Popunder ads

Breaking

social-media لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
social-media لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 2 مارچ، 2020

4:54 PM

ڈیجیٹل میڈیا میں کامیابی کیلئے درکار مہارتیں

ڈیجیٹل میڈیا کے بڑھتے رجحان کے پیش نظر دنیا بھر کے ملکوں خاص طور پر ترقی یافتہ ملکوں میں طالب علموں کی اکثریت ڈیجیٹل میڈیا میں کیریئر بنانے کو ترجیح دے رہی ہے لیکن اس شعبے میں کامیابی کے لیے ذہانت، فطری استعداد، سائنس وٹیکنالوجی، آرٹ اور ڈیزائننگ سے متعلق منفرد مہارتوں کا ہونا ضروری ہے۔ اگر آپ بھی مستقبل میں ڈیجیٹل میڈیا پر کاروبار کرنے یا کسی بھی مد میں اس سے فائدہ حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں تو درج ذیل مہارتوں اور خوبیوں سے مستفید ہونے کی کوشش کریں۔

ڈیزائن پروسیس
ڈیجیٹل میڈیا میں دلچسپی رکھنے والے تمام طالب علموں کے لیے ڈیزائن پروسیس سے متعلق واقفیت بے حد اہم ہے، چاہے وہ پراجیکٹ منیجر ہوں، پروگرامر ہوں یا پھر ڈیزائنر۔ ڈیزائن پروسیس سے مراد وہ تمام امور ہیں، جو کسی بھی پراجیکٹ کو مکمل کرنے کے لیے ڈیزائن کیے جاتے ہیں۔ مثلاً آپ کے لیے یہ جاننا اہم ہے کہ کسی بھی پراجیکٹ کی پائپ لائن میں کون سے اہم معاملات ہیں، جو زیر غور آئیں گے۔ پراجیکٹ کے دوران تیزی سے تبدیل ہوتی پروٹو ٹائپنگ پر آپ کی توجہ ضروری ہے۔ مسابقتی دور میں نت نئے آئیڈیاز کی تخلیق بھی ڈیزائن پروسیس کا اہم حصہ ہے۔ ٹیم کے ساتھ آپ کی قوتِ فہم اور ہمدردی جیسے جذبات کا ہونا بھی بے حد ضروری ہے۔ یہ جذبات کسی بھی ٹیم کو متحد کرنے اور کسی بھی پراجیکٹ کو متاثر کن طریقہ کار کے تحت پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔
 

خود آگہی
ڈیجیٹل میڈیا پراجیکٹ پر کام کرنے کے لیے آپ کو ذاتی اہداف اور اپنی شناخت سے واقفیت ضروری ہے۔ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ کسی بھی پراجیکٹ کے پیچھے آپ کا ہدف کیا ہے، آپ کے لیے نہ صرف اپنی خوبیوں بلکہ کمزوریوں کو جاننا بھی ضروری ہے۔ غیر جانبداری کے ساتھ اپنی کمزوریوں کو پہچان کر درست کرنا کسی بھی پراجیکٹ میں آپ کی ذاتی کامیابی کی ضمانت ہوتا ہے۔

خیالات کی وضاحت کا فن
خیالات و تصورات ہر ذہن میں آتے رہتے ہیں۔ اصل فن ان تصورات کی وضاحت ہے جو آپ کے دماغ میں نمو پارہے ہیں۔ ایک ڈیجیٹل میڈیا لیڈر میں ان خیالات کی مکمل وضاحت پیش کرنےکا فن ہونا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ لب ولہجہ کے فن سے واقفیت بھی ضروری ہے، جس کے تحت آپ اپنی ٹیم، اعلیٰ افسران اور کلائنٹ تک اپنے خیالات پہنچاسکیں۔ ایک اچھے ڈیجیٹل میڈیا لیڈر میں لب و لہجہ کے فن اور بہترین باڈی لینگویج کے ذریعے خیالات و تصورات کو واضح اور مبہم لفظوں میں بیان کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔

ٹائم مینجمنٹ
مشہور فاتح نپولین بونا پارٹ کا خوبصورت مقولہ ہے، ’’میں بھلے کوئی بھی مقابلہ ہار جاؤں، مگر میں کبھی ایک لمحہ نہیں ہاروں گا‘‘۔ ٹائم مینجمنٹ کو کسی بھی کاروبار کی کامیابی کا راز کہا جاتا ہے اور جب بات ہو ڈیجیٹل میڈیا کی تو یہ اہمیت دگنی ہوجاتی ہے۔ کسی بھی پراجیکٹ کی تکمیل کے لیے اہداف مقرر کرنے سے لے کر انھیں پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے دوران وقت کا درست استعمال ہی اصل ہنر ہے۔ اس لیے ڈیزائن پروسیس کے دوران تمام اہداف مقرر کرنا ضروری ہیں اور ہر ہدف کی تکمیل کے لیے ایک وقت مقرر کیا جائے، تاہم مقررہ وقت میں اتنی لچک ضرور ہو کہ وہ کام اس میں پورا کیا جاسکتا ہو۔

معلومات سے آگہی
اس شعبے میں کامیابی کے خواہشمند کسی بھی فرد کے لیے تمام تر ضروری معلومات سے واقف ہونا ضروری ہے، جو ڈیجیٹل میڈیا کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہیں۔ یہ اصلاحات وقوانین آپ کے لیے اس شعبے میں کامیابی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ ان قوانین پر عمل کرنے سے آپ کی آڈیئنس اور قارئین کی تعداد میں ڈرامائی حد تک اضافہ ممکن ہے۔ جن اصولوں اور قوانین کی آگاہی کسی بھی ڈیجیٹل میڈیا سے منسلک لیڈر کے لیے ہونا ضروری ہے،ان میں سننے کا اصول، توجہ کا اصول، معیار کا اصول، وسعت کا اصول، متاثر کرنے کا اصول وغیرہ شامل ہیں۔

ڈیجیٹل میڈیا جہاں مختلف شعبوں کے فروغ کا ذریعہ بنا ہے، وہیں صحافت کی دنیا میں بھی اس نے اپنے قدم جمانے شروع کردیے ہیں۔ پرنٹ میڈیا، ریڈیو اور ٹی وی کے ساتھ اب ڈیجیٹل میڈیا پر صحافت کی انٹری کو عوام نے خوش دلی سے قبول کیا ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں کہیں بھی سیکنڈوں میں خبر پہنچتی ہے، جو محض ایک کلک پرملٹی میڈیا فنکشن کے ساتھ آنکھوں کےسامنے ہوتی ہے۔ علمی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آئندہ وقتوں میں ڈیجیٹل میڈیا میں مزید ترقی اور اصلاحات ہوں گی۔

ہفتہ، 29 فروری، 2020

6:14 PM

مجوزہ سوشل میڈیا قوانین، مشاورت کے لیے کمیٹی قائم

اسلام آباد: سوشل میڈیا سے متعلق مجوزہ قوانین پر مشاورت کے لیے وفاقی حکومت نے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
اعلامیہ کے مطابق چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) عامر عظیم باجوہ کمیٹی کے چیئرمین مقرر کردیے گئے ہیں۔
اعلامیہ کے مطابق کمیٹی سول سوسائٹی اور ٹیکنالوجی کی کمپنیوں سے قوانین پرمشاورت کرے گی۔ سوشل میڈیا قوانین پر مشاورت کا عمل 2 ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔
سوشل میڈیا سے متعلق مشاورتی کمیٹی کے ارکان میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری، بیرسٹرعلی ظفر،ڈاکٹر ارسلان خالد اور ایڈیشنل سیکرٹری وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: 
خیال رہے کہ اس سے قبل وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ سوشل میڈیا قوانین کا مقصد مثبت اظہار رائے یا سیاسی اختلافات کو دبانا نہیں ہے۔
18 فروری کو سوشل میڈیا کے مجوزہ قوانین پر نظرثانی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے عمران خان نے مجوزہ قوانین پر عملدرآمد سے قبل اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کی ہدایت کر دی تھی۔
اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ قانون لانے کا بنیادی مقصد صرف اور صرف شہریوں کا تحفظ کرنا ہے اور یہ قانون بچوں، اقلیتوں، مذہبی معاملات سمیت قومی سلامتی کے تحفظ کے پیش نظر بنایا جا رہا ہے۔
عمران خان نے ہدایت کی تھی کہ اسٹیک ہولڈرز کی دی گئی تجاویز کو مجوزہ قانون میں شامل کیا جائے اور قانون کا مقصد مثبت اظہار رائے یا سیاسی اختلاف کو دبانا نہیں ہے۔
مزید پڑھیں: 
واضح رہے کہ حکومت کے بنائے گئے سوشل میڈیا قوانین کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور بغیر بحث کے لاگو کیے جانے کے خلاف مختلف مکتبہ فکر کے افراد کی جانب سے آوازیں بھی اٹھ رہی ہیں۔
وفاقی حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے بنائے گئے قوانین کی کابینہ نے بھی منظوری دی ہے۔ جس کے مطابق نئے قوانین کے تحت سماجی رابطوں کے تمام عالمی میڈیا کمپنیوں کی تین ماہ میں پاکستان کے اندر رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی۔