Popunder ads

Breaking

Politics Articles لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Politics Articles لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 6 مارچ، 2020

10:46 AM

کیا انڈیا میں ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگانا غداری ہے؟


گذشتہ ماہ انڈیا کے شہر بنگلور میں 19 برس کی طالبہ امولیہ لیونہ پر ایک ریلی میں ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے پر انڈین پینل کوڈ کی دفع 124 اے کے تحت غداری کا مقدمہ درج کیا گیا تھا اور وہ تاحال پولیس کی حراست میں ہیں۔

20 فروری کو شہریت کے متنازع قانون سی اے اے کے خلاف ہونے والی اس ریلی میں جب امولیہ نے ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگایا تو ان کو اپنی بات پوری کرنے کا موقع نہیں دیا گیا تھا اور انھیں سٹیج سے کھینچ کر ہٹا دیا گیا تھا۔

امولیہ کا پورا ویڈیو دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ وہ اس نعرے کو سمجھانے کی کوشش کر رہی تھیں لیکن کسی نے انہیں بولنے ہی نہیں دیا ساتھ ہی اس بات کو بھی نظر انداز کیا گیا کہ وہ بھارت زندہ باد کے نعرے بھی لگا رہی تھیں۔

لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان زندہ باد کے نعرہ لگانا ’غداری‘ اور پاکستان مردہ باد کہنا ’دیش بھکتی‘ یعنی حب الوطنی کا ثبوت ہے؟
 

سپریم کورٹ کے ممتاز وکیل دشینت دوے کہتے ہیں 'پاکستان زندہ باد‘ کہنا غدادری نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’غداری تو دور کی بات ہے یہ کوئی گناہ بھی نہیں ہے جس کی بنیاد پر پولیس کسی کو گرفتار کر لے۔‘

دوے کہتے ہیں کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کی بات آئین میں درج ہے۔

’جنھیں لگتا ہے کہ پاکستان سے نفرت دیش بھکتی ہے وہ انڈیا کے وجود کو نہیں سمجھتے۔

’کسی ایک ملک سے نفرت اتنے بڑے ملک کے لیے وفاداری کا ثبوت نہیں ہو سکتی انڈیا کے آئین میں بھی اس کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔‘
 

31 اکتوبر 1984 کو اس وقت کے وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد پنجاب حکومت کے دو ملازمین بلونت سنگھ اور بھوپیندر سنگھ کو خالصتان زندہ باد اور راجکریگا خالصہ کا نعرہ لگانے کے معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

بلونت اور بھوپیندر نے اندرا گاندھی کے قتل کے کچھ ہی گھنٹے بعد چنڈی گڑھ میں یہ نعرے لگائے تھے۔

ان کے خلاف بھی انڈین پینل کوڈ کی دفع 124 اے کے تحت غداری کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ جب یہ کیسں سپریم کورٹ میں گیا تو سنہ 1995 میں جسٹس اے ایس آنند اور جسٹس فیضان الدین کی بینچ نے واضح طور پر کہا کہ اس طرح سے ایک دو لوگوں کے نعرے لگانا غداری نہیں ہے۔
 

سپریم کورٹ کی اس بینچ نے کہا تھا ایک دو لوگوں کی جانب سے ایسے نعرے لگانا حکومت اور انتظامیہ کے لیے خطرہ نہیں ہے اس میں نفرت اور تشدد بھڑکانے والی بھی کوئی بات نہیں ہے، ایسے میں غداری کا الزام لگانا غلط ہے۔

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ان دونوں نے ہندوستان مردہ باد کے نعرے بھی لگائے تھے تو جج کا کہنا تھا کہ ایک دو لوگوں کی جانب سے اس طرح کے نعرے لگانے سے ریاست یا امن و قانون کو کوئی خطرہ نہیں ہو سکتا۔

انھوں نے کہا کہ غداری کا چارج اسی وقت لگایا جانا چاہیے جب کوئی فرقوں میں نفرت پیدا کرے۔ انھوں نے کہا کہ پولیس نے انہیں گرفتار کر کے کوئی سمجھداری کا ثبوت نہیں دیا کیونکہ کشیدہ حالات میں اس طرح کی گرفتاریوں سے صورتِ حال مزید بگڑتی ہے۔
 

اسی طرح کے الزامات جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالبِ علم کنہیا کمار پر بھی لگائے گئے ہیں تاہم ابھی تک ان کے خلاف چارج شیٹ داخل نہیں کی گئی تاہم دلی حکومت کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد ان کے خلاف چارج شیٹ دائر کی جا سکتی ہے۔

اگر عدالت میں یہ ثابت ہو بھی جاتا ہے کہ نعرے لگائے گئے تھے تو بھی جسٹس اے ایس آنند کے فیصلے کی مثال ضرور دی جائے گی۔

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس بی سدرشن ریڈی نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ امولیہ کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنا قانون کے غلط استعمال کے مترادف ہو گا۔
 

ان کا کہنا تھا کہ اس میں غداری کا معاملہ کہاں سے بنتا ہے اس لڑکی نے جو بھی کہا اس کے لیے تازیراتِ ہند کے تحت کوئی کیس ہی نہیں بنتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ غداری تو دور کی بات ہے امولیہ پر کسی طرح کا کوئی مجرمانہ کیس بھی نہیں بنتا۔

جسٹس ریڈی نے کہا کہ اگر امریکہ زندہ باد اور ٹرمپ زندہ باد کہنے میں کوئی پریشانی نہیں ہے تو پھر پاکستان زندہ بار کہنے میں بھی کوئی دقت نہیں ہونی چاہیے۔

امولیہ بنگلور یونیورسٹی میں صحافت کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور اس کیس میں انھیں عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔ جسٹس ریڈی کا کہنا تھا کہ عدالت کو اس میں از خود نوٹس لینا ہو گا ورنہ حملوں میں اضافہ ہوتا جائے گا۔
 

ان کہنا تھا کہ پاکستان زندہ بار کے نعرے لگانا اس وقت تک جرم نہیں ہے جب تک انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ نہ ہو رہی ہو یا پھر پاکستان کو دشمن ملک قرار نہ دیا گیا ہو۔

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والی دفعہ 370 ختم کیے جانے کے بعد سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی ضرور ہے لیکن دونوں ملکوں کے درمیان رسمی سفارتی تعلقات ابھی بھی برقرار ہیں۔

تو کیا انڈیا اور پاکستان کے درمیان میچ میں پاکستان کی جیت پر خوشی منانا بھی غداری ہے۔ 2017 میں کرکٹ چیمپیئن ٹرافی میں انڈیا کے خلاف پاکستان کی جیت پر جشن منانے کے الزام میں 20 مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ معاملہ ریاست مدھیہ پردیش اور راجھستان کا تھا۔ ان لوگوں پر غداری کا مقدمہ درج کیا گیا تھا لیکن بعد میں مدھیہ پردیش کے 15 لوگوں پر سے یہ مقدمہ ہٹا لیا گیا تھا۔

حال ہی میں آسٹریلیا میں خواتین کا ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میچ کور کرنے والے صحافی وویک کمار کا کہنا تھا کہ جب بھی انڈیا اور آسٹریلیا کے درمیان کرکٹ میچ ہوتا ہے تو بڑی تعداد میں وہاں بسنے والے انڈین سٹیڈیم میں میچ دیکھنے آتے ہیں اور سٹیڈیم میں بیٹھ کر ’بھارت ماتا کی جے‘ اور ’وندے ماترم‘ کے نعرے لگاتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اس پر کوئی یہ سوال نہیں اٹھاتا کہ آپ یہاں کی کھاتے ہیں اور انڈیا کی گاتے ہیں بلکہ وہاں کے لوگ اس سے محظوظ ہوتے ہیں۔ یہاں پسند کے حوالے سے کسی کو غدار قرار نہیں دیا جاتا۔‘

دوسری جانب انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان ویراٹ کوہلی سے جب نومبر 2018 میں ایک مداح نے کہا کہ اسے انڈین کھلاڑیوں سے زیادہ انگریز اور آسٹریلیائی کھلاڑی پسند ہیں تو کوہلی نے اسے انڈیا چھوڑ کر دوسرے ملک میں بسنے کی صلاح دے ڈالی تھی۔
 

وویک کہتے ہیں کہ انڈین لڑکیاں عمران خان، وسیم اکرم یا شعیب اختر کو خوب پسند کرتی تھیں اور ایسا بھی نہیں کہ صرف مسلمان لڑکیاں ہی انھیں پسند کرتی ہوں۔ اسی طرح اداکار فواد خان بھی انڈین لڑکیوں میں کافی مقبول تھے۔

غداری کے معاملے میں دفعہ 124 اے پر سپریم کورٹ نے سب سے اہم فیصلہ 1962 میں کیدار ناتھ بمقابلہ بہار حکومت میں سنایا تھا۔

سنہ 1953 میں کیدار ناتھ نے بیگو سرائے کی ایک ریلی میں اس وقت بہار کی کانگریس حکومت پر جم کر تنقید کی تھی۔

اپنی تقریر میں کیدار ناتھ نے کہا تھا کہ ’سی آئی ڈی کے ’کتے‘ یہاں گھوم رہے ہیں اور کچھ اس ریلی میں بھی موجود ہیں انڈیا کے لوگوں نے برطانوی راج کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا اور اب انگریزیوں کی طرح کانگریس کے ان ’غنڈوں‘ کو بھی اکھاڑ پھینکیں گے۔‘

اس معاملے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ حکومت کے خلاف سخت الفاظ کا استعمال غداری نہیں ہے۔ عدالت نے واضح کیا تھا کہ جب تک کوئی تشدد اور نفرت نہیں پھیلاتا اس پر غداری کا مقدمہ نہیں بن سکتا۔

عدالت نے کہا تھا کہ لوگوں کو حکومت کی نکتہ چینی کرنے اور اپنی پسند اور ناپسند ظاہر کرنے کا حق ہے۔

قوم پرستی اور غداری کی سیاست
2014 میں مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے کئی ایسی چیزیں سامنے آئیں جنھیں حب الوطنی یا قوم پرستی سے جوڑ دیا گیا۔

جیسے سینما گھروں میں فلم شروع ہونے سے پہلے بجنے والا قومی ترانے پر کھڑا ہونا لازمی قرار دیا گیا۔ کچھ لوگوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو ان کی پٹائی کی گئی۔کیا بولنا چاہیے اورکیا نہیں یہ بھی طے کیا جانے لگا۔

مؤرخ مردولہ مکھرجی لفظ قوم پرستی کا مطلب اور اس کی باریکیوں کو انڈیا کی آزادی کی لڑائی کے پسِ منظر میں دیکھتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ہٹلر کی قوم پرستی نہرو اور گاندھی کی قوم پرستی سے مختلف تھی۔ یورپ کی قوم پرستی میں دشمن اندر ہی تھے جبکہ انڈیا میں یہ برطانوی سامراجیت کے خلاف پیدا ہوئی تھی۔

جس نے لوگوں کو برطانوی حکومت کے خلاف متحد کیا تھا اور جہاں بنیادی شناخت انڈین تھی اور اس میں ذات پات، زبان یا مذہب کی اہمیت نہیں تھی۔

1922 میں مہاتما گاندھی کو غدار قرار دیا گیا، انگریز اس قانون کا استعمال کر کے آزادی کا نعرہ لگانے والوں کو جیل میں ڈالتے تھے۔ انڈیا کے غداری کا یہ قانون آزاد انڈیا میں آج بھی چل رہا ہے اور اس کا بھر پور استعمال کیا جا رہا ہے۔

انگریزوں کا بنایا ہوا یہ قانون آج بھی انڈیا میں نہ صرف موجود ہے بلکہ آج کے دور میں اس کا استعمال بھی ہو رہا ہے جبکہ خود برطانیہ نے سنہ 2009 میں اس قانون کو ختم کر دیا تھا۔
 

غداری کا یہ قانون 17ویں صدی میں بادشاہ اور حکومت کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانے کے لیے لگایا گیا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ حکومت کے بارے میں صرف اچھی باتیں کریں اسی قانون کو انگریزوں نے 1870 میں بھارت میں نافذ کر دیا تھا اور اس قانون کا خوب استعمال کیا تھا۔

نہرو ، پٹیل اور شیاما پرساد مکھرجی
آئین نافذ ہونے کے تقریباً 17 مہینے بعد اس بات پر بحث شروع ہوئی کہ آزادی اظہار کی کیا حد ہونی چاہیے۔

آخرکار سنہ 1951 میں آئین میں پہلی ترمیم کر کے تین نئی شرطیں جوڑی گئیں، پبلِک آرڈر، دوسرے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور جرم کرنے کے لیے اکسانہ یعنی آپ ایسا کچھ نہ لکھیں اور نہ ایسا بولیں جس سے امن و امان خراب ہو۔

مشہور وکیل ابھینو چندر چور نے اپنی کتاب ’رپبلِک آف ریٹرک فری سپیچ اینڈ دی کنٹینیوایشن آف انڈیا‘ میں لکھا ہے کہ آئین کی پہلی ترمیم کے ذریعے بھارتیہ جنگ سنگھ کے بانی شیام پرساد مکھرجی کو پاکستان کے خلاف لڑائی چھیڑنے کی بات کرنے سے روکا گیا تھا انھیں دوسرے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا حوالہ دے کر نہرو اور پٹیل نے روکا تھا۔

ابھینو چندر چور نے اپنی کتاب میں لکھا کہ نہرو نے پٹیل کو خط لکھ کر کہا کہ شیم پرساد ہندو مہا سبھا اکھنڈ بھارت کی بات کر کے پاکستان کے ساتھ جنگ کی باتیں کر رہے ہیں اور انھیں اس پر تشویش ہے۔ جواب میں پٹیل نے کہا کہ اس کا حل آئین میں موجود نہیں ہے۔

سنہ 1940 میں نہرو لیاقت پیکٹ کی مخالفت کرتے ہوئے مکھرجی نے نہرو کی کابینہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے بعد مکھرجی کھلے عام انڈیا پاکستان جنگ کی باتیں کرنے لگے تھے۔
 

جس کے بعد ہی آئین میں پہلی ترمیم کی گئی تھی۔ جس میں نئی شرطیں جوڑی گئیں، پبلِک آرڈر، دوسرے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور جرم کرنے کے لیے اکسانہ شامل کیا گیا۔ اس میں دوسرے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو شیام پرساد مکھرجی کو روکنے کے لیے شامل کی گیا تھا۔

نہرو نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ جو کوئی بھی ایسا کرے گا جس سے جنگ بھڑکنے کا خطرہ ہو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا کیونکہ اظہارِ آزادی رائے کے نام پر جنگ نہیں جھیلی جا سکتی۔

جواب میں شیام پرساد مکھرجی نے کہا تھا کہ ملک کا بٹوارہ ایک غلطی تھی اور ایک نہ ایک دن اسے ختم کرنا ہو گا چاہے اس کے لیے طاقت کا ہی استعمال کیوں نہ کرنا پڑے۔

دشینت دوے کہتے ہیں کہ بی جے پی کے اراکان پرویش ورما اور مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر پر غداری کا مقدمہ درج ہونا چاہیے تھا کیونکہ انھوں نے جو کچھ بھی کہا وہ ریاست میں امن و قانون کے لیے خطرہ اور تشدد بھڑکانے کے لیے تھا لیکن ابھی تک ان دونوں پر کوئی مقدمہ نہیں کیا گیا۔

بدھ، 4 مارچ، 2020

8:50 AM

کیا حکومت نواز شریف کو برطانیہ سے پاکستان واپس لا سکے گی؟


اتوار کو وزیراعظم پاکستان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیان دیا کہ 'علاج کے غرض سے پاکستان سے برطانیہ جانے والے وی آئی پی قیدی میاں محمد نواز شریف کو پاکستان واپس لانے کا وقت آچکا ہے۔ اس لیے وفاقی حکومت برطانوی حکومت کو یہ خط لکھنے جا رہی ہے کہ ان کو برطانیہ سے جلا وطن کیا جائے'۔

اس بیان کے ردعمل میں مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’میں تحریک انصاف کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ لندن میں علاج کی غرض سے مقیم سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ملک بدر کروانے کے لیے برطانیہ کی حکومت سے رجوع کریں۔‘

حکومت کے اس اقدام کے بارے میں بی بی سی نے چند ماہرین سے اس کے قانونی پہلوؤں پر بات کی۔

قانونی پہلو
کسی شخص کی حوالگی سے متعلق بین الاقوامی قوانین کے بارے میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے وکیل ہاشم احمد خان نے بتایا کہ نواز شریف کو پاکستان لانے کے لیے حکومت کو ایک مخصوص طریقہ کار اپنانا پڑے گا اور یہ فیصلہ برطانوی ہوم سیکریٹری پر منحصر ہے۔

ان کے مطابق ’اگر حکومت پاکستان برطانوی حکومت سے درخواست کرتی ہے کہ میاں محمد نواز شریف کو پاکستان بھیجا جائے تو اس کے لیے سب سے پہلے انھیں برطانوی ہوم سیکریٹری کی رضامندی درکار ہوگی جس کے بعد ہی برطانیہ میں نواز شریف کے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی کی جا سکے گی۔ جبکہ اس کے بعد بھی برطانوی حکومت اپنے قانون کے مطابق اس بات کا جائزہ لے گی کہ اس شخص کو وہ نکالیں یا نہیں۔‘
 

انھوں نے برطانیہ کے حوالگی کے قانون 2003 کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی حکومت سب سے پہلے یہ دیکھتی ہے کہ جس ملک کی طرف سے حوالگی کی درخواست آئی ہے کیا اس ملک کے ساتھ برطانیہ کا دوطرفہ معاہدہ ہے یا نہیں۔ کچھ ممالک ایسے ہیں جن کے ساتھ برطانوی حکومت اپنے قانون اور معاہدے کے تحت مجرموں کا تبادلہ کرتی ہے اور بعض مخصوص کیسز میں یکطرفہ حوالگی بھی کی جاتی ہے لیکن پاکستان کے ساتھ برطانیہ کا کوئی ایسا معاہدہ نہیں ہے۔

اگر برطانوی ہوم سکریٹری پاکستان کی درخواست پر میاں محمد نواز شریف کا معاملہ آگے چلانے پر رضامندی کا اظہار کر دیتے ہیں تو پھر انھیں مجسٹریٹ کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔

وکیل ہاشم احمد خان کے مطابق ’وہاں پاکستانی حکومت کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ کس بنیاد پر ان کو پاکستان واپس لے جانا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ برطانوی کورٹ میں یہ بھی بتایا جائے گا کہ میاں محمد نواز شریف کس کیس میں سزا یافتہ ہیں۔ جبکہ انھیں اس کیس کے تمام شواہد بھی عدالت کے سامنے پیش کرنے ہوں گے۔
 

اس کے بعد برطانوی کورٹ اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ کیا جو درخواست یا اپیل کی گئی ہے، وہ درست بھی ہے یا نہیں۔ اگر فیصلہ کسی شخص کے خلاف آ بھی جاتا ہے تو بھی اس شخص کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتا ہے جس میں تقریباً کم از کم دو سال لگ ہی جاتے ہیں‘۔

وکیل ہاشم احمد خان کے مطابق ’ان تمام باتوں کے علاوہ بھی برطانوی قانون میں دو اہم نکات کا بہت خیال رکھا جاتا ہے جس میں انسانی حقوق اور سیاسی طور پر ظلم کا نشانہ بنایا جانا بھی شامل ہیں۔ اس طرح میاں محمد نواز شریف کیونکہ طبی بنیادوں پر عدالت سے ضمانت لے کر گئے تھے اس لیے برطانونی عدالت یہ پہلو بھی دیکھے گی کہ کیا ایک بیمار شخص کو وطن واپسی پر جیل میں تو نہیں ڈال دیا جائے گا جو کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اگر ہم ان تمام پہلوؤں کو دیکھیں تو یہ کافی مشکل ہے کہ حکومت میاں محمد نواز شریف کو پاکستان لانے میں کامیاب ہو سکے گی۔‘

ماہر قانون سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ کیونکہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان حوالگی کے قانون کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے اس لیے برطانونی حکومت اس بات کی پابند نہیں ہے کہ وہ پاکستانی حکومت کی طرف سے نواز شریف کی حوالگی کی درخواست پر عمل بھی کرے۔

ان کا کہنا ہے ’اس سے پہلے بھی پاکستانی حکومت اسحاق ڈار کے حوالے سے کافی مرتبہ برطانیہ کو لکھ چکی ہے لیکن انھوں نے نہیں مانا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ میاں محمد نواز شریف سزا ملنے کے بعد برطانیہ گئے جبکہ اسحاق ڈار اس سے پہلے ہی وہاں چلے گئے تھے۔ اس لیے پاکستانی قانون کے مطابق یہ صرف برطانیہ کو لکھ سکتے ہیں آگے ان کا باقاعدہ ایک قانوی طریقہ کار ہے جس کے مطابق وہ کام کرتے ہیں۔‘

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک ماہر قانون نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اگر سنگین جرم جیسے دہشتگردی ہو یا کوئی ایسا شخص جس کی وجہ سے لوگوں کو کوئی نقصان پہنچ سکتا ہو، ایسی صورتحال میں ایسا ممکن ہے کہ ثابت ہونے پر برطانوی حکومت کسی بھی شخص کا ویزہ کینسل کر سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت پاکستان کے نمائندگان کی جانب سے جو بات کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ہم برطانوی حکومت کو لکھیں گے کہ وہ میاں محمد نواز شریف کو اپنے ملک سے جلا وطن کریں۔ جبکہ حوالگی کے قانون اور جلاوطن کرنے کے قانون میں یہ بات ایک جیسی ہے کہ جس شخص کے بارے میں درخواست دی گئی ہے کیا اسے سیاسی طور پر ظلم کا نشانہ تو نہیں بنایا جا رہا۔ تو وہ ایسی درخواستوں کو نہیں مانتے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’تاہم نواز شریف کو جب بھی کوئی ایسا نوٹس گیا تو ان کے وکلا انہی دلائل کا استعمال کریں گے کہ انھیں سیاسی مقاصد کے لیے پاکستان بلایا جا رہا ہے جس کی قانون میں بہت اہمیت ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ان کو ایسے واپس لانا بہت مشکل ہے۔‘
 

منگل، 25 فروری، 2020

3:46 PM

پاکستان بلیک لسٹ سے بچنے کے لیے ’پُراعتماد‘


منی لانڈرنگ اور ٹیرر فناسنگ کی روک تھام کے لیے بنایا گیا بین الاقوامی ادارہ، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس پاکستان کو 'گرے لسٹ' میں رکھنے یا اس کی حیثیت بدلنے سے متعلق فیصلے کا اعلان جمعے کو کر رہا ہے۔

اجلاس کا فیصلہ آنے سے قبل اس سلسلے میں حتمی رائے تو نہیں دی جاسکتی لیکن پاکستان کی نمائندگی کرنے والا وفد پراعتماد ہے کہ پاکستان کے اقدامات کی بدولت اسے گرے لسٹ سے جلد نکال دیا جائے گا۔

گذشتہ تین ماہ سے انڈیا کی حکومت اور اس کے اتحادیوں کی کوشش رہی کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کروایا جائے کیونکہ بقول انڈیا، پاکستان دہشت گردی کے کی روک تھام اور اس کی مالی اعانت کو روکنے کے اقدامات میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر سکا۔

لیکن چین، ترکی اور ملائشیا سمیت پاکستان کے بعض اتحادیوں کا موقف رہا ہے کہ پاکستان اپنے محدود وسائل میں جتنے اقدامات کر رہا ہے ان سے یہ واضح ہے کہ ملک شدت پسندی کی مالی اعانت پر کاری ضرب لگا رہا ہے۔

اس ضمن میں پاکستان لشکر طیبہ اور جماعت دعویٰ کے سابق سربراہ حافظ محمد سعید کو حالیہ دنوں میں سنائی گئی سزا کی مثال پیش کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ حافظ سعید کو لاہور کی ایک عدالت نے دہشت گردی کی مالی اعانت کرنے کے دو الگ الگ الزامات میں سے ہر الزام میں ساڑھے پانچ برس کی سزا سنائی ہے۔

جہاں پاکستانی حکام بلیک لسٹ میں شامل نہ ہونے کے لیے پرامید ہیں وہیں پاکستان کا گرے لسٹ سے نکلنا بھی ممکن نظر نہیں آ رہا۔

پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاسوں پر نظر رکھنے والے ایک صحافی خالد حمید فاروقی کے مطابق پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے 12 ووٹوں کی ضرورت ہے جبکہ اس وقت اسے صرف تین یا چار ارکان کی ہی حمایت حاصل ہے۔
 

پاکستان کے پکے اتحادی اور حمایتی چین، ترکی اور ملائشیا ہیں لیکن دنیا کی عالمی اور تجارتی سیاست جاننے والوں کو اندازہ ہے کہ تقریباً تمام عالمی اداروں کا رویہ کسی بھی ملک کی جانب امریکی رویے کے تناظر میں قائم ہوتا ہے۔

دنیا کے بیشتر ممالک کے امریکہ کے ساتھ گہرے سیاسی، تجارتی اور دفاعی تعلقات ہیں، جنہیں وہ پاکستان کے لیے خراب کرنا نہیں چاہتے۔ ساتھ ہی، انڈیا ایک ابھرتی ہوئی معیشت ہے اور تمام ممالک اس کے ساتھ بھی اپنے معاشی تعلقات گہرے کرنے کی دوڑ میں ہیں۔

ایسی صورتحال میں اگر پاکستان کی جانب سے بھی مبینہ دہشت گرد گروپوں کے خلاف بھرپور کارروائی نہ دیکھی جائے تو پھر بیشتر ممالک کے لیے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کی حمایت حاصل کرنا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔

کسی ملک کو ’زیر نگرانی‘ یعنی گرے لسٹ میں رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ ایف اے ٹی ایف کا ایک ذیلی ادارہ ’انٹرنیشل کوآپریشن رویو گروپ‘ یعنی آئی سی آر جی کرتا ہے۔

اس ادارے کے ایک ذریعے کے مطابق پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے 39 ارکان میں سے 12 کی حمایت درکار ہے اور اگر وہ ان معاملات میں غیرمعمولی پیش رفت کرتا ہے جن کا مطالبہ ایف اے ٹی ایف کر رہا ہے یا اسے امریکہ کی بھرپور حمایت حاصل ہوجاتی ہے تو پھر اس کے گرے لسٹ سے نکل جانے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسیفک گروپ نے گذشتہ برس نومبر میں بیجنگ میں ہونے والے اپنے اجلاس میں بتایا تھا کہ پاکستان کو دہشت گردی کی مالی مدد کی روک تھام اور کالے دھن کو صاف کرنے کے سلسلے میں جو 27 نکاتی ایکشن پلان دیا گیا تھا ان میں سے 14 پر عملدرآمد کیا گیا ہے۔

تاہم انڈیا ایف اے ٹی ایف کے اتوار سے شروع ہونے والے حالیہ اجلاس میں یہ نکتہ اٹھاتا رہا کہ پاکستان بقیہ تیرہ نکات پر عملدرآمد کرنے سے اجتناب برت رہا ہے اس لیے اسے بلیک لسٹ کیا جائے۔

انڈیا نے یہ دلیل بھی دی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے دہشت گرد قرار دیئے جانے والے مبینہ ماسٹر مائینڈ مسعود اظہر کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
 

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ تمام شدت پسند گروہوں کے سربراہان کے خلاف بھرپور کارروائی کرے اور خاص طور پر سزائیں سنانے کی شرح کو بہتر بنائے۔

پاکستان میں گزشتہ برس سے اب تک لگ بھگ دو ہزار ایسے مقدمات درج کئے گئے ہیں جن میں دہشتگردی کی مالی اعانت اور منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں لیکن سزائیں صرف پچاس کے قریب مقدمات میں ہوئی ہیں۔ اس کم تعداد کو ایف اے ٹی ایف نے غیر اطمینان بخش قرار دیا ہے۔

تاہم پاکستان کے وزیر برائے اقتصادی امور، حماد اظہر کی قیادت میں ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والا وفد پر اعتماد ہے کہ پاکستان کے اقدامات کی بدولت اسے گرے لسٹ سے جلد نکال دیا جائے گا، اور فی الحال بلیک لسٹ سے بچنے کو ہی وہ اپنی کامیابی تصور کر رہا ہے۔
3:44 PM

نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست، پنجاب کابینہ کا فیصلہ آگیا


پاکستان کے صوبہ پنجاب کی کابینہ نے لندن میں زیرِ علاج پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی ضمانت میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کابینہ کے فیصلے کے مطابق نواز شریف سے جو طبی رپورٹس طلب کی گئی تھیں وہ فراہم نہیں کی گئیں جبکہ دستیاب رپورٹس کی بنیاد پر خصوصی کمیٹی اور میڈیکل بورڈ مزید توسیع دینے کے خلاف تھے۔

پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت نے منگل کو کابینہ کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ 17 جنوری کو میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کے معالجین نے مخصوص نکات پر معلومات طلب کی تھیں مگر جب ان کی طرف سے مطلوبہ رپورٹس فراہم نہیں کی گئیں تو کمیٹی نے انھی رپورٹس کی بنیاد پر فیصلہ کیا جو کہ پہلے فراہم کی گئی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کی رپورٹس پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا اور کمیٹی نے بھی جو سفارشات دیں ان کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ نواز شریف کی ضمانت میں توسیع نہیں کی جا سکتی۔

راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ پنجاب کابینہ کے اس فیصلے کی بابت وفاقی حکومت کو آگاہ کر دیا جائے جو کہ اس حوالے سے مزید اقدامات کرنے کی مجاز ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما عظمی بخاری نے کہا ہے کہ انھیں پنجاب حکومت سے اسی طرح کی فیصلے کی توقع تھی۔ ’پنجاب حکومت کو نواز شریف کی وہ تمام رپورٹس فراہم کی گئی تھیں جو انھوں نے مختلف اوقات میں طلب کیں، مگر ظاہر ہے تحریک انصاف کی اپنی ناامیدی کو مطمئن نہیں کیا جا سکتا اور یہ فیصلہ اسی کا اظہار ہے۔‘

عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ کبھی بھی موجودہ حکومت کے پاس اس معاملے کے لیے نہیں جانا چاہتی تھی مگر چونکہ یہ عدالت کا حکم تھا اس لیے نہ صرف پنجاب حکومت سے رابطہ کیا گیا بلکہ تمام مطلوبہ رپورٹس اور ٹیسٹ انھیں فراہم کیے گئے۔
 

عظمی بخاری نے کہا کہ آئندہ ہفتے میں میاں صاحب کا آپریشن متوقع ہے۔ ’ہمارے سامنے عدالت کا آپشن موجود ہے، ہم عدالت جائیں گے اور اس حوالے سے اپنی گذارشات وہاں پیش کریں گے۔‘

خیال رہے کہ میاں نواز شریف کے ذاتی معالج کی طرف سے جو پہلی رپورٹ بھجوائی گئی تھی اس پر صوبائی حکومت نے یہ کہہ کر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا کہ رپورٹ مکمل ہی نہیں ہے۔

نیوز کانفرنس میں صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کا مزید کہنا تھا کہ کمیٹی اور میڈیکل بورڈ نے تین روز تک دستیاب رپورٹس پر غور کرنے کے بعد اپنی سفارشات کابینہ کے سامنے پیش کیں۔ انھوں نے کہا کہ خصوصی کمیٹی کے اجلاس کے پہلے دن نواز شریف کے نمائندوں کی طرف سے ہمیں پیغام بھیجا گیا کہ انھیں بہت ہی کم وقت میں طلب کیا گیا ہے لہذا کچھ وقت دیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ نواز لیگ کے رہنما عطا اللہ تارڑ کی جانب سے کہا گیا کہ خصوصی کمیٹی سکائپ کے ذریعے نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کی رائے بھی حاصل کرے۔

راجہ بشارت کے مطابق ڈاکٹر عدنان کو بھی مطلوبہ رپورٹس فراہم کرنے کے لیے کہا گیا مگر انھوں نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ جو رپورٹس پہلے بھیجی جا چکی ہیں ان کے علاوہ مزید کوئی رپورٹس نہیں ہیں۔

’عطا اللہ تارڑ اور ڈاکٹر عدنان سے اس حوالے سے ہونے والی تفصیلی گفتگو اور دستیاب رپورٹس کی روشنی میں کمیٹی اس فیصلے پر پہنچی کے نواز شریف کو مزید توسیع نہیں دی جا سکتی۔‘

راجہ بشارت نے دعویٰ کیا کہ اگرچہ نواز شریف لندن علاج کی غرض سے گئے ہیں مگر آج تک وہ کسی ہسپتال میں داخل نہیں ہوئے۔

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف گذشتہ سال نومبر میں عدالتی حکم پر بیرونِ ملک جانے کی اجازت ملنے کے بعد سے لندن میں مقیم ہیں جہاں ان کا علاج ہو رہا ہے۔
 

واضح رہے کہ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو علاج کی غرض سے آٹھ ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر علاج کی غرض سے سابق وزیر اعظم کا بیرون ملک قیام بڑھانے کی ضروت ہو تو پھر درخواست گزار پنجاب حکومت کو درخواست دیکر اس قیام میں اضافے کی استدعا کرسکتا ہے۔

نواز شریف کے بیرون ملک قیام کی مدت میں اضافے کی غرض سے ان کی جماعت نے حکومتِ پنجاب سے رجوع کیا تھا جس پر پنجاب حکومت نے کہا تھا کہ اس کا فیصلہ صوبائی حکومت کی طرف سے تشکیل کردہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی روشنی میں ہی کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے رواں ماہ کے آغاز میں کہا تھا کہ لندن میں معالجین نے میاں نواز شریف کے دل کی شریانوں اور خون کے بہاؤ میں رکاوٹوں کے علاوہ ان کے دل کے بڑے حصے اور اس کے کام کرنے کے عمل کے شدید متاثر ہونے کے بارے میں انکشاف کیا ہے۔

اُنھوں نے کہا تھا کہ پیچیدہ نوعیت کی متعدد جان لیوا بیماریوں کے لاحق ہونے کی بنا پر میاں نوازشریف کی صحت کی صورتحال نازک ہے۔

قائد حزب اختلاف نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ عارضہ قلب کی تکلیف کی بنا پر سابق وزیر اعظم کو پہلے بھی دومرتبہ اوپن ہارٹ سرجری سمیت متعدد قسم کے علاج کے عمل سے گزرنا پڑا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے بھائی اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی حالت بدستور تشویشناک اور غیرمستحکم ہے تاہم ان کی بیٹی مریم نواز کے ان کے پاس نہ ہونے کی وجہ سے علاج کے عمل میں تاخیر ہو رہی ہے۔

نواز شریف کے معالج ڈاکٹر عدنان نے بھی ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں کہا تھا کہ نواز شریف کی ’کورونری انٹروینشن‘ ہونی ہے تاہم سابق وزیراعظم نے مریم کی عدم موجودگی کی وجہ سے اسے دو مرتبہ ملتوی کروایا ہے۔

مریم نواز کو پاکستان سے باہر جانے کی اجازت نہ ملنے کے بعد نواز شریف کی والدہ اپنے بیٹے کے پاس لندن چلی گئی تھیں۔

مریم نواز نے ہائیکورٹ میں اپنا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی درخواست دی تھی جس کے بعد پاکستان کی وفاقی کابینہ نے مریم نواز کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نہ نکالنے کا فیصلہ کیا تھا۔

پیر، 24 فروری، 2020

4:09 PM

بالاکوٹ فضائی حملہ: وہ سوال جن کے جواب پاکستان اور انڈیا ابھی تک نہیں دے سکے


تاریخ: 14 فروری، 2019

مقام: پلوامہ، جموں و کشمیر

واقعہ: سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے اہلکاروں کا ایک دستہ سرینگر کو جموں سے ملانے والی نیشنل ہائی وے پر پلوامہ میں لیت پورہ کے مقام سے گزر رہا تھا جب ایک بڑے دھماکے میں 40 اہکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

یہ سب تب ہوا جب انڈیا میں عام انتخابات ہونے جا رہے تھے۔ اور اس واقعے نے انتخابی مہم کی سمت بدل کر رکھ دی۔

26 فروری: انڈیا نے ایک خفیہ مشن کا آغاز کیا جس کی تعریف اس نے کچھ یوں کی کہ ’اس کی رہنمائی انٹیلیجینس ادارے کریں گے، فوج کا عمل دخل نہیں ہو گا اور یہ دفاعی طرز کا آپریشن ہو گا۔‘

یہ آپریشن سرحد پار کیا جانا تھا۔ طلوع آفتاب کے وقت انڈین فضائیہ کے میراج 2000 فائٹر طیاروں نے نامعلوم ہوائی اڈوں سے اڑان بھری۔

بعد میں ایک جوائنٹ پریس بریفنگ کے دوران انڈین فضائیہ کے ایئر وائس مارشل نے دعویٰ کیا کہ ان طیاروں نے جموں کشمیر میں لائن آف کنٹرول پار کرنے کے بعد ’بالاکوٹ میں جیشِ محمد کے کیمپ کو میزائل حملوں سے درست نشانہ بنایا‘ جو پاکستان کے شمال مشرقی صوبے خیبر پختونخوا میں موجود تھے۔
 

حملے کے فوراً بعد انڈیا میں اس وقت کے سیکریٹری خارجہ وجے گوکھلے نے دعویٰ کیا کہ دفاعی آپریشن ’ایسے بے شمار سینیئر کمانڈر اور جہادی گروہوں کے خاتمے میں مددگار ہو گا جو جیش محمد کے فِدائین اور سینیئر کمانڈر بننے کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔‘

اگلے ہی دن پاکستان نے اپنے لڑاکا طیاروں کے ذریعے جوابی کارروائی کی جس میں اس نے امریکہ کے فراہم کردہ ایف 16 طیارے استعمال کیے۔ اور اس طرح دونوں ملکوں کے درمیان دعوؤں اور جوابی دعوؤں کی ایک نہ ختم ہونے والی جنگ چھڑ گئی۔

انڈیا کا دعویٰ ہے کہ اس نے پاکستان کے ایک ایف 16 جنگی طیارے کو مار گرایا تھا۔ پاکستان اس دعوے کی تردید کرتا ہے۔ انڈین مگ 21 کو بھی مار گرایا گیا اور پاکستان نے انڈین پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن ورتھمان کو گرفتار کر لیا تھا۔ لیکن دو دن بعد انھیں رہا کر دیا گیا تھا۔

تب سے انڈیا اور پاکستان دعوؤں اور جوابی دعوؤں میں مشغول ہیں تاہم ایسے بہت سے بنیادی اہم سوالات ہیں جن کے جوابات فریقین نہیں دے رہے۔
 

بنیادی سوالات
کیا واقعی انڈیا نے وہ مقصد حاصل کر لیا جس کے لیے یہ آپریشن شروع کیا گیا تھا؟
کیا واقعی انڈین حملے میں بالاکوٹ میں واقع جیش محمد کا ٹریننگ کیمپ تباہ ہوا؟
کیا بم اپنے اہداف پر جا کر لگے تھے؟
کتنا نقصان ہوا تھا؟
کیا پاکستان نے ان امریکی ایف 16 جنگی طیاروں کا استعمال کیا جن کے استعمال کی (کسی ملک کے ساتھ جنگ کے دوران) اسے اجازت نہیں تھی؟
ابتدا میں پاکستان نے جائے وقوع تک رسائی کیوں نہیں دی تاہم ایک ماہ سے زائد عرصے کے بعد صحافیوں کے ایک گروپ کو فوجی اہلکاروں کے ہمراہ جائے وقوع پر لے جایا گیا؟

ان میں سے بہت سے سوالوں کے جواب دونوں ممالک نے ابھی تک نہیں دیے۔
 

وہ عمارت جسے انڈیا تباہ کرنے کا دعویٰ کرتا ہے
مرکز سید احمد شہید۔ وہ مدرسہ تھا جس کے بارے میں انڈیا کا دعویٰ ہے کہ جیش محمد کے فدائین اسے ’تربیتی کیمپ‘ کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔ انڈیا کا دعویٰ ہے کہ انڈیا میں ہونے والے پے در پے ’دہشت گرد حملوں‘ کے پیچھے جیش محمد کا ہاتھ ہے۔

انڈیا کا دعویٰ ہے کہ اس نے سرجیکل سٹرائیک کے ذریعے اس عمارت کو تباہ کر دیا تھا۔ انڈیا کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس حملے میں اس نے بہت شمار فدائین اور ان کے کمانڈروں کو ہلاک کر دیا تھا۔ تاہم صحیح تعداد ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

یہ اعدادوشمار انڈین ذرائع ابلاغ کے جاری کردہ ہیں جو حکومتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہیں جبکہ کئی ذرائع یہ تعداد 200 بتاتے ہیں اور کچھ نے تو اسے 300 تک بتایا ہے۔

ایک انڈین خبر رساں ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ مظفرآباد، چاکوٹھی اور بالاکوٹ میں تین ’دہشت گردی کے کیمپوں‘ پر حملہ کیا گیا۔ لیکن بعد میں انڈین حکومت نے واضح کیا کہ یہ فضائی حملہ صرف بالاکوٹ میں کیا گیا تھا۔

ایک جوائنٹ پریس کانفرنس سے خطاب میں انڈین ایئر وائس مارشل کا کہنا تھا ’ایسی قابل اعتماد معلومات اور شواہد موجود ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آئی اے ایف کے فضائی حملے کامیاب رہے اور فوجی کارروائی میں مطلوبہ نتائج حاصل ہوئے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ بالاکوٹ فضائی حملے کی کامیابی کے ثبوت کب اور کیسے جاری کیے جائیں، اس بات کا فیصلہ سیاسی قیادت پر منحصر ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہلاکتوں اور نقصانات کا اندازہ کرنا قبل از وقت تھا۔
 

پاکستان کا دعویٰ
اس وقت کے پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے 27 فروری کو ایک پریس کانفرنس میں انڈین دعوے کی تردید کی تھی۔

میڈیا میں اس حوالے چلنے والے ان کے ایک بیان کے مطابق ’ہمارے ریڈاروں نے مظفر آباد سیکٹر میں وادیِ کیرن کی جانب سے بڑے پیمانے پر فضائی نقل و حرکت نوٹس کی تھی۔ یہ ایک بڑی ٹیم تھی۔ انھیں سرحد کے اندر داخل ہونے اور واپس جانے میں چار، چار منٹ لگے۔ انھوں نے حملہ نہیں کیا۔‘

انھوں نے یہ دعویٰ تک کیا کہ ’کوئی فضائی حملہ نہیں کیا گیا اور پاکستانی فضائیہ نے انڈین لڑاکا طیاروں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔‘

وہ سوال جن کے جواب نہیں ہیں
ابتدا میں پاکستانی فوج نے فضائی حملے والے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے صحافیوں کی وہاں تک رسائی روک دی۔ اس سوال کا جواب آج تک نہیں دیا گیا کہ ایسا کیوں کیا گیا تھا؟

تاہم، تقریباً ایک ماہ بعد پاکستانی فوج نے غیر ملکی نمائندوں کی ایک ٹیم کو بالاکوٹ میں جابہ کی پہاڑیوں کا دورہ کروایا۔ یہ وہ مقام ہے جس کے بارے میں انڈیا کا دعویٰ ہے کہ یہاں جیش محمد کا تربیتی کیمپ قائم تھا جسے انھوں نے فضائی حملے میں تباہ کر دیا تھا۔
 

جب ایک ماہ کے بعد غیر ملکی صحافی بالاکوٹ پہنچے تو انھیں وہاں ایک ’مدرسہ‘ ملا جہاں شاگرد تعلیم حاصل کررہے تھے۔ عمارت صحیح سلامت حالت میں تھی۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ مقامی لوگوں نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ مدرسہ تقریباً ایک سال سے بند پڑا تھا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مدرسہ ایک سال سے بند تھا تو حملے کے بعد جب غیر ملکی صحافیوں کو وہاں لے جایا گیا تو اس وقت یہ کیسے چل رہا تھا؟

دوسری جانب انڈین حکام نے دہلی میں کچھ صحافیوں کو سنتیھٹک اپرچر ریڈار (ایس اے آر) سے حاصل کی گئی ایسی تصاویر دکھائیں جن میں فضائی حملے کے نتیجے میں تباہ ہونے والی چار عمارتیں دکھائیں گئیں۔

تاہم اس سوال کا جواب اب بھی باقی ہے کہ انڈین حکام نے ان تصاویر کو باضابطہ طور پر کیوں نہیں جاری کیا؟

انڈیا کا مؤقف ہے کہ پاکستانی فوج نے فضائی حملے میں عمارت کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت کے بعد غیر ملکی صحافیوں کا دورہ کروایا۔

دعوؤں اور جوابی دعوؤں کی جنگ میں پاکستان نے انڈین لڑاکا طیاروں کے ذریعے گرائے گئے پاکستان کے ایف-16 طیارے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ ابتدا میں پاکستان نے بھی انڈین فضائیہ کے دو پائلٹ گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن پاکستان نے اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے۔ یہ صرف ابھینندن ہی تھے جنھیں پاکستانی فوج نے گرفتار کیا تھا۔
 

تو پھر بم کہاں جا کر لگے؟
انڈین دعوؤں کے برعکس صحافیوں کو عمارت کو پہنچنے والے نقصان کی کوئی علامت نہیں ملی، تو کیا انڈین لڑاکا طیارے اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے؟

جابہ کی پہاڑیوں کے اوپر پائے جانے والے جنگل کے ایک حصے میں صحافیوں کو ایک گڑھا اور درختوں کو پہنچنے والا کچھ نقصان ضرور دکھائی دیا۔

آس پاس کے گاؤں میں رہنے والے عینی شاہدین نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ انھوں نے جنگلات میں دھماکے سنے ہیں۔ صحافی ایک مقامی شخص سے بھی ملے جنھیں کچھ چوٹیں آئیں تھیں۔ بی بی سی اردو نے بھی اپنی خبر میں اسی زخمی شخص کا حوالہ دیا تھا۔

بالاکوٹ حملے کے ایک سال بعد بھی پاکستان اور انڈیا دعوؤں اور جوابی دعوؤں میں مصروف ہیں لیکن کسی ایک فریق نے بھی ابھی تک ان دعوؤں کی تفصیلات جاری نہیں کیں ہیں۔

ہفتہ، 1 فروری، 2020

9:25 AM

پاکستان میں رونما ہونے والے ایسے سانحے جن پر حکام نے غیر ذمہ دارانہ بیانات دیے


گزشتہ برس اکتوبر میں ضلع رحیم یار خان کے قریب تیزگام ایکسپریس میں آتشزدگی کی انکوائری رپورٹ میں حادثے کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی گئی ہے جس کے بعد وفاقی وزیرِ ریلوے کے اس واقعے کے فوراً بعد دیے گئے بیان پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

بدھ کے روز سامنے آنے والی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق آتشزدگی کی بنیادی وجہ بجلی سے چلنے والی کیتلی کے باعث شارٹ سرکٹ ہونا تھا جبکہ سلنڈرز کی موجودگی سے آگ مزید بھڑکی۔

یاد رہے کہ آتشزدگی کے باعث پیش آنے والے اس حادثے میں 74 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور حادثے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ حادثہ گیس سلنڈر پھٹنے کے باعث پیش آیا۔

شیخ رشید نے کہا تھا کہ ٹرین میں مسافروں کے پاس چولہا اور گیس سلنڈرز موجود تھے جسے وہ کھانا پکانے کے لیے استعمال کر رہے تھے اور ان سلنڈرز کے پھٹنے سے یہ حادثہ پیش آیا۔

دنیا بھر میں سانحات کے فوراً بعد حکام انتہائی محتاط بیانات دیتے ہیں اور تفتیش مکمل نہ ہونے تک کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے گریز کرتے ہیں۔

تاہم ہم نے پاکستان میں گذشتہ ایک دہائی میں ہونے والے چند ایسے سانحات کا جائزہ لیا جن کے بعد حکام کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ بیانات دیے گئے۔
 

بلدیہ فیکٹری
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں 12 ستمبر سنہ 2012 میں بلدیہ ٹاؤن میں واقع کارخانے علی انٹرپرائزز میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے نتیجے میں 259 افراد جھلس کر ہلاک ہو گئے تھے۔

حکام کی جانب سے ابتدائی طور پر آتشزدگی کے اس واقعے کو حادثاتی قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ یہ آگ شارٹ سرکٹ کے نتیجے میں لگی تاہم بعد میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے تحریری رپورٹ میں یہ کہا کہ بھتہ نہ ملنے پر فیکٹری میں آگ لگائی گئی۔

تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کے مطابق فیکٹری میں آگ حادثاتی طور پر نہیں بلکہ منصوبہ بندی کے تحت شر انگیزی اور دہشت گرد کارروائی تھی۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن رحمان بھولا اور حماد صدیقی کی طرف سے فیکٹری مالکان سے 20 کروڑ روپے بھتہ اور فیکٹری کی آمدن میں حصہ دینے سے انکار پر آگ لگائی گئی۔

بلدیہ فیکٹری میں آتشزدگی کے حوالے سے مقدمہ کراچی کی ایک انسداد دہشت گردی کی عدالت میں تاحال جاری ہے اور اب یہ اپنے آخری مراحل میں پہنچ گیا ہے۔

ساہیوال
گزشتہ برس جنوری میں پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ساہیوال کے قریب قومی شاہراہ پر پنجاب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی جانب سے کیے گئے ایک مبینہ پولیس مقابلے میں دو خواتین سمیت چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
 

اس واقعے کے فوراً بعد صوبہ پنجاب کے محکمہ انسدادِ دہشتگردی کی جانب سے متضاد بیان سامنے آتے رہے۔

آغاز میں کہا گیا کہ سی ٹی ڈی کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف کامیاب کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔

ایک اور بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ہلاک ہونے والے افراد نے پہلے پولیس پر فائرنگ کی جس کے ردِ عمل میں یہ کارروائی کی گئی۔

تاہم اس واقعے کے کچھ ہی دیر بعد مقامی میڈیا پر گاڑی میں موجود متاثرہ بچے کا بیان، سی سی ٹی وی فوٹیج اورعینی شاہدین کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوز مظرِ عام پر آنے لگیں جس کے بعد حکام کے خلاف شدید ردِ عمل سامنے آیا۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے اس واقعے کے ردِعمل میں ایک ٹویٹ میں کہا کہ انھیں ان سہمے ہوئے بچوں کو دیکھ کر دھچکا لگا جن کے والدین ان کی آنکھوں کے سامنے ہلاک ہوئے۔
 

اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں گاڑی کا ڈرائیور ذیشان، لاہور کے رہائشی محمد خلیل، ان کی اہلیہ اور جواں سالہ بیٹی شامل تھے جبکہ ان کے تین کمسن بچے زندہ بچ گئے تھے۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی ابتدائی رپورٹ کے بعد اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ خلیل اور ان کا خاندان دراصل بے قصور تھا جبکہ ذیشان نامی شخص کا بھی کوئی مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں تھا۔

تاہم گزشتہ برس اکتوبر میں اس واقعے میں سی ٹی ڈی پنجاب کے جن چھ اہلکاروں کے خلاف قتل اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا انھیں لاہور کی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ’ناکافی ثبوت‘ کی بنیاد پر بری کر دیا تھا۔

گوجرانوالہ ٹرین حادثہ
دو جولائی سنہ 2015 کو صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ کے قریب فوجی خاندانوں کے لیے چلائی جانے والی خصوصی ٹرین کو ریلوے پل پر حادثہ پیش آیا اور ٹرین کی کچھ بوگیاں نہر میں جا گریں جس کے نتیجے میں 19 افراد ہلاک ہوئے۔

ہلاک ہونے والے افراد میں چار فوجی افسر اور ان کے خاندان کے دیگر افراد شامل تھے۔
 

آغاز میں ریلوے حکام اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات میں کہا گیا کہ یہ پل خستہ حالت کے باعث ٹوٹا اور ٹرین نہر میں جا گری۔

تاہم دو ہفتے کے بعد سامنے آنے والی رپورٹ میں یہ بات واضح ہوئی کہ ٹرین کو حادثہ پل پر چڑھنے سے قبل پیش آیا اور اس کی وجہ تیز رفتاری تھی۔

رپورٹ کے مطابق تیز رفتاری کے علاوہ ایمرجنسی بریک تاخیر سے لگانا بھی اس حادثے کی بنیادی وجہ بنا۔

بدھ، 29 جنوری، 2020

11:51 AM

ایک ٹیکے نے عمران خان کو ’حوریں‘ دکھا دیں

پاکستانیوں کی حوروں میں دلچسپی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ لیکن حوروں کا ذکر ہو اور وہ بھی وزیرِاعظم کے منھ سے؟ سوشل میڈیا پر نظر دوڑائیں تو لگتا ہے کہ صارفین اسی بیان کے انتظار میں تھے۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ گذشتہ شب کراچی میں شوکت خانم کینسر ہسپتال کی ایک تقریب سے خطاب میں وزیرِ اعظم عمران خان اُن دنوں کا احوال سنا رہے تھے جب سنہ 2013 میں الیکشن مہم کے دوران وہ فورک لفٹ سے گر کر وہ زخمی ہوئے اور بہت زیادہ تکلیف میں تھے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے بتایا کیا کہ اُس وقت شوکت خانم کے ڈاکٹر عاصم انھیں ایسا انجکشن لگایا جس سے نہ صرف ان کی تکلیف ختم ہو گئی بلکہ دنیا ہی بدل گئی ’وہاں جو نرسیں تھیں وہ مجھے حوریں نظر آنا شروع ہو گئیں۔‘

’میں نے سوچا کچھ مسئلہ ہی نہیں ہے مجھے۔۔ تقریر بھی کر دی میں نے ٹی وی پر۔۔ وہ مجھے یاد ہی نہیں میں نے کیا کہا۔ جب اس انجکشن کا اثر زائل ہوا تو پھر مجھے تکلیف شروع ہو گئی اور میں نے اس (ڈاکٹر عاصم) سے زور لگایا کہ خدا کے واسطے وہ ٹیکہ پھر سے لگا دو۔۔ میں نے اسے دھمکایا بھی کہ میں تمھیں چھوڑوں گا نہیں لیکن اس نے مجھے ٹیکہ نہیں لگایا۔‘
 

’عمران خان تو برداشت کر لے گا آپ نہیں برداشت کر سکیں گے‘
وزیرِ اعظم عمران خان سنہ 2013 میں ہسپتال کے بستر سے کی گئی جس تقریر کا حوالہ دے رہے تھے اس میں انھوں نے کہا تھا ’میں اپنی زندگی کے 17 سال پاکستان کے لیے لڑا ہوں۔۔ جو میں کر سکتا تھا میں نے کیا ہے۔ اب میں چاہتا ہوں کہ اگر آپ اپنی اپنی ذمہ داری لیں۔‘

’پانچ سال جیسے گزارے ہیں، اگلے پانچ سال آپ نہیں برداشت کر سکیں گے۔ عمران خان تو برداشت کر لے گا آپ نہیں برداشت کر سکیں گے۔‘

اس تقریر میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 11 مئی (الیکشن کے دن ) کو آپ نے اپنی حالت بدلنے کے لیے نکلنا ہے۔۔ آپ نے یہ نہیں دیکھنا تحریکِ انصاف کا کون سا امیدوار کھڑا ہے۔ آپ نے بس تحریکِ انصاف کو ووٹ دینا ہے۔

سوشل میڈیا پر ردِعمل
پاکستان میں سوشل میڈیا پر وزیرِ اعظم عمران خان کا شوکت خانم کی تقریب سے خطاب وائرل ہے اور جہاں کچھ لوگوں کو ملک کے وزیرِ اعظم سے ایسے بیان کی توقع نہیں تھی وہیں ایسے صارفین بھی ہیں جو اس صورتحال پر دلچسپ تبصرے کر رہے ہیں۔

جمعہ، 24 جنوری، 2020

11:16 AM

’کیا واقعی پرانا پاکستان نئے پاکستان سے بہتر تھا؟‘


عالمی کرپشن انڈیکس پر پاکستان تین درجے نیچے چلا گیا ہے۔ لیکن عمران خان کا اصرار ہے کہ ماضی کے مقابلے میں ان کی حکومت ایک صاف ستھری حکومت ہے۔

کرپٹ ممالک کی اس درجہ بندی کے مطابق 180 ممالک میں پاکستان 120 ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ اس حوالے سے اپنا ردعمل دیتے ہوئے صحافی بے نظیر شاہ نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا،'' نیب کے چیئرمین جاوید اقبال نے بار بار نیب کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ نیب کی وجہ سے پاکستان کا درجہ کرپشن پرسپشن انڈیکس میں بہتر ہو گیا ہے لیکن آج تو پاکستان117 سے 120ویں نمبر پر آگیا۔‘‘

بین الاقوامی تنظیم ' ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل‘ کی کرپشن پرسیپشن انڈیکس سامنے آنے کے بعد جلد ہی سوشل میڈیا پر ' کرپشن_کا شور_مگر خود چور‘ اور CorruptNiaziRegime ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر نے لگے۔

صحافی طلعت حسین نے اپنی ٹویٹ میں لکھا،'' یہ 2018ء کے انتخابات کے تجربے کا انتہائی خوفناک نتیجہ ہے جس کے تحت 'کرپٹ جماعتوں‘ کو ہٹا کر 'صاف و شفاف حکومت‘ لائی گئی تھی۔