Popunder ads

Breaking

Film لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Film لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 6 مارچ، 2020

11:36 AM

کورونا وائرس کی وجہ سے 9 سال پرانی فلم کی مقبولیت میں اضافہ

ہالی وڈ کی 9 سال قبل ریلیز ہونے والی فلم ’کونٹیجن‘ نے ریلیز کے وقت باکس آفس پر 60 ملین ڈالرز کمائی کی تھی لیکن اب 2020 میں جان لیوا کورونا وائرس کے پیشِ نظر فلم کی مقبولیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔اسٹیوین سوڈربرگ کی ہدایت کاری میں بننے والی ہالی وڈ فلم ’کونٹیجن‘ کی 2020 میں مقبولیت کی وجہ کووڈ 19 یعنی کورونا وائرس ہے کیونکہ اس فلم کی کہانی افسانوی بیماری ’ایم ای وی-1‘ پر مبنی ہے جو کہ ایشیا سے پھیلنے کے بعد دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کی ہلاکتوں کی وجہ بنی۔’ وارنر بروس‘ کی 2011 میں ریلیز ہونے والی فلم اب 2020 میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی فلموں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر آگئی ہے۔لوگوں کو اس فلم میں افسانوی اور حقیقی بیماری میں کافی حد تک مماثلت نظر آئی اور یہی وجہ ہے کہ 9 سال بعد دوبارہ اس فلم کو بے شمار لوگوں کی جانب سے دیکھا جانے لگا۔فلم ’کونٹیجن‘ ریلیز کے 9 سال بعد آئی ٹیونز کی ٹاپ 10 فہرست میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ ایمازون پرائم کے چارٹ میں بھی سب سے اوپر ہے۔ہالی وڈ کی اس فلم میں دکھائی جانے والی افسانوی بیماری حقیقی کورونا وائرس سے زیادہ خطرناک وبا دکھائی گئی ہے۔اس حوالے سے فلم کے پروڈیوسر مائیکل شیمبرگ کا کہنا ہے کہ ’ہم لوگوں کو ڈرانا نہیں چاہتے کہ وہ سب مرنے والے ہیں‘۔فلم کے پروڈیوسر نے مزید کہا کہ ’اگر یہ ڈرؤانی ہے تو اس کا صرف یہ مقصد ہے کہ لوگوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے حوالے سے ڈرانا ہے‘۔واضح رہے کہ فلم کی کہانی میں ایک ایسی خاتون کو دکھایا گیا ہے جو کہ ہانگ کانگ سے واپس آنے کے بعد مر جاتی ہیں اور ان کی مرنے کی وجہ ایک ایسی بیماری ہوتی ہے جس سے انسان نا واقف ہوتے ہیں۔علاوہ ازیں فلم میں دکھایا گیا ہے کہ مرنے والی خاتون کے شوہر کو بھی کچھ دن بعد ایسی ہی علامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کے بعد اس افسانوی وبا کیخلاف جنگ کا آغاز ہوتا ہے۔فلم ’کونٹیجن‘ میں محققین اس افسانوی وبا کے خلاف ویکسین تیار کرنے میں بھی کامیاب ہوگئے تھے۔

منگل، 3 مارچ، 2020

9:19 AM

فلم ’پردے میں رہنے دو‘ کی شوٹنگ کا آغاز

وجاہت رؤف کی ہدایتکاری میں بننے والی فلم’پردے میں رہنے دو‘میں اداکار علی رحمان اور ہانیہ عامر جلوہ گر ہونگے ۔
علی رحمان اور ہانیہ عامر اس سے قبل 2016میں ریلیز ہونے والی فلم ’جانان‘میں ایک ساتھ نطر آئے تھے ۔
فلم ’پردے میں رہنے دو‘کے ہدایتکار وجاہت رؤف نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فلم میں اداکار علی رحمان کے ساتھ ہانیہ عامر دکھائی دیں گی فلم میں جاوید شیخ بھی اہم کردار نبھاتے نظر آئیں گے ۔
وجاہت رؤف کا کہنا تھا کہ یہ فلم سماجی مسائل پر مبنی ہے جسے مزاحیہ انداز میں پیش کیا جائے گا ساتھ ہی فلم میں جذبات بھی شامل ہیں۔
ہدایتکار وجاہت رؤف اب تک تین فلمیں ریلیز کرچکے ہیں جس میں ’کراچی سے لاہور‘، ’لاہور سے آگے‘ اور ’چھلاوہ‘ شامل ہے ۔
فلم محسن علی نے تحریر کی ہے جبکہ فلم کی عکس بندی یکم مارچ سے شروع کی جاچکی ہے اس حوالے سے ہدایتکار نے اپنے انسٹاگرام اکاونٹ پرعکس بندی کے دوران لی گئی تصویر بھی شیئر کی ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ فلم کی مکمل عکس بندی کراچی میں شروع ہوچکی ہے جو اگلے 6 ماہ مکمل کرلی جائے گی ۔
فلم کے ریلیز کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کوشش ہے کہ فلم کو عید الضحیٰ کے موقع پر ریلیز کریں ۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں یہ خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ فلم میں مرکزی کردار کیلئے احسن خان یا شہریار منور کو کاسٹ کیا جائے گا تاہم ہدایتکار کی جانب سے علی رحمان اور ہانیہ عامر کا نام فائنل کرلیا گیا ہے۔
9:05 AM

فلم’’زندگی تماشا‘‘کی ریلیزکے منتظرسرمدکھوسٹ کی طنزیہ ٹویٹ

فلم ’’زندگی تماشا‘‘ کے ہدایتکار سرمد کھوسٹ نے فلم کی ریلیز رکوانے کے بعد سے کوئی پیشرفت نہ ہونے پر مایوسی کااظہار کرتے ہوئے طنزیہ ٹویٹ کی ہے۔
سرمد جنوری کے اواخر سے فلم کی ریلیز کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل کی جائزہ رپورٹ کے منتظر ہیں۔ فلم کی ریلیز کی حائل رکاوٹوں پر اپنے ساتھیوں کی جانب سے خاطر خواہ ساتھ نہ دینے پر سرمد نے ٹویٹ کی صورت میں دل کی بھڑاس نکالی۔
سندھ اور پنجاب کے سنسر بورڈ نے 24 جنوری 2020 کیلئے شیڈول ’’ زندگی تماشا ‘‘ کی ریلیز کو روکنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن میں بتایا گیا تھا کہ مختلف حلقوں کی جانب سے مستقل شکایات موصول ہونے کی وجہ سے فلم کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ سائٹ ٹوئٹر پر سرمد نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’’کافی عرصے سے ظبط کررکھا تھا،میں نہیں چاہتا تھا کہ طوفانی غم وغصے کا اظہار ہو لیکن اب میں آپ کو اچھا لطیفہ سناتا ہوں‘‘۔
سرمد کھوسٹ نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ فلم اور ٹی وی ایک برادری ہیں، جی ہاں یہ ایک لطیفہ ہے۔ ایی متضاد بات بھی۔
اس حوالے سے 3 ہفتے قبل سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز نے کہا کہ فلم زندگی تماشا کے حوالے سے شعبہ تحقیق کے ممبران پر مشتمل کمیٹی بنا لی ہے۔ فلم سینسر بورڈ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور امید ہے کہ جلد ایسی صورتحال پیدا ہوگی کہ ہماری کمیٹی یہ فلم دیکھے گی اور رپورٹ دے گی جو کونسل کی ایپکس باڈی کے پاس جائے گی، جس کے بعد اگلے اقدامات کا فیصلہ کیا جائے گا۔
اس سے قبل 22 جنوری کو 4 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جو فلم کے موضوع اورسماجی اثرات کے حوالے سے جائزہ لینے کے بعد چیئرپرسن کو رپورٹ پیش کرے گی۔اسلامی نظریاتی کونسل کی پریس ریلیز کے مطابق کمیٹی صرف فلم کے تقابلی جائزے کے بعد رپورٹ تیار کرے گی جس کیلئےسینئر ممبران کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔
اس فلم پر ٹریلر جاری ہونے کے بعد سے ہی کافی تنقید کی جارہی ہے، جس کے باعث فلم پہلا ٹریلر یوٹیوب سے ہٹادیا گیا تھا جسے معمولی ترمیم کے بعد دوبارہ اپ لوڈ کیا گیا تاہم اس کی مخالفت میں کمی نہیں آئی۔
سرمد کھوسٹ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے وزیراعظم عمران خان کے نام ایک کھلا خط بھی لکھا تھا جس میں فلم کی نمائش میں حائل رکاوٹوں کا ذکر کیا گیا تھا جبکہ ہدایتکار، پروڈیوسر اورعملے کو دھمکیاں ملنے کا بھی انکشاف کیا تھا۔
سرمد کھوسٹ کی ہدايتکاری ميں بننے والی اس فلم کے مرکزی کرداروں میں عارف حسین، سمیعہ ممتاز، علی قریشی اور ایمان سلیمان شامل ہیں۔
اندرون لاہور کی زندگی کے تلخ حقائق ،نشيب و فراز اور گلی محلوں میں بسنے والے عام کرداروں کے گرد گھومتی فلم ”زندگی تماشا‘‘ریلیز سے قبل ہی بوسان فلم فیسٹیول میں’’ کم جیسوئک‘‘ ایوارڈ بھی حاصل کرچکی ہے۔