Popunder ads

Breaking

News لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
News لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 8 مارچ، 2020

9:59 AM

چمن میں دھماکا، 5 افراد زخمی

چمن: ( 07 مارچ 2020) بلوچستان کے ضلع چمن میں دھماکا ہوگیا جس کے نتیجے میں 5 افراد زخمی ہو گئے۔
چمن کے علاقے تاج روڈ پر لیویز ہیڈ کوارٹر کے قریب دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 5افراد زخمی ہو گئے۔ دھماکے سے قریب کھڑی موٹر سائیکلوں کو بھی نقصان پہنچا۔
دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیر ے میں لے کر ابتدائی کارروائی شروع کردی ۔دوسری جانب امدادی ٹیموں نے زخمی افراد کو ہسپتال منتقل کردیا جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے ۔
9:58 AM

کورونا وائرس پر فتح یاب کراچی کا نوجوان ڈسچارج ہوگیا

کرونا وائرس کو شکست دینے والے یحییٰ جعفری کو آغا خان اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان میں کروناوائرس کے پہلے مریض کو صحتیابی کے بعد اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ، 22سالہ طالب علم نجی اسپتال میں زیرعلاج تھا۔
ذرائع کے مطابق22 سالہ نوجوان یحییٰ جعفری اسپتال سے ڈسچارج ہو کر رشتہ داروں کے گھر شفٹ ہو گئے، یحییٰ جعفری کچھ دنوں تک رشتہ داروں کے گھر قیام کریں گے
یاد رہے گذشتہ روز ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے مریض کے صحت یاب ہونے سے متعلق اعلان کرتے ہوئے کہا تھا بہت خوشی ہےسندھ میں کرونا وائرس کا پہلا مریض صحتیاب ہوا، علاج کےبعد مریض کا کرونا ٹیسٹ منفی آیا ہے، نوجوان کو جلد اسپتال سے ڈسچارج کیا جائے گا۔
محکمہ صحت سندھ نے بھی  کرونا وائرس کے پہلے مریض یحییٰ جعفری کے صحت یاب ہونے کی تصدیق کی تھی۔
کراچی کے نوجوان نے کورونا وائرس کو شکست دے دی
 واضح رہے کہ 22 سالہ یحی جعفری میں 26 فروری کو کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جبکہ 22 سالہ یحییٰ جعفری 20 فروری کو بذریعہ پرواز ایران سے کراچی آیا تھا۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق پھیپھڑوں کے شدید عارضے میں مبتلا کرنے والا وائرس جو چین سے شروع ہوا تھا اب 38 ممالک تک پھیل چکا ہے۔ چین میں اب تک کورونا وائرس سے 78 ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 2700 ہلاک ہوئے ہیں۔
یہ وائرس پاکستان اور اس کے ہمسایہ ممالک میں پہنچ چکا ہے۔ پاکستان میں اگرچہ اس کے صرف دو کیسز کی تصدیق ہوئی ہے تاہم ایران اور افغانستان سے ملحق سرحدوں کے علاوہ بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر سکریننگ بڑھا دی گئی ہے۔
ہزاروں افراد کا علاج اب بھی جاری ہے اور شاید کچھ مر بھی جائیں اس لیے شرح اموات بڑھ بھی سکتی ہے لیکن یہ بھی غیر واضح ہے کہ ہلکی پھلکے علامات والے کتنے کیسز ہیں جو رپورٹ ہی نہیں ہوئے، اس صورت میں شرح اموات کم بھی ہو سکتی ہے
9:56 AM

صوبوں کے ترقیاتی فنڈز سے شہروں کو ٹھیک کرنا ناممکن ہے: عمران خان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کراچی کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے، شہر قائد پاکستان کی معاشی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ صوبوں کے ترقیاتی فنڈز سے شہروں کو ٹھیک کرنا ناممکن ہے۔
فائیو سٹار، کے ڈی اے چورنگی اور سخی حسن چورنگی پر بنائے جانے والے پلوں کی افتتاحی تقریب گورنر ہاؤس کراچی میں ہوئی اور وزیراعظم عمران خان نے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا پیغام دیا۔
وزیراعظم نے ویڈیو پیغام میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے لوگوں سے آج معذرت کرتا ہوں، موسم کی خرابی کے باعث کراچی نہ آسکا۔
خیال رہے کہ کراچی میں ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح کیلئے وزیراعظم عمران خان کو آج کراچی آنا تھا تاہم خراب موسم کی وجہ سے وہ نہیں آسکے اور گورنر سندھ عمران اسماعیل نے منصوبوں کا افتتاح کیا۔
وزیر اعظم نے ویڈیو پیغام میں گورنر سندھ عمران اسماعیل کو خصوصی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں جاری ترقیاتی منصوبو ں کی تفصیل آپ عوام کو بتائیں۔
9:55 AM

صحافی کے قتل کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی متنازعہ کیوں بنی؟

کراچی — 
گزشتہ ماہ سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز میں قتل ہونے والے صحافی عزیز میمن کی تحقیقات کے لئے قائم کی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ کو صحافیوں کے پر زور مطالبے پر تبدیل کر دیا گیا ہے۔
حکومت کی جانب سے جے آئی ٹی کا سربراہ ایسے پولیس افسر کو بنانے کے بعد یہ تحقیقاتی ٹیم متنازعہ ہوگئی تھی جس نے پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے سے قبل ہی محض کیمیائی تجزیات کی رپورٹس پر ہی واقعہ کو طبعی موت قرار دے دیا تھا۔
صحافی عزیز میمن کی تحقیقات کے لئے 6 مارچ کو سندھ حکومت کے محکمہ داخلہ نے ایڈیشنل آئی جی حیدرآباد ولی اللہ دل کی سربراہی میں نو رکنی ٹیم تشکیل دی تھی۔
تاہم، اس ٹیم کے سربراہ پر صحافیوں نے سخت اعتراضات کئے تھے، کیونکہ انہوں نے چند روز قبل ہی قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اب تک کی دستیاب کیمیائی رپورٹس کے مطابق عزیز میمن کی موت میں تشدد یا زہرخورانی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ پولیس افسران کے مطابق وہ بلڈ پریشر اور ذیابیطس کا مریض تھا اس لئے غالب امکان ہے کہ میمن کی موت طبعی وجوہات کی بنا پر ہوئی ہے۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں پولیس کے موقف کی نفیتاہم، پولیس افسران کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ کے اگلے ہی روز سامنے آنے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عزیز میمن کی موت ان کا سانس رکنے کی وجہ سے ہوئی۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ محراب پور کے ڈاکٹر تحسین میمن اور ڈاکٹر زاہد شیخ کے دستخط سے جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عزیز میمن کا زندہ حالت میں سانس بند کیا گیا جس سے ان کی موت واقع ہوئی۔جے آئی ٹی ہیڈ کی تقرری پر اعتراضات6 مارچ کو صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹی فیکیشن کے تحت مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی۔ ایڈیشنل آئی جی حیدرآباد کی سربراہی میں قائم کی گئی نو رکنی کمیٹی کو عزیز میمن کے قتل کی تحقیقات اور اس کی وجوہات کے تعین کے لئے 15 روز کا وقت دیا گیا۔ تاہم، صحافی برادری کی جانب سے ایسے افسر کو ٹیم کا ہیڈ مقرر کرنے پر سخت اعتراض کیا گیا جس نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے سامنے موت کو طبعی قرار دیا تھا۔ جبکہ دوسرا اعتراض یہ بھی کیا گیا کہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم میں فوجی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا کوئی نمائندہ شامل نہیں کیا گیا۔ ہفتے کی صبح ترجمان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صحافیوں کے اس مطالبے پر کہا کہ قتل کی تحقیقات کرنے والی ٹیم میں شامل افسران کو متاثرہ خاندان ہی کے کہنے پر رکھا گیا ہے۔ سید مراد علی شاہ نے صحافی برادری سے درخواست کی کہ واقعے کی تحقیقات ہونے دی جائے، تحقیقات مکمل ہونے تک کوئی متنازعہ بات نہ کی جائے۔ عزیز میمن کا خون کسی صورت ضائع ہونے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت نے ہمیشہ صحافت کی آزادی کو ممکن بنانے اور اختلاف رائے کا احترام کیا ہے۔تاہم، شام کو محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کئے گئے ایک اور نوٹی فیکیشن میں صحافیوں کے دونوں مطالبات تسلیم کرتے ہوئے جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی سے تعلق رکھنے والے ممبر کو بھی شامل کرنے کے ساتھ ٹیم کا ہیڈ ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن کو بنادیا گیا۔ صحافی عزیز میمن کا قتل کب ہوا؟16 فروری کو نوشہرو فیروز کی ایک نہر سے سندھی روزنامہ کاوش سے وابستہ صحافی کی لاش ملی تھی جن کےگلے کے گرد تار بندھی ہوئی تھی۔ پولیس نے واقعے کی ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات شروع کیں۔ لیکن بعض گرفتاریوں کے باوجود پولیس کو اب تک مبینہ قاتلوں کی گرفتاری میں کوئی کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ یاد رہے کہ عزیز میمن نے مارچ 2019 میں اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے ٹرین مارچ کے دوران محراب پور میں استقبال کے لیے آنے والوں کو کرائے پر لایا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، استقبال کے لیے آنے والوں سے فی شخص دو ہزار روپے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ لیکن انہیں 200 روپے دیے گئے تھے۔ اس رپورٹ پر عزیز میمن کو بعض مقامی افراد کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی ملی تھیں مگر اس کے باوجود بھی انہیں کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا گیا۔عزیز میمن کے قتل کی پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے بھی مذمت اور واقعے کا نوٹس لیا گیا تھا۔ تاہم، 20 سے زائد روز گزر جانے کے باوجود بھی پولیس کی جانب سے اب تک کیس میں کوئی پیش رفت نظر نہیں آئی ہے جس پر صحافی برادری میں تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔واضح رہے کہ 56 سالہ عزیز میمن 30 سال سے لگ بھگ صحافت سے وابستہ تھے اور ان کے قتل پر نہ صرف ملکی بلکہ عالمی صحافتی تنظیموں نے بھی مذمت اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا تھا۔
9:53 AM

8 مارچ خواتین کا عالمی دن

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج خواتین کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق خواتین کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں اہم تقریبات اور سیمینار ز کاانعقاد کیا جائیگا جن میں مقررین خواتین کے حقو ق کے حوالے سے اہم امور پرروشنی ڈالیں گے ۔
اس دن خواتین کی جانب سے ریلیاں نکالی جائیں گی جن میں سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد اورانسانی کی علمبردار تنظیمیں زور شور سے شرکت کریں گی۔
اقوام متحدہ نے 1656 میں 8 مارچ کو عورتوں کے عالمی دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ اس کا مقصد خواتین کی سماجی، سیاسی اور اقتصادی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔
 امریکہ میں سوشلسٹ پارٹی کی جانب سے 1909 میں 28 فروری کو خواتین کا دن منایا گیا جس کے بعد 1910 میں خواتین کے حوالے سے ایک عالمی کانفرنس میں تجویز کیا گیا کہ یہ دن سالانہ طور پر منایا جانا چاہیے۔ اس کانفرنس میں 17 ممالک کی 100 خواتین نے اس خیال کو متفقہ طور پر منظور کیا۔
یہ پہلی مرتبہ 1911 میں آسٹریا، ڈنمارک، جرمنی اور سوئٹزر لینڈ میں منایا گیا۔ اس حساب سے رواں برس 108 یوم خواتین منایا جا رہا ہے۔
خواتین کو عورت مارچ کی اجازت مل گئی
خیال رہے کہ ہر سال مارچ کی آٹھ تاریخ کو خواتین کا عالمی دن منایا جاتاہے جس میں اس بات کا عزم کیا جاتاہے کہ خواتین کو حاصل آزادیوں کا تحفظ کرتے ہوئے ان کی مزید آزادی اورحقو ق کے حصول کے جدوجہدجاری رکھی جائیگی۔
اس سال بھی خواتین کے حقوق سے متعلق کام کرنے والی مختلف تنظیموں نے لاہور کے علاوہ، اسلام آباد، راولپنڈی، ملتان، کراچی، حیدرآباد، سکھر، کوئٹہ اور پشاور سمیت ملک کے بڑے اور اہم شہروں میں 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین کے موقع پر ’عورت مارچ‘ منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
9:51 AM

Coronavirus: اٹلی میں 1 کروڑ 60 لاکھ افراد کو لاک ڈاؤن کا سامنا

Getty Images
اٹلی نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ افراد کی آبادی پر مشتمل علاقے کو لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس میں لمبارڈی اور شمالی اور مشرقی اٹلی کے گیارہ صوبے بھی شامل ہیں۔
قرنطینہ کا دورانیہ اپریل کے اوائل تک جاری رہے گا۔
ملک میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں اور جمنیزیم، سوئمنگ پولز، میوزیم اور سکینگ ریزارٹ بند کر دیے جائیں گے۔
اٹلی یورپ میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔
اتوار کو شروع ہونے والے ان اقدامات کی زد میں ملکی اقتصادیات کے اہم مراکز میلان اور سیاحتی مقام وینس بھی آئیں گے۔
اٹلی میں ہلاکتوں کی تعداد 230 سے تجاوز کر گئی ہے۔ حکام کی جانب سے جاری رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 50 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
سنیچر کو سامنے آنے والے اعدادوشمار کے مطابق متاثرہ افراد کی تعداد 1200 سے بڑھ کر 5883 تک پہنچ چکی ہے۔

چین میں قرنطینہ کے لیے مختص ہوٹل منہدم

AFP
یہ ہوٹل 2018 میں کھلا اور اس میں 80 کمرے تھے۔
چین کے شہر کونزو میں شینجیا ہوٹل کی عمارت زمیں بوس ہوگئی ہے۔ اس عمارت کو کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے لیے قرنطینہ کی سہولت کے لیے استعمال کیا جارہا تھا۔
پانچ منزلہ اس عمارت میں کل 70 افراد تھے جن میں سے 40 کو ملبے سے نکال لیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں ایمرجنسی ورکرز کو عمارت کے ملبے میں لوگوں کو تلاش کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس بات کی ابھی تک نشاندہی نہیں ہو سکی کہ یہ عمارت کیوں گری اور ابھی تک کتنے لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔
یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق ساڑھے سات بجے پیش آیا۔ چینی مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ ہوٹل قرنطینہ کے لیے استعمال کیا جارہا تھا اور ان میں وہ افراد موجود تھے جن کا کورونا وائرس لاحق ہونے والے افراد کے ساتھ قریبی تعلق رہ چکا تھا۔
یہ ہوٹل 2018 میں کھلا اور اس میں 80 کمرے تھے۔
EPA
چینی مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ ہوٹل کرنتھینا کے لیے استعمال کیا جارہا تھا
یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق شام سات بجکر 30 منٹ پر پیش آیا۔
یہ ہوٹل سنہ 2018 میں کھلا تھا اور اس میں 80 گیسٹ روم ہیں۔
چین کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ اس عمارت کو کورونا وائرس کے مریضوں سے رابطے میں رہنے والے افراد کی مانیٹرنگ کی غرض سے قرنطینہ کی سہولت کے لیے استعمال کیا جارہا تھا۔
بیجنگ نیوز سے بات کرتے ہوئے ایک عورت نے کہا کہ ان کے رشتہ دار جن میں ان کی بہن بھی شامل تھیں، اس عمارت میں قائم قرنطینہ میں موجود تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ خود بھی ایک دوسرے ہوٹل میں جو قرنطینہ کے لیے استعمال ہو رہا ہے، میں موجود ہیں۔
Twitter/ Global Times
جمعے کے روز چینی ریاست فوجیان کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں کورونا وائرس کے 296 کیسز ہیں جبکہ دس ہزار سے زائد لوگوں کو نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
صحت کے عالمی ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً ایک لاکھ لوگوں کو وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، زیادہ تر ہلاکتیں چینی صوبے ہوبائی میں ہوئی ہیں جہاں سے اس وائرس کی شروعات ہوئی۔

دنیا بھر میں کورونا وائرس کی صورتحال

پوپ فرانسس کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر اتوار کے روز کی دعا ِ خصوصی اینجلس پریئر، اجتماع کے بجائے انٹرنیٹ پر لائیو سٹریم کے دوران کریں گے۔
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ساحل کے نزدیک روکے گئے بحری جہاز میں موجوں لوگوں میں سے اکیس میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
صحت کے عالمی ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً ایک لاکھ لوگوں کو وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
15 امریکی شہریوں کو بیتلیہم میں قرنطینہ میں ڈال دیا گیا ہے۔
سنیچر کو شائع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق چین کی درآمدات کو وائرس سے شدید نقصان ہوا ہے۔
سلوواکیا، پیرو اور ٹوگو میں کورونا وائرس کے پہلے کیسز سامنے آئے ہیں۔
برطانیہ میں ایک 80 برس کے شخص کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے دوسرے فرد بن گئے ہیں۔
فرانس نے کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے بعد ملک بھر میں سکول بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کینیڈا نے پہلے ایسے کیس کی تصدیق کردی ہے جس میں تشخیص شدہ شخص ملک سے باہر نہیں گیا اور ایسے کیس شخص سے رابطے میں نہیں تھا جسے کورونا وائرس ہو۔
مالٹا میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کی دھمکی کے بعد ایک بحری بیڑے کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔

9:50 AM

کورونا وائرس،متحدہ عرب امارات میں سکول ایک ماہ کے لیے بند

دبئی: کورونا وائرس کے خدشے کے پیش ِ نظر متحدہ عرب امارات نے اتوار سے سکول ایک ماہ کے لیے بند کرنے کا اعلان کردیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق چین سے پھیلنے والا کورونا وائرس اب متحدہ عرب امارات میں بھی اپنے پنجے گاڑنے لگا ہے ۔متحدہ عرب امارات میں کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 30 سے بڑھ کر 45 ہوگئی ہے ۔ کویت میں کورونا وائرس کے  3نئے مریض جبکہ  قطر میں 12 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں ۔
9:48 AM

اپنے سٹاف کی تنخواہ 70 ہزار ڈالر کرنے والا امریکی باس


GRAVITY
ڈین پرائس
سنہ 2015 میں امریکی شہر سیئٹل میں واقع ایک کارڈ پیمنٹ کمپنی کے باس نے اپنے 120 افراد پر مشتمل سٹاف کی کم سے کم تنخواہ 70 ہزار امریکی ڈالر سالانہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اس میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ انھوں نے ایسا اپنی تنخواہ میں سے ایک ملین ڈالر کاٹ کر کیا۔
پانچ سال بعد بھی وہ اپنے فیصلے پر برقرار ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کا یہ جوا کامیاب رہا۔
کمپنی کے مالک ڈین پرائس اپنی دوست ویلیری کے ساتھ سیئٹل کے قریب پہاڑوں میں ہائیکنگ کر رہے تھے جب ان کے سامنے ایک پریشان کُن انکشاف ہوا۔
چہل قدمی کے دوران ویلیری نے ڈین کو بتایا کہ ان کی زندگی بہت مشکلات کا شکار تھی۔ ان کے مالک مکان نے کرایہ 200 ڈالر تک بڑھا دیا تھا اور وہ بمشکل بل ادا کر پا رہی تھیں۔
یہ سن کر ڈین کو غصہ آیا۔ ایک زمانے میں ویلیری ڈین کی گرل فرینڈ تھیں۔ ویلری نے 11 سال فوج میں گزارے اور دو مرتبہ عراق گئیں۔
ہفتے میں 50 گھنٹے کام کر کے اور دو نوکریاں کرنے کے باوجود ان کا گزارہ مشکل سے ہو رہا تھا۔
ڈین کہتے ہیں ’وہ ایک ایسی خاتون ہیں جو خدمت، وقار اور سخت محنت جیسے الفاظ کی مجسم تصویر ہیں۔‘
حالانکہ ویلیری سالانہ 40 ہزار ڈالر کما رہی تھیں لیکن سیئٹل جیسے شہر میں تھوڑے بہتر گھر کے لیے یہ تنخواہ بہت کم تھی۔
ڈین کو غصہ آیا کہ دنیا کس قدر عدم مساوات کی جگہ بن چکی ہے اور پھر انھیں احساس ہوا کے وہ بھی اسی مسئلے کا ایک حصہ ہیں۔
GRAVITY
ڈین پرائس اور ان کی والدہ
31 برس کی عمر میں ڈین پرائس ایک لکھ پتی تھے۔ ان کی کمپنی ’گریویٹی پیمنٹس‘ جسے انھوں نے اپنے لڑکپن میں بنایا تھا، کے 2000 سے زائد کسٹمرز تھے۔
وہ سالانہ 11 لاکھ ڈالر کما رہے تھے لیکن ویلیری کے ساتھ بات چیت نے انھیں سوچ میں ڈال دیا۔ انھوں نے تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا۔
مسیحی گھرانے میں پرورش پانے والے ڈین پرائس کی شخصیت نہ صرف مثبت اور حوصلہ افزائی کرنے والی تھی بلکہ وہ دوسروں کی تعریف کرنے میں فراخ دل اور مکمل طور پر شائستہ مزاج تھے۔ وہ امریکہ میں عدم مساوات کے خلاف مہم جو بن گئے۔
وہ کہتے ہیں ’لوگ بھوک کا شکار ہیں، انھیں بھلا دیا گیا ہے یا ان کا استحصال ہو رہا ہے تاکہ نیویارک کے کسی ٹاور کے اوپر کوئی گھر بنا سکے، جس میں سونے کی کرسیاں ہوں۔‘
’ہماری تہذیب میں ہم لوگ بحثیت ایک معاشرہ لالچ کو عظمت دیتے رہتے ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ فوربز کی فہرست اس کی بدترین مثال ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سنہ 1995 سے پہلے امریکہ کی نصف غریب آبادی قومی دولت کا بڑا حصہ کماتی تھی ان امیروں کی نسبت جو صرف ایک فیصد تھے لیکن پھر پانسہ پلٹا اور ایک فیصد امیر لوگ 50 فیصد غریب آبادی سے زیادہ کمانے لگے اور یہ فاصلہ بڑھتا رہا۔
سنہ 1965 میں کمپنیوں کے سربراہ ایک عام ملازم سے 20 گنا زیادہ کما رہے تھے لیکن سنہ 2015 تک یہ فرق بڑھ کر 300 گنا ہو گیا۔
ویلیری کے ساتھ پہاڑ چڑھتے ہوئے انھیں ایک خیال آیا۔ انھوں نے نوبیل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات ڈینیئل کاہنمین اور انگس ڈیٹن کا ایک مضمون پڑھا تھا جس میں جائزہ لیا گیا تھا کہ امریکیوں کو خوشحال رہنے کے لیے کتنے پیسے درکار ہوتے ہیں۔
انھوں نے ویلیری سے اسی وقت وعدہ کیا کہ وہ اپنی کمپنی گریویٹی میں کم سے کم اجرت میں نمایاں اضافے کریں گے۔
غور و فکر کے بعد وہ 70 ہزار ڈالر کے نمبر تک پہنچے۔ انھیں احساس ہوا کہ انھیں نہ صرف اپنی تنخواہ کم کرنی چاہیے بلکہ اپنے دو گھر گروی رکھنے پڑیں گے اور اپنے حصص اور بچت بھی چھوڑنا ہو گی۔
GRAVITY
انھوں نے اپنے عملے کو جمع کر کے یہ خبر دی۔ انھیں توقع تھی کہ وہاں جشن کا سماں ہو گا لیکن پرائس ڈین بتاتے ہیں کہ انھوں نے جب یہ اعلان کیا تو ایسا نہیں ہوا اور انھیں اپنی بات کو دہرانا پڑا۔
پانچ سال بعد ڈین ہنستے ہوئے بتاتے ہیں کہ انھوں نے پرنسٹن کے پروفیسروں کی تحقیق کا اہم جز نہیں دیکھا تھا۔ جس کے مطابق لوگوں کو خوش رہنے کے لیے 75 ہزار ڈالر درکار تھے۔
اب بھی کمپنی کے ایک تہائی ارکان کی تنخواہیں فوری طور پر دگنی ہونا تھیں۔ تب سے ’گریویٹی‘ بدل گئی۔
عملے کی تعداد دگنی ہوئی اور کمپنی کے توسط سے ہونے والی ادائیگیاں سالانہ 3.8 ارب ڈالر سے بڑھ کر 10.2 ارب ڈالر ہو گئیں۔
لیکن کچھ دیگر پیمائشیں بھی ہیں جن پر پرائس کو فخر ہے۔
ان کا کہنا تھا ’عملے کی تنخواہ کم سے کم 70 ہزار ڈالر کیے جانے سے قبل ہمارے ٹیم کے لوگوں کے ہاں ہر سال اوسطاً دو بچے پیدا ہوتے تھے۔
’جب سے یہ اعلان کیا گیا ہے چار سال کے عرصے میں ہمارے عملے کے ہاں 40 بچے پیدا ہوئے ہیں۔‘
کمپنی کے 10 فیصد سے زائد اراکین ایسے علاقے میں اپنا گھر خریدنے کے قابل ہو گئے جو امریکہ میں کرائے پر رہنے والوں کے لیے مہنگی ترین جگہوں میں شامل ہوتا ہے۔ اس سے پہلے یہ تعداد ایک فیصد سے بھی کم تھی۔
خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ لوگوں کو جو فائدہ ہو گا وہ فضول خرچی میں چلا جائے گا لیکن جو ہوا وہ اس کے برعکس تھا۔ لوگوں نے اپنے پنشن فنڈ میں پیسہ ڈالا اور 70 فیصد کے قریب ملازمین نے کہا کہ انھوں نے اپنے قرضے ادا کر دیے ہیں۔
یہ ایسے وقت میں ہوا جب سیئٹل میں کم سے کم اجرت 15 ڈالر فی گھنٹہ مقرر کرنے کی بحث چل رہی تھی۔ چھوٹے بزنس والے لوگ اس کی مخالفت کر رہے تھے کہ اس اضافی مالی بوجھ سے ان کا کاروبار بند ہو جائے گا۔ پرائس کو ’کمیونسٹ‘ ہونے کا طعنہ بھی دیا گیا۔
’گریویٹی‘ کے دو سینیئر اہلکاروں نے احتجاجاً استعفیٰ بھی دے دیا۔ وہ جونیئر عملے کی راتوں رات تنخواہیں بڑھنے پر خوش نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے یہ لوگ کاہل ہو جائیں گے اور کمپنی کا بچنا مشکل ہو گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ مالی پریشانیوں سے آزاد ہو کر لوگوں نے زیادہ توجہ سے کام کرنا شروع کر دیا۔
سینیئر سٹاف پر سے دباؤ کم ہوا اور لوگ زیادہ اچھی طرح اپنی چھٹیوں کا فائدہ اٹھانے لگے۔
پرائس نے بتایا کہ ان کے عملے کے ایک رکن ہر روز 90 منٹ گاڑی چلا کر دفتر آتے تھے اور ہر وقت اس فکر میں رہتے تھے کہ اگر ان گاڑی کا ٹائر پھٹ گیا تو اس پر کتنا خرچ آئے گا لیکن جب سے ان کی تنخواہ بڑھی ہے انھوں نے دفتر کے قریب گھر لے لیا ہے۔ ان کے پاس اپنے لیے زیادہ وقت ہوتا ہے اور وہ ورزش کے لیے وقت نکال رہے ہیں اور ان کی صحت بھی بہتر ہو گئی ہے۔
اسی طرح کچھ لوگوں نے اپنے والدین کے قرضے بھی اتار دیے اور اپنے خاندان کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے لگے ہیں۔
پرائس کا خیال ہے کہ ’گریویٹی‘ کے زیادہ منافع کمانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے سٹاف میں کام کا جذبہ پہلے بھی تھا لیکن وہ زیادہ توجہ نہیں دے پا رہے تھے۔ ان کے مطابق اب وہ پیسے کے لیے کام پر نہیں آتے بلکہ اچھا کام کرنے کے لیے کام پر آتے ہیں۔
کمپنی کے ایک سینیر اہلکار نے کہا کہ ملک میں سنہ 2008 کے مالی بحران کے دنوں میں زیادہ زور پیسے بچانے پر تھا اور اس وقت روایتی سوچ کے مطابق انھیں 35 میں سے کم سے کم 12 لوگوں کو فارغ کر دینا چاہیے تھا لیکن پرائس نے خرچہ کم کرنے پر توجہ دی۔
YOUTUBE
اسی طرح کچھ لوگوں نے اپنے والدین کے قرضے بھی اتار دیے اور اپنے خاندان کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے لگے ہیں
چند مہینوں میں کمپنی پھر سے منافح کمانے لگی لیکن لوگوں کی تنخواہیں پھر بھی کم سطح پر رکھی گئیں۔ اسی دوران کمپنی کی ملازم روزیٹا بارلو نے مالی مشکلات کی وجہ سے خفیہ طور پر شام کو میکڈونلڈز میں کام کرنا شروع کر دیا جہاں انھیں کچھ عرصے بعد ترقی کی آفر دی گئی۔
جب یہ بات ان کی کمپنی کو پتہ چلی تو پرائس نے ان کو ملاقات کے لیے بلایا۔ بارلو نے یہ سمجھتے ہوئے کہ انھیں نوکری سے نکال دیا جائے گا، رونا شروع کر دیا۔
لیکن ان سے پوچھا گیا کہ انھیں تنخواہ میں کتنا اضافہ چاہیے جس سے سے وہ کمپنی میں رک جائیں گی اور ان کی تنخواہ 40 ہزار ڈالر بڑھ گئی۔
پرائس کو سٹاف کی مشکلات سمجھنے میں مزید کچھ سال لگ گئے۔ سنہ 2015 تک انھوں نے سالانہ تنخواہوں میں 20 فیصد اضافہ دینا شروع کر دیا تھا۔ پھر پرائس کی ویلری سے بات چیت ہوئی جس کے بعد انھوں نے مزید اقدامات کیے۔
پرائس کا خیال تھا کہ ان کی دیکھا دیکھی امریکہ میں دیگر کاروبار بھی ملازمین کی فلاح کے لیے ایسے اقدامات کریں گے لیکن زیادہ بڑے پیمانے پر ایسا نہیں ہوا۔ ان کا خیال ہے کہ ایمازون میں کم سے کم اجرت بڑھنے میں بھی ان کا ہاتھ ہے۔
اپنی تنخواہ کم کرنے سے پہلے پرائس ایک عام سفید فام امیر آدمی تھے۔ وہ ایک مہنگے گھر میں رہتے تھے اور مہنگے ہوٹلوں میں جانا اور مہنگی شراب پینا ان کے شوق میں شامل تھا۔
لیکن پھر انھوں نے اپنے گزارے کے لیے اپنے گھر کا ’ایئر بی این بی‘ پر اشتہار دے دیا۔ ان کی کمپنی کے ملازمین نے پیسے ملا کر ان کی پرانی گاڑی کی جگہ انھیں نئی ٹیسلا کار لے کر دی۔
یوٹیوب پر اس لمحے کی ویڈیو موجود ہے جب انھیں نئی کار کا سرپرائز دیا گیا۔ پرائس فرط جذبات سے رو رہے تھے۔
پانچ سال بعد بھی پرائس اسی کم تنخواہ پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت وہ اتنے مطمئن ہیں جتنے وہ اس وقت بھی نہیں تھے جب ان کی آمدن کئی ملین تھی۔ تاہم یہ سب اتنا آسان بھی نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہر روز ایک امتحان جیسا ہوتا ہے۔
’میری اور مارک زکربرگ کی ایک ہی عمر ہے اور میں منفی سوچ کے لمحات سے گزرتا ہوں جب مجھے خیال آتا ہے کہ مجھے بھی مارک زکربرگ جتنا امیر ہونا چاہیے۔‘
’میرے اندر بھی امیر لوگوں کی فہرست میں اپنا نام دیکھنے کی خواہش جنم لیتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ سب کچھ ترک کر دینا اتنا آسان نہیں لیکن ’اب میری زندگی بہت بہتر ہے۔ ‘
9:43 AM

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج خواتین کا دن منایا جا رہا ہے

اسلام آباد (92 نیوز) پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج خاتون کا دن منایا جا رہا ہے۔ پاکستانی خواتین ہر شعبہ زندگی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ اقوام متحدہ امن مشنز میں بھی کئی سالوں سے پاکستانی خواتین کا کلیدی کردار رہا۔۔ دنیا بھر میں پاکستان خواتین انگیج منٹ ٹیمز تعینات کرنے والا پہلا ملک ہے ۔۔آج بھی 78پاکستانی خواتین امن کا ہروال دستہ ہیں۔
پاکستان کا اقوام متحدہ چھتری تلے امن کا سفر1960ء سے جاری ہے۔ 28 ممالک کیلئے 46 امن مشنز میں مادروطن کے سرفروش سپوتوں نے 157 جانیں نچھاور کیں توبہادر بیٹیاں بھی پیچھے نہ رہیں۔ امن خدمات میں پیش پیش پاکستانی خواتین، دنیا میں پہلی انگیج منٹ ٹیمزکا حصہ بنیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئتیرس بھی معترف ہیں۔
اقوام متحدہ امن مشن کے تحت 19 جون 2019 ء کو کانگو میں خواتین افسران پر مشتمل پہلی ٹیم تعینات کی گئی، اس وقت دوخواتین ٹیمیں متعین ہیں جبکہ تیسری ٹیم وسطی افریقی جمہوریہ میں رواں سال 20 مارچ سے کام شروع کرےگی۔ تاحال امن مشنز میں 78 پاکستانی پیس کیپرز خواتین کلیدی خدمات انجام دے رہی ہیں جبکہ مجموعی طور پر 450 خواتین افسران امن خدمات سرانجا م دے چکیں۔
کانگو میں پاکستانی خواتین امن فوجیوں کا 15 رکنی دستہ بہترین کارکردگی پرتمغے حاصل کر چکا۔ اس ٹیم میں ماہر نفسیات، ڈاکٹرز، نرسز، انفارمیشن آفیسر، لاجسٹک آفیسر سمیت دیگر افسران شامل ہیں۔ خواتین نے انتہائی لگن اور انتھک محنت سے پیشہ وارانہ کارکردگی کی بنیاد پردنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا۔
2019 کانگو مشن میں بہترین خدمات پر میجر سمیعہ کواقوام متحدہ سیکرٹری جنرل سند، ڈینکون مارچ میں 5 گھنٹے میں 25 کلومیٹر فاصلہ طے کرنے والی واحد خاتون آفیسر کا اعزاز میجر عروج عارف اوراقوام متحدہ تربیتی ٹیم کا دو سال کیلئے حصہ بننے کا اعزاز میجر سعدیہ کو حاصل ہوا جبکہ پاکستانی خواتین آج بھی امن کیلئے خدمات کی فراہمی کیلئے پرعزم ہیں۔
عالمی سطح پر پاکستانی خواتین نے امن ،استحکام اورسماجی بہبود کیلئے کلیدی کردارادا کرکے پاکستان کیلئے نیک نامی کا موجب بنیں۔ اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل نے گزشتہ دورہ میں کہا تھا پاکستان دنیا بھر میں امن مشنز میں شامل، امن کا مستقل مزاج، قابل بھروسہ حصہ دار ہے۔
9:41 AM

گوگل کا خواتین کے عالمی دن پر زبردست خراج تحسین، ڈوڈل تبدیل کردیا

کیلیفورنیا (92 نیوز) خواتین کے عالمی دن کے موقع پر سرچ انجن گوگل نے زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔، گوگل نے اپنا ڈوڈل تبدیل کردیا۔
سرچ انجن گوگل کی ویڈیو میں مردوں کے شانہ بشانہ دنیا کا مقابلہ کرنے والی خواتین نمایاں ہیں۔

9:37 AM

ڈیرن سیمی کی سکیچ تیار کرنے والے مداح سے ملاقات، تحفے سے نواز دیا

لاہور (این این آئی) پاکستان سْپر لیگ کی فرنچائز پشاور زلمی کے کوچ ڈیرن سیمی نے اسکیچ تیار کرنے والے کم عمر مداح شاہ خان سے ملاقات کی ۔ملاقات میں ڈیرن سیمی کے مداح شاہ خان نے انہیں اسکیچ بطور تحفہ پیش کیا۔مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر ڈیرن سیمی نے ملاقات کے دوران لی گئیں تصویریں شیئر کیں اور بتایا کہ انہوں نے شاہ خان سے ملاقات کی اور اپنی دستخط شدہ شرٹ بھی دی ہے۔اس سے قبل متعدد بار مردان سے تعلق رکھنے والے سیمی کے باصلاحیت مداح کیجانب سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا تھا تاہم
گزشتہ روز ڈیرن سیمی نے صارف سے شاہ خان کا ایڈریس معلوم کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ بھی شاہ خان سے ملنا چاہتے ہیں۔ اپنے پیغام میں ڈیرن سیمی نے کہا کہ میں نے اپنا وعدہ پورا کیا اور باصلاحیت بچے سے ملاقات کی۔واضح رہے کہ ڈیرن سیمی پاکستان آنے پر راضی ہونے والے ابتدائی کھلاڑیوں میں سے ایک تھے اور انہوں نے دنیا میں پاکستان کو کرکٹ کیلئے ایک محفوظ ملک قرار دینے کی مہم میں اہم کردار ادا کیا۔
9:34 AM

ڈیرن سیمی کی قمیص شلوار میں تصویریں وائرل

ویسٹ انڈین کرکٹر اور پاکستان سُپر لیگ کی فرنچائز پشاور زلمی کے کوچ ڈیرن سیمی کی پاکستان کے قومی لباس میں تصویریں سوشل میڈیا پر مقبول ہو رہی ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر ڈیرن سیمی نے سفید قمیص شلوار میں ملبوس تصویریں اور ویڈیو اپلوڈ کیں جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئیں۔٫
View this post on Instagram
Love and be loved. God almighty is the greatest. . . . #clarasboy #straightouttadugard #88special #cricketer #ambassador #chocolateman #fashion
A post shared by daren (@darensammy88) on Mar 4, 2020 at 11:24pm PST
ڈیرن سیمی کے مداحوں کے ساتھ ساتھ پشاور زلمی کے چیئر مین جاوید آفریدی، ساتھی کھلاڑی شعیب ملک نے بھی ڈیرن سیمی کی شیئر کردہ تصویروں پر کمنٹس کرکے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔
زندگی بہتر ہے کا کیپشن دیتے ہوئے ڈیرن نے ایک ویڈیو شیئر کی۔
View this post on Instagram
Life’s Good
A post shared by daren (@darensammy88) on Mar 4, 2020 at 5:59am PST
واضح رہے کہ پشاور زلمی کی انتظامیہ نے ڈیرن سیمی کو دوران ایونٹ ہی ٹیم کی کپتانی سے ہٹا کر کوچ بنادیا۔ ٹیم کی قیادت وہاب ریاض کے سپرد کردی گئی ہے جبکہ محمد اکرم کو ہیڈ کوچ کے عہدے سے ہٹا کر ڈائریکٹر کرکٹ بنادیا گیا ہے۔
9:32 AM

لاہور قلندرز میدان کے سکندر ٹھہرے، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو چاروں شانے چت کر دیا

لاہور(این این آئی)قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے میچ میں لاہور قلندرز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 8 وکٹوں سے شکست دیدی۔ پی ایس ایل فائیو کے 21ویں میچ میں لاہور قلندرز نے 99رنز کا ہدف 49 گیندیں قبل 2 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔لاہور قلندرز کی یہ ایونٹ میں دوسری کامیابی ہے۔ اس سے قبل بھی لاہور قلندرز نے ٹورنامنٹ کے16ویں میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو شکست سے دوچار کیا تھا۔تفصیلات کے مطابق لاہور قلندرز نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا جو سودمند ثابت ہوا۔ تجربہ کار اسپنر سمت پٹیل کی شاندار بالنگ کی
بدولت مہمان ٹیم کے ابتدائی چھ بلے باز محض 6 اوورز میں 21کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہوکر پویلین واپس لوٹ گئے۔ جیسن رائے6، شین واٹسن صفر، احمد شہزاد 9، کپتان سرفراز احمد 1جبکہ اعظم خان اور بین کٹنگ بغیر کوئی رنز بنائے آؤٹ ہوئے۔سمت پٹیل نے 4 اوورز پر مشتمل اپنے کوٹہ میں 5رنز کے عوض 4وکٹیں حاصل کیں، جس میں ایک میڈین اوور بھی شامل ہے۔آٹھویں نمبر پر میدان میں اترنے والے سہیل خان کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے وہ واحد بلے باز تھے جنہوں نے حریف بالرز کے سامنے کچھ مزاحمت کی۔ انہوں نے پہلے محمد نواز اور پھر زاہد محمود کے ہمراہ بالترتیب 29 اور 34 رنز کی شراکت قائم کرکیکوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا مجموعہ 90 کے پار لگایا۔سہیل خان نے 2 چھکوں اور 2 چوکوں کی بدولت 32 رنزکی اننگز کھیلی۔ زاہد محمود 19 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے جبکہ محمد نواز 10 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ اس دوران فواد احمد4 رنزبناکر آؤٹ ہوئے۔شاہین شاہ آفریدی اور فرزان راجہ نے 2،2 جبکہ سلمان ارشاد نے ایک وکٹ حاصل کی۔مطلوبہ ہدف کے تعاقب میں فخر زمان اور سہیل اختر پرمشتمل لاہور قلندرز کی اوپننگ جوڑی 32 کے مجموعی اسکور پر پویلین واپس لوٹ گئی۔ فخر زمان 20 اور سہیل اختر5رنزبناکر آؤٹ ہوئے۔ دونوں کھلاڑیوں کو محمد نواز نے آؤٹ کیا۔تیسری وکٹ کے لیے محمد حفیظ اور بین ڈنک کے درمیان68 رنز کی ناقابل شکست شراکت نے میزبان ٹیم کو فتح دلادی۔ لاہور قلندرز نے مطلوبہ ہدف 11.5اوورز میں 2وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔محمد حفیظ 39ا ور بین ڈنک 30 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔میچ میں شاندار بالنگ کرنے پر سمت پٹیل کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔آج آٹھ مارچ بروز اتوار کو ایچ بی ایل پی ایس ایل فائیو میں 2میچز کھیلے جائیں گے۔ اسلام آباد یونائیٹڈ اور ملتان سلطانز کی ٹیمیں دوپہر 2 بجے پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی جبکہ روایتی حریف لاہور قلندرز اور کراچی کنگز کی ٹیمیں شام 7 بجے قذافی اسٹیڈیم لاہور میں مدمقابل آئیں گی۔
9:31 AM

پی ایس ایل فایئو: لاہورقلندرز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو شکست دے دی

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے لاہور کو جیت کے لیے 99 رنز کا ہدف دیا تھا جو لاہور نے 2 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا۔
لاہور قلندرز رواں ایونٹ میں اب تک دو میچ ہی جیتے ہیں اور ان کی دونوں فتوحات دفاعی چیمپئن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کیخلاف ہیں۔
لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں لاہور قلندرز نے ٹاس جیت کر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو بیٹنگ کی دعوت دی۔
قلندرز کا پہلے بولنگ کرنے کا فیصلہ درست ثابت ہوا اور پہلا نقصان ہی کوئٹہ کو شین واٹسن کی صورت میں ہوا جو بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے۔
شین واٹس کے بعد احمد شہزاد اور کپتان سرفراز احمد بھی بالترتیب 9 اور ایک رنز بناکر شاہین اور سمت پٹیل کا شکار بنے۔
قلندرز کے سمت پٹیل نے چھٹے اوور میں یکے بعد دیگر 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور یوں 21 کے مجموعی اسکور پر کوئٹہ کے 6 کھلاڑی پویلین لوٹے۔
6 کھلاڑی آؤٹ ہونے کے بعد سہیل خان نے ذمہ دارانہ اننگز کھیلی جس کی بدولت کوئٹہ کی ٹیم مقررہ اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 98 رنز بناسکی۔ یہ پی ایس ایل کی تاریخ کا کم ترین اسکور ہے۔
سہیل خان، زاہد محمود اور محمد نواز کے علاوہ کوئی بھی بلے باز ڈبل فیگرز میں داخل نہ ہوسکا اور سہیل خان 32 رنز بناکر نمایاں رہے۔ لاہور قلندرز کی جانب سے سمت پٹیل نے 4، شاہین آفریدی اور راجہ فرزان نے 2، 2 وکٹیں حاصل کیں۔
99 رنز کے معمولی ہدف کے تعاقب میں لاہور قلندرز کے کھلاڑیوں کو بھی بیٹنگ میں تھوڑی مشکل آئی کیوں کہ بارش کی وجہ سے گیند بہت زیادہ ٹرن ہورہا تھا۔ قلندرز کی پہلی وکٹ 27 رنز پر گری جب فخر زمان 20 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔ اس کے بعد سہیل اختر بھی 5 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے۔
بین ڈنک اور محمد حفیظ نے مزید کوئی نقصان نہیں ہونے دیا اور ہدف باآسانی 11.5 اوورز میں حاصل کرلیا۔ محمد حفیظ 39 اور ڈنک 30 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔ کوئٹہ کی جانب سے محمد نواز نے دو وکٹیں حاصل کیں۔
اس سے قبل آج راولپنڈی میں کھیلے گئے پہلے میچ میں پشاور زلمی نے ڈک ورتھ لوئس فارمولے کے تحت اسلام آباد کے خلاف 7 رنز سے کامیابی حاصل کی۔
لاہور اب تک کھیلے گئے اپنے 6 میچوں میں سے صرف 2 میں کامیابی حاصل کر سکا ہے اور 4 پوائنٹس کے ساتھ آخری نمبر پر ہے جب کہ دوسری جانب دفاعی چیمپئن کوئٹہ بھی اس سال آف کلر ہے اور 8 میچوں میں 6 پوائٹس کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔
یاد رہے کہ دونوں ٹیمیں اس ایڈیشن میں دوسری مرتبہ آمنے سامنے آئیں، پچھلے میچ میں بھی لاہور نے کوئٹہ کو شکست دی تھی۔
9:29 AM

لاہور قلندرز کے لیے خوش قسمت کہلانے والے بچے کے ساتھ حفیظ کی ویڈیو وائرل

پی ایس ایل فائیو کے 21ویں میچ میں  کوئٹہ  گلیڈی ایٹرز کے خلاف کامیابی کے فوری بعد ہی  محمد  حفیظ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
تفصیلات کے لاہور میں کھیلے جانے والے میچ میں گلیڈی ایٹرز کے خلاف لاہور قلندرز نے دوسری کامیابی اپنے نام کی میچ کے بعد لاہور قلندر کے پلئیر محمد حفیظ کی کمسن بچے کو گلے لگانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ محمد حفیظ بچے کو گلے لگا رہے ہیں اور کمسن بچہ کہہ رہا ہے کہ ’لاہور قلندرز چیمپئن۔‘ سوشل میڈیا پر ویڈیو کو اب تک 16 ہزار سے زائد افراد پسند کرچکے ہیں۔
Qalandars' lucky charm 💚#HBLPSLV #LQvQG pic.twitter.com/sOSj7XoLJ7
— PakistanSuperLeague (@thePSLt20) March 7, 2020
آج کے ہونے والے سنسنی خیز میچ میں محمد حفیظ نے نا قابل شکست 39 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کروادیا۔ جبکہ حفیظ کی اننگ میں ایک چھکا اور چار چوکے شامل تھے۔
یاد رہے کہ لاہور قلندرز کی شکستوں کے بعد مذکورہ بچے کی رونے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس کے بعد لاہور قلندرز کی انتظامیہ کی جانب سے بچے کو میچ دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم میں مدعو کیا گیا تھا۔
اس سے قبل بھی جب بچہ میچ دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم پہنچا تھا تو لاہور قلندرز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو شکست دی تھی آج پھر بچے کی آمد پر قلندرز کامیاب ہوئی، پاکستان سپر لیگ کے ٹویٹر پر بچے کو ’خوش قسمت‘ کہا جارہا ہے۔
9:27 AM

عہد وفا کے گرینڈ فنالے کے لیے ٹکٹوں کی فروخت شروع

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے تعاون سے بنائے گئے بلاک بسٹر ڈرامہ سیریل عہد وفا کی آخری قسط کی سینما گھروں میں نمائش کے لیے ٹکٹوں کی فروخت شروع ہوگئی ہے۔تفصیلات کے مطابق ٹکٹوں کی آن لائن فروخت کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ شائقین بک اِٹ نا اور دیگر سینماں کی ویب سائٹس سے ٹکٹیں خرید سکتے ہیں۔دوسری جانب عہد وفا کی آخری قسط کے ٹریلر نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کر دیے ہیں۔ مذکورہ ڈرامہ سیریل کی آخری قسط کے ٹریلر کو صرف یوٹیوب پر 50 لاکھ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔ایم ڈی پروڈکشنز اور آئی ایس پی آر کی اس مشترکہ پیشکش کو عوام کی جانب سے بے حد پذیرائی ملنے کے بعد عہد وفا کی آخری قسط کو سینما گھروں میں دکھانے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور 27 فروری کو سہ پہر 3 بجے عہد وفا کی آخری قسط کا ٹریلر بھی جاری کیا گیا تھا۔وطن کی مٹی سے کیے گئے عہد وفا کی داستان ڈرامہ سیریل عہد وفا میں دوستی کے لازوال جذبے اور وطن سے محبت کو منفرد انداز میں پیش کیا گیا ہے۔اس غیرروایتی ڈرامے کے اچھوتے موضوع، جاندار اداکاری اور سماجی حقائق کی عکاسی نے عوام میں اس ڈرامے کی مقبولیت کو چار چاند لگا دیے۔سینما گھروں میں عہد وفا کی آخری 14قسط مارچ 2020 کو دکھائی جائے گی جب کہ ٹی وی کے ناظرین 15 مارچ کو اس ڈرامے کی آخری قسط دیکھ سکیں گے۔

9:26 AM

فیروزخان نے شوبزکوخیرباد کہہ دیا

کراچی: پاکستان کے معروف اداکار فیروز خان نے شوبز انڈسٹری کو خیرباد کہہ دیا۔
ڈرامہ سیریئل خانی سے بے حد مشہورہونے والے اداکارفیروزخان نے کچھ عرصے قبل اپنا انسٹاگرام اکاؤنٹ بند کردیا تھا جس کے بعد ان کے بہت سے مداح افسردہ ہوگئے تھے تاہم انسٹاگرام بند کرنے بعد ان کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا لیکن ان کی اہلیہ نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے بتایا تھا کہ “یہ روحانی سفرآپ کی زندگی میں مزید اعتماد لائے اورآپ اپنے مقصد میں کامیاب ہوں۔”
تاہم اب اداکارنے اپنے ٹوئٹراکاؤنٹ پرمداحوں کے لیے ایک پیغام لکھا جس میں ان کا کہنا ہے کہ میرے مداح میری جانب سے آنے والے بیان کا انتظارکررہے ہیں تو ان کے لیے اعلان یہ ہے کہ میں شوبز انڈسٹری کو خیرباد کہہ رہا ہوں۔
اس خبرکوبھی پڑھیں: زندگی صرف خدا کوراضی کرنے میں ہے، فیروزخان
اداکارنے مزید کہا کہ اگرضرورت پڑی تو وہ وہ اب اداکاری محض اسلام کی تعلیمات کے لیے ہی کریں گے۔ اداکار نے اس کے علاوہ اپنے مداحوں سے نیک تمناؤں اور دعاؤں کی درخواست بھی کی۔
اس سے قبل اداکارنے میڈیا پرچلنے والے عورت مارچ سے متعلق بھی ایک ٹوئٹ شیئر کی اور لکھا کہ جو حق ہے وہ سچ ہے۔
9:24 AM

ہاوسنگ سوسائٹی انتظامیہ اور امان اللہ کے اہلخانہ کے درمیان قبرکی جگہ کا تنازع

نجی ہاوسنگ سوسائٹی انتظامیہ نے امان اللہ کے اہلخانہ کو 3 قبروں کی جگہ دینے سے انکار کر دیا۔
امان اللہ کے اہلخانہ کا مؤقف تھا کہ امان اللہ کا مزار بنانا چاہتے ہیں لہذا 3 قبروں کی جگہ درکار ہے، امان اللہ خان بڑے فنکار تھے، قبرستان کے وسط میں جگہ مزار کے لیے جگہ درکار ہے۔
امان اللہ کی تدفین کیلیے جگہ کے معاملے پر وزیرا اطلاعات پنجاب فیاض الحسن اور نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے صدر کے درمیان بھی تلخ کلامی ہوئی۔ ہاؤسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ مزار بنانا ہے تو قبرستان کے کونے میں جگہ لے لیں۔ مزار کے لیے ہاؤسنگ سوسائٹی کی حدود سے باہر جتنی جگہ چاہیں لے لیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے معاملے کی اطلاع ملنے پر قبرستان پہنچ کر معاملہ سلجھانے میں مدد کی۔ اس دوران فیاض الحسن چوہان اور صدر ہاوسنگ سوسائٹی ڈاکٹر احمد کے درمیان بھی تکرار ہوئی۔
صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا امان اللہ پاکستان کا بڑا نام ہے۔ میرا حکم ہے کہ قبر کی کھدائی فورا شروع کی جائے۔ صدر نجی ہاؤسنگ سوسائٹی نے صوبائی وزیر کو جواب دیا کہ ہمیں حکم نہ دیں۔ ہم اپنا کام کرنا جانتے ہیں۔
فیاض چوہان نے صدر ہاؤسنگ سوسائٹی سے کہا کہ قبر کی کھدائی شروع نہیں کرو گے تو تمہارے خلاف ایکشن لوں گا۔ نمازہ جنازہ کا وقت قریب آنے تک جھگڑا چلتا رہا اور بعدازاں سوسائٹی انتظامیہ دو قبروں کی جگہ دینے پر رضامند ہو گئی۔ فیاض چوہان کے کہنے پر امان اللہ خان کی قبر، دو قبروں کی جگہ پر بنائی گئی اور پھر ان کی تدفین کی گئی۔
خیال رہے کہ معروف کامیڈین امان اللہ خان گزشتہ روز انتقال کر گئے تھے۔