ترکی کی فضائیہ نے شام کی فضائیہ کے 2 فائٹر طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترکی نے شمال مغربی علاقے میں شام کے 2 جیٹ طیارے مار گرائے ہیں، جو حکومت کے زیر قبضہ علاقے میں گرے۔ ان طیاروں کو ترکی کے ایف 16 طیاروں نے نشانہ بنایا۔
ترکی وزارت دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 2 شامی طیارے حملہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے، ترکی نے اپنے دفاع میں فضائی نے کارروائی کرتے ہوئے شام کے دونوں طیاروں کو مار گرایا۔
شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان لڑائی جاری ہے، جہاں ترکی نے شامی فوج کے ٹھکانوں پر بمباری بھی کی۔ ترکی کے جنگی طیاروں نے زربہ، سراقب اور معرہ النعمان کے مضافات میں شامی فوج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے ادلب اور حلب کے دیہی علاقوں میں ترکی کے ڈرون طیاروں کے حملوں میں 26 شامی حکومت فورسز اور اس کے وفادار بندوق برداروں کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔
انسانی حقوق گروپ کے مطابق گزشتہ 48 گھںٹوں کے دوران ترکی کے فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والے شامی فوجیوں کی تعداد 76 ہوگئی ہے۔ اتوار کے روز روسی فوج نے ادلب کے مضافات اور حلب میں کفر نوران اور الاتارب میں اپوزیشن جنگجوئوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔
The @EU_Commission and the @EUCouncil have been following closely and with concern the situation at the EU external borders with Turkey. @eucopresident Charles Michel and myself have been in permanent contact with PM Mitsotakis and PM Borissov. (1/2)
— Ursula von der Leyen (@vonderleyen) February 29, 2020 دوسری جانب یورپی یونین کا کہنا ہے کہ ترکی کی سرحد پر پناہ گزینوں کی صورت حال نہایت ابتر ہے۔ یورپی ہائی کمیشن کی خاتون سربراہ اروسولا وان ڈیر لین نے کہا کہ یورپی یونین نے ترکی سے نقل مکانی کرنے والوں کی یونان اور بلغاریہ کی طرف آمد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Please do Not enter your any spam link in the comment box.