Popunder ads

Breaking

سیاست لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
سیاست لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 15 فروری، 2020

11:05 PM

چینی اور آٹے کی مصنوعی مہنگائی کی تحقیقات ہو رہی ہیں، مہنگائی کرکے پیسہ بنانے والے طبقے کو نہیں چھوڑیں گے:وزیراعظم عمران خان

لوزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں چینی اور آٹے کی مصنوعی مہنگائی کی تحقیقات ہو رہی ہیں،جن طبقوں نے مہنگائی کرکے پیسہ بنایا ان کا پتہ چلتا جا رہا ہے جو بھی ملوث ہوا اس کو نہیں چھوڑیں گے، ایسا نظام لا رہے ہیں کہ کسی بھی چیز کے مہنگا ہونے سے قبل اس کا پتہ چل جائیگا اور بروقت اس کا انتظام کیا جائیگا،جب حکومت ملی تو ملک میں 40ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ تھا، 60ارب ڈالر کی چیزیں ہم باہر سے منگوا رہے تھے اور 20ارب ڈالر کی اشیاء ہم دنیا کو برآمد کررہے تھے جس کی وجہ سے روپے کی قدر گر گئی اور دالیں گھی سمیت کھانے پینے کی اشیاء مہنگی ہوئیں، حکومت صحت کے شعبہ میں انقلابی اقدامات اٹھا رہی ہے،طبی آلات کی درآمد پر ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے تاکہ نجی شعبہ آگے آئے اورزیادہ سے زیادہ ہسپتال بنیں،ہسپتالوں کی نجکاری کرنے کا تاثر غلط ہے بلکہ ہسپتالوں کو خود مختار بنانے کے ساتھ ساتھ ان میں بہترین مینجمنٹ سسٹم لایا جا رہا ہے، فلاحی ریاست کے ماڈل کی طرف جا رہے ہیں، مہینوں اور سالوں میں پاکستان تبدیل ہو گا اور سسٹم بھی تبدیل ہو گا، قانون کی حکمرانی ہو گی اور ملک میں عدل اور انصاف کا نظام آئے گا، دنیا میں سبز پاسپورٹ کی عزت ہوگی،میڈیا میں اس وقت باقاعدہ منصوبہ بندی سے حکومت کے خلاف بے بنیاد مہم چلائی جا رہی ہے۔ وہ ہفتہ کے روز گورنر ہائوس لاہور میں صحت انصاف کارڈ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور،وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار ،وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت وزرائ،اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سمیت مختلف شخصیات موجود تھیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت کی طرف سے صحت انصاف کارڈ کا اجراء صحت کے شعبہ میں ایک انقلابی قدم ہے،اس پروگرام سے 70لاکھ خاندان مستفید ہوں گے جبکہ اب تک 50لاکھ خاندانوں کو ہیلتھ انشورنس کارڈکی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمزور طبقے کی زندگی میں بہتری لانا حکومت کی اولین ترجیح ہے جس کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، صحت کے شعبہ میں ہنگامی بنیادوں پر اصلاحات لا رہے ہیں جس سے شعبہ میں بہتری آئے گی، ہسپتالوں کی نجکاری نہیں کی جارہی بلکہ اصلاحات کا عمل متعارف کروا رہے ہیں، پاکستان میں صحت کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لا رہے ہیں، ہیلتھ مینجمنٹ سسٹم میں اصلاحات لا رہے ہیں تا کہ سرکاری ہسپتال بھی پرائیویٹ ہسپتال کی طرح کام کریں جہاں جزاء اور سزا کانظام ہو، سرکاری ہسپتالوں میں جزاء اور سزا کا عمل متعارف کروا رہے ہیں، خیبر پختونخواہ میں پہلی بار صحت انشورنس کارڈ متعارف کروایا جس کی وجہ سے وہاں کے لوگوں نے ہمیں دو تہائی اکثریت سے کامیاب کروایا، صحت، تعلیم اور روزگار کی فراہمی فلاحی ریاست کی بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ بھی پہلے دن قائم نہیں ہو گئی تھی اس میں بھی کچھ عرصہ لگا تھا، صحت انصاف کارڈ کے ذریعے کسی بھی نجی ہسپتال میں علاج کرایا جا سکے گا،ہم فلاحی ریاست کے ماڈل کی طرف جا رہے ہیں، مہنگائی سے جس نے بھی فائدہ اٹھایا جلد اس کا پتہ لگا رہے ہیں، مہنگائی کے خلاف جامع اقدامات کر رہے ہیں، مہنگائی کرنے والوں کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے، پاکستانی کو عظیم فلاحی ریاست بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی مہنگائی میں ملوث عناصر کا پتہ لگا رہے ہیں ان کو نہیں چھوڑیں گے،ہم مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر پاکستان کو عظیم ریاست بنائیں گے جہاں انسانیت کا تحفظ اور کمزور طبقے کی ذمہ داری ریاست پر ہوتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں عدل اور انصاف کا نظام آئے گا،دنیا میں سبز پاسپورٹ کی عزت ہوگی، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے پوچھیں کہ سبز پاسپورٹ کی عزت پہلے سے زیادہ ہے، پاکستان عظیم ملک بنے گا، باہر کی دنیا سے لوگ پاکستان میں نوکریاں ڈھونڈنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چینی کی قیمتوں میں اضافہ کی تحقیقات ہو رہی ہیں، ملک میں ایسا نظام لائیں گے جس کے ذریعے آئندہ کوئی چیز مہنگی ہونے سے پہلے اس کا تعین کیا جائے گا ۔ قبل ازیں تقریب سے وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار ، صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے خطاب کیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس موقع پر لوگوں میں صحت کارڈ تقسیم کئے۔
11:01 PM

پی ٹی آئی کے سینئر رہنما، نعیم الحق چل بسے

اسلام آباد — پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق کراچی میں انتقال کر گئے ہیں۔ نعیم الحق کینسر کے مرض میں مبتلا تھے اور کافی عرصے سے علیل تھے۔
چند روز قبل وہ طبیعت بہتر ہونے پر وہ اسلام آباد سے کراچی منتقل ہوئے اور آغا خان اسپتال میں زیر علاج تھے۔
ان کی وفات کی تصدیق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کی۔ انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینسر کے خلاف بہادری سے لڑنے والے، ہمارے دوست، ساتھی اور ہمارے بڑے نعیم الحق انتقال کرگئے۔ انہیں ہم ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ نعیم الحق کو جوار رحمت میں جگہ دے۔
تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان کے مطابق، مرحوم کی نماز جنازہ بروز اتوار بعد نماز عصر، مسجد عائشہ، خیابان اتحاد میں ادا کی جائے گی۔
نعیم الحق کون تھے؟
نعیم الحق 11 جولائی 1949 کو کراچی میں پیدا ہوئے، جامعہ کراچی سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز اور ایس ایم لا کالج سے ایل ایل بی کیا۔
پیشے کے لحاظ سے بینکر، نعیم الحق نیویارک کے یو این پلازہ میں نیشنل بینک کی شاخ قائم کرنے والی ٹیم کا حصہ بھی رہے، اور 1980ء میں بطور مرچنٹ بینکر لندن میں رہائش اختیار کر لی۔ بعد میں وہ پاکستانی نجی ائیرلائن ایروایشیا کمپنی کے مینجنگ ڈائریکٹر اور میٹروپولیٹن اسٹیل کے چیئرمین بھی رہے۔
80 کی دہائی میں لندن قیام کے دوران ان کی عمران خان سے ملاقات ہوئی جو گہری دوستی میں بدل گئی۔ یہ دوستی کئی سالوں تک قائم رہی۔ سال 1984 میں انہوں نے ایئرمارشل اصغرخان کی تحریک استقلال جوائن کی اور کراچی آگئے۔ 1988 میں تحریک استقلال کے ٹکٹ پر اورنگی سے الیکشن بھی لڑا۔ لیکن ناکام رہے۔
1996 میں عمران خان کے سیاست میں آنے کے بعد انہوں نے عمران خان کے ساتھ مل کر تحریک انصاف کی بنیاد رکھی۔ 2008ء میں کینسر کے باعث اہلیہ کے انتقال کے بعد نعیم الحق نے توجہ تحریک انصاف کی جانب مرکوز کر دی۔
2012ء میں نعیم الحق تحریک انصاف چیئرمین کے چیف آف سٹاف بن کر اسلام آباد منتقل ہو گئے۔ پارٹی کی کور کمیٹی کا حصہ اور انفارمیشن سیکریٹری بھی رہے۔
پارٹی کے اندر عمران خان کے قریبی ساتھی ہونے کی وجہ سے انہیں اہم معاملات میں عمران خان کا دست راست سمجھا جاتا تھا، پارٹی کے بعض فیصلوں میں ان کا اثر و رسوخ تو تھا ہی لیکن عمران خان کی ذاتی زندگی میں بھی ان کا عمل دخل رہا اور ان کے ریحام خان اور بعد میں بشریٰ بی بی کے ساتھ نکاح کے بھی چند ایک گواہ تھے جن میں نعیم الحق بھی شامل تھے۔
نعیم الحق کی عمران سے ذاتی دوستی آخری دنوں تک قائم رہی اور ان کی شدید علالت کے دوران گذشتہ دو ہفتوں میں تین مرتبہ وزیراعظم عمران خان ان کے گھر پہنچے اور کافی دیر تک ان کے ساتھ بیٹھے رہے۔ آخری مرتبہ وزیراعظم حالیہ دورہ کراچی میں ان کے گھر گئے تھے اور ان کی عیادت کی تھی۔
جنوری 2018ء میں نعیم الحق کو خون کے سرطان کا مرض تشخیص کیا گیا جس کے علاج کےدوران ہی وہ عام انتخابات کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہے اور چند قریبی افراد کے علاوہ کسی کو پتا بھی نہ چلنے دیا کہ وہ کسی قدر خطرناک مرض سے لڑ رہے ہیں۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد نعیم الحق وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور مقرر ہوئے۔
صحافیوں کے دوست نعیم الحق
نعیم الحق پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات تھے اور اس وجہ سے ان کے ساتھ پہلے کراچی اور بعد میں اسلام آباد کی صحافیوں کی دوستی رہی، سال 2014 میں دھرنا کے وقت صحافیوں کے ساتھ ان کی دوستی میں اضافہ ہوا اور وہ روزانہ کی بنیاد پر مختلف ٹی وی شوز میں آیا کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ دھرنا کے دوران روزانہ کنٹینر میں عمران خان کے انٹرویوز کرنے والوں کو نعیم الحق سے ہی رابطہ کرنا پڑتا تھا۔ لیکن نعیم الحق خندہ پیشانی سے سب کے ساتھ ملا کرتے تھے اور ان کی مدد کرنے کی کوشش کرتے۔
انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ وزیراعظم کے معاون خصوصی مقرر ہوئے۔ لیکن خرابی صحت کی بنا پر وہ اس اپنے منصب پر زیادہ فعال ہو کر کام نہ کر سکے۔
نعیم الحق ہر فورم پر عمران خان کا تحفظ کرتے تھے اور ایک پروگرام کے دوران انہوں نے مخالف جماعت کے ایک سیاست دان کو تھپڑ بھی مار دیا تھا۔ ان کی عمران سے چالیس سال سے زائد کی رفاقت آخری وقت تک قائم رہی اور وہ تحریک انصاف اور عمران خان کے لیے لڑتے رہے۔

جمعہ، 14 فروری، 2020

9:32 AM

ترک صدر رجب طیب اردوان آج پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے

ترک صدر رجب طیب اردوان آج دن 11 بجے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ ترک صدر کے خطاب کیلئے تمام تر انتظامات مکمل ہوچکے ہیں۔ مشترکہ اجلاس میں شرکت کیلئے مہمانوں اور میڈیا کے نمائندوں کو خصوصی دعوت نامے جاری کیے گئے ہیں۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں چاورں صوبائی وزرائے اعلیٰ، گورنرز، صدر، وزیر اعظم اور اسپیکر آزاد کشمیر کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
علاوہ ازیں غیر ملکی سفراء، مسلح افواج کے سربرہان کو وفاقی سیکرٹریز، وزیراعلیٰ، گورنر اور اسپیکر گلگت بلتستان کو بھی دعوت نامے جاری کیے گئے ہیں۔
مشترکہ اجلاس میں چیف جسٹس آف پاکستان، چیف الیکشن کمشنر اور گورنر اسٹیٹ کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔
دوسری جانب اسپیکر اسد قیصر نے پارلیمانی رہنماؤں سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے آج کے مشترکہ اجلاس کو شایان شان بنانے کیلئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔

8:52 AM

وسیم اکرم اہلیہ کے ساتھ فلم میں کام کرینگے ریلیز رواں برس کے آخر میں متوقع

کراچی (نیٹ نیوز) گزشتہ برس یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ سابق لیجنڈ کرکٹر وسیم اکرم جلد ہی مصالحہ فلم میں معروف اداکار فواد خان اور فیصل قریشی سمیت دیگر اداکاروں کے ساتھ جلوے دکھاتے نظر آئیں گے اور بعد ازاں اس کی تصدیق بھی ہوگئی تھی۔ تاہم اب وسیم اکرم کی اہلیہ شنیرا اکرم نے انسٹاگرام پوسٹ میں بتایا کہ انہوں نے آنے والی مصالحہ فلم ’منی بیک گارنٹی‘ کی شوٹنگ کے دوران کس قدر پریشانیوں کا سامنا کیا۔ ساتھ ہی شنیرا اکرم نے بتایا کہ انہیں فیصل قریشی اور ان کی ٹیم کے ساتھ کام کرکے انتہائی اچھا لگا اور انہیں نئے تجربے کے دوران بہت کچھ سیکھنے کو بھی ملا۔ خبریں ہیں کہ شنیرا اکرم بھی فلم میں مختصر کردار میں دکھائی دیں گی اور ممکنہ طور پر ان کے شوہر وسیم اکرم بھی مختصر طور پر دکھائی دیں گے۔ منی بیک گارنٹی کی دیگر کاسٹ میں میکال ذوالفقار، فواد خان، کرن ملک، فیصل قریشی، وسیم اکرم، جاوید شیخ، حنا دلپذیر، افضل خان (جان ریمبو) اور مانی جیسے اداکار بھی جلوہ گر ہوں گے۔ فلم کی شوٹنگ کراچی سمیت بیرون ملک بھی کی جائے گی اور خیال رہے کہ فلم کو رواں برس کے آخر تک ریلیز کردیا جائے گا۔
8:27 AM

چینی کا بحران: شوگر ڈیلرز آج حکام سے مذاکرات کریں گے

پاکستان میں آج کل معاشی صورت حال درست نہ ہونے کی وجہ سے مختلف بحران سر اٹھا رہے ہیں۔ پچھلے مہینے آٹے کا بحران شدت اختیار کر گیا جبکہ آج کل چینی مہنگی ہونے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔
حکومتی مشینری نے چینی کے بحران کو قابو کرنے کے لیے سر جوڑ لیے ہیں۔ تاجروں کے مختلف گوداموں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور چینی مارکیٹ میں لائی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیںآٹا بحران: حکومتی دعوؤں کی حقیقت کیا؟Node ID: 454146رمضان شوگر ملز کیس میں حمزہ شہباز کی ضمانت منظورNode ID: 457421پاکستان میں نمائش، چینی صنعتکار شرکت سے انکاریNode ID: 458211
لاہور کے علاقے رائیونڈ کے اسسٹنٹ کمشنر عدنان رشید نے اردو نیوز کو بتایا ’پچھلے ایک ہفتے میں ہم نے تقریباً 35 ایسے گوداموں پر چھاپے مارے ہیں جہاں سے چینی برآمد ہوئی۔ ان میں سے کچھ ایسے بھی گودام تھے جہاں چینی ذخیرہ نہیں کی گئی تھی بلکہ وقتی طور پر رکھی گئی تھی البتہ کچھ ایسے گودام بھی ملے جہاں چینی ذخیرہ تھی ایسی چینی کی سات ہزار بوریاں مارکیٹ میں لائی گئی ہیں۔‘
دوسری طرف چینی ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ان حکومتی اقدامات کو غیر اطمینان بخش قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ذخیرہ اندوزی کی تعریف بتائے۔ شوگر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر رانا ایوب کے مطابق حکومت صورت حال کو کیسے قابو کرنا چاہتی ہے ان کو اس کی سمجھ نہیں آ رہی۔ ’حکومت نے چینی کا ریٹ 70 روپے مقرر کر رکھا ہے۔ ہمیں چینی 77 روپے کلو مل رہی ہے، ہم کیسے 70 روپے میں بیچ سکتے ہیں؟ ایک تو حکومت مہنگی خریدی گئی چینی کو سستا بیچنے کے لیے دباؤ ڈال رہی اور دوسرا چھاپوں کا غیر قانونی سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس سے مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ اور خراب ہو گا۔‘
ذخیرہ اندوزی کی تعریف کیا ہے؟حکومت چینی کے بحران کو قابو کرنے کے لیے اپنے طور پر جو اقدامات کر رہی ہے ان سے تاجر بظاہر خوش دکھائی نہیں دیتے اور اپنے مطالبات میں انہوں نے حکومت سے ذخیرہ اندوزی کی تعریف اور اس کا تعین کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
چینی ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومتی اقدامات کو غیر اطمینان بخش کہا ہے۔ فائل فوٹو: روئٹرزشوگر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق تھوک کا کاروبار کرنے والے تاجر اپنے چھوٹے چھوٹے گوداموں میں اضافی سامان رکھتے ہیں اور ان کے گوداموں کو سیل نہیں کر سکتی۔ لاہور میں انڈسٹریز کے ضلعی آفیسر اظہر حسین گجر نے اردو نیوز کو بتایا کہ اس حوالے سے کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں ہے بلکہ قانون بالکل واضع ہے۔ ’پرائس کنٹرول اینڈ ہولڈنگ ایکٹ 1977 جو کہ سیدھا سیدھا ذخیرہ اندوزی سے متعلق ہے اس کے مطابق کوئی بھی تاجر اگر اپنی دکان کے علاوہ کسی دوسری جگہ اپنا سامان رکھتا ہے چاہے اس کی مقدار جتنی بھی ہو وہ تحریری طور پر ڈپٹی کمشنر آفس کو بتانے کا پابند ہے۔ اور یہی ذخیرہ اندوزی کی تعریف ہے یعنی چاہے آپ نے سو بوری رکھی ہوئی ہے یا سات ہزار اگر ڈپٹی کمشنر آفس میں اس کا ریکارڈ نہیں تو وہ ذخیرہ اندوزی ہی ہو گی۔‘
رائیونڈ کے اسسٹنٹ کمشنر عدنان رشید کے مطابق جن 35 گوداموں پر انہوں نے چھاپے مارے ان میں ایسے گودام بھی تھے جن میں ایک دن پہلے چینی آئی تھی اور ان کے پاس اس کا ریکارڈ تھا ان کو کچھ نہیں کہا گیا۔ ’ہم نے صرف ان گوداموں کو بند کیا جن کے مالکان کے پاس اس چینی کے وہاں لائے جانے کا کوئی ریکارڈ نہیں تھا۔ اور ایسا نہیں کہ ہم نے وہ گودام بند کر دیے اور بحران پیدا ہو۔ بلکہ ہم اب اپنی نگرانی میں اس چینی کو سرکاری نرخوں پر مارکیٹ میں بیچ رہے ہیں۔ اس وقت حکومت صرف تاجروں کو احساس دلوا رہی ہے تاکہ مزید بحران سے بچا جا سکے۔‘
صدر شوگر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق حکومت نے چینی کا ریٹ 70 روپے مقرر کر رکھا ہے ہمیں چینی 77 روپے کلو مل رہی ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پیڈی او انڈسٹریز لاہور اظہر حسین گجر نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اس وقت چینی مہنگی ہونے کا تعلق ذخیرہ اندوزی سے اتنا زیادہ نہیں ہے بلکہ چینی کی ملوں سے جس ریٹ پر چینی باہر آ رہی ہے وہ حکومت کی تجویز کردہ نرخوں سے زیادہ ہے تو لامحالہ تاجر اس کو سرکاری ریٹ پر نہیں بیچ سکتے۔ اس کا فوری حل صرف ایک ہی ہے کہ ’چینی جہاں بھی پڑی ہے اسے مارکیٹ میں لایا جائے تاکہ سپلائی زیادہ ہو جس سے خود بخود ریٹ نیچے آ جائے گا یہی وجہ ہے کہ حکومت چینی کے ذخیروں کو ریگولیٹ کر رہی ہے‘۔
تاہم شوگر ڈیلرز ایسوسی ایشن ان حکومتی اقدامات کو تاجر کش قرار دے رہی ہے انجمن تاجران کے ساتھ مل کر اس معاملے کو حل کرنا چاہتی ہے تاکہ تاجر اس دباؤ سے باہر نکل سکیں۔
آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی سیکرٹری جنرل نعیم میر نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’چینی کے عمل میں پنجاب کے تین سیکرٹریز کا دائرہ اختیار ہے جن میں فوڈ، انڈسٹریز اور زراعت کے سیکرٹریز شامل ہیں، جمعرات 13 فروری کو ان تمام سیکرٹریز کے ساتھ اکھٹی ملاقات ہے جس میں انہیں اپنے تحفظات سے آگاہ کیا جائے گا۔‘

جمعرات، 13 فروری، 2020

6:17 PM

ٹرمپ کی کشمیر پرثالثی کی پیشکش پرعملدرآمد چاہتے ہیں،پاکستان

اسلام آباد:(13 فروری 2020)ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی اقدامات خطے میں امن و سلامتی کے مسائل پیدا کر رہے ہیں،بھارت نےچھ ماہ سے کشمیر کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے عائشہ فاروقی نے کہا کہ بھارت نے چھ ماہ سے کشمیر کو یرغمال بنایا ہوا ہے، کشمیر کے دنیا سے رابطے بدستور منقطع ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے ایک سے زائد مرتبہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کی، ہم اس پر عمل درآمد چاہتے ہیں اور  پاکستان کشمیری عوام کی سفارتی سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ حریت رہنما سید علی گیلانی کی صحت سے متعلق رپورٹس پر ہمیں بتایا گیا ہے کہ ان کی صحت اب کافی بہتر ہے۔
ترجمان نے دہلی میں حالیہ انتخابات پر تبصرے سے گریز کرتے ہوئے بھارتی حکمراں جماعت بی جے پی نے انتخابات میں پاکستان دشمنی کارڈ استعمال کرنے کا ذکر کیا۔
ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ بھارتی اقدامات خطے میں امن و سلامتی کے مسائل پیدا کر رہے ہیں، بھارت اندرون ملک کی صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لئے سرحدوں پر حالات خراب کررہا ہے۔
عائشہ فاروق نے بتایا کہ بھارت دوہزار تین کے جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے، اور رواں سال دو سو بہتر مرتبہ کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کی، جبکہ بھارت کے ناظم الامور کو آٹھ اور دس فروری کو طلب کر کے احتجاج کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ فائنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے محاذ پر پاکستان بہتری کیلئے پرامید ہے،پاکستان کے عالمی شراکت دار ہمارے ساتھ کھڑے ہیں اور پاکستان بین الاقوامی اٹامک ایجنسی کے زیر اہتمام ویانا میں عالمی نیوکلئیر سیکیورٹی کے حوالے سے کانفرنس میں شرکت کرے گا۔
6:12 PM

’عثمان بزدار کی تبدیلی کا فیصلہ کرنا تحریک انصاف کا کام ہے‘

لاہور: اسپیکر پنجاب اسمبلی اور حکمراں جماعت کی اہم اتحادی ق لیگ کے سینئر رہنما چوہدری پرویز الہیٰ نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی تبدیلی کا فیصلہ کرنا تحریک انصاف کا کام ہے، ہم ان کی حمایت جاری رکھیں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے سرگودھا میں تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عامر سلطان چیمہ کی رہائش گاہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ ہمارے دور میں اس قدر کام ہوئے کہ اس سے پہلے کسی دور میں اتنے کام نہیں ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں ہم نے کسان کا نقصان نہیں ہونے دیا، کیونکہ ہمارے تمام کاموں کا محور عام آدمی تھا، اب ہمارا تحریک انصاف سے اتحاد ہوا اور پھر جب اسپیکر بنا تو عمران خان نے کہا کہ ہمارا فرق بہت کم ہے۔
مزید پڑھیں: 
پرویز الہیٰ کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ فرق کم ہونے کی وجہ سے اسمبلی کم ہے، آپ تجربہ کار آدمی ہیں آپ ہی سنبھالیں، میں نے ان کو بولا کہ آپ نے سیٹ پکڑے رکھنی ہے میں اسمبلی سنبھال لوں گا۔
ق لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ میں نے اسمبلی کو اس قدر بہتر انداز میں سنبھالا کہ پختونخواہ اسمبلی میں تحریک انصاف کی دو تہائی اکثریت ہے انہوں نے 35 قوانین بنائے جبکہ ہم نے دو ووٹوں کی لیڈ سے 36 قوانین بنائے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات آ رہے ہیں اس میں مسلم لیگ بھرپور حصہ لے گی، ہم پورے پنجاب میں حصہ لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر بلدیاتی ادارے ہوتے تو مہنگائی کا جو طوفان ابھی اٹھا ہے ایسا نہ ہوتا، حکومت کو پیچیدگیاں اور مشکلات نہ آتیں، ملک میں آہستہ آہستہ بہتری آئے گی، عمران خان نیک نیت ہیں اور قوم کا درد دل میں رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 
پرویز الہٰی نے کہا کہ قومی معاملات پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، جہاں پاکستان اور غریب عوام کی بہتری کا سوال ہو وہاں مثبت حل کی طرف مل کر جانا چاہیے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ جماعتوں کی شناخت پاکستان کی وجہ سے ہے، جہاں کام بہتری کا ہو وہاں مثبت تجاویز تمام جماعتوں کو دینی چاہیے۔
احتساب قوانین کے حوالے سے پرویز الہٰی کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں نے احتساب کے حوالے سے ایک میٹنگ کی ہے، اس قیصر کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنی ہے، نیب کے قوانین کو بہتر بنانے کے لیے سوچ بچار ہو رہی ہے،  پہلے دن سے ہماری جماعت عثمان بزدار کو سپورٹ کر رہی ہے اور آج بھی ہم ان کے ساتھ ہیں، یہ کام تحریک انصاف کا ہے کہ انہیں تبدیل کرے یا نہ کرے لیکن ہم ان کو سپورٹ کر رہے ہیں کہ یہ ڈلیور کریں۔
6:08 PM

ترک صدر طیب اردوان 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے

اسلام آباد :  ترک صدر طیب اردوان 2روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے، وزیراعظم عمران خان نے ترک صدر کا استقبال کیا۔ ترک صدر کے دورہ پاکستان میں سرمایہ کاری اور مختلف شعبوں میں معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق ترک صدر طیب اردوان پاکستان کے دو روزہ دورے کیلئے نورخان ایئر بیس پہنچ گئے ہیں، خطے کی موجودہ صورتحال اور معیشت کے مضبوطی کیلئے ترک صدر کا دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، وزیراعظم عمران خان نے نورخان یئربیس پر خود جاکر ترک صدر کا ریڈ کارپٹ استقبال کیا، نور خان ایئربیس پر ترک صدر طیب اردوان کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔ 
ترک صدر کو بچوں نے گلدستہ پیش کیا ۔ ترک خاتون اول بھی ترک صدر کے ہمراہ ہیں، وزیرعظم عمران خان نے ترک مہمانوں کی خود گاڑی ڈرائیو کی۔
بتایا گیا ہے کہ ترک صدر کے ہمراہ اعلیٰ سطحی وفد بھی پاکستان پہنچا ہے۔ ترک مہمانوں کو ایوان صدر میں عشائیہ دیا جائے گا، وزیراعظم عمران خان کل ترک صدر کو ظہرانہ دیں گے۔ ترک صدر طیب اردوان وزیراعظم عمران خان اورصدر مملکت سے الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھی ترک صدر رجب طیب اردوان کے دورہ پاکستان کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔ صدر ن لیگ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے بھی ترک صدر رجب طیب اردوان کے دورہ پاکستان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم برادرملک ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کو پاکستان آنے پر خوش آمدید کہتی ہے۔ محمد نوازشریف کے علاج معالجے کے باعث لندن میں ہوں، آپ اور آپ کے وفد کے لئے نیک تمناوں کا اظہارکرتے ہیں۔ 
محمد نوازشریف، مسلم لیگ (ن)، اپوزیشن اور پوری قوم کی جانب سے ترک صدر کے لئے نیک تمناں کا اظہار کرتے ہیں۔ا نہوں نے کہا کہ صدر اردوان امت مسلمہ کی حمئیت وغیرت اور جرات کی علامت ہیں ۔ پاکستان اور ترکی دو بااعتماد بھائی ہیں، دونوں ممالک کے عوام میں محبت، اخوت اور اعتماد کا رشتہ استوار ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کے مظلوم عوام پر بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھانے پر پاکستانی عوام خاص طور پر صدر اردوان کے تہہ دل سے شکرگزار ہیں۔ 
انہوںنے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور کشمیریوں کی غیر مشروط حمایت غیور اور جراتمند ترک قیادت اور عوام کے خلوص کا مظہر ہے۔پارلیمان آمد پر مسلم لیگ (ن)اور اپوزیشن اراکین صدر اردوان کا شایان شان استقبال کریں گے۔
3:07 PM

جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، گرفتار ہوا تو آصفہ بھٹو میری آواز ہوگی، بلاول کی حکومت پر لفظی تیر

نیب میں پیشی کے بعد میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نیب ٹیم سے تفصیلاً گفتگو ہوئی اور انہوں نے سوالنامہ بھی دیا، سب کو پتا ہےکہ ایک سال سے پہلے چیف جسٹس نے خود کہا تھا بلاول بے گناہ ہیں لیکن میں نے اس کے باوجود خود کو نیب کے سامنے پیش کیا، تین مرتبہ پہلے میں بھی جواب دے چکا ہوں۔انہوں نے کہا کہ نیب کو کوئی اعتراضات نہیں تھے، اچانک پتا نہیں دسمبر میں کیا ہوا جب پہلا نوٹس بھیجا گیا، جب کراچی میں ہم نے مارچ سے ملک میں معاشی صورتحال اور پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل کے خلاف جدوجہد کا آغاز کرنے کا اعلان کیا تو فوری نیب کا نوٹس آگیا۔
چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ قانون کی حکمرانی اور اداروں کا احترام کرتے ہیں، صحیح اور غلط میں بھی ان کا احترام کرتے ہیں، اس لیے اعتراض کے باوجود نیب میں پیش ہوا جب کہ جے آئی ٹی کے اپنے وکیل نے مان لیا ان کی تجاویز غلط ہیں۔
بلاول نے مزید کہا کہ جس الزام میں بلایا گیا ان کو پتا ہے میں کبھی کاروباری سرگرمی میں شامل نہیں رہا، اگر شامل بھی ہوتا اس میں پرائیوٹ ٹرانزکشن ہوتی ہے اس میں نہ حکومت کی زمین ہے اور نہ پیسہ ہے، اس میں نیب کا کوئی تعلق نہیں ہوتا، میں اس وقت پبلک آفس ہولڈر نہیں تھا تو کیا تک بنتا ہے مجھے بلاکر سوال کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ سوالات کا جواب پہلے بھی دیا، میرا مؤقف کل جو تھا آج بھی وہی ہوگا کہ میں بے گناہ ہوں، یہ سیاسی انتقام کی مہم اور کردار کشی کی مہم ہے جس سے وہ جمہوری قوتوں کو بدنام کرنا چاہتے ہیں، ہماری یہ غلط فہمی تھی کہ ہم نے سوچا نیب والے ایک سال کے بچے پر کیس نہیں بنائیں گے، جب شیئر ہولڈر بنا تو 7 سال کا تھا، یہ امید نہیں تھی کہ جب چیف نے کہہ دیا تب بھی ہمارے خلاف سیاسی انتقام جاری رہے گا۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ ان کو ابھی نہیں پتا کہ دباؤ کے باوجود ہم جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، خاص طور پر اس وقت جب غریب عوام پس رہے ہیں، عمران خان کو کہنا چاہوں گا کہ ہم آپ کے پی ٹی آئی ایم ایف بجٹ کو نہیں مانتے، اسے پھاڑ کر اڑا دیں گے، آپ نے سفید پوش طبقے کا معاشی قتل کردیا ہے اور پھر کہتے ہیں قبر میں سکون ملے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ ظلم اور معاشی قتل مزید برداشت نہیں کرسکتے، جو بھی دھمکی اور دباؤ ہو، پیپلزپارٹی کا کوئی کارکن پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اپوزیشن لیڈرکا عہدہ قائد ایوان کے عہدے جتنا اہم ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ معاشی، کشمیر، دہشتگردی اور سیاست کا معاملہ ہو، اپوزیشن لیڈر اور قائد ایوان اسمبلی میں نہیں ہوتے، امید ہے اپوزیشن لیڈر ملک میں جلد ہوں گے اور اپنا کردار ادا کریں گے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ ہم گرفتاریوں کے خلاف ہیں، اگر میں گرفتار ہوا تو آصفہ بھٹو میری آواز ہوں گی۔

بدھ، 12 فروری، 2020

1:23 PM

معاون خصوصی کے اپوزیشن پر کرارے وار

اسلام آباد:(12 فروری 2020)معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے عوام کا خون چوس کرغریبوں کے پیسے پر پلنے والے آج حکومت میں کفیل ڈھونڈ رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہرحزب اختلاف جماعتوں کا احتجاج ان کی سیاسی محرومیوں کے ماتم کے سوا کچھ نہیں ہے اور حزب اختلاف کی جماعتیں عوام کے لیے نہیں بلکہ اپنے سیاسی مفادات کے لیے احتجاج کر رہی ہیں،ان کے پیٹ میں عوام کی ہمدردی کا نہیں بلکہ اپنی بدعنوانی اور اقتدار کا درد ہو رہا ہے۔
معاون خصوصی نے کہا کہ ‏احتجاج کرنے والے عوام کے وہ مجرم ہیں جنہوں نے اس قوم کو غربت، قرض اور مہنگائی کی دلدل میں دھکیلا، یہ ان لوگوں کے نمائندے ہیں جنہوں نے پاکستان کے ہوائی اڈے تک عالمی اداروں میں گروی رکھے۔
فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام کا خون چوس کرغریبوں کے پیسے پر پلنے والے آج حکومت میں کفیل ڈھونڈ رہے ہیں،مافیا کے سرغنہ لندن میں ہیں،خواجہ آصف صاحب کو چاہیے وہاں رابطہ کریں۔
انہوں نے حزب اختلاف پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‏یہ ان لوگوں کااحتجاج تھا جو عوام کے خرچے پر اب بھی مزے اڑا رہے ہیں، اقتدار میں رہ کرانہوں نے قوم سے اس کی زندگی اور مستقبل چھین لیا۔
بلاول بھٹو کو مخاطب کرتے ہوئے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ بلاول صاحب یہ آپ کے دور کی کرپشن ہے جس کا خمیازہ قوم بھگت رہی ہے، ابو اور پھوپھو سے کہیں کہ قوم کا لوٹا ہوا پیسہ واپس کر دیں، مہنگائی ختم ہو جائے گی۔
1:10 PM

حکومتی پیکج عوام کا معاشی قتل قرار

لاہور:(12 فروری 2020)ترجمان پاکستان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب نے حکومتی پیکج کو عوام کا معاشی قتل قرار دے دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران مافیا کا پندرہ ارب کا پیکج عوام سے محض دھوکہ اور غریبوں کا مزید معاشی قتل عام ہے، چور اور کرپٹ عمران مافیا کی وجہ سے عوام ، ملک اور معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے لیکن مسئلہ اب چورعمران مافیا کی حکومت کا نہیں، بلکہ پاکستان کا ہے، ملکی معیشت، سیکیورٹی،سلامتی اور سالمیت کا ہے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران مافیا نے ہر شعبے میں چوری اور کرپشن عام کردی،اٹھارہ ماہ میں تیرہ ہزار ارب کا تاریخی قرض لیا لیکن ایک نئی اینٹ نہیں لگائی، روپے کی قدر پینتیس فیصد گرائی، ایکسپورٹ پھر بھی گررہی ہیں، گیس تین سو فیصد اور بجلی ڈھائی سو فیصد مہنگی کردی، دوائیاں پچاس فیصد مہنگی کر دیں، ترقی کے شرح 5.8 سے 1.9 فیصد کر دی، اور مہنگائی تین فیصد سے پندرہ فیصد کردی، یہ سب کرپشن اور ڈکیتی نہیں ہے تو اور کیا ہے۔
ترجمان (ن) لیگ کا کہنا تھا کہ عمران مافیا کا پندرہ ارب کا پیکج جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کے لئے ریلف پیکج اور عوام کے کئے تکلیف پیکج ہے۔
1:08 PM

15ارب کا پیکج عوام سے محض دھوکہ اور غریبوں کا مزید معاشی قتل عام ہے:مریم اورنگزیب



ترجمان(ن)لیگ مریم اورنگز یب نے کہا ہے کہ عمران مافیا کا 15 ارب کا پیکج عوام سے محض دھوکہ اور غریبوں کا مزید معاشی قتل عام ہے،عمران مافیا نے ہر شعبہ میں چوری اور کرپشن عام کردی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ(ن)کی ترجمان مریم اورنگزیب نے حکومتی پیکج کو عوام کا معاشی قتل قرار دے دیا۔ میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ چور اور کرپٹ عمران مافیا کی وجہ سے عوام ، ملک اور معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے لیکن مسئلہ اب چور عمران مافیا کی حکومت کا نہیں، بلکہ پاکستان کا ہے، ملکی معیشت، سیکیورٹی ، سلامتی اور سالمیت کا ہے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران مافیا نے ہر شعبہ میں چوری اور کرپشن عام کردی، 18 ماہ میں 13 ہزار ارب کا تاریخی قرض لیا لیکن ایک نئی اینٹ نہیں لگائی، روپے کی قدر 35 فیصد گرائی، ایکسپورٹ پھر بھی گررہی ہیں، گیس 300 فیصد اور بجلی 250 فیصد مہنگی کر دی، دوائیاں 50 فیصد مہنگی کر دیں، ترقی کے شرح 5.8 سے 1.9 فیصد کر دی، مہنگائی 3 فیصد سے 15 فیصد کر دی، یہ سب کرپشن اور ڈکیتی نہیں ہے تو اور کیا ہے۔ترجمان(ن)لیگ کا کہنا تھا کہ عمران مافیا کا 15 ارب کا پیکج عوام سے محض دھوکہ اور غریبوں کا مزید معاشی قتل عام ہے، عمران مافیا کا ارب کا پیکج جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کے لئے ریلف پیکج اور عوام کے کئے تکلیف پیکج ہے۔
10:10 AM

وزیراعظم کی جیل اصلاحاتی پیکج رپورٹ کو حتمی شکل دینے پر کمیٹی اراکین کو مبارکباد

وزیراعظم عمران خان نے قیدیوں کی امداد کے لیے قائم کمیٹی کے اراکین اور علی ظفر کو موثر جیل اصلاحات کرنے کے لئے اصلاحاتی پیکج رپورٹ کو حتمی شکل دینے پر مبارک باد دی ہے۔ اپنے ایک ٹویٹ پیغام میں انہوں نے کہا کہ اس سے تحفظ عامہ اور قیدیوں کی بحالی اس اصول پر یقینی بنے گی کہ قید کی سزا انسانی حقوق سے محرومی کا باعث نہیں بنتی۔

10:05 AM

حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت مسترد، پیسوں کا ذریعہ بتا دیں: ہائیکورٹ

لاہور(وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے آمدن سے زائد اثاثہ جات ومنی لانڈرنگ کیس میں حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت خارج کر دی۔ جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت کی پر سماعت کی۔ وکیل نے موقف اختیار کیا کہ حمزہ شہباز کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ غیر سیاسی قوتیں نیب سمیت دیگر تحقیقاتی ایجنسیوں کو استعمال کر رہی ہیں۔ نیب نے منی لانڈرنگ کیس میں حمزہ شہباز کے ملازمین کو ہی بے نامی دار بنا دیا۔ حمزہ شہباز کو 189 دنوں سے گرفتار کیا گیا ہے مگر ابھی تک کوئی ریفرنس دائر نہیں کیا گیا۔ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ خصوصی قانون ہے جس میں چیئرمین نیب کو مداخلت کا اختیار نہیں۔ نیب نے موقف اپنایا کہ سلمان شہباز کے اکائونٹ میں ڈیڑھ ارب سے زیادہ کی ٹرانزکشن ہوئی۔ 55 کڑور رابعہ عمران کے اکائونٹ میں آیا اور ٹرانسفر ہوا۔ یہ پیسے گفٹ کی مد میں حمزہ شہباز کے اکاؤنٹ میں بھجوائے گئے۔ عدالت نے کہا کہ ممکن ہے کہ سالگرہ پر یہ تحفہ دیا ہو۔ حمزہ شہباز کے وکیل نے نیب پراسکیوٹر کے دلائل پر اعتراض کر تے ہوئے کہا کہ جن رشتے داروں کا نام لے رہے ہیں یہ کیس انکے خلاف نہیں۔ عدالت نے کہا کہ اگر بیرون ملک سے آنے والا پیسہ ان کے رشتے داروں کے اکائونٹ سے حمزہ کے اکائونٹ میں آیا ہے تو اس کا تعلق بنتا ہے۔ حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا کہ لارجر بنچ کے فیصلے کے تناظر میں میرے موکل پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا، انکم ٹیکس ریٹرن میں ہر چیز بتا دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ آپ نے ان پانچ افراد کا اس کیس سے تعلق نہیں بتایا۔ ان پانچ افراد کو اس کیس میں کیوںپکڑا گیا ہے۔ اگر ہو سکے تو ان افراد کے بارے میں آپ اپنا موقف دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں، ان افراد پر کیا الزام ہے۔ نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ ابھی تک ریفرنس فائل نہیں ہوا۔ اس کیس میں تاریخیں بہت اہم ہیں، ملزم کے والد دومرتبہ وزیر اعلی رہے۔ 2000ء میںاس فیملی کے اثاثہ جات چھ کروڑ تھے۔ 2003ء میں 18.9 کروڑ تک پہنچے۔ 2009ء میں اثاثہ جات68 کروڑ تک پہنچ گئے۔ پھر 211 ملین اور 2018 میں417 ملین ہوگئے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کتنی رقم بیرون ملک سے آئی۔ نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 2008ء تک ذاتی اکائونٹ میں رقم آتی رہی، رقم بہن بھائی اور والدہ کے اکائونٹ میں بھی آتی رہی۔ عدالت نے مزید استفسار کیا کہ اب تک کتنے لوگ ٹریس ہوئے ہیں۔ جوپیسہ آیا ہے وہ ڈائرئیکٹ اکائونٹ میں آیا ہے۔ نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ جی یہ تمام پیسہ ذاتی اکائونٹ میں آیا ہے۔ اس موقع پر نیب پراسکیوٹر نے محبوب علی کا بیان حلفی بھی عدالت میں پڑھ کر سنایا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آپ ابھی تک مطمئن نہیں کرسکے کہ ان پیسوں کا سورس کیا ہے، آپ کی ساری باتیں ہم مان لیں تو منی لانڈرنگ کا قانون ہی ختم ہو جائے گا۔ حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا کہ منی لانڈرنگ قانون کا اطلاق تب ہوگا جب جرم ہوگا۔ عدالت نے کہا کہ آپ نے جب دلائل شروع کیے تو فیملی ہسٹری بتائی گئی کہ والد تین مرتبہ وزیر اعلی رہے کیا یہ پبلک آفس ہولڈر ہونا کم ہے۔ حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا کہ جب یہ پیسے ٹرانسفر ہوئے تب جلا وطن تھے،اس وقت کوئی ہاتھ ملانے کا روادار نہ تھا،حمزہ شہباز کبھی پبلک آفس ہولڈر نہیں رہے اور نہ کسی سے رشوت لی۔ عدالت نے کہا کہ ہم آپ پر رشوت لینے کا الزام نہیں لگا رہے۔ عدالت نے سلمان بٹ سے دوبارہ استفسار کیا کہ آپ پیسوں کا سورس بتا دیں۔ حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا کہ ایف بی آر ریکارڈ میں تمام تفصیلات درج ہیں۔عدالت نے کہا کہ ہم نے سیدھا سوال پوچھا ہے کہ آپ ان پیسوں کا سورس بتا دیں۔ حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا کہ انکم ٹیکس کے حوالے سے سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ موجود ہے وہ میں آپ کو بتا دیتا ہوں۔ جس پر فاضل عدالت نے کہا کہ آپ پلیز پلیز ہمیں بھی دیں۔ عدالت نے دوبارہ استفسار کیا کہ اثاثہ جات میں بوم کب آیا۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ 2018ء میں 41کروڑ کا اضافہ ہوا۔ عدالت نے حمزہ شہباز کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ ان پیسوں کے آنے کا سورس بتائیں۔ نیب وکیل نے کہا کہ پیسوں کے آنے کا پیریڈ 2008 سے 2018 ہے۔ حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا کہ اکاونٹ میں مختلف اوقات میں بیرون ملک سے پیسے ٹرانسفر ہوئے۔ حمزہ شہباز پر منی لانڈرنگ قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔ جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ منی لانڈرنگ قانون کیوں لاگو نہیں ہوتا۔ وکیل نے کہا کہ حمزہ شہباز شریف کے اکاؤنٹ میں پیسے قانون بننے سے پہلے ٹرانسفر ہوئے۔ منی لانڈرنگ کا پہلا آرڈیننس 2007 میں آیا۔یہ آرڈیننس 90 روز بعد ختم ہوگیا۔ دوسرا آرڈیننس2009 آیا، منی لانڈرنگ کا قانون 2010 میں آیا۔

9:53 AM

منی لانڈرنگ‘پارک لین ریفرنس‘ زرداری پر فرد جرم کی کارروائی3مارچ تک موخر

اسلام آباد (آئی این پی ) احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ اور پارک لین ریفرنس میں آصف زرداری اور دیگر ملزمان کیخلاف فرد جرم کی کارروائی 3 مارچ تک موخر کردی ہے۔منگل کو احتساب عدالت میں منی لانڈرنگ اور پارک لین ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے سماعت کی ۔ عدالت نے پارک لین ریفرنس میں فرد جرم کی تاریخ مقرر کر رکھی تھی جس کیلئے عدالت نے تمام ملزمان کوحاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی، نیب کی جانب سے زین ملک کی پلی بارگین پیشرفت رپورٹ پیش کی گئی ۔آصف زرداری اور دیگر ملزمان کیخلاف فرد جرم کی کارروائی 3 مارچ تک موخر کردی گئی ہے۔آصف زرداری کے وکیل فاروق نائیک نے کہا ہے کہ آصف زرداری کو متعدد امراض لاحق ہیں،سابق صدر کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے، ڈاکٹر نے آصف زرداری کو سفر کرنے سے منع کر رکھا ہے، نیب نے بلاول بھٹو کو پھر طلب کرلیا ہے،جس کیس میں بلاول کو طلب کیا ہے اس سے بلاول بھٹو کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق نائیک نے کہا کہ نئے آرڈیننس کے تحت یہ کیس اس نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، جے وی اوپل کیس کا قومی خزانہ سے کوئی تعلق نہیں ہے،اس کیس میں بلاول نے اختیارات کا غلط استعمال نہیں کیا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ بلاول بھٹوحکومت کیخلاف جب بات کرتے ہیں تو نیب طلبی کے نوٹس شروع ہوجاتے ہیں۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ چیئرمین نیب بلاول بھٹو کیخلاف کال اپ نوٹس واپس لیں،چیئرمین نیب ایک لائق آدمی ہے، امید ہے کہ وہ بلاول طلبی کا نوٹس واپس لیں گے
9:49 AM

تمام اتحادی ساتھ کھڑے ہیں،حکومت مریم نواز کے بیرون ملک جانے کی مخالفت کرے گی، فروغ نسیم

لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مریم والد کی تیمارداری کے لیے جانا چاہتی ہیں، اس کی قانوناً کوئی گنجایش نہیں، وفاقی حکومت مریم نواز کے بیرون ملک جانے کی مخالفت کرے گی۔
فروغ نسیم نے کہا مریم کی ہائی کورٹ سے ضمانت ہوئی تو حکومت سپریم کورٹ جائے گی، پاکستان کو کرپشن فری بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، موجودہ حکومت شفاف ترین ہے، چینی اور آٹا مافیا کے خلاف بھرپور کارروائی ہوگی۔
وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا کہ حکومت کے جانے کی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں ہے، تمام اتحادی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں، عمران خان کی حکومت میں لوگ کرپشن کو شکست دینا چاہتے ہیں، معیشت برے حال میں ملی اسی لیے آئی ایم ایف سے پیکج لینا پڑا۔
صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا سر عام پھانسی آئین پاکستان سے متصادم ہے، سر عام پھانسی کا قانون کسی صورت منظور نہیں کیا جائے گا، سوشل میڈیا کنٹرول کرنے کے لیے کوئی قانون سازی نہیں ہو رہی، ایم کیو ایم حکومت میں ہے، خالد مقبول صدیقی نے کراچی کے حق کی بات کی، شہباز شریف ملک سے باہر ہیں تو وہ عدالت کے حکم پر ہیں۔
9:46 AM

نوازشریف سے ملاقات کا امکان؟ چوہدری نثارنے لندن پہنچتے ہی ساری باتیں بتا دی

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایئرپورٹ پر میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ ’اپنے علاج معالجے کے لیے لندن آیا ہوں، شہباز شریف یا نوازشریف سے ملاقات کا کوئی امکان نہیں ہے‘۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’قومی حکومت ہویا پھر تبدیلی آئے، ملک میں موجود سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران کو ختم ہوناچاہیے، اس حق میں ہوں کہ موجودہ صورت حال سے نکلنے کے لیے سیاسی جماعت مذاکرات کریں‘۔
یاد رہے کہ چوہدری نثار پی آئی اے کی فلائٹ پی کے 785 سے لاہور سے لندن روانہ ہوئے، سیاسی مبصرین کا ماننا تھا کہ سابق وفاقی وزیر داخلہ لندن میں اہم ملاقاتیں کریں گے اور وہ شریف خاندان سے بھی ملاقات کریں گے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے نوازشریف کے خلاف پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعد چوہدری نثار نے مسلم لیگ ن سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی، انہوں نے 2018 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 59 ، این اے 63 سے بطور آزاد امیدوار الیکشن لڑا مگر انہیں تحریک انصاف کے امیدوار نے شکست دے دی تھی۔

منگل، 11 فروری، 2020

3:19 PM

منی لانڈرنگ کیس: حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت مسترد

لاہور:(11 فروری 2020) لاہور ہائی کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں حمزہ شہباز شریف کی درخواست ضمانت خارج کردی ہے۔
تفصیلات کے مطابق منی لانڈرنگ کیس میں حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت مسترد کرنے سے متعلق دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس مظاہر نقوی پر مشتمل دو کرنی بینچ نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی کے درخواست ضمانت سے متعلق محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔
جسٹس مظاہر نقوی نے وکیل حمزہ شہباز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ابھی تک مطمئن نہیں کرسکے کہ ان پیسوں کے ذرائع کیا ہیں ؟آپ کی ساری باتیں ہم مان لیں تو منی لانڈرنگ کا قانون ہی ختم ہو جائے گا۔
جس پر وکیل حمزہ شہباز نے کہا کہ منی لانڈرنگ قانون کا اطلاق تب ہوگا جب جرم ہوگا،اس پرعدالت نے کہا کہ آپ نے جب دلائل شروع کئے تو آپ نے اپنی فیملی کی ہسٹری بتائی ؟،آپ کے والد تین مرتبہ وزیراعلیٰ رہے کیایہ پبلک آفس ہولڈرہونا کم ہے؟۔
بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔
3:10 PM

پاکستان کا افغانستان کو بڑی امداد دینے کا فیصلہ، انسانیت کی عظیم مثال قائم کردی

تفصیلات کے مطابق چین سے پوری دنیا میں پھیلنے والے ہلاکت خیز کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں پاکستان نے پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ بڑا تعاون کرنے کا فیصلہ کرکے انسانیت کی عظیم مثال قائم کردی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے پاکستان افغانستان کو کورونا وائرس ٹیسٹنگ کی سہولت بلا معاوضہ دے گا۔
ذرائع کے مطابق افغانستان کو کورونا وائرس ٹیسٹنگ سہولت فراہمی کا فیصلہ انسانی بنیاد پر کیا گیا، افغانستان کے مشتبہ مریضوں کے کورونا تشخیصی ٹیسٹ این آئی ایچ میں ہوں گے۔
حکومت افغان کورونا کے مشتبہ مریضوں کے نمونے اسلام آباد بھجوائے گی، کورونا وائرس کے ایک تشخیصی ٹیسٹ پر 7 ہزار روپے لاگت آتی ہے۔
واضح رہے کہ افغانستان نے پاکستان سےکوروناوائرس ٹیسٹ سہولت کیلئےدرخواست کی تھی۔
ایک ہی دن میں کرونا وائرس نے 103 افراد کی جان لے لی، اموات کی تعداد 1000 سے تجاوز کرگئی
خیال رہے کہ چین میں کرونا وائرس سے اموات کا سلسلہ جاری ہے ، چین کے صوبے ہوبائی میں ایک ہی دن میں وائرس سے 103افراد ہلاک ہوئے، جس کے بعد وائرس سے اموات کی تعداد 1016 ہوگئی جبکہ متاثرین میں ڈھائی ہزار اضافہ کے بعد تعداد 42 ہزار سےتجاوز کر گئی ہے۔

پیر، 10 فروری، 2020

4:06 PM

غریب عوام کی تکالیف پر حکومت خاموش تماشائی نہیں بن سکتی،وزیراعظم

اسلام آباد :وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہماری اولین ترجیح پاکستان کی عوام اور خصوصا غریب اور تنخواہ دار طبقہ ہے جس کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے حکومت ہر حد تک جائے گی۔
غریب عوام کی تکالیف پر حکومت خاموش تماشائی نہیں بن سکتی۔جبکہ عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے وزیرِ اعظم  عمران خان کی جانب سے لیے گئے بڑے فیصلوں کا اعلان  کل    وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا جائے گا۔
عوام الناس اور خصوصا غریب اور تنخواہ دار طبقے کو مہنگائی سے ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ اجلاس میں معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر، چیئرمین  یوٹیلیٹی اسٹورز ذوالفقار علی خان، وزارتِ خزانہ، صنعت و پیداوار اور سماجی تحفظ ڈویژن کے وفاقی سیکرٹری صاحبان ، ایم ڈی یوٹیلیٹی اسٹور اور دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔
اجلاس میں غریب اور تنخواہ دار طبقے کو مہنگائی سے ریلیف فراہم کرنے اور اشیائے ضروریہ سستے نرخوں پر فراہمی کے حوالے سے اقدامات پر غور کیا گیا ۔ عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے وزیرِ اعظم  عمران خان کی جانب سے لیے گئے بڑے فیصلوں کا اعلان  کل  وفاقی  کابینہ کے اجلاس میں کیا جائے گا۔
اجلاس کے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ عوام الناس اور خصوصاً غریب اور تنخواہ دار طبقے کو مہنگائی سے ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے ضروری اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ عام آدمی کو ریلیف دینے کے بارے میں منگل کو حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔
اولین ترجیح عوما، خصوصاً غریب اور تنخواہ دار طبقہ ہے۔ہر حد تک ان طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے حکومت جائے گی۔ غریب عوام کو تکلیف پر حکومت خاموش تماشائی نہیں بن سکی۔