Popunder ads

Breaking

تحریریں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
تحریریں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 6 فروری، 2020

2:05 PM

کراچی کا ننھا زاہد محنت میں عظمت کی عملی مثال

کراچی کا ننھا بچہ جس کا نا م ہے زاہد محنت میں عظمت  کی عملی مثال بن گیا ہے۔
چوتھی کلا س کا طا لبعلم یہ بچہ بھیک مانگنے کے بجائے اپنے ننھے ہاتھوں سے روزانہ شام کے وقت ایک نجی اسپتال کے با ہر سموسے بیچ کر والدین کا ہاتھ بٹا تا ہے۔
Met Zahid outside the hospital, an absolute honour to have bought samosaas from this lil merchant ♥️😘his smile,his confidence & fearless attitude dil lagaya mera🙂wish him a blessed life ahead . Definitely our future leader 😇 can’t express my feeelings & happiness ♥️part 1/1 pic.twitter.com/cV82qviJGE
— Atika Mirza (@atika_mirza) February 5, 2020
یہ ننھا زاہد کم عمری میں گلی میں اپنے ہم عمر لڑکو ں کے ساتھ کر کٹ کھیلنے کے بجائے سموسے بیچنے میں لگ گیا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جن کا سفر محنت سے شروع ہوتا ہے ایک دن ان کے سروں پر کامیابی کاتاج ہوتا ہے۔
اس کی یہ ویڈیو آج کل سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہو رہی ہے جس میں نا صرف وہ اپنی محنت میں عظمت کی کہا نی سنا رہا ہے بلکہ اپنی معصومیت اور متا ثر کن مسکراہٹ کے باعث لو گو ں کی تو جہ بھی حا صل کر نے میں کامیاب ہو گیا ہے۔
اپنی ماں کے ہاتھوں سے بننے سموسے بیچتا یہ ننھا زاہد نہایت خو ش ہیں کیونکہ وہ رزق حلال کمانے کےلئے نکلا ہے اور ساتھ ساتھ پڑھا ئی کر کے اپنے روشن مستقبل کےلئے بھی پر امید ہے۔

منگل، 4 فروری، 2020

10:54 AM

پرانے زمانے کے لوگ کیسے کھانا بناتے تھے، دلچسپ

ان میں سے تین تختیاں 1730 قبل مسیح کی ہیں اور چوتھی ایک ہزار برس بعد کی ہے۔ چاروں تختیوں کا تعلق قدیم عراقی تہذیب سے ہے جن میں بابلی اور آشوریی تہذیبیں شامل ہیں۔ یہ علاقے اب عراق، شام اور ترکی میں آتے ہیں۔
پہلی تین تختیوں میں سالن والے تقریباً 25 پکوانوں میں استعمال ہونے والی چیزوں کا ذکر ہے۔ دو اور تختیوں پر مزید دس سالن کا ذکر ہے، جن کے ساتھ انھیں پکانے کے طریقے اور پیش کرنے کے مشورے بھی شامل ہیں لیکن وہ اتنی خراب حالت میں ہیں کہ انھیں پڑھنا ممکن نہیں ہے۔
ماہرین کے سامنے بڑا چیلنج یہ ہے کہ تاریخ کے اوراق میں قید ان ترکیبوں کو جدید دور کے مصالحے استعمال کرتے ہوئے ایسے تیار کیا جائے کہ اصل ذائقہ برقرار رہے۔
ہاورڈ یونیورسٹی کی فوڈ کیمسٹ پیا سورینسن کہتی ہیں ’یہ نسخے زیادہ تفصیلی نہیں ہیں، بمشکل چار لائینوں میں ترکیبیں بتائی گئی ہیں۔ یعنی بہت کچھ تصوراتی ہے۔‘
پکوان تیار کرنے میں یورادو گونزالس ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔
گونزالس کہتے ہیں ’چار ہزار برس قبل استعمال ہونے والی چیزیں اور حال ہی میں کھانا پکانے میں استعمال ہونے والی چیزیں ایک جیسی ہیں۔
گوشت کا ٹکڑا تو گوشت کا ٹکڑا ہے۔
کھانا پکانے کی سائنس آج بھی ویسی ہی ہے جیسے تب تھی۔‘ پکوان تیار کرنے میں وہ اسی بنیادی سائنس کا سہارا لے رہے ہیں۔
انسانی ذائقوں کے بارے میں سائنسدانوں کی معلومات، ان میں استعمال ہونے والی اشیا کے بارے میں معلومات اور مصالحوں کی مقدار کو معقول اندازے سے ایک ساتھ استعمال کر کے ان پکوانوں کو اصل ذائقے سے قریب ترین میں تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سورنسن نے بتایا کہ اس میں استعمال ہونے والی اشیا کی بنیاد پر ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پکوان کوئی سوپ تھا یا کچھ اور۔ زیادہ تر معاملوں میں یہ سالن ہیں۔
محقیقین کا خیال ہے کہ یہ دنبے کے سٹو کا ابتدائی روپ ہے، جو آج بھی عراق میں مقبول ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تختیوں پر لکھی سبھی ڈشز کسی خاص مقصد کے لیے تیار کی جانے والی ڈشز ہیں، مثال کے طور پر ان میں ایک ڈش ’پشروتم‘ ہے جو کہ ایسا سوپ ہے جو زکام سے متاثرہ افراد کو راحت پہنچا سکتا ہے۔
برڑامووچ نے بتایا کہ فہرست میں دو بیرونی ممالک کے پکوان بھی شامل ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایسا تو اب بھی ہوتا ہے۔ جیسے لزانیا اور ہومس جیسی کھانے کی چیزیں اب دنیا بھر میں مقبول ہیں اور مختلف انداز میں کھائی جاتی ہیں۔
برڑامووچ کہتے ہیں ’ان چار ہزار برس پرانی تختیوں سے ان پکوانوں کے متعلق ایک جھلک ملتی ہے۔ کچھ پکوان ان کے اپنے ہیں اور کچھ پردیسی ہیں۔ جو پردیسی پکوان ہیں وہ برے نہیں، صرف مختلف ہیں۔‘
تختی پر لکھی ایک ڈش ’ایلامائٹ‘ سالن ہے جسے تیار کرنے میں گوشت کے ساتھ خون بھی استعمال ہوتا ہے۔ ایسا اسلامی اور یہودی مذہب میں ممنوع ہے، لیکن اس ڈش کا جنم موجودہ ایران میں ہوا تھا۔
اس میں سووہ بھی استعمال کیا جاتا ہے، جس کا ذکر تختیوں میں کہیں اور نہیں ملتا لیکن یہ فرق آج بھی موجود ہے۔ عراقی پکوانوں میں سووہ کا استعمال شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔
تاہم ایرانی پکوانوں میں سووہ کا استعمال بہت عام ہے۔ برڑامووچ کہتے ہیں کہ اس سے پتا چلتا ہے کہ پکوانوں کا تہذیبوں کے درمیان تبادلہ قدیم دور سے جاری ہے۔
اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ اس دور میں بھی مختلف تہذیبوں کے درمیان کاروبار اور دوسروں کے طور طریقوں کی قدر کا جذبہ موجود تھا۔ یہ بھی پتا لگتا ہے کہ اس دور کے خانسامے بھی کسی خاص دعوت میں اپنے ہنر کی نمائش کے بارے میں سنجیدہ تھے۔
عراقی پکوانوں کی ماہر نوال نصراللہ نے بتایا کہ ایک پکوان ’چکن پوٹ پائی‘ جیسا لگتا ہے۔
اس میں بھی روٹی نما بیس پر بابلی سوس میں لپٹے پرندے کے گوشت کے ٹکڑے ہوتے تھے۔
قرون وسطی اور عرب پکوانوں کی محقق نوال نے قدیم تختیوں پر لکھے کھانا پکانے کے طریقہ کار کا جدید طریقوں سے تعلق سمجھنے میں مدد کی ہے۔
نوال کہتی ہیں ’آج عرب ممالک میں، خاص طور پر عراق میں ہمیں اپنی ’سٹفڈ ڈشز‘ پر فخر ہے۔ میں اس بات سے بہت متاثر ہوئی کہ کس طرح قدیم ڈشز موجودہ دور تک پہنچنے میں کامیاب رہیں۔
‘ وہ مزید کہتی ہیں ‘بہت سی باتیں قدیم دور میں جیسی تھیں ویسی ہی آج بھی ہیں، جیسا کہ ہم صرف نمک اور کالی مرچ نہیں استعمال کرتے، بلکہ ہم کئی اور مصالحے ڈالتے ہیں تاکہ خوشبو بھی اچھی ہو۔
ہم انھیں ایک ساتھ بھی نہیں ڈالتے، بلکہ پکانے کے ساتھ آہستہ آہستہ ڈالتے جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ ہم شوربے کو ہلکی آنچ پر پکنے دیتے ہیں۔‘
نوال کہتی ہیں کہ اس دور میں دنبے کا سٹو جو کے آٹے کے روٹی جیسے ٹکڑے پکا کر انھیں کسی سالن میں بھگو کر کھایا جاتا تھا۔ لیکن ایسا تو آج بھی کیا جاتا ہے روٹی یا بریڈ کی شکل میں۔
محقیقین اور کھانے کے ماہرین کی کئی ماہ کی محنت اور کئی بار ناکام ہونے کے بعد ایک لذیذ سالن تیار ہوا۔ ایک خاص پودے کی پتیوں نے اس میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ پتیاں سالن میں ہلکی سی کھٹاس پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوئیں لیکن اس کی زیادہ مقدار یا اسے صحیح موقع پر نہ ڈالنے سے ڈش بدمزہ بھی ہو سکتی ہے۔
نوال کو اس بات نے بھی حیران کیا کہ عراق میں آج کھانے پینے میں جو پکوان مشہور ہیں انھی کا کوئی روپ قدیم دور میں بھی پسند کیا جاتا تھا کیوں کہ وہاں آج بھی سالن اور چاول سب سے عام پکوان ہے۔
اس دور میں بھی کھانا پکانے کے چند اصول تھے جو کھانے کو نفیس بنانے کے لیے ضروری تھے۔ کسے پتہ کہ انھوں نے ان طریقوں کو کب اپنایا ہو گا؟

اتوار، 22 ستمبر، 2019

8:21 PM

کومل عزیز خان کی زندگی کے چند مشکل اوقات


کومل عزیز خان ان کی بہن اور والدین امریکہ میں رہتے تھے پھر کومل عزیز خان کے والدین نے پاکستان شفٹ ہونے کا پلان بنا لیا تو کچھ عرصہ تک کومل عزیز کی فیملی پاکستان آگئی تو کومل عزیز خان کی فیملی ایک یوٹل کے ڈیپارٹمنٹ میں شفٹ ہونے کا ارادہ کر لیا وہ لوگ کچھ وقت ہی ہوٹل میں رکے تھےاور خاشگوار زندگی گزار  رہے تھےابھی ان کو شفٹ  ہوئے کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ کومل عزیز کے والد صاحب کا انتقال ہو گیاکومل عزیز اپنے والد کے انتقال کے بعد دونوں بہنیں اپنی والدہ کے ساتھ رہتی تھیں ڈیپارٹمنٹ کا مالک ایک سندھی وڈیرااور بدمعاش تھااس نے ان لوگوں کو تنگ کرنا شروع کر دیا اور ان سے پیسے چھین کر لے جاتا تھا اس علاقے کے لوگ اس آدمی سے ڈرتے تھے کومل عزیز اواسکی فیملی نے گیارہ مہینے ہی اس ڈیپارٹمنٹ میں گزارے تھے اور جب ڈیپارٹمنٹ چھوڑنے لگے تو ایڈوانس والی رقم واپس مانگ تو وڈیرے نے ان کو تنگ کرنا شروع کر دیا اور پیسے دینے سے انکار کر دیا اور کومل عزیز پر فائرنگ کر دی کومل عزیز روتی چلاتی رہی سارے لوگ اکھٹے ہو گئے لیکن کسی نے بھی ان کی مدد نہیں کی اور وہ آدمی بھاگ گیا اور اس نے کومل عزیز کے گھر کی بجلی کاٹ دی کومل عزیز کے جاننے والے ایک انکل تھے اس نے سوچا کہ اپنے انکل کو اس وڈیرے کے پاس لے کر جائے تاکہ ان سے پیسے واپس لے سکے اس آدمی نے کومل کی بہن کو اور اس کے انکل کو بہت ماراتو کومل عزیز نے وی فلیٹ چھوڑنے کا ارادہ کر لیا اس واقع کے بعد کومل عزیز خان کو پتہ چل گیا کہ اگر والد کا سایہ سر پر نہ ہو تو دنیا والے جینا دشوار کر دیتے ہیں کومل عزیز نے اپنی محنت اور لگن سے ڈراموں میں کام کرنا شروع کر دیا اور کومل عزیز نے اپنے والد کی وفات کے بعد اپنے پورے گھر کی ذمہ داری کو اُٹھایا اور کومل عزیز نے اپنی والدہ اور اپنی بہن کی تمام ضروریات کو پورا کیا اور پھر اپنی فیملی کے ساتھ خاشگوار زندگی گزارنے لگیں

ازقلم رمشہ نوریز

ہفتہ، 21 ستمبر، 2019

6:52 PM

کیلشم کی کمی کیسے ختم ہو گی

اکثر لوگوں کا مسئلہ سنا ہے کہ ان کے جسم میں کیلشم کی کمی کیوں ہے اور کس وجہ سے ہے آج کیلشم کی کمی کے مسئلے کو حل کرتے ہیں بچوں اور بڑوں میں یہ مسئلہ عام ہے اور اس مسئلے کو حل کرتے ہوئے میں ایک نقصہ لکھتی ہوں جو سب کے لئے نہایت ضروری ہے کیلشم کی کمی کی وجہ سے جسم میں طاقت نہیں رہتی اور ہڈیاں کمزور ہو جاتی ہیں اور چھوٹے بچوں میں گروتھ کی کمی کو بھی ختم کیا جا سکتا ہے کیلشم کی کمی کو ختم کرنے کے لئے ایک شربت کا استعمال کرتے ہیں اس سے کیلشم کی کمی کے مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے اس سے کیلشم کی کمی کو آپ کے جسم سےختم کیا جا سکتا ہےاور کیلشم کی کمی کو پورا کر کے ہڈیاں مضبوط  کرتا ہے اور جسم میں ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں اور ہڈیوں کو توانائی فراہم کرے گاجسم میں توانائی اور طاقت بھر دے گا اس شربت سے جسم کا کیلشم ختم ہو جاتا ہے اس شربت کو کیسے بنائیں گے 
شربت بنانے کا طریقہ یہ ہے پکانے کے لئے ایک خالی برتن لیں  اس میں تازہ پانی  کا ایک گلاس ڈالیں اور ایک سیب لیں اس کو دھو لیں سیب میں وٹامن A اور وٹامن C کا بہترین ذریعہ ہے یہ کیلشم کی کمی کو ختم کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہےعام روٹین میں بھی آپ سیب کا استعمال کرسکتے ہیں اب ہم سیب کو چھیل لیں گے پھر اس کا چوتھائی حصہ کدوکش کر لیں گے اور کدوکش کیا ہوا سیب  پانی میں ڈال دیں گے اور پھر ایک  انجیر لیں اسکے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کاٹ لیں اور ان ٹکڑوں کو بلکل باریک باریک کر لیں اور پھر انجیر کو بھی اسی پانی میں ڈال لیں انجیر کو بھی عام روٹین میں استعمال کر سکتے ہیں سیب اور انجیر کو پانی میں ڈال کر پکنے کے لئے رکھ دیں اور پھراس کو 3سے4منٹ تک پانی میں ابال لیں اور جب یہ ابال لیں تو اس کو ٹھنڈا کر لیں پھر اس شربت کو مرد عورت ایک گلاس پی سکتے ہیں ہفتے میں دو بار اس شربت کا استعمال کریں اور بچوں کی گروتھ کے لئے بچوں کو بھی پلایا جا سکتا ہے لیکن بچوں کو آدھا گلاس اور ہفتے میں ایک گلاس پلا سکتے ہیں یہ شربت ہڈیوں کو مضبوط اور توانائی فراہم کرتا ہے اور کیلشم کی کمی کو ختم کرتا ہے اور جسم کو طاقت ور بناتا ہے اس سے جسم میں وٹامنA اور وٹامنC بھی پورا ہوتا ہے 

از قلم رمشہ نوریز
4:24 PM

اداکارہ ماہرہ خان کیسے اپنی زندگی میں آگے بڑھیں


ماہرہ خان ایکٹر ہی نہیں بلکہ موڈل اور ہوسٹ بھی ہیں ماہرہ خان کا پورا نام ماہرہ حفیظ خان ہے ماہرہ خان21 دسمبر 1984 کراچی میں پیدا ہوئی ماہرہ خان کے والد صاحب انڈیا کے علاقے دہلی کے رہنے والے تھے جب پاکستان بنا تو وہ پاکستان آ گئے اور کراچی میں رہنے لگےماہرہ۔خان کاتعلق خان فیملی سے ہے ماہرہ خان قدرتی حسن اور فطری صلاحیت کی بنا پر ہر بڑی ایڈورٹائزمنٹ کمپنی کی ترجی ہے ماہرہ خان اپنی محنت کا لوح منوا چکی ہیں انہیں پاکستان ہی نہیں بلکہ ایشیا کی پرکشش خاتون قرار دیا گیا ہے ماہرہ خان کی شخصیت پر ان کے دادیال کا اثر ہے ماہرہ خان نے اپنا بچپن اپنے دادا کے علاوہ ماہرہ خان نے اپنی پھوپھو کے بچوں کے ساتھ گزارا ماہرہ خان نے O لیول کے Exam فاونڈیشن پبلک سکول کراچی میں پاس کیا ہےاس کے بعد 17سال کی عمر میں وہ یونائٹڈسٹیٹ ٹیلی فامیاں میں چکی گئیں وہاں پر وہ اعلٰی تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی لیکن وہاں سے ڈگری حاصل نہ کر سکیں تو پھر ماہرہ خان انڈسٹری میں کیسے آئیں ماہرہ خان 2006میں میوزک چینل پر بطور ویزا کیرر سےاپنا آغاز کیا ہے ایک میوزک چینل کے CO مظفر علی نے اسے مجبور کیا کہ وہ یہ جوب ضرور کریں اس وقت ماہرہ خان خود کشمکش میں تھی انہیں لگا کہ اگر وہ مظفر علی کی تواقع پر پورا نہ اُتریں تو کیا ہو گا ماہرہ کے ہونے والے شوہر علی اسکری نے مظفف علی کو بولا کہ ماہرہ خان یہ کام ضرور کرے گی جب تک چھٹی پر ہے علی اسکری نے ماہرہ کو درست مشورہ دیا پھر ماہرہ خان اپنے کام سے لُطف اندوزہونے لگی اور ماہرہ خان نے دوسرے میوزک چینل پر بھی کام کیااور اپنی محنت سے نمایاں پہچان حاصل کر لی چونکہ پاکستان جلد ہی زوال کا شکار ہو گیا تو ماہرہ خان نے باہر کے ملکوں میں بھی کام کرنا شروع کر دیا ماہرہ خان ایسی مشہور ہوئیں کہ شیر منسور نے اس کو عاطف اسلم کے ساتھ بول فلم میں کام کرنے کا موقع دیا اس وقت فلمیں کم بنتی تھیں تو پھر ماہرہ خان نے ڈراموں کام کیا ماہرہ خان کا پہلا ڈرامہ سیریل نیت تھا اور اس ڈرامے میں ماہرہ خان نے ہمایوں سعید کے ساتھ کام کیا تھا اور پھر دوسرا ڈرامہ سیریل ہم سفر میں فواد احمد کے ساتھ کام کیا اور پھر سُپرہٹ ڈراموں اور فلموں میں اپنی شہرت کا کوح منایا ماہرہ خان نے ہوسٹنگ بھی کی ہے Lux ایوارڈ میں ہوسٹنگ کی ماہرہ خان نے 17ایواڈ حاصل کیئے ہیں
از قلم رمشہ نوریز

بدھ، 18 ستمبر، 2019

8:33 PM

عمران خان کی زندگی

عمران خان کی زندگی
عمران خان پاکستان کا وزیراعظم ہے عمران خان کی پہلی شادی جمائمہ خان سے ہوئی جوکہ ایک غیر مسلم خاتون تھیں جمائمہ خان نے اپنا مذہب اور اپنی فیملی کو چھوڑ کر عمران خان کے ساتھ شادی کر کے پاکستان آگئیں عمران خان اور جمائمہ خان نے بہت سی مشکلات کا سامنا کیا جمائمہ خان برطانوی عرب پتی سر جینز کی بیٹی تھیں عمران خان اور جمائمہ خان کی پہلی ملاقات 1995میں ہوئی۔ 
Noraiz-nazir

تب عمران خان کی عمر43سال تھی اور جمائمہ خان کی عمر 21سال تھی جمائمہ خان اور عمران خان کو ایک ساتھ رہنے میں بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب جمائمہ خان پاکستان آئیں تو جمائمہ خان کو ہر طرح کی مشکلات سے گزرنا پڑا عمران خان پاکستانی کرکٹ تھا جمائمہ خان اور عمران خان کی عمر میں بہت زیادہ فرق تھا پھر بھی جمائمہ خان نے عمران خان کے ساتھ ایک مثالی بیوی کی طرح زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا جمائمہ خان نے ایک اسلامی تقریب میں شادی کی تھی جمائمہ خان نے شادی سے چند مہینے ہی اسلام قبول کیا تھا پیرس کی اسلامی تقریب میں  عمران خان اور جمائمہ خان کی شادی ہوئی تھی جمائمہ خان نے اپنی ساری پڑھائی M.A in medal  Eastern study پورا کیا اور جمائمہ خان نے اردو زبان بولنا شروع کر دی جمائمہ خان کی پڑھائی بھی اسلام پر تھی 1996 میں جمائمہ خان پاکستان  میں عمران خان کے ساتھ آئیں اور پاکستانی لباس میں خود کو لپٹا اور عمران خان کی شریک حیات بن کر پاکستانی عورتوں کی طرح رہنے لگ گئی تھیں عمران خان اور جمائمہ خان کے دو بیٹے بھی ہیں سلمان اور قاسم عمران خان کے بیٹے ہیں عمران خان نے سیاست کی طرف اپنا دماغ لڑانا شروع کر دیا عمران خان نے اپنی پارٹی تحریک انصاف بنا کر سیاست میں شامل ہوئے جمائمہ خان نے شوکت خام ہسپتال جوکہ کینسر کا ہسپتال ہے اس کے لئے بھی بہت کام کئے  یہ ہسپتال جمائمہ خان کی ساس کے نام پر بنا اور چل رہا ہے عمران خان اپنی سیاست میں مگن رہے لیکن جمائمہ خان نے عمران خان کا بھر پور ساتھ دیا اور ہر مشکلات کا سامنا عمران خان کے ساتھ مل کر کرتی رہیں عمران خان نے جمائمہ خان پر ملک پر قبضہ کرنے کا الزام لگایا اور یہودی ہونے کا الزام دیا جمائمہ خان پر ہر طرح کے الزامات لگائے گئے اور پھر جمائمہ خان نے خود کو پاکستان میں تنہا محسوس کرنا شروع کر دیا تھا2004 میں عمران خان اور جمائمہ خان ایک دوسرے سے الگ ہو گئے عمران خان اور جمائمہ خان کے الگ ہونے کا سبسب سیاست بنی عمران خان سیاست میں مگن رہےاور جمائمہ خان کو پاکستان میں یہودی کہلایا گیا اور اس پر الزام تراشی ہوئی جسکی صورت میں عمران خان اور جمائمہ خان الگ ہوئے ہیں  لیکن آج بھی عمران خان اور جمائمہ خان کے تعلقات بہت اچھے ہیں جمائمہ خان سے الگ ہونے کے بعد عمران خان نے بشری بی بی ریحام خان اور بشری انیکا کے ساتھ بھی نکاح کیا

بدھ، 4 ستمبر، 2019

6:41 PM

اس عورت کے فلاں مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں

اس عورت کے فلاں مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں
"غسل کے دوران مدینہ کی ایک عورت نے عورت کی میت کی ران پر ہاتھ رکھتے ہوئے یہ الفاظ کہے اور اللہ تعالی نے اپنی ڈھیل دی ہوئی رسی کھینچ دی! اس عورت کا انتقال مدینہ کی ایک بستی میں ہوا اور غسل کے دوران جوں ہی غسل دینے والی عورت نے‏ مندرجہ بالا الفاظ کہے تو اس کے ہاتھ میت کی ران کے ساتھ چپک گئے۔ چپکنے کی قوت اس قدر تھی کہ وہ عورت اپنا ہاتھ کھینچتی تو میت گھسیٹنے ہوتی تھی مگر ہاتھ نہ چھوٹتا تھا۔
جنازے کا وقت قریب آ رہا تھا اس کا ہاتھ میت کے ساتھ چپک چکا تھا اور بے حد کوشش کے باوجود جدا نہیں ہو رہا، تمام عورتوں نے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر کھینچا، مروڑا غرض جو ممکن تھا کیا مگر سب بے سود رہا!‏دن گزرا ، رات ہوئی، دوسرا دن گزرا،پھر رات ہوئی سب ویسا ہی تھا، میت سے بدبو آنے لگی اور اس کے پاس ٹھہرنا ،بیٹھنا مشکل ہو گیا!
مولوی صاحبان، قاری صاحبان اور تمام اسلامی طبقے س مشاورت کے بعد طے ہوا کہ عورت کا ہاتھ کاٹ کر جدا کیا جائے‏اور میت کو اس کے ہاتھ سمیت دفنا دیا جائے۔
مگر اس فیصلے کو عورت اور اس کے خاندان نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ ہم اپنے خاندان کی عورت کو معزور نہیں کر سکتے لہزہ ہمیں یہ فیصلہ قبول نہیں!
دوسری صورت یہ بتائی گئی کہ میت کے جسم کا وہ حصہ کاٹ دیا جائے اور ہاتھ کو آزاد کر کے میت‏دفنا دی جائے،
مگر بے سود!!!!!
اس بار میت کے خاندان نے اعتراض اٹھایا کہ کم اپنی میت کی یہ توہین کرنے سے بہر حال قاصر ہیں!!!
اس دور میں امام مالک رح قاضی تھے
بات امام مالک تک پہنچائی گئی کہ اس کیس کا فیصلہ کیا جائے! امام مالک اس گھر پہنچے اور صورتحال بھانپ کر اس عورت سے سوال کیا‏"اے عورت! کیا تم نے غسل کے دوران اس میت کے بارے میں کوئی بات کی؟"
عورت نے سارا قصہ امام مالک کو سنایا اور بتایا کہ اس نے غسل کے دوران باقی عورتوں کو کہا کہ اس عورت کے فلاں مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں!!
امام مالک نے سوال کیا "کیا تمھارے پاس اس الزام کو ثابت کرنے کے‏لیے گواہ موجود ہیں"
عورت نے جواب دیا کہ اس کے پاس گواہ موجود نہیں!
امام مالک نے پھر پوچھا "کیا اس عورت نے اپنی زندگی میں تم سے اس بات کا تزکرہ کیا؟"
جواب آیا "نہیں"
تو امام مالک نے فوری حکم صادر کیا کہ اس عورت نے چونکہ میت پر تہمت لگائی ہے لہزہ‏اس کو حد مقررہ کے مطابق 80 کوڑے لگائے جائیں!
حکم کی تعمیل کی گئی اور 70 بھی نہیں 75 بھی نہیں 79 بھی نہیں پورے 80 کوڑے مارنے کے بعد اس عورت کا ہاتھ میت سے الگ ہوا!
آج ہم تہمت لگاتے وقت ذرا بھی نہیں سوچتے ۔استغفراللہ
حوالہ:
بکھرے موتی،جلد اول، مولانا محمد یوسف پالن پور
1:04 PM

جس کی لاٹھی اس کی بھینس

noraiz-nazir

کمزور احتجاج کرتا ہے ،، طاقتور بدلہ لیتا ہے ،، کبھی گاؤں کے چودھری کو احتجاج کرتے دیکھا ؟؟؟ احتجاج کمی کرے گا ہمیشہ ،،، کبھی اسرایئل نے احتجاج کیا ،، آپ ہولو کاسٹ پر بیان دیں ، اسرائیل احتجاج نہیں کرے گا لیکن آپ کے ملک میں آپ کی لاش ملے گی ،، اسے کہتے ہیں طاقت ،،
 نبی کریمؐ نے کبھی احتجاج کیا ؟؟؟ نہیں ،،کعب بن اشرف آپؐ کی ہتک کرتا تھا ، ابھی مکہ فتح نہیں ہوا تھا ،، مسلمان کمزور تھے ، لیکن احتجاج نہیں کیا ،، صحابہ ؓ سے پوچھا تم میں سے کون کعب کو اس کے گھر یعنی علاقہ میں قتل کر کے آۓ گا،، ایک صحابی گۓ اور اس گستاخ کو اس کے اپنے علاقے میں جہنم واصل کیا، یہ ہے سنت محمدؐ

اور یہی ہے کافر کا علاج ،،

یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی ان مغربی اقوام کی تعریفیں کرتا ہے کہ یہ بڑی دیانتدار ، ایماندار ، وقت کی پابند ، وعدے کی پابند ، معاملات میں کھرے وغیرہ وغیرہ۔۔۔ تو میرا خون کھول جاتا ہے کیونکہ بچپن سے اب تک ان " مہذب " اقوام کو ہم نے بڑے بڑے جرائم میں ہی ملوث پایا ہے۔ یہ انکی ظاہری دیانت داری تجارتی  Commercial ذہن کی عکاسی کرتی ہے کیونکہ یہ اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں کہ Honesty is the best policy.
یعنی ایمانداری سے کام اس لئے کریں کہ اس میں مادی فوائد ہیں۔ یعنی ایماندار اس لئے نہیں بنیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور یہ کہ ہمیں آخرت میں جواب دہی کرنی ہے ۔
اس کے علاؤہ آپ نے چند ممالک کی مثال دی ہے۔ اسرائیل کے خلاف کتنی قرار دیں سلامتی کونسل نے پاس کی ہیں لیکن کسی ایک پر بھی اس نے عمل نہیں کیا اور اسرائیل نے دنیا کو مسیج دیا کہ ہم صرف ایک ہی اصول جانتے ہیں کہ
Might is right
جس کی لاٹھی اسکی بھینس۔

ہمیںیادہے_ذراذرا

 یہی سیکیورٹی کانسل تھی اور یہی تم پانچوں وڈے چودھری(۔امریکا۔فرانس۔برطانیہ۔چائنہ۔روس)
 کیس لیکر آنے والا امریکا تھا اور جس پر کیس تھا وہ صدام حسین تھا۔ کون تھا۔۔؟؟ صدام حسین۔ یاد ہے نہ۔
جھوٹی دلیلوں، فیک ڈاکیومینٹس، غلط ثبوتوں پر بنا ہوا ماس ڈسٹرکشن ویپنس کا تاریخ کا کمزور ترین کیس۔ مگر تم نے حملہ کرنے کے لیئے ریزولیشن پاس کردی تھی۔ اور تم پانچوں امریکا کی سربراہی میں اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر عراق پر چڑھ دوڑے تھے۔
انبیاء کرام کی اس سرزمین پر انسانی خون کی ندیاں بہادی گئیں۔ بچوں اور عورتوں کی چیخیں آسمان ہلانے لگیں۔ عراق کو نسلی اور مسلکی بنیادوں پر ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا۔زمیں کا چپا چپا چھانا گیا مگر ماس ڈسٹرکشن ویپنس کا کہیں نام نشان بھی نہ تھا۔
پھر تمہارے ہی اک چوہدری برطانیہ کے وزیراعظم نے ٹی وی پر آکر قبول کیا کے ہم پروپیگینڈہ میں آگئے تھے اور غلط کردیا۔۔۔۔۔آہ

یہی سیکیورٹی کائونسل تھی،
 پھر کیس لیکر آنے والا امریکا تھا اور جن پر کیس تھا وہ ملا عمر  اور اسامہ بن لادن  تھے۔
وہ ہی جھوٹی گواہیاں، وہی جھوٹے ثبوت کے اسامہ نے ٹون۔ٹاورس پر حملہ کیا ہے اور ملا عمر  اس کو امریکا کے حوالے نہیں کررہا۔
تم نے پھر حملہ کرنے کی ریزولیشن پاس کردی۔ اک بار پھر امریکا دنیا کی بیالیس ملکوں کی جدید فوج جو پوری دنیا کی آرمی کا ساٹھ فیصد ہے کو لیکر غریب افغانیوں پر چڑھ دوڑا۔ اور پھر جو کچھ ہوا وہ بھی اک تاریخ ہے۔ مگر وقت نے ثابت کیا کے ٹون۔ٹاورس حملہ تم نے خود کروایا تھا۔

اور پھر یہی سیکیورٹی کائونسل تھی
 کیس مشرقی تیمور اور دوسرا پھر جنوبی سوڈان کا تھا۔  تم نے دنوں کے اندر رائیٹ آف سیلف ڈٹرمینشن کے تحت رائے شماری کرواکر، دونوں مسلم ریاستوں کے ٹکڑے کرکے اپنی عیسائی ریاستیں قائم کرودیں۔

اور پھر کل
 یہی کائونسل اور وہی تم پانچ، کیس لیکر آنے والا پاکستان تھا اور مجرم نریندر مودی تھا۔
سچے ثبوتوں اور ٹھوس گواہیوں پر مبنی کیس کے انڈیا نے کشمیر کی تاریخی حیثیت کو ختم کیا ہے، پورے خطے کے امن کو داو پر لگادیا ہے۔ کشمیر میں انڈین آرمی روزانہ معصوم عورتوں کی عصمت دری کرتی ہے،  وہاں روزانہ نوجوانوں کو خون میں نہلایا جاتا ہے۔ پچھلے بارہ روز کرفیو کی وجہ سے لوگوں کے کھانے کی چیزیں اور دوائیاں ناپید ہوگئی ہیں، مریض تڑپ رہے ہیں۔

مگر تم نے کوئی ریزولیشن پاس نہیں کی، کوئی آفیشل مذمتی اسٹیٹمینٹ تک جاری نہ کیا، سوائے تشویش ظاہر کرنے کے۔
اگر یہی کیس لیکر آنے والا
 کوئی مائیکل یا ڈیوڈ یا کمار ہوتا اور ملزم احمد، محمد یا عبداللہ ہوتا تو پوری دنیا میں جنگ کے نقارے بج چکے ہوتے اور اس وقت تک تمہاری نیٹو کے ایف سیونٹین اڑان بھر چکے  ہوتے۔۔۔۔

یہ علم، یہ حکمت، یہ تدبر، یہ حکومت
پیتے ہیں لہو، دیتے ہیں تعلیم مساوات۔

ہفتہ، 24 اگست، 2019

12:46 PM

چند مشہور جملہ اور ان کے جوابات

✍ *چند مشہور جاھلانہ جملے اور ان کے جوابات*

🔸جملہ: نماز بخشوانے گئے تھے، روزے گلے پڑ گئے،

جواب: حدیث میں ہے؛ جس نے رسول اللہ ﷺ پر نازل شدہ دین کی کسی چیز کا یا اس کی جزا و سزا کا مذاق اڑا یا اس نے کفر کا ارتکاب کیا۔ (اگر چہ اس نے ہنسی مذاق کے طور پر یہ بات کہی ہو۔)

🔸جملہ: "محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے"
.
جواب: بلکل غلط، بحیثیت مسلمان ہمارے لئے محبت اور جنگ دونوں کی متعین حدود ہیں، جن سے تجاوز جائز نہیں.

🔸جملہ: "نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی- اب نیک ہونے کا کیا فائدہ؟"
.
جواب: ١٠٠% غلط! بحیثیت مسلمان  لاکھوں، کروڑ چوہے کھا کر بھی اگر بلی حج کو جائے گی تو ان شاء اللہ رب کی رحمت کو اپنے قریب  پائے گی. گویا کوئی شخص کتنا ہی گناہ سے آلودہ کیوں نہ رہا ہو؟ اگر سچی توبہ کر کے پلٹ آنا چاہے تو مغفرت کا دروازہ کھلا ہے. فرمانِ باری تعالی ہے: وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى اور جو شخص توبہ کرے، ایمان لائے، اچھے عمل کرے اور راہ راست پر گامزن رہے تو اسے میں یقینا بہت زیادہ معاف کرنے والا ہوں۔ [طه: 82]

 (”بلی حج کو چلیں“ یہ کہنا شعائر اسلام کی توہین ہے اسلئے ایسا کوئی بھی جملہ جس سے اسلام و مسلمین کی تنقیص کا پہلو نکلتا ہو، اُس سے گریز کریں۔)

🔸جملہ: آج کے دور کے مطابق دین میں تبدیلی وقت کی ضرورت ہے```

جواب۔ اللہ فرماتا ہے۔

```الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِيناً```

“(1400 سال پہلے )

آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا“
(المائدہ 3)

🔸جملہ: آخر اللہ کو ہماری یاد آہی گئی

جواب: اللہ فرماتا ہے.

َمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيّاً

تمہارا پروردگار بھولنے والا نہیں
[مريم : 64]

🔸`جملہ:   زمانہ بہت خراب ہوگیا ہے، زمانہ بڑا غدار ہے```


جواب: حدیث القدسی
ابن آدم مجھے اذیت دیتا ہے ۔ وہ زمانے (وقت) کو گالی دیتا ہے جب کہ زمانہ “میں “ ہوں ہر حکم میرے ہاتھ میں ہے اور میں ہی دن رات کو پلٹاتا ہوں
(متفق علیہ )

🔸جملہ: فلان بہت منحوس ہے وغیرہ وغیرہ ۔

جواب: بلکل غلط وہمی لوگوں کی باتیں ہیں یہ۔ اسلام میں نحوست اور بدشگونی کا کوئی تصور نہیں، یہ محض توہم پرستی ہے۔ حدیث شریف میں بدشگونی کے عقیدہ کی تردید فرمائی گئی ہے۔ سب سے بڑی نحوست انسان کی اپنی بدعملیاں اور فسق و فجور ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے۔

”تجھے جو بھلائی ملتی ہے وہ اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے اور جو بُرائی پہنچتی ہے وہ تیرے اپنے نفس کی طرف سے ہے،“
سورة النساء (4) آیات (79).
دعاؤں میں یاد رکھیں پلیز

اتوار، 18 اگست، 2019

10:18 PM

غزوه هند کی پیشین گوئی

noraiz-nazir

*پاک بھارت جنگ 850 سال پہلے حضرت نعمت اللہ شاہ کی پشین گوئیاں*

حضرت نعمت اللہ شاہ کا تعلق ایران سے تھا اور آج سے 850 سال پہلے اُنہوں نے اپنے فارسی اشعار میں دُنیا کے متعلق بہت سے پیش گوئیاں کیں اور اُن کی پیش گوئیوں کی سچائیوں نے دور حاضر میں اہل دانش کو ورطہ حیرت میں ڈال رکھاہے۔

نعمت اللہ شاہ صاحب کے اشعار جن میں انہوں نے آنے والے وقت کے متعلق بتایا ہے کی تعداد 2000 سے زیادہ ہے اس آرٹیکل میں ہم نعمت اللہ شاہ صاحب کے اُن اشعار کو شامل کررہے ہیں جن میں انہوں نے ہندوستان پاک و ہند کے متعلق پیش گوئیاں کیں جن میں سے بہت سی ماضی میں پوری ہوگئیں اور باقی مستقبل میں پُوری ہوتی دیکھائی دے رہی ہیں۔

ماضی میں پُوری ہونے والی چند اہم پیش گوئیاں
راست گوئیم بادشاہ در جہاں پیدا شود
نام او تیمور شاہ صاحبقراں پیدا شود
ترجمہ( میں سچ بتاتا ہوں دُنیا میں ایک بادشاہ پیدا ہوگا جس کا نام تیمور شاہ ہوگا اور وہ صاحب قراں ہوگا)
تاریخ جانتی ہے کہ نعمت اللہ شاہ نے یہ پیش گوئی 850 سال پہلے کی اور پھر اہل دانش نے دیکھا کے 1398 میں یعنی پیش گوئی کے 228 سال بعد تیمور شاہ نے ہندوستان پر حملہ کیا اور محمد تغلق کو شکست دی اور اپنی بادشاہت قائم کی۔

شاہ بابر بعد ازاں در ملک کابل بادشاہ
پس بہ دہلی والئی ہندوستاں پیدا شود
ترجمہ (اس کے بعد کابل کا بادشاہ بابر دہلی میں ہندوستان کی والی اور بادشاہ بنے گا)
اہل دانش ورطہ حیرت میں ہیں کے نعمت شاہ صاحب بابر کے ہندوستان پر حملے کے 350 سال پہلے اُسے اُس کے نام سے جانتے تھے۔

باز نوبت از ہمایوں از رسد زولجلال
ہم دراں افغاں یکے از آسماں پیدا شود
ترجمہ(پھر پروردیگار ذولجلال کی طرف سے بادشاہی ہمایوں کو ملے گی اور پھر افغانستان سے شیر خان ظاہر ہوگا۔
یہ پیش گوئی بھی من و عن پوری ہوگئی اور دُنیا نے دیکھا کے شیر شاہ سوری نے ہمایوں کو ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔

دلمیان ملک پنجابش شود شہرت تمام
قوم سکھانش مرید و پیرآں پیدا شود
ترجمہ( ملک پنجاب کے درمیان میں اُسے شہرت ملے گی اور سکھوں کی قوم اُس کی مرید ہو جائے گی)
یہ پیش گوئی 1441 میں پُوری ہوئی اور بابا گُرو نانک پیدا ہوئے جو سکھوں کے پہلے گُرو ہیں جن کا انتقال 1538 میں ہُوا۔

قوم سکھانش چیرہ دستی ہاکند در مسلمین
تا چہل ایں جورہ بدعت اندر اں پیدا شود
ترجمہ ( سکھ قوم مسلمان قوم پر ظلم و ستم کرے گی اور یہ سلسلہ 40 سال تک جاری رہے گا)

بعد ازاں گیرد نصاری ملک ہندویاں تمام
تا صدی حکمش میاں ہندوستاں پیدا شود
ترجمہ ( اس کے بعد عیسائی ملک ہندوستان پر قبضہ کریں گے اور یہ قبضہ ایک سو سال تک جاری رہے گا)
ہندوستان میں گوروں کی حکومت میں لارڈ کرزن جو ہندوستان کے وائسرائے تھے نے نعمت شاہ صاحب کی یہ پیش گوئی ہند میں بیان کرنا یہ کہہ کر ممنوع قرار دے دیا تھا کے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ برطانیہ ہندوستان پر صرف 100 سال حکومت کرے۔

وا گزارند ہند را از خود مگر از مکرشاں
خلفشار جاں کسل در مرد ماں پیدا شود
ترجمہ ( پھر انگریز ہندوستان کو خود ہی چھوڑ کر چلے جائیں گے مگر اپنی چالاکی اور مکر سے لوگوں کے درمیان ایک جان لیوا جھگڑا چھوڑ جائیں گے۔)
خطے کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اہل دانش کا کہنا ہے کہ یہ جھگڑا کشمیر کی وجہ سے ہے۔

دو حصص چوں ہند گردد خون آدم شد رواں
شورش و فتنہ فزوں از گماں پیدا شود
ترجمہ ( ہندوستان جب دو ٹکڑے ہوگا تو انسانوں کو بے دریغ قتل کیا جائے گا اور فتنہ اور فساد کی کوئی انتہا نہی ہو گی)
برصغیر پاک و ہند کے قیام پر 2 ڈیڑھ ملین سے زیادہ لوگوں کا قتل ہُوا اور کئی ملین لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔

پاکستان بننے کے بعد کی چند اہم پیش گوئیاں
نعرہ اسلام بلند شد بست وسہ ادوار چرغ
بعد ازاں بار و گریک قہر شاں پیدا شود
ترجمہ ( نعرہ اسلام 23 سال تک سر بُلند رہے گا اور پھر دوسری مرتبہ اُن پر قہر نازل ہو گا)
1947 سے 1971 تک پاکستان اور بنگلہ دیش ایک ہی ملک تھے اور پھر 1971 میں مشرقی پاکستان ہم سے جُدا ہو گیا۔

حال کے متعلق چند اہم پیش گوئیاں
بنی تو قاضیاں رابر مسند جہالت
گیرند رشوت از خلق علامہ با بہانہ
ترجمہ ( قاضی (جج) جہالت کی مسند پر دیکھے گا اور بڑے بڑے علم والے لوگ بہانوں سے لوگوں سے رشوت لیں گے)

اشتہار

گرد انگ از با رشوت در چنگ قاضی آری
چوں سگ پئے شکاری قاضی کند بہانہ
ترجمہ ( جج کو اگر چند سکے چاندی مٹھی میں رشوت دے گا توقاضی شکاری کُتے کی طرح بہانے کرے گا)
پاکستان کے موجودہ عدالتی نظام کو دیکھیں تو یہ پیش گوئی بلکل سچ ہے جسے پتہ نہیں نعمت شاہ صاحب نے 850 سال پہلے کیسے محسوس کیا۔

از اہل حق نا بینی درآں زماں کسے را
دوزوان و رہزنے رابر سر نہند عمامہ
ترجمہ ( ایسے وقت میں تو کسی کو اہل حق نہ دیکھے گا اور لوگ چوروں اور ڈاکوں کے سر پر دستار رکھیں گے)
پاکستانی سیاست دان جنہوں نے اس ملک کو لوٹ کھایا ہم دیکھتے ہیں لوگ اُن کے سروں پر دستار سجاتے ہیں۔

مستقبل کے متعلق چند اہم پیش گوئیاں
اندر نمازباشند غافل ہمہ مسلماں
عالم اسیر شہوت ایں طور درجہانہ
روزہ نماز طاعت یکدم شوند غائب
در حلقہ مناجات تسبیح از ریانہ
ترجمہ ( مسلمان نماز سے غافل ہوجائیں گے اور شہوت کے قیدی بن جائیں گے اور دنیا میں ایسا ہی ہوگا، روزہ نماز اور احکام ایک دم غائب ہو جائیں گے اور مناجات کی محفلوں میں ریاکارانہ ذکرواذ کار ہوگا)
بعد آں شود چوں شورش در ملک ہند پیدا
فتنہ فساد برپا بر ارض مشرکانہ
ترجمہ ( اس کے بعد ہندوستاں میں ایک شورش ظاہر ہوگی اور مشرکانہ سرزمین پر فتنہ اور فساد برپا ہوجائے گا)

درحین خلفشارے قومے کہ بت پرستاں
بر کلمہ گویاں جابراز قہر ہندوانہ
ترجمہ (اس خلفشار کے وقت پر بت پرست کلمہ گو مسلمانوں پر اپنے ہندوانہ قہر و غضب کے ذرئیے جابر ہوں گے)
یہ دو اشعار اگر حال کے آئینے میں دیکھے جائیں تو پلوامہ کی دہشت گردی اور ہندوستان کا جاہرانہ رویہ یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ یہ اشعار نعمت اللہ شاہ صاحب نے اسی وقت کے لیے لکھے ہیں اور اگر ایسا ہی ہے تو پھر ہندوستان پاکستان پر حملے سے باز نہیں رہے گا۔

بحر صانت خود از سمت کج شمالی
آید برائے فتح امداد غائبانہ
ترجمہ ( مدد کے لیے شمال و مشرق سے غائبانہ امداد آئے گی)

آلات حرب و لشکر در کار جنگ ماہر
باشد صہیم مومن بے حد و بیکرانہ
ترجمہ ( جنگی ہتھیاروں سے لیس ماہر جنگی حکمت عملی والا لشکر آئے گا جس سے مسلمانوں کو زبردست قوت ملے گی)

عثمان عرب و فارس ہم مومنان اوسط
از جذبہ اعانت ائیند والہانہ
ترجمہ (عرب، تُرک، ایران اور مشرق وسطی والے امداد کےجذبے سے دیوانہ وار آئیں گے)

اعراب نیز ائیند از کوہ دشت و ہاموں
سیلاب اتشیں شد از ہر طرف روانہ
ترجمہ (پہاڑوں بیابانوں کی طرف سے اعراب آئیں گے اور آگ کا سیلاب ہر طرف رواں دواں ہو گا)

چترال نانگا پربت باسین ملک گلگت
پس ہائے ملک ہائے تبت گیر نار جنگ آنا
ترجمہ (چترال نانگا پربت چین اور گلگت ساتھ ملیں گے لڑنے کے لیے اور تبت کا علاقہ میدان جنگ بنے گا)

یکجا شوند عثمان ہم چینیاں و ایران
فتح کند ایناں گل ہند غازیانہ
ترجمہ (ترکی چین اور ایران اکھٹے ہو جائیں گے اور ہندوستان کو غازیانہ فتح کر لیں گے )

غلبہ کنند ہمچوں مورد ملخ شباشب
حقا کہ قوم مسلم گروند فاتحانہ
ترجمہ (یہ چیونٹیوں اور مکڑیوں کی طرح راتوں رات میں غلبہ حاصل کریں گے اور میں قسم کھاتا ہوں کے مسلمان قوم فاتح ہوگی۔)

بعد از فریضد حج پیش از نماز فطرہ
از دست رفتہ گیرند از ضبط غاصبانہ
ترجمہ (فریضہ حج کے بعد اور نماز عید سے پہلے ہاتھ سے نکلے ہوئے علاقوں کو واپس حاصل کر لیا جائے گا جو غاصبانہ قبضے کی زد میں آئے تھے )

رود اٹک نہ سہ بار از خون اہل کفار
پر مے شودبہ یکبار جریان جاریانہ
ترجمہ ( دریائے اٹک کا پانی تین بار کافروں کے خون سے بھر کر جاری ہوگا)

پنجاب شہر لاہور کشمیر ملک منصور
دو آب شہر بجنور گیرند غالبانہ
ترجمہ ( شہر لاہور پنجاب کشمیر دریائے گنگا اور جمنا کا علاقہ اور بجنور شہر پر مسلمان غالبانہ قبضہ کریں گے۔)
دریائے اٹک کا تین بار دشمن کے خون سے بھر کر جاری ہونا اور ان علاقوں پر مسلمانوں کا قبضہ ہونے کی پیش گوئی سے مسلمانوں کی فتح کی طرف نشاندہی کی گئی ہے انشااللہ۔

ای غزوہ تابہ شش ماہ پیوستہ ہم بشر با
مسلم بفضل اللہ گروند فاتحانہ
ترجمہ ( یہ لڑائی چھ ماہ تک جاری رہے گی اور مسلمان اللہ کے فضل سے فتح سے ہمکنار ہوں گے)
حضرت کی آگ کے سیلاب کی پیش گوئی سے لگتا ہے کہ ہندوستان ایٹمی جنگ ضرور چھیڑے گا اور اس شعر میں مسلمانوں کی فتح کی نوید ہے ماشااللہ، اللہ پاک پاکستان اور پاکستانیوں کو بھارت کے شر سے محفوظ رکھے آمین۔

منگل، 30 جولائی، 2019

1:47 PM

پاکستان کے حالات

جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں پاکستان ترقی کی طرف گامزن ہے لیکن اس کے باوجود اتنے سال گزرنے کے بعد پاکستان کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے پہلے سالوں کی نسبت پاکستان۔ کے حالات میں بہتری آئی ہے لیکن اس طرح بہتری نہیں آئی جس سے پاکستان کو ترقی یافتہ کہا جاسکے جیسے جیسے پاکستان کی حکومتیں ہوتی رہی ہیں ویسے ویسے ان حکومتوں کا لائحہ عمل بھی تبدیل ہوتا رہا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے حالات میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی جس طرح آنی چاہیے تھی ویسے تو پاکستان کا عدلیہ نظام آزاد ہے لیکن یہاں پر قوانین جرم کے حساب سے ہر ایکٹ کے مطابق ترتیب دیئے گئے ہیں  لیکن ان پر کوئی عمل درآمد نہیں ہو تا آج تک پاکستان کا بڑا مسئلہ مسئلہ کشمیر ہے
کشمیر

کشمیر پاکستان کی ایک بہت بڑی سرزمین ہےپاکستان کا بڑا مسئلہ کشمیر ہے پاکستان میں ہر آنے والے وزیراعظم کا یہی مشن رہا ہے کہ کشمیر کو کیسے آزاد کروایا جائے ابھی حال ہی میں وزیراعظم عمران خان نے امریکہ کا دورہ کیا اور موجودہ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے اپنے بیانات میں کہا کہ عمران خان انڈیا اور پاکستان کے تعلقات کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تاکہ وہ مسئلہ کشمیر کو حل کرسکیں عمران خان نے بھر پور کوشش کی پھر وہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن اس بات پر انڈیا میں ہنگامہ ہوگیا اور انڈیا نےاپنی دس ہزار فوجیں کشمیر کے علاقے سری نگر بھیجی کشمیر کی عوام کو بہت سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے کشمیر کی عوام کو ان سب مسائل کو دیکھتے ہوئے اپنے آپ کو آگے بڑھانے کی ہمت اللہ تعالیٰ نے دے رکھی ہے ورنہ انڈیا نے کشمیر کے حالات کو خراب کرنے میں کوئی کثر نہ چھوڑی کشمیری عوام پر انڈیا نے بے حد ظلم کیے انڈیا نے کشمیر کو اپنا غلام بنا رکھا ہےکشمیر میں انڈیا نے لوگوں کو ذندہ جلا دیا ان کو ہر قسم کی تکلیف دیتے ان پر طرح طرح کے ظلم کرتے ہیں انڈیا کی دس ہزار فوجیں کشمیر میں داخل ہو گئی ہے امید ہے کشمیری عوام اس لڑائی میں آزادی حاصل کر کے امن وامان سے اپنی زندگی گزار سکیں گے انشاءاللہ انشاءاللہ انشاءالله
از قلم رمشہ نوریز