Popunder ads

Breaking

Other/Miscellaneous Articles لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Other/Miscellaneous Articles لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 4 مارچ، 2020

8:52 AM

بھارتی ریلوے پولیس کا کمال، پاکستانی ٹرین کو 'اپنا' بنا لیا


بھارتی ریاست گجرات کی ریلوے پولیس کو پاکستانی ٹرین کی تصویر موبائل ایپلی کیشن پر لوڈ کر کے اسے غلطی سے اپنا بتانے پر سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

گجرات میں 'سورکشت (محفوظ) سفر' کے نام سے ہفتے کو ایک نئی موبائل ایپلی کیشن متعارف کرائی گئی تھی۔ تاہم ایپلی کیشن کے ڈیش بورڈ پر بھارت کے بجائے پاکستانی ٹرین کی تصویر لگا دی گئی۔

سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے غلطی کی نشاندہی پر پاکستان کی ٹرین کی تصویر ایپلی کیشن سے ہٹا دی گئی ہے۔

سی آئی ڈی کرائم اور ریلوے کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل گوتم پرمار نے اس غلطی کی وضاحت کرتے ہوئے اتوار کو بتایا کہ ایپلی کیشن کو دلکش بنانے کے لیے پروگرام ڈویلپر نے ٹرینوں کی کچھ تصاویر استعمال کی تھیں جس کے دوران وہ 'غیر دانستہ' طور پر پاکستانی ٹرین کی تصویر بھی استعمال کر بیٹھا جسے نشاندہی کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔

اس ایپلی کیشن کو گجرات کے وزیرِ مملکت برائے داخلہ پردیپ سنگھ جڈیجا نے 29 فروری کو لانچ کیا تھا۔
اس ایپ کی مدد سے مسافر کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں گجرات کے گورنمنٹ ریلوے پولیس (جی آر پی) کی مدد حاصل کر سکتے ہیں۔

مسافر اس ایپ کا استعمال کرتے ہوئے منشیات یا انسانی اسمگلنگ سے متعلق معلومات حکام کو دے سکتے ہیں۔
 

ایپ کے ذریعے مسافر لڑکیوں کو گھورنے یا ان سے چھیڑ چھاڑ کرنے والوں کی شکایت بھی درج کرائی جا سکتی ہے۔

حکام کے مطابق ایپلی کیشن کے ذریعے کسی اجنبی کے دورانِ سفر ٹرین میں داخل ہونے، غیر قانونی تجارت کرنے یا بچوں کی گمشدگی سے متعلق فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی جا سکتی ہے۔

پیر، 2 مارچ، 2020

4:51 PM

یقین کیجیے، آپ بغیر ویزہ بھی ’بھارت‘ جا سکتے ہیں!


حلیل ترکی کے مغرب میں ایک چھوٹے اور ویران ساحل پر پانی کے کنارے کھڑے ہیں۔

ایک جزیرے کی جانب اشارہ کر کے وہ کہتے ہیں کہ ’دیکھو یہ کتنا قریب ہے، مگر اس تک پہنچنا بہت ہی مشکل ہے۔‘

ترکی کے اِس مغربی ساحل سے چند میل دور یونان کا ساموس نامی جزیرہ واضح نظر آ رہا ہے۔

چار برس قبل حلیل جنگ زدہ شام سے ترکی جانے کے لیے بھاگ نکلے تھے۔ وہ گذشتہ چار برسوں سے اپنی اہلیہ، والدہ اور پانچ بچوں کے ہمراہ ترکی میں رہ رہے ہیں۔

گذشتہ ہفتے حلیل نے ایک انسانی سمگلر کو کچھ رقم اس وعدے پر دی کہ وہ ان کو ترکی سے یونان پہنچا دے گا۔

’پچھلے ایک سال سے میرے پاس کوئی روزگار نہیں ہے اور میری معاشی حالت انتہائی نازک ہے۔ اپنے پورے خاندان میں صرف میں نوکری کرنے کے قابل ہوں۔ روزگار کی عدم موجودگی میں اگر میں گھر پڑا رہتا ہوں تو میرے بچے دو وقت کی روٹی کو ترس جائیں گے۔ میرے پاس اور کیا آپشن ہے؟‘

تاہم سمگلر کی مدد سے ان کی ترکی سے یونان بھاگنے کی کوشش ناکام رہی۔

اس کوشش کے دوران ’ہم نے چلانے کی آوازیں سنیں اور ہمیں معلوم ہو گیا کہ ترکی کے سرحدی محافظوں کو ہمارا پتا چل گیا ہے۔ انھوں نے ہم سب کو گرفتار کر لیا، انھوں نے کسی کو بھی بھاگنے نہیں دیا۔‘

سنہ 2015 کے پناہ گزیں بحران کے دوران ترکی نے یورپی یونین کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا۔ ترکی نے اربوں یوروز کے عوض پناہ گزینوں کی یورپ تک رسائی روکنے پر اتفاق کیا تھا۔

ترکی نے لمبے عرصے تک اس معاہدے کی پاسداری کی اور ترکی کے فوجیوں نے یورپ کے ساتھ لگنے والی سرحدوں اور سمندری راستوں کی نگرانی کی۔
 

جمعہ، 28 فروری، 2020

9:33 AM

اسلام آباد سے ’چار ہزار سال‘ قدیم برتنوں کے ٹکڑے اور پتھر دریافت


پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے سیکٹر I-11 میں ہونے والے ایک حالیہ سروے کے دوران چار ہزار سال پرانے مٹی کے ٹوٹے ہوئے برتن ملے ہیں۔

محققین اور ماہرین کی ایک ٹیم نے وہاں سے ملنے والے برتنوں اور قدیم پتھروں کا جائزہ لینے کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ یہ برتن اور پتھر ہاکڑہ تہذیب سے تعلق رکھتے ہیں۔
 

اس بارے میں بات کرتے ہوئے سینٹر فار کلچر اینڈ ڈیویلپمنٹ سے منسلک ماہر بشریات (اینتھروپالوجسٹ) ندیم عمر تارڑ نے بتایا کہ ’یہ ایک سطحی سروے تھا اور یہاں سے ملنے والی اشیا کا تعلق قبل از تاریخ تہذیب سے ملتا ہے۔ اس حوالے سے مزید معلومات حکومت کی طرف سے اس جگہ پر تفصیلی سروے کرنے سے ملیں گی۔‘
 

ان برتنوں میں سے زیادہ تر بدھ مت دور کے ہیں۔ دریافت ہونے والی اشیا میں چوڑیوں کے ٹکڑے بھی پائے گئے ہیں۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے تاریخ دان زبیر شفیع غوری نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس طرح کے برتن پہلی مرتبہ جہاں دریافت ہوتے ہیں بعد میں اُن کو اسی جگہ یا تہذیب کا نام دے دیا جاتا ہے۔‘
 

انھوں نے کہا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ برتن چار ہزار سال پرانے ہیں۔ اپلیک برتنوں کے ٹکڑوں کو قبل از تاریخ دور اور ہڑپہ دور کے آخر سے جوڑا جا سکتا ہے۔ لیکن اس سے زیادہ معلوت حاصل کرنے اور دریافت حاصل کرنے کے لیے محتاط رویہ اور صبر سے کام لینا پڑے گا۔‘
 

سیکٹر 11- I میں دو پہاڑوں کے بیچ یہ زمین موجود ہے جس میں محققین کے مطابق سینکڑوں چھوٹے چھوٹے پتھر اور برتنوں کے ٹوٹے ہوئے حصے موجود ہیں۔ جبکہ ایک طرف قبرستان بھی موجود ہیں جس میں کھدائی کے دوران مزید برتن دریافت ہوئے ہیں۔
 

جمعرات، 27 فروری، 2020

5:19 PM

ابھینندن ورتھمان کا طیارہ گرنے کے بعد کیا ہوا تھا؟ وہ جو آپ نہیں جانتے


27 فروری 2019 کو بالاکوٹ کے گاؤں جابہ پر انڈین طیاروں کی بمباری کے ایک دن بعد لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقے ہوڑاں میں پاکستان کی فضائیہ نے انڈین جیٹ گرا کر فائٹر پائلٹ وِنگ کمانڈر ابھینندن ورتمان کو گرفتار کیا تھا۔

ابھینندن کو تو چند دن کی قید کے بعد رہائی مل گئی تھی مگر ان کی گرفتاری کیسے عمل میں آئی، انڈین جہاز کے گرنے کے بعد کیا ہوا تھا، یہ بات زیادہ لوگ نہیں جانتے۔ بی بی سی نے ہوڑاں میں ان افراد سے ملاقات کی جو کہ اس تاریخی واقعے کے عینی شاہد تھے۔

آگ کا گولہ
لائن آف کنٹرول سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع سماہنی کے علاقے ہوڑاں میں پہاڑ کی چوٹی پر بنے گھر کے وسیع و عریض صحن میں چوہدری محمد رزاق فون پر بات چیت میں مصروف تھے کہ انھیں دو دھماکوں کی آواز سنائی دی۔

ایک ہی دن پہلے انڈین فضائیہ کی پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور بالاکوٹ کے قریب بمباری کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان حالات انتہائی کشیدہ تھے۔

چوہدری رزاق کہتے ہیں ’حالات کافی کشیدہ تھے اور صبح سے جہاز اڑنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں اس لیے میں نے زیادہ توجہ نہیں دی‘۔

اپنے صحن میں بیٹھے چوہدری رزاق نے سامنے اشارہ کر کے بتایا ’تھوڑی دیر بعد مجھے سامنے آسمان میں دھوئیں کا ہیولہ دکھائی دیا۔ جب دھواں نیچے آیا تو آگ کے نارنجی گولے میں بدل گیا۔ میں فوراً بھانپ گیا کہ یہ جہاز کا ملبہ ہے۔‘
 

وہ کہتے ہیں کہ پہلے تو انھیں یہ شبہ ہوا کہ یہ پاکستان کا جہاز بھی ہو سکتا ہے۔ پھر انھوں نے گردن موڑی تو سامنے پہاڑیوں پر کوئی پیراشوٹ سے اترتا نظر آیا۔

’میں نے فوراً عبدالرحمان کو فون کیا جن کا گھر اس پہاڑ کے بالکل سامنے تھا جہاں پیراشوٹ اتر رہا تھا اور انھیں کہا کہ فوراً جاؤ اور دیکھو کہ یہ کون ہے۔‘

انڈیا یا پاکستان؟
عبدالرحمان نے پیراشوٹ دیکھتے ہی ہاتھ میں پانی کا جگ پکڑا اور تیزی سے پہاڑی چڑھنے لگے۔

’پہلے تو پیراشوٹ کو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ یہ اس درخت پر گر جائے گا۔‘ عبدالرحمان نے پہاڑی چڑھتے ہوئے درخت کی طرف اشارہ کیا۔ پھر پائلٹ نے مہارت سے اس کا رخ موڑا اور آرام سے پہاڑی کے اوپر ہموار زمین پر اتر گیا۔‘
 

عبدالرحمان کے مطابق جب پیراشوٹ بہت نیچے آیا تو اس کی رسی کے ساتھ لگے انڈیا کے جھنڈے سے انھیں یہ پتا چل گیا تھا کہ یہ پائلٹ انڈین ہے اور انھیں بعد میں معلوم ہوا کہ اس کا نام ابھینندن تھا۔

’ابھینندن نے مجھے دیکھا اور چند قدم نیچے اتر آیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک پستول تھا جو اس نے مجھ پر تان دیا اور سوال کیا، یہ انڈیا ہے یا پاکستان۔‘

عبدالرحمان کہتے ہیں کہ ’میں نے کہا انڈیا۔ اس نے سوال کیا کون سا علاقہ۔ میں نے جواب دیا قلعہ۔

’یہ سنتے ہی ابھینندن پہاڑی میں بنی ایک چھوٹی سی کھوہ سے کمر ٹکا کر نیم دراز ہو گئے۔ اپنا پستول پیٹ پر رکھا اور دونوں ہاتھ اٹھا کر جے ہند کا نعرہ لگایا۔‘

عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد انھوں نے مجھ سے کہا کہ ’میری کمر ٹوٹ گئی ہے، مجھے پانی پلاؤ۔‘

اس وقت تک ابھینندن کو یہی اندازہ تھا کہ وہ انڈیا کے کسی گاؤں میں اترے ہیں لیکن اتنی دیر میں ہوڑاں کے دیگر رہائشی بھی پہاڑی کے نیچے جمع ہو گئے تھے جن میں سے کسی نے ’پاکستان زندہ باد‘ اور ’پاک فوج زندہ باد‘ کے نعرے لگا دیے۔
 

یوں ابھینندن کو خبر ہو گئی کہ وہ انڈیا نہیں بلکہ پاکستان میں ہیں۔ عبدالرحمان کے مطابق ’وہ فوراً چوکنا ہو گئے۔ انھوں نے اپنی پتلون پر نیچے کی طرف بنی جیب کا بٹن کھولا اور ایک ہاتھ سے ہی چھوٹا سا کاغذ نکال کر اس کی چھوٹا سا تعویذ بنایا اور اسے نگل گئے۔

’اس دوران ابھینندن نے مسلسل پستول کا رخ میری طرف کیے رکھا۔ پھر ایک اور کاغذ نکالا جو کہ بڑا تھا۔ اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کیے اور پھر تیزی سے پہاڑی سے نیچے کی طرف بھاگ گئے۔‘

فرار کی کوشش
65 سالہ عبدالرحمان کہتے ہیں کہ اس دوران بار بار ان کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ ابھینندن پر چھلانگ لگا کر انھیں قابو کر لیں لیکن ان کے ہاتھ میں پستول ہونے کی وجہ سے وہ اپنے ارادے سے باز رہے۔

جب وہ نیچے کی طرف بھاگے تو عبدالرحمان اور دیگر دیہاتی ابھینندن کا پیچھا کرنے لگے اور ’کچھ لوگوں نے انھیں روکنے کے لیے ان پر پتھر بھی برسائے‘۔
 

تھوڑی دیر سڑک پر بھاگنے کے بعد اچانک ابھینندن نے اپنا رخ اس جانب موڑ لیا جہاں سے جہاز کے ملبے کا دھواں آسمان پر اٹھتا دکھائی دے رہا تھا۔

تعاقب کرتے لوگ پھر ان کے پیچھے بھاگے۔ ایک جگہ پر پانی کا نالہ دیکھ کر ابھینندن نے اس میں چھلانگ لگا دی اور دیہاتیوں نے نالے کے گرد گھیرا ڈال دیا۔

ابھینندن کی گرفتاری کیسے ہوئی؟
اسی اثنا میں عبدالرحمان نے اپنے محلے دار محمد رفیق کو فون کیا اور کہا کہ بندوق لے کر نالے پر پہنچو۔ عبدالرحمان کہتے ہیں کہ وہ بندوق لیے نیچے اتر رہے تھے کہ ایک جذباتی نوجوان نے ان سے بندوق چھین لی۔

’میں نے اسے آواز دی کہ اسے گولی نہیں مارنی۔ اسے زندہ پکڑنا ہے۔‘
 

محمد رفیق نے بتایا کہ جب وہ نالے تک پہنچے تو فوجی وہاں آچکے تھے۔ ’ایک فوجی نے پانی میں چھلانگ لگائی اور ابھینندن کو دبوچ لیا۔ فوجی کے ساتھ گاؤں والے بھی پانی میں اتر گئے۔ فوج کو دیکھتے ہی ابھینندن نے پستول نیچے پھینک دیا اور ہاتھ اوپر اٹھا لیے۔ جس کے بعد وہ انھیں گرفتار کر کے گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔‘

ابھینندن کو تو طیارہ گرنے کے کچھ ہی دیر بعد حراست میں لے لیا گیا تاہم ان کے جہاز کا ملبہ کئی روز تک ہوڑاں سے ملحقہ کوٹلہ محلے میں پڑا رہا۔

عینی شاہد محمد اسماعیل نے بتایا کہ ’پہلے دن تو دیر تک اس میں آگ لگی رہی اور وقفے وقفے سے دھماکے ہوتے رہے لیکن آگ بجھنے کے بعد دور دور سے لوگ یہ ملبہ دیکھنے آتے رہے اور اس کے پاس تصویریں بنواتے رہے۔‘

بعد میں فوج نے یہاں سے ملبہ ہٹا لیا لیکن ابھینندن کے تباہ شدہ جہاز کے کئی چھوٹے ٹکڑے اب بھی اس جگہ پر مل جاتے ہیں جہاں وہ گرا تھا۔

بدھ، 26 فروری، 2020

9:33 AM

کیا آپ جانتے ہیں کہ لڑکیوں کے مقبول ترین اسلامی نام کون سے ہیں؟


بیٹی اللہ کی رحمت ہوتی ہے۔ اس کی پیدائش پر والدین جتنا خوش ہوتے ہیں اتنا ہی اس کا نام رکھنے کے لیے بھی بے چین ہوتے ہیں۔ خوبصورت ناموں کی ایک فہرست بناتے ہیں پھر اس میں سے کسی ایک نام کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ ہم آپ کو لڑکیوں کے ایسے چند نام اور ان کے مطلب بتانے جا رہے ہیں جو گزشتہ سال لوگوں کی جانب سے نہ صرف بہت پسند کئے گئے۔ جانیے 2019 کے سب سے زیادہ مقبولیت حاصل کرنے والے مسلمان بچیوں کے نام۔

عائشہ
سال 2019 میں بہت سے والدین نے اپنی بچیوں کے لیے عائشہ نام سرچ کیا۔ عائشہ مسلمان بچیوں کا بہت ہی مقبول نام ہے جس کے معنی آرام پانے والی، راحت و سکون سے رہنے والی ہے۔ یہ خوبصورت نام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ کا تھا۔ یہ عربی زبان کا نام ہے۔

انابیہ
انابیہ بھی ان ناموں میں سے ایک نام ہے جسے گزشتہ سال بہت استعمال کیا گیا۔ اس کے معنی ہیں بہشت کا دروازہ، خوشبو۔ یہ اردو زبان کا نام ہے۔

زارا
زارا عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی عاجزی اختیار کرنے والی، ملاقات کرنے والی کے ہیں۔ 2019 میں یہ نام بھی کافی زیادہ استعمال کیا گیا۔

ہانیہ
ہانیہ عربی زبان کا نام ہے جس کے معنی سکون اور خوش رہنے کے ہیں۔ یہ نام کافی مقبول ہے جبکہ سننے میں کافی اچھا لگتا ہے۔

حریم
حریم خانہ کعبہ کی دیواروں کو کہا جاتا ہے۔ یہ نام چھوٹا اور پکارنے میں انتہائی خوبصورت لگتا ہے۔ 2019 میں سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے ناموں میں سے یہ ایک نام تھا۔ یہ نام اردو زبان کا ہے۔

فاطمہ
فاطمہ بھی 2019 میں بہت زیادہ پسند کیا گیا۔ فاطمہ نام کا تعلق عربی زبان سے ہے۔ یہ نام بہت زیادہ مقبول ہے۔ فاطمہ نام کا مطلب “ایک عورت جو اجتناب کرے “ ہیں- یہ نام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کا تھا۔

ثنا
ثنا عربی زبان کا نام ہے.ثنا کا مطلب تعریف، حمد، مداح اور ستائش کے ہیں۔ یہ نام بھی 2019 میں کافی مقبول رہا۔

مناہل
مناہل نام کا تعلق اردو زبان سے ہے۔ یہ ایک انتہائی خوبصورت نام ہے جس کے معنی بھی بہت خوبصورت ہیں۔ مناہل کا مطلب تازہ پانی کی بہار ہے۔ یہ نام 2019 میں بہت سے لوگوں نے پسند کیا۔

اقصیٰ
اقصیٰ نام بھی 2019 کا مقبول ترین نام رہا۔ اقصیٰ کے معنی ہیں انتہائی بعید کنارا، سِرا جبکہ یہ ایک بہت مقبول مسجد کا بھی نام ہے اور یہ نام عربی زبان کا لفظ ہے۔

منگل، 25 فروری، 2020

3:42 PM

مرتے وقت انسان کیا محسوس کرتا ہے؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ


اگر آپ نے موت کو گلے لگاتے کسی شخص کو کبھی دیکھا ہو تو آپ نے بھی غور کیا ہوگا کہ ایسا لگتا ہے جیسے اچانک اس کے چہرے پر سکون آ گیا ہو۔ لیکن اس دوران آخر اس کے دماغ میں کیا کچھ چل رہا ہوتا ہے؟

انتقال کرنے والے شخص کا چہرہ دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے وہ سو رہا ہو۔ چہرے پر بہت عام تاثرات ہوتے ہیں۔ میرے ایک رشتہ دار انتقال کے قریب بہت تکلیف میں تھے۔ لیکن مرنے کے بعد ان کا چہرہ چمک رہا تھا اور اچانک ایسا لگنے لگا جیسے وہ بہت خوش ہوں۔

برسوں میں یہی سوچتا رہا کہ کیا زندگی کے آخری لمحات میں جب موت آپ سے لپٹ رہی ہوتی ہے، کیا وہ پل زبردست خوشی دینے والا ہوتا ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ انتقال کے وقت جسم میں تناؤ دور کرنے والا انڈورفن ہارمون بھرپور مقدار میں خارج ہوتا ہو؟

عام طور یہ تصور کیا جاتا ہے کہ زندگی کے آخری لمحات میں ایک جنگ سی چل رہی ہوتی ہے۔ لیکن کیا ایسا بھی ممکن ہے کہ جسم موت کو خوشی خوشی گلے لگاتا ہو؟

پیلیئیٹیو کیئر یعنی درد سے نجات میں مدد کرنے کی سہولیات کے ماہر ہونے کے ناطے مجھے ایسا لگتا ہے کہ موت کا عمل آخری سانس لینے سے ایک ہفتہ قبل شروع ہو جاتا ہے۔ اس دوران صحت متاثر ہونے لگتی ہے۔ جسم کمزور پڑنے لگتا ہے، چلنے میں دشواری پیش آنے لگتی ہے اور غنودگی طاری رہتی ہے۔ آخری لمحات میں کھانا پینا مشکل ہونے لگتا ہے۔

متاثرہ شخص کے اس مقام پر پہنچنے تک ہمیں یہ سمجھ آنے لگتا ہے کہ بس اب اس کی دو چار روز کی زندگی اور باقی ہے۔ بہت سے لوگ اس پورے عمل سے ایک ہی دن میں گزر جاتے ہیں۔ اور کچھ لوگ زندگی اور موت کے درمیان تقریباً ایک ہفتے تک رہتے ہیں۔ یہ صورت حال رشتہ داروں کے لیے تکلیف دہ ہوتی ہے۔
 

لیکن موت کے لمحے کو ٹھیک ٹھیک سمجھ پانا مشکل ہے۔ میرے اپنے ساتھیوں کی ایک تحقیق، جو کہیں شائع نہیں ہوئی ہے، کے مطابق جیسے جیسے موت کی گھڑی قریب آتی ہے جسم میں تناؤ پیدا کرنے والے کیمیکل میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ممکنہ طور پر جسم میں موت کے وقت تناؤ کم کرنے والے انڈورفن ہارمون کا اخراج ہوتا ہے۔ لیکن کبھی اس بارے میں کوئی ریسرچ نہیں ہوئی ہے، اس لیے اسے یقینی طور پر کہنا ممکن نہیں۔

دماغ میں خارج ہونے والا ایک اور ہارمون سیروٹونن خوشی کے احساس کے ذمہ دار ہوتا ہے۔ سنہ دو ہزار گیارہ کی ایک تحقیق کے مطابق چھ چوہوں کے دماغ میں مرتے وقت اس ہارمون کی مقدار تین گنا پائی گئی۔ عین ممکن ہے کہ ایسا ہی عمل انسانوں میں بھی ہوتا ہو۔

ایسی ٹیکنالوجی موجود ہے جو یہ بتا سکے کہ انسان میں انڈورفن اور سیروٹونن کی مقدار کتنی ہے، اس لیے یہ مشورہ قابل غور ہو سکتا ہے۔ حالانکہ مرنے والے کے آخری لمحات میں اس کے خون کے نمونے موصول کرنا مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسی ریسرچ کے لیے فنڈنگ حاصل کرنا بھی آسان نہیں ہے۔

اگر کسی شخص کو پہلے سے درد کی شکایت نہیں ہے تو عام طور پر اسے مرنے کے قریب بھی درد کا مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔

مرنے والے کو درد سے پریشانی ہونا ضروری نہیں ہے۔ اپنے مریضوں کے ساتھ میرے تجربے اور میرے ساتھیوں سے اس بارے ہوئی بات چیت کی بنیاد پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر کسی شخص کو پہلے سے درد کی شکایت نہیں ہے تو عام طور پر اسے مرتے وقت بھی درد کا مسئلہ نہیں ہوتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے یہ کہنا مشکل ہے۔ اس کا تعلق اینڈورفنس سے ہو سکتا ہے۔ لیکن اس بارے میں بھی کوئی ریسرچ سامنے نہیں آئی ہے۔

دماغ میں متعدد ایسے عوامل ہو سکتے ہیں جن کی وجہ سے درد کا احساس نہ ہو۔ اسی لیے جنگ کے میدان میں فوجیوں کو اکثر درد کا احساس نہیں ہوتا ہے کیونکہ ان کی توجہ کہیں اور مرکز ہوتی ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایرین ٹریسی کی ریسرچ کے مطابق مذہبی عقائد بھی درد کم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مراقبہ بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔
 

غیر معمولی خوشی کا احساس
آخری لمحات میں انڈورفنس کے علاوہ اور کون سی چیز ہے جو غیر معمولی خوشی کے احساس کے لیے ذمہ دار ہوتی ہے؟

جب جسم کام کرنا بند کرتا ہے تو ظاہر ہے دماغ بھی متاثر ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ اس سے بھی زندگی کے آخری لمحات کا تجربہ متاثر ہوتا ہو۔ امریکی سائنسدان جل بولٹ ٹیلر نے ایک ٹیڈ ٹاک میں اس تجربے پر تبصرہ کیا ہے۔

انہون نے بتایا کہ کس طرح انہوں نے موت کو قریب سے محسوس کیا۔ انہون نے بیان کیا کہ سٹروک کی وجہ سے ان کے دماغ کے بائیں حصے کے بند ہو جانے کے باعث انہیں ہر فکر سے 'آزاد' ہونے جیسا احساس ہوا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بولٹ ٹیلر کو دماغ کے بائیں جانب چوٹ لگی تھی۔ جبکہ دماغ کے داہنی جانب چوٹ لگنے سے بھی آپ کے خدا کے نزدیک ہونے کے احساس میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

کئی امکانات ہو سکتے ہیں۔ یہ کہ آپ کا رشتہ دار روحانی احساسات سے گزرا ہو۔ جب میرے دادا کا اتنقال ہوا، اس وقت انہوں نے اپنا ہاتھ اور ایک انگلی اٹھائی ہوئی تھی جیسے سامنے کھڑے کسی شخص کی جانب اشارہ کر رہے ہوں۔
 

میرے والد کیتھولک ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ان کے والد کو اپنی والدہ اور اہلیہ نظر آ رہی تھیں۔ مرتے وقت ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ یہ دیکھ کر میرے والد کو بہت تسلی ہوئی۔

بودھ مذہب کے ماننے والوں کا عقیدہ ہوتا ہے کہ انتقال کے وقت ذہن کے پاس غیر معمولی صلاحیت آجاتی ہے۔ مرنے والے کو زندگی اور موت کے درمیان کا فاصلہ ختم ہوتا محسوس ہوتا ہے۔

ان باتون کا یہ مطلب بالکل نہیں ہے کہ زیادہ مذہبی لوگوں کے لیے موت کا عمل مزہ دار ہوتا ہے۔ میں نے پادریوں اور ننز کو موت کے قریب بے چین حالت میں دیکھا ہے۔ ہو سکتا ہے انہیں ان کے زندگی گزارنے کے طریقے اور مرنے کے بعد فیصلے کے لمحات کی فکریں پریشان کرتی ہوں۔

ہر موت مختلف ہوتی ہے۔ آپ یہ طے نہیں کر سکتے کہ کس کو کیسی موت آئے گی۔ میں نے کچھ اموات ایسی بھی دیکھیں ہیں جن میں لگتا ہے کہ اینڈورفنس سے کوئی فائدہ نہ پہنچا ہو۔ چند ایسے کم عمر لوگوں کو میں نے مرتے دیکھا ہے جن کے لیے یہ قبول کرنا مشکل تھا کہ ان کا آخری وقت آ چکا ہے۔ موت کے پورے عمل کے دوران وہ بے چین ہی نظر آئے۔

میں نے ان لوگوں کو سکون سے مرتے دیکھا ہے جن کی زندگی کے آخری دن خوش حالی اور اطمینان میں گزرے۔ کینسر جیسے امراض سے دو چار افراد کے آخری دن بھی خوش حال ہو سکتے ہیں اگر انہیں پیلیئیٹیو کیئر یا درد سے نجات میں مدد حاصل ہو۔
9:38 AM

زيادہ غصہ کرنے والے لوگ موٹاپے کا شکار کیسے ہوسکتے ہیں؟ حیرت انگیز انکشافات


ماہرین کے مطابق اگر آپ وزن کم کرنے کے خواہشمند ہیں اور اس کے لیے بے تحاشا ڈائٹنگ اور ورزش کر رہے ہیں- مگر اس کے ساتھ ساتھ آپ کو اپنے غصے پر کنٹرول نہیں ہے تو بدقسمتی سے آپ کبھی بھی اپنے وزن کو کم کرنے کی خواہش پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو سکتے ہیں-

جو غصہ کرتے ہیں وہ موٹے ہوتے ہیں
جو غصہ کرتے ہیں وہ موٹے ہوتے ہیں یہ میکسیکو سے تعلق رکھنے والی ایک ماہر غذائیت جوان مینوئیل رومیرو کی کتاب کا نام ہے- جس میں انہوں نے طویل تحقیقات کے بعد یہ بتایا ہے کہ زیادہ غصہ کرنا موٹاپے کا سبب بن سکتا ہے- اس کے ثبوت کے طور پر ان کا یہ کہنا ہے کہ جب انسان غصہ کرتا ہے تو جسم میں ایڈرینالائن اور کارٹی سول نامی خامروں کا افراز ہوتا ہے جس سے جسم میں شوگر کے لیول میں اضافہ ہو جاتا ہے اور یہ گلوکوز جسم میں جمع ہو کر موٹاپے کا سبب بنتی ہے-
 

جذبات کا بھی وزن ہوتا ہے
ماہرین غذائیت کا یہ ماننا ہے کہ جذبات کا بھی وزن ہوتا ہے- منفی جذبات جیسے غصہ ، مایوسی ڈپریشن وغیرہ ہماری غذائی عادات کو براہ راست متاثر کرتی ہیں- جس کے سبب غذا جسم میں توانائی فراہم کرنے کا ذریعہ بننے کے بجائے وزن میں اضافے کا باعث بن جاتی ہیں اور موٹاپے کا سبب بنتی ہیں-
 

غصے کے سبب ہونے والے موٹاپے سے کیسے بچا جائے؟
ایسا موٹاپا جو کہ زیادہ غصہ کرنے والے افراد میں ہوتا ہے اس کا سب سے پہلا علاج تو یہی ہے کہ غصے کو کنٹرول کرنے کی مشق کی جائے ۔ غصے کی حالت میں آجانا ایک فطری عمل ہے مگر اس حالت کو کنٹرول کرنا ہی درحقیقت انسان کا امتحان ہے ایسی حالت میں سب س پہلے تو پانی کا استعمال کرنا چاہیے اور ایک گلاس پانی پی لینا چاہیے ۔ غصے کی حالت میں کسی قسم کا کھانا کھانے سے اجتناب کرنا چاہیے ۔ اس کے بعد اس بات کو عادت بنا لینا چاہیے کہ اپنے غصے کو کنٹرول کریں اس کے ساتھ ساتھ جسمانی ورزش بھی ایسی حالت میں اعصاب کو پرسکون رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے-
9:32 AM

ونگ کمانڈر ابھینندن کے جہاز کے ملبے کی تصویری جھلکیاں

پاکستان فضائیہ نے پیر کے روز پی اے ایف ہیڈ کوارٹرز میں ایک میڈیا بریفنگ کا اہتمام کیا۔
 

اس بریفنگ میں انھوں نے انڈیا کی طرف سے 26 فروری 2019 کے حملے کے بارے میں کیے گیے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کی طرف سے بالاکوٹ کے مدرسے پر وار کرنے کے نتیجے میں انڈیا کے دو جہاز گرائے گئے۔
 

جبکہ انڈیا کی جانب سے جلد بازی میں گرائے گئے پے لوڈ سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔

ساتھ ہی پی اے ایف کے ترجمان نے اس بات کی بھی تردید کی کہ نہ تو ونگ کمانڈر ابھینندن ورتمان نے اپنے جہاز سے کوئی میزائیل فائر کیا اور نہ ہی پاکستان فضائیہ کے کسی جہاز کو نقصان پہنچایا۔
 

ثبوت کے طور پر ابھینندن ورتمان کے جہاز سے ملنے والے چاروں میزائیل بھی دکھائے اور جہاز کا ملبہ گرنے کی جگہ سے اس کی سیٹ بھی دکھائی۔
 

پیر، 24 فروری، 2020

9:17 PM

کچرا چننے والے سے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بننے تک کے سفر کی کہانی۔۔۔لاہور کا ایک ایسا بچہ جس نے غربت کو شکست دے ڈالی


صبح کی اذان کے ساتھ جبکہ بچے اپنے نرم گرم بستروں پر سو رہے ہوتے ہیں اور ان کی مائیں کچن میں ان کی پسند کے ناشتے تیار کر رہی ہوتی ہیں- ایسے گھروں میں لاہور کا ایک ایسا گھر بھی تھا جہاں پر ایک معصوم بچہ اپنی ماں کے بستر چھوڑنے سے بھی پہلے جاگ جاتا تھا اور منہ پر پانی کے چند چھپاکے مار کر کاندھوں پر خالی بوری لے کر کچرہ چننے نکل جاتا تھا۔

صابر نامی اس بچے کا تعلق ایک خانہ بدوش گھرانے سے تھا جو کہ ہندوستان سے ہجرت کر کے آیا تھا- اس کے والدین نے پاکستان آکر اسلام قبول کر لیا تھا مگر پھر بھی ان کو نیچ ذات کا ہی تصور کیا جاتا تھا -
 

اس کی ماں ایک جمعدارن تھی جب کہ اس کے باپ کی گدھا گاڑی تھی جس پر وہ کچرہ اٹھایا کرتا تھا اس کے نو بہن بھائی تھے اتنے بڑے گھر کے افراد کے اخراجات پورے کرنے اس کے ماں باپ کی قلیل آمدنی میں ممکن نہ تھا- اس لیے اس کو بھی ان کا ہاتھ بٹانے کے لیے کچرا چننے کا کام کرنا پڑتا تھا-

وہ کچرے کے ڈھیر سے گتے ، پلاسٹک کی بوتلیں اور دیگر کارآمد اشیا چنا کرتا تھا- اس کے پڑھائی کے شوق کے سبب اس نے اپنا نام ایک سرکاری اسکول میں درج کروا لیا تھا جس کی شدید ترین مخالفت اس کے اپنے ماں باپ نے کی تھی کیوںکہ وہ اس کی آمدنی میں کمی کو برداشت نہیں کر سکتے تھے- جس کے سبب اس نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اسکول جانے سے قبل صبح پانچ بجے جاگ کر پہلے کچرا چنے گا اس کے بعد وہ اسکول کے ٹائم پر اپنی تعلیم حاری رکھے گا-
 

صابر کا اس حوالے سے یہ بھی کہنا تھا کہ اس کو اپنے اسکول کے ساتھیوں کی جانب سے شدید ترین مذاق کا نشانہ بنایا جاتا تھا یہاں تک کہ اس کو خود بھی یہی محسوس ہوتا تھا کہ اس کے پاس سے ایسی بدبو آتی ہے کہ کوئی بھی اس کے ساتھ بیٹھنا پسند نہیں کرتا-

اسکول سے واپس آنے کے بعد وہ ٹھنڈا پانی بیچنے اور ابلے ہوئے انڈے بیچنے کا کام بھی کرتا تھا تاکہ گھر والوں کے اخراجات کی تکمیل ہو سکے اس کے بعد رات کے اندھیرے میں موم بتی کی روشنی میں وہ اپنی پڑھائی کرتا کیوں کہ اس کے گھر میں بجلی کی کوئی سہولت موجود نہ تھی-
 

سرکاری اسکول سے دسویں کا امتحان پاس کرنے کے بعد بھی اس نے اپنی تعلیم کے سلسلے کو رکنے نہ دیا یہاں تک کہ پاکستان چارٹرڈانسٹیٹوٹ آف مینجمنٹ اکاؤنٹنٹ سے اس نے گریجویشن کا امتحان پاس کر لیا-

2007 کے بعد سے صابر نے اپنے علاقے اور لوگوں کی بہتری کے لیے کام کرنا شروع کیا اور انہوں نے اپنے علاقے کے دو بڑے مسائل کے خاتمے کے لیے آواز اٹھائی- جن میں سے ایک تو تعلیم تھی جس کی اس جیسے علاقے کے بچوں کو بہت ضرورت تھی اور دوسرا سب سے بڑا مسئلہ اس علاقے کے لوگوں کا بیت الخلا کی غیر موجودگی تھی- جس کے لیے صابر نے ایسے علاقوں میں موبائل بیت الخلا بنانے کا آغاز کیا اور ان موبائل بیت الخلا کے ذریعے انسانی فضلے کو کارآمد بنا کر اس سے حاصل ہونے والی رقم کو انہی لوگوں کی بہبود کے لیے استعمال کرنے کا بیڑہ اٹھایا-
 

اپنے اس سوشل ورک کے سلسلے میں انہیں امریکہ کے ایک پروگرام کے تحت امریکہ جانے کا بھی موقع ملا جہاں انہوں نے بہت کچھ سیکھا اور واپس پاکستان آکر انہوں نے سلم آباد کے نام سے ایک پروجیکٹ شروع کیا- جس کی بنیاد پر پاکستان کے ایسے لوگوں کی حالت کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے جن کا معیار زندگی تیسرے درجے کا ہے-

صابر کی کہانی پاکستان کے ان تمام لوگوں کے لیے مشعل راہ ہے جو کہ حالات کا رونا رو کر چپ بیٹھ جاتے ہیں- ان کو صابر کی زندگی سے سبق سیکھنا چاہیے کہ انسان اگر کرنا چاہے تو وہ کچھ بھی کر سکتا ہے-

ہفتہ، 22 فروری، 2020

10:43 AM

ایسی 8 حیران کن چیزیں جنہیں بطورِ پارسل بھیجنا قانونی ہے

موجودہ دور میں دنیا کے کسی بھی حصے میں کوئی چیز پارسل یا میل کرنا ایک عام سی بات ہے اور ہر کوئی یہ کام باآسانی کرسکتا ہے۔ اکثر لوگ کاغذات یا مختلف اشیاﺀ ایک سے دوسرے مقام پر بذریعہ ڈاک بھجواتے ہیں- لیکن کیا آپ بلی، چوزوں یا آلو جیسی سبزی میل کر سکتے ہیں؟ یقیناً کوئی بھی اس بات کو حقیقت تصور نہیں کرے گا۔ آئیے وقت ضائع کئے بغیر ہم آپ کو 8 ایسی چیزوں کے بارے میں بتاتے ہیں جن کو میل کیا جا سکتا ہے۔
 
1. A Tree Trunk( درخت کا تنا)
آپ شاید یقین کریں یا نہیں 2013 اور 2014 میں ایک عجیب و غریب میلنگ کا مقابلہ منعقد ہوا۔ مقابلہ جیتنے والا ایک درخت کا تنا تھا۔ جسے میل کے ذریعے شمالی کیرولائنا بھیج دیا گیا تھا۔

2. Potatoes (آلو)
آلو بھیجنا مکمل طور پر قانونی ہے اور حقیقت میں ایسی کئی ویب سائٹس ہیں جو آلو کی ایک ڈاک یا پارسل کی طرح ترسیل کرتی ہیں۔ یہ ادارے آلو کو بہترین انداز میں پیک کر کے متعلقہ مقام تک پہنچاتے ہیں-

3. Snow (برف)
امریکہ میں برف کو ڈاک کے ذریعے بھجوانا بالکل قانونی ہے- امریکہ میں ایسی کئی سروسز موجود ہیں جو برف کو مناسب طریقے سے پیک کر کے لوگوں کے پیاروں تک پہنچانے کی خدمات سرانجام دیتی ہیں- اس لیے اگر آپ کسی بھی ٹھنڈے علاقے میں رہتے ہیں اور آپ کا دوست گرم علاقے میں تو آپ اپنے علاقے کی یہ سوغات اسے بھجوا سکتے ہیں-

4. Scorpions (بچھو)
یقیناً یہ کسی کے ساتھ بھیانک مذاق بھی ہوسکتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ یو ایس پی ایس کے قواعد کے مطابق بچھو کو بھی بذریعہ ڈاک کسی کو بھی ارسال کیا جا سکتا ہے۔ مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ طبی ریسرچ کے لیے زندہ بچھو بھی میل کیے جاسکتے ہیں۔
5. Cats (بلیاں)
اگرچہ آج کے دور میں آپ یو ایس پی ایس کے ذریعے بلیوں کو تکنیکی طور پر میل نہیں کرسکتے ہیں۔ لیکن 1897 کے دوران نیویارک میں نیومیٹک ٹیوب سسٹم کے ذریعے ایک کالی بلی کو میل کے ذریعے بھیجا گیا تھا۔ نیومیٹک ٹیوب سسٹم سے بہت سی چیزیں میل کی گئی تھیں جیسے جھنڈا ، کتاب، تقریری کاغذات مگر بلی کو میل کرنا ایک ناباقل یقین بات تھی۔

6. Live Bees (شہد کی مکھیاں)
زندہ شہد کی مکھیوں کو میل کرنا یقینی طور پر عجیب سی بات لگتی ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ شہد کی مکھیوں کو بھی ڈاک کے ذریعے بھیجا جاسکتا ہے۔ شہد کی مکھیوں کو ہوائی جہاز کے ذریعہ بھیجا جاسکتا ہے، اور یہ ایسے مقامات پر بھیجی جاتی ہیں جہاں شہد کی مکھیوں کی تعداد کم ہو۔

7. Baby Chicks (چوزے)
یو ایس پی ایس کے سیکشن 526.3 کے مطابق پولٹری کی صنعت سے تعلق رکھنے والے کئی دن پرانے جانوروں کو بھی ڈاک کے ذریعے بھیجنا ممکن ہے۔ بٹیر ، مرغی ، بطخ ، مرغی ، گیز کو اپریل اور اگست کے درمیان کہیں بھی بھیجا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے کچھ شرائط لاگو ہوتی ہیں۔ بالخصوص پارسل کے لئے پیکیجنگ کو مناسب طریقے سے ہوادار ہونا چاہئے۔

8. Children (بچے)
بلیوں کی طرح ، بچوں کو میل کرنا یقیناً غیر قانونی طریقہ ہے ! لیکن لوگ یہ عمل بھی کر چکے ہیں۔ سال 1913 میں ، جب پارسل پوسٹ پہلی بار پوسٹ آفس کے ذریعہ متعارف کروائی گئی تھی ، تب دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو اچانک مواقع ملا۔ بعد میں میتیلڈا اور جیس بیگل نے اپنے 8 ماہ کے بچے جیمز کو اس کی دادی کے پاس پارسل کی مانند بھیج دیا تھا جو کچھ ہی میل دور رہتی تھی۔ جیمز کا وزن 11 پونڈ سے کم تھا اس لیے اس پارسل کی ترسیل پر 15 سینٹ کی رقم وصول کی گئی-

جمعہ، 21 فروری، 2020

1:26 AM

پراسرار دروازے جو آج تک نہیں کھولے جاسکے

کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں کئی ایسے پراسرار دروازے ہیں جو ایک لمبے عرصے سے بند پڑے ہوئے ہیں۔ ان پر اسرار دروازوں کو نہ تو آج تک کوئی کھول پایا ہے اور نہ ہی کسی نے کھولنے کی کوشش کی ہے کیونکہ بہت سے لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ ان دروازوں کو شاید کسی منتر کی مدد سے تالہ لگایا گیا ہے کہ جسے کھول پانا کسی انسان کے بس میں نہیں ہے۔ یہ بات اب تک واضح نہیں ہو سکی کہ ان دروازوں کو کس نے بند کیا تھا۔ آج ہم ایسے ہی کچھ ایسے ہی پراسرار دروازوں کا ذکر کرنے والے ہیں جو آج تک نہیں کھلے ہیں ۔

Padmanabhaswamy Temple
یہ مندر انڈیا کی ریاست میں ہے ۔ یہ دنیا کا سب سے مہنگا مندر بھی کہلاتا ہے کیونکہ اس کو سونے کی مدد سے بنایا گیا تھا۔ یہ دراصل ہندوؤں کے بھگوان وشنو کا مندر ہے ۔ ایک شاہی فیملی نے اپنا بہت سا پیسہ لگاکر اس کی مرمت کروائی تھی ۔اور اپنا بہت سا خزانہ اس فیملی نے اس مندر کے تہہ خانوں میں چھپا دیا تھا ۔ یہ تجوریاں گزشتہ کئی سالوں سے بند پڑی تھی اور اسے کھولنے کی اجازت کسی کوبھی نہیں تھی سال 2011 میں جب حکومت نے اسے کھولنے کی منظوری دی تو وہاں کے لوگوں نے انھیں خبردار کیا کہ اگر اس دروازے کو کھولا گیا تو ہر چیز تباہ ہوجائے گی ۔لیکن اس دروازے کو کھولنے کے لیے ایک کمیٹی بنی جنہوں نے اس دروازے اور تجوریوں کو کھولا تو انھیں 6 میں سے 5 تجوریوں میں قیمتی اشیا ملی اور 1 تجوری اب تک کھولی نہیں جاسکی-

The Hall of Record
آپ نے ٹی وی وغیرہ میں مصر میں واقع the great spain of giza کی مورتی تو دیکھی ہوگی۔ اس مورتی کا سر انسان نما اور دھڑ کسی بڑے جنگلی شیر جیسا ہے۔ایسا ممکن نہیں کہ اس کے اندر کوئی پر اسراریت نہ ہو۔ اس پر آج بھی ماہرین کی تحقیق کا سلسلہ جاری ہے ۔ کچھ سائنسدانوں کے مطابق اس مورتی کے اندر بڑے بڑے ہال ہیں ۔لیکن کیا اس ہال کے نیچے کچھ ایسا دفن ہے جسے کھودنے کی اجازت مصری حکومت آج تک نہ دے پائی۔ لیکن کچھ اہل عقل یہ بھی بیان کرتے نظر آئے ہیں کہ ان دروازوں کو بند ہی رہنا چاہیے اور ان راز کو راز ہی رہنا چاہیے ۔

Mausoleum of First Qin Emperor
دو بھائی چین کے ایک شہر میں کنویں کی کھدائی میں مصروف تھے ۔تو انھیں اس دوران انسانی تاریخ کے کے سب سے بڑے آثارِ قدیمہ کا سراغ ملا اور انھیں زیر زمین مٹی کے پتلے ملنے شروع ہوئے ۔ غرض کہ انھیں اس جگہ سے مزید ایسے ہزاروں پتلوں کا احساس ہوا۔ان میں سے کئی پتلے قدیم سپاہیوں کے تھے جنھیں نہایت مہارت سے تراشا گیا تھا۔ یہ پتلوں کا بڑا قبرستان دراصل ایک چینی بادشاہ کی سلطنت تھی ۔اس قبرستان کے ارد گرد کا حصہ بہت بڑا ہے جسے کھودنے میں دہائیاں لگ سکتی پیں۔ کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اس کو بند ہی رہنا چاہیے کیونکہ کہا جاتا ہے کہ جن دو بھائی نے اس چیز کو دریافت کیا تھا ۔وہ لوگ بیماریوں کی زد میں آکر مر گئے ۔ان کے انجام کو دیکھنے کے بعد اس مزار کے دروازے کھولنے سے لوگ آج بھی خوف زدہ ہیں ۔

Banff Springs Hotel Room 873
ایک ہوٹل روم اتنا ڈراؤنا ہوسکتا ہے کہ اسے ہمیشہ کے لیے تالہ لگانا پڑسکتا ہے- یہ ایک ایسا ہوٹل ہے جو کہ کینڈا میں واقع ہے۔ اس ہوٹل کے بارے میں مشہور ہے کہ اس میں ایک ایسا کمرہ موجود ہے جس کا نمبر 873 ہے اور اس میں ایک فیملی ٹہری تھی ۔مگر جب صبح ملازمین نے دروازہ کھولا تو پوری فیملی کو مردہ حالت میں پایا اور دیواروں پر خون کے نشان تھے ۔جس کے بعد اس کمرے کو سب کے لیے بند کردیا گیا آج بھی اس ہوٹل میں ٹہرنے والے لوگوں کو کچھ پراسرار چیزیں نظر آتی ہیں ۔اور اس کمرے کے تالے کو آج تک نہ کھولا جاسکا۔

The Hidden Chamber of Taj Mahal
تاج محل سات عجوبوں میں سے ایک دلکش عجوبہ ہے ۔ جس کے بارے میں ہم سب ہی جانتے ہیں مگر اس کے اندر پائے جانے والے خفیہ چیمبر سے بہت کم لوگ واقفیت رکھتے ہیں ۔۔ اسے شاہ جہان نے اپنی لاڈلی بیگم ممتاز کے لیے بنایا تھا ۔ تاج محل کے کئی خفیہ دروازے بھی بنائے گئے تھے لیکں آج ان دروازوں کو مکمل سیل کردیا گیا ہے ۔کچھ لوگوں کا یہ ماننا تھا کہ ان کے پیچھے ان کے دیوتاؤں کی مورتیاں چھپائی گئی ہیں ۔ کہا جاتا ہے یہ مورتیاں یہاں اس لیے چھپائی گئی تھی کیوںکہ تاج محل پہلے مندر تھا لیکن اس کے بارے میں کچھ بھی کہنا غلط ہوگا-

جمعرات، 20 فروری، 2020

2:52 PM

آسمانی بجلی نے پوری ٹیم کو موت کی نیند سلا دیا۔۔۔10 ناقابلِ یقین حادثات، ویڈیوز

حادثے کا اگرچہ کوئی وقت مقرر نہیں ہوتا اور حادثے بظاہر اچانک ہی ہوتے ہیں۔ ہم روزانہ حادثات کی خبریں سنتے ہیں اور اکثر اوقات ہماری زندگی میں ایسے چھوٹے موٹے حادثات بھی رونما ہوتے رہتے ہیں جیسے ہاتھ سے چائے کا کپ گر جانا، دوڑ لگاتے وقت پاؤں پھسل جانا وغیرہ۔ مگر کبھی کبھار چند ایسے بھی حادثات پیش آ جاتے ہیں جس کی وجہ سے انسانی جانیں بھی ضائع ہو جاتی ہیں۔ ہم آپ کو اب تک کے 10 عجیب و غریب حادثات کے بارے میں بتاتے ہیں جن کے بارے میں جان کر آپ حیرت زدہ ہو جائیں گے۔
 
10. Bouncy castle blast
2006 میں لندن کے ایک تہوار کے دوران حادثہ ہوا۔ بچے اپنے باؤنسنگ کے محل میں کھیل رہے تھے کہ اچانک تیز ہوا کا جھونکا آتا ہے جس سے محل کی ڈوریاں کھل جاتی ہیں اور بچوں کا قلعہ پچاس فٹ بلند ہوا میں اڑ جاتا ہے۔ بدقسمتی سے اس حادثے میں 13 افراد زخمی جبکہ 2 کی موت ہو جاتی ہے۔

9. A flying fire hydrant
2007 میں ایک خوفناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک شخص اوک لینڈ، کیلیفورنیا میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ چھٹیوں کی سیر سے لطف اندوز ہو رہا تھا، 24 سالہ Humberto Hernandez نامی نوجوان اپنی اہلیہ کے ساتھ فٹ پاتھ پر چل رہا تھا کہ اچانک ایک کار روڈ پر نصب آگ بجھانے والے ہائیڈرنٹ سے جا ٹکرائی- اس حادثے کے نتیجے میں ہائیڈرنٹ سڑک سے نکل کر ہوا میں بلند ہوگیا اور سیدھا نوجوان کے سر پر لگا- 200 پاؤنڈ وزن کا حامل فائر ہائیڈرنٹ سر پر لگنے کی وجہ سے نوجوان کی موقع پر ہیک موت واقع ہوگئی-

8. Upside down flipping of the bell ringer
Ian Bowman جب Worcestershire کے ایک چرچ میں بلند ترین مقام پر دیوقامت گھنٹی نصب کر رہے تھے تو اچانک ان کا پیر رسی پھنس گئی- جس کے بعد ان کی ٹانگیں ہوا میں بلند ہوگئیں اور سر نیچے کی جانب چرچ کے ماربل کے فرش سے جا ٹکرایا- اس حادثے کے نتیجے میں ان کو کافی گہری چوٹیں آئیں-

7. A deadly bullet shot
31 مارچ 1993 کو ہالی ووڈ کی فلم کے سیٹ پر ایک عجیب حادثہ پیش آیا جب فلمی سین کے مطابق فلم کے مرکزی کردار بروس لی کے بیٹے برینڈن لی پر فلم کے ولن مائیکل میسی نے بندوق سے فائر کی۔ پستول کی ٹھیک طرح جانچ پڑتال نہیں کی گئی تھی جس کے باعث بندوق سے اصلی گولی نکل کر برینڈن کے پیٹ میں جا لگی اور اس کے نتیجے میں اداکار کی موت ہو گئی۔

6. B-2 Bomber crash
23 فروری 2008 کو گوام کے ہوائی اڈے پر پرواز کے دوران بی ٹو نامی طیارہ گر کر تباہ ہوا۔ تفتیش کاروں کے مطابق، یہ حادثہ فلائٹ کنٹرول کمپیوٹرز کے غلط ڈیٹا کی وجہ سے پیش آیا جس کے سسٹم میں نمی آگئی تھی ۔ ہوائی جہاز نے اچانک اپنے آپ حرکت کی جس کے باعث یہ حادثے کا شکار ہوگیا۔

5. A lightning takes lives
سنہ 1998 میں کانگو میں کھیلے جانے والے ایک فٹبال میچ کے دوران خوفناک حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک آسمانی بجلی نے باسانگا کے گیارہ کے گیارہ کھلاڑیوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ جبکہ میزبان ٹیم اس حادثے سے مکمل طور پر محفوظ رہی۔ یقیناً سننے میں یہ ناقابلِ یقین لگتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے-

4. The haunted park deaths
9 جون 1991 کو اوہائیو کے کنگ آئلینڈ کے ایک تفریحی پارک میں موت کا واقعہ رونما ہوا۔ اس حادثے میں ایک شخص تالاب میں گر جاتا ہے۔ اس کے ساتھی اور ایک نوکر نے اس کی جان بچانے کی کوشش کی تو اچانک ان تینوں افراد کو بجلی کے جھٹکے اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں اور ان میں سے دو ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اس پارک میں مختلف ہیبت ناک واقعات رونما ہو چکے ہیں جب سے اس پارک کا نام ہاؤنٹڈ ہاؤس رکھ دیا گیا ہے۔

3. The dog walkers’ death
کرسچن ڈیلیٹ نامی 53 سالہ شخص جو کتوں کو گھمانے کا کام کرتا تھا ایک عجیب حادثے میں اپنی جان گنوا بیٹھا۔ ڈیلیٹ اپنے دو کتوں کے ساتھ اپنے اپارٹمنٹ سے نیچے اتر رہا تھا کہ اچانک اس کے پالتو کتے طاقت کے ساتھ اسے نیچے کی طرف دھکیلتے لے گئے اور ڈیلیٹ انہیں سنبھالنے کے کوشش میں سیڑھیوں سے نیچے گر ہلاک ہو گیا۔

2. Death caused by a dishwasher
ہمیشہ کہا جاتا ہے کہ ڈش واشر کو احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے- اسکاٹ لینڈ کے شمالی لنارکشائر سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون اپنے کچن میں کام کے دوران پھسل گئیں- بدقسمتی گرنے کے دوران ڈش واشر میں رکھے چاقو جو کہ باہر کی جانب نکلے ہوئے خاتون کے جسم میں داخل ہوگئے۔

1. A dog shot a girl
فلوریڈا کے ایک شخص نے دعویٰ کیا کہ اس کے کتے نے اس کی بیوی کو گولی مار دی ہے۔ دونوں میاں بیوی رات کو اپنے بستر پر سو رہے ہوتے ہیں کہ اچانک وہ دونوں اپنے کتے کو دیکھنے کے لئے اٹھے ، آدمی اپنے ڈیسل نامی کتے کو باتھ روم جانے کا کہتا ہے اور جب وہ واپس آتا ہے تو دیکھتا ہے کتا اسٹینڈ پر چھلانگ لگاتا ہے جہاں ایک بندوق رکھی ہوتی ہے اور اسی دوران اس بندوق سے گولی نکل جاتی ہے اور بیوی کو جا لگتی ہے-