Popunder ads

Breaking

National لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
National لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 8 مارچ، 2020

9:59 AM

چمن میں دھماکا، 5 افراد زخمی

چمن: ( 07 مارچ 2020) بلوچستان کے ضلع چمن میں دھماکا ہوگیا جس کے نتیجے میں 5 افراد زخمی ہو گئے۔
چمن کے علاقے تاج روڈ پر لیویز ہیڈ کوارٹر کے قریب دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 5افراد زخمی ہو گئے۔ دھماکے سے قریب کھڑی موٹر سائیکلوں کو بھی نقصان پہنچا۔
دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیر ے میں لے کر ابتدائی کارروائی شروع کردی ۔دوسری جانب امدادی ٹیموں نے زخمی افراد کو ہسپتال منتقل کردیا جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے ۔
9:58 AM

کورونا وائرس پر فتح یاب کراچی کا نوجوان ڈسچارج ہوگیا

کرونا وائرس کو شکست دینے والے یحییٰ جعفری کو آغا خان اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان میں کروناوائرس کے پہلے مریض کو صحتیابی کے بعد اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ، 22سالہ طالب علم نجی اسپتال میں زیرعلاج تھا۔
ذرائع کے مطابق22 سالہ نوجوان یحییٰ جعفری اسپتال سے ڈسچارج ہو کر رشتہ داروں کے گھر شفٹ ہو گئے، یحییٰ جعفری کچھ دنوں تک رشتہ داروں کے گھر قیام کریں گے
یاد رہے گذشتہ روز ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے مریض کے صحت یاب ہونے سے متعلق اعلان کرتے ہوئے کہا تھا بہت خوشی ہےسندھ میں کرونا وائرس کا پہلا مریض صحتیاب ہوا، علاج کےبعد مریض کا کرونا ٹیسٹ منفی آیا ہے، نوجوان کو جلد اسپتال سے ڈسچارج کیا جائے گا۔
محکمہ صحت سندھ نے بھی  کرونا وائرس کے پہلے مریض یحییٰ جعفری کے صحت یاب ہونے کی تصدیق کی تھی۔
کراچی کے نوجوان نے کورونا وائرس کو شکست دے دی
 واضح رہے کہ 22 سالہ یحی جعفری میں 26 فروری کو کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جبکہ 22 سالہ یحییٰ جعفری 20 فروری کو بذریعہ پرواز ایران سے کراچی آیا تھا۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق پھیپھڑوں کے شدید عارضے میں مبتلا کرنے والا وائرس جو چین سے شروع ہوا تھا اب 38 ممالک تک پھیل چکا ہے۔ چین میں اب تک کورونا وائرس سے 78 ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 2700 ہلاک ہوئے ہیں۔
یہ وائرس پاکستان اور اس کے ہمسایہ ممالک میں پہنچ چکا ہے۔ پاکستان میں اگرچہ اس کے صرف دو کیسز کی تصدیق ہوئی ہے تاہم ایران اور افغانستان سے ملحق سرحدوں کے علاوہ بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر سکریننگ بڑھا دی گئی ہے۔
ہزاروں افراد کا علاج اب بھی جاری ہے اور شاید کچھ مر بھی جائیں اس لیے شرح اموات بڑھ بھی سکتی ہے لیکن یہ بھی غیر واضح ہے کہ ہلکی پھلکے علامات والے کتنے کیسز ہیں جو رپورٹ ہی نہیں ہوئے، اس صورت میں شرح اموات کم بھی ہو سکتی ہے
9:56 AM

صوبوں کے ترقیاتی فنڈز سے شہروں کو ٹھیک کرنا ناممکن ہے: عمران خان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کراچی کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے، شہر قائد پاکستان کی معاشی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ صوبوں کے ترقیاتی فنڈز سے شہروں کو ٹھیک کرنا ناممکن ہے۔
فائیو سٹار، کے ڈی اے چورنگی اور سخی حسن چورنگی پر بنائے جانے والے پلوں کی افتتاحی تقریب گورنر ہاؤس کراچی میں ہوئی اور وزیراعظم عمران خان نے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا پیغام دیا۔
وزیراعظم نے ویڈیو پیغام میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے لوگوں سے آج معذرت کرتا ہوں، موسم کی خرابی کے باعث کراچی نہ آسکا۔
خیال رہے کہ کراچی میں ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح کیلئے وزیراعظم عمران خان کو آج کراچی آنا تھا تاہم خراب موسم کی وجہ سے وہ نہیں آسکے اور گورنر سندھ عمران اسماعیل نے منصوبوں کا افتتاح کیا۔
وزیر اعظم نے ویڈیو پیغام میں گورنر سندھ عمران اسماعیل کو خصوصی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں جاری ترقیاتی منصوبو ں کی تفصیل آپ عوام کو بتائیں۔
9:55 AM

صحافی کے قتل کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی متنازعہ کیوں بنی؟

کراچی — 
گزشتہ ماہ سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز میں قتل ہونے والے صحافی عزیز میمن کی تحقیقات کے لئے قائم کی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ کو صحافیوں کے پر زور مطالبے پر تبدیل کر دیا گیا ہے۔
حکومت کی جانب سے جے آئی ٹی کا سربراہ ایسے پولیس افسر کو بنانے کے بعد یہ تحقیقاتی ٹیم متنازعہ ہوگئی تھی جس نے پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے سے قبل ہی محض کیمیائی تجزیات کی رپورٹس پر ہی واقعہ کو طبعی موت قرار دے دیا تھا۔
صحافی عزیز میمن کی تحقیقات کے لئے 6 مارچ کو سندھ حکومت کے محکمہ داخلہ نے ایڈیشنل آئی جی حیدرآباد ولی اللہ دل کی سربراہی میں نو رکنی ٹیم تشکیل دی تھی۔
تاہم، اس ٹیم کے سربراہ پر صحافیوں نے سخت اعتراضات کئے تھے، کیونکہ انہوں نے چند روز قبل ہی قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اب تک کی دستیاب کیمیائی رپورٹس کے مطابق عزیز میمن کی موت میں تشدد یا زہرخورانی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ پولیس افسران کے مطابق وہ بلڈ پریشر اور ذیابیطس کا مریض تھا اس لئے غالب امکان ہے کہ میمن کی موت طبعی وجوہات کی بنا پر ہوئی ہے۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں پولیس کے موقف کی نفیتاہم، پولیس افسران کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ کے اگلے ہی روز سامنے آنے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عزیز میمن کی موت ان کا سانس رکنے کی وجہ سے ہوئی۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ محراب پور کے ڈاکٹر تحسین میمن اور ڈاکٹر زاہد شیخ کے دستخط سے جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عزیز میمن کا زندہ حالت میں سانس بند کیا گیا جس سے ان کی موت واقع ہوئی۔جے آئی ٹی ہیڈ کی تقرری پر اعتراضات6 مارچ کو صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹی فیکیشن کے تحت مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی۔ ایڈیشنل آئی جی حیدرآباد کی سربراہی میں قائم کی گئی نو رکنی کمیٹی کو عزیز میمن کے قتل کی تحقیقات اور اس کی وجوہات کے تعین کے لئے 15 روز کا وقت دیا گیا۔ تاہم، صحافی برادری کی جانب سے ایسے افسر کو ٹیم کا ہیڈ مقرر کرنے پر سخت اعتراض کیا گیا جس نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے سامنے موت کو طبعی قرار دیا تھا۔ جبکہ دوسرا اعتراض یہ بھی کیا گیا کہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم میں فوجی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا کوئی نمائندہ شامل نہیں کیا گیا۔ ہفتے کی صبح ترجمان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صحافیوں کے اس مطالبے پر کہا کہ قتل کی تحقیقات کرنے والی ٹیم میں شامل افسران کو متاثرہ خاندان ہی کے کہنے پر رکھا گیا ہے۔ سید مراد علی شاہ نے صحافی برادری سے درخواست کی کہ واقعے کی تحقیقات ہونے دی جائے، تحقیقات مکمل ہونے تک کوئی متنازعہ بات نہ کی جائے۔ عزیز میمن کا خون کسی صورت ضائع ہونے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت نے ہمیشہ صحافت کی آزادی کو ممکن بنانے اور اختلاف رائے کا احترام کیا ہے۔تاہم، شام کو محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کئے گئے ایک اور نوٹی فیکیشن میں صحافیوں کے دونوں مطالبات تسلیم کرتے ہوئے جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی سے تعلق رکھنے والے ممبر کو بھی شامل کرنے کے ساتھ ٹیم کا ہیڈ ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن کو بنادیا گیا۔ صحافی عزیز میمن کا قتل کب ہوا؟16 فروری کو نوشہرو فیروز کی ایک نہر سے سندھی روزنامہ کاوش سے وابستہ صحافی کی لاش ملی تھی جن کےگلے کے گرد تار بندھی ہوئی تھی۔ پولیس نے واقعے کی ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات شروع کیں۔ لیکن بعض گرفتاریوں کے باوجود پولیس کو اب تک مبینہ قاتلوں کی گرفتاری میں کوئی کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ یاد رہے کہ عزیز میمن نے مارچ 2019 میں اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے ٹرین مارچ کے دوران محراب پور میں استقبال کے لیے آنے والوں کو کرائے پر لایا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، استقبال کے لیے آنے والوں سے فی شخص دو ہزار روپے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ لیکن انہیں 200 روپے دیے گئے تھے۔ اس رپورٹ پر عزیز میمن کو بعض مقامی افراد کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی ملی تھیں مگر اس کے باوجود بھی انہیں کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا گیا۔عزیز میمن کے قتل کی پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے بھی مذمت اور واقعے کا نوٹس لیا گیا تھا۔ تاہم، 20 سے زائد روز گزر جانے کے باوجود بھی پولیس کی جانب سے اب تک کیس میں کوئی پیش رفت نظر نہیں آئی ہے جس پر صحافی برادری میں تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔واضح رہے کہ 56 سالہ عزیز میمن 30 سال سے لگ بھگ صحافت سے وابستہ تھے اور ان کے قتل پر نہ صرف ملکی بلکہ عالمی صحافتی تنظیموں نے بھی مذمت اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا تھا۔
9:53 AM

8 مارچ خواتین کا عالمی دن

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج خواتین کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق خواتین کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں اہم تقریبات اور سیمینار ز کاانعقاد کیا جائیگا جن میں مقررین خواتین کے حقو ق کے حوالے سے اہم امور پرروشنی ڈالیں گے ۔
اس دن خواتین کی جانب سے ریلیاں نکالی جائیں گی جن میں سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد اورانسانی کی علمبردار تنظیمیں زور شور سے شرکت کریں گی۔
اقوام متحدہ نے 1656 میں 8 مارچ کو عورتوں کے عالمی دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ اس کا مقصد خواتین کی سماجی، سیاسی اور اقتصادی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔
 امریکہ میں سوشلسٹ پارٹی کی جانب سے 1909 میں 28 فروری کو خواتین کا دن منایا گیا جس کے بعد 1910 میں خواتین کے حوالے سے ایک عالمی کانفرنس میں تجویز کیا گیا کہ یہ دن سالانہ طور پر منایا جانا چاہیے۔ اس کانفرنس میں 17 ممالک کی 100 خواتین نے اس خیال کو متفقہ طور پر منظور کیا۔
یہ پہلی مرتبہ 1911 میں آسٹریا، ڈنمارک، جرمنی اور سوئٹزر لینڈ میں منایا گیا۔ اس حساب سے رواں برس 108 یوم خواتین منایا جا رہا ہے۔
خواتین کو عورت مارچ کی اجازت مل گئی
خیال رہے کہ ہر سال مارچ کی آٹھ تاریخ کو خواتین کا عالمی دن منایا جاتاہے جس میں اس بات کا عزم کیا جاتاہے کہ خواتین کو حاصل آزادیوں کا تحفظ کرتے ہوئے ان کی مزید آزادی اورحقو ق کے حصول کے جدوجہدجاری رکھی جائیگی۔
اس سال بھی خواتین کے حقوق سے متعلق کام کرنے والی مختلف تنظیموں نے لاہور کے علاوہ، اسلام آباد، راولپنڈی، ملتان، کراچی، حیدرآباد، سکھر، کوئٹہ اور پشاور سمیت ملک کے بڑے اور اہم شہروں میں 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین کے موقع پر ’عورت مارچ‘ منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

جمعہ، 6 مارچ، 2020

2:18 PM

پاکستانی عوام دو خاندانوں کی موروثی وسیاسی ماڈل سے بیزار ہیں،فردوس عاشق

اسلام آباد:وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام دو خاندانوں کی موروثی وسیاسی ماڈل سے بیزار ہیں ،  وزیر اعظم عمران خان عوام کے وہ مقبول رہنما ہے جنھوں نے حقیقی عوامی راج قائم کیا۔وزیراعظم  کل  کراچی پہنچ کر عوامی منصوبوں کا افتتاح کریں گے،کراچی کے مسائل کے تدارک کے لیے طے کردہ ترجیحات  کا جائزہ لیں گے۔
ان خیالات کا اظہار فردوس عاشق اعوان نے جمعہ کے روز ٹویٹر پر جاری اپنے بیان میں کیا۔ فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھاکہ شاہد خاقان  آپ کا یہ  بیان "ماضی کے ماڈل ملکی مسائل حل نہ کر سکے نئے راستے تلاش کرنے کی ضرورت ہے" اعتراف جرم ہے۔
تین دہائیوں سے قوم پر مسلط رہنے والے آج قوم کے سامنے اپنی ناکامیوں کو قبول رہے ہیں۔ پاکستان کے عوام  عمران خان کو وزیراعظم منتخب کرکے نیا راستہ تلاش کر چکے ہیں۔پاکستان کے عوام دو خاندانوں کی موروثی وسیاسی ماڈل سے بیزار ہیں۔ عوام کی دہائی ہے کہ اب یہ ان پر دوبارہ مسلط نہ ہوں۔
آج جمہوریت  کی باتیں کرنے والے اپنے دور میں آئینی ترمیم کرکے بادشاہ سلامت بننے کی کوشش کرتے رہے۔"کمپنی سیاست" میں تمام شیئرز خاندان ہی کے پاس رہتے ہیں۔ان کی جمہوریت یہ تھی کہ بڑا بھائی خود وزیراعظم، چھوٹا وزیراعلی،بھتیجا سب سے بڑے صوبے کا مختاراعلی اور صاحبزادی "سوپروزیراعظم" کا درجہ رکھتی تھیں۔
2:16 PM

کرپشن ایک ناسور اور ملکی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے، چیئرمین نیب

اسلام آباد: (05 مارچ 2020) چیئرمین نیب نے کہا ہے کہ کرپشن ایک ناسور اور ملکی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ نیب عملہ بدعنوانی کے خاتمے کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھتا ہے۔
چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت قومی احتساب بیورو کا اجلاس ہوا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ کرپشن ایک ناسور اور ملکی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ لوٹے گئے 328 ارب روپے ملزمان سے لے کر قومی خزانے میں جمع کرائے۔ نیب کے کسی بھی ملازم نے ایک پیسہ رشوت نہیں لی۔
جسٹس (ر) جاوید اقبال نے مزید کہا کہ نیب عملہ بدعنوانی کے خاتمے کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ تمام ڈی جیز مقدمات کی قانون کے مطابق پیروی کریں۔ نیب ریفرنسز میں ملزمان کو سزاؤں کی شرح 70 فیصد ہے۔
2:14 PM

اسلام آباد ہائیکورٹ میں عورت مارچ کے خلاف دائر درخواست سماعت کیلئے مقرر

اسلام آباد: (05 مارچ 2020) ہائیکورٹ میں عورت مارچ کے خلاف دائر درخواست سماعت کیلئے مقرر کرلی گئی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں عورت مارچ کے خلاف دائر درخواست کو سماعت کیلئے مقرر کرلیا گیا ہے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کل درخواست پر سماعت کریں گے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے صدر اور جنرل سیکریٹری درخواست گزار کی جانب سے عدالت میں پیش ہوں گے۔
2:12 PM

کراچی:پورٹ قاسم کےقریب کیمیکل اخراج،50افراد کی حالت غیر

اے ایف پیکراچی کے علاقے پورٹ قاسم کے قریب اینگرو ووہ پاک ٹرمینل سے کیمیکل اخراج کے باعث 50 سے زائد افراد کی حالت غیر ہوگئی۔
جمعہ کی صبح پیش آنے والے واقعہ کے بعد امدادی ٹیموں نے فیکٹری کے ملازمین کو تشویش ناک حالت میں باہر نکالا۔ ریسکیو اہل کاروں کے مطابق 19 متاثرہ افراد کو قریبی واقع اسٹیل مل اسپتال اور 36 افراد کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔ امدادی ٹیموں کا مزید کہنا ہے کہ فیکٹری کے اندر متعدد افراد موجود تھے، جنہیں بعد میں نکالا گیا۔
واقعہ کی اطلاع ملنے پر دیگر حکام بھی فیکٹری پہنچ گئے۔ ملازمین کے مطابق فیکٹری میں کیمیکل کا کام کیا جاتا ہے۔ جناح اسپتال کی ترجمان ڈاکٹر سیمی جمالی نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ زہریلے کیمیکل سے متاثر افراد کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
اطلاعات کے مطابق کچھ متاثرہ افراد کو دیگر 2 نجی اسپتالوں میں بھی منتقل کیا گیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ کیماڑی کے علاقے میں پراسرار گیس کے اخراج سے 14 افراد جاں بحق، جب کہ 500 سے زائد متاثر ہوئے تھے۔ حکام گیس کے اخراج کی اصل وجوہات جاننے سے قاصر رہے تھے۔
پاکستان نیوی کے ریٹائرڈ چیف انجنییر کا کیماڑی واقعہ پر کہنا تھا کہ نہ کوئی زہریلی گیس لیک ہوئی اور نہ ہی سویابین کو ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے۔ اگر گیس لیک ہوتا تو بندرگاہ پر کام کرنے والے افراد بھی متاثر ہوتے مگر یہاں صرف کیماڑی کے رہائشی زیادہ نشانہ بنے ہیں۔
2:06 PM

لاہورکے اسٹورز، ہوٹلوں میں پولی تھین بیگزکے استعمال پرپابندی عائد

فائل فوٹو
لاہور ہائی کورٹ نے شہر کے تمام اسٹورز اور ہوٹلوں پر پولی تھین بیگز کے استعمال پر پابندی عائد کر دی۔
جمعہ 6 مارچ کو عدالت نے شہری ہارون فاروق کی درخواست پر سماعت کی جس ميں موقف اختيار کيا گيا کہ پولی تھين بيگز کا استعمال ماحولياتی آلودگی اور بيماريوں کا باعث بن رہا ہے۔
جسٹس شاہد کريم نے اسٹورز، بيکری اور ہوٹلوں پر پلاسٹک بيگز کے استعمال پر پابنی عائد کرنے کا حکم ديتے ہوئے حکومت کو دو ہفتے کا وقت دے ديا۔
عدالت نے حکومت کو ہدايت کی کہ اگلے مرحلے میں دوسرے شہروں میں پابندی سے متعلق بھی اقدامات کيے جائيں۔
ملٹی نيشنل کمپنيوں کے نمائندے بھی عدالت ميں پيش ہوئے۔ عدالت نے کمپنی نمائندوں سے استفسار کيا کہ پلاسٹک بوتلوں کا استعمال کب ختم کریں گے، آئندہ سماعت پر بتايا جائے۔
2:04 PM

عورت مارچ رکوانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

عورت مارچ رکوانے کے لیے دائر درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے سماعت کی اوردرخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ہم عورت مارچ یا ان کے حقوق کے نہیں، ان کے پلے کارڈز اور سلوگنز کے خلاف ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ عورت مارچ کے پلے کارڈز اور سلوگن اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں۔
چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ان کے سلوگن تو وہی ہیں کہ جو اسلام نے ان کو حقوق دیے، ان کے سلوگنز کی کیا ہم اپنے طور پر تشریح کر سکتے ہیں؟ سب سے پہلے جس نے اسلام قبول کیا وہ خاتون تھیں۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ خواتین کو جو حقوق دیئے گئے ہیں میں ان کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
عدالت نے ان سے سوال کیا کہ کس نے بچیوں کو زندہ دفن کرنے کو ختم کرایا ہے؟
وکیل نے جواب دیا کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بچیوں کو زندہ دفن کرنا ختم کرایا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آج بھی ہمارے معاشرے میں بچیوں کے پیدا ہونے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا، یہ عورت مارچ تو ابھی ہونا ہے، آپ کی درخواست قبل از وقت ہے۔
عدالتِ عالیہ نے عورت مارچ رکوانے کی درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

بدھ، 4 مارچ، 2020

5:39 PM

سینٹ میں زینب الرٹ بل 2020 کی منظوری، ہو گی اب لاکھوں بچیوں کی زندگی محفوظ

چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا جس میں سینیٹر اعظم سواتی نے زینب الرٹ بل پیش کیا۔ اپوزیشن نے بل میں ترامیم تجویز کرتے ہوئے کہا کہ اس بل میں مزید تین دفعات شامل کی جانی چاہیے۔
اپوزیشن نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے تحفظات کا اظہار کیا اور بل میں قصاص اور سزائے موت سے متعلق دفعات شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔
سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ اس بل میں عمر قید کی سزا کم ہے، اگرثابت ہو کہ بچےکو زیادتی یا قتل کیلئےاغوا کیا گیا تو اس کی سزاموت ہونی چاہیے۔
سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ بل میں سزائےموت کی دفعہ شامل کیوں نہیں کی گئی، بل میں دفعہ 302 اے کےتحت قصاص کو شامل کیا جائے، قصاص کے خاتمے کے لیے عالمی دباؤ ہے لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔
سراج الحق نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ میں 3 ہزاربچوں کے ساتھ زیادتی ہوئی، یہ سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ہم سب کے بچوں کا سوال ہے، قتل کی سزاتو پہلے ہی قصاص ہے، آپ نے بچوں کے قتل کی سزا کو صرف جیل تک محدود کردیا ہے، یہ انصاف کا قتل ہے، اس بل میں دفعہ 302 اور دفعہ 201 کو شامل کیا جائے۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ بل میں ترامیم کا ایک طریقہ کار موجود ہے، بل کو ابھی منظور ہونے دیں، آپ ترامیم لے آئیں ہم منظور کروا لیں گے۔
شفقت محمود نے بھی کہا کہ بہت سی باتیں کی جارہی ہیں جن میں وزن بھی ہے، لیکن فی الحال طریقہ کار کے مطابق بل کو پاس کر دیں، ترامیم بعد میں شامل کر دیں۔
سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ بچوں سے زیادتی کرنے والے درندوں کو الٹا لٹکانا اور پھانسی دینی چاہیے، ترامیم آتی رہیں گی اس وقت بل کو منظور کروانا ناگزیر ہے، ہر جگہ بیچ میں اٹھارویں ترمیم آجاتی ہے۔
سینیٹر مولوی فیض محمد نے کہا کہ یہ قصاص کا مسئلہ ہے، کوئی کسی کو قتل کرے تو اس کے لیے شریعت میں قصاص ہے، جنسی زیادتی اور قتل کی سزا میں قصاص کو شامل کریں۔
بحث کے بعد سینیٹ نے کثرت رائےسے بل کی منظوری دے دی جس کے نتیجے میں اغوا شدہ بچوں کی بازیابی، ردعمل اور الرٹ کرنے کے لیے قانون وضع کردیا گیا۔
بل کے تحت بچوں کے خلاف جرائم پر زیادہ سے زیادہ 14 سال اور کم سے کم 7 سال قید کی سزا ہوگی۔ قومی کمیشن برائے حقوقِ بچگان کا نام تبدیل کر کے ’زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری ایجنسی‘ کردیا جائے گا۔
بل کے مطابق کسی بھی بچے کے اغوایاجنسی زیادتی کے واقعہ کا مقدمہ درج ہونے کے تین ماہ کے اندر اندر اس مقدمے کی سماعت مکمل کرنا ہوگی۔ پولیس بچے کی گمشدگی یا اغوا کے واقعہ کی رپورٹ درج ہونے کے دو گھنٹوں کے اندر اس پر کارروائی کرنے کی پابند ہوگی۔
5:37 PM

پنجاب اور بلوچستان کے مختلف شہروں میں میں بارش, موسم خوشگوار

ملک کے مختلف شہروں میں بارش کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا۔ پنجاب اور بلوچستان کے مختلف شہروں میں وقفہ وقفہ سے بارش نے موسم خوشگوار بنادیا۔ کوہ سلیمان کے برساتی نالوں میں طغیانی آگئی ۔ملک میں بارش کا نیا سسٹم داخل ہو گیا۔ پنجاب اور بلوچستان میں بادل برس پڑے۔ پنجاب کے شہروں وہاڑی، میلسی، کوٹ ادو، چیچہ وطنی اور ٹوبہ ٹیک سنگھ سمیت مختلف شہروں میں موسلادھار بارش ہورہی ہے۔ انتظامی نااہلی نے ابر رحمت کو زحمت بنا ڈالا۔ بارش شروع ہوتے ہیں بجلی کے متعدد فیڈرز ٹرپ کرگئے۔ کئی شہروں میں بجلی غائب ہوگئی۔ کوہ سلیمان میں موسلا دھار بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی۔ برساتی ندی سخی سرور میں طغیانی کے باعث 4 بسیں بہہ گئیں جبکہ عارضی دکانیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
بلوچستان میں بھی بارش نے موسم خوشگوار بنادیا ہے۔ کوہلو، زیارت، پشین، سبی اور بولان میں موسلادھار بارش ہوئی۔
5:36 PM

پاکستان ریلوے نے کرایوں میں کمی کا اعلان کردیا


خسارے میں چلنے والے ادارے پاکستان ریلوے نے دو ماہ کے لئے کرایوں میں کمی کا اعلان کردیا ہے، کرایوں میں کمی کا اطلاق صرف بزنس اور اے سی اسٹنڈرڈ پر ہوگا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان ریلوے نے دو مہینے کے لئے اکیس گاڑیوں میں دو طرفہ کرایوں میں پچیس فیصد کمی کی ہے، جس کا اطلاق نو مارچ سے نو مئی تک ہوگا۔جاری نوٹی فیکیشن کے مطابق مسافر ٹرینوں میں اے سی بزنس اور اے سی سلیپر کی ایک طرف ٹکٹ پر دس فیصد جبکہ دو طرفہ ٹکٹ پر پچیس فیصد رعایت دی جائے گی جبکہ کرایوں میں کمی صرف ایڈوانس بکنگ پر حاصل ہوگی۔
5:34 PM

ساہیوال شہری اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ، شہری جاں بحق، دونوں ڈاکو ہلاک

شہری اپنی جان پر کھیل گیا ڈاکوؤں سے فائرنگ کا تبادلہ میں جاں بحق دونوں ڈاکو بھی ہلاک۔ساہیوال میں ڈاکوؤں اور شہری میں فائرنگ کا تبادلہ۔ پولیس ذرائع کے مطابق دوران رہزنی دو ڈاکوؤں اور شہری کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فائرنگ سے دونوں ڈاکو ہلاک اور شہری جاں بحق ہوگیا۔ ریسکیو اہلکاروں نے شہری کی لاش ورثا کے حوالے کردی جبکہ ڈاکوؤں کی لاش شناخت کیلئے مردہ خانے منتقل کردی۔
5:30 PM

سائنسدانوں کا مکھیوں اور کیڑے مکوڑوں سے مکھن تیار کرنے کا تجربہ

دودھ سے بنا ہوا مکھن قدیم دور سے ہی انسان کی پسندیدہ غذا رہا ہے اس کے استعمال سے ہم کئی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ مکھن ہمیں پالتو جانورں سے حاصل ہوتا ہے لیکن اب بیلجیئم کے تحقیقی ماہرین نے مکھیوں اور حشرات کی چربی سے مکھن بنانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔غیر ملکی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ماہرین نے جو مکھن تیار کیا اُس میں گائے کے دودھ کی بجائے مکھیوں اور دیگر حشرات کی چربی استعمال کی گئی ہے، تیار کیا جانے والا مکھن دوسرے سے مشترک تو نہیں البتہ مستقبل میں اسے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
5:28 PM

’محکموں کی لڑائی میں اسلام آباد کا بیڑا غرق ہو رہا ہے‘

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ملک کے دارالحکومت اسلام آباد کو ماحولیاتی آلودگی سے پاک کرنے کا روڈ میپ طلب کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامے میں چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)، اسلام آباد کے میئر، تحفظ ماحولیات ایجنسی کی ڈائریکٹر جنرل اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس کو مشترکہ روڈ میپ تیار کرکے جمعرات کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
بدھ کو سپریم کورٹ میں اسلام آباد کے سیکٹر آئی نائن انڈسٹریل ایریا میں ماحولیاتی آلودگی سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔
عدالت کو ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی کی ڈائریکٹر جنرل فرزانہ الطاف نے بتایا کہ ’عدالتی حکم کے تحت آئی نائن سیکٹر میں چار فیکٹریوں کو کاربن فضا میں چھوڑنے سے روکنے کا پابند بنایا۔ اب فیکٹریاں کاربن کو فروخت کر کے ریونیو کما رہی ہیں۔‘ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’چلیں اچھا ہے ان کو بھی بیچنے کو ایک اور چیز مل گئی۔‘
مزید پڑھیںسپریم کورٹ: مشرف کی درخواست خارجNode ID: 453786منسٹر صاحب آپ کا سارا کچا چٹھا سامنے ہے: سپریم کورٹNode ID: 455656پاکستان میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں ’700 فیصد‘ اضافہNode ID: 462656

ڈی جی تحفظ ماحولیات ایجنسی نے بتایا کہ ’سی ڈی اے اسلام آباد کی زمین کی ملکیت رکھتا ہے وہ صنعتی پلاٹ پر فیکٹری لگانے کی اجازت دے دیتا ہے لیکن اس کے ماحول پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ نہیں لیتا۔ سنگجانی میں 53 ماربل فیکٹریاں لگ چکی ہیں۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ ’ماربل انڈسٹری لوگوں کو بیمار کر دے گی۔ پہلے ہی پہاڑ کاٹے جا رہے ہیں۔ محکمہ ماحولیات کے لوگ اپنے ہاتھ گرم کرکے واپس آ جاتے ہیں۔‘
ڈی جی نے بتایا کہ ‘آئی نائن میں انڈسٹری بند اور وہاں پر وئیر ہاؤس بن چکے ہیں۔‘ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صنعتی پلاٹس کو دکان بنا دیا ہے۔ پورا پاکستان ہی دکان بن چکا ہے۔ جدھر دیکھیں دکانیں ہی دکانیں نظر آتی ہیں۔ صنعتوں کو چھوڑ کر باہر سے لاکر چیزیں بیچ رہے ہیں۔ صنعت کار بیوپاری بن گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’صنعتیں بند کر دینا ماحولیاتی آلودگی روکنے کا کوئی حل نہیں ہے۔ پاکستان کا کپڑا دنیا بھر میں معروف تھا۔ اب چین سے منگوا رہے ہیں جس کا کوئی معیار نہیں۔ صنعتیں بند کرنے سے پاکستان کا اثاثہ ہنر مند، کاریگر، مزدور، خام مال پیدا کرنے والے افراد سمیت کئی خاندان متاثر ہوئے ہیں۔‘
 سپریم کورٹ کے حکم پر شہری انتظامیہ نے اسلام آباد میں تجاوزات کے خلاف بھی آپریشن کیا تھا (فوٹو: سوشل میڈیا)چیف جسٹس واضح کیا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ صنعتیں بند ہوں۔ ایک کی جگہ سو فیکٹری لگائیں لیکن قانون اور ضابطہ اخلاق کی پاسداری بھی کریں۔ اسلام آباد اس لیے تو نہیں بنا تھا کہ اس کو صنعتی شہر بنا دیا جائے۔‘
عدالت کو سی ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ ’اسلام آباد کے ماسٹر پلان کو تبدیل کرنے کے حوالے سے منظوری لی جا رہی ہے۔‘ چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد کا ماسٹر پلان تبدیل کرنے کی اجازت دی تو مارگلہ کی پہاڑیاں ایک ہفتے میں غائب ہو جائیں گی۔
وکیل نے بتایا کہ اسلام آباد میں پانی کا معاملہ میونسپل کارپوریشن(ایم سی آئی) کو چلا گیا ہے۔ اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے سی ڈی اے اور میونسپل کارپوریشن کے حکام سے کہا کہ ’آپ دونوں ادارے آپس میں لڑتے رہیں اسلام آباد کا بیڑا غرق ہو رہا ہے۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ٹی وی پر میئر اسلام آباد کا شیڈول دیکھ رہا تھا وہ اسلام آباد کے نہیں لندن کے مئیر لگ رہے تھے کیونکہ ان کا زیادہ تر وقت وہیں گزرتا ہے۔ سی ڈی اے اور میٹرو پولیٹن کارپوریشن کچھ کرنے کو تیار نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’رات کو ڈرائیور کے ساتھ اسلام آباد کا چکر لگاتا ہوں تو بڑی خوشبو آتی ہے۔ بلیو ایریا سمیت تمام سڑکوں پر آپ کو گند اور کوڑا ملے گا۔ اسلام آباد میں لاقانونیت اور بیڈگورننس ہے۔ ایم سی آئی کو ملنے والا سارا پیسہ تنخواہوں میں چلا جاتا ہے۔ ایم سی آئی اور سی ڈی اے ملازمین نظر نہیں آتے۔ لگتا ہے گھوسٹ ملازمین بھرتی کیے ہوئے ہیں۔ سی ڈی اے کا چپڑاسی سرکاری زمینوں پر قبضہ کرا دیتا ہے۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ ’سی ڈی اے سپریم کورٹ کے احکامات نہیں مانتا۔ سی ڈی اے کو معلوم نہیں کس چیز سے کھیل رہا ہے۔ عدلیہ ریاست کا تیسرا ستون اور سی ڈی اے ایک چھوٹا سا ادارہ ہے۔ عدالت ایک حکم پاس کرے تو سی ڈی اے بند اور ملازمین فارغ ہو جائیں گے۔ سی ڈی اے نے آئین کے تحت نہیں چلنا تو قوم کو اس کی ضرورت نہیں۔ سب نے اپنے کام سے سمجھوتہ کر لیا ہے، پورے ملک کا یہی حال ہے۔‘
عدالت نے چیئرمین سی ڈی اے اور میئر اسلام آباد کو طلب کرتے ہوئے سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی۔

5:26 PM

ماسک افغانستان سمگل ہونے کا انکشاف

پاکستان میں کرونا وائرس پھیلنے کے خدشات کے بعد خیبر پختونخوا سے سرجیکل ماسک افغانستان سمگل کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
 سمگلنگ کے باعث صوبہ خیبر پختونخوا میں سرجیکل ماسک کے بحران سمیت قیمتیں بھی مزید بڑھ گئیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس کے خدشات کے باعث سرجیکل ماسک کی مانگ اور استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔
میڈیکل سٹورز مالکان کے مطابق ہول سیل میں ماسک نہیں مل رہے جبکہ بلیک میں افغانستان اور ایران اسمگل کیا جاتا ہے۔
شہر کے میڈیکل سٹورز میں سرجیکل ماسک نہیں مل رہے اور جن کے پاس موجود ہیں تو وہ بھی شہریوں کی قوت خرید سے باہر ہیں۔
5:24 PM

پاکستان کی سماجی کارکن جلیلہ حیدرکوانٹرنیشنل ویمن کوریج ایوارڈ دینےکااعلان

امریکا نےپاکستان کی سماجی کارکن جلیلہ حیدرسمیت دنیابھرسے 12خواتین  کوسالانہ انٹرنیشنل ویمن کوریج ایوارڈ دینےکااعلان کیا  ہے ۔
غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کےمطابق امریکا کےاسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سےپاکستان کےصوبہ بلوچستان سےتعلق رکھنےوالی سماجی کارکن جلیلہ حیدرسمیت دنیابھرسے 12 خواتین کو سالانہ انٹرنیشنل ویمن کوریج (آئی ڈبلیو او سی) ایوارڈدینے کا  اعلان  کیا گیا ہے ۔
اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سےجاری اعلامیےکےمطابق پاکستان کےعلاوہ افغانستان، ارمینیا، آذربائیجان، بولیویا، برکینا فاسو، چین، ملائیشیا، نیکارا گوا، شام، یمن اور زمبابوےسےغیرمعمولی خدمات انجام دینےوالی خواتین کوایوارڈ کےلیےنامزد کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق سیکریٹری آف اسٹیٹ کی جانب سے 12 غیر معمولی خواتین کواسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں ایوارڈ کی تقریب میں خاتون اول میلانیا ٹرمپ مذکورہ خواتین کی خدمات کےاعتراف میں خطاب بھی کریں گی۔
اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کےمطابق سیکریٹری آف اسٹیٹ کی جانب سےدنیابھرمیں امن، انصاف،انسانی حقوق، صنفی مساوات اورخواتین کو بااختیاربنانےاوردیگر خدمات پر یہ ایوارڈ دیا جاتا ہے۔
اعلامیے کےمطابق اب تک 73 ممالک سے تعلق رکھنے والی 134 خواتین کو یہ ایوارڈ دیا جاچکا ہے اور رواں اس کی تعداد بڑھ کر 144 خواتین اور 77 ممالک تک وسیع ہوجائے گی۔
5:22 PM

اےٹی ایم فراڈکیس:چینی باشندےکو 6 سال قید کی سزا

کراچی کی سیشن کورٹ نےاےٹی ایم فراڈ کیس میں ملوث چینی باشندےکو 6سال قیداورجرمانےکی سزاسنادی۔
تفصیلات کےمطابق کراچی کےسیشن جج جنوبی امجد علی بھائیو نےآٹومیٹک ٹیلز مشین (اے ٹی ایم اسکینڈل) کیس کافیصلہ سناتےہوئےجرم ثابت ہونے پر چینی باشندے لیولینن کو 6 سال 3ماہ قید کی سزا سنائی۔
اس کےعلاوہ عدالت نےمجرم کو 10 لاکھ روپے سے زائد جرمانہ ادا کرنےکابھی حکم دیا۔
چینی باشندے لیولینن پر ڈیفنس میں اےٹی ایم سے ڈیوائسز لگا کرٹرانزیکشن کرنےاورمختلف اے ٹی ایمزسےڈیٹا چوری کرنے کاالزام تھا۔
واضح رہےکہ گزشتہ برس اے ٹی ایم اسکمنگ کےذریعےفراڈ کی وارداتوں کاانکشاف ہوا تھا جس میں کئی شہریوں کا ڈیٹا ہیک کرکے ان کے اکاؤنٹ سے رقوم چرائی گئی تھیں۔
صارفین اوربینکوں کی شکایات پرایف آئی اے نے فوری ایکشن لیا تھا اورکراچی کےنجی بینک میں اسکمنگ لگاتے ہوئے 2 چینی باشندوں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔