Popunder ads

Breaking

سائنس لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
سائنس لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 8 مارچ، 2020

9:17 AM

انسانی دماغ کی لہروں سےروبوٹس کی تربیت

امریکا کے دفاعی تحقیقی ادارے ’’ڈارپا‘‘ نے ویڈیو گیم کھیلنے والے افراد کی دماغی لہروں کو استعمال میں لاتے ہوئے جنگجو روبوٹس کو تربیت دینے کے ایک منفرد منصوبے پر کام شروع کروادیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق یونیورسٹی آف بفیلو، نیویارک میں اس سلسلے میں کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت کے ماہرین کو تین لاکھ ڈالر سے زیادہ کے فنڈز بھی جاری کردیئے گئے ہیں۔
منفرد منصوبےمیں کمپیوٹر گیمز کے 25 کھلاڑی بھرتی کیے جائیں گے۔ گیم کھیلنےکے دوران کھلاڑیوں کی دماغی سرگرمیاں نوٹ کرنے کےلیے ان کے سروں پر خاص طرح کی ٹوپیاں پہنائی جائیں گی جو دماغی سینسروں سے لیس ہوں گی۔
کھیل کے دوران کھلاڑیوں کے دماغوں میں ہونے والی سرگرمیاں ریکارڈ کرنے کے بعد انہیں مصنوعی ذہانت پر مشتمل ایسے پروگرام تیار کرنے میں استعمال کیا جائے گا جن کی مدد سے مستقبل کے فوجی روبوٹس نہ صرف خود کو بچا سکیں گے بلکہ ایسے متعدد روبوٹس آپس میں رابطہ رکھتے ہوئے، منظم انداز میں کوئی مشترکہ فوجی کارروائی بھی انجام دے سکیں گے۔
دلچسپ منصوبے پر بڑی تیزی سے پیش رفت جاری ہے اور، خبروں کے مطابق، اگلے چند سال میں مصنوعی ذہانت سے لیس 250 ملٹری روبوٹس کے ایسے دستے تیار کرلیے جائیں گے جو نہ صرف زمین پر بلکہ فضا میں بھی باہمی تعاون اور ربط و ضبط سے کوئی مشترکہ کارروائی کرسکیں گے۔
مذکورہ منصوبے کے مقاصد اس کی تفصیلات سے واضح ہیں: امریکا مستقبل کی ممکنہ جنگ میں اپنے کم سے کم فوجی گنوانا چاہتا ہے؛ جبکہ مصنوعی ذہانت کو کم سے کم وقت میں بہترین تربیت دینے کےلیے وہ انسانی صلاحیت و مہارت سے مدد لے رہا ہے۔
یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ امریکا کی جانب سےکسی  بڑی جنگ کیلئےتیاری کی جارہی ہے۔

9:16 AM

کورونا وائرس: پہلے سے مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کورونا وائرس سے کیسے بچیں؟

Getty Images
پھیپڑوں کے امراض کے لیے کام کرنے والی برٹس لنگ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ وہ فیس ماسک کے استعمال کی تجویز نہیں دیں گے کیونکہ ان کے موثر ہونے کے زیادہ شواہد موجود نہیں۔
دنیا بھر میں وبائی شکل اختیار کرنے والا کورونا وائرس کسی کو بھی ہوسکتا ہے لیکن ان لوگوں کو کورونا وائرس سے خطرہ زیادہ ہے جو کہ ضیعف ہیں یا جنھیں پہلے سےصحت کے مسائل ہیں۔
اس وائرس سے چین میں ہزاروں کی تعداد میں اموات ہوئی ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں زیاہ تعداد معمر لوگوں کی ہیں جو کے پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا تھے۔
اگر آپ کو پہلے سے کوئی بیماری یا صحت کے مسائل کا سامنا ہے تو آپ کو یہ سوچ کر پریشانی ہو رہی ہوگی۔ یہاں ہم آپ کو کچھ ماہرینِ صحت کی تجاویز بتا رہے ہیں۔

اسی بارے میں

کس کو خطرہ ہے؟

دنیا بھر میں کورونا وائرس کی صورتحال

میں کیسے اس سے بچوں؟

صفائی کا خیال اس وائرس کو مزید پھیلنے سے روک سکتا ہے۔

کیا مجھے فیس ماسک کا استعمال کرنا چاہیے؟

کیا مجھے عوامی مقامات میں جانے سے پرہیز کرنی چاہیے؟

اگر میری طبیعت خراب ہونے لگے تو مجھے کرنا چاہیے؟

Getty Images
سب سے اہم چیز ہے کہ آپ اس انفیکشن کو ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات کریں۔

کیا میں اپنی دوائیاں لینا بند کردوں؟

میں دمے کا مریض ہوں، مجھے کیا کرنا چاہیے؟

مجھے ذیابطیس ہے میں کیا کروں؟

اگر مجھے کوئی اور بیماری ہے تو میں کیا کروں؟

حاملہ خواتین کو خطرہ ہے؟

میں سگریٹ پیتا ہوں، کیا مجھے خطرہ ہے؟

میں عمر رسیدہ ہوں، کیا مجھے خود کو الگ کر لینا چاہیے؟

9:15 AM

ناسا کا نیا خلائی جہاز ’’استقامت‘‘ جولائی میں مریخ روانہ ہوگا

پیساڈینا، کیلیفورنیا: شاید آپ کو یاد ہوگا کہ ناسا نے چند ماہ قبل مریخ کے لیے اپنی نئی خلائی گاڑی (روور) کا نام تجویز کرنے کے لیے دنیا بھر کے لوگوں کو عام دعوت دی تھی اور اب اس کا حتمی نام پرسویرنس یعنی استقامت رکھا گیا ہے۔
ناسا کی درخواست پر پوری دنیا سے 28 ہزار افراد نے اپنے اپنے نام بھیجے جن میں سے مغربی ورجینیا کے ایک نوجوان طالب علم کے نام کو منتخب کرکے وہ نام نئے خلائی روور کو دیا گیا ہے۔
ناسا کے ایک اہلکار تھامس زرباکن نے بتایا کہ ’لفظ استقامت ایک خوبصورت اور مضبوط لفظ ہے جو رکاوٹوں کے باوجود آگے بڑھنے کےعمل کو ثابت کرتا ہے، اس طرح یہ لفظ مشکلات کے باوجود انسانوں کی خلائی تسخیر کے مراحل کو ثابت کرتا ہے‘۔اس سال جولائی 2020ء میں اٹلس پنجم راکٹ کے ذریعے روور کو مریخ کی جانب بھیجا جائے گا اور فروری 2021ء میں یہ مریخ پر اترے گا۔ اس میں جدید ترین سائنسی آلات مثلاً گراؤنڈ پینیٹریٹنگ ریڈار، اسپیکٹرو میٹر اور جدید ترین کیمرے نصب ہوں گے۔
اس میں ایک چھوٹا ہیلی کاپٹر بھی لگایا جارہا ہے اور ایک آلہ نصب ہے جو فضا میں موجود کاربن ڈآئی آکسائیڈ سے آکسیجن بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس ٹیکنالوجی کا مقصد مستقبل میں انسان اور روبوٹ کے لیے مریخی تسخیر کی راہ ہموار کرنا ہے۔
اسی مشن کے ساتھ ایک اور روور ڈیزائن کیا گیا ہے جو 2026ء میں مریخ سے استقامت کی جمع کردہ ٹیسٹ ٹیوب لے کر زمین پر واپس آئے گا تاکہ ہم یہاں کی تجربہ گاہ میں اس کا تفصیلی کرسکیں گے۔
9:13 AM

فلوریڈا میں کرونا وائرس سے 2 افراد ہلاک، امریکہ میں ہلاکتیں 17 ہوگئیں

ویب ڈیسک — 
امریکہ کی مشرقی ریاست فلوریڈا میں کرونا وائرس میں مبتلا دو افراد کا انتقال ہوگیا ہے جس کے بعد ملک میں وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 17 ہوگئی ہے۔ اس سے پہلے تمام ہلاکتیں مغربی ریاستوں واشنگٹن اور کیلی فورنیا میں ہوئی تھیں۔
فلوریڈا کے گورنر رون دی سینتیز کی ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی عمریں 70 سال سے زیادہ تھیں اور انھوں نے حال میں بیرون ملک سفر کیا تھا۔
محکمہ صحت نے بتایا ہے کہ فلوریڈا میں ہلاک ہونے والا ایک مرد پین ہنڈل کی سانتا روسا کائونٹی میں بیمار رہا۔ دوسرا بھی ایک عمر رسیدہ شخص تھا جس کا تعلق لی کائونٹی کے علاقے فورٹ مائرز سے تھا۔ ایک شخص میں کرونا وائرس کا انکشاف تب ہوا جب وہ مرنے کے قریب تھا۔
ادھر، فورٹ لوڈرڈیل کے پاس بروورڈ کائونٹی میں جمعے کے روز 65 اور 75 برس کے دو افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔ ریاست کے محکمہ صحت نے بتایا ہے کہ دونوں ہی کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔
9:11 AM

زیادہ دوائیں کھانے سے یادداشت متاثر ہوسکتی ہے

ویب ڈیسک — 
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ زیادہ دوائیں لینے کی وجہ سے پیدا ہونے والے مضر اثرات دماغ کو متاثر کرتے ہیں۔ اس سے ڈیمینشیا یعنی بھولنے کی بیماری بڑھ سکتی ہے اور اس میں بعض اوقات کمی بھی ہوجاتی ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بعض مریضوں کو مختلف ڈاکٹرز کی جانب سے دی جانے والی زیادہ دواؤں کے مضر اثرات، اور ان کے ردعمل کرنے کی وجہ سے دماغ میں دھند جیسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، جسے ’میڈیکیشن فاگ‘ بھی کہتے ہیں۔
89 سالہ امریکی شہری کلئیر ڈنین کی بھولنے کی بیماری جب بڑھنے لگی تو ان کے ڈاکٹرز کو شبہ ہوا کہ ایسا شاید ڈیمنشیا کی وجہ سے نہیں ہے۔
ڈنین کو مختلف ڈاکٹرز مختلف بیماریوں کے لیے 28 مختلف دوائیں دے رہے تھے۔ ان دواؤں کے باہمی ملاپ اور مضر اثرات کی وجہ سے ان کی حالت بہتر ہونے کے بجائے خراب ہورہی تھی۔ ڈاکٹرز نے ان کی دوائیں کم کرکے 12 کردیں تو ان کی حالت بہتر ہوگئی اور وہ بات کرنے اور روزمرہ کے کاموں کے بارے میں ہدایات بھی دینے لگیں۔
ایک جائزے کے مطابق 65 برس سے زیادہ عمر کے 91 فیصد افراد کم از کم ایک دوا لیتے ہیں جبکہ 41 فیصد افراد 5 سے زائد دواؤوں پر انحصار کرتے ہیں۔ دواؤں کی تعداد بڑھنے سے مضر اثرات کا خطرہ بڑھتا جاتا ہے۔
عام طور پر ایک ڈاکٹر کو علم نہیں ہوتا کہ دوسرے ڈاکٹر نے کیا دوا تجویز کی ہے۔ اگر ایسا ہو تو دواؤں کے ایک دوسرے کے خلاف ردعمل کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
کیلیفورنیا یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر مائکل سٹائن مین کا کہنا تھا کہ ’’اس بات کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں کہ ہم دواؤں کے مضر اثرات کو نظر انداز کردیں۔‘‘
بہت سی دواؤں کے استعمال کی اشد ضرورت نہیں ہوتی۔ بعض کے فائدے سے زیادہ نقصانات ہوتے ہیں۔ ایسے میں وہ یہ دوائیں نہ لینے کی تجویز دیتے ہیں۔
ان کے مطابق بعض دوائیں ایسی ہوتی ہیں جن کے اثرات دماغ میں موجود رگوں کو متاثر کرتے ہیں۔ ایسے میں بینائی کا متاثر ہونے، چکر آنے اور سوچنے کی صلاحیت میں کمی آنے کی شکایت ہوتی ہے۔
امریکہ میں یونیورسٹی آف کینٹکی میں ڈیمنشیا کے ماہر گریگ جیچا کے مطابق، ’’بعض اوقات دوا نہیں بدلتی، مریض بدل جاتا ہے۔’’
مریض کے رشتے دار بتاتے ہیں کہ وہ یہ دوا 20 برس سے لے رہی تھیں۔ لیکن 20 سال پہلے مریض کا دماغ، جگر یا گردے بھی جوان تھے۔
اے پی کے مطابق دواؤوں کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے ڈاکٹر یہ ہدایات تجویز کرتے ہیں:
اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ جو دوا لے رہے ہیں، اس کے بارے میں آپ کو مکمل معلومات ہو اور ڈاکٹر کی ہدایات کے بغیر کوئی دوا نہ لیں۔
ہمیشہ ایک فہرست بناکر رکھیں کہ کون سی دوا کب سے کب تک لینی ہے۔
تمام دواؤں کے بارے میں کسی ڈاکٹر یا ماہر صحت سے ہدایت لیں۔
اگر آپ کو مضر اثرات کا سامنا ہو تو ڈاکٹر کے پوچھنے کا انتظار نہ کریں بلکہ فوری طور پر انھیں خود بتائیں۔

جمعہ، 6 مارچ، 2020

11:33 AM

نوکیا کی شاندار واپسی، مگر کچھ موبائل فونز کمپنیوں میں ٹینشن طاری

خیال رہے کہ نوکیا کی جانب سے گزشتہ ماہ بارسلونا میں شیڈول موبائل ورلڈ کانگریس کے موقع پر نئے فونز کی رونمائی کی جانی چاہیے تھی مگر وہ ایونٹ کورونا وائرس کے باعث منسوخ کردیا گیا۔
اب 19 مارچ کو کمپنی کی جانب سے ایونٹ کا انعقاد ہورہا ہے اور ٹوئٹ میں جو ٹیزر شیئر کیا گیا اس سے عندیہ ملتا ہے کہ وہ جیمز بونڈ ایڈیشن کو متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کررہی ہے تاہم حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔
No Time To Wait. We have something very special lined up for you. #nokiamobilelive pic.twitter.com/xQAZWok0v6
— Juho Sarvikas (@sarvikas) March 3, 2020 
مگر ایسا مانا جارہا ہے کہ کمپنی کی جانب سے پہلا 5 جی فون ضرور پیش کیا جاسکتا ہے جو کہ نوکیا 8.2 ہوگا، اس مڈرینج فون میں کوالکوم اسنیپ ڈراگون 765 فائیو جی پراسیسر اور 32 میگا پکسل پوپ اپ سیلفی کیمرا دیا جاسکتا ہے۔
اس فون کے ساتھ نوکیا 5.2 بھی متعارف کرائے جانے کا امکان ہے جس کا ڈیزائن نوکیا 6.2 سے ملتا جلتا ہوگا جبکہ اسنیپ ڈراگون 632 پراسیسر، 6 جی بی ریم، 64 جی بی اسٹوریج اور 4 بیک کیمرے دیئے جاسکتے ہیں۔
اس کے علاوہ نوکیا 1.3 انٹری لیول فون بھی ایونٹ کا حصہ ہوسکتا ہے جبکہ ماضی کے کسی کلاسیک فون کو نئی شکل میں دوبارہ زندگی دی جاسکتی ہے۔
11:02 AM

کرونا وائرس کا پھیلاؤ: امریکی ریاست کیلی فورنیا میں ایمرجنسی نافذ

ویب ڈیسک — 
امریکہ میں کرونا وائرس سے 11 ہلاکتوں اور نئے کیسز سامنے آنے کے بعد ریاست کیلی فورنیا میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
​ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ بدھ کو کیلی فورنیا میں ہونے والی پہلی ہلاکت کے فوری بعد کیا گیا ہے۔ اس سے قبل ریاست واشنگٹن میں کرونا وائرس سے 10 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیورم نے ایمرجنسی کے نفاذ کے ساتھ ہی ایک بیان بھی جاری کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کیلی فورنیا میں کرونا وائرس سے مجموعی طور پر اب تک 53 افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔
کیلی فورنیا کے گورنر کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ کررونا وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے ہر سطح پر کوششیں کی جا رہی ہیں۔
10:58 AM

جرمنی کا گرم موسم سرما

یورپی یونین میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے مبصر ادارے کوپرنیکس نے بتایا ہے کہ رواں موسم سرما بلاشبہ تاريخ کا گرم ترین قرار دیا جا سکتا ہے۔ دسمبر سن 2019 سے فروری سن 2020 تک یورپی براعظم میں اوسط درجہٴ حرارت 3.4 گری سینٹی گریڈ رہا۔ یہ سن 1981 اور سن 2010 میں ریکارڈ میں لائے گئے اوسط درجہٴ حرارت سے بھی زیادہ خیال کیا گیا ہے۔
جرمنی میں موسم سرما ميں گرم ترین درجہٴ حرارت سن 2015 /16 میں ریکارڈ کیا گیا تھا اور وہ 1.4 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔ یورپی براعظم کے شمالی اور مشرقی ممالک میں درجہٴ حرارت معمول سے زیادہ رہا ہے۔ اس باعث کئی ثقافتی اور کھیلوں کی سرگرمیاں متاثر بھی ہوئیں۔
ایسا ہی جرمنی کا موسم سرما تھا۔ اس یورپی ملک میں سرمائی موسم کے گرم ہونے کا ملال قریب قریب سبھی شہریوں کو رہا اور کئی علاقے کے لوگ اور بچے برفباری کو ترستے رہے۔ بعض اوقات ایسی صورت حال پیدا ہوئی کیونکہ کچھ زور دار سمندری طوفان بھی جرمن علاقوں میں داخل ہوئے لیکن اُن کے ساتھ یخ بستہ ہوائیں نہیں پہنچيں۔ اس وجہ سے بارشیں تر ہوتی رہیں لیکن برف نہیں گری۔
یورپ بھر میں ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے زرعی شعبے کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ان کو پریشانی ہے کہ اگر موسمی صورت حال ایسی ہی رہتی ہے تو وہ موسم سرما میں کاشت کی جانے والی فصلیں اگانے سے محروم رہ سکتے ہیں۔ ایسا ہی پھل اور سبزیاں اگانے والے کسان محسوس کرتے ہیں۔
ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ رواں موسم سرما کے دوران جرمن وائن پیدا کرنے والے کسان 'آئس وائن‘ کی پروڈکشن سے محروم رہے ہیں۔ آئس وائن ایک نایاب قسم کی سرخ شراب تصور کی جاتی ہے جو پودے کے ساتھ لگے اُن انگوروں سے تیار کی جاتی ہے، جن کا جوس شدید سرد موسم میں برف بن جاتا ہے۔ انگور کی بیل کے ساتھ لگے سرخ انگوروں کو منجمد ہونے کے لیے منفی سات ڈگری سینٹی گریڈ درکار ہوتا ہے۔ منجمد انگوروں کی شراب جاپان میں بہت پسند کی جاتی ہے۔ اس کی پروڈکشن بہت ہی محدود سطح پر کی جاتی ہے۔
ایلیٹ ڈگلس (ع ح ⁄ ع ب)
ویڈیو دیکھیے 02:18 جرمنی میں موسم سرما میں برفباری کیوں نہ ہوسکی؟
بھیجیے Facebook Twitter google+ Whatsapp Tumblr Digg stumble reddit Newsvine
پیرما لنک https://p.dw.com/p/3Yeqh
جرمنی میں موسم سرما میں برفباری کیوں نہ ہوسکی؟
10:57 AM

ہومیوپیتھی طریقہ علاج دنیا بھر میں تیزی سے مقبول کیوں ہورہا ہے؟

ہر کوئی ایلوپیتھک طریقئہ علاج کو اولین ترجیح دیتا ہے اور دنیا بھر میں ایلوپیتھک طریقہ علاج زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔
اور عام گھروں میں بیمار ہونے کی صورت میں دوست احباب سب کا یہی کہنا ہوتا ہے کہ ڈاکٹری علاج کروا لو چاہے وہ کتنا ہی مہنگا کیوں نہ ہو مگر حکیم کے پاس جانے کی بیوقوفی نہ کرنا کیونکہ وہ پلٹ پلٹ کر وہی ایک مٰاجون کی ڈبی تھمادے گا۔۔۔ جس سے فائدہ صدیوں میں ہی ہوگا۔۔۔
لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کےبڑھتے ہوئےدور میں دنیابھر میں ایلوپیتھک کی مانند اب ہیموپیتھک علاج اور حکیمی دواؤں کا استعمال کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔
جڑی بوٹیوں کے طریقہ علاج کو پیتھو تھراپی،ہربل ازم اور نباتاتی ادویات کے ذریعے علاج کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق پاکستان 76 فیصد، جرمنی 90 فیصد، ریاست ہائے متحدہ امریکہ 158 ملین، جاپان 50 فیصد، انڈیا 3.80 فیصد، آسٹریلیا 46 فیصد،فرانس 49فیصد اور کینیڈا میں 70 فیصد لوگ ہیموپیتھک ادویات اور جڑی بوٹیوں کا استعمال کررہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہربل ادویات کے استعمال میں اضافے کی وجہ لوگوں کا یہ عقیدہ بن گئی ہے کہ پہلی بات تو یہ کہ یہ ادویات سستی ہیں اور ان کو کھانے سےکوئی سائیڈ افیکٹس نہیں ہوتے، بیشک شفاء دیر سے ہو مگر آج نہیں تو کل فائدہ ضرور ہوگا۔
عالمی ادارہ صحت ’ورلڈ ہیلتھ ارگنائزیشن‘ (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق دنیا کی 86 فیصدآبادی ہربل ادویات کا استعمال کر رہی ہے۔۔۔ یہ میڈیسنز متبادل طریقہ علاج ہیں۔
صرف پاکستان اور ایشیائی ممالک ہی نہیں روس ،چین اور امریکا میں کینسر بواسیر بلڈپریشر ،آنتوں ،معدہ کے امراض،کینسر،ذیابیطس،امراض قلب،سانس کی بیماریوں،جوڑوں کے درد اور موٹاپے کو کنٹرول کرنے کے لئے ہربل ادویات کے استعمال میں اضافہ ہورہاہے۔ آئے روز عالمی مارکٹ میں ہربل دواؤں اور ان کی لاگت میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔۔۔
10:55 AM

امریکہ میں کرونا وائرس سے مزید 2 اموات، تعداد 11 ہوگئی

ویب ڈیسک — 
امریکہ میں کرونا وائرس سے مزید دو افراد چل بسے جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد گیارہ ہوگئی ہے۔ ان میں سے دس اموات ریاست واشنگٹن میں ہوئی ہیں جبکہ بدھ کو شمالی کیرولائنا میں ایک شخص کا انتقال ہوا۔
کیلی فورنیا کی لاس اینجلس کاؤنٹی میں وائرس کے چھ مریضوں کی تصدیق کے بعد ہیلتھ ایمرجنسی لگادی گئی ہے جبکہ نیویارک میں 9 نئے کیس سامنے آئے ہیں۔
امریکہ میں وائرس میں مبتلا افراد کی تعداد کم از کم 130 ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ٹیسٹ کا دائرہ بڑھایا جائے تو مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی وائرس کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ خاص طور پر اس کا نشانہ چین ہے جہاں 119 نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور 38 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ 20 جنوری کے بعد یہ چین میں سب سے کم تعداد ہے۔ چین کے بعد سب سے زیادہ متاثر ملک جنوبی کوریا میں کیسز کی تعداد 5200 سے زیادہ ہوچکی ہے۔ ایران میں مریضوں کی تعداد 3 ہزار اور اٹلی میں 2200 تک پہنچ گئی ہے۔
وائرس کی وجہ سے عالمی معیشت سست وری کا شکار ہوئی ہے اور امریکہ کے مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی کا بھی خاص فائدہ نظر نہیں آیا۔
وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے حکومتیں ہرممکن کوششیں کررہی ہیں اور ہر جگہ اولین اقدام کے طور پر تعلیمی ادارے بند کیے جارہے ہیں۔ پاکستان کے علاوہ اٹلی، ایران، متحدہ عرب امارات اور امریکہ کے وائرس سے متاثرہ علاقوں میں اسکول کالج بند کیے گئے ہیں۔
بعض مقامات پر لوگ گھبراہٹ کا شکار ہوئے ہیں اور انھوں نے سازوسامان سے گھر بھر لیے ہیں۔ امریکی شہر سیاٹل میں شہریوں نے اتنی تعداد میں سامان خرید لیا کہ گروسری اسٹورز خالی نظر آرہے ہیں۔ آسٹریلیا میں بھی خاص طور پر ٹشوپیپر اور ٹوائلٹ پیپر اتنی بڑی تعداد میں خریدے گئے ہیں کہ ڈاکٹروں کو شہریوں سے اپیل کرنا پڑی ہے کہ ایسا نہ کریں۔
ادھر سعودی عرب میں اگرچہ کرونا وائرس کے صرف ایک مریض کی تصدیق ہوئی ہے لیکن حکومت نے غیر معمولی اقدامات کیے ہیں۔ اس نے پہلے غیر ملکی زائرین کے عمرہ کرنے پر پابندی لگائی تھی لیکن اب غیر ملکی کارکنوں اور اپنے شہریوں کے عمرہ کرنے اور مدینہ جانے پر پابندی لگادی ہے۔
10:54 AM

دنیا کا ’’طاقت ورترین‘‘ کوانٹم کمپیوٹرجلد متعارف کروا دیا جائے گا۔

عام طور پر جب دنیا کے طاقت ور ترین کمپیوٹر کی بات ہوتی ہے تو فوری طور پر آئی بی ایم اور گوگل جیسی بڑی کمپنیاں دھیان میں آتی ہیں۔ لیکن اس دوڑ میں ایک نئی کمپنی شامل ہوگئی ہے جو اب تک گھریلو کنٹرولر اور تھرمواسٹیٹ بنانے کی ماہر سمجھی جاتی رہی ہے۔
ہنی ویل انٹرنیشنل بنیادی طور پر خلا میں دفاعی ٹیکنالوجی سے متعلق سہولیات بھی فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کے ماہرین کا خیال ہے کہ کمپیوٹنگ کی کارکردگی سے متعلق 2017 میں آئی بی ایم کی جانب سے بنائے گئے کمپیوٹر سے ان کا نیا کوانٹم کمپیوٹر زیادہ طاقتور اور تیز رفتار ہوگا۔
ہنی ویل کوانٹم سلیوشنز کے سربراہ ٹونی اٹلے نے کہا ہے کہ ہم گزشتہ دس برس سے کوانٹم کمپیوٹر پر کام کررہے ہیں اور اگلے تین ماہ میں متعارف کردیا جائے گا۔ اس کےبعد دنیا بھر کےادارے انٹرنیٹ کے ذریعے کمپیوٹر تک رسائی حاصل کرسکیں گے۔
گوگل کے سائکامور کے بارے میں دعوی کیا جاتا ہے کہ 53 کیوبٹ کے ساتھ وہ 2019ہی میں اس شعبے میں برتری قائم کرچکا ہے۔ حال ہی میں آئی بی ایم نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ اس کے 28 کیوبٹ کمپیوٹر کا کوانٹم والیوم 32 ہے۔
کارکردگی کے اعتبار سے کوانٹم کمپوٹر کو سپر کمپیوٹر سے بھی زیادہ تیز ترین اور طاقتور کہا جاتا ہے۔ دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں کوانٹم کمپیونٹگ کی بہتر سے بہتر کارکردگی کی دوڑ جاری ہے۔ ہنی ویل کو اس دوڑ میں ایک نیا مقابل قرار دیا جارہا ہے۔
ہنی ویل کا دعوی ہے کہ اس کے کمپیوٹر کا کوانٹم والیوم کم از کم 64 ہوگا جسے بڑھانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے، اگلے پانچ برسوں تک یہ کوششیں جاری رہیں گی۔
10:52 AM

گیم کے شوقین افراد کے لیے بیڈ متعارف

ویب ڈیسک : گیم کے شوقین افراد کے لیے خاص بیڈ متعارف کروادیا گیا ۔ گیم کھیلنے والوں کے لیے ایک ایسا بیڈ تیار کیا گیا ہےجس میں اگر آپ تھک جائیں تو لیٹ کر بھی گیم کھیل سکتے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق بؤہیوٹ نامی جاپانی شخص گیمرز کے لیے خاص فرنیچر بنانے میں مہارت رکھتے ہیں اور حال ہی میں انہوں نے گیم کھیلنے والوں کے لیے ایک ایسا بیڈ تیار کیا ہے جس میں اگر آپ تھک جائیں تو لیٹ کر بھی گیم کھیلا جاسکتا ہے۔
10:42 AM

پُراسرار سمندری کرشمہ: سمندری کائی جو آپ نے پہلے کبھی نہ دیکھی ہوگی



فوٹوگرافر جارڈن روبنز کے کیمرے میں عکس بند کیا گیا یہ منظر، صرف رات کے اوقات میں ہی دیکھا جا سکتا ہے اور ایسا تب ہی ممکن ہے جب پانی میں خلل ڈالا جائے۔ مزید جانیے ہماری ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

بدھ، 4 مارچ، 2020

5:41 PM

فیس بک کا میسنجر کے ڈیزائن میں تبدیلیاں کرنے کا اعلان

فیس بک نے "میسنجر” کے ڈیزائن میں بنیادی تبدیلیاں کرنے کا اعلان کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق "فیس بک میسنجر” میں ڈسکور ٹیب ختم کیا جارہا ہے اور اس کی جگہ چیٹس اور پیپل کی ٹیب کا اضافہ کرکے اسے مزید سادہ اور سمجھنے میں آسان بنایا جارہا ہے۔فیس بک کے افسر جیف ہگنز نے ثبوت کے طور پر دو اسکرین عکس بھی شیئر کیے ہیں جن میں تبدیل شدہ میسنجر لے آؤٹ کی ایک جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔ سادہ لے آؤٹ میں تمام تر توجہ آپ کی گفتگو اور چیٹ پر کی گئی ہے۔
5:30 PM

سائنسدانوں کا مکھیوں اور کیڑے مکوڑوں سے مکھن تیار کرنے کا تجربہ

دودھ سے بنا ہوا مکھن قدیم دور سے ہی انسان کی پسندیدہ غذا رہا ہے اس کے استعمال سے ہم کئی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ مکھن ہمیں پالتو جانورں سے حاصل ہوتا ہے لیکن اب بیلجیئم کے تحقیقی ماہرین نے مکھیوں اور حشرات کی چربی سے مکھن بنانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔غیر ملکی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ماہرین نے جو مکھن تیار کیا اُس میں گائے کے دودھ کی بجائے مکھیوں اور دیگر حشرات کی چربی استعمال کی گئی ہے، تیار کیا جانے والا مکھن دوسرے سے مشترک تو نہیں البتہ مستقبل میں اسے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
11:18 AM

#coronavirus اور نزلہ زکام میں فرق کیا ہے اور کیسے پتا چلے گا کہ یہ بیماری کورونا ہے یا عام فلُو

Getty Images
کورونا وائرس سے بچاؤ کا واحد طریقہ احتیاط ہے
آج کل فلُو یا نزلے زکام کا موسم ہے، جسے دیکھیں چھینکیں مارتا یا ناک صاف کرتا دکھائی دیتا ہے۔ جسے زکام ہوتا ہے وہ خود ہی کہہ دیتا ہے کہ مجھ سے دور رہیں کہیں آپ کو بھی جراثیم نہ لگ جائیں۔
یا پھر آپ خود ہی اس متاثرہ شخص کے پاس جانے سے پرہیز کرتے ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، ایسا ہر سال ہوتا ہے، تاہم اس مرتبہ ایک بات نئی ضرور ہے۔
آپ لندن میں ٹرین میں بیٹھیں ہیں اور ایک دم کسی کو چھینک یا چھینکیں آنے لگتی ہیں تو پہلے تو لوگ آپ کو غور سے دیکھنے لگتے ہیں اور اس کے بعد آہستہ آہستہ سرکتے ہوئے دور جانے لگتے ہیں۔

یہی حال دوسرے ممالک میں بھی ہے۔ کہیں تو لوگ ایک دوسرے سے ملتے وقت صرف اشاروں کی زبان استعمال کرنے لگے ہیں۔ لطیفے بن رہے ہیں، ویڈیوز اور میمز بن رہی ہیں۔
انٹرنیٹ پر وائرل ایک ویڈیو میں ایران میں دوستوں کو ایک دوسرے سے ہاتھ کے بجائے پیر اور ٹانگیں ملاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ایسا ہی تنزانیہ کے صدر نے بھی کیا۔
یہ ڈر ہے اس نئے وائرس کا جسے نویل کورونا وائرس یا کووڈ ۔ 19 کہتے ہیں اور یہ ڈر آہستہ آہستہ ہمارے دماغوں اور سوچوں میں سرایت کرتا جا رہا ہے، جو کبھی لطیفے کی شکل میں نکلتا ہے تو کبھی فکر کے اظہار کی شکل میں۔
میرا بیٹا جس نے کبھی سردی کی بھی پرواہ نہیں کی آج کل جیب میں سینیٹائیزر لیے گھومتا ہے۔
آخر یہ ڈر کیا ہے؟
STATE HOUSE TANZANIA
تنزانیہ کے صدر جان ماگوفولی حزبِ اختلاف کے سیاستدان معالم سیف شریف حماد سے جوتے ملا کر مل رہے ہیں
اگرچہ یہ موسم فلو کا ہے اور امریکہ سے لے کر پاکستان تک لوگ اس کا شکار ہیں تو پھر بھی لوگ فلو کے متعلق نہیں بلکہ کورونا وائرس کے متعلق ہی بات کر رہے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق انفلوینزا یا فلو کی وجہ سے ہر سال تقریباً 30 سے 50 لاکھ کے قریب انسان شدید بیمار ہوتے ہیں، جن میں سے دو لاکھ 90 ہزار سے لے کر چھ لاکھ 50 ہزار تک متعدد سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔
امریکہ کے سینٹر فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن سینٹر (سی ڈی سی) کے مطابق 2019 سے لے کر 2020 کے فلو کے سیزن میں اب تک 18 ہزار سے 46 ہزار کے درمیان فلو سے جڑی اموات ہوئی ہیں۔
مطلب یہ کہ فلو ایک انتہائی جان لیوا بیماری ہے لیکن ہم ہمیشہ اس کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ آرام کریں یہ خود ہی ایک یا دو ہفتے میں ٹھیک ہو جائے گی۔ فلو اپنا ٹائم لیتا ہے۔ لیکن کورونا؟ یہاں بات ذرا مختلف ہے۔
Reuters
پوری دنیا اس نئے وائرس کا علاج ڈھونڈنے میں لگی ہوئی ہے

کورونا کا خطرہ

عالمی ادارہ صحت کے مطابق کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر دنیا کو ایک ’نامعلوم خطرے‘ کا سامنا ہے۔
عالمی سطح پر اس وائرس سے اموات کی تعداد 3000 سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں زیادہ تر چینی باشندے شامل ہیں۔ تاہم نئے اعداد و شمار کے مطابق چین کی نسبت دیگر ممالک میں اس وائرس سے متاثرہ افراد میں نو گنا اضافہ ہوا ہے۔
چین کے بعد اس وائرس کے سب سے زیادہ مریض جنوبی کوریا میں ہیں جہاں تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 5000 سے تجاوز کر گئی ہیں لیکن وہاں ابھی تک اس وائرس سے صرف 22 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔
اس کے برعکس پاکستان کے ہمسایہ ملک ایران میں متاثرہ افراد کی تعداد 2500 کے لگ بھگ ہے اور وہاں اموات کی تعداد 77 بتائی جا رہی ہے۔
ایران کے بعد کورونا وائرس کے سب سے زیادہ مریض اٹلی میں ہیں جن کی تعداد دو ہزار سے کچھ زیادہ ہے اور اب تک اس وائرس سے وہاں 52 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
برطانیہ میں کورونا وائرس کے ابھی تک 40 تصدیق شدہ مریض ہیں لیکن حکومت کی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں کورونا وائرس کے عروج پر اس کی 20 فیصد تک آبادی کام سے چھٹی لے سکتی ہے اور اگر وائرس پھیلا تو فوج کو بھی مدد کے لیے بلایا جا سکتا ہے۔
Getty Images
ایران میں اب تک کورونا سے 77 اموات ہو چکی ہیں
پاکستان میں ابھی تک پانچ تصدیق شدہ کیسز ہیں اور حکومت کہہ رہی ہے کہ معاملات ابھی اس کے کنٹرول میں ہیں۔ پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے پانچ افراد میں سے تین کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے جبکہ دو کا تعلق کراچی سے بتایا جا رہا ہے۔
نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز کے حکام کے مطابق گلگت بلتستان سے مزید 12 مشتبہ افراد کے خون کے نمونے بھی ٹیسٹ کے لیے حاصل کیے گئے ہیں۔ پیر کو گلگت بلتستان حکومت نے تمام نجی و سرکاری تعلیمی اداروں کو وائرس سے بچاؤ اور حفاظتی اقدامات کے پیش نظر سات مارچ تک بند کر دیا تھا۔
پاکستان نے صوبہ بلوچستان کے سرحدی علاقے چمن سے ملحقہ افغانستان کی سرحد کو بھی بند کر دیا ہے۔
28 فروری کو کووِڈ-19 یا کورونا پر امریکی جریدے جاما میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس میں مبتلا 83 سے لے کر 98 فیصد افراد کو بخار چڑھتا ہے، 76 سے 82 فیصد کو خشک کھانسی آتی ہے اور 11 سے 44 فیصد کو تھکن اور پٹھوں میں درد کی شکایت رہتی ہے۔
Getty Images
کورونا نے دنیا بھر میں کاروبار کو بھی متاثر کیا ہے
فلُو بمقابلہ کورونا وائرس
برطانیہ میں پاکستانی نژاد ڈاکٹروں کی تنظیم ایسوسی ایشن آف پاکستانی فیزیشنز اینڈ سرجنز آف دی یونائیٹڈ کنگڈم (اے پی پی ایسی یو کے) کے بانی رکن اور سی ای او ڈاکٹر عبدالحفیظ کہتے ہیں کہ ہم فلو اور کورونا کا موازنہ ابھی نہیں کر سکتے کیونکہ ہمیں فلو کے متعلق تو پتا ہے جبکہ کورونا کے متعلق کچھ نہیں پتا۔ ’ابھی تحقیق ہو رہی ہے لیکن وہ ابتدائی مراحل میں ہے۔ اور جب وہ ایمرجنسی میں ٹیسٹ کی جائے گی تو بھی وہ ان تجرباتی مراحل سے گزر کر نہیں آئے گی جن سے دوائیاں گزر کر آتی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ وائرس جتنی تیزی سے پھیل رہا ہے اتنی تیزی سے اس پر تحقیق نہیں ہو رہی ہے۔

کیسے پتا چلے گا کہ کسی شخص کو عام فلو ہے یا کورونا وائرس؟

ڈاکٹر حفیظ کا کہنا ہے کہ کسی کی چھینک یا نزلے زکام کو بظاہر دیکھ کر یہ پتا لگانا ابھی ناممکن ہے کہ اسے عام فلو ہے یا کورونا وائرس۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہم یونیورسل پریکاشن (عالمی احتیاط) کے اصول کے مطابق جب مریضوں کے خون کا نمونہ لیتے ہیں تو ہم یہ مان کر چلتے ہیں کہ سب کو ہی کورونا ہے اور اسی طرح کی احتیاط کرتے ہیں جیسی بتائی گئی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ٹیسٹ کے بعد نتیجہ منفی نکلے۔‘
Getty Images
شنگھائی میں بیلے ڈانسرز ماسک پہن کر پریکٹس کر رہی ہیں
’یہ بڑھ رہا ہے، اس کے متعلق زیادہ پتا نہیں لیکن پھر بھی ہمیں چاہیے کہ خوف میں مبتلا نہ ہوں۔ اگرچہ ابھی اس کی کوئی ویکسین نہیں آئی لیکن اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ اس سے ہلاک ہونے والے اکیس اعشاریہ نو فیصد افراد کی عمر اسی سال سے زیادہ ہے جبکہ نو سال سے کم عمر ایک بچے کی بھی موت کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
’سو اس سے زیادہ خطرہ ان کو ہے جو پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا ہیں یا ان کی عمر زیادہ ہے۔‘

کورونا اور فلو میں مماثلت

فلو اور کورونا سے ہونے والی بیماریاں دونوں ہی سانس کی بیماریاں ہیں۔ اگرچہ یہ دونوں بظاہر ایک ہی طرح کی دکھائی دیتی ہیں لیکن دونوں بیماریاں مختلف قسم کے وائرس سے لگتی ہیں۔
دونوں ہی میں بخار چڑھتا ہے، کھانسی آتی ہے، جسم درد کرتا ہے، تھکاوٹ کا احساس رہتا ہے اور کبھی کبھار متلی یا اسہال (دست) ہوتا ہے۔
یہ دونوں کچھ عرصے کے لیے بھی ہو سکتی ہیں اور ایک لمبے عرصے کے لیے بھی۔ کئی کیسز میں بیمار افراد کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

ان دونوں بیماریوں سے نمونیہ بھی ہو سکتا ہے جو کہ کئی کیسز میں خطرناک ہو سکتا ہے۔
دونوں ہی ایک شخص سے دوسرے شخص کو ہوا میں قطروں کے ذریعے لگتے ہیں یعنی ایک متاثرہ شخص سے یہ دوسرے شخص کو اس کی کھانسی، چھینک یا بہت قریب سے باتیں کرتے ہوئے بھی لگ سکتے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالحفیظ کہتے ہیں کہ ابھی کورونا کے مریضوں کو وہی اینٹی وائرل ادویات دی جا رہی ہیں جو بوڑھوں یا دوسرے بیمار افراد کو بیماری کی صورت میں دی جاتی تھیں
ڈاکٹر حفیظ کہتے ہیں کہ یہ مماثلت سب سے زیادہ ذہن میں رکھنے والی ہے اور اس سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔
'کورونا کے مریض سے سب سے زیادہ خطرہ اس کے گھر والوں کو ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ وائرس آنکھ، ناک اور منہ سے جسم میں داخل ہو جاتا ہے اس لیے سب سے زیادہ احتیاط مریض کے قریب رہنے والوں کو کرنی چاہیے۔
'یہ کمرے کے دروازے کے ہینڈل سے بھی لگ سکتا ہے اور وہی برتن استعمال کرنے یا پکڑنے سے بھی جو مریض استعمال کر رہا ہے۔ اس سے احتیاط کی کنجی صرف یہ ہے کہ مریض کے بہت قریب نہ جائیں لیکن ایسا نہیں کہ اسے بالکل چھوڑ ہی دیں۔ بس احتیاط کریں۔'

کورونا اور فلو میں فرق

ابھی تک سامنے آنے والی تحقیق کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ صرف ایک ہی وائرس ہے جبکہ فلو کی مختلف قسمیں اور وائرس ہیں۔
Getty Images
کورونا وائرس سے بچنے کے لیے جس نے جو مناسب سمجھا کیا
اگرچہ یہ دونوں وائرس ہوا میں قطروں اور چھونے سے لگتے ہیں لیکن ابھی تک سامنے آنے والی تحقیق سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ کورونا وائرس ایک شخص سے دوسرے کو اس وقت بھی لگ سکتا ہے جبکہ وہ وہاں موجود نہ ہو۔
یعنی کہ متاثرہ شخص کے جراثیم ہوا میں موجود قطروں میں زندہ رہتے ہیں اور جب وہ وہاں سے چلا بھی جاتا ہے تو وہ وہاں موجود یا آنے والے کسی دوسرے شخص کو لگ سکتے ہیں۔
اس بات کو بھی مدِ نظر رکھنا چاہیے کہ فلو کے متعلق سائنسدان کئی دہائیوں سے تحقیق کر رہے ہیں۔ اگرچہ اس سے اب بھی دنیا بھر میں بہت سی اموات ہوتی ہیں پر ہم اس کے متعلق بہت کچھ جانتے ہیں لیکن کورونا وائرس کے متعلق ایسا نہیں ہے۔
یہ نیا ہے، ہم اس کے متعلق زیادہ نہیں جانتے، اس سے نمٹنے کے لیے ہماری پاس ابھی مناسب ادویات نہیں اور اسی لیے یہ زیادہ خطرناک ہے۔