فلم ’’زندگی تماشا‘‘ کے ہدایتکار سرمد کھوسٹ نے فلم کی ریلیز رکوانے کے بعد سے کوئی پیشرفت نہ ہونے پر مایوسی کااظہار کرتے ہوئے طنزیہ ٹویٹ کی ہے۔
سرمد جنوری کے اواخر سے فلم کی ریلیز کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل کی جائزہ رپورٹ کے منتظر ہیں۔ فلم کی ریلیز کی حائل رکاوٹوں پر اپنے ساتھیوں کی جانب سے خاطر خواہ ساتھ نہ دینے پر سرمد نے ٹویٹ کی صورت میں دل کی بھڑاس نکالی۔
سندھ اور پنجاب کے سنسر بورڈ نے 24 جنوری 2020 کیلئے شیڈول ’’ زندگی تماشا ‘‘ کی ریلیز کو روکنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن میں بتایا گیا تھا کہ مختلف حلقوں کی جانب سے مستقل شکایات موصول ہونے کی وجہ سے فلم کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ سائٹ ٹوئٹر پر سرمد نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’’کافی عرصے سے ظبط کررکھا تھا،میں نہیں چاہتا تھا کہ طوفانی غم وغصے کا اظہار ہو لیکن اب میں آپ کو اچھا لطیفہ سناتا ہوں‘‘۔
سرمد کھوسٹ نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ فلم اور ٹی وی ایک برادری ہیں، جی ہاں یہ ایک لطیفہ ہے۔ ایی متضاد بات بھی۔
اس حوالے سے 3 ہفتے قبل سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز نے کہا کہ فلم زندگی تماشا کے حوالے سے شعبہ تحقیق کے ممبران پر مشتمل کمیٹی بنا لی ہے۔ فلم سینسر بورڈ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور امید ہے کہ جلد ایسی صورتحال پیدا ہوگی کہ ہماری کمیٹی یہ فلم دیکھے گی اور رپورٹ دے گی جو کونسل کی ایپکس باڈی کے پاس جائے گی، جس کے بعد اگلے اقدامات کا فیصلہ کیا جائے گا۔
اس سے قبل 22 جنوری کو 4 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جو فلم کے موضوع اورسماجی اثرات کے حوالے سے جائزہ لینے کے بعد چیئرپرسن کو رپورٹ پیش کرے گی۔اسلامی نظریاتی کونسل کی پریس ریلیز کے مطابق کمیٹی صرف فلم کے تقابلی جائزے کے بعد رپورٹ تیار کرے گی جس کیلئےسینئر ممبران کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔
اس فلم پر ٹریلر جاری ہونے کے بعد سے ہی کافی تنقید کی جارہی ہے، جس کے باعث فلم پہلا ٹریلر یوٹیوب سے ہٹادیا گیا تھا جسے معمولی ترمیم کے بعد دوبارہ اپ لوڈ کیا گیا تاہم اس کی مخالفت میں کمی نہیں آئی۔
سرمد کھوسٹ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے وزیراعظم عمران خان کے نام ایک کھلا خط بھی لکھا تھا جس میں فلم کی نمائش میں حائل رکاوٹوں کا ذکر کیا گیا تھا جبکہ ہدایتکار، پروڈیوسر اورعملے کو دھمکیاں ملنے کا بھی انکشاف کیا تھا۔
سرمد کھوسٹ کی ہدايتکاری ميں بننے والی اس فلم کے مرکزی کرداروں میں عارف حسین، سمیعہ ممتاز، علی قریشی اور ایمان سلیمان شامل ہیں۔
اندرون لاہور کی زندگی کے تلخ حقائق ،نشيب و فراز اور گلی محلوں میں بسنے والے عام کرداروں کے گرد گھومتی فلم ”زندگی تماشا‘‘ریلیز سے قبل ہی بوسان فلم فیسٹیول میں’’ کم جیسوئک‘‘ ایوارڈ بھی حاصل کرچکی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Please do Not enter your any spam link in the comment box.