وائرس کی وجہ سے عالمی معیشت سست وری کا شکار ہوئی ہے اور امریکہ کے مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی کا بھی خاص فائدہ نظر نہیں آیا۔
وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے حکومتیں ہرممکن کوششیں کررہی ہیں اور ہر جگہ اولین اقدام کے طور پر تعلیمی ادارے بند کیے جارہے ہیں۔ پاکستان کے علاوہ اٹلی، ایران، متحدہ عرب امارات اور امریکہ کے وائرس سے متاثرہ علاقوں میں اسکول کالج بند کیے گئے ہیں۔
بعض مقامات پر لوگ گھبراہٹ کا شکار ہوئے ہیں اور انھوں نے سازوسامان سے گھر بھر لیے ہیں۔ امریکی شہر سیاٹل میں شہریوں نے اتنی تعداد میں سامان خرید لیا کہ گروسری اسٹورز خالی نظر آرہے ہیں۔ آسٹریلیا میں بھی خاص طور پر ٹشوپیپر اور ٹوائلٹ پیپر اتنی بڑی تعداد میں خریدے گئے ہیں کہ ڈاکٹروں کو شہریوں سے اپیل کرنا پڑی ہے کہ ایسا نہ کریں۔
ادھر سعودی عرب میں اگرچہ کرونا وائرس کے صرف ایک مریض کی تصدیق ہوئی ہے لیکن حکومت نے غیر معمولی اقدامات کیے ہیں۔ اس نے پہلے غیر ملکی زائرین کے عمرہ کرنے پر پابندی لگائی تھی لیکن اب غیر ملکی کارکنوں اور اپنے شہریوں کے عمرہ کرنے اور مدینہ جانے پر پابندی لگادی ہے۔

بدھ، 4 مارچ، 2020

5:18 PM

پنجاب میں کورونا کا کوئی کنفرم مریض نہیں:پنجاب ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ

ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ پنجاب   نے کہا ہے کہ   پنجاب  بھر میں اس وقت کورونا کا کوئی کنفرم مریض زیر علاج نہیں ۔پنجاب ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق صوبہ پنجاب میں اس وقت کورونا وائرس سے متاثر کوئی مریض زیر علا ج  نہیں  جبکہ کورونا وائرس کے 4 مشتبہ مریض آئسولیشن وارڈز میں زیر نگرانی ہیں۔پنجاب ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق اب تک صوبہ بھر کے  ہسپتا لوں میں 51 مشتبہ مریض رپورٹ ہو چکے ہیں ۔ترجمان کے مطابق 47 ریضوں کو کلئیر قرار دیتے ہوئے ڈسچارج کیا جا چکا ہے جبکہ گذشتہ 15 روز میں بیرون ملک سے واپس آئے 2501 سے زائد افراد کی سکریننگ کی گئی ۔پنجاب ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ صوبہ پنجاب کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کرتے ہوئے ڈی ایچ کیو کی سطح پر کورونا وارڈ بنا دیے گئے ۔
5:14 PM

کورونا وائرس: چھٹیوں کی وجہ سے نجی تعلیمی اداروں نے آن لائن کلاسز شروع کردیں

کورونا وائرس کی وجہ سے سندھ کے تعلیمی اداروں کی مسلسل بندش پر طلباء وطالبات کا تعلیمی سال بچانے کے لیے کیمبرج ایجوکیشن سسٹم سے منسلک کراچی کے نجی کالجز نے آن لائن کلاسز کا آغاز کردیا۔کراچی میں آن لائن کلاسز کے لیے اے لیول کے کالجز سیڈر، نکسر اور لائسیم نے  پہل کی ہے، تعلیمی اداروں نے طلبہ کو  اینڈرائیڈ، ایپل موبائل فونز، آئی پیڈز، لیپ ٹاپس اور کمپیوٹر پر  آن لائن کلاسز کی سہولت فراہم کی ہے۔فونز پر ’زوم‘ نامی ایپ کے ذریعے طلبہ گھر بیٹھ کر لائیو اپنی ٹیچر سے اپنے ہی کلاس روم میں لیکچر میں شرکت کرتے ہیں، ہر طالب علم کو اس کے اسکول اور کلاس کا کوڈ فراہم کیا گیا ہے۔ ایپ میں لاگ ان ہونے کے لیے مطلوبہ خانہ پر کرکے پاس ورڈ یا کوڈ انٹر کرنے سے طالب علم کلاس کے مقررہ وقت پر ٹیچر سے آن لائن ہو جاتا ہے، طالب علم اپنی ڈیوائس کا مائیک اور کیمرہ بند کرکے کلاس میں شرکت کر سکتا ہے جب کہ لیکچر کے دوران ٹیچر اسکرین پر  طلبہ کو سمجھا بھی رہا ہوتا ہے۔دوران لیکچر طالب علم کو کوئی سوال پوچھنا ہو تو ’ریز یور ہینڈ‘ کے آپشن میں جاکر تحریری طور پر لکھ سکتا ہے، یہی نہیں متعلقہ لیکچر سے متعلق ٹیچنگ میٹیریل اور نوٹس طالبعلم کو ای میل کیے جاتے ہیں۔آن لائن لیکچر کے دوران طالب علم کی حاضری بھی مانیٹر کی جاتی ہے، موڈریٹرز اس دوران کلاس میں موجود ہوتے ہیں جو آن لائن اٹینڈنس چیک کرتے ہیں۔والدین کی جانب سے نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے اس اقدام کو سراہا جارہا ہے۔واضح رہے کہ ملک میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات کے تحت سندھ حکومت نے تعلیمی اداروں میں 13 مارچ تک تعطیل کا اعلان کیا ہے۔
5:04 PM

کورونا وائرس نے برطانیہ میں پنجے گاڑنا شروع کردیئے، کاروباری سرگرمیوں کو شدید خطرہ

سچ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق برطانوی حکام نے خبر دار کیا ہے کہ وائرس کے حملوں میں تیزی کی صورت میں ہر پانچواں شخص بیماراپڑاسکتا ہے اور ہلاکتیں بھی متوقع ہیں۔
صورتحا ل بدترین ہوئی تو چھوٹے بڑے کاروبار سے منسلک چھ ملین افراد ایک ساتھ رخصت پر چلے جائیں گے جس کے باعث کاروبار کو شدید نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق حکومت نے کمپنیوں سے کہا ہے کہ ملازمین کو گھروں پر رہ کر کام کرنے کی ہدایت کی جائے۔
ورکرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ کام کے دوران چہرہ کو مکمل ڈھانپ کررکھیں، حالات و واقعات کے مطابق ہر شخص شدید دباؤ اور بیماری سے لڑنے کے لیے تیار رہے اور زمہ دارانہ رویہ اپنائے۔ حکام کی جانب سے اسکولوں کو تین ماہ کے لیے بند کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
5:01 PM

کروناوائرس:عالمی بینک کا12ارب ڈالرکےامدادی پیکج کااعلان

عالمی بینک نےکروناوائرس سےنمٹنےکے لیے ہنگامی بنیادوں پر 12 ارب ڈالرکےامدادی پیکج کااعلان کیا ہے۔
فرانسیسی خبررساں ادارےکےمطابق عالمی بینک کےصدرڈیوڈ ملپاس نے پریس  کانفرنس کےدوران کہناتھا کہ ’ہمارا مقصد برق رفتار اور موثر حکمت عملی اپنانا ہے جس کی اشد ضرورت ہے۔
  خبررساں ادارے کےمطابق عالمی  بینک کےصدرڈیوڈ ملپاس کاکہناہےکہ اس رقم میں آٹھ ارب ڈالرنئےہیں جوان ممالک کو دیے جائیں گے جو مدد کی درخواست کریں گے۔
  عالمی بینک کےصدرکامزیدکہناتھا کہ یہ بہت اہم ہےکہ ’ہم غریب ممالک پرپڑنےوالے بوجھ کو سمجھیں‘ جو کووڈ 19 وائرس کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں اور مشکلات کا شکار ہیں۔
عالمی بینک کی جانب سےجاری کردہ بیان کےمطابق اس امدادی رقم کا کچھ حصہ دنیا کےغریب ترین ممالک کےلیےمختص ہےاور اس رقم سے طبی سازوسامان اورطبی خدمات کابندوبست کیاجا ئےگا۔ اس کےعلاوہ ماہرین کی خدمات اورمشاورت بھی لی جاسکیں گی۔
دوسری جانب گزشتہ روز(منگل) کوعالمی ادارہ صحت نےدنیا بھرمیں حفاظتی سامان کی مقدار کم ہونے پرتشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا یہ دنیا بھرمیں وائرس سےنمٹنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے لیے خطرہ ہے۔
ڈبلیوایچ اوکےایمرجنسی پروگرام کےسربراہ مائیکل ریان نےجینیوامیں صحافیوں سےبات کرتے ہوئےکہناتھاکہ ’کئی ممالک میں یہ بیماری بڑے پیمانے پر پھیل چکی ہے۔‘ان کے مطابق جن ممالک میں وائرس بڑی پیمانے پر پھیل چکا ہے وہاں اس کوروکنا مشکل ہے مگر ناممکن نہیں۔
واضح رہےکہ دسمبرمیں وسطی چین سے سامنے آنے والے اس وائرس سےدنیا بھرمیں تین ہزارسےزائد افراد ہلاک  جبکہ 90 ہزار افراد اس وائرس سےمتاثرہو چکے ہیں۔
4:55 PM

عالمی ادارہ صحت کرونا وائرس کی روک تھام کےلئے پاکستانی اقدامات کا معترف

عالمی ادارہ صحت کرونا وائرس کی روک تھام کے لئے پاکستانی اقدامات کا معترف ہو گیا۔مقامی سربراہ کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے نمنٹنے کے لئے پاکستان کے اقدامات کئی ممالک سے بہتر ہیں۔اسلام آباد میں موجود علمی ادارہ صحت کے مقامی سربراہ ڈاکٹر پیلتھا مہیپلا کا کہنا تھا کہ پاکستان نے نہ صرف 2 ہفتوں میں نہ صر ف اس کی تشخیص کی سہولیات حاصل کیں، بلکہ اسے 5 مختلف مقامات پر اسے متعارف بھی کروایا۔پاکستان کی جانب سے اس طرح کے اقدامات قابل تعریف ہیں۔یاد رہے کہ چین کے شہر وہان سے شروع ہونے والا کرونا وائرس اس وقت 73 ممالک میں پہنچ چکا ہے جس سے ابھی تک 90 ہزار افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد3 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔ پاکستان میں بھی یہ وائرس پہنچ گیا ہے جس کے بعد پاکستانی حکومت کی جانب سے بھی اس سے بچنے کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں۔پاکستانی اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کے مقامی سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستا ن کے احکامات باقی کئی ممالک سے بہتر ہیں۔امریکہ ، ہالینڈ اور ہانگ کانگ نے کرونا وائرس کی تشخیص کے لئے 3 لیبارٹریز بنائی ہیں جبکہ پاکستان نے صرف 2 ہفتے میں 5 مقامات پر اس کے تشخیص کا بندوبست کیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کئی ممالک میں تو کرونا وائرس کی تشخٰص کا انتظام ہی نہیں ہے۔

4:48 PM

کورونا وائرس: یورپ میں فضائی مسافروں نے ٹکٹ واپس کرنا شروع کر دیئے

یورپ میں فضائی سفر کرنے والے مسافروں نے اپنے خریدے ہوئے ٹکٹ واپس کرنا شروع کر دیئے۔انٹرنیشنل ایئرٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (IATA) کے مطابق جن مسافروں نے ان دنوں کے لیے ٹکٹ خرید رکھے تھے، ان میں سے آدھے مسافر وائرس کے خوف سے اپنے ٹکٹ واپس کر رہے ہیں اور اس کے لیے کی گئی ادائیگی واپس مانگ رہے ہیں۔ایاٹا نے ایک ائیرلائن کا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس ایئرلائن کی بکنگ میں ایک سو فیصد کمی آگئی ہے اور کوئی اس سے اٹلی کی خریداری نہیں کر رہا۔دوسری جانب ایاٹا نے دنیا بھر کے ایئرپورٹ ٹریفک ریگولیٹرز سے رابطہ کرکے ان سے ایئرپورٹ سلاٹ ریگولیشنز پر نظر ثانی کی اپیل کی ہے۔ان قوانین کے مطابق ایئرلائنز جس ایئر پورٹ پر بھی جاتی ہیں انہیں وہاں تب مناسب جگہ ملتی ہے اگر وہ اس جگہ کا کم از کم 80 فیصد استعمال کریں۔ ایاٹا چاہتی ہے کہ اس صورتحال میں اس قانون کو تبدیل کیا جائے۔
11:18 AM

#coronavirus اور نزلہ زکام میں فرق کیا ہے اور کیسے پتا چلے گا کہ یہ بیماری کورونا ہے یا عام فلُو

Getty Images
کورونا وائرس سے بچاؤ کا واحد طریقہ احتیاط ہے
آج کل فلُو یا نزلے زکام کا موسم ہے، جسے دیکھیں چھینکیں مارتا یا ناک صاف کرتا دکھائی دیتا ہے۔ جسے زکام ہوتا ہے وہ خود ہی کہہ دیتا ہے کہ مجھ سے دور رہیں کہیں آپ کو بھی جراثیم نہ لگ جائیں۔
یا پھر آپ خود ہی اس متاثرہ شخص کے پاس جانے سے پرہیز کرتے ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، ایسا ہر سال ہوتا ہے، تاہم اس مرتبہ ایک بات نئی ضرور ہے۔
آپ لندن میں ٹرین میں بیٹھیں ہیں اور ایک دم کسی کو چھینک یا چھینکیں آنے لگتی ہیں تو پہلے تو لوگ آپ کو غور سے دیکھنے لگتے ہیں اور اس کے بعد آہستہ آہستہ سرکتے ہوئے دور جانے لگتے ہیں۔

یہی حال دوسرے ممالک میں بھی ہے۔ کہیں تو لوگ ایک دوسرے سے ملتے وقت صرف اشاروں کی زبان استعمال کرنے لگے ہیں۔ لطیفے بن رہے ہیں، ویڈیوز اور میمز بن رہی ہیں۔
انٹرنیٹ پر وائرل ایک ویڈیو میں ایران میں دوستوں کو ایک دوسرے سے ہاتھ کے بجائے پیر اور ٹانگیں ملاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ایسا ہی تنزانیہ کے صدر نے بھی کیا۔
یہ ڈر ہے اس نئے وائرس کا جسے نویل کورونا وائرس یا کووڈ ۔ 19 کہتے ہیں اور یہ ڈر آہستہ آہستہ ہمارے دماغوں اور سوچوں میں سرایت کرتا جا رہا ہے، جو کبھی لطیفے کی شکل میں نکلتا ہے تو کبھی فکر کے اظہار کی شکل میں۔
میرا بیٹا جس نے کبھی سردی کی بھی پرواہ نہیں کی آج کل جیب میں سینیٹائیزر لیے گھومتا ہے۔
آخر یہ ڈر کیا ہے؟
STATE HOUSE TANZANIA
تنزانیہ کے صدر جان ماگوفولی حزبِ اختلاف کے سیاستدان معالم سیف شریف حماد سے جوتے ملا کر مل رہے ہیں
اگرچہ یہ موسم فلو کا ہے اور امریکہ سے لے کر پاکستان تک لوگ اس کا شکار ہیں تو پھر بھی لوگ فلو کے متعلق نہیں بلکہ کورونا وائرس کے متعلق ہی بات کر رہے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق انفلوینزا یا فلو کی وجہ سے ہر سال تقریباً 30 سے 50 لاکھ کے قریب انسان شدید بیمار ہوتے ہیں، جن میں سے دو لاکھ 90 ہزار سے لے کر چھ لاکھ 50 ہزار تک متعدد سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔
امریکہ کے سینٹر فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن سینٹر (سی ڈی سی) کے مطابق 2019 سے لے کر 2020 کے فلو کے سیزن میں اب تک 18 ہزار سے 46 ہزار کے درمیان فلو سے جڑی اموات ہوئی ہیں۔
مطلب یہ کہ فلو ایک انتہائی جان لیوا بیماری ہے لیکن ہم ہمیشہ اس کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ آرام کریں یہ خود ہی ایک یا دو ہفتے میں ٹھیک ہو جائے گی۔ فلو اپنا ٹائم لیتا ہے۔ لیکن کورونا؟ یہاں بات ذرا مختلف ہے۔
Reuters
پوری دنیا اس نئے وائرس کا علاج ڈھونڈنے میں لگی ہوئی ہے

کورونا کا خطرہ

عالمی ادارہ صحت کے مطابق کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر دنیا کو ایک ’نامعلوم خطرے‘ کا سامنا ہے۔
عالمی سطح پر اس وائرس سے اموات کی تعداد 3000 سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں زیادہ تر چینی باشندے شامل ہیں۔ تاہم نئے اعداد و شمار کے مطابق چین کی نسبت دیگر ممالک میں اس وائرس سے متاثرہ افراد میں نو گنا اضافہ ہوا ہے۔
چین کے بعد اس وائرس کے سب سے زیادہ مریض جنوبی کوریا میں ہیں جہاں تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 5000 سے تجاوز کر گئی ہیں لیکن وہاں ابھی تک اس وائرس سے صرف 22 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔
اس کے برعکس پاکستان کے ہمسایہ ملک ایران میں متاثرہ افراد کی تعداد 2500 کے لگ بھگ ہے اور وہاں اموات کی تعداد 77 بتائی جا رہی ہے۔
ایران کے بعد کورونا وائرس کے سب سے زیادہ مریض اٹلی میں ہیں جن کی تعداد دو ہزار سے کچھ زیادہ ہے اور اب تک اس وائرس سے وہاں 52 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
برطانیہ میں کورونا وائرس کے ابھی تک 40 تصدیق شدہ مریض ہیں لیکن حکومت کی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں کورونا وائرس کے عروج پر اس کی 20 فیصد تک آبادی کام سے چھٹی لے سکتی ہے اور اگر وائرس پھیلا تو فوج کو بھی مدد کے لیے بلایا جا سکتا ہے۔
Getty Images
ایران میں اب تک کورونا سے 77 اموات ہو چکی ہیں
پاکستان میں ابھی تک پانچ تصدیق شدہ کیسز ہیں اور حکومت کہہ رہی ہے کہ معاملات ابھی اس کے کنٹرول میں ہیں۔ پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے پانچ افراد میں سے تین کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے جبکہ دو کا تعلق کراچی سے بتایا جا رہا ہے۔
نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز کے حکام کے مطابق گلگت بلتستان سے مزید 12 مشتبہ افراد کے خون کے نمونے بھی ٹیسٹ کے لیے حاصل کیے گئے ہیں۔ پیر کو گلگت بلتستان حکومت نے تمام نجی و سرکاری تعلیمی اداروں کو وائرس سے بچاؤ اور حفاظتی اقدامات کے پیش نظر سات مارچ تک بند کر دیا تھا۔
پاکستان نے صوبہ بلوچستان کے سرحدی علاقے چمن سے ملحقہ افغانستان کی سرحد کو بھی بند کر دیا ہے۔
28 فروری کو کووِڈ-19 یا کورونا پر امریکی جریدے جاما میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس میں مبتلا 83 سے لے کر 98 فیصد افراد کو بخار چڑھتا ہے، 76 سے 82 فیصد کو خشک کھانسی آتی ہے اور 11 سے 44 فیصد کو تھکن اور پٹھوں میں درد کی شکایت رہتی ہے۔
Getty Images
کورونا نے دنیا بھر میں کاروبار کو بھی متاثر کیا ہے
فلُو بمقابلہ کورونا وائرس
برطانیہ میں پاکستانی نژاد ڈاکٹروں کی تنظیم ایسوسی ایشن آف پاکستانی فیزیشنز اینڈ سرجنز آف دی یونائیٹڈ کنگڈم (اے پی پی ایسی یو کے) کے بانی رکن اور سی ای او ڈاکٹر عبدالحفیظ کہتے ہیں کہ ہم فلو اور کورونا کا موازنہ ابھی نہیں کر سکتے کیونکہ ہمیں فلو کے متعلق تو پتا ہے جبکہ کورونا کے متعلق کچھ نہیں پتا۔ ’ابھی تحقیق ہو رہی ہے لیکن وہ ابتدائی مراحل میں ہے۔ اور جب وہ ایمرجنسی میں ٹیسٹ کی جائے گی تو بھی وہ ان تجرباتی مراحل سے گزر کر نہیں آئے گی جن سے دوائیاں گزر کر آتی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ وائرس جتنی تیزی سے پھیل رہا ہے اتنی تیزی سے اس پر تحقیق نہیں ہو رہی ہے۔

کیسے پتا چلے گا کہ کسی شخص کو عام فلو ہے یا کورونا وائرس؟

ڈاکٹر حفیظ کا کہنا ہے کہ کسی کی چھینک یا نزلے زکام کو بظاہر دیکھ کر یہ پتا لگانا ابھی ناممکن ہے کہ اسے عام فلو ہے یا کورونا وائرس۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہم یونیورسل پریکاشن (عالمی احتیاط) کے اصول کے مطابق جب مریضوں کے خون کا نمونہ لیتے ہیں تو ہم یہ مان کر چلتے ہیں کہ سب کو ہی کورونا ہے اور اسی طرح کی احتیاط کرتے ہیں جیسی بتائی گئی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ٹیسٹ کے بعد نتیجہ منفی نکلے۔‘
Getty Images
شنگھائی میں بیلے ڈانسرز ماسک پہن کر پریکٹس کر رہی ہیں
’یہ بڑھ رہا ہے، اس کے متعلق زیادہ پتا نہیں لیکن پھر بھی ہمیں چاہیے کہ خوف میں مبتلا نہ ہوں۔ اگرچہ ابھی اس کی کوئی ویکسین نہیں آئی لیکن اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ اس سے ہلاک ہونے والے اکیس اعشاریہ نو فیصد افراد کی عمر اسی سال سے زیادہ ہے جبکہ نو سال سے کم عمر ایک بچے کی بھی موت کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
’سو اس سے زیادہ خطرہ ان کو ہے جو پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا ہیں یا ان کی عمر زیادہ ہے۔‘

کورونا اور فلو میں مماثلت

فلو اور کورونا سے ہونے والی بیماریاں دونوں ہی سانس کی بیماریاں ہیں۔ اگرچہ یہ دونوں بظاہر ایک ہی طرح کی دکھائی دیتی ہیں لیکن دونوں بیماریاں مختلف قسم کے وائرس سے لگتی ہیں۔
دونوں ہی میں بخار چڑھتا ہے، کھانسی آتی ہے، جسم درد کرتا ہے، تھکاوٹ کا احساس رہتا ہے اور کبھی کبھار متلی یا اسہال (دست) ہوتا ہے۔
یہ دونوں کچھ عرصے کے لیے بھی ہو سکتی ہیں اور ایک لمبے عرصے کے لیے بھی۔ کئی کیسز میں بیمار افراد کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

ان دونوں بیماریوں سے نمونیہ بھی ہو سکتا ہے جو کہ کئی کیسز میں خطرناک ہو سکتا ہے۔
دونوں ہی ایک شخص سے دوسرے شخص کو ہوا میں قطروں کے ذریعے لگتے ہیں یعنی ایک متاثرہ شخص سے یہ دوسرے شخص کو اس کی کھانسی، چھینک یا بہت قریب سے باتیں کرتے ہوئے بھی لگ سکتے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالحفیظ کہتے ہیں کہ ابھی کورونا کے مریضوں کو وہی اینٹی وائرل ادویات دی جا رہی ہیں جو بوڑھوں یا دوسرے بیمار افراد کو بیماری کی صورت میں دی جاتی تھیں
ڈاکٹر حفیظ کہتے ہیں کہ یہ مماثلت سب سے زیادہ ذہن میں رکھنے والی ہے اور اس سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔
'کورونا کے مریض سے سب سے زیادہ خطرہ اس کے گھر والوں کو ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ وائرس آنکھ، ناک اور منہ سے جسم میں داخل ہو جاتا ہے اس لیے سب سے زیادہ احتیاط مریض کے قریب رہنے والوں کو کرنی چاہیے۔
'یہ کمرے کے دروازے کے ہینڈل سے بھی لگ سکتا ہے اور وہی برتن استعمال کرنے یا پکڑنے سے بھی جو مریض استعمال کر رہا ہے۔ اس سے احتیاط کی کنجی صرف یہ ہے کہ مریض کے بہت قریب نہ جائیں لیکن ایسا نہیں کہ اسے بالکل چھوڑ ہی دیں۔ بس احتیاط کریں۔'

کورونا اور فلو میں فرق

ابھی تک سامنے آنے والی تحقیق کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ صرف ایک ہی وائرس ہے جبکہ فلو کی مختلف قسمیں اور وائرس ہیں۔
Getty Images
کورونا وائرس سے بچنے کے لیے جس نے جو مناسب سمجھا کیا
اگرچہ یہ دونوں وائرس ہوا میں قطروں اور چھونے سے لگتے ہیں لیکن ابھی تک سامنے آنے والی تحقیق سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ کورونا وائرس ایک شخص سے دوسرے کو اس وقت بھی لگ سکتا ہے جبکہ وہ وہاں موجود نہ ہو۔
یعنی کہ متاثرہ شخص کے جراثیم ہوا میں موجود قطروں میں زندہ رہتے ہیں اور جب وہ وہاں سے چلا بھی جاتا ہے تو وہ وہاں موجود یا آنے والے کسی دوسرے شخص کو لگ سکتے ہیں۔
اس بات کو بھی مدِ نظر رکھنا چاہیے کہ فلو کے متعلق سائنسدان کئی دہائیوں سے تحقیق کر رہے ہیں۔ اگرچہ اس سے اب بھی دنیا بھر میں بہت سی اموات ہوتی ہیں پر ہم اس کے متعلق بہت کچھ جانتے ہیں لیکن کورونا وائرس کے متعلق ایسا نہیں ہے۔
یہ نیا ہے، ہم اس کے متعلق زیادہ نہیں جانتے، اس سے نمٹنے کے لیے ہماری پاس ابھی مناسب ادویات نہیں اور اسی لیے یہ زیادہ خطرناک ہے۔