Popunder ads

Breaking

Huawei Mobile لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Huawei Mobile لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 2 مارچ، 2020

1:06 PM

پلے اسٹور کے بعد ہواوے کا سرچ انجن گوگل کو چیلنج

امریکی پابندیوں کے باوجود بھی چین کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے ترقی کے سنگ میل عبور کرنے سے پیچھے نہیں ہٹی۔
حال ہی میں کمپنی کی جانب سے اپنا ایپ اسٹور بھی متعارف کرایا گیا جو کہ گوگل پلے اسٹور کے لیے کسی بڑے چینلج سے کم نا تھا۔
لیکن اب چینی کمپنی ہواوے اپنا سرچ انجن بنانے کے لیے کام کر رہی ہے جو کہ دنیا کے مقبول ترین سرچ انجن گوگل کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ہواوے جلد اپنا سرچ انجن متعارف کرائے گی جسے بہت جلد ہواوے ایکو سسٹم کا حصہ بنادیا جائے گا۔
ایکس ڈی اے ڈویلپرز کی جانب سے ہواوے سرچ کو ٹیسٹ کرکے بتایا گیا کہ یہ ایک بنیادی سرچ ایپ ہے جو مطلوبہ معلومات یعنی ویڈیوز یا تصاویر سرچ کرنے میں مدد دیتی ہے۔
خیال رہے کہ ہواوے نے حال ہی میں اپنی ’ایپ گیلری‘ متعارف کرائی تھی جو کہ مقبول ترین پلے اسٹور اور ایپل اسٹور کے بعد تیسری سب سے بڑی ایپ گیلری ہے۔
واضح رہے کہ امریکی حکومت کی پابندیوں کے باعث ہواوے کے نئے اسمارٹ فونز پر گوگل کی ایپلی کیشنز اور سروسز دستیاب نہیں تھیں۔

اتوار، 1 مارچ، 2020

3:38 PM

چین کا نیا فولڈنگ فون

اے ایف پیچین کی آئی ٹی کمپنی ہواوے نے نیا فولڈنگ اسمارٹ فون متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔
برطانوی ذرائع ابلاغ کے ادارے رائٹرز کے مطابق ہواوے نے نیا فولڈنگ اسمارٹ فون میٹ ایکس ایس لانچ کیا ہے، جب کہ اس سے قبل میٹ ایکس کے نام سے 8 انچ کا پہلا فولڈنگ اسمارٹ فون مارکیٹ میں لایا گیا تھا۔ جس کی مارکیٹ میں قیمت 2000 امریکی ڈالر تھی۔
ہواوے کے مطابق نئے میٹ ایکس ایس کا ڈیزائن پرانے والے ماڈل سے ملتا ہے، تاہم نئے ماڈل کی ڈسپلے کوالٹی پرانے سے بہتر ہے۔ نئے اسمارٹ فون میں گوگل کا لائنسس شدہ اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم موجود نہیں ہوگا۔
اے ایف پیامریکا کی ہواوے کمپنی کی مصنوعات کے استعمال پر پابندی کے بعد گوگل کا آپریٹنگ سسٹم ہواوے کے میٹ ایکس ایس میں استعمال نہیں ہوسکا ہے۔
نئے فون سے متعلق منعقد کی جانے والی تقریب کو کرونا وائرس کے باعث ملتوی کردی گیا تھا، جس کے بعد کمپنی کی جانب سے فون کی ویڈیو شیئر کی گئی تھی، جس میں صارفین کو نئے فون کے فیچرز سے آگاہ کیا گیا۔
اسمارٹ فون کے علاوہ ہواوے نے نیا اسپیکر، 14 انچ میٹ بک ایکس پرو اور 15 انچ میٹ بک ڈی بھی لانچ کیا ہے۔ تاہم امکان ہے کہ اس کی فروخت پابندی کے باعث امریکا میں نہیں ہوسکے گی۔ فی الحال ہواؤے کی جانب سے صورت حال پر کوئی پریس ریلیز جاری نہیں کی گئی۔

ہفتہ، 29 فروری، 2020

6:27 PM

ہواوے نے پی 40 لائٹ فون متعارف کر دیا

یہ فون اس کمپنی کے نووا 6 ایس ایس سے ملتا جلتا ہے جسے ملائیشیا میں نووا 7 آئی کا نام دیا گیا تھا۔
اسپین میں پی 40 لائٹ کو پیش کیا گیا ہے جو اس سیریز کا مڈرینج فون ہے جس میں کیرین 810 پراسیسر، 6 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج دی گئی ہے۔
64 انچ کے ایل سی ڈی ڈسپلے میں فل ایچ ڈی پلس ریزولوشن موجود ہے جبکہ اوپن سورس اینڈرائیڈ 10 آپریٹنگ سسٹم کا امتزاج کمپنی نے اپنے ای ایم یو آئی 10 سے کیا ہے تاہم گوگل سروسز موجود نہیں۔

منگل، 25 فروری، 2020

6:59 PM

ہواوے کا نیا فولڈنگ سمارٹ فون

چین کی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے نے سمارٹ فون کا نیا ماڈل متعارف کروا دیا ہے۔
خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کے مطابق پیر کو ہواوے نے نیا فولڈنگ سمارٹ فون ’میٹ ایکس ایس‘ لانچ کیا ہے۔
گزشتہ سال ہواوے نے ’میٹ ایکس‘ کے نام سے 8 انچ کا پہلا فولڈنگ سمارٹ فون متعارف کرایا تھا۔
ہواوے کے مطابق نئے ’میٹ ایکس ایس‘ کا ڈیزائن پرانے والے ماڈل سے ملتا جلتا ہے لیکن نئے ماڈل کی ڈسپلے کوالٹی زیادہ بہتر ہے۔
مزید پڑھیںدنیا کے پہلے فولڈنگ سمارٹ فون کی لانچنگNode ID: 432201آئی فونز کو سست کرنے پر ایپل کو جرمانہNode ID: 457696ہواوے امریکہ میں مقدمہ ہار گئیNode ID: 460001
ہواوے نے دعویٰ کیا ہے کہ پچھلے ماڈل کے مقابلے میں میٹ ایکس ایس زیادہ پائیدار ہے۔
پچھلے سال کے ماڈل کے مقابلے میں نئے سمارٹ فون میں گوگل کا لائنسس شدہ اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم موجود نہیں ہوگا۔ امریکہ کی ہواوے کمپنی کی مصنوعات کے استعمال پر پابندی کے بعد گوگل کا آپریٹنگ سسٹم ہواوے کے میٹ ایکس ایس میں استعمال نہیں ہوسکا ہے۔
ہواوے کے گلوبل مارکیٹنگ مینیجر پیٹر گوڈن نے کہا ہے کہ ہواوے کی پہلی ترجیح ہوگی کہ اینڈرائیڈ کا مکمل ورژن فون میں انسٹال کیا جائے، ’لیکن ایسا ممکن نہ ہونے کی صورت میں کسی اور سمت جانا پڑے گا۔‘
نئے ماڈل کی سکرین کوالٹی زیادہ بہتر ہے (فوٹو: اے ایف پی)ہواوے نے نیا سمارٹ فون سپین میں منعقد ہونے والی موبائل ورلڈ کانگرس میں متعارف کرنا تھا لیکن کورونا وائرس کے خدشات کے باعث تقریب منسوخ کر دی گئی تھی، جس کے بعد ہواوے نے فون کی ویڈیو نشر کر کے صارفین کو نئے فون کے فیچرز سے آگاہ کیا تھا۔
دنیا میں سب سے زیادہ سمارٹ فون بنانے والی کمپنی سام سنگ الیکٹرانکس کے نئے موبائل فون کی لانچنگ، سکرین میں مسائل آنے کے باعث تاخیر کا شکار ہوگئی ہے۔
سمارٹ فون کے علاوہ ہواوے نے نیا سپیکر، 14 انچ میٹ بک ایکس پرو اور 15 انچ میٹ بک ڈی بھی لانچ کیا ہے۔
امریکہ میں ہواوے کے استعمال پر پابندی کے بعد سے اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ میٹ ایکس ایس کی فروخت امریکہ میں ممکن نہ ہو سکے گی، تاہم ہواوے نے فی الحال اس حوالے سے سرکاری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
گزشتہ سال مارکیٹ میں آنے والے ماڈل کی قیمت دو ہزار ڈالر سے زیادہ تھی۔

4:06 PM

چینی کمپنی ہواوے کو گوگل نے بری خبر سنا دی

امریکی حکومت کی جا نب سے  پابندیوں کے باعث  چینی  کمپنی  ہواوے کے نئے سمارٹ فونز پر گوگل کی ایپلی کیشنز اور سروسز دستیاب نہیں ہوگی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق گوگل نے اپنے ’اینڈرائڈ سپورٹ فورم‘ پر ایک پوسٹ شیئر کی جس کے مطابق چینی کمپنی ’ہواوے‘ کے نئے اسمارٹ فونز میں گوگل سروسز موجود نہیں ہوں گی اور ان میں گوگل کی ایپلی کیشن منتقل کرنا یا انسٹال کرنا بھی مشکل ہوگا۔
پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے ہواوے کے ساتھ کام کرنے پر پابندی کی وجہ سے ہواوے صارفین کے موبائل فونز میں یوٹیوب، جی میل، گوگل پلے اسٹور جیسی بنیادی ایپلی کیشنز بھی موجود نہیں ہوں گی اور نہ ہی صارفین انہیں ڈاؤن لوڈ کرسکیں گے۔
واضح رہے کہ کسی بھی سمارٹ فون میں گوگل ایپلی کشن ڈاؤن لوڈ کرنے سے پہلے اس کا گوگل سے سرٹیفائیڈ (تصدیق شدہ) ہونا ضروری ہوتا ہے جس میں سخت حفاظتی جائزہ بھی شامل ہے ۔
ہواوے فونز کو ایسی کسی سیکیورٹی پالیسی سے نہیں گزرنا پڑا اسی لیے گوگل نے یہ مؤقف دیا ہے کہ وہ ان فونز میں صارفین کا ڈیٹا محفوظ ہونے کی ضمانت نہیں دے سکتے۔
یاد رہے کہ گوگل کی اس پالیسی کا اطلاق صرف مئی 2019 کے بعد آنے والی ڈیوائسز پر ہوگا اور اس سے قبل تیار کیے گئے اسمارٹ فونز کو اس قسم کی پابندی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور انہیں گوگل کی کچھ بنیادی سیکیورٹی اپ ڈیٹس ملتی رہیں گی۔
رپورٹس کے مطابق ہواوے کمپنی اپنے موبائل فونز کے لیے ذاتی آپریٹنگ سسٹم بھی تیار کر رہی ہے جس کے بعد اسے اینڈرائڈ آپریٹنگ سسٹم کی ضرورت نہیں رہے گی۔
اس آپریٹنگ سسٹم کو عارضی طور پر ’ہونگ مینگ‘ کا نام دیا گیا ہے جبکہ بعد میں اس کو شاید ’آرک او ایس‘ کے نام سے متعارف کروایا جائے گا۔