Popunder ads

Breaking

PAKISTAN NEWS لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
PAKISTAN NEWS لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 29 فروری، 2020

7:34 PM

پاکستان میں مزید دو افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی

اسلام آباد: وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ پاکستان میں مزید دو افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کا ایک کیس سندھ اور ایک فاٹا میں سامنے آیا ہے۔
ڈاکٹر  ظفر مرزا نے مزید بتایا کہ کورونا وائرس کے پہلے والے دو مریضوں میں سے ایک تیزی سے صحت یاب ہو رہا ہے۔ کسی مریض کا نام میڈیا پر لانا اخلاق کے دائرے میں نہیں آتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران سے متصل تافتان بارڈر پر ہمسایہ ملک سے واپس آنے والے زائرین کا داخلہ شروع ہوگیا ہے، تاہم ایران کے ساتھ فضائی رابطے معطل ہیں۔۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھنے کی صورت میں کچھ اسپتال مریضوں کے لیے مختص کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں: 
انہوں نے کہا کہ منہ پر پہننے والے ماسک کے لیے ایک ایڈوائزری جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں فیس ماسک ہر کسی کو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
واضع رہے کہ اس سے قبل محکمہ صحت کے حکام نے پاکستان میں دو افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کردی تھی۔
چند روز قبل کراچی میں کورونا کا کیس سامنے آگیا تھا۔ محکمہ صحت سندھ نے کراچی کے رہائشی 22 سالہ یحییٰ جعفری میں کورونا وائرس کی تصدیق کردی ہے۔
محکمہ صحت سندھ کی ترجمان میران یوسف نے ہم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئےکراچی کے رہائشی 22 سالہ یحییٰ جعفری میں کورونا وائرس پائے جانے کی تصدیق کردی تھی۔
مزید پڑھیں: 
انہوں نے کہا تھا کہ کہ مشتبہ شخص، جو کہ ایران سے 20 فروری کو بذریعہ جہاز ایران سے کراچی آیا تھا، کو فیملی کے دیگر ممبران کے ہمراہ کراچی کے آغاخان اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ مشتبہ شخص اور دیگر خاندان کے افراد کو آغاخان اسپتال کے آئیسولیشن وارڈ میں رکھا گیا ہے۔
میران یوسف نے کہا تھا کہ صوبائی حکومت اور کراچی کے مختلف اسپتالوں میں کورونا وائرس کے علاج کی سہولیات اور ادویات موجود ہیں۔
پاکستان میں کورونا وائرس کا یہ دوسرا کیس ہے جس کی حکومتی سطع پر تصدیق کی گئی ہے۔
ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا کہ  یحییٰ جعفری بغیر اسکریننگ کے کراچی ائیر پورٹ سے باہر آیا تھا۔ مشتبہ شخص اور اس کے دیگر اہل خانہ کے افراد کے ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔
7:30 PM

عبدالغنی مجیدکاپاسپورٹ ضبط اورنام ای سی ايل ميں برقراررہےگا

فوٹو: اے ایف پی
اسلام آباد ہائیکورٹ نے جعلی اکاؤنٹس کیس کے ملزم عبدالغنی مجید کی 5مقدمات میں درخواست ضمانت پر تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ پانچوں مقدمات ميں طبی بنيادوں پر ملزم کی ضمانت منظور کرلی گئی۔ پاسپورٹ ضبط اور نام ای سی ايل ميں برقرار رہے گا۔
ہفتے کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عبدالغنی مجید سے متعلق پمز اسپتال کا میڈیکل بورڈ اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کراچکا ہے۔ ملزم 15 اگست 2018 سے جیل میں ہے۔ بیماری کے باعث ملزم کی زندگی کو خطرہ ہے۔ میڈیکل بورڈ کے مطابق عبدالغنی مجید کا علاج فوری شروع ہونا ضروری ہے لہذا 10 کروڑ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے پر عبدالغنی مجید کو رہا کردیا جائے۔ طبی بنیادوں پر عبدالغنی مجید کی درخواست ضمانت منظور کی جاتی ہے۔
 فیصلے میں نیب کے تفتیشی افسر کو ملزم کا پاسپورٹ ضبط رکھنے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ ملزم کا نام ای سی ایل میں بھی برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ فیصلہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے تحریرکیا۔ عبدالغنی مجید کی ایک اور کیس میں درخواست ضمانت پر فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔
7:28 PM

کوئٹہ: سریاب میں فائرنگ، دو افراد جاں بحق

کوئٹہ کے علاقے سریاب میں معمولی تنازع پر فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔
پولیس کے مطابق کوئٹہ کے علاقے سریاب میں کلی سردہ میں فائرنگ کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے، جن کی لاشیں سول اسپتال منتقل کردی گئیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی شناخت سلال احمد اور آدم خان  کے نام سے ہوئی۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ راستے کے تنازع پر ہوا جس پر دو گروپوں میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
پولیس نے مقدمہ درج کرکے واقعے میں ملوث افراد کی گرفتاری کیلئے کارروائی شروع کردی۔
7:27 PM

کراچی میں کورونا وائرس کا دوسرا کیس رپورٹ

کراچی: شہری مہلک مرض کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے حفاظتی اقدامات کے تحت ماسک پہنے ہوئے ہیں۔ فوٹو: آن لائن
محکمہ صحت سندھ نے کراچی میں کورونا وائرس کے نئے کیس کی تصدیق کردی، حکام کا کہنا ہے کہ مریض ایران سے واپس آیا تھا تاہم اس کا تعلق پہلے کیس سے نہیں ہے۔
محکمہ صحت سندھ کا کہنا ہے کہ کراچی میں کورونا وائرس کا ایک اور کیس رپورٹ ہوا ہے، مریض کو مشتبہ علامات ظاہر ہونے پر اسپتال لایا گیا، جس کے بعد شام 5 بجے انتظامیہ نے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے تصدیق کردی۔
مزید جانیے : حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ مریض حال ہی میں ایران سے واپس آیا تھا جہاں وائرس اس میں منتقل ہوا، کورونا وائرس کے مریض کو آئسولیشن وارڈ میں منتقل کرکے ٹریٹمنٹ شروع کردیا گیا۔
محکمہ صحت کے مطابق متاثرہ مریض کا جن لوگوں سے رابطہ تھا ان تمام افراد کو بھی قرنطینہ میں منتقل کرکے ان کی نگرانی کی جارہی ہے۔
 حکام کا مزید کہنا ہے کہ 26 فروری کو کراچی میں منظر عام پر آنے والے کورونا وائرس کے پہلے مریض سے نئے کیس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
پاکستان میں کورونا وائرس کے 2 کیسز کی تصدیق بدھ 26 فروری کو معاون خصوصی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کی تھی، جس میں ایک مریض کا تعلق کراچی اور دوسرے کا تعلق فیڈرل ایریاز سے تھا۔

7:26 PM

ذخیزہ اندوزوں کے خلاف رینجرز کی کارروائی، سرجیکل ماسک برآمد

پاکستان میں جاری کورونا وائرس کے باعث سرجیکل ماسک کے بحران پرکراچی رینجرز نے کارروائی کرتے ہوئے بڑی تعداد میں فیس ماسک برآمد کئے ہیں۔
کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ماسک کے ذخیزہ اندوزوں کے خلاف رینجرز کی کارروائی کے دوران سرجیکل ماسک سمیت دیگر اشیاء برٓمد ہوئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق کارروائی کے دوران شاہرا ہ قائدین پی ای سی ایچ بلاک 2  کار شو روم سے ایک ملزم محمد عثمان اور واٹر پمپ چورنگی سے عماد نامی دکاندار کو گرفتار کیا گیا ہے۔
کراچی کےمیڈیکل اسٹورزمیں ماسک کی قلتملزم محمد عثمان کی نشاندہی پر رینجرز نے گلشن اقبال سے 74,000 سرجیکل ماسک اور 200 عدد ڈرپ کی بوتلیں برآمد کی ہیں جبکہ ملزم عماد سے ماسک کے 1650 پیکٹ برآمد کی گئی ہیں۔
ملزم محمد عثمان OLX پر مہنگے داموں ماسک فروخت کر رہا تھا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل حال میں دنیا بھر میں چلی کورونا وائرس کی لہر چلی جس کی گرفت میں پاکستان بھی آگیا اور احتیاط کے طور پر عوام میں جراثیم سے بچاؤ ماسک پہنے اور پرہیز کرنے کے احکامات جاری کئے گئے لیکن منافع خوروں نے یہاں پر بھی اپنی سرمایہ کاری کا کام عرج پر رکھا۔
منافع خوروں نے پورے پاکستان سے ڈسٹ ماسک جسے این-95 بھی کہا جاتا ہے مارکیٹ سے غائب کردیئے گئے ہیں۔
چند دکانوں اور فارمیسی پر دستیاب یہ ڈسٹ ماسک جس کی مالیت محض 40 سے 45 روپے کی ہے اب 350 سے 400 میں دستیاب ہیں۔
اس طرح ہر ایک ماسک پر تقریباً 1000 فیصد کا منافع کمایا جارہا ہے۔
اس سے قبل وفاقی وزیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی  روک تھام اور تدارک کے لئے ہماری تیاری مکمل ہے۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں آج 2افرادمیں کوروناوائرس کی تصدیق ہوئی ہے لیکن طب کی اخلاقیات میں مریض کی معلومات شیئرنہیں کی جاتیں۔
واضح رہے کہ پاکستان میں  کورونا وائرس سے متاثرہ دو مریضوں کی تصدیق ہوگئی ہے،  چند روز قبل ایران سے کراچی واپس آنے والے 22 سالہ نوجوان میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
ترجمان محکمہ صحت نے تصدیق کی ہے کہ 22 سالہ متاثرہ شخص اور اہلخانہ کونجی اسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں منتقل کردیا گیا ہے ۔

7:24 PM

کرونا وائرس سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے، فردوس عاشق اعوان

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا عزم ہے کہ ” کرونا وائرس سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے”۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے اپنے ٹویٹ پیغام میں کہا ہے کہ اس ضمن میں تمام صوبائی حکومتوں سے اقدامات اور انتظامات کی رپورٹ طلب کر لی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام میں آگاہی اور شعور بیدار کرکے ان کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے جبکہباقی امراض کی طرح اسے بھی شکست دیں گے۔
ذخیزہ اندوزوں کے خلاف رینجرز کی کارروائی، سرجیکل ماسک برآمدانہوں نے مزید کہا ہے کہ کوئٹہ، لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں مرض کی تشخیص کی سہولیات فراہم کر دی گئی ہیں لیکن ذہن میں رکھنا چاہئیے کہ اس مرض کے 98 فیصدسے زائد صحت مند ہوجاتے ہیںاس لئے تشویش اور پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔
ڈاکٹر فردوس کا کہنا تھا کہ بطور مسلمان یہ دعا بھی ہمیں پڑھنی چاہئے تاکہ اس مرض سے عافیت اور حفاظت میں رہیں جبکہ کرونا وائرس سے نبرد آزما ہونے کیلئے تمام ضروری اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے، یہ لاعلاج نہیں قابلِ علاج مرض ہے۔ اس سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے البتہ حفاظتی تدابیر اختیار کرناخصوصا صفائی کا اہتمام لازم ہے۔ مسلمانوں کیلئے تو “صفائی نصف ایمان ہے”۔
یاد رہے کہ محکمہ صحت سندھ کی جانب سے جمعہ کے روزکہا گیا  تھا کہ کو رونا وائرس سے متاثرہ نوجوان مریض کی حالت بہتر ہورہی ہے اور اس کو قرنطینی مدت پوری ہونے کے بعد اپنے گھر منتقل کردیا جائے گا۔
محکمہ صحت کے مطابق، گذشتہ آٹھ دن سے مریض پاکستان میں ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ متاثرہ 2  مریضوں کے لواحقین اور دوستوں کے ٹیسٹ منفی آئے۔
گزشتہ  روز ڈاکٹر مرزا نے کہا کہ آئندہ چند روز کے دوران، حکام صحت کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد ، آہستہ آہستہ ایران سے واپس آنے والے پاکستانی ’زائرین‘ یا حجاج کو ملک میں داخل ہونے دیں گے۔

7:23 PM

امریکہ ،طالبان امن معاہدے سے افغانستان میں نئے دور کا آغاز ہوگا :فوادچوہدری

سائنس وٹیکنالوجی کے وزیر چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ آج دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے سے افغانستان کیلئے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا ۔آج ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہاکہ اس معاہدے سے امریکہ کی بیرون ملک طویل جنگ کاخاتمہ ہوگا ۔وفاقی وزیر نے کہاکہ اس معاہدے کا کریڈٹ وزیراعظم عمران خان کو جاتا ہے جنہوں نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خارجہ پالیسی کے بنیادی مقصد کے طورپر ہمیشہ افغانستان کیلئے امن کی آواز بلند کی ۔
7:21 PM

’کاشانہ اسکینڈل کی گواہ اقرا کائنات کے قتل پر خاموش رہنے کو کہا جارہا ہے‘

لاہور:لاہور: کاشانہ لاہور کی سابق انچارج افشاں لطیف نے کہا ہے کہ داروالامان اسکینڈل کی اہم گواہ اقرا کائنات کے قتل پر خاموش رہنے کو کہا جارہا ہے۔
لاہور پریس کلب میں میڈیا سے گفتتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں بچیوں کو وزراء اور سرکاری افسران کے آگے پیش نہیں کر سکتی۔ اقرا کائنات کے قتل پر آواز اٹھا نے پر مجھے دھمکیاں دی گئیں۔
افشاں لطیف نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی اہلیہ نے اپنی بیٹیوں کے ہمراہ کا شانہ لاہور دورہ کیا۔ دس لاکھ روپے دے کر آج مجھ  پرکروڑوں روپے فنڈز خوردبرد کرنے کا الزام لگا یا جارہا ہے۔
مزید پڑھیں: 
انہوں نے کہا کہ  اقرا کائنات کے قتل کی ایف آئی آر درج کیوں نہیں کی گئی؟ کاشانہ میں موجود بچیاں کہاں ہیں؟
افشاں لطیف نے کہا کہ 20 جنوری کو سی سی پی او کے دفتر تحفظ کے لیے درخواست دی۔ کاشانہ میں میرا سامان موجود ہے، کائنات کے قتل پر خاموش کروایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے ٹرانفسر کا لالچ دیا جارہا ہے تاکہ خاموش کیوں رہوں۔ حکومت اس کیس میں وزرا کو گرفتار کیوں نہیں کر رہی ہے؟ پولیس اور وزراء اس کیس میں ملوث ہیں۔
مزید پڑھیں: 
اس سے قبل کاشانہ  لاہور کی سابق انچارج افشاں کا نیا ویڈیو بیان سامنے آ گیا تھا۔
ویڈیوں میں افشاں لطیف نے دعویٰ کیا ہے کہ کاشانہ کیس کی اہم گواہ ماریہ کو غائب کر دیا گیا ہے۔ اقرا کائنات کو قتل کردیا گیا، اب ماریہ کو نقصان پہنچایا جائے گا۔
سابق انچارج نے کہا ہے کہ ماریہ نے انکوائری میں بیانات دیے تھے۔ میں نے کاشانہ میں 57 لڑکیاں چھوڑی تھیں۔ وہ سب لڑکیاں کہاں ہیں؟ ان کو تحظ دیا جائے۔
7:17 PM

دیوار چین کے بعد سندھ میں بھی تاریخی دیوار دریافت

 پاکستان کا خوبصورت تاریخی ورثہ، دادو سے سو کلو میٹر کے فاصلے پر ، قلعہ رنی کوٹ دیوار سندھ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
دیوار چین کا نام تو سب نے سن رکھا ہے لیکن آج ہم آپ کو ایک اور تاریخی دیوار کے بارے میں بتاتے ہیں ۔ یہ سندھ کے شہر دادو سے ایک سو کلو میٹر کے فاصلے پر رنی کوٹ کا قلعہ ہے جس کو دیوار سندھ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔۔ 
پاکستان کے پاس بھی ایک ایسی دیوار ہے، جو دنیا میں پاکستان کی پہچان بن سکتی ہے، دادو سے ایک سئو کلو میٹر کے فاصلے پر پہاڑی سلسلے میں واقع رنی کوٹ کا قلع جس کو دیوار سندھ بھی کہا جاتا ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ بہت سے پاکستانی لوگ اس دیوار سندھ کی موجودگی سے لاعلم ہیں۔رنی کوٹ قلعے کی یہ دیوار حسین بھی ہے اور قدیم بھی، اس قلعے کی بنی دیوار اور دیوار چین میں مشابہت پائی جاتی ہے، قلعے میں داخل ہونے کے بعد ماضی کا شاندار عکس دیکھنے کو ملتا ہے، لیکن سندھ حکومت کی عدم توجہ کے باعث دیوار سندھ میں آنے والے سیاحوں کو مختلف پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ہزاروں سال پرانی دیوار سندھ رنی کوٹ قلع کب بنا، کسنے تعمیر کیا،یہ کل بھی ایک راز تھا آج بھی ایک راز ہے، اس پر کوئی حتمی تحقیق اب تک نہیں ہوسکی۔
دلکش اور حسین جگہ سندھ حکومت کی عدم توجہ کے باعث وہ مقام حاصل نہیں کر پا رہی، جو دنیا میں ہماری پہچان بنیں، سائیں سرکار کی اگر یہی بے حسی رہی تو اس قلعے کا قصہ کہانیوں میں بھی نہیں ملے گا۔

جمعہ، 28 فروری، 2020

12:08 PM

کورونا وائرس کے باعث تفتان میں کاروباری سرگرمیاں ختم،ماسک بلیک میں فروخت

کورونا وائرس کے باعث پاک ایران سرحد پر تجارتی بندش کی وجہ سے تفتان میں کاروباری سرگرمیاں ختم ہو گئیں، جس کے بعد تاجر برادری اور مزدور شہر چھوڑ کر جانے لگے جبکہ کورونا سے بچائوکے لیے ملک بھر میں ماسک مہنگے داموں فروخت ہونے لگے یا مارکیٹ سے غائب ہی ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق ایران میں کورونا وائرس کے پھیلنے سے تفتان میں اس کے ممکنہ اثرات سے بچنے کے لیے حکام نے بارڈر ٹریڈ بند کر دی  جس سے تفتان میں کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ گئیں ،کام کی بندش کی وجہ سے مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں اور ساتھ ہی شہر میں ایندھن کی قلت پیدا ہوگئی ۔تفتان کے تاجروں کی ایک بڑی تعداد سرحد کی دوسری جانب پھنس گئی  جن کے رشتہ دار، عزیز و اقارب پریشان ہیں۔تفتان کے واحد سرکاری بینک کو بھی اسٹیٹ بینک کی ہدایت پر بند کر دیا گیا  ، تفتان بازار بھی ویران ہو گیا ۔شہر کے میڈیکل اسٹورز اور دکانوں پر کورونا وائرس سے بچائو کے لیے سرجیکل و میڈیکل ماسک بھی دستیاب نہیں ہیں۔تاجروں  نے کہا  کہ بارڈر ٹریڈ کی بندش سے بے روزگاری میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا جس کی وجہ سے تفتان بازار بند ہو  رہا ، حکومت اس حوالے سے مناسب اقدامات کر کے مسئلہ حل کرے۔ایران جانے والے زائرین کو بلوچستان میں داخل ہونے سے روکنے کا فیصلہ کیا گیا ،اس سلسلے  میں تفتان کے پاکستان ہائوس میں آئسولیشن وارڈ قائم کیا جائے گا۔دوسری جانب کورونا کے 2 کیسوں کی تصدیق کے بعد حفاظتی انتظامات سخت کر دیئے گئے ہیں اور کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے پاکستان اور ایران کے درمیان براہِ راست پروازیں بند کر دی گئیں۔تمام ایئر پورٹس اور سرحدوں پر پاکستان آنے والے مسافروں کی اسکریننگ کا عمل جاری ہے۔ سندھ میں کورونا وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے ٹاسک فورس بنالی گئی ، کراچی کے عباسی شہید  ہسپتا ل میں آئسولیشن وارڈ کے لیے 35بیڈز مختص کر دئیے گئے ۔حکومت کی جانب سے زائرین کی سکریننگ کرنے اور انہیں زیرِنگرانی رکھنے کی ایرانی پیش کش کا جائزہ لیا جا رہا ۔ادھر ملک میں کرونا وائرس کے مریضوں کے سامنے آتے ہی سرجیکل ماسکس کی مانگ بڑھ گئی ۔میڈیکل اسٹوروں پر ماسک دستیاب نہیں  ہیں کے بورڈ لگا دیے گئے ہیں جبکہ کچھ جگہوں پر 5روپے والا ماسک 35سے 50روپے تک میں فروخت  ہونے لگا ۔ملک میں کورونا وائرس کے مریضو ں کے سامنے آنے پر شہریوں کی بے چینی میں اضافہ ہوگیا  اور بڑی تعداد میں لوگ سرجیکل ماسک خریدنے کے لیے میڈیسن مارکیٹوں کا رخ کر نے لگے 
12:04 PM

سندھ کے تمام تعلیمی ادارے2 مارچ سے کھل جائیں گے، صوبائی وزیر تعلیم

کراچی میں ایک شخص میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد حکومت سندھ نے صوبے بھر کے تمام تعلیمی ادارے 27 اور 28 فروری کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم گزشتہ روز صوبائی حکومت کی جانب سے ایک اور نوٹیفکیشن جاری ہوا جس میں بتایا گیا تھا کہ اب تمام تعلیمی ادارے 2 مارچ بروز پیر تک بند رہیں گے۔
لیکن اب اطلاعات ہیں کہ صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی کا کہنا ہے کہ صوبے کے تمام تعلیمی ادارے 2 مارچ بروز پیر سے کھل جائیں گے۔
وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی کی زیر صدارت اعلیٰ افسران کا اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری یونیورسٹریز، سیکرٹری کالجز، سیکرٹری اسکولز، سیکرٹری محنت، ڈی جی پرائیویٹ اسکولز، ایڈیشنل سیکرٹریز سمیت ضلعی تعلیمی افسران بھی شریک ہوئے۔
اجلاس میں وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ سندھ بھر میں تمام تعلیمی ادارے پیر دو مارچ سے کھل جائیں گے، تمام تعلیمی اداروں میں احتیاطی تدابیر کے بینر آویزاں کئے جائیں گے۔
سعید غنی کا کہنا تھا کہ اسکولز دو روز کے لیے بند کرنے کا فیصلہ مشاورت سے کیا گیا تھا، اسکول کے بچوں کو ہاتھ دھونے اور صاف صفائی سے متعلق آگاہی دی جائے گی، تمام ہیڈ ماسٹرز اور پرنسپلز ضلعی ہیلتھ افسران سے رابطے میں رہیں گے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ کراچی میں ایران سے آنے والوں کی تعداد 600 اور سندھ کے دیگر اضلاع میں 1400 ہے، ایران سے آنے والے تمام افراد کا ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ طالب علم کے اہلخانہ اور 14 دوستوں کے بھی ٹیسٹ کروا لئے گئے ہیں، سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی خبروں کو بلا تصدیق آگے نہ پھیلایا جائے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کسی بھی طالب علم سے شکایت پر فوری ضلعی ہیلتھ انتظامیہ کو آگاہ کیا جائے، طالب علم کو نزلہ، زکام کی شکایت پر اسے رخصت دے کر علاج کرایا جائے گا۔
12:01 PM

پاکستان: کرونا وائرس کے خطرات اور بچاؤ، وزارت قومی صحت کا الرٹ جاری

اسلام آباد:  وزارت قومی صحت نے کرونا وائرس کے خطرات اور اس سے بچاؤ کیلئے الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں پر دھیان نہ دیں۔ صورتحال واضح کرنے کیلئے روزانہ حقائق سے آگاہ کیا جائے گا۔
وزارت قومی صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام گھبرائے نہیں۔ کرونا وائرس سے بچاؤ کے تمام انتظام کر رکھے ہیں۔ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ہر سطح پر ضروری انتظامات کیے ہیں۔ عوام بھی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ادھر پاکستان میں کرونا وائرس کی انٹری کے بعد لاہور ائیرپورٹ پر اندرون اور بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی سکریننگ مزید سخت کر دی گئی ہے۔
لاہور ائیرپورٹ پر پاک فوج، ایف آئی اے اور محکمہ صحت کی ٹیمیں موجود ہیں اور مسافروں کی سکریننگ کے لیے ایک کاؤنٹر قائم کر دیا گیا ہے۔ چین اور ایران کے لیے فلائٹ آپریشن تاحال بند ہے۔
ایف آئی اے ذرائع کے مطابق بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی مکمل سکریننگ کی جا رہی ہے۔ کراچی سے فلائٹ آپریشن شیڈول کے مطابق جاری رہے گا۔ تاہم کراچی سے آنے والوں کو بھی اسی عمل سے گزرنا پڑے گا۔
دوسری جانب کرونا وائرس کے خدشہ کے پیش نظر محکمہ ریلیف خیبر پختونخوا نے ماتحت دفاتر کے ملازمیں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت کر دی ہے جبکہ بائیو میٹرک مشین سے ملازمین کی حاضری وقتی طور پر روک دی گئی ہے۔
محکمہ ریلیف کی جانب سے ریسکیو 1122، پی ڈی ایم اے، سول ڈیفنس اور پیرا ایبٹ آباد کو مراسلہ ارسال کر دیا گیا۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ دفاتر میں روایتی طریقے سے گلے ملنے اور ہاتھ نہ ملانے سے متعلق ملازمین کو شائستگی سے سمجھایا جائے۔ دفاتر میں بائیو میٹرک حاضری کو بھی وقتی طور پر روکا جائے۔
مراسلہ کے مطابق سائیڈ ریلنگ، دروازوں پردستک وغیرہ سے گریز کیا جائے۔ تمام دفتری اشیا، کمپیوٹر کیبورڈ، ٹیلی فون اور فیکس مشین وغیرہ کو چھونے کے لئے مناسب اور عارضی دستانوں کا بندوبست کیا جائے۔
کسی بھی ملازم کو زکام کی تکلیف کی صورت میں ماسک لازمی استعمال کیا جائے۔ ماسک کو ایک دن سے زیادہ استعمال سے گریز کیا جائے۔ تمام باتھ روم سے تولیے ہٹانے اور صاف ستھرے تولیے رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کسی بھی ملازم کو کھانسی زکام کی صورت میں فوری ہسپتال سے رجوع کرنے کی ہدایات بھی دی گئیں ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے وفاقی وزارت صحت اور صوبے تیار ہیں۔ ایران میں پاکستانیوں کے تحفظ کیلئے اقدامات جاری ہیں۔ فلائٹ آپریشن کی معطلی پر سعودی حکام سے بھی رابطے ہیں جبکہ چین کیساتھ تجارت متاثر نہیں ہوگی۔
صوبہ سندھ کی صورتحال کی بات کی جائے تو کراچی میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے زیر صدارت کرونا وائرس سے متعلق ہنگامی اجلاس ہوا جس میں چیف سیکریٹری، وزیر صحت سندھ، وزیر بلدیات، مرتضیٰ وہاب، ڈی جی رینجرز سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کے 2 کیس سامنے آنے پر پریشانی ہوئی ہے۔اجلاس میں سیکریٹری صحت نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کل دو کیسز آنے کے بعد ان کے اہلخانہ کو چیک کیا گیا، 6 گھنٹوں میں ٹیسٹ کے بعد وائرس کا پتا چل جاتا ہے۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ اوجھا کیمپس، سول ہسپتال، لیاری ہسپتال، میرپورخاص سول ہسپتال، سکھر، نواب شاہ اور دیگر اضلاع میں آئسولیٹڈ وارڈ بنائے گئے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر محکمہ صحت میں ایمرجنسی سیل قائم کر دیا گیا ہے۔
سیکرٹری صحت نے بتایا کہ جن 28 لوگوں نے کرونا وائرس کے مریضوں کے ساتھ سفر کیا ہے ان کے ساتھ رابطہ ہوگیا ہے، یہ تمام افراد خود بھی محکمہ صحت سے رابطہ میں ہیں اور تعاون کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ایران سے آنے والے 1500 افراد کی سکرننگ کی ہدایت کی۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ جو اشیاء ہسپتالوں کیلیے چاہیں اس کی فوری خریداری کی جائے اور عوام میں آگاہی مہم بھی چلائی جائے۔
بعد ازں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے آنیوالی فلائٹس پر پابندیاں نہیں لگائیں، پروازیں بند کرنے کیلئے وفاق سے رابطہ کر رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کو مدد کی ضرورت ہے تو ہم تیار ہیں۔ مجھے وفاقی حکومت نے اس حوالے سے ہونیوالی کسی میٹنگ میں نہیں بلایا، معاملہ سنگین ہوتا گیا۔ وفاقی حکومت نے کوئی میٹنگ نہیں بلائی، تینوں وفاقی وزرا سے رابطوں کی کوشش کی، کرونا وائرس کے معاملے کو سیاسی نہ بنایا جائے۔
ضرور پڑھیں: وزیراعظم کی امیر قطر سے ون آن ون ملاقات، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی شعبہ میں تعاون پر اتفاق
مراد علی شاہ کا کہنا تھا ایران سے فروری کے دوران 8 ہزار افراد پورے ملک میں آئے، ایران سے فروری کے دوران 1500 لوگ کراچی آئے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے حوالے سے تمام اقدامات مکمل ہیں جو ممکن ہوا کریں گے۔ پنجاب میں ابھی تک کوئی کرونا وائرس کا کیس نہیں ہے۔
کرونا وائرس کی روک تھام سے متعلق سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں اس مرض کی روک تھام سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں ہدایت جاری کی گئی کہ تمام ایئر لائنز مسافروں کو روانگی سے قبل سرجیکل ماسک اور دستانے کی فراہمی یقینی بنائے۔ اس کے علاوہ ملکی اور غیر ملکی ایئر لائنز کو مسافروں کا ڈیٹا مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
ضرور پڑھیں: کرونا، آئسولیشن وارڈز بنا دیئے، ماسک مہنگا نہیں ہونے دینگے: عثمان بزدار
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مسافروں کا ڈیلی ٹریولنگ ڈیٹا مرتب اور ایئرپورٹس پر ہیلتھ کاؤنٹرز میں تھرمل سکینرز اور گنز میں بھی اضافہ کیا جائے۔
سی اے اے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یومیہ بنیاد پر ایئرپورٹس بلڈنگز میں فیومیگیشن کی جائے گی۔ ہیلتھ کاؤنٹرز پر موجود پیرا میڈیکل سٹاف کی موجودگی کو بھی مانیٹر کیا جائے گا۔
ہدایات جاری کی گئی ہیں کہبیرون ملک جانے والے مسافروں کو چھوڑنے کے لئے کم لوگ ایئرپورٹس آئیں۔ کرونا وائرس سے متاثرہ مسافر کی نشاندہی پر سٹاف سرجیکل ماسک لازمی استعمال کریں۔ جناح ٹرمینل پر مختلف مقامات پر جراثیم کش لوشن، ماسک اور ٹرمینل بلڈنگز میں وافر تعداد میں واٹر ڈسپنسر رکھے جائیں گے۔
11:59 AM

اسلام آباد میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے مفت ماسکس تقسیم

کورونا وائرس پاکستان بھی پہنچ گیا.وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک میڈیکل ا سٹور نے شہریوں میں ماسکس کی مفت فراہمی شروع کردی، ماسکس کے حصول کی تلاش میں آنے والوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی تو انہیں قطار میں انتظار کرنے کے ساتھ شناختی کارڈز نمبر کا اندراج بھی کرانا پڑا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ میڈیکل اسٹور کے مالک نے بہت اچھا اقدام کیا ہے کہ یہ ماسک ہم لوگوں میں بالکل مفت تقسیم کر رہے ہیں، جبکہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے رسپائیریٹری ماسک بہت ضروری ہے۔
11:58 AM

نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے سی ٹی ڈی اہلکار شہید

اٹک:(28 فروری 2020) رات گئے اٹک میں نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کرتے ہوئے سی ٹی ڈی اہلکار کو موت کی گھاٹ اتاردیا ہے۔
اٹک پولیس کے مطابق رات گئے سی ٹی ڈی اہلکارسہیل احمد پر نرتوپا کے مقام پر نامعلوم ملزمان نے اس وقت فائرنگ کی جب وہ اپنے دفتر سے گھر جارہے تھے، فائرنگ کے باعث وہ شدید زخمی ہوا، فوری طور پر اسے اسپتال منتقل کیا گیا تاہم زیادہ خون بہہ جانے کے باعث وہ اسپتال میں دم توڑ گیا جبکہ ملزمان اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے۔
پولیس کے مطابق کانسٹیبل سہیل احمد ضلع اٹک کی سی ٹی ڈی میں تعینات تھا،ترجمان سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ کانسٹیبل کو شہید کرنے والے ملزمان کو جلد ٹریس کرلیا جائے گا۔

11:56 AM

پاکستان نے امریکا کو سی پیک میں سرمایہ کاری کی دعوت دیدی

اسلام آباد: امریکا کو پاک چین اقتصادی راہداری میں سرمایہ کاری کی دعوت امریکی وزیر تجارت ولبر راس کے دورہ پاکستان کے موقع پر دی گئی۔یہ اہم بات مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی وزیر تجارت ولبر راس نے پاکستان کی دعوت پر مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کا کہا ہے۔
عبدالرزاق داؤد کا کہنا تھا کہ سی پیک امریکا کیلئے کھلا ہے۔ اس منصوبے میں امریکی سرمایہ کاری پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ امریکا نے تیل اور گیس کے شعبہ میں سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان زبردست کیمسٹری بن چکی ہے۔ افغان امن معاہدے کے بعد پاک امریکا دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم امریکا کی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ امریکا نے مختلف سیکٹرز میں پائی جانیوالی کمزوریوں کی نشاندہی کی ہے۔ امریکا سے جی ایس پی کی سہولت پر بات ہوئی ہے۔
مشیر تجارت کا کہنا تھا کہ امریکا نے ٹیفا کا اجلاس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنیوں کے دفاتر انڈیا، بنگلا دیش اور کمبوڈیا میں موجود ہیں۔ امریکہ سے ای کامرس، زراعت اور تیل اور گیس میں سرمایہ کاری بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
11:55 AM

گٹکے سے کینسر، محکمۂ داخلہ، آئی جی سندھ کو نوٹس

گٹکا کھانے سے منہ کے کینسر میں مبتلا ایک اور کراچی کا شہری وسیم مسیح سندھ ہائی کورٹ پہنچ گیا۔عدالت نے وسیم مسیح کی درخواست پر محکمۂ داخلہ، آئی جی سندھ اور دیگر کو نوٹس جاری کر دیا۔عدالتِ عالیہ نے متعلقہ فریقین اور ایس ایچ او لانڈھی کو جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔درخواست گزار وسیم مسیح نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ منہ کے کینسر کی وجہ سے زندگی اور موت کی کشمکش میں جی رہا ہوں۔وسیم مسیح کا اپنی درخواست میں مزید کہنا ہے کہ پولیس کی سرپرستی میں شہر بھر میں عدالتی پابندی کے باوجود کھلے عام گٹکا فروخت ہو رہا ہے۔درخواست میں عدالتِ عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ حکومت کو کینسر کے علاج اور گٹکا فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا جائے۔
11:49 AM

راولپنڈی اور اسلام آباد میں وقفے وقفے سے بارش جاری

راولپنڈی اور اسلام آباد میں وقفے وقفے سے بارش جاری ہے۔
محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق خیبرپختونخوا، وسطی پنجاب، شمالی بلوچستان،کشمیراور گلگت بلتستان کے بعض مقامات پر بارش اورپہاڑوں پربرفباری کاامکان ہے۔
11:47 AM

حج فارم میں آئی ایک اہم تبدیلی، وفاقی وزیر مذہبی امور کا بیان بھی سامنے آگیا

وزارت مذہبی امور نے ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ حج فارم میں ختم نبوتؐ کا حلف نامہ موجود ہے، بینکوں سے جو فارم مل رہا ہے وہ صرف ڈیٹا فارم ہے۔
وفاقی وزیر مذہبی امور کا کہنا تھا کہ درخواست میں ختم نبوتؐ کا کالم اپنی جگہ موجود ہے، عازم حج وہی کہلائے گا جو ختم نبوتؐ کے حلف نامے پر دستخط کرے گا۔
نور الحق قادری نے کہا کہ ختم نبوت پر ہمارا ایمان اور عقیدہ حتمی اور اٹل ہے، حج درخواست فارم سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی معلومات درست نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ترجمان مذہبی امور نے اطلاع دی تھی کہ سرکاری حج اسکیم کے لیے ملک بھر کے 13 نامزد بینکوں میں 24844 حج درخواستیں وصول ہو گئی ہیں، اور حج درخواستوں کی وصولی 6 مارچ تک جاری رہے گی۔ یہ ہدایت بھی کی گئی کہ درخواست گزار بینک سے دستخط اور مہر شدہ رسید لازمی طلب کریں، کوائف میں غلطی کی صورت میں فوراً بینک سے تصحیح کرائیں۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے درخواست فارموں کے ساتھ واجبات جمع کرانے میں سہولت دینے کے لیے بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ملک بھر میں اپنی تمام نامزد برانچیں ہفتہ اور اتوار (یعنی 29 فروری اور یکم مارچ ) کو صبح 10 بجے سے لے کر دوپہر 2 بج کر 30 منٹ تک کھلی رکھیں۔
9:35 AM

پاکستان میں کرونا وائرس سے بچاؤ اور علاج کے لیے کیا حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں؟


پاکستانی حکام کی جانب سے چین سے شروع ہو کر 38 ممالک تک پھیلنے والے کورونا وائرس کووِڈ-19 کے دو مریضوں کی موجودگی کی تصدیق کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ سوال پوچھا جانے لگا ہے کہ پاکستان اس وائرس سے نمٹنے اور عوام کو تحفظ دینے کے لیے کتنا تیار ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بدھ کی شب پاکستان کے شہر کراچی اور اسلام آباد میں دو مریضوں میں کورنا وائرس کی تشخیص کی تصدیق کی تھی اور یہ بھی بتایا تھا کہ مزید 13 افراد ایسے ہیں جن میں وائرس کی موجودگی کا شبہ ہے اور ان کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

ظفر مرزا کے مطابق پاکستان میں یہ وائرس ایران سے آیا ہے جو چین سے باہر ایشیا میں اس وائرس کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں متاثرین گذشتہ ایک ماہ کے دوران ایران سے واپس آئے تھے۔

ایران میں وائرس کے مریضوں کی موجودگی کا اعلان چند دن قبل ہی ہوا ہے جس کے بعد پاکستان نے ایران سے ملحقہ سرحد بند کر دی ہے جبکہ وہاں سے آنے والے افراد کو سرحد پر ہی قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی حکومت ایران میں کرونا وائرس پھیلنے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس سوال پر کہ کیا چین سے پاکستانی طلبا کو واپس نہ لانے کی پالیسی ایران سے بھی زائرین اور طلبا پر لاگو ہوگی، ترجمان دفتر خارجہ نے بی بی سی کی نمائندہ فرحت جاوید کو بتایا کہ اس پر بات کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔

'ہم ایران کی حکومت سے مکمل رابطے میں ہیں اور سرحدی علاقوں میں سکریننگ مزید سخت کر دی گئی ہے'۔
 

انھوں نے کہا کہ اس معاملے پر بلوچستان اور دارالحکومت میں اعلی سطح پر منصوبہ بندی کی جارہی ہے اور 'چین اور ایران میں موجود پاکستانی شہریوں کے حق میں مفید ترین فیصلہ کیا جائے گا'۔

انھوں نے بتایا کہ سفارتخانے میں ہیلپ لائنز قائم کر دی گئی ہیں اور قونصل خانے اس حوالے سے پاکستانی برادری کو ضروری معلومات اور تجاویز فراہم کر رہے ہیں۔

بدھ کی شب بلوچستان کی حکومت نے صوبے بھر میں تعلیمی ادارے 15 مارچ تک کے لیے بند کر دیے ہیں جبکہ سندھ میں بھی سکول اور دیگر تعلیمی ادارے اختتامِ ہفتہ تک بند رہیں گے۔

حکومت سندھ نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران سے آنے والی پروازوں کو معطل کیا جائے۔

ایران سے پروازیں معطل کرنے کا مطالبہ
کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں بدھ کی شب جس پہلے مریض کی تصدیق ہوئی وہ 22 سالہ نوجوان اپنے دوستوں اور دیگر 28 افراد کے ساتھ زیارات کے لیے ایران گیا تھا۔

محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق یہ نوجوان قم میں قیام کے بعد 19 جنوری کو تہران سے کراچی روانہ ہوا تھا اور 24 فروری تک مریض میں وائرس کی علامات نہیں تھیں۔ 25 فروری کو اسے نجی ہسپتال میں داخل کیا گیا جہاں 26 فروری کو وائرس کی تصدیق ہوئی۔
 

سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ متاثرہ مریض کے ساتھ اس کے اہلخانہ کو بھی قرنطینہ میں رکھا گیا ہے اور اس کے باوجود کہ ان افراد میں وائرس سے متاثر ہونے کی علامات نہیں ہیں انھیں پھر بھی 15 روز نگہداشت میں رکھا جائے گا۔

مراد علی شاہ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ نوجوان کے ساتھ سفر کرنے والے 28 افراد کی بھی شناخت کر لی گئی ہے جبکہ یکم فروری سے اب تک ایران جانے والے 1500 زائرین کا پتا لگایا گیا ہے، ان کے شناختی کارڈ اور موبائل فون نمبرز حاصل کیے گئے ہیں اور ان کی یونین کونسل کی سطح پر نگرانی کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ان لوگوں سے درخواست کی جائے گی کہ وہ آئندہ 15 دن تک اپنے گھروں تک محدود رہیں۔ اگر ان میں کھانسی، بخار یا اس قسم کی علامات ہیں تو حکام سے فوری رابطہ کریں جہاں محکمہ صحت کی مخصوص ٹیمیں ان کا معائنہ کریں گی اور کچھ شبہ ہوتا ہے تو انھیں ہسپتال منتقل کردیا جائے گا۔‘

وزیراعلیٰ کے مطابق اس نگرانی میں ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی مدد لی جائے گی۔

سندھ میں تعلیمی ادارے بند کرنے کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ایران سے آنے والے 1500 افراد لوگوں اور بچوں سے بھی رابطے میں رہے ہوں گے اور ہو سکتا ہے کہ کسی سکول بھی گئے ہوں، اسی وجہ سے سکول بند کیے گئے ہیں۔
 

سندھ کے وزیر اعلیٰ نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران سے آنے والی پروازوں کو معطل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس سلسلے میں وزیر خارجہ، وزیر داخلہ اور صحت کے وفاقی معاون سے رابطے کی کوشش کی تھی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

ان کے مطابق ’ایئرپورٹس پر سکریننگ کی صورتحال کچھ بہتر نہیں ہے اور اجلاس میں بعض ماہرین نے ذاتی تجربے کی بنیاد پر اس کی نشاندہی کی۔‘

سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ کراچی میں کورونا کے مشتبہ مریضوں کے لیے ایک ہسپتال وقف کیا جارہا ہے جس میں تمام مطلوبہ سہولیات فراہم کی جائیں گی اور اس کے لیے وینٹی لیٹرز کی خریداری ہو رہی ہے۔

وزیراعلیٰ کے مطابق انھوں نے ’ماسک اور ادویات کے مصنوعی بحران کا بھی نوٹس لیا ہے اور حکومت ان کی فراہمی یقینی بنائے گی جبکہ عوامی اجتماعات والے مقامات پر سینیٹائزر نصب کیے جائیں گے۔‘

ایران سے ملحقہ سرحد بند
کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق بلوچستان کے علاقہ تفتان سے ملحقہ ایرانی بارڈر جمعرات کو پانچویں روز بھی بند رہا، ضلعی انتظامیہ کے مطابق چاغی ضلعے میں تین قرنطینہ سینٹر بنائے گئے ہیں، اسسٹنٹ کمشنر نجیب قمبرانی کا دعویٰ ہے کہ ان میں ڈھائی ہزار تک لوگوں کو رکھا جاسکتا ہے۔ صحت کے مقامی عملے کی مدد کے لیے اسلام آباد سے 9 ڈاکٹر طلب کیے گئے ہیں۔ ایران سے آنے والے 250 زائرین تاحال پاکستان ہاؤس میں موجود ہیں جس کو قرنطینہ سینٹر قرار دیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ جام کمال کا کہنا ہے کہ ایرانی سرحد بند کرنے کی مخالفت کی گئی تھی کہ اس سے تجارت میں فرق آئے گا لیکن وفاقی حکومت نے فیصلہ لیا، کیونکہ ان کی رائے تھی کہ ’مشتبہ مریضوں کی اطلاعات قم سے آرہی تھیں وہاں ہمارے زائرین بہت جاتے ہیں ہم نے کہا کہ جب یہ واپس آئیں گے تو یہ پاکستان میں پھیل جائیں گے اس لیے بارڈر بند کیا جائے‘۔

محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں کورونا وائرس کی مجموعی طور پر مانیٹرنگ اور اس کی روک تھام کے لیے 14 رکنی ٹیکنیکل کمیٹی بنائی گئی ہے۔ تاہم ان علاقوں کی جانب خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے جہاں چینی باشندے موجود ہیں۔
 

ان میں گوادرکے علاوہ ضلع چاغی میں سیندک اور کراچی سے متصل بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کا علاقہ دودڑھ شامل ہیں۔ صوبائی حکام کے مطابق صوبے بھر میں جاری مختلف منصوبوں پر کام کرنے والے چینی باشندوں کی تعداد تقریباً 459 ہے۔

تاہم گوادر سے تعلق رکھنے والے رکن بلوچستان اسمبلی حمل کلمتی نے ان انتظامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ بلوچستان اسمبلی کے رواں اجلاس میں ان کا کہنا تھا کہ گوادر میں سرحدی علاقوں سے اب بھی لوگوں کی آمدورفت کسی مناسب نگرانی کے بغیر جاری ہے۔ انہوں نے گوادر شہر میں چینی شہریوں کی گھومنے پھرنے کو محدود کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

سرحدی علاقوں میں کورونا وائرس کی روک تھام کے علاوہ حکومت بلوچستان نے ایران سے متصل سرحدی علاقوں میں دیگر علاقوں سے 60 سے زیادہ ڈاکٹروں کی ڈیوٹیاں لگائی ہیں۔

سرحدی علاقوں کے علاوہ کوئٹہ میں سول ہسپتال کے علاوہ بھی فاطمہ جناح چیسٹ اینڈ جنرل ہسپتال میں آئسولیشن مراکز قائم کیے ہیں گئے۔

افغانستان میں کورونا وائرس کے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد افغانستان سے متصل سرحدی علاقوں میں آمدورفت کے پوائنٹس پر افغانستان سے آنے والے افراد کی سکریننگ کی جارہی ہے۔
 

خیبرپختون خوا کے ہسپتالوں میں تیاری
پشاور ایئرپورٹ پر تربیت یافتہ عملہ تعینات ہے اور انھیں تھرمل گن اور تھرمل سکینر فراہم کر دیے گئے ہیں، خیبر پختونخوا محکمہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر طاہر ندیم کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ پشاور ایئرپورٹ پر ایک علیحدہ آئسولیشن روم بھی قائم کیا گیا ہے جبکہ مریضوں کو ہسپتال منتقل کرنے کے لیے ایمبولینس بھی فراہم کی گئی ہے۔

پشاور ائیرپورٹ پر تعینات عملے کی انچارج ڈاکٹر کشمالہ اورکزئی نے بتایا کہ اس وقت بیرون ملک سے آنے والے تمام مسافروں کی سکیننگ کی جا رہی ہے۔ ابتدائی طور پر مسافروں کا تھرمل گن سے بخار کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ان میں زکام، کھانسی، نزلہ اور سانس کی تکلیف کا معائنہ کیا جاتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ مسافروں کے سفر کا ریکارڈ بھی ان کے پاسپورٹ سے چیک کیا جا رہا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں مسافر نے کہاں کہاں سفر کیا ہے۔

پشاور میں اگرچہ تمام ہسپتالوں کو الرٹ کیا گیا ہے لیکن ڈاکٹر طاہر ندیم کے مطابق پشاور ایئرپورٹ کے قریب فوجی فاؤنڈیشن ہسپتال کے ساتھ رابطہ کیا گیا ہے اور ابتدائی طور پر اس ہسپتال میں آئسولیشن وارڈ قائم کر دیا گیا ہے۔

پولیس سروسز ہسپتال پشاور، ایوب میڈیکل کمپلیکس ایبٹ آباد اور سول ہسپتال بٹگرام میں بھی الرٹ جاری کیا گیا ہے جہاں تمام حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان ہسپتالوں میں آئسولیشن وارڈ کے علاوہ دیگر سامان بھی فراہم کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ برف باری کی وجہ سے خنجراب پاس اس موسم میں بند کر دیا جاتا ہے۔ واضح رہے پاکستان اور چین کے درمیان یہ پہلے سے طے معاہدے کے مطابق ہر سال خنجراب پاس یکم دسمبر سے یکم اپریل تک بند رہتا ہے۔ حکام کے مطابق چین نے سوست بارڈر بھی بند کر دیا ہے جس کے بعد اس راستے سے آمدورفت کا سلسلہ معطل ہے۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق ہزارہ ڈویژن اور اس کے ملحقہ علاقوں میں مختلف منصوبوں پر کام کرنے والے چینی باشندوں کی سکیننگ کی گئی ہے اور ان میں کوئی ایسا شخص نہیں ملا جس نے 8 دسمبر 2019 کے بعد چین کا سفر کیا ہو۔

پاک افغان سرحد گزشتہ چند ماہ سے 24 گھنٹے کھلی رہتی ہے اور ایک اندازے کے مطابق یہاں سے روزانہ تقریباً 13000 افراد اور ایک ہزار مال بردار ٹرک گزرتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر ندیم کے مطابق طورخم بارڈر پر تھرمل سکینر اور تھرمل گنز فراہم کر دی گئی ہیں اور عملہ بھی تعینات ہے لیکن 24 گھنٹے سروس کے لیے یہاں عملے میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
 

پنجاب کی صورتحال
پنجاب میں کورونا وائرس کی صورتحال اور اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی سربراہی میں جمعرات کو اجلاس ہوا جس میں صورتحال کا صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کابینہ کی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ اس کمیٹی میں تمام سٹیک ہولڈرز شامل ہوں گے اور یہ روزانہ اجلاس کر کے صورتحال کا جائزہ لے گی اور اقدامات تجویز کرے گی۔

حکام کے مطابق اس وقت پنجاب میں پی کے ایل آئی میں 75بستروں پر مشتمل آئسولیشن وارڈ قائم کر دیا گیا ہے جبکہ اس کے علاوہ لاہور کے میو ہسپتال میں بھی 35بستروں پر مشتمل آئسولیشن یونٹ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سروسز ہسپتال میں بھی آئسولیشن وارڈ قائم ہے جبکہ وزیراعلیٰ نے جنوبی و شمالی پنجاب میں بھی ایسے وارڈز کے قیام کا حکم دیا ہے۔

اجلاس میں عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ پنجاب میں کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے سہولت موجود ہے جبکہ ایئرپورٹس پر مسافروں کی سکریننگ کے لیے محکمہ صحت کا اضافہ عملہ تعینات کیا گیا ہے۔

پنجاب کی حکومت نے اس وائرس کے حوالے سے احتیاطی تدابیر اور بچاؤ کے لیے آگاہی مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکام کے مطابق پنجاب میں محکمہ صحت، شوکت خانم کینسر ہسپتال اور چغتائی لیبز کے پاس کورونا وائرس کی تشخیصی کٹس موجود ہیں۔

میڈیا سے گزارشات
پاکستان میں میڈیا کے ریگیولیٹری ادارے پیمرا نے نشریاتی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ ’پازیٹو کیس کی خبر اس وقت تک نہیں چلائی جائے جب تک وفاقی محکمہ صحت اس کی تصدیق نہ کر دے۔

اس ایڈوائزری میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی غیر مصدقہ اطلاعات کو نشر نہ کیا جائے۔