Popunder ads

Breaking

India لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
India لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 6 مارچ، 2020

10:46 AM

کیا انڈیا میں ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگانا غداری ہے؟


گذشتہ ماہ انڈیا کے شہر بنگلور میں 19 برس کی طالبہ امولیہ لیونہ پر ایک ریلی میں ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے پر انڈین پینل کوڈ کی دفع 124 اے کے تحت غداری کا مقدمہ درج کیا گیا تھا اور وہ تاحال پولیس کی حراست میں ہیں۔

20 فروری کو شہریت کے متنازع قانون سی اے اے کے خلاف ہونے والی اس ریلی میں جب امولیہ نے ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگایا تو ان کو اپنی بات پوری کرنے کا موقع نہیں دیا گیا تھا اور انھیں سٹیج سے کھینچ کر ہٹا دیا گیا تھا۔

امولیہ کا پورا ویڈیو دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ وہ اس نعرے کو سمجھانے کی کوشش کر رہی تھیں لیکن کسی نے انہیں بولنے ہی نہیں دیا ساتھ ہی اس بات کو بھی نظر انداز کیا گیا کہ وہ بھارت زندہ باد کے نعرے بھی لگا رہی تھیں۔

لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان زندہ باد کے نعرہ لگانا ’غداری‘ اور پاکستان مردہ باد کہنا ’دیش بھکتی‘ یعنی حب الوطنی کا ثبوت ہے؟
 

سپریم کورٹ کے ممتاز وکیل دشینت دوے کہتے ہیں 'پاکستان زندہ باد‘ کہنا غدادری نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’غداری تو دور کی بات ہے یہ کوئی گناہ بھی نہیں ہے جس کی بنیاد پر پولیس کسی کو گرفتار کر لے۔‘

دوے کہتے ہیں کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کی بات آئین میں درج ہے۔

’جنھیں لگتا ہے کہ پاکستان سے نفرت دیش بھکتی ہے وہ انڈیا کے وجود کو نہیں سمجھتے۔

’کسی ایک ملک سے نفرت اتنے بڑے ملک کے لیے وفاداری کا ثبوت نہیں ہو سکتی انڈیا کے آئین میں بھی اس کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔‘
 

31 اکتوبر 1984 کو اس وقت کے وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد پنجاب حکومت کے دو ملازمین بلونت سنگھ اور بھوپیندر سنگھ کو خالصتان زندہ باد اور راجکریگا خالصہ کا نعرہ لگانے کے معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

بلونت اور بھوپیندر نے اندرا گاندھی کے قتل کے کچھ ہی گھنٹے بعد چنڈی گڑھ میں یہ نعرے لگائے تھے۔

ان کے خلاف بھی انڈین پینل کوڈ کی دفع 124 اے کے تحت غداری کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ جب یہ کیسں سپریم کورٹ میں گیا تو سنہ 1995 میں جسٹس اے ایس آنند اور جسٹس فیضان الدین کی بینچ نے واضح طور پر کہا کہ اس طرح سے ایک دو لوگوں کے نعرے لگانا غداری نہیں ہے۔
 

سپریم کورٹ کی اس بینچ نے کہا تھا ایک دو لوگوں کی جانب سے ایسے نعرے لگانا حکومت اور انتظامیہ کے لیے خطرہ نہیں ہے اس میں نفرت اور تشدد بھڑکانے والی بھی کوئی بات نہیں ہے، ایسے میں غداری کا الزام لگانا غلط ہے۔

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ان دونوں نے ہندوستان مردہ باد کے نعرے بھی لگائے تھے تو جج کا کہنا تھا کہ ایک دو لوگوں کی جانب سے اس طرح کے نعرے لگانے سے ریاست یا امن و قانون کو کوئی خطرہ نہیں ہو سکتا۔

انھوں نے کہا کہ غداری کا چارج اسی وقت لگایا جانا چاہیے جب کوئی فرقوں میں نفرت پیدا کرے۔ انھوں نے کہا کہ پولیس نے انہیں گرفتار کر کے کوئی سمجھداری کا ثبوت نہیں دیا کیونکہ کشیدہ حالات میں اس طرح کی گرفتاریوں سے صورتِ حال مزید بگڑتی ہے۔
 

اسی طرح کے الزامات جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالبِ علم کنہیا کمار پر بھی لگائے گئے ہیں تاہم ابھی تک ان کے خلاف چارج شیٹ داخل نہیں کی گئی تاہم دلی حکومت کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد ان کے خلاف چارج شیٹ دائر کی جا سکتی ہے۔

اگر عدالت میں یہ ثابت ہو بھی جاتا ہے کہ نعرے لگائے گئے تھے تو بھی جسٹس اے ایس آنند کے فیصلے کی مثال ضرور دی جائے گی۔

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس بی سدرشن ریڈی نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ امولیہ کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنا قانون کے غلط استعمال کے مترادف ہو گا۔
 

ان کا کہنا تھا کہ اس میں غداری کا معاملہ کہاں سے بنتا ہے اس لڑکی نے جو بھی کہا اس کے لیے تازیراتِ ہند کے تحت کوئی کیس ہی نہیں بنتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ غداری تو دور کی بات ہے امولیہ پر کسی طرح کا کوئی مجرمانہ کیس بھی نہیں بنتا۔

جسٹس ریڈی نے کہا کہ اگر امریکہ زندہ باد اور ٹرمپ زندہ باد کہنے میں کوئی پریشانی نہیں ہے تو پھر پاکستان زندہ بار کہنے میں بھی کوئی دقت نہیں ہونی چاہیے۔

امولیہ بنگلور یونیورسٹی میں صحافت کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور اس کیس میں انھیں عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔ جسٹس ریڈی کا کہنا تھا کہ عدالت کو اس میں از خود نوٹس لینا ہو گا ورنہ حملوں میں اضافہ ہوتا جائے گا۔
 

ان کہنا تھا کہ پاکستان زندہ بار کے نعرے لگانا اس وقت تک جرم نہیں ہے جب تک انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ نہ ہو رہی ہو یا پھر پاکستان کو دشمن ملک قرار نہ دیا گیا ہو۔

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والی دفعہ 370 ختم کیے جانے کے بعد سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی ضرور ہے لیکن دونوں ملکوں کے درمیان رسمی سفارتی تعلقات ابھی بھی برقرار ہیں۔

تو کیا انڈیا اور پاکستان کے درمیان میچ میں پاکستان کی جیت پر خوشی منانا بھی غداری ہے۔ 2017 میں کرکٹ چیمپیئن ٹرافی میں انڈیا کے خلاف پاکستان کی جیت پر جشن منانے کے الزام میں 20 مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ معاملہ ریاست مدھیہ پردیش اور راجھستان کا تھا۔ ان لوگوں پر غداری کا مقدمہ درج کیا گیا تھا لیکن بعد میں مدھیہ پردیش کے 15 لوگوں پر سے یہ مقدمہ ہٹا لیا گیا تھا۔

حال ہی میں آسٹریلیا میں خواتین کا ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میچ کور کرنے والے صحافی وویک کمار کا کہنا تھا کہ جب بھی انڈیا اور آسٹریلیا کے درمیان کرکٹ میچ ہوتا ہے تو بڑی تعداد میں وہاں بسنے والے انڈین سٹیڈیم میں میچ دیکھنے آتے ہیں اور سٹیڈیم میں بیٹھ کر ’بھارت ماتا کی جے‘ اور ’وندے ماترم‘ کے نعرے لگاتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اس پر کوئی یہ سوال نہیں اٹھاتا کہ آپ یہاں کی کھاتے ہیں اور انڈیا کی گاتے ہیں بلکہ وہاں کے لوگ اس سے محظوظ ہوتے ہیں۔ یہاں پسند کے حوالے سے کسی کو غدار قرار نہیں دیا جاتا۔‘

دوسری جانب انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان ویراٹ کوہلی سے جب نومبر 2018 میں ایک مداح نے کہا کہ اسے انڈین کھلاڑیوں سے زیادہ انگریز اور آسٹریلیائی کھلاڑی پسند ہیں تو کوہلی نے اسے انڈیا چھوڑ کر دوسرے ملک میں بسنے کی صلاح دے ڈالی تھی۔
 

وویک کہتے ہیں کہ انڈین لڑکیاں عمران خان، وسیم اکرم یا شعیب اختر کو خوب پسند کرتی تھیں اور ایسا بھی نہیں کہ صرف مسلمان لڑکیاں ہی انھیں پسند کرتی ہوں۔ اسی طرح اداکار فواد خان بھی انڈین لڑکیوں میں کافی مقبول تھے۔

غداری کے معاملے میں دفعہ 124 اے پر سپریم کورٹ نے سب سے اہم فیصلہ 1962 میں کیدار ناتھ بمقابلہ بہار حکومت میں سنایا تھا۔

سنہ 1953 میں کیدار ناتھ نے بیگو سرائے کی ایک ریلی میں اس وقت بہار کی کانگریس حکومت پر جم کر تنقید کی تھی۔

اپنی تقریر میں کیدار ناتھ نے کہا تھا کہ ’سی آئی ڈی کے ’کتے‘ یہاں گھوم رہے ہیں اور کچھ اس ریلی میں بھی موجود ہیں انڈیا کے لوگوں نے برطانوی راج کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا اور اب انگریزیوں کی طرح کانگریس کے ان ’غنڈوں‘ کو بھی اکھاڑ پھینکیں گے۔‘

اس معاملے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ حکومت کے خلاف سخت الفاظ کا استعمال غداری نہیں ہے۔ عدالت نے واضح کیا تھا کہ جب تک کوئی تشدد اور نفرت نہیں پھیلاتا اس پر غداری کا مقدمہ نہیں بن سکتا۔

عدالت نے کہا تھا کہ لوگوں کو حکومت کی نکتہ چینی کرنے اور اپنی پسند اور ناپسند ظاہر کرنے کا حق ہے۔

قوم پرستی اور غداری کی سیاست
2014 میں مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے کئی ایسی چیزیں سامنے آئیں جنھیں حب الوطنی یا قوم پرستی سے جوڑ دیا گیا۔

جیسے سینما گھروں میں فلم شروع ہونے سے پہلے بجنے والا قومی ترانے پر کھڑا ہونا لازمی قرار دیا گیا۔ کچھ لوگوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو ان کی پٹائی کی گئی۔کیا بولنا چاہیے اورکیا نہیں یہ بھی طے کیا جانے لگا۔

مؤرخ مردولہ مکھرجی لفظ قوم پرستی کا مطلب اور اس کی باریکیوں کو انڈیا کی آزادی کی لڑائی کے پسِ منظر میں دیکھتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ہٹلر کی قوم پرستی نہرو اور گاندھی کی قوم پرستی سے مختلف تھی۔ یورپ کی قوم پرستی میں دشمن اندر ہی تھے جبکہ انڈیا میں یہ برطانوی سامراجیت کے خلاف پیدا ہوئی تھی۔

جس نے لوگوں کو برطانوی حکومت کے خلاف متحد کیا تھا اور جہاں بنیادی شناخت انڈین تھی اور اس میں ذات پات، زبان یا مذہب کی اہمیت نہیں تھی۔

1922 میں مہاتما گاندھی کو غدار قرار دیا گیا، انگریز اس قانون کا استعمال کر کے آزادی کا نعرہ لگانے والوں کو جیل میں ڈالتے تھے۔ انڈیا کے غداری کا یہ قانون آزاد انڈیا میں آج بھی چل رہا ہے اور اس کا بھر پور استعمال کیا جا رہا ہے۔

انگریزوں کا بنایا ہوا یہ قانون آج بھی انڈیا میں نہ صرف موجود ہے بلکہ آج کے دور میں اس کا استعمال بھی ہو رہا ہے جبکہ خود برطانیہ نے سنہ 2009 میں اس قانون کو ختم کر دیا تھا۔
 

غداری کا یہ قانون 17ویں صدی میں بادشاہ اور حکومت کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانے کے لیے لگایا گیا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ حکومت کے بارے میں صرف اچھی باتیں کریں اسی قانون کو انگریزوں نے 1870 میں بھارت میں نافذ کر دیا تھا اور اس قانون کا خوب استعمال کیا تھا۔

نہرو ، پٹیل اور شیاما پرساد مکھرجی
آئین نافذ ہونے کے تقریباً 17 مہینے بعد اس بات پر بحث شروع ہوئی کہ آزادی اظہار کی کیا حد ہونی چاہیے۔

آخرکار سنہ 1951 میں آئین میں پہلی ترمیم کر کے تین نئی شرطیں جوڑی گئیں، پبلِک آرڈر، دوسرے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور جرم کرنے کے لیے اکسانہ یعنی آپ ایسا کچھ نہ لکھیں اور نہ ایسا بولیں جس سے امن و امان خراب ہو۔

مشہور وکیل ابھینو چندر چور نے اپنی کتاب ’رپبلِک آف ریٹرک فری سپیچ اینڈ دی کنٹینیوایشن آف انڈیا‘ میں لکھا ہے کہ آئین کی پہلی ترمیم کے ذریعے بھارتیہ جنگ سنگھ کے بانی شیام پرساد مکھرجی کو پاکستان کے خلاف لڑائی چھیڑنے کی بات کرنے سے روکا گیا تھا انھیں دوسرے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا حوالہ دے کر نہرو اور پٹیل نے روکا تھا۔

ابھینو چندر چور نے اپنی کتاب میں لکھا کہ نہرو نے پٹیل کو خط لکھ کر کہا کہ شیم پرساد ہندو مہا سبھا اکھنڈ بھارت کی بات کر کے پاکستان کے ساتھ جنگ کی باتیں کر رہے ہیں اور انھیں اس پر تشویش ہے۔ جواب میں پٹیل نے کہا کہ اس کا حل آئین میں موجود نہیں ہے۔

سنہ 1940 میں نہرو لیاقت پیکٹ کی مخالفت کرتے ہوئے مکھرجی نے نہرو کی کابینہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے بعد مکھرجی کھلے عام انڈیا پاکستان جنگ کی باتیں کرنے لگے تھے۔
 

جس کے بعد ہی آئین میں پہلی ترمیم کی گئی تھی۔ جس میں نئی شرطیں جوڑی گئیں، پبلِک آرڈر، دوسرے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور جرم کرنے کے لیے اکسانہ شامل کیا گیا۔ اس میں دوسرے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو شیام پرساد مکھرجی کو روکنے کے لیے شامل کی گیا تھا۔

نہرو نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ جو کوئی بھی ایسا کرے گا جس سے جنگ بھڑکنے کا خطرہ ہو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا کیونکہ اظہارِ آزادی رائے کے نام پر جنگ نہیں جھیلی جا سکتی۔

جواب میں شیام پرساد مکھرجی نے کہا تھا کہ ملک کا بٹوارہ ایک غلطی تھی اور ایک نہ ایک دن اسے ختم کرنا ہو گا چاہے اس کے لیے طاقت کا ہی استعمال کیوں نہ کرنا پڑے۔

دشینت دوے کہتے ہیں کہ بی جے پی کے اراکان پرویش ورما اور مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر پر غداری کا مقدمہ درج ہونا چاہیے تھا کیونکہ انھوں نے جو کچھ بھی کہا وہ ریاست میں امن و قانون کے لیے خطرہ اور تشدد بھڑکانے کے لیے تھا لیکن ابھی تک ان دونوں پر کوئی مقدمہ نہیں کیا گیا۔

بدھ، 4 مارچ، 2020

4:41 PM

دہلی فسادات : بیٹی کی اپنے والد سے متعلق دل دہلادینے والی کہانی

بھارتی دارالحکومت میں مسلمانوں کی نسل کشی کےدوران دل دہلادینے والی کہانیاں سامنے آئی ہیں ان میں سے ایک کہانی گلشن کی ہے جس کے والد محمد انور کو گھر کے اندر جلاکر راکھ کردیا گیا تھا۔
جب گلشن نے خاموشی سے اپنے والد کی تدفین کا ارادہ کیا تو ہسپتال انتظامیہ نے اسے صرف ایک ٹانگ ہی واپس کی جو اس کے مرحوم والد کی تھی۔ امدادی ٹیم محمد انور کے جلے ہوئے گھر میں پہنچی تو لاکھ کوشش کے باوجود اس کی ایک ٹانگ ہی واپس کرچکی۔
اس کی بیٹی گلشن جب گرو تیغ بہادر ہسپتال پہنچی تو ڈاکٹروں نے انہیں طویل انتظار کرایا اور اس کے والد کی ایک ٹانگ واپس کی۔
محمد انور دہلی کے غریب علاقے شیو وہار کا رہائشی تھا جہاں بد ترین مسلم کش فسادات دیکھنے کو ملے یہاں سے شروع ہونے والی مذہبی آگ نے پورے شمال مشرقی دہلی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
نئی دہلی فسادات میں مسلمانوں کی جان بچانے والے مہیندر سنگھپلکوا میں رہنے والی گلشن کو جب اس کی خبر ہوئی تو وہ چار سال قبل نابینا ہوجانے والے اپنے شوہر نصیرالدین کے ساتھ اپنے والد کے گھر پہنچی۔
نصیرالدین تیزاب کے حادثے میں نابینا ہوگیا تھا اور کرائے پر ٹھیلے دے کر اور بکریاں پال کر گزارہ کررہا تھا۔
گلشن جب گھر پہنچی تو معلوم ہوا کہ اس کے والد کو دو مرتبہ گولیاں ماری گئی تھیں۔ پھر گھر کو آگ لگائی گئی اور اس کے بعد محمد انور کی لاش کو اندر پھینک دیا تھا۔ گھر جلانے سے پہلے تمام سامان لوٹ لیا گیا۔
گلشن کی اپنے والد سے آخری بات 25 فروری کو ہوئی تھی ۔ ان کے والد نےبتایا تھا کہ ہر جگہ بے چینی ہے اور فسادات ہورہے ہیں۔
گلشن نے اپنے والد سے پوچھا کہ کیا کسی نے ان کو مارا ہے تو انہوں نے آخری بات یہ کہی۔ ’نہیں بیٹا بس ہمارے علاقے کو گھیرلیا گیا ہے۔
اپنے میکے سے اٹھتے دھوئیں کو چھوڑ کر گلشن اپنے چچا سلیم کی جانب دوڑی جو شیو وہار، پریم وہار کی گلی نمبر ایک کے رہائشی تھے۔ لیکن چچا سلیم کا گھر بھی جلایا جاچکا تھا تاہم وہ اپنی جان بچانے میں کامیاب رہے تھے۔
گلشن نے بتایا کہ ان کے والد کو مارنے کے بعد فسادیوں نے ان کے چچا کا نام لے کر پوچھا تھا کہ سلیم کہاں ہے؟ یہاں ایک اور مسلمان بھی تو رہتا ہے۔
سلیم اپنے بھائی انور کی شہادت کا عینی شاہد بھی ہے اور اب بھی کسی محفوظ پناہ گاہ میں روپوش ہے۔ گلشن کے ڈی این اے سے اس کے والد کی ٹانگ شناخت ہوئی جسے اب دفنایا جاچکا ہے۔

11:00 AM

بھارتی جعلسازوں کا مائیکرو سوفٹ کے نام پر برطانوی شہریوں سے فراڈپکڑا گیا

نئی دہلی(این این آئی )بھارتی شہریوں نے مائیکرو سوفٹ کے نام پر برطانوی شہریوں سے بڑا فراڈ کر ڈالا، کمپیوٹر ٹھیک کرنے کے نام پرجعلساز لاکھوں ڈالرز ماہانہ بٹورتے رہے۔ برطانوی ہیکر نے کیلی فورنیا کا نام لیکر نئی دہلی سے چلائے جانے والے اس کال سینٹر کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابقایک ہیکر نے نئی دہلی میں قائم اس کال سینٹر کی سی سی ٹی وی ویڈیو ہیک کر کے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔ سات ہزار گھنٹوں کی ویڈیو ریکارڈنگ حاصل کی گئی تھی۔ خیال ظاہر کیا گیا کہ صرف یہ ایک کال سینٹر مہینے میں
4 لاکھ ڈالر یعنی تقریبا 6 کروڑ روپے بٹور رہا تھا۔جعلسازوں کاطریقہ واردات یہ تھا کہ وہ لوگوں کے کمپیوٹر پر وارننگ بھیجتے تھے جس میں ان سے مائیکرو سوفٹ کے دفتر کال کرنیکا کہا جاتا، مگر جو نمبر دیا جاتا تھا وہ نئی دہلی میں واقع اس فراڈ مرکز کاہوتا تھا۔ اس سینٹر کے مالک کا نام امیت چوہان ہے جو کہ دہلی کے مضافاتی علاقے گورگرام کا رہائشی ہے۔‎

منگل، 3 مارچ، 2020

9:17 AM

سونم کپورنے بھی مودی سرکارکے خلاف آواز اٹھا دی

دہلی: بالی ووڈاداکارہ سونم کپور نےعوام سے بھارتی حکومت کے مظالم کے خلاف بولنے پر زوردے دیا ۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بات کرتے ہوئے  بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا نام لئے بغیر  سونم نے لوگوں کو تاریخ  پرحقیقت پسندانہ رویہ اختیارکرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جس نے بھی خاموش رہنے کا انتخاب کیا  وہ اس پر افسوس کرے گا۔انہوں نے لکھا کہ تاریخ   پرحقیقت پسند رہئیے ۔ یہ ایک اپیل ہے، ورنہ آپ کو ہمیشہ کے لئے پچھتاوا رہے گا ۔"
9:03 AM

مودی بدترین آمر مسلمانوں پر حملوں کا ذمہ دار ہے، اروندھتی رائے

دہلی میں جنتر منتر کے مقام پر ایک ریلی سے خطاب کے دوران اروندھتی رائےنے کہا کہ یہ وہ بیماری ہے جس میں بھارت مبتلا ہے، یہ جنگ آمریت اور مزاحمت کے درمیان ہے، جس میں مسلمان سب سے پہلا نشانہ ہیں۔
اروندھتی رائے نے اپنے خطاب میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو "بدترین آمر" اور ریاستی سرپرستی میں مسلمانوں پر حملوں کا ذمہ دار قرار دیا۔
مصنفہ و سماجی کارکن اروندھتی رائے نے کہا کہ انتخابات میں شرمناک شکست پر بی جے پی اور آر ایس ایس دہلی سے انتقامی کارروائی پر اتر آئی ہے اور آنے والے بِہار الیکشن پر اثرانداز ہونے کی کوشش کررہی ہے۔
اروندھتی رائے کا کہنا تھا کہ تمام حقائق ریکارڈ پر موجود ہیں لیکن حقائق کو توڑ مڑوڑ کر پیش کیا جارہا ہے، حکمران جماعت کے رہنماؤں کی اشتعال انگیز تقاریر، جے شری رام کے نعرے لگا کر حملہ کرنے والوں، خاموش تماشائی بنے یا جلاؤ گھیراؤ میں شامل اور نیم مردہ حالت میں مسلمان نوجوانوں پر ڈنڈے برسا کر ترانہ گانے پراصرار کرنے والے پولیس اہلکاروں کی ویڈیوز موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہلی میں تشدد، فسادات نہیں، مسلمانوں کے خلاف منظم بربریت ہے۔
بھارتی مصنف کینان ملک نے برطانوی اخبار دی گارڈین میں اپنے مضمون میں لکھا کہ دہلی کی سڑکوں پر خون کی ہولی کی ذمہ دار ہندو قوم پرست بی جے پی کا پھیلایا ہوا نفرت کا زہر مضمون میں دہلی میں مسلمانوں پر تشدد پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ شہریت قانون کے نتیجے میں لاکھوں مسلمانوں کے بھارت کے روہنگیا بن جانے کا خدشہ لاحق ہے۔
'حکمران جماعت ہندتووا کے نظریے پر عمل پیرا ہے، جو بھارت کو صرف ہندو دیکھنا چاہتے ہیں، بی جے پی کے وزیر گری راج سنگھ آزادانہ کہتے پھرتے ہیں کہ تقسیم کے وقت تمام مسلمانوں کو پاکستان بھیج دینا چاہیے تھا۔'
واضح رہے کہ بھارت میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف نئی دہلی میں ہونے والے احتجاج پر گزشتہ ہفتے پولیس اور بی جے پی کے غنڈوں نے حملہ کیا جس کے بعد دارالحکومت کے شمال مشرقی علاقوں میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے جن میں مسلمانوں کی املاک سمیت مساجد کو نشانہ بنایا جب کہ مسلمانوں کو شناخت کرکے انہیں قتل کیا گیا۔

8:57 AM

بھارت،موبائل ایپلی کیشن میں پاکستانی ٹرین کی تصویراستعمال

بھارت ریلوےپولیس نےموبائل ایپلی کیشن پرپاکستانی ٹرین کی تصویراستعمال کرلی تاہم بعدمیں غلطی معلوم ہونے پراسےہٹادیاگیا۔
بھارتی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کےمطابق بھارتی ریاست گجرات میں ریلوےپولیس نےحال ہی میں متعارف کروائی گئی ایپلی کیشن سےسبزٹرین انجن کی تصویرکواس وقت ہٹادیا جب یہ نشاندہی کی گئی کہ یہ بظاہر پاکستانی ٹرین لگ رہی ہے۔
 کرائم اورریلویزکےڈپٹی انسپکٹرجنرل پولیس گوتم پرمارکاکہناتھاکہ’ایپلی کیشن کومزیدمتاثرکن بنانےکےلیےایپ ڈیولپرنےٹرینزکی کچھ تصاویر شامل کی تھیں، اسی عمل کےدوران انہوں نےنادانستہ طورپرایک تصویر پاکستانی ٹرین کی استعمال کرلی’۔
انہوں نےمزید کہا کہ ‘اس بارے میں علم ہوتےہی ہم نے ڈیولپرسےاسےہٹانےکاکہااور یہ ایک غیرارادی غلطی تھی’۔
رپورٹ کے مطابق یہ ایپ 29 فروری کو گجرات کےوزیر مملکت برائےداخلہ پردیش سن جڈیجا کی طرف سےمتعارف کروائی گئی تھی۔
اس ایپلی کیشن کامقصد ٹرین صارفین کوکسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں گجرات کی حکومتی ریلوے پولیس کی مدد حاصل کرنے کے لیے ایک پورٹل فراہم کرنا تھا۔
یہ ایپ صارف کو چھیڑ چھاڑ، کمپارٹمنٹ میں غیرمجاز شخص کے داخل ہونے، غیرقانونی تجارت اور لاپتہ بچوں کی اطلاع کے معاملے میں پولیس کی مدد طلب کرنے کا آپشن بھی فراہم کرتی ہے۔

بدھ، 26 فروری، 2020

12:12 PM

نئی دہلی:شہریت کے متنازع قانون کےخلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران 19 ہلاک

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں شہریت کے متنازع قانون کےخلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران جاری جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد انیس ہوگئی ہے۔
 نئی دہلی میں کشیدگی بڑھ گئی ہے جبکہ چاند باغ، بھاجن پورہ، گوکل پوری، ماوج پور، کردم پوری اورجعفر آباد  جیسے کئی علاقوں کی سڑکیں دو گروپوں کے ارکان کے درمیان میدان جنگ بنی ہوئی ہیں جنہوں نے پٹرول کے بم پھینکے اور فائرنگ بھی کی۔

ہفتہ، 21 دسمبر، 2019

10:31 AM

پاکستان اور بھارت کے تعلقات


اگرچہ جنوبی ایشیاء کو بیرونی دنیا کے ساتھ کبھی بھی اتنا موثر انداز میں نہیں لیا گیا ہے ، لیکن یہ بدقسمتی سے اندر ہی پیچھے ہٹ گیا۔ ہندوستان اور پاکستان کے مابین اس ضلع کا مرکزی رشتہ ماضی کی بھاری پن کے ذریعہ بدستور ظلم و ستم کا شکار رہتا ہے۔ تاریخ ، فلسفہ اور مقامی قانون سازی کے معاملات نے خلل ڈالنے کی ترغیب دی ہے۔ اور کیا بات ہے ، جغرافیائی سیاست دانوں نے الزام تراشیوں کو ختم کردیا ہے۔ کشمیر جیسی پرانی بحث نظروں سے پردہ ہو جاتی ہے اور نئے لوگوں کا احاطہ کرتی ہے ، جس سے تنازعات کے ہمیشہ امکان پیدا ہوتے ہیں۔ معاملہ یہ ہے کہ ہندوستان اور پاکستان ایک دوسرے کے ساتھ شناخت کرتے ہیں لیکن اس کے برعکس۔ وہ کوئی دوسرا راستہ نہیں جانتے ہیں۔ ہر ایک دوسرے کو کمزور کرنے کے ساتھ قبضہ کر لیا گیا ہے۔ مزید برآں ، انہوں نے اسلحہ کی دشمنی اور بیچوان کے استعمال سے ایسا کیا ہے جس نے عدم استحکام کے اختیارات جیسے انشورنس ، نفسیاتی جبر ، اور پڑوس اور بین الاقوامی مذہبی جنونیت کے لئے ایک بااختیار ڈومین بنایا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے کنٹرول میں چڑھنے کے بعد دباؤ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔ مودی نے ایک سخت گیر تدبیر کی کوشش کی ہے جس کا مقصد پاکستان پر اندرونی اور بیرونی وزن ڈالنا ہے تاکہ جہادیوں کے بارے میں اپنی پوزیشن میں ایڈجسٹمنٹ اور کشمیر مقصد کے لئے حمایت کو روکا جاسکے۔ اس حکمت عملی سے اس ضلع میں واشنگٹن کی اپنی ضروریات کا ایک تعلق دریافت ہوا: چین کا کنٹرول ، افغانستان میں جنگ ، اور خوف پر مبنی ظلم پر زیادہ وسیع جنگ۔ چین اور پاکستان کی چین کے ساتھ اتحاد کے خلاف ہندوستان ایک خصوصیت کا توازن تھا ، اور جو کچھ واشنگٹن نے افغانستان میں غیر مددگار حصہ کے طور پر دیکھا وہ پاکستان کو غلط سائیڈ پر کھڑا کرتا ہے۔