Popunder ads

Breaking

Society & Culture Articles لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Society & Culture Articles لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 4 مارچ، 2020

8:48 AM

کس ملک کے مرد اپنے بناؤ سنگھار پر سب سے زیادہ خرچ کرتے ہیں؟


جنوبی کوریا خوبصورتی اور بناؤ سنگار کے لحاظ سے دنیا کا ایک اہم ترین ملک ہے۔یہاں ہر قسم کے کاسمیٹک برانڈز کا استعمال حد سے زیادہ ہوتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں خواتین کاسمیٹک پراڈکٹس کم تعداد میں استعمال کرتی ہیں البتہ مردوں کی ایک کثیر تعداد میک اپ کرنے اور خود کو خوبصورت بنانے میں مشغول نظر آتی ہے۔

عالمی ریسرچ کمپنی''یورو-مونیٹر'' کے مطابق گزشتہ دس سالوں کے دوران، جنوبی کوریا کے مرد اسکن کئیر پروڈکٹس خریدنے پر سب سے زیادہ رقم خرچ کرتے نظر آئے ہیں۔

گلوبل ڈیٹا کے ایک حالیہ سروے کے مطابق، جنوبی کوریا کے تقریباً تین چوتھائی مرد ہفتے میں کم از کم ایک بار خوبصورتی یا گرومنگ ٹریٹمنٹ لیتے ہیں، جن میں سیلون ٹریٹمنٹ سے لے کر گھریلو ٹریٹمنٹ سب شامل ہیں۔

جس کی وجہ سے گزشتہ دس سالوں میں کورین اسکن پروڈکٹس کی مارکیٹ ویلیو میں 44 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

کوریا کے تقریباً 58 فیصد جوان لڑکے ہفتے میں ایک مرتبہ خود کو مزید خوبصورت اور حسین بنانے کے لئے گرومنگ ٹریٹمنٹ لازمی لیتے ہیں۔

آسٹریلیا کی نیشنل یونیورسٹی میں کورین انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر رالڈ مالیانگے کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کے مرد اپنے ملک کی میوزک انڈسٹری سے متاثر ہیں جہاں خوش شکل لوگوں کی اہمیت یقینی طور پر عام شکل والے مردوں سے زیادہ ہے، اور مجھے حیرت ہے کہ اب کتنے ہی مقامی نوجوان کوریائی مردوں کی شکل اور ڈھنگ کی نقل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ان جیسا دکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اب یہاں بہت زیادہ تعداد میں مرد نئے طرز کے کپڑوں، رنگ برنگے بالوں، چہروں پر ہلکا میک اور مصنوعی گھنی پلکوں میں دکھائی دینے لگے ہیں۔

جنوبی کوریا کے شہر بوسن میں مقیم حقوق نسواں اور مقبول ثقافت میں مہارت رکھنے والے ایک مصنف اور لیکچرار جیمز ٹرن بل کے مطابق کوریا میں مردوں کی خوبصورتی کو بہت اہمیت حاصل ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب بھی کوئی کورین کمپنی مردوں کو نوکریوں کی آفر کرتی ہے تو بھرتی کی درخواستوں کے ساتھ تصویر ضرور مانگتی ہے۔ جس کی بڑی وجہ مردوں پر ملازمت کی مارکیٹ میں سخت مقابلے کا دباؤ بھی ہوسکتا ہے۔ اسی لئے خود کو خوبصورت بنانے کا رجحان یہاں کے مردوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔
 

کوریا کی فیشن بلاگر کیتھرین اسپوارٹ اس بات پر فکر مندی ظاہر کرتی ہیں کہ مقامی مردوں پر خوبصورتی کے حوالے سے سماجی دباؤ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ یہاں مردانہ خوبصورتی کو ایک تصور کے طور پر لیا جاتا ہے اور عام طور پر جنس پسندی کے علاوہ جنسی انتخاب کے بارے میں بات نہیں کی جاتی ہے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ رجحان اب مغرب میں بھی پھیل رہا ہے؟

چند بیوٹی برینڈز مالکان کے مطابق بہت سے مرد اپنی خوبصورتی پر عورتوں کے مقابلے میں زیادہ متوجہ ہیں اور عورتوں سے زیادہ اسکن کئیر پروڈکٹس خریدنے میں دلچسپی لیتے ہیں۔

مغربی مردوں میں بھی کورین مردوں کی طرح اب باریک بھنویں اور مصنوعی گھنی پلکیں چہرے پر سجانے کا شوق بڑھتا جارہا ہے۔ اور آئے روز چہروں کی چمک بڑھانے کے لئے بہت سے فیس ماسک مارکیٹ میں متعارف کروائے جا رہے ہیں جنہیں بڑی تعداد میں مرد حضرات خرید رہے ہیں۔۔۔۔

منگل، 25 فروری، 2020

6:26 PM

بچوں کی اچھی تربیت والدین کی ذمہ داری، لیکن یہ غلطیاں ان کا مستقبل برباد کرسکتی ہیں


ایک بچے کے لیے اس کے والدین دنیا میں سب سے زیادہ اہمیت کے حامل لوگ ہوتے ہیں- ان کی اس اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بچے کے مستقبل کی تعمیر کی سب سے اہم ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے اور تمام والدین کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ اچھی تعلیم و تربیت حاصل کرے مگر بچوں کی تربیت کے دوران والدین ایسی بڑی غلطیاں کر بیٹھتے ہیں جو کہ بچوں کے کردار پر بڑے اثرات مرتب کرتے ہیں-

1: دوسروں کے سامنے اپنے بچوں کو سزا دینا
بعض اوقات ماں باپ غصے میں یا پھر دوسروں کے سامنے خود کو بہت اچھا والدین ثابت کرنے کے لیے بچوں کو سب کے سامنے بری طرح ڈانٹ دیتے ہیں اور ان کے ساتھ مار پیٹ بھی کر گزرتے ہیں ۔یہ سب کرتے ہوئے اگر وہ دوسرے لوگوں کی موجودگی کا احساس نہ بھی کر رہے ہوں تو بچہ اس بات کو بہت بری طرح محسوس کرتا ہے- جس کے نتیجے میں اس کی خوداعتمادی ختم ہو جاتی ہے اور یہ کمی اس کے اندر بڑے ہونےکے بعد تک رہتی ہے-

2: بچوں کو وہ سزا دینا جو آپ کے والدین نے آپ کو دی
عام طور پر والدین اپنے بچپن میں اپنے والدین کی جانب سے دی جانے والی سزائیں یاد رکھتے ہیں اور اپنے بچوں پر بھی انہی سزاؤں کا استعمال یہ سوچ کر کرتے ہیں کہ ان کے والدین نے ان کی تربیت اچھی کی تھی اس لیے وہ اپنے بچوں کی تربیت بھی اسی حساب سے کرتے ہیں- مگر ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کے بجائے ان سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے اس قسم کی سزاؤں سے بچے میں منفی جذبات پروان چڑھتے ہیں اور ان کے اندر اپنے والدین کے لیے نفرت انگیز جذبات پروان چڑھتے ہیں-
 

3: بچوں سے محبت کا اظہار نہ کرنا
عام طور پر والدین یہ سمجھتے ہیں کہ بچوں کے ساتھ زیادہ لاڈ پیار کرنا ان کو بگاڑنے کا سبب بنتا ہے اس وجہ سے والدین بچوں سے محبت کا اظہار نہیں کرتے اور نہ ہی ان کو گلے لگا کر پیار کرتے ہیں- مگر اس وجہ سے بچوں کے اندر محبت کی طلب کے لیے دوسرے لوگوں پر انحصار کرنے کی عادت پڑ جاتی ہے اور وہ خاندان کی مضبوطی کا قائل نہیں رہتا ہے-

4: بری عادات
اچھی بری عادات ہر انسان میں ہوتی ہیں مگر والدین بننے کے بعد ان عادات پر قابو پانا اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ والدین بچے کے لیے ایک رول ماڈل ہوتے ہیں- اور وہ ان تمام عادات کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے جو کہ اس کے والدین میں ہوتی ہیں- جیسے کہ تمباکو نوشی کرنے والے والدین کے بچے بھی اس عادت کو اپنانے کی کوشش کرتےہیں اسی طرح سست اور موٹے والدین کے بچوں کے موٹاپے کا شکار ہونے کے امکانات ستر فی صد تک زیادہ ہوتے ہیں-

5: زيادہ آزادی دینا
بچوں کی تربیت میں حد سے زیادہ آزادی بہت نقصان دہ ثابت ہوتی ہے اس کا اثر بچوں کی آئندء زندگی پر بہت برا پڑتا ہے اور بچے مستقبل میں بھی کسی قسم کی حدود اور قیود برداشت نہیں کر سکتے ہیں- جس کے سبب ان کو اپنی آنے والی زندگی میں بہت بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے-
 

6: زیادہ پابندیاں
جس طرح بے جا آزادی بچے کے لیے نقصان کا سبب ہوتی ہے اسی طرح بے جا پابندی بھی بچے کو بزدل اور ناکام بنا ڈالتی ہے- ان کی قوت فیصلہ ختم ہو جاتی ہے اور وہ اپنے ہر کام کے لکۓ دوسروں کی اجازت کے محتاج ہو جاتے ہیں اس لیے ان کو اس حد تک آزادی ضرور دیں جو کہ ان کے کردار سازی کے لیۓ ضروری ہو-

7: غصے اورجذبات کا بے جا اظہار
بعض والدین بچوں کے سامنے بے جا چیختے چلاتے ہیں اور غصہ کرتے ہیں جس سے ان کا بچہ ان سے دور ہو جاتا ہے اور بچے کے اندر جذبات کو کنٹرول کرنے کے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور وہ آنے والی زندگی میں جذباتی مسائل کا شکار ہو سکتا ہے-
6:24 PM

میاں بیوی کے درمیان جھگڑے کا بنیادی سبب فرائض و حقوق کی جنگ یا کچھ اور ۔۔۔۔۔۔۔


آج کل کے دور میں جب دیکھا جا رہا ہے کہ ملک بھر میں طلاقوں کی شرح میں خطرناک ترین اضافہ ہو رہا ہے اور جن گھروں میں نوبت طلاق تک نہیں پہنچی ہے وہاں بھی آئے دن کے جھگڑوں نے معاملات کو کافی بگاڑ دیا ہے- ماضی کی نسبت بڑھتے ہوۓ ان جھگڑوں کے اسباب پر اگر غور کیا جائے تو مرد اس کا ذمہ دار عورت کو قرار دیتے ہیں جب کہ عورتیں ان تمام معاملات کی ذمہ داری مردوں پر عائد کرتی ہیں- لیکن اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو ان حالات کی ذمہ داری دونوں پر عائد ہوتی ہے-

1: عدم برداشت
بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں ہر شعبے میں عدم برداشت کی پالیسی نافذ عمل ہو چکی ہے جس کا براہ راست اثر ہمارے گھروں پر بھی پڑ رہا ہے- جس وجہ سے عورت مرد کی اور مرد عورت کی جائز تنقید بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے- جس کے سبب ہر کوئی اپنی من مانی کرتا نظر آرہا ہے اور کسی کی جائز تنقید کو بھی مثبت سوچ کے ساتھ دیکھنا تقریبا نا ممکن ہو چکا ہے- اس سبب گھروں میں جھگڑے آئے دن کا وطیرہ بنتے جا رہے ہیں-
 

2: زائد توقعات
اپنے جیون ساتھی کے ساتھ توقعات وابستہ کرنا کوئی غلط بات نہیں ہے مگر زائد توقعات وابستہ کرنا ایک ایسا عمل ہے جو کہ سراسر بے سکونی کا باعث ہوتا ہے- مثال کے طور پر اگر عورت اپنے شوہر سے اس کی آمدنی سے زيادہ کی توقع رکھے تو یہ اس کو مزید تکلیف کا باعث بن سکتا ہے-

3: حقوق و فرائض کا عدم توازن
میاں بیوی کے حقوق و فرائض عدم توازن بھی ان کے درمیان باعث تفاوت ہوتا ہے- اگر میاں بیوی صرف ایک دوسرے سے حقوق کے مطالبات کرتے رہیں گے اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی برتیں گے تو یہ سب بھی ان کے درمیان باعث تفاوت ہو سکتا ہے-
 

4: دیگر افراد کا عمل دخل
ہمارے زیادہ تر گھرانوں میں میاں بیوی کے باہمی تعلقات میں بھی خاندان کے دیگر افراد کا عمل دخل بہت زیادہ ہوتا ہے جس کے سبب میاں بیوی کے باہمی تعلقات بھی شدید خلفشار کا شکار ہو جاتے ہیں- اس لیے اس بات کو یاد رکھنا ضروری ہے یہ میاں بیوی کے تعلقات میں کسی دوسرے فرد کو شامل نہ کیا جائے-

جمعرات، 20 فروری، 2020

7:01 PM

حاملہ خواتین، سی سیکشن سے بچنے کی تدابیر اور نارمل ڈلیوری کے فوائد


ماضی میں بچوں کی پیدائش کے لیے نارمل ڈلیوری کا طریقہ کار زیادہ استعمال کیا جاتا تھا اور اس کے مقابلے میں سی سیکشن سے پیدا ہونے والے بچوں کی شرح پیدائش بہت کم تھی- مگر حالیہ برسوں میں سی سیکشن سے پیدائش کی شرح میں خوفناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اس کا کچھ سبب تو پرائیویٹ ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کا رویہ بھی ہے اور دوسری جانب خواتین بھی نارمل ڈلیوری کے درد کو برداشت کرنے سے سی سیکشن کروانا بہتر سمجھتی ہیں- مگر وقت نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ انتہائی ضروری حالات کے برخلاف اگر سی سیکشن کروایا جائے تو اس کے اثرات ماں اور بچے کی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوتے ہیں اس کے برخلاف نارمل ڈلیوری کے بہت سارے ایسے فوائد بھی ہیں جن کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے-

نارمل ڈلیوری کے فوائد
نارمل ڈلیوری کے نتیجے میں ماں بچے کو جلد ہی اپنا دودھ پلانے کے قابل ہو جاتی ہے اس کے علاوہ نارمل ڈلیوری کے ذریعے پیدا ہونے والے بچے کے پھیپھڑے سی سیکشن سے پیدا ہونے والے بچے کے مقابلے میں زيادہ صحت مند ہوتے ہیں ۔ نارمل ڈلیوری کرنے والی ماں جلد ہی صحتیاب ہو کر اپنے بچے کے فرائض انجام دینے کے قابل ہو جاتی ہے- اس کے ساتھ ساتھ نارمل ڈلیوری کے نتیجے میں پیچیدگیوں کے امکانات کم ہوتے ہیں- اس وجہ سے ماں جلد ہی دوسرے بچے کی پیدائش کے لیے تیار ہو جاتی ہے اس کے علاوہ نارمل ڈلیوری کے اخراجات بھی سی سیکشن کے مقابلے میں بہت کم ہوتے ہیں-

سی سیکشن سے بچنے کی تدابیر
اگرچہ بعض حالات میں سی سیکشن ماں یا بچے کی صحت کے لیے لازم ہو جاتا ہے مگر اس خطرے سے بچنے کی تیاری ایک عورت کو ماں بننے سے پہلے ہی شروع کر دینی چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اپنے طرز زندگی کو صحت مند رکھے تاکہ اس کی صحت اس قابل ہو سکے کہ وہ نارمل طریقے سے ایک بچے کو ڈلیور کر سکے-
 

1: اپنے وزن کا خیال کریں
حالت حمل میں ماں کے لیے اپنے وزن کا خیال رکھنا سب سے ضروری امر ہے کیوں کہ اگر ماں کا وزن حمل کی حالت میں مقررہ حد سے کم ہو تو اس صورت میں بھی وہ نارمل ڈلیوری کی آزمائش کا سامنا کرنے کے قابل نہیں رہتی ہے- اور اگر زیادہ کھا کر اس نے وزن بڑھا لیا تو اس صورت میں بھی بچے کا زیادہ وزن نارمل ڈلیوری کی راہ میں رکاوٹ کا باعث بن سکتا ہے-

2: بچے کے الٹا ہونے کی صورت میں
حمل کے چوتھے مہینے میں الٹرا ساؤنڈ کے نتیجے میں یہ پتہ چلے کہ بچہ الٹا ہے بعنی اس کا سر اوپر اور دھڑ نیچے کی جانب ہے تو اس کا قطعی طور پر یہ مطلب نہیں ہے کہ اس بچے کی ڈلیوری سی سیکشن سے ہی ہوگی- اس کے لیے کچھ ایسی ایکسرسائز موجود ہیں جن کے ذریعے بچے کو پیٹ کے اندر ہی سیدھا کیا جا سکتا ہے اس کے لیے ماں کو اپنی ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے جو اپنی نگرانی میں ماں کو یہ مشقیں کروا سکتی ہے اور اس سے سی سیکشن کے خطرے سے بچا جا سکتا ہے-

3: بچے کی پیدائش کی درست رہنمائی لیں
جس طرح بغیر سیکھے کھانا نہیں بنایا جا سکتا اسی طرح بغیر ٹریننگ نارمل ڈلیوری کرنا بھی ایک درست عمل نہیں ہے- اس لیے حاملہ ماں کو چاہیے کہ حمل کے ساتویں مہینے سے بچے کی پیدائش کے حوالے سے ڈلیوری کی رہنمائی لینی شروع کر دینی چاہیے- اس کے لیے مختلف ہسپتالوں میں بھی اس کا انتظام بھی موجود ہے

4: ڈاکٹر کا انتخاب سوچ سمجھ کر کریں
ڈلیوری کے لیے ڈاکٹر کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرنا ضروری ہے کیوں کہ یہ ماں اور بچے دونوں کی زندگی کا معاملہ ہوتا ہے- نا تجربہ کار ڈاکٹر یا دائی اپنی کم علمی کے سبب دونوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے- اس کے علاوہ بروقت فیصلہ نہ کرنے کے سبب ماں کو سی سیکشن ک خطرے سے بھی دوچار کر سکتی ہے- اس لیے اس بات کا فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے اور انتخاب سے قبل اس ڈاکٹر کی شہرت کے حوالے سے بھی جان لینا چاہیے-
 

5: پر سکون رہیں
ماں بننا ایک اہم مرحلہ ہے اس کے لیے عورت کا ذہنی طور پر تیار ہونا بہت ضروری ہے- درد زہ کا دورانیہ ہر عورت میں مختلف ہو سکتا ہے کچھ خواتین صرف تین گھنٹوں کے درد کے بعد بچوں کو نارمل ڈلیور کرنے کے قابل ہو جاتی ہیں مگر کچھ خواتین میں یہ دورانیہ بیس گھنٹوں تک بھی طویل ہو سکتا ہے- اس لیے اس موقع پر گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اپنے ڈاکٹر اور ان کے عملے پر اعتماد رکھیں اور بچے کی حالت کے حوالے سے رپورٹ لیتی رہیں- اگر بچے کی دل کی دھڑکن نارمل ہے تو اس بات کا انتظار کریں کہ بچے کی ڈلیوری نارمل طریقے سے ہو جائے-
8:50 AM

95 سالہ تاج بی بی کا 100 سالہ اسماعیل سے جہیز کی واپسی کا مطالبہ


'جج صاحب نے کہا اسماعیل لڑکا کہاں ہے؟ جب میرا 100 سالہ بھائی چھڑی کے سہارے سے چل کر عدالت میں پیش ہوا تو جج صاحب سمیت باقی لوگوں کو بھی ہنسی آگئی، کہ کہاں لڑکا اور کہاں یہ بابا۔'

لاہور کی فیملی کورٹ میں ایک انوکھا دعویٰ دائر کیا گیا جس میں 95 سالہ تاج بی بی نے اپنے جہیز کا سامان واپس لینے کے لیے 100 سالہ اسماعیل بابا کے خلاف درخواست دی۔

100 سالہ شخص 85 سالہ گواہ یحییٰ کو لے کر ساتھ پیشی کے لیے عدالت پہنچے۔ عدالت کی جانب سے اگلی پیشی پر شہادتیں اور ثبوت پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

جہیز کی واپسی کا مطالبہ
بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے بابا اسماعیل کے وکیل وسیم راجپوت اور شہباز علی نے بتایا کہ ہمارے موکل اسمائیل بابا کے خلاف تاج بی بی نے کی جانب سے عدالت میں ایک لسٹ جمع کروائی گئی ہے جس میں انھوں نے گھریلو استعمال کی چیزیں جیسا کہ فریج، گیس ہیٹر، جوسر، فرنیچر، واشنگ مشین، دو تولہ سونا سمیت دیگر اشیا کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے اور تمام سامان آج کے دور کے ریٹ کے حساب سے تقریباً 10 لاکھ کی مالیت کا ہے۔

جبکہ ان کے وکیل کا کہنا کہ جن اشیا کا تاج بی بی نے مطالبہ کیا ہے ان کا کا تصور 1960 میں کیا بھی نہیں جاتا تھا۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ عدالت میں جرح کے دوران تاج بی بی سے سوال کیا گیا کہ آپ شادی کے بعد کھانا بناتی تھیں اور کیا گیس آتی تھی؟ جس پر انھوں نے جواب دیا کہ 'پتر اس دور میں تو ہم دیے جلاتے تھے گیس کہاں سے آنی۔

بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے بابا اسماعیل کے بھائی نعمت علی نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے علاقے میں گیس اور بجلی چند سال پہلے آئی تھی تو یہ کیسے گیس اور بجلی سال پہلے جہیز میں لے آئیں۔

تاہم انھوں نے بتایا کہ میں اور میرا رشتے دار 80 سے چلنے والا یحییٰ ان دونوں کی شادی کے گواہ بنے تھے۔ تاج بی بی میری پھوپی کی بیٹی ہے اور وہ اپنے ساتھ ایک چیز بھی جہیز میں نہیں لائی تھی۔

عدالت میں پیش ہونے والے گواہ یحیی نے بھی یہی بیان دیا کہ میری موجودگی میں ان دونوں کا نکاح ہوا تھا تاہم جہیز میں کوئی چیز نہیں دی گئی تھی۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بابا اسماعیل کا کہنا تھا کہ میری شادی تاج بی بی سے ایوب خان کی حکومت آنے کے سال بعد ہوئی تھی اور اس وقت میری سابقہ اہلیہ جہیز میں ایک پیالہ تک نہیں لائی تھی جبکہ میرے والد نے باراتیوں کو گڑ والے چاول بنوا کر دیے۔ ان لوگوں نے تو وہ چاول بھی پتیلیوں میں ڈال کر دیے تھے۔ ہم نے شادی کے چاول کھائے، نکاح ہوا اور ہم رخصتی کروا کر اسے لے گئے۔

اس وقت انھوں نے کوئی چیز ہمیں نہیں دی تھی بلکہ ہم نے شادی کے موقع پر تاج کو کپڑے بھی دیے تھے ۔ اب وہ ایسی چیزیں مانگ رہی جو اس زمانے میں ملتی بھی نہیں تھیں۔ تاج بی بی کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے۔

تاج بی بی کا مؤقف
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے تاج بی بی نے یہ دعویٰ کیا کہ اسمائیل نے انھیں ابھی طلاق نہیں دی ہے۔ جبکہ اسمائیل کے مطابق وہ تاج بی بی کو 35 سال قبل طلاق دے چکے ہیں۔

تاج بی بی کا کہنا تھا کہ میرے شوہر نے بچے نہ ہونے کی وجہ سے دوسری شادی کرلی۔ جبکہ میں اس کی دوسری شادی کے خلاف تھی کیونکہ اس نے اور اس کے گھر والوں نے منتیں کر کے میرا رشتہ تھا۔ شادی کے بعد میں نے اپنے شوہر کا ہر قدم پر ساتھ دیا اور اس کے ساتھ مل کر محنت مزدوری بھی کی۔ لوگ ہماری جوڑی کو دیکھتے تھے تو کہتے تھے کہ ہیر رانجھا کی جوڑی ہے، اتنا پیار تھا ہمارے درمیان۔ جب اسماعیل دوسری شادی کرنا چاہتا تھا تو میں نے اس شرط پر شادی کی اجازت دی کہ وہ مجھے حج کروائے گا، مہینے کا خرچہ دے گا اور ساتھ ہی ساتھ اور گھر کا آدھا حصہ جو ڈھائی مرلہ ہے وہ بھی میرے نام کرے گا۔ ان سب شرائط کو ماننے کے بعد ہی میں دوسری شادی کرنے دی جبکہ ہمارا معاہدہ اسٹامپ پیپر پر ہوا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ شادی ہونے کے بعد اسماعیل کی دوسری بیوی مجھ پر تشدد کرتی تھی اور اسماعیل نے بھی مجھے خرچہ دینا بند کر دیا اور پھر کچھ عرصے بعد گھر سے بھی نکال دیا۔ جبکہ میری ایک بھینس بھی ان کے پاس ہے جس کا دودھ بیچ کر میں گزارا کرتی تھی۔ گھر سے نکالے جانے کے بعد میں اپنے بھائی کے پاس آگئی لیکن میرے جہیز کا سامان اسی گھر میں رہ گیا جہاں سے میرے شوہر نے مجھے نکالا تھا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ میرے گھر والوں نے مجھے شادی کے وقت ضرورت کی ہر چیز دی تھی جو میرے پاس نہیں ہے۔

تاج بی بی اپنے بھتیجے کے گھر کے ایک کمرے میں میں چھوٹی سی دکان کھول رکھی ہے۔ جہاں وہ روزمرہ کا سامان بیچتی ہیں اور اپنا گزر بسر کرتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ میرا گزارا کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے اس لیے میں اب چاہتی ہوں کہ کچھ اور نہیں تو کم از کم میرا شوہر وہ ڈھائی مرلے جگہ ہی مجھے دے دے تاکہ میں اسے کرایے پر چڑھا کر اپنی زندگی سکون سے گزار سکوں۔

’میرا بوڑھا بھائی اس عمر میں ذلیل ہو رہا ہے‘
 

اسماعیل کے بھائی نعمت علی نے بی بی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میرے بھائی کی عمر اور انھوں نے اپنی پہلی بیوی کو 35 سال پہلے طلاق دے دی تھی۔ تاہم میرے بھائی کی شادی تاج بی بی سے 1960 میں ہوئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ تاج بی بی نے اس کیس سے پہلے بھی پتوکی میں ایک مقدمہ درج کروایا تھا جس میں اس نے الزام لگایا کہ انھوں نے میری ڈھائی مرلے جگہ پر قبضہ کر رکھا ہے۔ جبکہ وہ زمین اپنے بھتیجے کو لے کر دینا چاہتی ہے۔ اس مقدمے کو پولیس نے چھان بین کے بعد خارج کر دیا تھا۔

نعمت علی نے الزام لگایا کہ تاج بی بی ان کے بھائی کو کافی عرصے سے تنگ کر رہی ہیں کبھی وہ اپنے کپڑے پھاڑ دیتی ہیں کبھی کوئی اور لڑائی کرتی ہیں۔ جب ان سے کچھ نہیں ہوا تو اب تاج بی بی نے لاہور میں جہیز کا کیس کر دیا ہے۔ میرا بھائی تو اس عمر میں ذلیل ہی ہو کر رہ گیا ہے۔

عدالت نے دونوں فریقین کو اس کیس کے حوالے ثبوت فراہم کرنے کی ہدایات کی ہیں جبکہ اسماعیل کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ خاتون نے ایسی چیزوں کی ڈیمانڈ کی ہے جو 35 سال قبل پتوکی میں تھیں ہی نہیں ۔ انھوں نے اس درخواست کو خارج کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔

پیر، 17 فروری، 2020

11:31 PM

غصہ میں کی جانے والی چند غلطیاں جو بعد میں بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہیں


غصہ ایک شیطانی عمل ہے اور شیطانی عمل کبھی بھی آپ کو فائدے نہیں پہنچا سکتا۔۔۔یہ سراسر نقصان دینے والا عمل ہے اور اگر ہمیں ذرا سا بھی اندازہ ہوجائے کہ اس کے بعد ہم کتنی باتوں میں پچھتائیں گے تو ہم دوبارہ یہ عمل کبھی بھی نا کریں-

غصہ میں لیا گیا فیصلہ
سائنس نے ثابت کیا ہے کہ غصہ دماغ کو اپنے کنٹرول میں کرلیتا ہے اور جب دماغ قابو میں نا ہو تو فیصلوں میں بھی جذباتیت اور شیطانیت شامل ہوجاتی ہے۔۔۔ایسے وقت میں لئے گئے فیصلے آپ کو آنے والے وقت میں سوائے دکھ، اذیت اور پچھتاوے کے کچھ نہیں دیں گے۔۔۔جیسے غصہ کے وقت طلاق دے دینا، کسی کا قتل کردینا، کسی کو اذیت پہنچا دینا، کسی کا قیمتی سامان ضائع کردینا یا کسی کو چھوڑ دینا۔۔۔یہ چند فیصلے ہیں جو اکثر غصہ میں ہی ہوتے ہیں اور ناقابل تلافی ہیں-
 

غصہ میں مسلسل بولنا
بعض اوقات غصہ میں بولے گئے کئی الفاظ ایسے ہوتے ہیں جن کا مطلب سامنے والے کو شدید تکلیف اور اذیت میں مبتلا کرسکتا ہے اور یہ الٖفاظ اس وقت شاید جذباتیت اور غصے میں کہے گئے لیکن ان کی گونج زندگی بھر کے لئے سامنے والے کے کانوں میں قید ہوجاتی ہے اسی لئے غصہ میں خاموش ہوجانا، پانی پی لینا، کھڑے ہیں تو بیٹھ جانا بہتر ہے۔۔۔

غصہ میں خود کو نقصان پہچانا
بعض لوگ شدید غصے میں خود کو ہی نقصان پہنچا لیتے ہیں اور یہ ایسا نقصان ہے جس کا ازالہ ممکن ہی نہیں۔۔۔کچھ لوگ خود کو زخمی کرلیتے ہیں، کچھ شدید ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں اور کچھ تو خود کو ختم بھی کر لیتے ہیں۔۔۔لیکن غور کریں کہ اس کا انجام آخر ہے کیا اور اس انجام سے کیا فائدہ ہوگا۔۔۔جب یہ غصہ اور یہ لمحہ تھمے گا تو آپ کہیں نہیں ہوں گے-
 

غصہ میں گالیاں دینا
غصہ میں دی گئی گالیاں اور بد فعال نکالنا آپ کی عزت کو بھی دوسروں کی نظروں میں گرا دیتا ہے اور مذہبی طور پر بھی یہ عمل آپ کے لئے آخرت میں تباہی کا سبب بنتا ہے۔۔۔گالیاں دینے سے نا صرف آپ کی زبان اور کردار پر انگلیاں اٹھتی ہیں بلکہ سامنے والا بھی مزید طیش میں آجاتا ہے-
11:26 PM

کچھ چیزیں جن کو دوسروں سے راز رکھنا آپ کو بڑی مصیبتوں سے بچا سکتا ہے


یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنی کامیابیاں دوسرے لوگوں کو بتا کر فخر اور خوشی محسوس کرتا ہے- اسی طرح کسی تکلیف اور دکھ کے موقع پر اس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اپنا درد کسی کو بتا کر کسی کاندھے پر سر رکھ کر دو آنسو بہا کر دل کو ہلکا کر سکے- مگر اس وقت کے گزرنے کے بعد یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کسی کو اپنا راز دے دینا زندگی کی سب سے بڑی غلطی ہوتی ہے- اس لیے آج ہم آپ کو ایسی ہی کچھ چیزوں کے بارے میں بتائيں گے جن کو راز رکھنا انسان کو بڑی مشکلوں سے بچا سکتا ہے -

1: اپنے خواب اور مستقبل کے منصوبے
تحقیقات نے یہ بات ثابت کی ہے کہ انسان جب اپنے خواب اور مستقبل کے منصوبے دوسرے لوگوں کو وقت سے پہلے بتا دیتے ہیں تو ان کو پایہ تکمیل تک پہنچانا بہت دشوار اور بعض حالات میں ناممکن ہو جاتا ہے- اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جب آپ اپنے خوابوں کے بارے میں دوسروں کو بتاتے ہیں تو لوگوں کی توقعات آپ سے بہت بڑھ جاتی ہیں اور ان خوابوں کے حصول میں کسی بھی قسم کی ناکامی آپ کو دوسروں کی نظر میں ایک ناکام شخص بنا دیتی ہیں- اس کے علاوہ بعض اوقات لوگوں کے آپ کے معاملات میں بے جا دخل اندازی بھی آپ کے کاموں کی تکمیل کی راہ میں دشواریوں میں اضافہ کر دیتی ہے اس لیے بہتر یہ ہے کہ اپنے خواب اپنے آپ تک ہی محدود رکھیں-
 

2: اپنی ذاتی زندگی
ذاتی زندگی انسان کا وہ قیمتی خزانہ ہوتی ہے جس کی حفاظت اس انسان کے علاوہ کوئي اور نہیں کر سکتا ہے اس لیے اپنی ذاتی زندگی کو اپنی ذات تک محدود رکھیں- اس کو دوسرے لوگوں کے سامنے ایک اشتہار کی طرح نہ پیش کریں- کیوں کہ آپ سامنے والے کے خلوص کے بارے میں صرف اندازے ہی لگا سکتے ہیں اس کے بارے میں اعتماد سے کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں- بعض اوقات لوگ فطری جلن اور حسد کے جذبات کے سبب آپ کی بتائی ہوئی باتوں کو کسی اور انداز میں پھیلاتے ہیں جس کے سبب آپ کے امیج کو بدترین نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے-

3: اپنے خاندانی مسائل
انسان کی خاندانی زندگی محبت ، حسد دوستی لڑائی سے معمور ہوتی ہے اور ایسا ہر کسی کے خاندان میں ہوتا ہے- مگر جو لوگ اپنے خاندانی مسائل پرائے لوگوں سے شئير کرتے ہیں ایسے لوگ پرائے لوگوں کے مشوروں کے سبب ان مسائل میں الجھتے جاتے ہیں کیوںکہ باہر کے لوگ جو آپ کے خاندان کا حصہ نہیں ہیں- کبھی بھی آپ کو ان مسائل سے نمٹنے کا درست مشورہ دینے کی اہلیت نہیں رکھتے ہیں-
 

4: اپنی ملکیت
انسان کی ملکیت جس میں مال و دولت جائیداد وغیرہ شامل ہوتی ہیں انسان کی اپنی کامیابیاں اس دنیا میں تصور کی جاتی ہیں- ان کی نمائش دوسرے لوگوں میں احساس کمتری پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں جس سے دوسروں کو تکلیف ہوتی ہے- اس کے علاوہ رشک و حسد کے ساتھ ساتھ بری نظر بھی نقصان کا باعث بنتی ہے اس لیے ایسی چیزوں کے معاملے میں دکھاوے سے پرہیز کرنا چاہیے-

5: اپنی نیکیاں
انسان کی نیکیاں اللہ اور بندے کے درمیان کا معاملہ ہوتا ہے اس کا اظہار دوسروں کے سامنے کرنے سے اس کے اجر میں نہ صرف کمی واقع ہوتی ہے بلکہ اس کا مقصد نمود و نمائش رہ جاتی ہے- جس سے اس نیکی کی تاثیر ختم ہوجاتی ہے- اس لیے اچھے کا م اللہ کو خوش کرنے کے لیے کرنے چاہيے ہیں اور دوسروں کو بتانے سے اجتناب برتنا چاہیے-

11:23 PM

ہزاروں لاوارث لاشوں کو دفنانے والا ’چاچا‘ شریف


’میں نے ایک دن پولیس اہلکاروں کو ایک لاش دریا میں پھینکتے دیکھا، میں ششدر رہ گیا، اس دن میں نے خود سے کہا کہ آج سے میں ان لاوارث لاشوں کا وارث ہوں اور میں ان کی مناسب تدفین کروں گا۔‘

یہ کہنا ہے محمد شریف کا جو گذشتہ 28 برس سے اپنے بیٹے کی یاد میں اپنا وعدہ نبھا رہے ہیں۔ انڈیا میں سنہ 1992 میں ہونے والے ہندو مسلم فسادات میں ان کا بیٹا ہلاک ہو گیا تھا اور اس کی لاش کبھی نہیں مل سکی تھی۔

شمالی انڈیا کے شہر ایودھیا میں چاچا (انکل) شریف کے نام سے جانے جانے والے شحض نے اپنے مشن کے بارے میں بی بی سی سے بات کی۔
 

تدفین اور آخری رسومات
انھیں کوئی اندازہ نہیں ہے کہ انھوں نے کتنی لاشوں کی تدفین یا آخری رسومات ادا کی ہے۔ ایودھیا ضلعی انتظامیہ کے سربراہ انوج کمار جھا نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے پاس شریف کو دی جانے والی لاوارث لاشوں کا مکمل ریکارڈ نہیں ہے۔

ہمارا اندازہ ہے کہ ہم انھیں تقریباً 2500 لاشیں دے چکے ہیں۔ شریف کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے 5500 سے زائد افراد کی آخری رسومات ادا کی ہیں، لیکن ہندوستانی میڈیا نے ان اعداد و شمار کو 25000 تک پہنچا دیا ہے۔

متعدد وجوہات کی بنا پر لاوارث لاشوں کا ڈھیر لگ جاتا ہے۔ ان میں سڑک اور ریل حادثات کا شکار ہونے والے یا گھر سے دور مرنے والے افراد، حجاج، تارکین وطن اور بوڑھے افراد جنھیں ان کے بچوں نے چھوڑ دیا ہوتا ہے، شامل ہوتے ہیں۔

بعض اوقات چند غریب مریض بھی شامل ہوتے ہیں جو ہسپتال میں مر جاتے ہیں اور ان کی آخری رسومات ادا کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔

حکام غیر سرکاری تنظیموں اور شریف جیسے رضاکاروں کی مدد سے ان لاوارث لاشوں کی تدفین کرتے ہیں، لیکن یہ عام طور پر ایک بے لوث خدمت ہے۔ سویلین اعزاز کی فہرست میں چاچا شریف کا نام آنے کے بعد ان کا یہ قابل ذکر کام منظر عام پر آیا۔

انھیں ایک ممتاز قومی ایوارڈ سے نوازا جارہا ہے۔ لیکن چاچا شریف کے لیے ایوارڈ ایک مشکل سفر کی انتہا ہے۔
 

لاپتہ بیٹا
چاچا شریف نے اپنی ماں کو پیدائش کے وقت ہی کھو دیا تھا، ان کی پرورش ان کے دادا دادی نے کی جو انھیں تعلیم نہیں دلا سکتے ہیں۔

انھوں نے بہت چھوٹی عمر میں ہی کام کرنا شروع کر دیا تھا اور سائیکلوں کو ٹھیک کرنے کا طریقہ سیکھا، لیکن ذاتی صدمہ برداشت کرنے کے بعد پچاس کی دہائی کے اوائل میں وہ ایک سماجی کارکن بن گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میرے بیٹے کے غائب ہونے کے بعد میں نے پاگلوں کی طرح ایک ماہ تک ہر جگہ اس کی تلاش کی۔‘
 

ہندو مسلم فسادات
محمد شریف کے 25 سالہ بیٹے محمد رئیس کی ہلاکت سنہ 1992 میں ہونے والے ہندو مسلم فسادات کے دوران ہوئی تھی۔ ان فسادات نے پورے انڈیا اور ریاست ایودھیا کو جنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔

’پولیس نے مجھے بتایا کہ اس کا جسم گل گیا تھا۔ ہم نے اس کی لاش نہیں دیکھی۔ ہمیں صرف اس کے کپڑے ملے تھے۔‘

ہندو انتہا پرستوں جن کی سربراہی موجودہ حکومت بھارتیہ جنتا پارٹی کے بانی ممبران نے کی تھی، نے دسمبر 1992 میں ایودھیا میں سولہویں صدی کی ایک مسجد کو توڑ ڈالا تھا۔ اس واقعے نے شمالی ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان فسادات کی لہر کو جنم دیا جس میں سینکڑوں بے گناہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
 

میرے بیٹے کو کس نے مارا؟
آج بھی شریف کو یہ علم نہیں ہے کہ ان کے بیٹے کو کہاں، کیسے اور کس نے قتل کیا تھا۔

80 سالہ محمد شریف کہتے ہیں ’مجھے لگتا ہے کہ شاید دیگر لاشوں کی طرح میرے بیٹے کی لاش بھی کسی دریا میں پھینک دی گئی ہو۔‘

ان دنوں انڈیا کے بیشتر اضلاع میں مردہ خانوں کی سہولت نہیں ہوا کرتی تھی اور لاوارث لاشوں کو جلدی سے ٹھکانے لگانے کا عمومی رواج تھا۔

ان لاشوں کی تدفین ایک ترجیحی طریقہ تھا، لیکن شمالی انڈیا میں کچھ جگہوں پر وہ پیسہ، وقت اور محنت بچانے کے لیے لاوارث انسانی باقیات کو ندیوں میں پھینک دیتے تھے۔

محمد شریف کہتے ہیں کہ ’میں ایک ماہ تک اپنے بیٹے کی تلاش کرتا رہا۔ وہ مجھے کہیں نہیں ملا۔ یہاں تک کہ میں قریبی شہر سلطان پور بھی اس کی تلاش کے لیے گیا تھا۔‘

شریف کے خاندان کو شبہ ہے کہ رئیس کی لاش کو پچاس کلومیٹر دور گومتی ندی میں پھینک دیا گیا تھا۔

رئیس کی اچانک موت سے اس کے والدین کو دلی صدمہ پہنچا اور اس کی والدہ ڈپریشن کا شکار ہو گئیں جو آج تک برقرار ہے۔ اس خاندان کی تکلیف اس لیے بھی زیادہ بڑھی کیونکہ وہ اپنے بیٹے کی مناسب طور پر تدفین نہیں کر سکے تھے۔
 

عزم و حوصلہ
محمد شریف کے لیے جذباتی صدمے کا وقت ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ انھوں نے اپنے غم کو بھولنے کا حل، مرنے والوں کی باعزت تدفین میں نکالا۔

ان کا کہنا ہے کہ’میں نے فیصلہ کیا کہ اپنے ضلع میں کسی نامعلوم لاش کو ندی میں پھینکنے نہیں دوں گا۔‘

انھوں نے پولیس کو اپنی اس خواہش کے بارے میں بتایا کہ وہ اس کام کا بیڑہ اٹھانا چاہتے ہیں جو کوئی بھی دوسرا نہیں کرنا چاہتا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’جب پہلی مرتبہ پولیس نے مجھے کال کی تو میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ پوسٹ مارٹم کے بعد پولیس نے مجھ سے نعش لے جانے کا کہا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس شخص کی گردن کٹ گئی تھی۔‘

جلد ہی ان پر اس کام کا بوجھ بڑھنا شروع ہو گیا اور یہاں تک کہ انھوں نے مردہ افراد کی نقل و حمل کے لیے چار پہیوں والی گاڑی بھی خرید لی۔
 

’یہ پاگل ہو گیا ہے‘
ان کے اس نئے جنون کے باعث ان کے خاندان والوں، دوستوں اور محلے داروں نے انھیں برا بھلا کہا۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’اس وقت میرے خاندان میں کوئی بھی خوش نہیں تھا، وہ مجھے کہتے تھے تم پاگل ہو گئے ہو۔‘

انڈیا کے معاشرے میں صرف نچلی ذات کے ہندو افراد کو تاریخی طور پر تدفین اور آخری رسومات ادا کرنے کے کام پر مجبور کیا جاتا ہے۔ محمد شریف ایک مسلمان ہیں اس لیے انھیں معاشرتی بائیکاٹ سے بھی دوچار ہونا پڑا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’کچھ لوگ مجھ سے ڈرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر وہ مجھ سے جسمانی رابطہ کریں گے تو وہ جراثیم سے متاثر ہوں گے۔‘

پھر بھی شریف اپنے عزم پر قائم رہے اور انھوں نے لاوارث افراد کی خاطر خاندانی شادیوں، تہواروں اور یہاں تک کہ دعائیہ تقریبات سے لاتعلقی اختیار کر لی تھی۔

اس کام نے انھیں سکون اور راحت بخشی تھی۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’اس کام نے مجھے میرے بیٹے کی موت کا صدمہ بھولنے میں مدد کی۔‘

کسی بھی لاوارث لاش کی آخری رسومات ادا کرتے وقت وہ اکثر اپنے بیٹے کو یاد کرتے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں ہر وقت اس کے بارے میں سوچتا ہوں، اسے یاد کرتا ہوں۔‘
 

مردے کو نہلانا اور آخری رسومات ادا کرنا
وہ عام طور پر مردہ شخص کی تدفین سے پہلے نہلاتے ہیں۔ اگر انھیں یہ معلوم ہو جائے کہ مردہ شخص مسلمان ہے تو وہ جسم کو کپڑے کی چادر میں لپیٹ کر ان کی نماز جنازہ بھی پڑھتے ہیں۔

اگر لاش کسی ہندو کی ہو تو وہ اسے اپنے گھر سے چار کلومیٹر دور شمشان گھاٹ لے جاتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’جب بھی مجھے کسی لاوارث لاش کے حوالے سے پولیس سے کال آتی ہے تو میں فوراً سب کچھ چھوڑ کر وہاں چلا جاتا ہوں۔‘
 

موت کے بعد لاوارث قرار دینا
عام طور پر انھیں کسی فرد کی لاش موت کے کئی دنوں یا ہفتوں بعد ملتی ہے۔

پولیس اہلکار اس شخص کی شناخت کے لیے پوری کوشش کرتے ہیں لیکن اگر پھر بھی کوئی اس کا دعویدار نہیں ہوتا تو پھر لاش کو ٹھکانے لگا دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات گلنے سڑنے کے باعث اس کی حالت انتہائی بری ہوتی ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’بعض اوقات پولیس اہلکار میرے ساتھ قبرستان جاتے ہیں لیکن وہ بھی بہت دور کھڑے ہوتے ہیں۔‘

محمد شریف کہتے ہیں کہ وہ کبھی بھی انسانی لاشوں سے نفرت نہیں کرتے لیکن دیگر انسانوں کی طرح وہ بھی گلی سڑی لاشوں کو دیکھ کر پریشان اور ان سے آنے والے تعفن کا شکار ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ’میں جب بھی کوئی لاش بری حالت میں دیکھتا ہوں تو میرے لیے سونا مشکل ہو جاتا ہے، مجھے برے برے خواب آتے ہیں اور پھر میں نیند آور گولیوں کا سہارا لیتا ہوں۔‘

وہ اپنی مستقل طاقت کو اپنے عقیدے اور برادری سے ملنے والے احترام سے منسوب کرتے ہیں۔

’لوگ میرے کام کی تعریف کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں تم ان کی آخری رسومات ان کے خاندان کے رکن کی طرح ادا کرتے ہو۔‘
 

تنہا لڑنے والے
محمد شریف نے یہ کام تقریباً دس برس تک تنہا کیا، انھیں کسی حکومتی ادارے یا این جی او کی جانب سے کوئی مالی مدد فراہم نہیں کی گئی۔

مقامی دکاندار اب انھیں اخراجات پورے کرنے کے لیے 150 سے 170 ڈالرز تک دیتے ہیں۔ اب ان کے پاس دو معاون بھی ہیں جو ان کا بوجھ بانٹ رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہندو اور مسلمان دونوں میری مدد کرتے ہیں۔ لوگ مجھے کھانا اور گرم کمبل دیتے ہیں۔ حال ہی میں مجھے آنکھوں کا آپریشن کروانا پڑا، ایک اجنبی نے مجھے فون کیا اور مجھے 20000 روپے دیے۔‘
 

کوئی جانشین نہیں
چاچا شریف کی صحت دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے، لیکن ایسا کوئی شخص موجود نہیں جو ان کے بعد اس کام کو جاری رک سکے۔ ان کے دونوں بیٹوں اور پوتوں میں سے کسی کو اس کام میں کوئی دلچسپی نہیں۔

’وہ کہتے ہیں کہ اگر دادا یہ کر رہے ہیں، تو کرتے رہیں۔ کوئی بھی یہ کام نہیں کرنا چاہتا جو میں کرتا ہوں۔‘

وہ ابھی بھی اپنی سائیکلیں مرمت کرنے والی دکان چلاتے ہیں جس سے ہونے والی آمدن تین ڈالر یومیہ ہے۔ حکومت کی جانب سے دیے جانے والے ایوارڈ سے ان کی کوئی مالی مدد تو نہیں ہو پائے گی لیکن وہ خوش ہیں کہ آخر کار ان کی کاوشوں کا اعتراف کرلیا گیا ہے۔
 

چاچا شریف ریٹائرمنٹ لے کر آرام نہیں کر سکتے کیوں کہ انھیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ ان کے یہ کام چھوڑ دینے سے کیا ہوگا۔

’اگر میں نہیں ہوں تو پولیس پہلے کی طرح لاشوں کو ندی میں پھینک دے گی۔ جو مرنے والے کے لواحقین کے لیے یہ ناقابلِ برداشت ہو گا۔‘

وہ کہتے ہیں ’میں اپنی آخری سانس تک لاشوں کی تدفین کا کام کرتا رہوں گا۔‘

بدھ، 29 جنوری، 2020

9:17 AM

میری شادی میری مرضی! اِن جوڑوں نے لوگ کیا کہیں گے کی فکر چھوڑ کر اپنی شادی کو کس طرح یادگار بنا دیا


شادی انسان کی زندگی کا وہ موقع ہوتا ہے جس پر سب سے زيادہ فکر انسان کو لوگوں کی ہوتی ہے کہ اس موقع پر کوئی ناراض نہ ہو جائے- لوگوں کو خوش کرنے کے لیے لوگ اپنی شادی پر بڑی بڑی رقمیں خرچ کرتے ہیں- یہاں تک کہ اپنے اوپر اتنے قرضے بھی چڑھا لیتے ہیں کہ جن کو اتارتے اتارتے عمر گزر جاتی ہے- مگر پاکستان میں اب کچھ نوجوان ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنی شادی کی تقریب کو اپنی مرضی سے ارینج کر کے اس کو باقی تمام جوڑوں کے لیے ایک مثال بنا دیا ایسے ہی کچھ جوڑوں کے بارے میں ہم آپ کو آج بتائيں گے-

1: واسمہ عمران اور ماہین خان
اس جوڑے نے اپنی شادی کے لیے ایک اصول کا تعین کیا کہ وہ اپنی شادی پر ایسا کوئی کام نہیں کریں گے جو کہ ماحول کو نقصان پہنچائے گا- 30 دسمبر 2018 کو انہوں نے اپنی شادی کے لیے دن کے وقت کا انتخاب کیا تاکہ فالتو بجلی کے اخراجات کی بچت کر سکیں اور ایک کھلے فارم ہاؤ‎س میں شادی کی تقریب کا انعقاد کیا ۔ پانی کے لیے انہوں نے 19 لیٹر کی بوتل کو ایک ٹنکی میں ڈال کر مہمانوں کی تواضح کی ۔اسی طرح کولڈڈرنک کے لیے بھی پلاسٹک کی بوتلوں کے بجائے انہوں نے ریگولر بوتلوں کا انتخاب کیا ۔ تازہ پھولوں کے بجائے پلاسٹک کے پھولوں سے سجاوٹ کی ۔ بہت قلیل شادی کے کارڈ چھپوائے اور وہ بھی انہوں نے ایسے کاغذ سے بنوائے جو کہ بعد میں کھاد کے طور پر استعمال ہو سکے- باقی دعوت نامے انہوں نے سوشل میڈيا کے ذریعے تقسیم کیے ۔ ہر مہمان کو انہوں نے ایک چھوٹے گملے اور پودے کا تحفہ دیا جو کہ ان کی شادی کی یادگار کے طور پر لوگ اپنے گھروں میں اگا سکیں- اس طرح انہوں نے ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر شادی کی-

2: انیلہ شیخ
انیلہ شیخ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی شادی پر بہت لمبی چوڑی رسموں اور اخراجات سے اجتناب کیا اور اپنی شادی کو صرف نکاح کی تقریب تک محدود کیا- اور اس میں بھی انہوں نے صرف 35 مہمانوں کو بلایا اور ان کی تواضع چائے ،سینڈوچ اور فرائز سے کی ۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ ان کی شادی جب ہوئی اس وقت ان کی عمر صرف 23 سال تھی ۔ وہ اور ان کے شوہر نہیں چاہتے تھے کہ شادی کے ساتھ ہی اپنے اوپر بہت سارا قرضہ چڑھا کر وہ اپنی نئی زندگی کا آغاز کریں اس لیے انہوں نے سادگی کے ساتھ شادی کرنے کے نتیجے میں بچنے والے پیسوں سے ایک سیکنڈ ہینڈ آلٹو گاڑی خرید لی اور اپنی نئی زندگی کا آغاز کر دیا-

3: سعدیہ سبحان اور سبحان عالم
اس جوڑے کی شادی 19 مئی 2018 کو ہوئی- اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے اس جوڑے کی شادی سادگی کی ایک قابل تقلید مثال تھی ۔انہوں نے شادی کے لیے کورٹ میرج کرنے کا فیصلہ کیا جس میں ان دونوں کے والدین موجود تھے- شادی کے پیپر سائن کرنے کے بعد انہوں نے اپنے والدین کو ڈراپ کیا اور خود نتھیا گلی ایک رات کے لیے چلے گئے جہاں ہنی مون منا کر اگلے دن سے کام پر واپس چلے گئے- اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ولیمے کی دعوت کے پیسے ایدھی سنٹر میں یتیم بچوں کے لیے دے دیے-

4: آمنہ نظام اور شمائيل خٹک
آمنہ نظام کاغذ بینڈ کی مین گلوکارہ کے طور پر کام کرتی ہیں ان کی شادی کے دنوں میں پیپسی بیٹل آف دی بینڈ کے سیزن تھری کے ٹرائل جاری تھے- آمنہ نے اپنی شادی کے پیپر سائن کیے اور اسی وقت فلائٹ لے کر ٹرائل میں چلی گئیں جہاں پر ان کا بینڈ اگلے مرحلے کے لیے بھی منتخب ہو گیا ۔آمنہ کا یہ کہنا تھا کہ وہ اس بات کے سخت خلاف ہیں کہ شادی کے موقع پر جو کہ لڑکے اور لڑگی کی زندگی کا سب سے اہم موقع ہوتا ہے فارغ بیٹھے رہیں اور اس بات کا انتظار کریں کہ لوگ کیا کریں گے- اس لیے انہوں نے اپنی شادی کے ہر ہر موقع کو خود انجوائے کیا یہاں تک کہ انہوں نے اپنی شادی کے موقع پر خود ہی گانے بھی گائے-

5: رضوان اور پلوشہ منہاس
اس جوڑے کی شادی اس حوالے سے بہت منفرد ہے کہ اس جوڑے نے اپنی شادی کی پوری تیاری صرف بیس ہزار میں کی۔ یہ دونوں ایونٹ فوٹو گرافر تھے اور انہوں نے لوگوں کی بڑی بڑی شادیاں دیکھی تھیں ان کو دیکھ کر ہی انہوں نے اپنی شادی کو مختصر کرنے کا فیصلہ کیا- انہوں نے اپنی شادی پر صرف 25 مہمانوں کو مدعو کیا ۔ شادی کی تقریب کا انعقاد انہوں نے اپنے گھر کی بالکونی میں کیا ان کے کھانے کا مینو چکن تکہ ،سیخ کباب ،پتھوڑے ، چنا حلوہ اور اسٹرابیریز تھیں - اس کے علاوہ پلوشہ نے اسٹارٹر کے طور پر کھٹے آلو بھی تیار کر لیے کھانا ان کی ایک دوست نے ان کی مدد سے پکا لیا جب کہ میٹھے میں ان کا ایک دوست آئسکریم لے کر آگیا- کرسیوں کے لیے انہوں نے اپنے محلے کے ایک الیکشن کیمپ سے انتظام کر لیا اور اسطرح صرف بیس ہزار میں شادی کا انتظام کر لیا-