Popunder ads

Breaking

بین الاقوامی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
بین الاقوامی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 15 فروری، 2020

11:12 PM

کشمیر سے متعلق طیب اردوان کے بیان پر بھارت تلملا گیا

نئی دہلی:مقبوضہ کشمیر سے متعلق ترک صدر طیب اردوان کے بیان سے بھارت تلملا گیا۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ترک صدر کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو ایک بار پھر بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے۔
ترجمان بھارتی وزارت خارجہ نے ترک صدر کے بیان کو مسترد کرتے ہوئےکہا کہ مقبوضہ کشمیر کا علاقہ بھارت کا اٹوٹ اور ناقابل تقسیم حصہ ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ہم ترک قیادت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھارت کے اندرونی معاملات میں دخل نہ دے اور اس معاملے سمیت پاکستان کی طرف سے بھارت اور خطے میں دہشتگردی کے ابھرتے ہوئے بڑے خطرے کے حقائق کو مکمل طور پر سمجھے۔
ANI
✔@ANIMinistry of External Affairs (MEA): We call upon the Turkish leadership to not interfere in India’s internal affairs and develop proper understanding of the facts, including the grave threat posed by terrorism emanating from Pakistan to India and the region. https://twitter.com/ANI/status/1228525497048428545 …
ANI
✔@ANIMinistry of External Affairs (MEA) on response to queries on references to Jammu & Kashmir by Turkish President & the Turkey-Pakistan Joint Declaration: India rejects all references to Jammu & Kashmir, which is an integral and inalienable part of India.
1,0578:45 AM – Feb 15, 2020Twitter Ads info and privacy319 people are talking about this
واضح رہےکہ گزشتہ روز ترک صدر طیب اردوان نے پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں مقبوضہ کشمیر پر پاکستانی مؤقف کی حمایت کی اور کہا کہ کشمیر ترکی کے لیے ایسا ہی ہے جیسا پاکستان کے لیے ہے۔
ترک صدر کا مزید کہنا تھا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) میں سیاسی دباؤ کے باوجود پاکستان کی بھرپور حمایت کا یقین دلاتے ہیں۔
کشمیر کی صورتحال کا پس منظر
بھارت نے 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں یعنی (UNION TERRITORIES) میں تقسیم کردیا جس کے تحت پہلا حصہ لداخ جبکہ دوسرا جموں اور کشمیر پر مشتمل ہوگا۔
بھارت نے یہ دونوں بل لوک سبھا سے بھی بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے ہیں۔
آرٹیکل 370 کیا ہے؟
بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیر میں خصوصی اختیارات سے متعلق ہے۔
آرٹیکل 370 ریاست مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے، اسے برقرار رکھنے، اپنا پرچم رکھنے اور دفاع، خارجہ و مواصلات کے علاوہ تمام معاملات میں آزادی دیتا ہے۔
بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔
بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت کسی بھی دوسری ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر کا شہری نہیں بن سکتا اور نہ ہی وادی میں جگہ خرید سکتا ہے۔
بھارت نے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے سے قبل ہی مقبوضہ کشمیر میں اضافی فوجی دستے تعینات کردیے تھے کیوں کہ اسے معلوم تھا کہ کشمیری اس اقدام کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔
اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی تعداد اس وقت 9 لاکھ کے قریب ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے وادی بھر میں کرفیو نافذ ہے، ٹیلی فون، انٹرنیٹ سروسز بند ہیں، کئی بڑے اخبارات بھی شائع نہیں ہورہے۔
بھارتی انتظامیہ نے پورے کشمیر کو چھاؤنی میں تبدیل کررکھا ہے، 7 اگست کو کشمیری شہریوں نے بھارتی اقدامات کیخلاف احتجاج کیا لیکن قابض بھارتی فوجیوں نے نہتے کشمیریوں پر براہ راست فائرنگ، پیلٹ گنز اور آنسو گیس کی شیلنگ کی۔
مقبوضہ وادی میں کئی ماہ سے کرفیو نافذ ہے جس کے باعث اشیائے خوردونوش کی شدید قلت ہے جب کہ مریضوں کے لیے ادویات بھی ناپید ہوچکی ہیں، ریاستی جبر و تشدد کے نتیجے میں متعدد کشمیری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں۔
11:08 PM

بھارتی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار، شاہین باغ احتجاج نے امیت شاہ کی رہائش گاہ کا رخ کر لیا

وزارت داخلہ کے ذرائع نے اس حوالے سے کہا کہ انہیں اس طرح کی کسی ملاقات کے حوالے سے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔ مظاہرین کے اعلان کے مطابق امیت شاہ کی رہائش گار کی طرف مارچ کا آغاز اتوار کو دوپہر 2 بجے ہوگا۔ شاہین باغ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مظاہرین نے کہا کہ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ امیت شاہ کی رہائش گاہ جائیں گے کیونکہ انہوں نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ کسی کو سی اے اے سے کوئی مسئلہ ہے تو مل سکتے ہیں اور مسئلے پر بات کرسکتے ہیں۔

احتجاج میں شامل ایک شہری کا کہنا تھا کہ ‘امیت شاہ جی نے کہا تھا کہ کسی کو دقت اور قانون سے پریشانی ہے تو میرے پاس آئیں، شاہین باغ کو اس قانون سے تکلیف ہے اس لیے شاہین باغ کے سب لوگ کل امیت شاہ جی کے پاس جائیں گے’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘امیت شاہ سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہم کل آرہے ہیں، ہم نے 2 بجے کا وقت رکھا ہے، انہوں نے پورے ہندوستان کو دعوت دی ہے، شاہین باغ نے کسی کو نہیں بلایا بلکہ امیت شاہ نے پورے ہندوستان کو دعوت دیا ہے’۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ ‘ کسی وفد کو نہیں بھیجیں گے بلکہ شاہین باغ کا ہر آدمی وفد ہے تو شاہین باغ کا ایک،ایک بچہ آدمی امیت شاہ سے ملنے جائے گا اور وہ ہر ایک انسان امیت شاہ سے ملنے جائے گا وہ ان سے ملنے جائے گا’۔ ایک بزرگ خاتون کا کہنا تھا کہ ‘عوام سے گزارش ہے کہ کل 2 بجے پورے عوام کو امیت شاہ اور مودی جی کے پاس جانا ہے’۔
خیال رہے کہ بھارت میں 15 دسمبر 2019 کو متنازع ترمیمی قانون کے بعد احتجاج شروع ہوا جو تاحال جاری ہے اور شاہین باغ ان مظاہروں کا مرکز ہے جہاں اکثریت خواتین کی ہے اور انہوں نے مسلسل دھرنا دیا ہوا ہے۔
شاہین باغ کے مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ اس متنازع شہریت قانون کو واپس لے لیا جائے جبکہ ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے ان پر مظالم اور فائرنگ بھی کی گئی اور پولیس نے احتجاج کو کچلنے کے لیے خواتین کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔ نئی دہلی میں 30 جنوری کو ایک ہندو قوم پرست نے انٹرنیٹ پر لائیو اسٹریمنگ کے دوران متنازع شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف احتجاج کرنے والے یونیورسٹی طلبہ پر فائرنگ کرکے ایک طالبعلم کو زخمی کردیا تھا۔
دوسری جانب س احتجاج کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئی تھیں اور کہا گیا تھا کہ شاہین باغ پر سڑک کی بندش سے عوام کو سخت مشکلات کا سامنا ہے اور سفر کے دوران ان کا قیمتی وقت، توانائی اور ایندھن ضائع ہورہا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے شاہین باغ میں متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم دینے سے انکار کردیا تھا۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس 11 دسمبر کو بھارتی پارلیمنٹ سے شہریت ترمیمی ایکٹ منظور ہوا جس کے تحت 31 دسمبر 2014 سے قبل 3 پڑوسی ممالک سے بھارت آنے والے ہندوؤں، سکھوں، بدھ متوں، جینز، پارسیوں اور عیسائیوں کو بھارتی شہریت دی جائے گی۔
اس بل کی مخالفت کرنے والی سیاسی جماعتوں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ بل کے تحت غیر قانونی طور پر بنگلہ دیش سے آنے والے ہندو تارکین وطن کو شہریت دی جائے گی، جو مارچ 1971 میں آسام آئے تھے اور یہ 1985 کے آسام معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔ مذکورہ قانون کو 12 دسمبر کو بھارتی صدر کی جانب سے منظوری دے دی گئی تھی۔
خیال رہے کہ بھارت کی لوک سبھا اور راجیا سبھا نے متنازع شہریت ترمیمی بل منظور کر لیا تھا جس کے بعد سے ملک بھر میں خصوصاً ریاست آسام میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس قانون کی کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ ساتھ انتہا پسند ہندو جماعت شیوسینا نے بھی مخالفت کی اور کہا تھا کہ مرکز اس کے ذریعے ملک میں مسلمانوں اور ہندوؤں کی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
علاوہ ازیں 9 جنوری کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو متنازع شہریت قانون کے نفاذ پر سخت احتجاج کے باعث بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اپنا آسام کا دورہ منسوخ کرنا پڑگیا تھا۔ اس سے قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے متنازع شہریت قانون کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ممبئی میں ایک اجلاس منعقد کروایا تھا جس میں نامور فلمی شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا تاہم ایک بھی اداکار یا اداکارہ نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی۔

جمعہ، 14 فروری، 2020

9:35 AM

اونٹ بھی دبئی کے ولی عہد کا مطیع و فرمان، ویڈیو وائرل

خیال رہے کہ دبئی کے ولی عہد الشیخ حمدان پالتو اور جنگی جانوروں کے ساتھ اپنی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتے رہتے ہیں۔ انہیں اکثر اصیل گھوڑوں، شاہین اور دوسرے جانداروں کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔
خیال رہے کہ حمدان بن محمد نے سنڈ ھریسٹ رائل ملٹری اکیڈیمی میں سنہ 2001ء میں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ لندن کالج آف کامرس میں اقتصادی تربیت اور ملٹری کورسز کرچکے ہیں۔

8:21 AM

محبت کرنے والوں کا عالمی دن آج منایا جارہا ہے

دنیا بھر میں آج 14فروری کو محبت کرنے والوں کا عالمی دن یعنی ’ویلنٹائن ڈے‘ منایا جاتا ہے۔ محب کے اس بین الاقوامی دن کے موقع پر نوجوان جوڑے بالخصوص آپس میں مٹھائیوں ، پھولوں اور تحائف کا تبادلہ کرتے ہیں۔
معاشی طور پر بھی ویلنٹائن ڈے کو ایک بڑی سرگرمی کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور کرسمس کے بعد یہ دوسرا بڑا تہوار ہے، جب خریدو فروخت عروج پر ہوتی ہے ۔ محتاط اندازے کے مطابق اس موقع پر محض ترقی یافتہ ممالک میں 15 کروڑ سے زائد کارڈز کا تبادلہ ہوتا ہے۔
ویلنٹائن ڈے کے پیچھے کیا کہانی ہے… آئیے اس حوالے سے قدیم رومن زمانے سے لے کر وکٹورین دور تک نظر ڈالتے ہیں، معلوم تاریخ میں تین افراد ویلنٹائن کے نام سے جانے جاتے ہیں جن سے یہ دن منسوب ہے، یعنی اس ایک دن کی تین مختلف داستانیں ہیں۔
ایک داستان یہ ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں جب رومی بادشاہ کلاڈیوس دوئم کو جب جنگ کے لیے لشکر تیار کرنے میں مشکل ہوئی تو اس نے اس کی وجوہات کا پتہ لگایا ، بادشاہ کو معلوم ہوا کہ شادی شدہ لوگ اپنے اہل وعیال اور گھربار چھوڑ کر جنگ میں چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو اس نے شادی پر پابندی لگادی لیکن ویلنٹائن پادری نے اس شاہی حکم نامے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف خود خفیہ شادی رچالی ، بلکہ اور لوگوں کی شادیاں بھی کرانے لگا۔، جب بادشاہ کو معلوم ہوا تو اس نے ویلنٹائن کو گرفتار کیا اور 14 فروری کو اسے پھانسی دے دی۔
دوسری جانب کچھ اور اساطیر کے مطالعے سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ ویلنٹائن نامی پادری کو بادشاہ وقت نے اس لیے قتل کردیا تھا کہ اس نے مسیحیوں کو رومیوں کی جیلوں سے فرار کروانے میں مدد کی کوشش کی تھی جہاں ان مسیحیوں کو مار پیٹ اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔
تیسری کہانی یہ ہے کہ جیل میں قید پادری ویلنٹائن کو قید خانے کے جیلر کی کم عمر بیٹی سے محبت ہو گئی جو جیل میں اس سے ملنے آیا کرتی تھی۔ پھانسی پانے سے قبل اس نے جیلر کی بیٹی کو خط لکھا جس کے آخر میں لکھا “تمہارا ویلنٹائن”… یہ واقعہ 14فروری 270ء کا ہے۔
یہ طریقہ بعد میں محبت کرنے والوں میں رواج پاگیا اور وہ آج تک اس دن محبت کے اظہار کے لیے کارڈز کا تبادلہ کرتے ہیں۔
تاہم ان تمام کہانیوں کے باوجود ویلنٹائن ڈے کی حقیقت آج تک پراسرار ہی سمجھی جاتی ہے۔
بعض لوگوں کے نزدیک پریمیوں کا دن منانے کے لیے 14 فروری کی تاریخ اس لیے متعین کی گئی کہ یہ ویلنٹائن کی موت کا دن ہے۔
مسیحیت سے قبل کا تہواردلچسپ بات یہ ہے کہ مسیحی دور کے آغاز سے قبل روم کے شہری فروری کے وسط میں یعنی 15 فروری کو اپنے ایک دیوتاLupercalia کے نام پر سالانہ میلے کا انعقاد کیا کرتے تھے۔
روایت کے مطابق Lupercalia میلے میں لڑکیوں کے نام ایک برتن میں ڈال دیے جاتے اور مرد بغیر دیکھے جس لڑکی کا نام نکالتے وہ ہی ان کی ساتھی بن جاتی اور بعض مرتبہ شریک حیات بھی
پانچویں صدی عیسوی کے اختتام پر اس تہوار کو کلیسا کی جانب سے ممنوع قرار دیا گیا اور پاپائے روم پوپ گیلاسئیس (Gelsius)نے ماہ فروری کے اس تہوار کو “ویلنٹائن ڈے” میں تبدیل کر دیا۔
داستانوں سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے ویلنٹائن نے سب سے پہلے محبت کا رقعہ بھیجا تاہم عوامی سطح پر محبت کی عبارتیں تحریر کرنے کا رواج 1400ء کے بعد شروع ہوا۔
اس حوالے سے ویلنٹائن ڈے کے موقع پر معلوم سب سے پرانا کارڈ وہ قصیدہ ہے جو 1415ء میں فرانسیسی شاعر چارلس (ڈیوک آف اورلیئنز) نے اپنی بیوی کو اُس وقت لکھ کر بھیجا جب وہ لندن ٹاور میں قید تھا۔

جمعرات، 13 فروری، 2020

6:35 PM

امریکا نے 2018 تک پاکستان، بھارت، مصر اور دیگر اتحادی ممالک کی جاسوسی کی

واشنگٹن: (13 فروری 2020) امریکی اخبار نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے دو ہزار اٹھارہ تک پاکستان، بھارت، مصر اور دیگر اتحادی ممالک کی جاسوسی کی۔ سی آئی اے کئی عشروں تک فوج اور دیگر اداروں کی خفیہ رپورٹس اور پیغامات پڑھتی رہی ہے۔ جرمن خفیہ ایجنسی کے ساتھ سی آئی سے ایک سو بیس ممالک کو یہ مشین فروخت کرکے کروڑوں ڈالرز بھی بٹورتی رہی۔
واشنگٹن پوسٹ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق امریکی سی آئی اے نے جرمن کمپنی کے ساتھ سوئس کمپنی کو خریدا تھا۔ یہ سوئس کمپنی فوجی اور حکومتوں کے پیغامات ڈی کوڈ کرنے کی مشینیں بناتی تھی۔ سی آئی اے اور جرمن خفیہ ایجنسی بی این ڈی مشترکہ طور پر پاکستان، بھارت، مصر، ایران اور دیگر اتحادی ممالک کی کئی عشروں تک جاسوسی کرتی رہیں۔
اخبار کے مطابق جرمنی خفیہ ایجنسی پروگرام سے علیحدہ ہوگیا تھا لیکن امریکی سی آّئی اے نے دو ہزار اٹھارہ تک اتحادی ممالک کی جاسوسی کی۔ ساتھ پیغامات کوڈ اور ڈی کوڈ کرنے والی مشین فروخت کرکے کروڑں ڈالرز کمائے روس اور چین اس پروگرام کا حصہ نہیں تھے۔
6:21 PM

’افغان اکھٹے بیٹھیں گے تو حل نکل آئے گا‘

قطر میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان تشدد میں کمی کے حوالے سے مذاکرات کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ دونوں فریقین آگے بڑھ رہے ہیں اور مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔
پاکستان کے لیے سابق افغان سفیر حضرت عمر زخیلوال نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ نئی پیش رفت کے بارے میں ہم محتاط طور پر پُرامید ہیں تاہم اس بار ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ یہ پیش رفت مثبت ہو گی۔‘اس سوال پر کہ طالبان کے سخت موقف میں تبدیلی آئے گی، ان کا کہنا تھا کہ طالبان کے موقف میں لچک آئی ہے۔
’ اس بات کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ وہ امن کی باتیں کر رہے ہیں، امن کی حمایت کر رہے ہیں۔ افغانوں کے ساتھ مذاکرات کی بات کر رہے ہیں اور یہ سب ایک بہتر افغانستان کے لیے کوشش ہے۔‘
افغانوں کے مابین مذاکرات پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں پر امید ہوں کہ جب افغان اکھٹے بیٹھیں گے تو معاملات کا حل نکال لیا جائے گا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ افغانوں کے مابین مذاکرات میں نظام حکومت، لوگوں کے لیے بہتر زندگی، خواتین اور نوجوانوں کے حقوق، میڈیا کی آزادی سمیت مختلف موضوعات پر بات چیت ہو گی۔‘
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان طالبان کے ساتھ معاہدے کی مشروط منظوری دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’معاہدے پر دستخط اسی وقت ہوں گے جب طالبان رواں ماہ کے آخر تک تشدد میں کمی کے وعدے پر عمل پیرا رہیں گے۔‘
امریکی صدر کے مطابق مذکورہ شرط پوری ہونے کے بعد افغانستان سے فوجیوں کا انخلا بھی بتدریج شروع ہو جائے گا۔ 
مزید پڑھیںافغانستان میں ایک لاکھ شہری ہلاک ہوئےNode ID: 450126افغان طالبان خاموش کیوں ہیں؟Node ID: 453611افغانستان: فائرنگ سے دو امریکی فوجی ہلاکNode ID: 457941منگل کی شب افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے ٹویٹ کی تھی کہ ٹیلی فونک بات چیت میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے انہیں بتایا ہے کہ ’طالبان کے ساتھ بات چیت میں قابل ذکر پیش رفت ہوئی ہے۔‘
افغان صدر نے کہا کہ ’مائیک پومپیو نے ان کو بتایا کہ افغانستان میں تشدد میں واضح اور دیرپا کمی لائی جائے گی۔‘
امریکی وزیرخارجہ نے صدر اشرف غنی کے علاوہ افغانستان کی اعلیٰ قیادت کو بھی اس پیش رفت کے بارے میں آگاہ کیا جس کے بعد سابق صدر حامد کرزئی سمیت دیگر رہنماؤں نے ٹویٹس کیں۔‘
سابق صدر حامد کرزئی نے ٹویٹ کی کہ ’ امن کے لیے کوششوں میں اچھی پیش رفت ہوئی ہے۔‘
’اللہ افغانستان کے عوام کو دیرپا امن اور استحکام عطا کرے۔‘
Good progress in the efforts for peace. May the Almighty Allah grant us, the people of Afghanistan, lasting peace and tranquility at the soonest.
— Hamid Karzai (@KarzaiH) February 11, 2020
پاکستان کے لیے سابق افغان سفیر ڈاکٹر حضرت عمر زخیلوال نے ٹویٹ کی کہ ’ایسا لگ رہا ہے کہ ہم بہت قریب پہنچ گئے ہیں، بہت بہت زیادہ قریب۔‘
Seems close inshallah- very very close!!!! pic.twitter.com/xAY65c2Q3W
— Dr Omar Zakhilwal (@DrOmarZakhilwal) February 11, 2020
افغانستان کے لیے جرمن ایلچی پوٹزل مارکس نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ دوحہ، کابل اور واشنگٹن سے حوصلہ افزا خبریں آ رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تنازع کے کسی فریق کو امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کو کسی خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔
’ سب کو چاہیے کہ افغانوں کے مابین بامعنی بات چیت کے لیے سیاسی عزم دکھائیں۔‘
افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے بعد افغانوں کی جانب سے ’کہ سولہ راغلہ‘ یعنی ’اگر امن آیا‘ کا ہیش ٹیگ چلایا جا رہا ہے جس میں انہوں نے اپنی خواہشات کا اظہار کیا۔
ایک صارف نوید حداول نے لکھا ’ اگر امن آیا تو میں ایک دنبے کا صدقہ دوں گا۔‘
افغان  صدر کے ترجمان صدیق صدیقی نے جنوری میں جنگ بندی کے حوالے سے ایک ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغان عوام اور حکومت ہر اس پلان کی حمایت کرے گی جس میں  جنگ بندی کو بنیادی حیثیت حاصل ہو۔
گذشتہ سال ستمبر میں بھی افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کی بات ہو رہی تھی لیکن افغان طالبان کے ایک حملے میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد صدر ٹرمپ نے مذاکرات کی معطلی کا اعلان کر دیا تھا۔
6:19 PM

چین میں جان لیوا کرونا وائرس سے مزید 254 افراد ہلاک

شنگھائی: (13 فروری 2020) چین میں جان لیوا کروناوائرس سے مزید دو سو چون افراد زندگی سے محروم ہو گئے۔ مہلک وائرس اب تک تیرہ سو اڑسٹھ افراد کو نگل چکا ہے۔ متاثرین کی تعداد ساٹھ ہزار تک جا پہنچی۔
چینی صوبے ہوبے میں خطرناک وائرس سے ایک ہی دن میں متاثر ہونے والے پندرہ ہزار ایک سو باون نئے کیسز سامنے آگئے۔ مہلک وائرس پرقابو پانے کے ناکافی اقدامات پرکمیونسٹ پارٹی کے صوبائی سربراہ کو برطرف کردیا گیا۔ کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ جیانگ کی جگہ اب شنگھائی کے میئر ینگ یونگ خدمات انجام دیں گے۔
دوسری جانب جاپان کی بندرگاہ پر لنگر انداز بحری جہاز ڈائمنڈ پرنسز میں مزید چوالیس افراد جان لیوا وائرس کا شکار ہوگئے۔ تین ہزار سات سو مسافروں کے جہاز میں متاثرین کی تعداد دوسو اٹھارہ ہوگئی۔
2:44 PM

دفتروں میں بد تمیزی کیا واقعی وبائی شکل اختیار کر چکی ہے؟

Getty Images
سیاست ہو یا کالج کا کلاس روم یا آپ ہوائی جہاز میں بیٹھے ہوں، آجکل آپ کو غیر مہذب رویے کا مشاہدہ کرنے کے لیے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہاں تک کے ایک تحقیق کے مطابق بدتمیزی ایک متعدی چیز بن چکی ہے اور ایک شخص کی دیکھا دیکھی دوسرے بھی بد تمیزی کرنے لگتے ہیں، جیسے گھر میں ایک شحض کو زکام ہو جائے تو باری باری سب کو ہوئے بغیر گھر سے جاتا نہیں۔
میری تحقیق کے مطابق دفتروں میں بھی بدتمیزی کی وبا عام ہے۔ ماضی میں کیے گئے کچھ جائزوں کے مطابق دفتروں میں کام کرنے والے تمام ملازمین کو غرمہذب رویے یا بدتمیزی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ باقی نصف کا کہنا تھا کہ اگر روز نہیں تو ہفتے میں ایک بار وہ بھی برے رویے کا شکار ضرور ہوئے۔ اور کچھ جائزوں کی بنیاد پر ماہرین کا یہ دعویٰ بھی رہا ہے کہ ایسا تمام دفاتر میں ہوتا ہے اور صورت حال دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے۔

کیا یہ دعوے واقعی درست ہیں؟

میں پچھلے ایک عشرے سے دفتروں میں بد تمیزی اور ملازمین کے ساتھ دیگر برے رویوں کا مطالعہ کر رہی ہوں۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہ واقعی ایک بڑا مسئلہ ہے، لیکن اسے ایک وبا کہنا درست نہیں ہوگا۔

بدتمیزی میں اضافہ؟

پہلے دیکھتے ہیں کہ آیا واقعی دفتروں میں بدتمیزی زیادہ ہونے لگی ہے۔
میرا مطلب ہے کہ آیا ایک دوسرے کی بات کاٹتے، کسی ساتھی کا مذاق اڑانے ، دوسروں کو برے القابات سے پکارنے، کسی کو کمتر ثابت کرنے کی کوشش کرنے یا کسی ایک ملازم کو دفترکی باتوں میں شامل نہ کرنے کے واقعات واقعی زیادہ ہو گئے ہیں۔
اس سوال کے جواب کے لیے میں نے امریکہ میں کیے جانے والے عمومی معاشرتی جائزے یا ’جنرل سوشل سروے‘ کے اعداد وشمار کی مدد حاصل کی۔ یونیورسٹی آف شکاگو یہ سروے سنہ 1972 سے کر رہی ہے جس میں لوگوں کے رویے کے سینکڑوں پہلوؤں کے بارے میں اعداد و شمار اور لوگوں کی رائے لی جاتی ہے۔
اس سروے میں میرا مقصد ایک سوال کے جوابات کو دیکھنا تھا۔ یہ سوال سنہ 2002 میں اس سالانہ جائزے میں شامل کیا گیا تھا اور تب سے ہر چار برس بعد یہ سوال لوگوں سے کیا جاتا ہے۔ ’میرے کام پر لوگ مجھ سے تمیز سے پیش آتے ہیں؟
سروے کے شرکاء اس کے جواب میں اگر ’1‘ لکھتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ پوری طرح اتفاق کرتے ہیں کہ ان سے تمام لوگ عزت سے پیش آتے ہیں، جبکہ سب سے کم درجے، یعنی 4 کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ اس بات سے باکل اتفاق نہیں کرتے۔
سنہ 2002 میں اوسط سکور 1.69 تھا، جس کا مطلب یہ ہے کہ ملازمین نے اتفاق کیا کہ لوگ عموماً عزت کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ سنہ 2018 کے جائزے میں یہ سکور بڑھ کر 1.76 ہو گیا، جس کا مطلب یہ ہوا کہ ماضی کے مقابلے میں ان لوگوں کی تعداد میں قدرے اضافہ ہو گیا جو اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ انہیں دفتر میں عزت دی جاتی ہے۔
کسی ماہر شماریات کے لیے یہ فرق اہم ہو سکتا ہے لیکن اگر آپ اسے 1 سے 4 کی درجہ بندی میں دیکھیں تو یہ تبدیلی بہت ہی کم ہے۔

گمراہ کن اعداد و شمار

چلیں اب دیکھتے ہیں دفاتر میں بدتمیزی کے واقعات کتنے ہوتے ہیں، یعنی یہ بات کتنی عام ہے؟
اس حوالے سے جو اعداد و شمار پیش کیے جاتے ہیں ان کے مطابق 98 فیصد ملازمین کو اپنی جائے کار پر غیرمہذب رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اس قسم کے اعداد وشمار سے یہ لگتا ہے کہ دفتر میں ہر کوئی ایک دوسرے سے ہر وقت بدتمیزی کر رہا ہے۔
حقیقت میں ایسا نہیں ہے، کیونکہ اگر کوئی ملازم شکایت کرتا ہے کہ اسے انتہائی بدتمیزی کا سامنا کرنا پڑا ہے، تو اس بات کے امکان بہت کم ہیں کہ دفتر میں ہر کوئی آئے روز ان سے بدتمیزی سے پیش آتا ہے۔ دفاتر میں بد تہذیبی پر کی جانے والی اس قسم کی تحقیق میں مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اس میں ایک ملازم کے تمام ساتھی ملازمین کے ساتھ تعلقات کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس ملازم کا عمومی تجربہ کیا ہے۔
صاف ظاہر ہے کہ بدتمیزی کے کسی بھی واقعے میں دو لوگوں کا ہونا ضروری ہے۔ اس میں ایک بدتمیزی کرنے والا ہونا چاہیے اور دوسرا وہ شخص جس کے ساتھ یہ زیادتی کی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دیکھنے کے لیے کہ کسی دفتر میں بدتمیزی کتنی عام ہے، ہمیں نہ صرف یہ یہ دیکھنا چاہیے کہ کسی شخص کے ساتھ اس کے ساتھیوں کا عمومی رویہ کیا ہوتا ہے، بلکہ یہ دیکھنا بھی بہت اہم ہے کہ اس شخص کے اپنے ایک ایک ساتھی ملازم سے تعلقات کیسے ہیں۔
سنہ 2018 میں، میں نے اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ ایک تحقیق کی جس کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ اگر ہم ایک ملازم سے اپنے تمام ساتھیوں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے دیکھیں تو بدتمیزی کے واقعات کتنے ہوتے ہیں۔
اس کے لیے ہم نے ایک ایسے رسیٹورنٹ کے ملازمین کا انتخاب کیا جس کی شاخیں امریکہ کے جنوب مشرقی علاقے میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ہم نے ملازمین سے پوچھا کہ گزشتہ 12 ماہ میں انہیں کتنی مرتبہ بدتمیزی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے لیے ہم نے انہیں جن مختلف جوابوں میں سے ایک کا انتخاب کرنے کو کہا ان میں ’کبھی نہیں‘ سے لیکر ’بہت زیادہ مرتبہ‘ کی آپشن شامل تھیں۔
اس جائزے کے نتائج کے مطابق 69 فیصد ملازمین کا کہنا تھا کہ گذشتہ ایک سال کے دوران ان سے کچھ بدتمیزی کی گئی۔ لیکن ان واقعات میں جو دیگر ملازمین ملوث تھے وہ کل ملازمین کا صرف 16 فیصد تھے۔ یعنی ملازمین کی ایک بڑی اکثریت (69 فیصد) کے مطابق انہیں بدتمیزی کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ایسا کرنے والے ساتھی ملازم بہت کم (16 فیصد) تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ لوگ اپنے ساتھیوں کی بڑی اکثریت سے خوش تھے۔
ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکثر ملازمین کو دفاتر وغیرہ میں کبھی کبھار بدتمیزی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم اکثر ساتھیوں کے ساتھ ان کا تعلق اچھا ہوتا ہے اور انہیں اُن کی طرف سے بدتمیزی یا غیرمہذبابہ رویے کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہمیں دفاتر میں تہذیب اور پیشہ ورانہ رویوں میں زوال پر فکرمند نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہر جگہ پر کچھ فضول لوگ ضرور ہوتے ہیں، لیکن دفتروں میں بدتمیزی کوئی نئی بات بھی نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کو بھی بدتمیزی زکام کی طرح پھیلتی نظر آئے، لیکن یقین جانیں اس نے وبائی شکل اختیار نہیں کی ہے۔
شینن جی ٹیلر امریکہ کی یونیورسٹی آف سینٹرل فلوریڈا سے منسلک ہیں جہاں وہ ایسوسی ایٹ پروفیسر آف مینیجمنٹ ہیں۔

بدھ، 12 فروری، 2020

11:29 PM

عراقی شہر کربلا میں تاریخ میں پہلی بار برف باری

عراق میں واقع مقدس  شہر کربلا میں حیرت انگیز طور پر پہلی بار  ہونے والی برف باری نے  عراقی شہریوں کے چہروں پر خوشی کی لہر بکھیر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق وسطی اور جنوبی عراق کے رہائشیوں کو منگل کی صبح تقریباً ایک صدی کے بعد ہونے والی برف باری کی صورت میں ایک حیرت انگیز  منظر دیکھنے کو ملا ۔
عراقی دارالحکومت  بغداد کی عوام  صدی کی  دوسری برف باری کے بعد شہر کے سفید پوشاک کی شکل اختیار کرنے پر برف کے گولے بناکر ایک دوسرے کو مارنے اور تصاویر لینے کے  لیے باہر نکل آئے۔
Snow in Iraq 🇮🇶 it’s a miracle pic.twitter.com/IZexdimjky
— metalheadiraqi (@sana_ist90) February 11, 2020
بغداد میں آخری  بار برف باری سنہ 2008 میں ہوئی تھی تاہم وہ بہت مختصر تھی ۔
بغداد کے نوجوان اور بوڑھوں کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع  ہے کہ جب انہوں نے بغداد میں برف باری دیکھی ہے۔
دوسری جانب مقدس شہر کربلا میں بھی پہلی بار برف باری  نے رہائشیوں سمیت وہاں  موجود زائرین کو بھی خوشگوار حیرت میں مبتلا کردیا ہے۔
My parents sent me this picture live from karbala . It's behind our house covered in snow! pic.twitter.com/Yr4mfaa6dG
— Mona | مِنى ✨ (@MunaBaker) February 11, 2020
کربلا کے مقامی لوگ اس کو اب تک ریکارڈ کی جانے والی پہلی برف باری کا  قرار دے رہے ہیں۔
عراقی  محکمہ موسمیات کے میڈیا سربراہ   عامر الجبری کا کہنا ہے کہ برف باری  کا سلسلہ 12 فروری تک جاری رہ سکتا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین  اس غیر متوقع برف باری تصاویر اور ویڈیوز شیئر کر کے اپنی خوشی کا اظہار کررہے ہیں۔
Snowing in paradise!
Karbala covered in snow in a rare phenomenon pic.twitter.com/SrwFFIRnbe


— Sayed M. Modarresi (@SayedModarresi) February 11, 2020
1:51 PM

دہلی کے شہریوں نے گوتم گھبیر کو اصلیت دکھا دی

نئی دہلی: پاکستان کے خلاف زہر اُگلنے والے سابق بھارتی کرکٹر اور بی جے پی کے رہنما گوتم گھبیر کو بھارتی شہریوں نے اصلیت دکھا دی۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی دہلی کے انتخابات میں شکست کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گوتم گھمبیر نے کہا کہ بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اپنی بھرپور کوشش کی مگر نئی دہلی کے لوگوں کو متاثر نہ کر سکی۔ زہر اگلنے والے گوتم گھمبیر اپنی شکست پر نفرت کی زبان بھول گئے اور ریاستی انتخابات شکست کو تسلیم کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروندرکیجریوال کو فتح پر مبارک باد دی۔ ا
1:39 PM

امریکا ایران اور داعش سے نمٹنے کے لیے مشرق وسطی میں اتحاد بنانے کا خواہاں

عراق میں امریکی فضائی حملے میں ایرانی القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد اٹھنے والا طوفان خاموش ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی امریکی فوج کے عراق سے انخلاء کے مطالبات بھی دھیمے پڑ گئے ہیں۔ شاید تمام فریقوں بالخصوص امریکیوں اور ایرانیوں کا یہ موقف ہے کہ انہیں ایک نئی حقیقت کا سامنا ہے۔جہاں تک امریکیوں کا تعلق ہے تو وہ مختصرا اپنا موقف اس طرح بیان کرتے ہیں کہ "امریکا خطے کو چھوڑ کر ہر گز نہیں جائے گا"۔ وہ اب عراق اور مشرق وسطی میں باقی رہنے کے انتظامات کر رہے ہیں۔
اس بات کا یہ مطلب ہوا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ارکان مشرق وسطی میں ایک نئے انداز سے خطرات کا مقابلہ کرنے کے واسطے کام کر رہے ہیں۔ اس کا مرکزی پہلو "مشرق وسطی میں بقاء" اور نیٹو اتحاد اور علاقائی قوتوں کے ساتھ زیادہ تعاون ہے۔
1:37 PM

ترکی کی آبادی 8کروڑ30 لاکھ سے تجاوز کر گئی

 ترکی کی آبادی 2019ء کے اختتام پر ایک برس قبل کے مقابلے میں 11 لاکھ 51 ہزارافراد کے اضافے کے ساتھ 8کروڑ 31 لاکھ چون ہزار 997 ہو گئی ہے۔ 2018ءمیں ترکی کی آبادی 8 کروڑ 20 لاکھ 3 ہزار تھی۔اس ملک میں مردوں کا تناسب 50.2 فیصد جبکہ خواتین کا تناسب 49.8 فیصد ہے۔شہروں اور تحصیلوں میں مقیم شہریوں کا تناسب 92.8 فیصد ، موضعوں اور دیہاتوں میں یہ تناسب 7.2 فیصد ہے۔
1:34 PM

بازو موڑ کر پرواز کرنے والا دنیا کا پہلا کبوترروبوٹ تیار

 دنیا کا پہلا ایسا اڑن روبوٹ تیار کیا گیا ہے جو اپنے بازو (ونگز) موڑ سکتا ہے جسے ”پیجن بوٹ“ کا نام دیا گیا ہے۔کبوتروں پر تحقیق کرکے بہتر ڈرون اور اڑنے والے روبوٹ بنائے جاسکتے ہیں۔ کبوتر اور دیگر پرندے اپنے بازووں کو موڑنے، سکیڑنے اور کھینچنے کے ماہر ہوتے ہیں۔ اس طرح وہ ہرطرح کی ہوا اور دباو میں بہتر انداز میں پرواز کرسکتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر اسی طرح کےڈرون بنائے جاسکتے ہیں جو ہرطرح کی فضائی حالت کو برداشت کرسکیں۔اسے اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے تیار کیا ہے جسے کبوتر بوٹ کا نام دیا گیا ہے جو ہوا کے دباو کے لحاظ سے اپنے بازو عین پرندوں کی طرح کھولتا ، بند کرتا اور موڑتا ہے۔ اس طرح پھرتیلے طیارے اور ڈرون بنانے میں بہت مدد ملے گی۔اسی خاصیت کی بنا پر گنجلک جگہوں اور تنگ جگہ سے یہ ڈرون باآسانی مڑجاتا ہے۔ اگر اسے عمارتوں یا گھنے جنگل میں اڑایا جائے تب بھی یہ کسی سے ٹکرائے بغیر آگے بڑھتا رہتا ہے۔ اگر ہوا ناموافق ہو تب بھی یہ اس عبور کرتے ہوئے آگے بڑھتا رہتا ہے۔اسے بنانا آسان نہ تھا سب سے پہلے ماہرین نے کبوتر کے پروں اور بازو کا بغور مشاہدہ کیا۔ پھر دیکھا کہ کس طرح کبوتر دوران پرواز اپنے بازو موڑتے ہیں اور اس کے بعد روبوٹ کبوتر تیار کیا گیا یہاں تک کہ کبوتر صرف ایک بازو موڑ کر بھی پرواز کے کرتب دکھا سکتے ہیں۔اس کے اگلے مرحلے میں خاص مٹیریل سے پر بنانا ایک دوسرا چیلنج تھا۔ کئی آزمائشی مراحل کے بعد ماہرین نے یہ مشکل بھی حل کردی۔ اس کے لیے روبوٹ کے بازو کو عین کبوتر کے بازو کی طرح ڈیزائن کیا گیا ہے۔
1:31 PM

کوڈ مشینیں جو امریکہ، جرمنی کے لیے ’انڈیا، پاکستان اور ایران کی خفیہ معلومات چراتی رہیں‘

جن ممالک کے پیغامات چوری کیے گئے ان میں ایران، انڈیا اور پاکستان شامل ہیں
ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے امریکی اور جرمن انٹیلیجنس سروسز نے کئی دہائیوں تک دیگر حکومتوں کی خفیہ معلومات ایک انکریپشن کمپنی کے ذریعے حاصل کیں۔
سوئس کمپنی کرپٹو اے جی نے سرد جنگ سے لے کر 2000 کی دہائی تک 120 حکومتوں کو ان کوڈنگ ڈیوائسز (یعنی وہ آلات جو خفیہ پیغامات کو چھپانے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں) فراہم کی تھیں لیکن واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ان ممالک کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کمپنی کی اصل خفیہ مالک سی آئی اے جس کا مغربی جرمنی کی خفیہ ایجنسی سے اشتراک تھا۔
تاہم اطلاعات کے مطابق ان دونوں اداروں کے جاسوسوں نے ان آلات میں ایک ایسا نظام رکھا جس کے ذریعے وہ ان حکومتوں کے خفیہ پیغامات چوری کر سکتے تھے۔
جن ممالک کے پیغامات چوری کیے گئے ان میں ایران، انڈیا اور پاکستان شامل ہیں۔

امریکی انٹیلیجنس ایجنسی سی آئی اے اور جرمن انٹیلیجنس بی این ڈی کے اشتراک سے معلومات چوری کرنے کے اس انتہائی حساس پروگرام کی تفصیلات امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ، جرمن براڈ کاسٹر ذی ڈی ایف، اور سوئس چینل ایس آر ایف نے شائع کی ہیں۔
ان خبر رساں اداروں کو سی آئی اے کی ایک تاریخی داخلی دستاویز ملی جس میں اس آپریشن کو گذشتہ صدی کے دوران انٹیلیجنس کی دنیا کی سب سے بڑی ’کارروائی‘ قرار دیا گیا۔
1980 کی دہائی میں امریکی حکام نے جن غیر ملکی پیغامات کا جائزہ لیا تھا، اس میں سے تقریباً 40 فیصد کرپٹو مشینز کے ذریعے حاصل کیے گئے تھے اور اس کمپنی نے جو لاکھوں ڈالر منافع کمایا وہ سی آئی اے اور بی این ڈی کو دیا جاتا تھا۔
سی آئی اے کی اس آپریشن کے بارے میں ایک رپورٹ یں کہا گیا کہ ’غیر ملکی حکومتیں امریکی اور جرمنی کو اچھی خاصی رقم ادا کر رہے تھے جبکہ ان کی خفیہ معلومات کم از کم دو (اور کچھ کیسز میں پانچ یا چھ) ممالک کو مل جاتی تھیں۔‘
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس آپریشن کے ذریعے امریکہ نے 1979 میں ایران میں امریکی سفارتکاروں کے بحران کے دوران ایرانی حکام پر نظر رکھی اور فاک لینڈ جنگ کے دوران آرجنٹینا کی فوج کی معلومات برطانیہ کو دیں۔
روس اور چین نے کبھی ان مشینوں پر اعتبار نہیں کیا تھا اور اسی لیے انھیں استعمال نہیں کیا۔
جب 2018 میں ایک سرمایہ کار نے ابتدائی کریپٹو کمپنی کو خرید لیا تو سوئڈش کمپنی کریپٹو انٹرنیشنل وجود میں آئی۔ نئی کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کا سی آئی اے اور بی این ڈی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ ان انکشافات سے سخت پریشان ہیں۔
سوئس حکام کا کہنا ہے کہ انھیں اس کیس کے بارے میں گذشتہ سال نومبر میں پتا چلا اور اس حوالے سے انھوں نے ایک ریٹائرڈ وفاقی جج کو تفتیش کے لیے تعینات کیا ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں بےچینی

اموجن فوکس، بی بی سی جنیوا
سوئٹزرلینڈ بھر میں چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔
ایک سیاسی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ’ہماری ساکھ کی دھجیاں اڑ گئی ہیں۔‘ ایک اور کا کہنا ہے کہ ہماری غیر جانبداری ایک منافقت ہے۔
اصل میں کریپٹب اے جی کی مشکوک ڈیلنگز کے بارے میں کئی سال سے باتیں کی جا رہی ہیں۔ کریپٹب کے سوئس ملازمین کو شک تھا کہ معاملے میں کچھ گڑبڑ ہے۔
سوئس حکومت کو سارا وقت اس آپریشن کا پتا تھا۔ سوئس حکومت ان چند حکومتوں میں سے ایک ہے جس کو ایک ایسی کریپٹب مشین دی گئی جس تک سی آئی اے کی رسائی نہیں تھی۔ مگر اس ساری کہانی کو عالمی میڈیا میں نشر کیا جانا تکلیف دہ ہے۔
یہ سوئس لوگوں کی اپنے بارے میں اس رائے کو بدلنے نہیں دے رہا کہ اچھی قیمت ملے تو وہ کچھ بھی کر لیتے ہیں۔
ایک وقت تھا جب ان کے بینک آمروں کے لوٹے ہوئے اربوں ڈالر رکھتے تھے بغیر یہ دیکھے کہ اس دولت کے حوالے سے بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کی گئی ہے۔
مگر یہ سب تو ماضی کی کہانی تھی۔ اب سوئس معیشت کا ایک اور سیکٹر پریسیژن انجنیئرنگ بھی متنازع ہوگیا ہے۔
سی آئی اے نے اس کام کے لیے کریپٹو اے جی کا استعمال بھی اس لیے کیا کیونکہ سوئٹزرلینڈ کی غیر جانبداری کا دنیا بھر میں چرچہ تھا اور بہت سی حکومتیں اسی لیے ان کے پاس آتی تھیں۔
سوئٹزرلینڈ نے پیسے لیے اور خراب مشینیں بیچی۔ اب یہ بات ساری دنیا کو پتا ہے۔

کرپٹو کمپنی کی کہانی

ایک روسی موجد بورس ہیگلن نے ایک پورٹیبل انکرپشن مشین اس وقت تیار کی تھی جب 1940 کی دہائی میں وہ ناروے پر نازی قبضے کے دوران امریکہ فرار ہوئے تھے۔
یہ مشین اس قدر چھوٹی تھی کہ اسے میدانِ جنگ میں فوجیوں کے حوالے کیا جا سکتا تھا۔ 140000 امریکی فوجیوں کو یہ مشینیں دیں گئیں۔
Getty Images
جب دوسری جنگِ عظیم اختتام پزیر ہوئی تو ہیگلن سوئٹزرلینڈ منتقل ہوگئے۔
مگر جب دوسری جنگِ عظیم اختتام پذیر ہوئی تو ہیگلن سوئٹزرلینڈ منتقل ہوگئے۔
ان کی ٹیکنالوجی اس قدر پیچیدہ ہوگئی کہ امریکی حکومت کو یہ پریشانی لگ گئی کہ وہ دیگر حکومتوں کی خفیہ معلومات چوری نہیں کر سکیں گی۔ تاہم پھر بہترین امریکی کوڈ بریکر ولیم فریڈمن نے ہیگلن کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ جدید ترین مشینیں صرف ان ممالک کو فروخت کریں جن کی امریکہ اجازت دے۔
جو پرانی مشینیں تھیں، جن تک رسائی حاصل کرنا سی آئی اے کو آتا تھا، وہ دیگر حکومتوں کو بیچی گئیں۔
1970 کی دہائی میں امریکہ اور جرمنی نے کریپٹو خرید لی اور اس آپریشن کے تمام تر عناصر بشمول ملازموں کی تقرری، ٹیکنالوجی کا ڈیزائن اور فروخت کی سمت، سبھی کچھ کنٹرول کرنے لگے۔
ماضی میں اس حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کئی بار کیا جا چکا ہے تاہم اس کا ثبوت پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے۔

1:28 PM

چین ، ہوبے میں کورونا وائرس کے 1638نئے مریضوں کی تصدیق

چین کے وسطی صوبہ ہوبے میں منگل کے روز 1638نئے مریضوں اور 94نئی اموات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، مقامی صحت حکام نے یہ اطلا ع دی ہے۔ہوبے کے صوبائی صحت کمیشن نے بد ھ کے روزبتایا ہے کہ منگل کے روز 6756مشتبہ کیسز کو طبی معائنے کے بعد صحت مند قرار دیا گیا ۔صوبائی دارالحکومت ووہان سے 1104نئے مریضوں اور 72نئی اموات کی اطلاعات ملی ہیں۔شیا گان میں109نئے مصدقہ کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ ایچو اور ہوانگ گانگ سے نئے مصدقہ کیسز کی تعداد بالترتیب 71اور 66 ہے۔صوبہ میں منگل تک 417مریضوں کو صحت یاب ہونے کے بعد ہسپتال سے فارغ کردیاگیا جس سے منگل تک صحت یاب ہونے والے مریضوں کی مجموعی تعداد 2639ہوگئی ہے ۔ہوبے میں منگل تک نوول کوروناوائرس سے متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 33366تک پہنچ گئی ہے جبکہ 1068اموات واقع ہوئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ 7241مریضوں کی حالت اب بھی تشویشناک بتائی جارہی ہے جبکہ اموات کی شرح 3.2فیصد رہی ہے ۔

1:26 PM

انڈونیشیا کا داعش کے لیے کام کرنے والے اپنے 700 شہریوں کو واپس لینے سے انکار

 انڈونیشیا نے شام یا دیگر ملکوں میں داعش کے لیے کام کرنے والے اپنے 700 کے قریب شہریوں کو واپس لینے سے انکار کردیا۔ یہ بات انڈونیشیا کے سلامتی امور کے وزیر محفوظ ایم ڈی نے کہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اپنے 267 ملین شہریوں کی سلامتی زیادہ عزیز ہے اور اسی لیے جنگجووں کو ملک سے دور رکھا جائے گا، تاہم انہوں نے کہا کہ حکومت داعش میں شامل ہونے والے شہریوں کے بارے میں مزید تفصیلی اعداد وشمار حاصل کرے گی اور ممکن ہے کہ حکومت10 برس یا اس سے کم عمر بچوں کو واپس آنے دے۔

منگل، 11 فروری، 2020

9:32 PM

دورانِ نیند گلاب کی خوشبو بچوں کی یادداشت بڑھاسکتی ہے، تحقیق

جرمنی:(ویب ڈسک) ماہرین کے مطابق اگر انسان نیند کے دوران یاد رکھنا یا کچھ سیکھنا چاہتا ہے تو اس کا راستہ ناک سے ہو کر گزرتا ہے۔ اس ضمن میں بچوں پر کیے گئے ایک مختصر سے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ گلاب کی خوشبو سے یادداشت کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔جرمنی میں ہوئی ایک تحقیق سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ متعدد بچوں کو نیند اور کلاس میں پڑھانے کے دوران گلاب کے پھول کی خوشبو سنگھائی گئی تو انہوں نے انگریزی کے نئے الفاظ سیکھنے میں بہتری دکھائی اور 30 فیصد زائد الفاظ یاد کیے یا سیکھے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شاید گلاب کی خوشبو دماغ کے یادداشت والے حصوں کو بہتر کرتی ہے۔یونیورسٹی آف فرائیڈبرگ سے وابستہ ماہر ہیورگن کورنمائیر نے کہا کہ ” ہمارے مطالعے سے ظاہر ہوا ہے کہ نیند کے دوران گلاب کی خوشبو زیادہ پرتاثیر ہے اور وہ اکتساب پر اچھے اثرات مرتب کرتی ہے‘۔بعض ماہرِ نفسیات کا دعویٰ ہے کہ انسان نیند میں بھی سیکھتا ہے اور یہ عمل ’ہپنوپیڈیا‘ کہلاتا ہے یعنی نیند میں کسی غیرملکی زبان کے الفاظ سننے سے وہ یادداشت کا حصہ بن سکتے ہیں۔ دوسری جانب متعدد ماہرین نے اس تصور کو مسترد کیا ہے لیکن اب پھر سے اس کے حق میں بعض شواہد ملے ہیں۔اگرچہ صبح جاگ کر کوئی نئے لفظ نہیں دہراتا لیکن ایک عمل ٹارگٹڈ میموری ری ایکٹویشن (ٹی ایم آر) کے ذریعے سیکھنے کے عمل کو مزید ٹھوس ضرور بناتا ہے۔ یہ عمل نیند کے دوران ہوتا ہے اور گلاب کی خوشبو اسے تقویت فراہم کرسکتی ہے۔قبل ازیں ماہرین کہہ چکے ہیں کہ بعض اقسام کی خوشبوئیں کسی واقعے یا لمحات کو تازہ کردیتی ہیں۔ حال ہی میں کی گئی ایک اور تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ صندل کی لکڑی سونگھنے سے بالوں کی افزائش بڑھ سکتی ہے اور گنج پن کوسست کیا جاسکتا ہے۔

9:30 PM

کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا ڈھونگ کرنیوالا گرفتار

روس کے شہر ماسکو میں پولیس نے ایک شہری کو میٹرو ٹرین کے اندر کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا ڈرامہ کرنے پر گرفتار کرلیا۔
کی رپورٹ کے مطابق آن لائن پوسٹ کی گئی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ میٹرو ٹرین کے مسافر فرش پر پڑے ماسک پہنے ایک شخص کو مدد فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں، تاہم ڈرامہ کرنیوالا شخص جب بری طرح لرزنے لگتا ہے تو لوگ وہاں سے خوفزدہ ہوکر دور ہٹ جاتے ہیں۔
پولیس نے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا ڈھونگ کرنیوالے شخص کو مجرمانہ طرز عمل پر گرفتار کرلیا ہے، عدالت کی جانب جرم ثابت ہونے پر اسے 5 سال تک سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کورونا وائرس چین سے دنیا کے تقریباً 30 ممالک میں پھیل چکا ہے، جس سے اب تک ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں، زیادہ تر اموات چین میں ہوئی ہیں، اس مرض سے 40 ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں۔
انتہائی خطرناک مرض سے روس میں بھی دو افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے، ٹرین میں پیش آنیوالے واقعے نے ہر طرف خوف و ہراس پھیلا دیا تھا۔
روسی وزارت داخلہ نے ڈرامہ کرنیوالے شخص کو گرفتار کرنے کی تصدیق کی ہے جبکہ ویڈیو بنانے والے دو افراد کی تلاش جاری ہے، جو چلا رہے تھے کہ مشبتہ شخص کورونا وائرس کا شکار ہے۔
وزارت داخلہ کی ترجمان آئرینا وولک کا کہنا ہے کہ مشبتہ شخص کے ساتھیوں نے انتہائی خطرناک وائرل انفیکشن میں مبتلا ہونے سے متعلق چیخ و پکار کی جس سے لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیلا۔
روس کی ایک نیوز ویب سائٹ نے واقعے کی ویڈیو ٹویٹ کرتے ہوئے اسے ٹائٹل دیا ’’مذاق جو قابو سے باہر ہوگیا‘‘، یہ ویڈیو سب سے پہلے کارا ڈاٹ پرانک نامی ویب سائٹ پر 2 فروری کو پوسٹ کی گئی تھی، تاہم بعد ازاں اسے ہٹا دیا گیا۔
مشتبہ شخص کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کا مؤکل رضا کارانہ طور پر پولیس سے ہر ممکن تعاون کررہا ہے اور امید ہے کہ اس کیخلاف مقدمہ خارج کردیا جائے گا۔