Popunder ads

Breaking

America لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
America لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 6 مارچ، 2020

10:55 AM

امریکہ میں کرونا وائرس سے مزید 2 اموات، تعداد 11 ہوگئی

ویب ڈیسک — 
امریکہ میں کرونا وائرس سے مزید دو افراد چل بسے جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد گیارہ ہوگئی ہے۔ ان میں سے دس اموات ریاست واشنگٹن میں ہوئی ہیں جبکہ بدھ کو شمالی کیرولائنا میں ایک شخص کا انتقال ہوا۔
کیلی فورنیا کی لاس اینجلس کاؤنٹی میں وائرس کے چھ مریضوں کی تصدیق کے بعد ہیلتھ ایمرجنسی لگادی گئی ہے جبکہ نیویارک میں 9 نئے کیس سامنے آئے ہیں۔
امریکہ میں وائرس میں مبتلا افراد کی تعداد کم از کم 130 ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ٹیسٹ کا دائرہ بڑھایا جائے تو مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی وائرس کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ خاص طور پر اس کا نشانہ چین ہے جہاں 119 نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور 38 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ 20 جنوری کے بعد یہ چین میں سب سے کم تعداد ہے۔ چین کے بعد سب سے زیادہ متاثر ملک جنوبی کوریا میں کیسز کی تعداد 5200 سے زیادہ ہوچکی ہے۔ ایران میں مریضوں کی تعداد 3 ہزار اور اٹلی میں 2200 تک پہنچ گئی ہے۔
وائرس کی وجہ سے عالمی معیشت سست وری کا شکار ہوئی ہے اور امریکہ کے مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی کا بھی خاص فائدہ نظر نہیں آیا۔
وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے حکومتیں ہرممکن کوششیں کررہی ہیں اور ہر جگہ اولین اقدام کے طور پر تعلیمی ادارے بند کیے جارہے ہیں۔ پاکستان کے علاوہ اٹلی، ایران، متحدہ عرب امارات اور امریکہ کے وائرس سے متاثرہ علاقوں میں اسکول کالج بند کیے گئے ہیں۔
بعض مقامات پر لوگ گھبراہٹ کا شکار ہوئے ہیں اور انھوں نے سازوسامان سے گھر بھر لیے ہیں۔ امریکی شہر سیاٹل میں شہریوں نے اتنی تعداد میں سامان خرید لیا کہ گروسری اسٹورز خالی نظر آرہے ہیں۔ آسٹریلیا میں بھی خاص طور پر ٹشوپیپر اور ٹوائلٹ پیپر اتنی بڑی تعداد میں خریدے گئے ہیں کہ ڈاکٹروں کو شہریوں سے اپیل کرنا پڑی ہے کہ ایسا نہ کریں۔
ادھر سعودی عرب میں اگرچہ کرونا وائرس کے صرف ایک مریض کی تصدیق ہوئی ہے لیکن حکومت نے غیر معمولی اقدامات کیے ہیں۔ اس نے پہلے غیر ملکی زائرین کے عمرہ کرنے پر پابندی لگائی تھی لیکن اب غیر ملکی کارکنوں اور اپنے شہریوں کے عمرہ کرنے اور مدینہ جانے پر پابندی لگادی ہے۔

بدھ، 4 مارچ، 2020

4:57 PM

امریکا ، پھسلن کے باعث گاڑیاں آپس میں ٹکراگئیں

امریکا میں پھسلن کے باعث 100 سے زائد گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں۔یہ واقعہ امریکی ریاست وائیومنگ کی ہائی وے پر اُس وقت پیش آیا جب سخت سردی سے سڑک پر پھسلن پیدا ہوئی اور یوں 100 سے زائدگاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں۔گاڑیوں کے خطرناک تصادم کے باعث درجنوں گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔حادثے میں تین افرادجان سے ہاتھ دھو بیٹھے اوردرجنوں زخمی ہوئے ہیں۔
4:51 PM

کورونا وائرس، امریکا شرح سود کم کرنے پر مجبور

 امریکا کے مرکزی بینک نے منگل کے روز کورونا وائرس کے پھیلائو سے عالمی معیشت کو درپیش خطرات کے باعث ہنگامی بنیادوں پر شرح سود میں کمی کا اعلان کردیا، امریکی صدر اس کا بہت عرصے سے مطالبہ کررہے تھے تاہم وہ اس کمی سے بھی مطمئن نہیں ہیں اور مزید کمی خواہاں ہیں۔ تاہم کئی معاشی ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ شرح سود میں کمی کے جارحانہ اقدام کے دور رس نتائج مرتب ہوں گے اور دنیا بھر میں پریشانی کے شکار سرمایہ کار اس اقدام کو امریکی مرکزی بینک کے دیوالیہ ہونے کے امکان کے طور پر دیکھیں گے۔ ورلڈ بنک نے کورونا سے نمٹنے کے لیے 12 ارب ڈالر امداد کا اعلان کردیا ہے۔ امریکی فیڈرل پالیسی کمیٹی نے شرح سود میں نصف پوائنٹ کمی کرتے ہوئے اس کی حد 1.0 سے لیکر 1.25 تک مقرر کردی، یہ 2008 کے آخر میں عالمی معاشی بحران کے بعد امریکا میں سب سے بڑی کمی ہے۔ دوسری جانب اوپیک ممالک کورونا وائرس کے باعث تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے حوالے سے ویانا میں کل جمعرات کو مذاکرات کریں گے۔
4:43 PM

سابق امریکی نائب صدر جو بائیڈن اپنی اہلیہ اور بہن کے تعارف میں گڑبڑا گئے

امریکا کے سابق نائب صدر جو بائیڈن منگل کے روز کیلفورنیا میں اپنے حامیوں کے مجمع سے خطاب کے موقع پر اپنی اہلیہ اور بہن کے تعارف میں غلطی سے خلط ملط کر بیٹھے۔انہوں نے پہلے اپنی اہلیہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے مجمع سے مخاطب ہو کر کہا کہ "یہ میری چھوٹی بہن ویلری ہیں" ... اس کے بعد انہوں نے اپنی بہن کا ہاتھ پکڑ کر بآواز بلند کہا کہ "یہ میری اہلیہ ہیں"۔ تاہم بائیڈن نے فورا ہی اپنی غلطی کو جان لیا اور پھر مجمع کو بتایا کہ ان دونوں خواتین نے اپنے کھڑے ہونے کی جگہ ایک دوسرے کے ساتھ تبدیل کرلی۔ اس کے بعد سابق نائب صدر نے ایک بار پھر تعارف کراتے ہوئے کہا کہ "یہ میری اہلیہ ہیں اور یہ ہیں میری بہن" ... اس موقع پر 2020 کے امریکی صدارتی انتخابات کے لیے ممکنہ امیدوار کے حامیوں کی زوردار ہنسی کی آوازیں گُونجیں۔

منگل، 7 جنوری، 2020

10:02 PM

امریکہ ایران کشیدگی نشانہ کون ؟؟



دنیا کی نظریں پھر پاکستان پر جم گئیں بہت جلد امریکہ پاکستان کو یہ پیغام بھیجنے والا ہے کہہ وہ ایران کے خلاف بلوچستان میں امریکی فوج کو پناہ دے وگرنہ پاکستان کو اس جنگ میں امریکہ کے خلاف سمجھاگا۔ا ہی ایک پیغام مشرف دور میں بھی آیا تھا کہہ پاکستان افغانستان کے خلاف ہمارا ساتھ دے وگرنہ پاکستان کو اس جنگ میں امریکہ کے خلاف سمجھا جائے گا
گیم یہ تھی کہ پاکستان کبھی مانے گا نہیں اور ہم افغانستان کو چھوڑ کر پاکستان پر چڑھ دوڑیں گے

کیوں ایران کا سب سے بڑا دوست اور بزنس پاٹنر انڈیا بھی پوری طرح خاموش ہے ؟

جبکہ انڈیا 24 گھنٹے امریکہ کی چاپلوسی کرتا رہتا ہے اور امریکہ کو اپنا آقا جانتا ہے
تو اس پورے سنیریو میں انڈیا کہاں کھڑا ہوگا ؟

کیوں سعودیہ بھی امریکی جنگی بیڑے کی ایران کی طرف پیش قدمی پر خاموش ہے 
جبکہ سعودیہ اور ایران خود ہی ایک دوسرے کے بڑے دشمن ہیں ؟
اس جنگ میں سعودیہ کہاں کھڑا ہوگا ؟

دوسری طرف اسرائیل امریکہ کو ایران کے ساتھ براہ راست جنگ کرنے سے باز کررہا ہے اور اسے سعودیہ کو ایران کے ساتھ لڑوانے کی تلقین کررہا ہے ؟

ایک بحث یہ بھی ہے کہ امریکہ و ایران جنگ کی صورت میں کس نے کہاں سے مورچہ سنبھالنا ہے ؟
سعودیہ براستہ عراق 
یا 
پاکستان براستہ بلوچستان

کیونکہ ایران کی بڑی اور محفوظ سرحدیں تو انہیں ملکوں سے ملی ہوئی ہیں

ایک بحث یہ بھی ہے کہہ اس جنگ سے کس کا نقصان اور کس کا فائدہ ہوگا
یقینن جو امریکہ کے ساتھ کھڑا ہوگا اسی کو فائدہ ہوگا وہی خوب ڈالر کمائے گا
جیسا کہہ پاکستان 
امریکہ افغان جنگ میں پاکستان بھی اس سہولت سے بہت دیر تک فائدہ اٹھاتا رہا ہے اور اربوں ڈالر سالانہ بطور امداد لیتا رہا ہے

خیر ہم یہ بھی بھول رہے ہیں کہہ جہاں پاکستان و عراق کی بڑی سرحدیں ایران کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں وہیں ترکی کی سرحد بھی ایران کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔

یعنی کہانی میں ٹوسٹ

امریکہ اور ترکی بھی تو ایک دوسرے کے بڑے حریف مانے جاتے ہیں
تو کیا یہ شرینتر ترکی کے لیے رچایا جارہا ؟

کیونکہ 2023 میں ترکی پر لگی 100 سال کی تمام پابندیاں ختم ہونے والی ہیں 100 سال کی پابندیوں میں رہ کر ترکی نے جو ترقی کی وہ قابل تعریف ہے پابندیا ہٹ گئی تو ترکی کہاں پہنچ جائے گا ؟

اب یہ سوال بھی ڈٹ کر کھڑا ہے کہہ اس لڑائی میں ترکی کہاں کھڑا ہوگا ؟

خیر واپس آجائیں

ترکی ابھی بہت دور ہے ترکی میں گھسنے کے لیے 50% ایران فتح کرنا ہوگا اور ایران کو فتح کرنے کے لیے پاکستان کو اس لڑائی میں شامل کرنا ہوگا اور پاکستان و ایران کی سرحد بلوچستان میں واقع ہے اور بلوچستان میں سی پیک بن رہا ہے !!
چین 
سی پیک کا نام لیتے ہی ہمارے ذہن میں چین آتا ہے کیونکہ چین کی مہربانی سے ہی تو سی پیک پروان چڑھ رہا ہے اب دنیا کچھ بھی کہے اس وقت دنیا کی معاشی سپر پاور تو چین ہی ہے اور متوقع سپر پاور بھی اور یہ بات امریکہ بہادر کو کہاں ہضم ہورہی ہے

تو اس کھینچا تانی میں چین کہاں کھڑا ہوگا چین تو ہرگز امریکہ کو بلوچستان میں قدم نہیں جمانے دے گا کیونکہ گوادر پورٹ پر چین اربوں روپیہ لگا چکا ہے اور بدقسمتی یہ کہہ گوادر سے پانی کے راستے ایک 1 گھنٹے کی مسافت پر ایران کی سرحد ہے یعنی پورے بلوچستان میں ایران کے قریب سرحد گوادر ہے 
اور جنگ کے لیے نہایت مناسب جگہ بھی

یعنی اگر ایران و امریکہ جنگ ہوتی ہے امریکہ بلوچستان میں قدم رکھ لیتا ہے تو ہمارا سی پیک 30/40 سال کے لیے کھڈے لائن لگ جاتا ہے ۔
اب مجھے ایک مرد مجاہد جنرل حمید گل رح کی بات یاد رہی ہے انہوں نے مرنے سے پہلے کہا تھا کہہ جس دن امریکہ ایران پر حملہ کرے گا اس دن آکر میری قبر پر پیشاب کردینا۔

میرے نزدیک آج بھی جنرل حمید گل کی بات زیادہ اہمیت رکھتی ہے کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہہ امریکہ کا نشانہ افغانستان یا ایران نہیں پاکستان کی ترقی اور ایٹمی اثاثے ہیں جو امریکہ کے لیے پریشان کن ہیں۔

اور پچھلے دنوں سے تو تیل و گیس کے ذخائر کی خبریں بھی بہت گرم تھی پھر اچانک یہ کیا ہوا کہہ تیل کے ذخائر نہیں ملے کا اعلان کرنا پڑ گیا جبکہ 3 دن پہلے کی ہیڈلائن یہ تھی کہہ ڈرلنگ مکمل تیل کے ذخائر کی مقدار کو جانچنے کا عمل شروع ؟

1۔ ‏ایگزون موبیل کا ڈرلنگ کرنا
2۔ پریشر کِک کا ملنا
3۔ ڈرلنگ مکمل ہو جانا
4۔زخائر کی مقدار کو جانچنے کا عمل شروع ہو جانا
5۔ ڈرلنگ والی جگہ کو ایک دم پاک بحریہ کا سیکیورٹی حصار میں لے لینا
6۔ ڈرلنگ بند
7۔ امریکہ ایران ٹینشنز
8۔ ایرانی سرحد سے ڈرلنگ والی جگہ صرف تین سو کلومیٹر دور 
9۔ کُھلے سمندر کو علاقہ غیر قرار دے دینا 
10۔ پاک بحریہ کے چیف کا عمران خان سے ملنا

یقینن معاملہ سیکیورٹی رسک ہوگیا ہے 
ایران بھارت گٹھ جوڑ تو سب کے سامنے ہے اب امریکہ کیسے چاہے گا کہہ پاکستان سے تیل نکل آئے کیونکہ اس خطے کی واحد ایٹمی طاقت پاکستان ہے اور اگر تیل بھی نکل آیا تو معاشی طاقت بھی ہم بن جائیں گے تو اس خطے پر پاکستان کی حکومت ہوگی اور امریکہ کا راستہ بند ہوجائے گا۔

تو قل ملا کر بات یہ ہے کہہ گھیرا پاکستان کے گرد ہی تنگ کیا جارہا ہے
آزمائیش کی گھڑی ہے پاکستانی قوم کے لیے اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہوجاو 
بس رہے نام اللہ کا 
#تحریر_نوریز
کم از کم پانچ گروپوں میں شیئر کر کہ وائرل کرنا آپکی اولین ذمہ داری ہے۔۔آپکو پاکستان کے لئے کچھ کرنا پڑے گا۔آپ پاکستان کی آرمی ہیں۔اس وقت پاکستان شدید مالی بحران کا شکار ہونے کے ساتھ بیرونی خطرات کا شکار بھی ہے۔
آئیں ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کہ عہد کریں کہ مرتے دم تک پاکستان اور اس کے چاہنے والوں کے ساتھ مل کر لڑیں گے۔
پاکستان زندہ باد 

ہفتہ، 21 دسمبر، 2019

6:37 PM

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات

ریاستہائے مت 1947حدہ نے 1947 میں ملک کی تشکیل کے بعد پاکستان کے ساتھ مفاہمت کے تعلقات استوار کیے تھے۔ ان خطوں میں ہماری پاکستان کے ساتھ ایک وسیع کثیر الجہتی رفاقت ہے جو تبادلہ اور قیاس آرائی کی ہدایت سے لے کر جیولٹی تک جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ ، ریاستہائے متحدہ امریکہ اور پاکستان ایک ٹھوس سیکیورٹی تنظیم جاری رکھے ہوئے ہیں جو خوف زدہ نظاموں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ 2014 میں کراچی کے ہوائی جہاز کے ٹرمینل اور پشاور کے آرمی اسکول پر ہونے والے حملوں نے پاکستان پر ایک مشترکہ اثر پڑا اور اس نے نفسیاتی جبر کے خاتمے کے لئے 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان (نیپ) کی منظوری دی ، اور مقامات کو ٹھکانے لگانے کی کوششوں کو ابھارا۔ پاکستان کے اندر پناہ۔ امریکہ نے پاکستان کے اس عہد کا احترام کیا ہے کہ کارکنوں کی کسی بھی جگہ پناہ کی جگہ یا پاکستان کی سرزمین کو نفسیاتی عسکریت پسندوں کے حملوں کے لئے استعمال کرنے سے انکار کیا جائے۔ پاکستان مقامی نفسیاتی جبر کا مقابلہ کرنے کے لئے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) اور قوم کے مختلف علاقوں میں قابل ذکر فوجی کارروائیوں کی ہدایت کرتا رہتا ہے۔ دو پاکستانی ریسرچ گروپوں نے 2016 میں پاکستان میں وحشیانہ گزر (45٪ تخفیف) اور وحشی اقساط (28٪ کمی) میں شدید کمی کو 2015 کے برعکس قرار دیا۔


 باہمی معاشی تعلقات

ریاستہائے متحدہ امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی کرایے کا حامل ملک ہے ، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا تبادلہ ساتھی ہے اور یوروپی یونین پاکستان کا سب سے بڑا کرایے کی نمائش ہے۔ مالی سال 2016 (جولائی 2015 - جون 2016) میں ، پاکستان نے 2015 میں 3.7 بلین ڈالر امریکہ کو بھیجے اور 1.837 بلین ڈالر درآمد کیے۔ پاکستان کے تمام ممالک کے کرایوں کا تخمینہ 20.79 بلین ڈالر رہا ، جو مالی سال 2015 سے 12.17 فیصد کمی ہے اور اس کی درآمدات 2.32 فیصد کم ہوکر 44.765 بلین ڈالر رہ گئیں۔ اسی عرصے کے دوران بیرون ملک آباد بیرون ملک آباد بستیوں میں کمی واقع ہوئی ، لیکن آہستہ آہستہ (.9 19.9 بلین) نے باضابطہ رکھوالے میں منی ڈویژن کا تجربہ کیا ، جس سے اس خیال کو متاثر کیا گیا کہ بستیوں میں 6.3 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ پاکستانی رہائشیوں کے 500،000 سے بھی کم افراد امریکہ میں مقیم ہیں۔ امریکہ قابل اعتماد طور پر پاکستان کے لئے بیرونی براہ راست قیاس آرائیوں (ایف ڈی آئی) کے بہترین بہبودوں میں سے ایک رہا ہے ، لاگ بک سال 2015 میں پاکستان میں مجموعی طور پر امریکی ایف ڈی آئی عملی طور پر 400 ملین ڈالر ہے جس میں نئے منصوبے میں 38 ملین ڈالر شامل ہیں۔ پاکستان نے اپنے تبادلے اور وینچر ایڈمنسٹریشن کو تبدیل کرنے کے ل throughout سالوں میں ایک ساتھ یا ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) ، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) ، اور عالمی بینک کے ساتھ فرائض انجام دینے کے ل str اقدامات کیے ہیں۔ پاکستان نے اپنا پہلا تاریخی طور پر بولنے والا آئی ایم ایف توسیعی فنڈ سہولت پروگرام سن 2016 میں ختم کیا تھا اور بیرونی قیاس آرائوں کے لئے اعتدال کے ساتھ کھلا ہے ، اس کے باوجود عالمی بینک کے ڈوئنگ بزنس انڈیکس میں اس کی پوزیشن بہت حد تک کم ہے ، کیونکہ اس کی وجہ جیورنبل ، سلامتی اور انتظامیہ کے چیلنجز ہیں۔ مئی 2014 میں ، وزیر اعظم شریف کے 2013 کے واشنگٹن کے دورے کے بعد ، امریکی صدر نے بھی ، پاکستان نے پانچ سال سے زیادہ تبادلہ اور قیاس آرائیاں بڑھانے کے لئے مشترکہ ایکشن پلان مرتب کیا تھا۔ جون 2016 the. In میں ریاستہائے متحدہ امریکہ اور پاکستان نے چوتھی امریکی - پاکستان بزنس مواقع کانفرنس کی تشکیل کی ، جو نیو یارک سٹی میں پہلی ، کاروباری آغاز کی تحقیقات اور کاروباری تا کاروباری روابط کو بڑھانے والی تھی۔ امریکیوں کے اہم منصوبوں میں تیزی سے چلنے والے شاپر مال ، ترقی ، کیمیکلز ، جیورنبل ، نقل و حمل اور خط و کتابت میں اضافہ کیا جاتا ہے۔