Popunder ads

Breaking

Afghanistan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Afghanistan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 4 مارچ، 2020

5:26 PM

ماسک افغانستان سمگل ہونے کا انکشاف

پاکستان میں کرونا وائرس پھیلنے کے خدشات کے بعد خیبر پختونخوا سے سرجیکل ماسک افغانستان سمگل کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
 سمگلنگ کے باعث صوبہ خیبر پختونخوا میں سرجیکل ماسک کے بحران سمیت قیمتیں بھی مزید بڑھ گئیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس کے خدشات کے باعث سرجیکل ماسک کی مانگ اور استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔
میڈیکل سٹورز مالکان کے مطابق ہول سیل میں ماسک نہیں مل رہے جبکہ بلیک میں افغانستان اور ایران اسمگل کیا جاتا ہے۔
شہر کے میڈیکل سٹورز میں سرجیکل ماسک نہیں مل رہے اور جن کے پاس موجود ہیں تو وہ بھی شہریوں کی قوت خرید سے باہر ہیں۔
5:02 PM

افغانستان : طالبان کاحملہ، 16 افغان فوجی ہلاک

افغان طالبان کےافغان فوج پر حملے میں 16 فوجی اہلکار ہلاک  جبکہ 10 کو یرغمال بنالیا گیا ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق طالبان نے صوبہ قندوز کے ضلع امام صاحب میں فورسز پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 16 فوجی ہلاک ہوگئے۔
افغان فورسز کی جانب سے بھی طالبان کے حملے میں فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق طالبان نے 10 بارڈر سیکیورٹی آفیسرز کو یرغمال بھی بنالیا ہے۔
 افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے افغان حکومت پر حملوں کے دوبارہ آغاز کرنے کے اعلان کے بعد سے ملک بھر میں حملوں میں اضافہ ہواہے  ۔
 خیال رہےکہ طالبان قیادت کی جانب سےمقامی کمانڈرزاورمیڈیا کوایک خط جاری کیا گیاتھا جس میں افغان فوجیوں پرحملےجاری رکھنے کا عندیہ دیتےہوئےکہاگیاتھاکہ اب غیرملکی فوجی ان کے نشانے پرنہیں ہوں گے۔
خط پرترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کے دستخط بھی موجودتھےجبکہ اس سے قبل ہی صوبے قندھارمیں پانچ افغان چیک پوسٹوں پر حملے کیے گئےہیں اور بدغیس میں بھی جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ ایک روزقبل  خوست میں فٹبال گراؤنڈ میں ہونے والے دھماکے میں 3 شہری ہلاک اور 11 زخمی ہوگئے تھے۔
واضح رہے کہ دوحہ میں امریکا اور افغان طالبان کے دوران ہونے والے امن معاہدے میں 5 ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی بھی طے پائی تھی تاہم افغان صدر نے اس شق کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ قیدیوں کی رہائی امریکا کی نہیں بلکہ کابل حکومت کی صوابدید ہے۔ جس پرطالبان نے قیدیوں کو رہا نہ کرنے کی صورت میں انٹرا افغان مذاکرات میں شرکت سے انکارکردیا تھا۔

منگل، 3 مارچ، 2020

10:42 AM

افغان پناہ گزینوں کی رضاکارانہ وطن واپسی تین ماہ کے وقفے کے بعد پھر شروع

پاکستان میں افغان مہاجرین کی رضا کارانہ وطن واپسی کا عمل تین ماہ کے وقفے کے بعد پھر شروع ہوگیا ہے۔
پناہ گزینوں کے بارے میں اقوام متحدہ کے ادارے کے ترجمان قیصر آفریدی نے پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مہاجرین کی وطن واپسی کا عمل اگلے نو ماہ تک جاری رہے گا ۔
انہوں نے کہاکہ افغان مہاجرین کی رضا کارانہ واپسی کیلئے نوشہرہ اور کوئٹہ میں دو مراکز قائم کئے گئے ہیں ۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں اس وقت تقریباً چودہ لاکھ افغان مہاجرین مقیم ہیں۔
انہوں نے کہاکہ رضا کارانہ واپس جانے والے افغان مہاجرین کو قندہار ، ننگرہار اور کابل پہنچنے پر فی کس دوسوڈالر دئیے جائیںگے۔
9:50 AM

افغانستان دھماکے سے گونج اٹھا

افغانستان کے صوبہ خوست کے ضلع نادرشاہ کے فٹبال گراؤنڈ میں دھماکے سے 3افراد ہلاک جبکہ 11زخمی ہوگئے ، طالبان نے بھی قیدیوں کی رہائی تک انٹرافغان مذاکرات نہ کرنے دھمکی دے دی ۔ جی این این کے مطابق افغانستان کا امن ایک بار پھر خطرے میں پڑگیا، امن معاہدے کی سیاہی ابھی سوکھی نہ تھی کہ ضلع نادرشاہ کے فٹبال گراونڈ میں ہونیوالے دھماکے میں تین شہری ہلاک جبکہ گیارہ زخمی ہوگئے۔طالبان نے ملک میں جنگ بندی کا خاتمہ کرتے ہوئے ایک بار پھر افغان آپریشن کا اعلان کردیاہے۔اس سے قبل افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے طالبان قیدیوں کی رہائی سے انکارکیاگیاتھا۔افغان طالبان رہنماوں نے بھی پانچ ہزار قیدیوں کے رہا نہ ہونے تک بین الافغان مذاکرات میں شرکت کرنے سے انکار کردیاہے۔
9:49 AM

اگر قیدی نہ چھوڑے گئے تو افغان حکومت سے بات نہیں کی جائے گی، ترجمان افغان طالبان

کابل: (02 مارچ 2020) افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ نے واضح کیا ہے کہ اگر قیدی نہ چھوڑے گئے تو افغان حکومت سے بات نہیں کی جائے گی۔
اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ بین الافغان مذاکرات میں تب تک شرکت نہیں کریں گے جب تک 5 ہزار قیدیوں کو رہا نہیں کیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ افغان عوام کی خوشی کے لیےعسکری کارروائیوں کو کم کرنے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔
یاد رہے گزشتہ روز ہم نیوز کے پروگرام ’ بریکنگ پوائنٹ ودھ مالک ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ 10 مارچ سے قبل تمام قیدیوں کو رہا کرنا ہو گا ورنہ معاملات آگے نہیں بڑھیں گے۔

پیر، 2 مارچ، 2020

4:37 PM

گرما گرم مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد

سردیوں میں سورج غروب ہوتے ہی فضا میں ٹن ٹن کی مخصوص آواز ُگنگناتی ہے اور اس کے ساتھ ہی مٹی میں بھوُنی جانے والی مونگ پھلی کی مہک ہمیں اپنی جانب کھینچنے لگتی ہے۔ سچ ہے کہ سردی کے موسم میں گرما گرم مونگ پھلی کھانے کا اپنا ہی مزہ ہے ۔ اسے دیکھ کر کھائے بنا رہا نہیں جاتا اور کیوں نہ کھائیں‘ یہ صحت کے لئے انتہائی مفید بھی تو ہے۔

مونگ پھلی ایک پھلی دار پودا ہے لیکن غذائیت کی وجہ سے اسے خشک میوﺅں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مونگ پھلی چکنائی سے بھرپور ہوتی ہے‘ اسی وجہ سے اس کا تیل بھی نکالا جاتا ہے۔ مونگ پھلی کو مختلف ڈبل روٹیوں‘ بن ‘ کیک ‘ میٹھوں اور سوپ سمیت کئی دیگر کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
مونگ پھلی کو غریبوں کا بادام کہا جاتا ہے۔اپنے گوناں گو فوائد کی وجہ سے اسے مکمل خوراک قرار دیا جاتا ہے۔ اس میں 28 فیصد تک لحمیات پائے جاتے ہیں جب کہ اس میں فیٹ تھایامائن‘ نیاسن ‘فولاد ‘ وٹامن ای‘ ڈی‘ کے اور بی 6‘ فولیٹ‘ کیلشیم ‘جست اور مفید غیر تکسیدی اجزاء پائے جاتے ہیں۔
مونگ پھلی میں پائے جانے والے غیر تکسیدی اجزاء غذائیت کے اعتبار سے سیب‘ چقندر اور گاجر سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔یہ غیر تکسیدی اجزاء نہ صرف جلد کی خشکی دُور کرتے ہیں بلکہ ہونٹوں کو گلابی کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اس کا وٹامن ڈی ہڈیاں اور دانت مضبوط بناکر انہیں بیماریوں سے دُور رکھتا ہے ۔مونگ پھلی میں موجود وٹامن سی سرطان کے خلاف لڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ قدرتی فولاد خون کے نئے خلیات بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔100گرام کچی مونگ پھلی میں ایک کلو دودھ کے برابر لحمیات ہوتے ہیں ۔ اس میں حیاتین کی مقدار گوشت کے مقابلے میں 1.3گنا زیادہ ہوتی ہے۔ مونگ پھلی عمل انہضام صلاحیت بڑھانے میں کار گر ہے ۔ یہ معدے اور پھیپھڑوں کو طاقت دیتی ہے۔ مونگ پھلی کے تیل کی خصوصیات آلو کے تیل سے کسی صورت کم نہیں ہیں۔ روزانہ تھوڑی مقدار میں مونگ پھلی کھانے سے نہ صرف دبلے پتلے لوگوں کا وزن بڑھنے لگتا ہے بلکہ یہ کسرت کرنے والوں کے لئے انتہائی غذائیت بخش ثابت ہوتی ہے۔
کینیڈا میں کی جانے والے ایک جدید تحقیق کہتی ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کے لئے مونگ پھلی کا استعمال نہایت مفید ہے۔ماہرین کے مطابق ذیابیطس میں مبتلا افراد کے لئے روزانہ ایک چمچہ مونگ پھلی کا استعمال مثبت نتا ئج مرتب کرسکتا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مونگ پھلی کا استعمال انسولین استعمال کرنے والے افراد کے خون میں انسولین کی سطح برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
امریکی سائنس دانوں کا مشورہ ہے کہ مونگ پھلی کے شوقین اگر اسے کچی‘ بھنی ُہوئی یا تلی ہوئی شکل میں کھانے کے بجائے اُبال کر کھائیں تو اس سے جسم کو ایسے مفید صحت کیمیائی مادے 4 گنا مقدار تک حاصل ہوں گے‘ جو بیماری سے مدافعت میں مدد دیتے ہیں‘تاہم مونگ پھلی کو بہت زیادہ پکانے یا گرمی پہنچانے سے اس کے مفید صحت کیمیائی مادے ضائع ہوجاتے ہیں۔
طبی ماہرین ماں بننے والی خواتین کو حمل کے دوران بہت زیادہ مونگ پھلیاں کھانے سے منع کرتے ہیں کیوں کہ دوران حمل بہت زیادہ مونگ پھلیاں کھانے والی ماﺅں کے بچوں کے اندر اُن بچوں کے مقابلے میں مونگ پھلی کی الرجی کے امکانات 3 گنا ہوتے ہیں جن کی مائیں دوران حمل کے دوران مونگ پھلی نہیں کھاتیں۔
10:31 AM

امن معاہدے میں طالبان کے 5 ہزار قیدیوں کی رہائی کا کوئی وعدہ نہیں کیا: افغان صدر

کابل: افغان صدر اشرف غنی نے امریکا طالبان امن معاہدے میں پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت نے ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا۔
افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا کہ قیدیوں کی رہائی بات چیت کی شرط نہیں ہو سکتی لیکن مذاکرات کا حصہ ضرور ہو سکتی ہیں۔ طالبان قیدیوں کی رہائی کا کوئی وعدہ نہیں کیا۔
اشرف غنی کا کابل میں میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ افغانستان میں مکمل جنگ بندی کے حدف کو پورا کرنے کے لیے تشدد میں کمی لانے کا سلسلہ جارے رہے گا۔ بی بی سی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ یہ افغانستان کے عوام کے حق اور خواہش کا معاملہ ہے۔ اسے انٹرا افغان مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل کیا جا سکتا ہے لیکن یہ مذاکرات کی کوئی شرط نہیں ہو سکتی۔ کسی بھی قیدی کی رہائی امریکی اختیار میں نہیں بلکہ ’افغان حکومت کے اختیار میں ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہپ روز امریکا اور افغان طالبان نے طویل عرصے سے جاری امن مذاکرات کے بعد ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت افغانستان میں گذشتہ 18 برس سے جاری جنگ کا خاتمہ ممکن ہو پائے گا۔
اس معاہدے میں افغانستان سے امریکی فوج کا مرحلہ وار انخلا بھی شامل ہے۔ جس کے بدلے میں افغان طالبان نے افغان حکومت سے امن مذاکرات کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔
معاہدے کے تحت طالبان اپنے زیر کنٹرول علاقوں سے شدت پسند تنظیم القاعدہ اور دیگر ایسی تنظیموں کی کارروائیوں کو بھی روکے گیں۔
تاریخی امن معاہدے کے مطابق 5000 طالبان کی رہائی کے بدلے میں طالبان کے زیر حراست ایک ہزار قیدیوں کو 10 مارچ تک رہا کیا جائے گا۔ ایک اندازے کے مطابق دس ہزار طالبان افغانستان میں قید ہیں۔