Popunder ads

Breaking

Turkey لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Turkey لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 3 مارچ، 2020

9:56 AM

ترکی کا کسٹم ایجنٹ ایران کی سرحد کے نزدیک راکٹ حملے میں ہلاک

ترکی کے محکمہ کسٹم کا ایک ایجنٹ ایران کی سرحد کے نزدیک علاقے میں ایک بس پر راکٹ حملے میں ہلاک ہوگیا ہے۔اس واقعہ کے بعد ترکی کی سکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کی تلاش کے لیے آپریشن شروع کردیا ہے۔
ترک وزیر داخلہ سلیمان سوئلو نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اطلاع دی ہے کہ کسٹم کے اہلکاروں کو لے جانے والی بس پر سوموار کو گرینچ معیاری وقت (جی ایم ٹی) کے مطابق 0550 بجے حملہ کیا گیا تھا۔
انھوں نے لکھا ہے کہ ’’دہشت گردوں کا پیچھا کیا گیا ہے اور ان کا گھیراؤ کر لیا گیا ہے‘‘ لیکن انھوں نے یہ وضاحت نہیں کی ہے کہ یہ حملہ آور کون تھے۔
ترکی کے وزیر تجارت روشرپیک جان نے اس راکٹ حملے میں کسٹمز کے ایک ایجنٹ کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ حملے میں متعدد اہلکار زخمی ہوگئے ہیں،ان میں چار کی حالت تشویش ناک ہے۔
ترکی کے صوبہ اگری کے گورنر کے دفتر نے یہ اطلاع دی ہے کہ کسٹمز کی بس کو دوگوبایزید کے علاقے سے غوربلک کے سرحدی گیٹ کی جانب سفر کے دوران میں نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد یہ سڑک سے اتر کر الٹ گئی تھی لیکن اس دفتر نے بھی حملہ آوروں کی شناخت کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی ہے۔
ترک حکام نے اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایران کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے کی جانب ایمبولینس گاڑیوں ، سکیورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیموں کو روانہ کردیا تھا۔
ترکی کے بعض میڈیا ذرائع نے یہ اطلاع دی ہے کہ کالعدم کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) کے جنگجوؤں نے یہ حملہ کیا ہے۔کرد باغیوں کی یہ جماعت ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں یہ زیادہ فعال ہے لیکن صوبہ اگری میں یہ اتنی متحرک نہیں ہے۔
ٹیلی ویژن کی فوٹیج کے بعد ترک فوج کے ہیلی کاپٹروں کو پروازیں کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو نے یہ اطلاع دی ہے کہ دو لڑاکا ہیلی کاپٹروں نے دہشت گردوں کی خفیہ کمین گاہوں پر گولہ باری کی ہے۔اس نے مزید یہ اطلاع دی ہے کہ سرحدی علاقے میں مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف فوج کی جوابی کارروائی کے دوران میں ایک دھماکا ہوا جس سے ایک فوجی شدید زخمی ہوگیا ہے۔
واضح رہے کہ ترکی نے اسی ماہ کے اوائل میں ایران میں کرونا وائرس پھیلنے کے بعد اس کے ساتھ اپنی زمینی اور فضائی سرحدیں بند کردی تھیں۔

پیر، 2 مارچ، 2020

10:37 AM

ترکی میں شام کے پناہ گزین: ’میں نے چار بار سرحد عبور کرنے کی کوشش کی مگر ہر بار میں گرفتار ہوا‘

ترکی کے ساحل سے چند میل دور یونان کا ساموس نامی جزیرہ واضح نظر آ رہا ہے
حلیل ترکی کے مغرب میں ایک چھوٹے اور ویران ساحل پر پانی کے کنارے کھڑے ہیں۔
ایک جزیرے کی جانب اشارہ کر کے وہ کہتے ہیں کہ ’دیکھو یہ کتنا قریب ہے، مگر اس تک پہنچنا بہت ہی مشکل ہے۔‘
ترکی کے اِس مغربی ساحل سے چند میل دور یونان کا ساموس نامی جزیرہ واضح نظر آ رہا ہے۔
چار برس قبل حلیل جنگ زدہ شام سے ترکی جانے کے لیے بھاگ نکلے تھے۔ وہ گذشتہ چار برسوں سے اپنی اہلیہ، والدہ اور پانچ بچوں کے ہمراہ ترکی میں رہ رہے ہیں۔
گذشتہ ہفتے حلیل نے ایک انسانی سمگلر کو کچھ رقم اس وعدے پر دی کہ وہ ان کو ترکی سے یونان پہنچا دے گا۔
’پچھلے ایک سال سے میرے پاس کوئی روزگار نہیں ہے اور میری معاشی حالت انتہائی نازک ہے۔ اپنے پورے خاندان میں صرف میں نوکری کرنے کے قابل ہوں۔ روزگار کی عدم موجودگی میں اگر میں گھر پڑا رہتا ہوں تو میرے بچے دو وقت کی روٹی کو ترس جائیں گے۔ میرے پاس اور کیا آپشن ہے؟‘
تاہم سمگلر کی مدد سے ان کی ترکی سے یونان بھاگنے کی کوشش ناکام رہی۔
اس کوشش کے دوران ’ہم نے چلانے کی آوازیں سنیں اور ہمیں معلوم ہو گیا کہ ترکی کے سرحدی محافظوں کو ہمارا پتا چل گیا ہے۔ انھوں نے ہم سب کو گرفتار کر لیا، انھوں نے کسی کو بھی بھاگنے نہیں دیا۔‘
سنہ 2015 کے پناہ گزیں بحران کے دوران ترکی نے یورپی یونین کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا۔ ترکی نے اربوں یوروز کے عوض پناہ گزینوں کی یورپ تک رسائی روکنے پر اتفاق کیا تھا۔
ترکی نے لمبے عرصے تک اس معاہدے کی پاسداری کی اور ترکی کے فوجیوں نے یورپ کے ساتھ لگنے والی سرحدوں اور سمندری راستوں کی نگرانی کی۔
Reuters
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے بارہا یہ دھمکی دی ہے کہ اگر اتحادیوں نے شام کی جنگ میں ترکی کی مزید مدد نہ کی تو وہ ترکی میں موجود شامی پناہ گزینوں کو یورپ بھیج دیں گے
مگر گذشتہ ہفتے جمعرات کے روز شام کے شہر ادلب میں ایک فضائی حملے میں درجنوں ترکش فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ترکی نے اعلان کیا کہ وہ اپنی مغربی سرحدیں اور سمندری راستے کھول رہا ہے تاکہ پناہ گزین براستہ ترکی یورپ تک اپنا سفر جاری رکھ سکیں۔
شام میں جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک ترکی 37 لاکھ شامی پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں پناہ دیے ہوئے ہے۔ گذشتہ چند مہینوں کے دوران ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے بارہا یہ دھمکی دی ہے کہ اگر اتحادیوں نے شام کی جنگ میں ترکی کی مزید مدد نہ کی تو وہ ترکی میں موجود شامی پناہ گزینوں کو یورپ بھیج دیں گے یا جانے کی اجازت دے دیں گے۔
صدر اردوغان کے مشیر ابراہیم کالین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’پناہ گزینوں کا بحران بڑھتا جا رہا۔ یہ بد سے بدتر ہو رہا ہے۔‘
’چند یورپی ممالک یہ سمجھ رہے ہیں کہ جب تک وہ (پناہ گزین) ہمارے شہروں میں آ نہیں جاتے تب تک ان سے نمٹنا کسی اور (ترکی) کا مسئلہ ہے۔‘
ترکی اس حوالے سے بہت زیادہ دباؤ میں ہے۔ ملک میں موجود پناہ گزینوں کے علاوہ لگ بھگ 10 لاکھ شامی افراد وہ ہیں جو شام کی سرحد پر موجود ہیں اور ترکی میں داخل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ تمام پناہ گزین شام میں جنگ کی باعث دربدر ہوئے ہیں اور ترکی اب انھیں اپنے ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم بین الاقوامی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ادلب کے جنگ زدہ باسیوں کے لیے اپنی سرحدیں کھولیں، اگر ایسا نہیں ہوتا تو وہاں قتلِ عام ہو گا۔ بہت بڑا قتل عام۔‘
ترکی کے مغربی ساحل پر ہمیں ہزاروں پناہ گزیں نظر آئے جو ایسی عارضی پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں جہاں بنیادی سہولیات تک موجود نہیں ہیں۔
ترکی کے مغربی ساحل پر ہزاروں پناہ گزیں ایسی عارضی پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں جہاں بنیادی سہولیات تک موجود نہیں ہیں
یہ پناہ گزین بہت ہی کم پیسوں پر زرعی مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں۔ چند پناہ گزینوں نے ہمیں بتایا کہ وہ یومیہ پانچ پاؤنڈ تک ہی کما پاتے ہیں۔ یہ تمام پناہ گزین ترکی سے یورپ جانے کے لیے بےقرار ہیں۔
ایک پناہ گزین فتحی نے ہمیں بتایا کہ ’میں نے چار مرتبہ سرحد عبور کرنے کی کوشش کی مگر ہر بار میں گرفتار ہوا۔‘
’میری جمع پونجی ختم ہو چکی ہے مگر میں کوشش جاری رکھوں گا۔ میں نے اپنا سب کچھ اس کام کے لیے خرچ کر دیا ہے، یہاں تک کہ اپنی اہلیہ کا زیور بھی۔‘
ترکی کی جانب سے جانتے بوجھتے سرحدوں اور سمندر کی نگرانی کم ہونے کے بعد یونان کے جزیروں تک جانے کے خواہش مند پناہ گزینوں کی کشتیاں لبالب بھر چکی ہیں۔
جب یہ خبر عام ہوئی کہ ترکی کے سرحدی محافظ پناہ گزینوں کے یورپ میں داخلے پر نرمی برت رہے ہیں تو انھوں (پناہ گزینوں) نے یورپ میں داخلے کی کوشش اور سفر دوبارہ شروع کر دیا ہے۔
ترکی میں ایسے بہت سے سمگلر ہیں جو پناہ گزینوں کو سرحد پار کروانے کے لیے تیار ہیں۔ چند سمگلر تو ایسے بھی ہیں جو کھلے عام سوشل میڈیا پر اپنے اس کام کی تشہیر کر رہے ہیں۔
حلیل: ’میں یہ (سرحد عبور کرنے کی کوشش) بار بار کروں گا، اس وقت تک جب تک میں (یورپ میں) داخل نہیں ہو جاتا‘
ایسے ہی ایک سمگلر نے فون پرہم سے بات کی۔
’جب سمندر پرسکون ہوتا ہے تو ہم روزانہ (پناہ گزینوں سے بھری) دو سے تین کشتیاں روانہ کرتے ہیں۔ فی الوقت ہم پر (حکام کی جانب) زیادہ نظر نہیں رکھی جا رہی ہے۔ سرحد عبور کرنا کچھ زیادہ پُرخطر نہیں ہے۔‘
ترکی کی حکومت کا کہنا ہے کہ انھوں نے پناہ گزینوں سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل نہیں کی مگر اگر ادلب میں جنگی صورتحال برقرار رہتی ہے تو یورپ کی جانب پناہ گزینوں کا آنا جاری رہ سکتا ہے۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے یونان نے اپنی سرحدی چوکیوں پر پولیس نگرانی بڑھا دی ہے، مگر اس کے باوجود اب یورپ تک کا سفر آسان نظر آتا ہے۔
حلیل پرعزم ہیں کہ وہ دوبارہ یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے۔ ’میں یہ بار بار کروں گا، اس وقت تک جب تک میں (یورپ میں) داخل نہیں ہو جاتا۔‘ جب حلیل یہ بات کر رہے تھے تو ان کے پہلو میں بیٹھی ان کی والدہ کے آنسو بہہ نکلے۔
میں نے ان کی والدہ سے پوچھا کہ آیا وہ حلیل کو یورپ نہیں جانے دینا چاہتی ہیں؟ انھوں نے جواب دیا ’اس کو کوشش کرنے دو، یہاں رہتے ہوئے تو یہ اپنے بچوں کا پیٹ بھی نہیں پال سکتا۔‘

10:35 AM

ترکی نے ادلب میں شامی فوج کے 2 لڑاکا طیارے مار گرائے

ادلب: شامی صوبے ادلب میں ترکی نے شام کی سرکاری افواج کے 2 لڑاکا طیارے تباہ کر دیے۔ ترک فورسز پر شامی حکومتی افواج کے حملوں کے بعد ترکی نے شامی صوبے ادلب میں آپریشن 'اسپرنگ شیلڈ' کا آغاز کر دیا ہے۔
ترک وزارت دفاع کے مطابق آپریشن گذشتہ دنوں ترک فوج پر شامی حکومتی فورسز کے حملوں کے بعد شروع کیا گیا ہے، آپریشن میں شامی فوج کے 2 روسی ساختہ ایس یو 24 لڑاکا طیارے مار گرائے ہیں۔
ترکی کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران ترکی کا ایک ڈرون طیارہ بھی تباہ ہوا ہے۔ شامی خبررساں ادارے نے دو جہاز گرائے جانے کی تصدیق کی ہے تاہم اس کے مطابق واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور دونوں جہازوں کے پائلٹ بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔
ترک حکام کا کہنا ہے کہ ترکی آپریشن کے دوران اپنے دفاع میں شامی حکومتی فوج اور ان کے اتحادیوں کو نشانہ بنایا جائے گا، اس سلسلے میں روس سے بات چیت جاری ہے، توقع کرتے ہیں شامی فوج کے حملے رکوانے کے لیے روس شام پر دباؤ ڈالے گا۔
ترک وزیر دفاع کے دعوے کے مطابق آپریشن 'اسپرنگ شیلڈ ' میں اب تک شام کے 8 ہیلی کاپٹر اور 103 ٹینکوں سمیت اہم دفاعی تنصیبات کو تباہ کردیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ 27 فروری کو ادلب میں شامی فوج کے ترک فورسز پر حملے میں 34 ترک فوجی جاں بحق ہوگئے تھے جس کے بعد ترکی نے بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا۔
10:27 AM

ترکی نے شام کے دو روسی ساختہ طیارے مار گرائے

ادلب: ترک فوج نے شمالی مشرقی علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے شام کے 2 جنگی طیاروں کو مار گرایا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکی کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ شامی فوج کی جانب سے ترک ڈرؤن گرائے جانے کے بعد یہ کارروائی عمل میں لائی گئی ہے جس میں ترکی کے ایف 16 طیاروں نے شام کے روسی ساختہ سکھوئی جیٹ طیارے مار گرائے ہیں۔
واضح رہے ترکی کی جانب سے یہ کارروائی شامی فوج کے فضائی حملے کے نتیجے میں 33 ترک فوجیوں کی ہلاکت کے جواب میں کی گئی ہے۔
یاد رہے چند روز قبل  ترک حکام نے فوجیوں کی ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ترکی شامی فوج کے اہداف کے خلاف جوابی کارروائی کر رہا ہے۔
روس کی حمایت یافتہ شامی فوج ادلب کو باغیوں سے چھڑانے کی کوشش کر رہی ہیں جنھیں ترک فوج کی حمایت حاصل ہے۔ شامی حکومت نے ادلب کی تازہ ترین صورتحال کے حوالے سے اب تک کوئی ردعمل نہیں دیا۔
دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوگان نے اعلی سطحی سیکیورٹی اجلاس طلب کیا تھا جس کے فوری بعد ترک فوج نے شامی اہداف کو نشانہ بنانا شروع کر دیا تھا۔
ترکی کی جانب سے یہ موقف سامنے آیا ہے کہ شام کی سرکاری فوج ان علاقوں سے پیچھے ہٹ جائیں جہاں ترکی نے چوکیاں قائم رکھی ہیں اور اس سے قبل یہ دھکمی بھی دی گئی تھی کہ اگر شامی فوج کی پیش قدمی نہیں رکی تو ان پر حملہ کر دیا جائے گا۔

10:21 AM

ترکی ایف16 طیاروں نے شام کے 2 طیارے مار گرائے

ترکی کی فضائیہ نے شام کی فضائیہ کے 2 فائٹر طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترکی نے شمال مغربی علاقے میں شام کے 2 جیٹ طیارے مار گرائے ہیں، جو حکومت کے زیر قبضہ علاقے میں گرے۔ ان طیاروں کو ترکی کے ایف 16 طیاروں نے نشانہ بنایا۔
ترکی وزارت دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 2 شامی طیارے حملہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے، ترکی نے اپنے دفاع میں فضائی نے کارروائی کرتے ہوئے شام کے دونوں طیاروں کو مار گرایا۔
شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان لڑائی جاری ہے، جہاں ترکی نے شامی فوج کے ٹھکانوں پر بمباری بھی کی۔ ترکی کے جنگی طیاروں نے زربہ، سراقب اور معرہ النعمان کے مضافات میں شامی فوج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے ادلب اور حلب کے دیہی علاقوں میں ترکی کے ڈرون طیاروں کے حملوں میں 26 شامی حکومت فورسز اور اس کے وفادار بندوق برداروں کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔
انسانی حقوق گروپ کے مطابق گزشتہ 48 گھںٹوں کے دوران ترکی کے فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والے شامی فوجیوں کی تعداد 76 ہوگئی ہے۔ اتوار کے روز روسی فوج نے ادلب کے مضافات اور حلب میں کفر نوران اور الاتارب میں اپوزیشن جنگجوئوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔
The @EU_Commission and the @EUCouncil have been following closely and with concern the situation at the EU external borders with Turkey. @eucopresident Charles Michel and myself have been in permanent contact with PM Mitsotakis and PM Borissov. (1/2)
— Ursula von der Leyen (@vonderleyen) February 29, 2020 دوسری جانب یورپی یونین کا کہنا ہے کہ ترکی کی سرحد پر پناہ گزینوں کی صورت حال نہایت ابتر ہے۔ یورپی ہائی کمیشن کی خاتون سربراہ اروسولا وان ڈیر لین نے کہا کہ یورپی یونین نے ترکی سے نقل مکانی کرنے والوں کی یونان اور بلغاریہ کی طرف آمد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔