Popunder ads

Breaking

کاروبار لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
کاروبار لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 2 مارچ، 2020

5:11 PM

ملازمت سے نکالے جانے کی افواہیں سنیں تو فوراً 7 کام کریں

کاروباری حالات خراب ہونے کی صورت میں دفتر میں اخراجات کو کم کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے جاتے ہیں۔ اور اس کا سب سے آسان طریقہ ملازمین کی تعداد کو کم کرنا سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ سے کمپنی کے ملازم ہر وقت خوف کا شکار رہتے ہیں- اگر آپ کے دفتر میں بھی ایسی صورتحال ہو تو ذہنی دباؤ کا شکار ہونے کے بجائے بتائی گئی ان باتوں کا خیال رکھیں جس کی وجہ سے آپ ایسی صورتحآل سے نکل سکیں۔
 

Keep your resume up to dateایسی صورتحال میں اپنے Resume کو اپ ڈیٹ رکھیں اور آپ کا یہ عمل اس کشیدگی کو آسان بنانے میں آپکی مدد کرے گا - موجودہ کام کو کھونے کے بارے میں فکر کرنے کے بجائے تیار رہیں اور اس کے علاوہ خود کے لیے بہتر سے بہتر مواقع تلاش کرتے رہیں۔

Strengthen your network
کسی بھی جگہ ملازمت کریں وہاں کے ماحول کو سمجھیں اور لوگوں سے اچھے تعلقات قائم کریں تاکہ ان سے آپ کے رابطے مضبوط اور برقرار رہ سکیں- کسی معاشی بحران کی صورتحال میں وہ آپ کے کام آسکیں-
 

Focus on your daily tasks
ایسی صورتحال میں اپنے کام کی طرف توجہ دیں اور اسے جلد از جلد نمٹائیں- بے شک یہ آپ کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ لیکن پھر بھی ایسی صورتحال کے دوران چیزوں کو حاصل کرنے اور اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے یہ بہت اہم ہے کہ اپنے پیشہ ورانہ امور کی جانب خاص توجہ دی جائے۔

Volunteer to do more work
ایسی صورتحال میں ملازم کے اوپر زیادہ کام کی ذمہ داری ڈال دی جاتی ہے اور اگر آپ اس بوجھ کو اٹھانے کے لیے تیار ہوں گے تو یہ آپ بھی کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگا ۔

Boost your income/savingsنوکری کے دوران ہی اضافی آمدنی یا بچت کے طریقے تلاش کر کے کچھ رقم محفوظ کرلیں تاکہ آپ ایسی صورتحال میں کسی ذہنی اور معاشی دباؤ کا شکار نہ ہوں ۔
 

Go through your paperwork
جب بھی کسی ملازمت کو اختیار کریں تو مکمل قانونی کاغذات اور معاہدوں کے ساتھ کریں- اور ان کاغذات پر آپ کے دستخط موجود ہوں اس سے آپ کا ہی فائدہ ہوگا کیونکہ اس سے آپ کو اپنی تمام مراعات کے بارے میں علم ہوگا۔

Get details on your severance package
بہت سی ملازمتوں میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ عام طور پر تنخواہ کے پیکچ کے حوالے سے بڑے تنازعات جنم لے لیتے ہیں۔ اس لیے نوکری سے پہلے تمام تفصیلات کو جانیں اور زیادہ سے زیادہ فوائد کے بارے میں بات چیت کریں۔
5:06 PM

کامیاب اور ناکام لوگوں میں 5 بنیادی باتوں کا فرق

یہ بات آپ سب جانتے ہی ہیں کہ اس دنیا میں کامیابی کا مفہوم ہر فرد کے لئے مختلف ہے ۔ کسی کے لئے خوشحال ہونا کامیابی ہے تو کسی کے مشہور یا اثر و رسوخ والا ہونا کامیابی کی شناخت ہے ۔ مگر مفہوم جو بھی ہو ، کامیابی کو پانے کے لئے خاص طرزِ زندگی اختیار کرنی ہی پڑتی ہے ۔ جہاں کچھ اچھی عادتوں کو اپنانا پڑتا ہے وہیں پر ہی ہمیں کچھ باتوں سے دوری اختیار کرنی پڑتی ہے ۔
 

اس آرٹیکل میں آپ کے سامنے ایسی کی کچھ بنیادی باتوں کا ذکر ہو گا جو کامیابی اور ناکامی کے درمیان واضح فرق ظاہر کرتی ہیں ۔ اگر ہم ان سے رہنمائی حاصل کرتے اپنی عملوں میں تبدیلی لائیں تو مثبت طرزِ زندگی کا حصول قدرے آسان ہو گا ۔ تو آئیے پھر ان خاص باتوں کو جانتے ہیں ۔

1۔ کامیاب لوگ گولز سیٹ کرتے ہیں جبکہ ناکام لوگ بے مقصد وقت گزراتے ہیں ۔
یہ نہیں کہ لوگ کچھ بننے کا خواب نہیں دیکھتے مگر ان میں ان خوابوں کو حقیقت بنانے کے لئے کوئی واضح پلان نہیں ہوتا ۔وہ کسی مقصد کو پانے کے لئے پہلے گولز سیٹ کر کے ان کو مہینوں یا دنوں پر تقسیم کرتے ان پر نظر نہیں رکھتے جبکہ کامیاب لوگ گولز سیٹ کر کے روزانہ پلان کے مطابق اس کو پانے کے قریب تر ہوتے جاتے ہیں۔

2۔ کامیاب لوگ ہر مفید عادت اپنانے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ ناکام لوگ سوچتے ہی رہتے ہیں ۔
لوگوں کو پتا بھی ہوتا ہے کہ فلاں کام کو کرنا یا اس سے رک جانا مفید ہے مگر اس کو کبھی اپنانے کی کوشش نہیں کرتے ۔ اگر کرتے بھی ہیں تو جلد ہی ہمت ہار کر پیچھا چھڑا لیتے ہیں مگر کچھ لوگ کامیاب بننے کے لئے اپنی قوت ِ ارادی کو مضبوط بناتے اچھی عادات کو پختہ کرنے کے لئے جتے رہتے ہیں ۔

3۔ کامیاب لوگ دلی شکر گزار ہوتے ہیں جبکہ ناکام لوگ حسد و منافقت کا جذبہ رکھتے ہیں۔
کچھ فرد ہر مشکل و ناکامی میں بھی اچھے اخلاق و صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ ہر حال میں شکر و عاجزی اپناتے ہیں ۔ وہ دوسروں کو بھی کامیاب بنانے میں مدد کرتے ہیں اور ان کو کامیاب ہوتا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں ۔ مگر ناکام لوگ اس کے برعکس ہوتے ہیں۔ اوپر سے خوش ہونے ہی اداکاری کرتے اندر ہی اندر ان کی جڑیں کاٹنے میں مصروف ہوتے ہیں یا پھر حسد کے مارے جلتے کڑھتے دوسروں پر صرف تنقید کرتے رہتے ہیں ۔
 

4۔ کامیاب لوگ اپنے آپ پر فوکس رکھتے ہیں جبکہ ناکام دوسروں پر انگلی اٹھاتے ہیں ۔
اچھے افراد اپنے آپ کو بہتر بنانے کی تگ و دو میں مصروف رہتے ہیں اور دوسروں کی کمیوں و کوتاہیوں کو نظر انداز کرتے ہیں ۔ مگر ناکام بننے والے لوگ دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ کسی کے بارے میں کوئی منفی بات ہاتھ آ جائے سہی تو پھر اس کو ذلیل کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور اپنی کمزوریوں و غلطیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

5۔ کامیاب لوگ دوسروں ساتھ خیالات و معلومات شیر کرتے ہیں جبکہ ناکام لوگ چھپا چھپا کر رکھتے ہیں ۔
دوسروں کے ساتھ اپنے علم کو بیان کرنا اور نیے نیے آئیڈیاز کو ڈسکس کرنا جہاں کامیاب فرد کی بہترین عادت ہوتی ہے وہیں پر ناکام لوگ اپنے علم و ہنر کو اپنے تک محدود رکھنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ ایسے کرنے سے وہ زندگی میں آگے نکل سکتے ہیں مگر یہ ان کی بھول ہوتی ہے ۔

تو صاحبو بہت ساری فرق والی باتوں میں یہ چند اہم باتیں ہیں جن کو ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے ۔ تاکہ ہم ان باتوں سے دوری اختیار کر سکیں جو ہمیں ناکامی کے سفر اختیار کرنے سے روک لیں ۔ امید ہے کہ آپ کو کوئی مفید رہنمائی دینے کی میری یہ کوشش رائیگاں نہیں جائے گی ۔
4:57 PM

انٹرویو کے دوران ان 5 پانچ غلطیوں سے بچیں

کسی بھی نوکری کو حاصل کرنے کا پہلا مرحلہ انٹرویو کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ آج کل ملازمتیں کم ہیں اور امیدوار زیادہ اور اسی وجہ سے نوکری حاصل کرنے کے لیے انٹرویو لینے والے کے اوپر اپنا اچھا تاثر چھوڑنا لازمی ہوتا ہے۔ آج ہم آپ کو انٹرویو کے دوران ہونے والی ایسی 5 غلطیوں سے بچنے کے طریقے بتائیں گے جس سے آپ کو ملازمت ملنے کی امیدیں بڑھ جائیں گی۔

Appearance
جب آپ انٹرویو کے لیے جاتے ہیں تو سب سے پہلے جو چیز اہم ہوتی وہ آپ کا حلیہ ہوتا ہے۔ اس لیے کسی بھی قسم کی نوکری کے انٹرویو کے لیے جائیں تو آفس ڈریس میں اچھی طرح تیار ہوکر جائیں یہ وہ چیز ہے جو انٹرویو لینے والے پر آپ کا اچھا تاثر ڈالتی ہے ۔

Talking too much
جب آپ کو کسی ملازمت کے انٹرویو کا سامنا ہوتا ہے تو دوران انٹرویو آپ سے سوالات کیے جاتے ہیں اور آپ ان سوالات کا جواب دیتے ہیں۔ جوابات دیتے ہوئے اگر آپ سوال پر غور کریں اور صرف اس بات کا جواب دیں جو سوال آپ سے کیا جارہا ہے تو بہتر ہوگا کیونکہ آپ زیادہ بولیں گے تو غلطی کے امکانات بڑھ جائیں گے ۔ لہٰذا اس بات کا خاص خیال رکھنا آپ کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہونا چاہیے اگر انٹرویو لینے والے کو آپ سے اضافی معلومات لینی ہوگی تو وہ آپ سے خود پوچھ لے گا۔

Being unprepared
جس کمپنی میں آپ کا انٹرویو ہو وہاں انٹرویو پر جانے سے قبل لازمی ہے کہ آپ اس نوکری اور اس کمپنی کے حوالے سے تھوڑی بہت معلومات حاصل کرلیں ۔ کیونکہ آپ کو اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ جس کمپنی میں آپ ملازمت کے لیے انٹرویو دے رہے ہیں وہ کام کیا کرتی ہے اور اس کمپنی کے کام کا طریقہ کار کیا ہے ۔ اگر آپ کو اس بات کا علم ہی نہیں ہوگا اور آپ سے اس حوالے سے سوال کرلیا جائے تو آپ کے پاس جواب نہ ہونا آپ کی سب سے بڑی غلطی میں شمار ہوسکتا ہے ۔

Body language
جب آپ نوکری کے لیے انٹرویو کا سامنا کرتے ہیں تو آپ کا پیشہ ورانہ طریقے سے برتاؤ کرنا ضروری ہے ۔ آپکا جسم پرسکون نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی آپ گھبرائے ہوئے نظر آئیں کوشش کریں کہ دوستانہ رویہ اپنائیں کیونکہ یہ دونوں چیزیں آپ کے انٹرویو میں برا اثر ڈال سکتی ہیں-

Commenting negatively about you past job
سب سے اہم اور آخری بات جس کمپنی میں آپ کا آخری تجربہ رہا ہے اور وہ کچھ خاص اچھا نہیں رہا یا کمپنی یا باس سے آپ کے تعلقات اچھے نہیں رہے ہوں تو انٹرویو کے دوران اس بات کا اظہار کرتے ہونے اپنے تاثرات منفی نہ رکھیں اور ایک خوشگوار تجربات کو پیش کریں تاکہ انٹرویو لینے والے پر اس کا اچھا تاثر پڑے اور اسکی نظر میں بھی آپ کے لیے منفی تاثر جنم نہ لے۔
4:54 PM

ڈیجیٹل میڈیا میں کامیابی کیلئے درکار مہارتیں

ڈیجیٹل میڈیا کے بڑھتے رجحان کے پیش نظر دنیا بھر کے ملکوں خاص طور پر ترقی یافتہ ملکوں میں طالب علموں کی اکثریت ڈیجیٹل میڈیا میں کیریئر بنانے کو ترجیح دے رہی ہے لیکن اس شعبے میں کامیابی کے لیے ذہانت، فطری استعداد، سائنس وٹیکنالوجی، آرٹ اور ڈیزائننگ سے متعلق منفرد مہارتوں کا ہونا ضروری ہے۔ اگر آپ بھی مستقبل میں ڈیجیٹل میڈیا پر کاروبار کرنے یا کسی بھی مد میں اس سے فائدہ حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں تو درج ذیل مہارتوں اور خوبیوں سے مستفید ہونے کی کوشش کریں۔

ڈیزائن پروسیس
ڈیجیٹل میڈیا میں دلچسپی رکھنے والے تمام طالب علموں کے لیے ڈیزائن پروسیس سے متعلق واقفیت بے حد اہم ہے، چاہے وہ پراجیکٹ منیجر ہوں، پروگرامر ہوں یا پھر ڈیزائنر۔ ڈیزائن پروسیس سے مراد وہ تمام امور ہیں، جو کسی بھی پراجیکٹ کو مکمل کرنے کے لیے ڈیزائن کیے جاتے ہیں۔ مثلاً آپ کے لیے یہ جاننا اہم ہے کہ کسی بھی پراجیکٹ کی پائپ لائن میں کون سے اہم معاملات ہیں، جو زیر غور آئیں گے۔ پراجیکٹ کے دوران تیزی سے تبدیل ہوتی پروٹو ٹائپنگ پر آپ کی توجہ ضروری ہے۔ مسابقتی دور میں نت نئے آئیڈیاز کی تخلیق بھی ڈیزائن پروسیس کا اہم حصہ ہے۔ ٹیم کے ساتھ آپ کی قوتِ فہم اور ہمدردی جیسے جذبات کا ہونا بھی بے حد ضروری ہے۔ یہ جذبات کسی بھی ٹیم کو متحد کرنے اور کسی بھی پراجیکٹ کو متاثر کن طریقہ کار کے تحت پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔
 

خود آگہی
ڈیجیٹل میڈیا پراجیکٹ پر کام کرنے کے لیے آپ کو ذاتی اہداف اور اپنی شناخت سے واقفیت ضروری ہے۔ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ کسی بھی پراجیکٹ کے پیچھے آپ کا ہدف کیا ہے، آپ کے لیے نہ صرف اپنی خوبیوں بلکہ کمزوریوں کو جاننا بھی ضروری ہے۔ غیر جانبداری کے ساتھ اپنی کمزوریوں کو پہچان کر درست کرنا کسی بھی پراجیکٹ میں آپ کی ذاتی کامیابی کی ضمانت ہوتا ہے۔

خیالات کی وضاحت کا فن
خیالات و تصورات ہر ذہن میں آتے رہتے ہیں۔ اصل فن ان تصورات کی وضاحت ہے جو آپ کے دماغ میں نمو پارہے ہیں۔ ایک ڈیجیٹل میڈیا لیڈر میں ان خیالات کی مکمل وضاحت پیش کرنےکا فن ہونا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ لب ولہجہ کے فن سے واقفیت بھی ضروری ہے، جس کے تحت آپ اپنی ٹیم، اعلیٰ افسران اور کلائنٹ تک اپنے خیالات پہنچاسکیں۔ ایک اچھے ڈیجیٹل میڈیا لیڈر میں لب و لہجہ کے فن اور بہترین باڈی لینگویج کے ذریعے خیالات و تصورات کو واضح اور مبہم لفظوں میں بیان کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔

ٹائم مینجمنٹ
مشہور فاتح نپولین بونا پارٹ کا خوبصورت مقولہ ہے، ’’میں بھلے کوئی بھی مقابلہ ہار جاؤں، مگر میں کبھی ایک لمحہ نہیں ہاروں گا‘‘۔ ٹائم مینجمنٹ کو کسی بھی کاروبار کی کامیابی کا راز کہا جاتا ہے اور جب بات ہو ڈیجیٹل میڈیا کی تو یہ اہمیت دگنی ہوجاتی ہے۔ کسی بھی پراجیکٹ کی تکمیل کے لیے اہداف مقرر کرنے سے لے کر انھیں پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے دوران وقت کا درست استعمال ہی اصل ہنر ہے۔ اس لیے ڈیزائن پروسیس کے دوران تمام اہداف مقرر کرنا ضروری ہیں اور ہر ہدف کی تکمیل کے لیے ایک وقت مقرر کیا جائے، تاہم مقررہ وقت میں اتنی لچک ضرور ہو کہ وہ کام اس میں پورا کیا جاسکتا ہو۔

معلومات سے آگہی
اس شعبے میں کامیابی کے خواہشمند کسی بھی فرد کے لیے تمام تر ضروری معلومات سے واقف ہونا ضروری ہے، جو ڈیجیٹل میڈیا کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہیں۔ یہ اصلاحات وقوانین آپ کے لیے اس شعبے میں کامیابی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ ان قوانین پر عمل کرنے سے آپ کی آڈیئنس اور قارئین کی تعداد میں ڈرامائی حد تک اضافہ ممکن ہے۔ جن اصولوں اور قوانین کی آگاہی کسی بھی ڈیجیٹل میڈیا سے منسلک لیڈر کے لیے ہونا ضروری ہے،ان میں سننے کا اصول، توجہ کا اصول، معیار کا اصول، وسعت کا اصول، متاثر کرنے کا اصول وغیرہ شامل ہیں۔

ڈیجیٹل میڈیا جہاں مختلف شعبوں کے فروغ کا ذریعہ بنا ہے، وہیں صحافت کی دنیا میں بھی اس نے اپنے قدم جمانے شروع کردیے ہیں۔ پرنٹ میڈیا، ریڈیو اور ٹی وی کے ساتھ اب ڈیجیٹل میڈیا پر صحافت کی انٹری کو عوام نے خوش دلی سے قبول کیا ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں کہیں بھی سیکنڈوں میں خبر پہنچتی ہے، جو محض ایک کلک پرملٹی میڈیا فنکشن کے ساتھ آنکھوں کےسامنے ہوتی ہے۔ علمی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آئندہ وقتوں میں ڈیجیٹل میڈیا میں مزید ترقی اور اصلاحات ہوں گی۔

جمعہ، 28 فروری، 2020

9:42 AM

وہ کونسی دلخراش باتیں ہیں جو نوکری کرنے والی اکثر خواتین کو نہ چاہتے ہوئے بھی برداشت کرنی پڑتی ہیں؟

آج اس دور میں جہاں ہر طرف جدیدیت(Modernization) ہے، اس کے باوجود وہیں آج بھی اس معاشرے میں ایسے لوگ موجود ہیں جو کہ عورتوں اور لڑکیوں کے نوکری کرنے کو تنگ نظری سے دیکھتے ہیں جیسے عورت نوکری کے لیے نہیں جارہی بلکہ کوئی جن بوتل سے آزاد ہوگیا ہو۔
ہمارے یہاں دیکھا یہ جاتا ہے کہ جب بھی کوئی لڑکی، کوئی عورت گھر سے باہر پیسے کمانے کی غرض سے نکلتی ہے اس کو مختلف قسم کی باتیں جھیلنی پڑتی ہیں۔۔
1:لوگ کیا کہیں گے؟
کام انسان اپنے لئے اپنی ضرورتوں کے لیے کرتا ہے مگر اصل مسئلہ کی بات گھروں میں یہ ہے کہ لوگ کیا کہیں گے؟ لوگوں کا تو کام ہی کہنا ہے مگر سب سے پہلے اپنے ہی گھر میں جب یہ سوچ ابھرتی ہے تو ایک عورت جو معاشی طور پر اپنے گھر والوں کا سہارا بننے کی کوشش کررہی ہوتی ہے وہی سب سے زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔۔۔
2:تنخواہوں میں کمی
اداروں میں اکثر یہ رجحان دیکھنے میں آتا ہے کہ مردوں کے مقابلے عورتوں کی تنخواہیں کم سے کم رکھی جاتی ہیں کام کی نوعیت دونوں کی برابر ہی ہوتی ہے مگر بات تنخواہ کی ہو تو وہ مردوں کو زیادہ اور خواتین کو کم دی جارہی ہوتی ہے، خواہ آپ پاکستان میں ہوں یا امریکہ میں۔
3:صنفی امتیاز (gender discrimination)
ہر معاشرہ صنفی امتیاز میں گھرا ہوا ہے اور نوکری کرنے پر پہلا تنقیدی نقطہ اسی عدم توازن کی بناء پر کھڑا کیا جاتا ہے کیونکہ آج بھی دورِ جاہل کی طرح عورتوں کو کم تر سمجھا جاتا ہے۔ ایک لفظ نوکری کو ''انا'' کا مسئلہ بنا لیا جاتا ہے۔
4:گھر کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کا آسان حل
اب ایک لڑکی یا عورت نوکری کے لیئے گھر سے باہر جارہی ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب تو نہیں کہ وہ کام سے بھاگ رہی ہے کام چور ہے اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کرسکتی ہے، اگر بھاگنا ہی ہوتا تو وہ گھر سے باہر جاکر کام کرنے کو ترجیح ہی کیوں دیتی؟؟
یہ چند دلخراش باتیں ہیں جو عورتوں کی شخصی کامیابی میں رکاوٹ کا اہم ذریعہ بنتی ہیں جس سے نہ ان کا دل اور نہ دماغ اس رفتار سے کام کرتا ہے جس کی وہ اہل ہیں۔۔۔

بدھ، 26 فروری، 2020

4:26 PM

مقصد کو حاصل کرنے کے 4D اصول

ہر فرد اپنے کسی بھی مقصد میں کامیابی چاہتا ہے ۔ جس کے لئے وہ بہت تگ و دو بھی کرتا ہے مگر اکثر اوقات اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔ اس دنیا میں ہر کام کو سرانجام دینے کے کچھ بنیادی اصول ہوتے ہیں ۔ طریقہ کار ہوتے ہیں ۔ صرف شدید محنت ہی لازمی نہیں ہوتی بلکہ محنت کا ٹھیک رخ پر ہونا بھی معنی رکھتا ہے۔ عام سی بات ہے کہ اچھی چائے بھی بنانی ہو تو اس کے لئے لوازمات پورے کرنے پڑتے ہیں ۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی بڑی کامیابی حاصل کرنے کا کوئی طریقہ کار واضح نہ ہو ۔

تو جناب ذیل میں ان چار لوازمات کو اختصار کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے ۔ جس کو ذہن میں رکھتے عمل کرنے سے آپ حقیقی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ کوئی نئے اصول نہیں ہیں۔ آپ نے ایسے کی کتب و آرٹیکل میں پڑھے ہی ہوں گے مگر بات ہوتی ہے ان کو بار بار داد دہرانے کی تاکہ ہم ان کو بھلا نہ پائیں اور ناکامی کی زحمت سے بچ سکیں ۔

1۔ شدید خواہش ( Desire )
تو جناب کسی بھی چیز کا پا لینے کی سادہ سی خالی و خولی خواہش نہیں چلے گی ۔ کہ "اچھا اگر ایسا ہو گیا تو ٹھیک ورنہ کوئی بات نہیں"۔ بلکہ اپنے مقصد کو پانے کی آپ کے اندر تڑپ جاگنی چاہیے ۔ ایسی بھرپور چاہت ہو کہ آپ اسے حاصل کرنے کے لئے بیڈ سے اتر کر عملی میدان میں آ سکیں۔ ایسی شدید ترین خواہش ہی تو منزل کا سٹارٹنگ پوانٹ ہو گی۔ صرف دماغ میں ہی پلنے والی عام سی خواہش نہ ہو کہ آپ کو اس کے پورا نہ ہونے سے بھی کوئی فرق نہ پڑے۔ ورنہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ آپ کا حقیقی مقصد نہیں ہے۔ صرف ٹائم پاس ہے ۔

2. مستقل مزاجی ( Determination )
آپ نے شدید ضرب کے ساتھ بائیک کو کک مار کر سٹارٹ کر لیا تو اب آپ نے اس کو منزل کی طرف چلاتے ہی جانا ہے یہ نہیں کہ جہاں کوئی رکاوٹ دیکھی تو واپس ہو لئے ۔ اگر ایک راستہ بند تو دوسرے راستے سے اپنی منزل کی طرف بڑھو ۔ چاہے وقتی سستا لو ، رفتار کم کر لو مگر بڑھتے آگے ہی جانا ہے۔ جہاں لوگوں کی منفی باتوں کی پروا نہیں کرنی وہیں پر اپنے اندر کے منفی جذبات ، سوچوں اور کاہلی کو بھی قابو کرنا ہے۔

3۔ نظم و ضبط ( Discipline )
اگلا اہم کام اپنی ایک روٹین ترتیب دینا ہے ۔ ایسی کہ جس پر کسی موسم اور منفی سوچوں کا اثر نہ ہو ۔ آپ چاہے تھکے ہوئے ہوں، دل برداشتہ ہوں مطلب کہ کچھ بھی ہو آپ نے اپنی طے کردہ روٹین کے مطابق عمل کرنا ہی کرنا ہے ۔ چلو بہت زیادہ موڈ نہیں کر رہا تو بندہ کام کم کر لے مگر کرنا لازمی ہے ۔ وقفہ نہیں آنا چاہیے۔ اپنے جذبات و خیالات کو خود پر اتنا حاوی نہیں ہونے دینا کہ روٹین سیٹ ہی نہ ہو پائے ۔ دل چاہا تو کیا نہ چاہا تو نہ کیا والی بات ناکامی کی طرف جلد دھکیل دے گی۔

4۔ انتہائی جذبہ و خلوص ( Devotion )
جب آپ کی ایک روٹین اچھے سے سیٹ ہو جائے تو اب آپ کو اب ذرا ڈسپلن سے بھی بڑھ کر عمل کرنا پڑے گا ۔ اب جان لڑانی پڑے گی۔ پورے جذبہ کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا۔ سمجھو کہ ہاف ٹائم کے بعد کا کھیل شروع ہے اب ۔ فلم میں انٹرویل کے بعد والا حصہ شروع ہوا چاہتا ہے ۔ اپنے مقصد کے بہت زیادہ قریب آنے کا وقت آ گیا ہے ۔ اب پا لینے کی خوشی کو محسوس کرتے مزید طاقت و جذبہ ساتھ سفر جاری رکھو ۔ بہتری لانے کو کچھ نیا سیکھنا ہے ، کسی کی مدد چاہیے تو لازمی لو کہ اب منزل کو صرف پانا نہیں۔ بلکہ ہر حال میں پانا ہے صاحب۔ اب واپسی کا نہیں سوچنا بلکہ کسی بھی بڑی رکاوٹ کی صورت میں بھی پوری طرح تجزیہ کرتے ، پلان میں چھوٹی موٹی تبدیلی کرتے پھر سے ٹریک پر آنا ہے۔

تو یہ تھے وہ چار بہترین لوازمات جو کسی بھی مقصد کو پانے کی لئے بنیادی درجہ رکھتے ہیں۔ سب سے اہم بات عمل کرنا ہے ۔ چاہے چھوٹے چھوٹے اقدامات کے ساتھ اور حاصل ہوئی تھوڑی تھوڑی کامیابیوں کے ساتھ ۔ تبھی تو آپ کے اندر کی قوتِ ارادی بڑھتی جاتی ہے جو کہ کسی بھی منزل کو پا لینے کے سفر کو بہت آسان بنا دیتی ہے۔
4:21 PM

پاکستانیوں کے لیے خوشخبری - غیر ملکی کمپنیاں دھوکہ نہیں دے سکتیں

پاکستان کی وفاقی حکومت نے متعدد خلاف ورزیوں کے باعث بیرونِ ملک ملازمت فراہم کرنے والی 12 کمپنیوں پر پابندی عائد کردی ہے-

میڈیا رپورٹس کے مطابق بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (BEOE) کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں کے خلاف کاروائی پاکستانی ملازمین سے کیے جانے والے معاہدے پورے نہ کرنے پر کی گئی ہے-
 

یہ کمپنیاں پاکستانی شہریوں کو بیرونِ ملک نوکریوں کا جھانسا دے کر پاکستان سے باہر لے جاتی تھیں اور انہیں وہاں بےیارو مددگار چھوڑ دیتی تھیں-

BEOE نے ان کمپنیوں پر پاکستانی ملازمین کے ساتھ وعدے پورے نہ کرنے اور طے شدہ تنخواہ اور مراعات نہ دینے پر پابندی عائد کی ہے- اس کے علاوہ یہ کمپنیاں جعلی ویزے جاری کرنے میں بھی ملوث پائی گئی ہیں-

اس پابندی کے بعد اب یہ کمپنیاں پاکستان سے بیرونِ ملک خدمات کے لیے ملازمین حاصل نہیں کرسکیں گی-

پاکستانیوں کو بیرونِ ملک ملازمت فراہم کرنے والی ان 12 کمپنیوں میں سے 6 کا تعلق آذر بائیجان سے٬ 3 کا تعلق عمان سے اور 3 کا تعلق عراق سے ہے-
 

بلیک لسٹ کی جانے والی کمپنیوں کی فہرست:
Shah International F/S LLC
Nazar Motors LLC
Lardak LLC
ACV LLC
Arkuita LLC
Citizen Munawwar Latifi
Shirka Ardh Al-Muheet
Shirka Amwaj Ul-Bahar
Shirka Seeufue Ul-Badar
Catalyst Contract Trading Company
Fourth Union Reconstruction LLC
Dar Ul Riyan International LLC
4:17 PM

کامیاب شخصیات کے کاروباری نوجوانوں کو مفید مشورے

تازہ اعداد وشمار کے مطابق 50فیصد چھوٹے کاروبار اپنے ابتدائی پانچ برسوں میں ناکامی سے دوچار ہو کر نوجوان کاروباری و اختراع سازوں، صنعتکاروں، تاجروں اور خدمات دینے والوں کو مایوسی کی کھائی میں گرا دیتے ہیں، پھر وہ کبھی عزم اور حوصلہ نہیں کر پاتے کہ دوبارہ سے نئی حکمت عملی وضع کر کے خود کو کامیابی کی شاہراہ پر گامزن کرسکیں۔ ذیل میں جنگ نیوز کی ایک رپورٹ کے توسط سے ایسے ہی جواں عزم نوجوان انٹرپرینیورز کے لئے عالمی تجارت پر چھا جانے والے ارب پتی کامیاب صنعت کاروں اور اختراع و جدت سازوں کی شاندار کامیابی کے راز انہی کی زبانی بتائے گئے ہیں۔

بل گیٹس
زیادہ تر کاروباری شخصیات اپنے کلائنٹس کو بوجھ جانتے اور ان کو ناخوش رکھتے ہیں، مگر بل گیٹس انہیں اثاثہ جانتے ہیں۔ ان کے مطابق ’’آپ سے انتہائی ناراض صارفین آپ کے لئے سیکھنے کا بہت بڑا ماخذ ہیں‘‘۔ اگر آپ اپنے اسٹارٹ اَپ کو ترقی دینا چاہتے ہیں تو آپ کو ناخوش اور ناراض صارفین کی شکایات اور تحفظات پر توجہ دے کر ان کی ضروریات کے مطابق چلنا ہو گا۔ وہ آپ کی مصنوعات و خدمات کی خامیاں بتا کر آپ کو مستقبل میں سنبھلنے کا موقع دیتے ہیں، اس لئے یہ ان کا آپ پر احسان ہے، جسے کھلے دل سے قبول کریں۔

مارک زکربرگ
دنیا کے انتہائی کامیاب انٹر پرینیورز میں شمار کیے جانے والے مارک زکربرگ کا ایک ہی مشورہ ہے، ’’تیز ہاتھ چلائیں اور غلطیاں کم کریں، یقیناً غلطیوں سے سیکھ کر آپ کوئی حیرت انگیز کام کریں گے‘‘۔ انہوں نے اسٹارٹ اَپ اسکول سے خطاب کے دوران کہا، ’’بہت سی کمپنیاں بہت آہستہ چل کر اور بہت باریک بینی سے کام کر کے بہت کچھ گڑبڑ کر دیتی ہیں۔ جب آپ ایسی کوئی چیز جلدی نمٹانے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ دونوں اطراف غلطیاں کرتے ہیں اور فوری طور پر جان لیتے ہیں کہ کہاں آنچ بھر کسر رہ گئی ہے۔ دوبارہ وہی چیز آپ جلد از جلد مکمل کر کے دنیا کو حیران کر دیتے ہیں۔ تیز کام کرنے سے ہم زیادہ کام نمٹاتے اور تیزی سے سیکھتے ہیں۔ جب آپ کا کام کرنے کا انداز تیز ہوتا ہے تو بروقت ڈلیوری آپ کی کامیابی کی ضمانت بن جاتی ہے‘‘۔ فیس بک پر نیوز فیڈ کے حوالے سے فوری شکایات کا ازالہ بھی اسی طرح کیا جاتا ہے۔

رچرڈ برنسن
ورجن گروپ کے بانی رچرڈ برنسن کی زیرنگرانی400سے زائد کمپنیاں کام کر رہی ہیں، ان کے کاروبار کا دنیا میں سب سے زیادہ متنوع پورٹ فولیو ہے جس میں ایئرلائنز اور ریکارڈ اسٹورز سے لے کر اسپیس ٹریول جیسے کاروبار شامل ہیں۔ ان کے مطابق، ’’کاروبار کے مواقع گاڑیوں کی طرح ہوتے ہیں، جن کے ماڈلز ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں‘‘۔ وہ نوجوان انٹرپرینیورز کو بڑے کاروباری مواقع کے حصول کے لئے ایک سے زائد کاروبار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

جیف بیزوز
ایمیزون کے سی ای او، جیف بیزوز آن لائن کاروبار کے ساتھ دیگر کمپنیوں کے بھی مالک ہیں۔ انہوں نے دنیا کے امیر ترین افراد کی دوڑ میں بل گیٹس کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ان کی کامیابی کا ایک ہی راز ہے کہ وہ ہر ایک چیز سے زیادہ اپنے صارفین کی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے، ’’ایک واحد انتہائی اہم چیز صارفین پر توجہ ہے۔ ہمارا ہدف ایمیزون کو دنیا کی سب سے زیادہ کسٹمر سینٹرک کمپنی بنانا ہے۔ ہمارا نعرہ صارفین کا اعتماد ہے‘‘۔ اگر نوجوان کاروباری افراد اس مشورے کو مانیں تو کامیابی کی ضمانت حاصل کر سکتے ہیں۔

جیک ما
علی بابا گروپ کے شریک بانی جیک ما کی سحرانگیز کامیابی ابتدائی حیات میں کئی ناکامیوں سے بھری ہے۔ وہ اسکول میں ریاضی کے مضمون میں کمزور تھے اور ہارورڈ سے10بار مسترد ہوئے۔ کئی کمپنیوں میں ملازمت کی درخواستیں دیں، ہر جگہ سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا لیکن انہوں نے ان مشکلات کو آزمائش جانا اور کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے علی بابا کو ایمیزون کے مقابل لا کھڑا کیا۔ وہ کہتے ہیں، ’’کبھی ہائے میں مر گیا، میرا سب کچھ لٹ گیا وغیرہ نہ کہیں، کبھی ہمت نہ ہاریں۔ آج، کل سے مشکل ہے لیکن اگر آج کی فکر نہیں کی تو کل اس سے برا ہو گا۔ کل کے بعد سویرا ہو گا‘‘۔ ابھرتے ہوئے اسٹارٹ اَپس کے لئے اس میں کامیابی کا زریں اصول یہ ہے کہ ناکامیوں کے ہاتھوں ہمت ہارنے کے بجائے کل کے سویرے کی امید جگا کر مستقبل کو روشن و فروزاں رکھیں۔ یہی بات پاکستانی اسٹارٹ اَپس پر بھی لاگو ہوتی ہے، جو ذرا سی ناکامی سے دلبرداشتہ ہو کر پھر کسی نئی راہ کے مسافر بننے کی بجائے مایوسی کے اندھیرے میں ڈوب جاتے ہیں۔
3:51 PM

6 چیزیں دفتری کمپیوٹر میں کبھی محفوظ نہ کریں

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم اپنے موبائل فون یا کمپیوٹر میں ایسی بہت ساری چیزیں محفوظ کردیتے ہیں جو ہمیں نہیں کرنی چاہئیں۔ اپنے ذاتی کمپیوٹر یا موبائل میں چیزوں کو محفوظ کرنا تو پھر بھی مناسب لگتا ہے، لیکن اگر آپ پروفیشنل ہیں اور کسی ادارے سے وابستہ ہیں، تو آپ کو دفتر کے کمپیوٹر میں ایسی چیزیں محفوظ نہیں کرنی چاہئیں جو آپ کے لیے مصیبت پیدا کردیں۔ کامیاب پروفیشنل ماہرین بتاتے ہیں کہ دفتر کے کمپیوٹر میں 6 چیزیں کبھی بھی محفوظ نہیں کرنی چاہئیں، کیوں کہ ان چیزوں کو دفتری کمپیوٹر میں محفوظ رکھنا آپ کے لیے مصیبت بن سکتا ہے۔ وہ کونسی 6 چیزیں ہیں آئیے ڈان نیوز کے توسط سے جانتے ہیں:
 

ذاتی تصاویر یا ویڈیوز
اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث ذاتی تصاویر کھینچنے اور ویڈیوز بنانے کا رجحان بڑھ چکا ہے اور زیادہ تر افراد ایسا مواد اپنے ورکنگ کمپیوٹر میں بھی محفوظ کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ورکنگ کمپیوٹر میں ذاتی اشیاء کو محفوظ کرنے سے شخصیت پر اثر پڑتا ہے، کیوں کہ ادارہ ذاتی چیزوں کا ریکارڈ رکھنے کی تنخواہ نہیں دیتا۔

نامناسب مواد
ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کے زیادہ سے زیادہ استعمال کے باعث جہاں کئی سہولیات بھی میسر ہوئی ہیں، وہیں غلط اور نامناسب چیزوں کا بھی تیزی سے پھیلاؤ ہو رہا ہے۔ ورکنگ کمپیوٹر میں ایسا نامناسب مواد نہیں رکھنا چاہئیے جس کے ذریعے آپ کی پروفیشنل زندگی پر اثرات پڑیں۔
 

کمپیوٹر گیمز اور ویڈیوز
کھیل صحت مند ذہن کے لیے اچھے ہیں، لیکن اگر یہی کھیل کام کے دوران بھی کھیلے جائیں تو آپ کا کیریئر مسائل کا شکار ہوسکتا ہے۔ ورکنگ کمپیوٹر میں ویڈیو گیمز کو محفوظ رکھنے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ کمپیوٹر کو استعمال کرنے والا شخص کام کے دوران کھیلتا رہتا ہے۔

آپ کے پیشے سے متعلق حساس معلومات
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہرکوئی اپنے پیشے میں بہتر سے بہتر کارکردگی دکھا کر اپنا کیریئر بہتر بنانا چاہتا ہے، تاہم اس کوشش میں چھوٹی چھوٹی غلطیاں بھی ہوجاتی ہیں۔ ورکنگ کمپیوٹر میں اپنے پیشے سے متعلق چیزیں یا معلومات بھی محفوظ نہیں کرنی چاہئیں، کیوں کہ یہ معلومات کسی اور کی پہنچ میں بھی آسکتی ہیں۔
 

چونکا دینے والا یا ہنسی مذاق پر مبنی مواد
بہت سارے پروفیشل افراد کو اپنے ورکنگ کمپیوٹر میں مزاحیہ ویڈیوز، تصاویر یا مواد محفوظ کرنے کا شوق ہوتا ہے، کیوں کہ وہ بوریت کے وقت اس مواد سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ انکشافات پر مبنی یا مزاحیہ مواد کو بھی ورکنگ کمپیوٹر میں محفوظ نہیں کرنا چاہئیے، اس سے دوسروں کو شخصیت پر سوالات اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔

رازدارانہ مواد
رازدارانہ مواد سے مراد ایسی چیزیں یا معلومات ہیں، جو آپ کام کے دوران یا فارغ وقت میں انٹرنیٹ یا دفتر کے سسٹم سے نکال کر اپنے ورکنگ کمپیوٹر میں اس غرض سے محفوظ کرتے ہیں کہ آپ کو کسی وقت یہ معلومات کام آئیں گی۔ کمپنی کے افسران یا قواعد اس بات کی اجازت فراہم نہیں کرتے کہ پروفیشنل افراد رازدارانہ مواد کو سسٹم سے نکال کر اپنے مقصد کے لیے محفوظ کریں۔
3:48 PM

نااہل مرد بڑے عہدوں تک کیسے پہنچ جاتے ہیں؟

ماہر نفسیات اور ’وآئے سو مینی انکمپیٹنٹ مین بیکم لیڈرز‘ کے مصنف ڈاکٹر ٹومس چامورو پریمیوزک کا خیال ہے کہ ’بات جب رہنماؤں کی آتی ہے تو ہم قابلیت کے بارے میں اتنا غور نہیں کرتے جتنا اصل میں کرنا چاہیے۔‘
 

اپنی کتاب میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہی خواتین کے رہنما بننے یا بڑے عہدوں پر فائز ہونے کی راہ میں مشکل کی وجہ ہو سکتی ہے۔ ہمیں مردوں میں نااہلی اتنی پسند ہے کہ ہم انھیں اس کے بدلے نوازنے میں بھی پیچھے نہیں رہتے۔

نااہلی کی جیت کیوں ہوتی ہے؟
ٹومس نے کہا کہ کاروبار یا سیاست میں رہنما کا انتخاب کرنا ایک بے حد ذمہ داری کا کام ہے۔ لیکن ہم لوگوں کو یہ دیکھے بغیر بھرتی کر لیتے ہیں کہ وہ ہمارے یا ملک کے لیے فائدہ مند بھی ہیں یا ان میں اس عہدے کے لیے قابلیت بھی ہے یا نہیں؟

انھوں نے بتایا کہ ’ہم فیصلہ تو کر لیتے ہیں لیکن وہ شخص رہنما کے طور پر کیسا کام کر رہا ہے یہ دیکھنے کے لیے ہمارے پاس ڈیٹا نہیں ہوتا۔ اور نتیجتاً بجائے یہ دیکھنے کے کہ اس میں ٹیم کی رہنمائی کی قابلیت بھی ہے یا نہیں ہم ان کے انداز وغیرہ سے متاثر ہو جاتے ہیں۔‘
 

ٹومس کا خیال ہے کہ ہم ایسے مردوں کی خود اعتمادی پر ان کی قابلیت سے زیادہ غور کرتے ہیں۔ اور ہم اپنی رائے مختصر سی ملاقات یا سیاست دانوں کے معاملے میں ٹی وی پر نظر آنے والے پیغامات کی بنیاد پر بنا لیتے ہیں۔

دوسری اہم بات یہ کہ ہم ان کے کرشماتی انداز پر ان کی عاجزی سے زیادہ غور کرتے ہیں۔

ہم زیادہ تر ایسے رہنماؤں کو پسند کرتے ہیں جو زبردست شخصیت کے مالک ہوں، ان کا دل بہلانے والا انداز ہو اور جن کے ساتھ مزا آئے۔ لیکن اس سے یہ کیسے پتا چلے گا کہ وہ اچھے افراد بھی ہیں اور ان کی رہنمائی میں آپ کی ٹیم کو فائدہ پہنچے گا؟
 

اور تیسری اہم اور فکر کی بات یہ کہ ہم ایسے رہنماؤں کو بھی پسند کرنے لگ جاتے ہیں جن کو خود اپنے آپ سے عشق ہوتا ہے اور ہر وقت اپنی تعریف کرتے رہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جب کوئی شخص اپنا ذاتی ایجنڈا آگے بڑھاتا ہوا نظر آتا ہے تو انہیں مسترد کرنے کے بجائے ہم اکثر محسوس کرنے لگتے ہیں کہ واہ یہ شخص رہنمائی کرنے کے قابل لگتا ہے۔‘

شخصیات سے متعلق دنیا بھر سے دہائیوں میں حاصل مختلف ڈیٹا کے مطابق اوپر بتائی جانے والی تین باتیں مردوں میں خواتین کے مقابلے زیادہ پائی جاتی ہیں۔ اور اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بڑے یا رہنمائی والے عہدوں پر زیادہ مرد رہنما کیوں فائز ہوتے ہیں۔‘
 

ہم بار بار غلطی دہراتے رہتے ہیں
ٹومس کہتے ہیں کہ نظریاتی طور پر تو ہم یہ چاہتے ہیں کہ کسی کام کو وہی شخص انجام دے جو اس کے لیے بہترین ہو، لیکن اس بات کے ثبوت کہاں ہیں؟

اعدادوشمار کے اعتبار سے ٹومس نے بتایا کہ ’کئی بار ایچ آر یا نوکری کے لیے بھرتی کرنے والے لوگ بھی ادارے کے لیے چھوٹے ٹارگٹ پر غور کر رہے ہوتے ہیں۔ جیسے کہ وہ یہ بھی سوچ سکتے ہیں کہ اگر اس شخص کا انتخاب کیا تو یہ اچھا دکھے گا یا یہ میرے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ یا کسی خاص مشکل کو جلد حل کر لے گا۔ یا یہ بھی سوچ سکتے ہیں کہ یہ شخص وہی کرے گا جو میں اسے کرنے کے لیے کہوں گا۔‘

’ہر ادارے میں رہنمائی کے لیے لوگوں کا انتخاب اس بنیاد پر ہونا چاہیے کہ کوئی شخص ٹیم یا ساتھ کام کرنے والوں کو کس طرح متاثر کرے گا۔ ان کی ترقی بھی اسی بنیاد پر ہونی چاہیے کہ وہ ٹیم کو کس طرح سنبھالتے ہیں۔‘
 

اس ٹرینڈ کو کیسے توڑا جائے؟
کسی بھی ادارے کو تین بنیادی باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

1. ان خوبیوں پر غور کریں جو کسی کو ایک اچھا رہنما بناتی ہیں۔
قابلیت
لوگوں سے نمٹنے کی صلاحیتیں
عاجزی
خود آگہی
سالمیت
نیا سیکھنے کی چاہ اور سیکھنے کی صلاحیتیں

2. جبلت سے زیادہ ڈیٹا اور معلومات پر اعتبار کیجیے
کسی شخص کی قابلیت کو سمجھنے کے لیے اس کی تب تک کی کارکردگی اور امتحان میں اس کی کارکردگی پر غور کریں۔

ٹومس نے بتایا کہ ہر ادارے کے پاس بے شمار معلومات ہوتی ہے لیکن وہ اس معلومات کا استعمال کرنے کے بجائے بیشتر وہ کر گزرتے ہیں جو ان کا دل چاہتا ہے۔

3. اگر آپ بھرتی کرتے وقت یہ دھیان رکھیں کہ مردوں اور خواتین کے درمیان توازن ہو تو آدھا مسئلہ تو یہیں حل ہو گیا-

لیکن بہت دھیان سے، کیوں کہ کئی بار غلط رہنما اس لیے بھی بھرتی کر لیا جاتا ہے کہ اسے اس کے ہنر کے بجائے جنس کی بنیاد پر منتخب کیا جا رہا ہے۔
 

کیا مسئلے کا حل خواتین کی بھرتی ہے؟
ٹومس کہتے ہیں ’بالکل نہیں۔ حل یہ ہے کہ بھرتی کے دوران افراد کو ان کی قابلیت کی بنیاد پر پرکھا جائے نہ کہ ان کے جنس کی بنیاد پر۔ ‘

ٹومس نے کہا کہ ’اگر ہر ادارہ قابلیت کو اپنا مقصد بنا کر چلے تو اس میں خواتین رہنما زیادہ ہی نہیں بلکہ مردوں سے زیادہ ہوں گی۔‘

ٹومس کا خیال ہے کہ ’خواتین اپنی جن خوبیوں کی وجہ سے مردوں سے بہتر کام کرتی ہیں وہ ہے ان کی عاجزی، سیکھنے کی صلاحیت، خود آگہی، لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا ہنر اور ان کی قابلیت۔ زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک کی یونیورسٹیوں میں خواتین مردوں سے بہتر کارکردگی دکھاتی ہیں۔‘
3:45 PM

نئی ملازمت٬ آفر لیٹر میں یہ 5 چیزیں ضرور پڑھ لیں

ملازمت کی پیشکش کے بعد ملنے والے جوائنگ لیٹر کو پڑھنا ضروری ہے کیونکہ اکثر لوگ اسے پڑھے بغیر دستخط کردیتے ہیں اور بعد میں ہونے والی سرگرمیوں سے حیران رہ جاتے ہیں۔ لہٰذا دستخط کرنے سے قبل ایک بار ضرور اس لیٹر کو مناسب طریقے سے پڑھ لیں کہ اس لیٹر میں تنخواہ واضح طور پر بیان کی گئی ہے یا نہیں جبکہ بہت سی کمپنیاں اپنے ملازموں کو مالی اور غیر مالی فوائد فراہم بھی کرتی ہیں ۔ آج ہم ایسے ہی 5 فوائد کا ذکر کریں گے جو آفر لیٹر میں دستخط کرنے سے قبل آپ کو چیک کرلینی چاہیے۔

Health and Life Insurance
یہ سب سے مقبول پیشکش ہوتی ہے ہر ملازم کے لیے دراصل یہ صحت اور زندگی کا انشورنس ہے جو تقریباً ہر کمپنی میں دیا جاتا ہے۔ ملازمین کو اس انشورنس میں صحت سے متعلق کئی قسم کی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔ اس وجہ سے ملازمت پر فائز ہونے سے پہلے لیٹر پڑھ کر اس بات کی جانچ کرلیں کہ وہ ادارہ جہاں آپ جوائننگ دینے والے ہیں وہاں انشورنس دیا جارہا ہے یا نہیں- کیونکہ اکثر اداروں میں جانتے بوجھتے اس انشورنس کو لیٹر میں شامل نہیں کیا جاتا ہے۔ جس کا ہرجانہ آپ کو صحت کی خرابی کے وقت ادا کرنا پڑتا ہے-

Provident Fund
یہ ایک سرکاری ریٹائرمنٹ اسکیم ہے جس کی رقم مختلف ترقیاتی کاموں میں استعمال کی جاتی ہے۔ ملازموں کی تنخواہ کا کچھ حصہ آفس کی جانب سے فنڈ کے لیے جمع کیا جاتا ہے جو سیلری سلپ میں بھی شامل کی جاتی ہے۔ اسے ریٹائر ہونے کے بعد ملازموں کو دیا جاتا ہے۔ اسے ملازمین کا احتياطی سرمايہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔

Signing Bonus
یہ بونس ادارے میں آنے والے نئے ملازم کے لیے ہوتا ہے۔ ایسا ملازم جس کی کارکردگی اچھی ہوتی ہے اسے کمپنی کی جانب سے ایک بونس دیا جاتا ہے۔ جس سے اس ملازم کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ اپنی کارکردگی کو مزید بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔

Severance Package
جب کوئی ادارہ کسی ملازم کو اس کی غلطی کے بغیر نوکری سے نکال دیتا ہے تو ایک مخصوص رقم جو نوکری سے قبل ہی طے کرلی جاتی ہے تاوان کے طور پر اس ملازم کو دی جاتی ہے۔ اس بات کا لیٹر میں ہونا لازمی ہے کیونکہ جب آپ کسی جگہ ملازمت میں نئے ہوتے ہیں وہاں کے طور طریقے سمجھنے میں ٹائم لگتا ہے یا پھر کمپنی کو آپ کا کام سمجھ نہیں آتا تو آپ کو ایسی صورت میں نکال دیا جائے تو وہ رقم آپ کے کام آسکے جب تک آپ کسی اور کمپنی میں نوکری نہ ڈھونڈ لیں۔

Stock Options
نوکری کی شروعات میں کمپنی کی جانب سے ملازمین کی تنخواہ کے کچھ حصہ سے کمپنی کے اسٹاک خرید سکتے ہیں لیکن اسکی باقائدہ منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور ایک مخصوص حد تک ہی اسٹاک خرید سکتے ہیں ۔
3:41 PM

ملازمت کی آفر جعلی ہے یا اصلی٬ کیسے معلوم کیا جائے؟


انٹرنیٹ کے اس دور میں نوکری تلاش کرنا اب مشکل نہیں رہا۔ اب جسے بھی نوکری کی تلاش ہوتی ہے وہ سب سے پہلے انٹرنیٹ کے ذریعے نوکری تلاش کرتا ہے ۔ لیکن جہاں اس سہولت سے ہمیں فائدہ ہورہا ہے  وہی اس کے تقصان بھی موجود ہیں کہ آیا جو نوکری ہم نے تلاش کی ہے کہیں وہ جعلی تو نہیں- آج ہم آپ کو ایسے ہی 5 طریقے بتائیں گے جس سے آپ کو اس بات کی جانچ کرنے میں آسانی ہوگی کہ جس ملازمت کی پیشکش آپ کو کی گئی ہے یا جو ملازمت نے تلاش کی ہے وہ کہیں کوئی دھوکہ تو نہیں-

-1 عموماً جب بھی آپ انٹرنیٹ کے ذریعے کسی نوکری کے لیے درخواست دیتے ہیں تو بدلے میں آپ کو ایک ای میل موصول ہوتی ہے ۔ آیا اگر موصول ہوئی اور ای میل میں نوکری کے حوالے سے تمام تفصیلات موجود ہوں مثلا تنخواہ ، کام ،کردار تو اس کا صاف مطلب یہی ہوگا کہ یہ نوکری جعلی ہے کیونکہ کوئی بھی ادارہ بغیر کسی انٹرویو کے ان چیزوں کا تعین نہیں کرتا ہے ۔

-2 کئی جعلی ادارے اس طرح کی ملازمتوں میں پہلے کچھ رقم ڈیپوزٹ کی صورت میں جمع کروانے کا کہتے ہیں- اگر آپ کے ساتھ بھی ایسا کچھ ہو تو سمجھ جائیں کہ نوکری جعلی ہے کیونکہ کوئی بھی حقیقی ادارہ کسی قسم کی کوئی رقم کسی ملازمت کے درخواست دہندہ سے وصول نہیں کرتا ہے ۔

-3 ای میل کے ذریعے دفتر کا بتایا گیا پتہ غلط ہوگا جس سے یہ بات واضح ہوجائے گی کہ نوکری کی پیشکش جعلی ہے اور آپ کو مزید اس نوکری کے پیچھے اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور وقت پر ہی آپ اس جعلی نوکری کا شکار ہونے سے بچ جائیں گے۔

-4 اگر نوکری کی پیشکش میں آپ سے پہلے ہی مرحلے میں آپ کی ذاتی معلومات مانگی جائیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ نوکری جعلی ہے کیونکہ کسی قسم کا بھی ادارہ پہلے ہی مرحلے میں آپ سے میل کے ذریعے آپ کی ذاتی معلومات وصول نہیں کرتا بلکہ shortlisted ہونے کے بعد ہی آپ سے کوئی ضروری اور ذاتی معلومات طلب کرے گا۔

-5 نوکری کی پیشکش کے لیے کمپنی کی جانب سے جو میل آپ کو موصول ہوتی ہے اگر وہ عام آئی ڈی سے ہوتی ہے تو وہ ملازمت جعلی ہے کیونکہ کوئی بھی کمپنی اگر آپ کو نوکری کے لیے میل کرتی ہے تو وہ میل آپ کو ادارے کی Official آئی ڈی سے موصول ہوگی۔
3:38 PM

4 نشانیاں! سمجھ جائیں کہ آپ کی نوکری خطرے میں ہے

ملازمت پر فائز افراد کو نوکری کے دوران کئی قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ لیکن سب سے اہم وجہ تنخواہ کی کمی ہوسکتی ہے۔ لیکن دوسری جانب دیکھا جائے تو اکثر مالکان کو بھی اپنے ملازمین سے مختلف شکایات ہوتی ہیں- اور بعض اوقات انہی شکایات کے باعث ملازمین کو ان کی ملازمت سے فارغ بھی کردیا جاتا ہے- ہم یہاں 4 ایسی علامات کا ذکر کر رہے ہیں جو ممکنہ طور پر آپ کو ملازمت سے فارغ کیے جانے کی جانب اشارہ ہوسکتی ہیں-

میٹنگ میں شریک نہ کرنا
جب آپ کے خلاف فیصلہ کیا جاچکا ہوتا ہے تو آفس کے پیشہ ورانہ امور میں آپ کو بہت کم شامل کیا جاتا ہے-آپ کو کسی اہم میٹنگ میں شریک نہیں کرتے اور نہ ہی آپ کی رائے ان کے لیے اہم رہتی ہے- یہ وہ نشانی ہے جس کے بعد آپ کو خود ہی پتہ چل جائے گا کہ آپ کی نوکری خطرے میں آچکی ہے ۔

افواہیں
آپ کے ارد گرد بہت سی ایسی باتیں ہوں گی جو آپ کو باقاعدہ محسوس کریں گے۔ اور ان باتوں کو افواہیں کہا جاتا ہے ۔ لیکن جب آپ افواہیں پھیلانے والے لوگوں کے سامنے آتے ہیں تو وہ خاموش ہوجاتے ہیں اور افواہیں رک جاتی ہیں ۔ لہٰذا آپ ان افواہوں کو معمولی نہ سمجھیں اور اور ان کی تہہ تک جائیں لیکن یہ بھی ایک اہم نشانی ہے یہ سمجھنے کے لیے کہ آپکی نوکری آخر مرحلے میں موجود ہے۔

کمپنی کا بحران
کمپنی کے باس کا بار بار کمپنی کے نقصان کا آپ کے سامنے ذکر کرنا اور آپ کی ٹیم کے سامنے بولنا کہ کمپنی بحران کا شکار ہے تو سمجھ جائیں کہ نوکری ہاتھ سے جانے کے امکانات ہیں۔ اور خود کو اس بات کے لیے پہلے سے تیار رکھا جائے۔

ساتھی ملازمین کے پاس آپ کے ٹاسک
آپ کے ساتھی ملازمین کو آپ کے تمام پیشہ ورانہ امور تھمانا جس میں کئی اہم معلومات شامل ہوں اور اس کی رائے کو زیادہ اہمیت دینا بھی آپ کے لیے خطرے کی گھنٹی کے مترادف ہے- امکان ہے کہ آپ کی ملازمت کسی پریشانی کا شکار ہوسکتی ہے-