Popunder ads

Breaking

Health لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Health لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 6 مارچ، 2020

10:39 AM

سبز مرچ کھانے میں تھیکی لیکن فوائد میں لاجواب


(تحریر: ڈاکٹر تنویر سرور - لاہور)
صدیوں سے انسان ذائقہ دار اشیاء کا دلداہ رہا ہے چٹ پٹی اشیاء کو پسند کرتا ہے- یوں تو سرخ مرچ اور کالی مرچ بھی ہیں لیکن سبز مرچ جو کہ ایک سبزی بھی ہے اور ہمارے ہاں ہر کھانے میں استعمال کی جاتی ہے-

اس کے استعمال سے کھانوں میں ایک نیا ذائقہ آ جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اس کے فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔سبز مرچ دیکھنے میں بھلی لیکن کھانے میں بہت تھیکی ہوتی ہے لیکن اسے کھانے سے بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

سبز مرچ ہمیں سرد موسم میں اس کے اثرات سے محفوظ رکھتی ہے اس لیے سوپ وغیرہ میں اس کا استعمال ضرور کریں- سبز مرچ میں وٹامن اے، وٹامن بی، وٹامن سی ، آئرن، پروٹین، کاپر، کاربوہائیڈریٹس، تانبا اور پوٹاشیم شامل ہے اور یہ تمام وٹامنز اور اجزاء صحت کے حوالے سے انتہائی ضروری ہیں-
 

ہم نے آپ کو صحت مند رکھنے کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے تاکہ آپ جو کچھ بھی کھاتے ہیں اس کے فوائد سے بھی واقف ہوں۔ ایک بات یاد رکھیں کہ مرچوں کا استعمال اعتدال سے ہی کرنا ہے ایک دن میں ایک سے دو مرچ کافی ہیں کیونکہ اگر آپ ان کا استعمال حد سے زیادہ کریں گے تو یہ معدے کو نقصان پہنچاسکتی ہیں۔

خواتین کے لیے ضروری ہے کہ جب مرچوں کی کٹائی کریں اسے کسی ماربل یا لکڑی کے دستے پر رکھ ہی کاٹیں تاکہ ان کے ہاتھ اس سے محفوظ رہیں ورنہ اس سے ہاتھوں میں جلن ہو سکتی ہے اب اس کے فوائد دیکھتے ہیں۔

٭ہری مرچ میں وٹامن اے کافی مقدار میں ہوتا ہے اس لیے یہ ہماری آنکھوں کے لیے بہت مفید ہے آنکھوں کی بیئنائی بھی تیز ہوتی ہے اور آنکھوں کی تھکاوٹ اور درد سے بھی نجات مل جاتی ہے ۔
٭وٹامن سی کی موجودگی مرچ کو ہماری جلد کے لیے مفید بناتی ہے سبز مرچ کا مسلسل استعمال آپ کی جلد کو چمکدار بناتا ہے
٭سبز مرچ ہاضمہ کو درست رکھتی ہے
٭سبز مرچ ہمارے قوت معدافعت کو مظبوط بناتی ہے اور اس کی کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے
 

٭سبز مرچ کا روزانہ استعمال کرنے والے افراد میں پھیپھڑوں کا کینسر نہیں ہوتا
٭سبز مرچ ہماری ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہے
٭سبز مرچ کا استعمال کرنے والوں پر بڑھاپا دیر سے آتا ہے
٭سبز مرچ جسم سے فاضل مادوں کے اخراج میں مددگار ہے
٭سبز مرچ استعمال کرنے والوں کو قبض جیسی موذی بیماری نہیں ہوتی
٭سبز مرچ کو کھانوں کے علاوہ سلاد اور رائیتہ میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے
٭سبز مرچ کے استعمال سے ہماری آنتیں درست کام کرتی ہیں
٭سبز مرچ کا روزانہ کا استعمال وزن میں کمی کا سبب بنتا ہے
٭سبز مرچ موڈ کو خوشگوار بنانے میں مدد کرتی ہے ٭سبز مرچ معدے کی بیماریوں سے نجات دلاتی ہے
٭سبز مرچ کھانے سے منہ میں لعاب بنتا ہے۔

جمعرات، 5 مارچ، 2020

4:13 PM

ان جانوروں اور پودوں کو کھونے کے متحمل نہیں ہو سکتے


شہد کی مکھیاں
یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ شہد کی مکھیاں کتنی ضروری ہیں۔ رائل جیوگرافیکل سوسائٹی نے تو شہد کی مکھیوں کو کرہٴ ارض کا اہم ترین جاندار قرار دیا ہے۔ پودوں کی کئی انواع کی زندگی اور نظام فطرت کو تندرست رکھنے کے لیے یہ شہد کی مکھیاں بہت ہی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ہم جو اجناس کھاتے ہیں اس کا لگ بھگ ستر فیصد بھی انہی شہد کی مکھیوں کے مرہون منت ہے۔


چیونٹیاں
ہم شاید کبھی کبھار انہیں ایک آفت سمجھتے ہیں لیکن چونٹیاں ایک ایسا کیڑا ہیں، جسے کم تر نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ انٹاکارٹیکا یا قطب جنوبی کے علاوہ تمام براعظموں میں پائی جاتی ہیں۔ ان کے مختلف کام ہیں، مٹی میں غذائیت کی ایک سے دوسری جگہ منتقلی یا گردش، بیجوں کو پھیلانا اور دیگر کیڑے مکوڑوں کو کھانا۔ ماہرین آج کل چونٹیوں کی بستیوں کے ماحولیاتی تبدیلیوں پر پڑنے والے اثرات پر تحقیق کر رہے ہیں۔

فنگی یا پھپھوندی
نہ یہ پودا ہے اور نہ ہی جانور، نہ جرثومہ یا اور نہ پروٹوزوا یعنی طفیلیہ۔ پھپھوندی یا فنگی کو کھبی کبھار زمین کی پانچویں بادشاہت کے طور پر بھی بیان کیا جاتا ہے۔ اس کے بغیر ہم شاید زندہ ہی نہیں رہ سکتے۔ یہ پانی، مٹی اور ہوا سمیت ہر جگہ موجود ہے۔ بنیادی طور پر دنیا کے غذائی اجزاء کو دوبارہ سے قابل استعمال بناتی یا ری سائیکل کرتی ہے۔ یہ پارا اور پولی یوریتھین جیسی مضر صحت دھاتوں کو بھی جذب کر لیتی ہے۔

سمندری کائی
زمین پر حیات کے لیے اس مائیکرو آرگینزم کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سمندری کائی زمین کی دو تہائی آکسیجن پیدا کرتی ہے اور اس کے بغیر فضا میں موجود آکسیجن کی مقدار بہت ہی کم ہو جائے گی، جس سے ماحول انتہائی خراب ہو جائے گا۔ یہ آبی ماحولیاتی نظام میں خوراک کا ایک بنیادی ذریعہ بھی ہے۔

چمگادڑیں
کیلے، بیوباب کے درختوں اور ٹکیلا میں کیا چیز مشترک ہے؟ یہ سب پولینیشن یا عمل تولید کے لیے چمگادڑوں پر انحصار کرتے ہیں۔ پوری دنیا میں چمگادڑوں کی مختلف اقسام نظام فطرت میں کچھ خاص قسم کی فصلوں کی افزائش کو یقینی بناتی ہیں۔ چمگادڑوں کی صحت مند آبادی سے لاکھوں ڈالر کی کیڑے مار ادویات کو بچایا جا سکتا ہے اور یہ ایک پائیدار ماحولیاتی نظام کے اہم علامت ہیں۔

کیچوے
کیچوے زمین کے حیاتیاتی نظام کے لیے اتنے اہم ہیں کہ انہیں بعض مرتبہ ’ایکو سسٹم انجینئر‘سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ چھوٹا سا رینگنے والا کیڑا زمین کو زرخیز بنانے اور نامیاتی مواد کو دوبارہ قابل استعمال بنانے یا ری سائیکل کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ کئی ماحولیاتی نظاموں کے لیے ناگزیر اہمیت کے حامل ہونے کے باوجود متعدد ایسی نوع ہیں، زمین میں تیزابیت بڑھنے کی وجہ سے جن کے ناپید ہونے کا خطرہ ہے۔

بندر
حیاتیاتی طور پر انسانوں سے قریب ترین بندر ہیں۔ حیاتیاتی تنوع کے لیے یہ جانور بہت اہم ہے۔ یہ بارانی جنگلات میں ایک باغبان کے طور پر بیج پھیلانے اور نئے پودوں کے لیے جگہ بنانے کا بھی کام کرتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ وہ جنگل موجود رہیں، جہاں پر بندر کی نسل پائی جاتی ہے تو ہمیں اس جانور کو تحفظ فراہم کرنا ہو گا۔

کورال یا مونگا
انہیں اکثر سمندری کے استوائی جنگلات بھی کہا جاتا ہے۔ محققین نے اندازہ لگایا ہے کہ کورال ریف یا مونگے کی چٹانیں آبی حیات کے ایک تہائی حصے کا گھر ہیں اور یہ زمین کا بہترین ایکوسسٹم ہیں۔ اگر مونگے کی چٹانیں ختم ہو گئیں تو اس کے ساتھ سمندری نوع کی بہت سی اقسام بھی ناپید ہو جائیں گی۔

بدھ، 4 مارچ، 2020

6:07 PM

دل کی شریانوں میں رکاوٹ Blockage کی علامات

بیس سال کی عمر تک پہنچتے  کئی افراد کی شریانوں میں رکاوٹ Blockage کا عمل شروع ہو چکا ہوتا ہے۔ دل سے حاصل کردہ صاف اور آکسیجن سے بھرپور خون کو جسم کے باقی حصوں تک پہنچانے کے لیے صحت مند شریانیں انتہائی ضروری ہیں۔ لیکن جب کولیسٹرول، چکنائی اور خلیات کے فاضل اجزا مختلف عوامل کی بنا پر شریانوں میں اکٹھے ہونا شروع ہو جائیں تو یہ خون کی روانی میں رکاوٹ ڈالتے ہیں جو کہ بعد ازاں دل کی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔

اس شریانوں کی رکاوٹ یا "ہارٹ بلاک " کی علامات مندرجہ ذیل ہوتی ہیں۔
· غشی طاری ہو جانا /بے ہوش ہو جانا
· چکر آنا
· تھکنا
· سانس کا پھولنا
· سینہ میں درد
· کمر کے نچلے حصے میں درد کا رہنا
· مردوں میں مردانہ کمزوری کا سامنا
· ٹھنڈے ہاتھ ہونا ، ہاتھوں میں درد رہنا

یہ علامات دیگر بیماریوں میں بھی ہو سکتی ہیں۔ اگر یہ علامات شدید اور پہلی مرتبہ ہوں تو فوری طور پر اپنے ذاتی معالج یا قریبی ہسپتال سے رابطہ کریں۔ اگر علامات شدید نہ ہوں ، تب بھی ڈاکٹر سے مشورہ کریں اور ضروری ٹیسٹ کروائیں تاکہ معالج کے لئے درست علاج تجویز کرنے میں آسانی ہو۔
ہارٹ بلاک کی تشخیص کیسے کی جائے؟
فیملی ڈاکٹر یا ایسا کوئی بھی ڈاکٹر جس کے پاس آپ معائنہ کروانے جائیں، اوپر دی گئی علامات کی بنا پر مریض میں ہارٹ بلاک کی تشخیص کر سکتا ہے۔ اور اگر مریض میں یہ تمام علامات پائی جاتی ہوں، تو مناسب یہ ہے کہ مریض فوری طور پر کسی ماہر Specialistڈاکٹر سے رابطہ کرے اور معائنہ کروائے۔ دل کے امراض کے ماہرین میں عموماً تین قسم کے ماہرین پائے جاتے ہیں۔

1. کارڈیالوجسٹ: بالغ افراد کی دل کی بیماریوں کی تشخیص اور علاج کے لیے
2. پیڈیاٹرک کارڈیالوجسٹ: نو مولود، چھوٹے بچوں اور چھوٹی عمر کے بچوں کی دل کی بیماریوں کی تشخیص اور علاج کے لیے
3. الیکٹروفزیالوجسٹ: ایسے کارڈیالوجسٹ اور پیڈیاٹرک کارڈیالوجسٹ جو کہ دل کے برقی نظام میں ماہر ہوں
علامات کی معلومات
علامات کی موجودگی یا عدم موجودگی کی صورت میں معالج مریض سے کچھ سوالات پوچھ سکتے ہیں کو کہ کچھ اس طرح ہوتے ہیں۔

· آیا مریض نے شریانوں میں رکاوٹ کی کوئی بھی علامات محسوس کیں؟
· کیا مریض دیگر علامات بھی محسوس کرتا / کرتی ہے؟
· کیا خاندان میں پہلے بھی کسی کو دل کی بیماری ہے؟
· کیا مریض کسی قسم کی ہربل، ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اور کسی بھی اور طرح کی ادویات استعمال کر رہا ہے؟
· سگریٹ، شراب یا ڈرگز کا استعمال
جسمانی معائنہ
جسمانی معائنہ میں دل کی دھڑکن کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ دل کی دھڑکن کے ہموار، مسلسل اور درست رفتار پر ہونے کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر نبض کی رفتار کا معائنہ بھی کرتے ہیں۔ ٹانگوں اور پیروں پر سوجن کی موجودگی کو دیکھا جاتا ہے، جو کہ دل کے حجم کی اضافہ کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ علاوہ ازیں دیگر ایسی بیماریوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کی جاتی ہے جو دل کی بیماری سے متعلقہ ہیں۔ جسمانی معائنہ کے بعد معالج مریض کے لیے علاج تجویز کرتے ہیں۔
6:04 PM

حیران کر دینے والے وہ امراض جن کی علامات پیروں سے ظاہر ہوتی ہیں

ہمارے پیر ہماری جسمانی صحت کے بارے میں بہت کچھ بتاتے ہیں۔ یہ آپ کو سنگین امراض جیسے ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کے بارے میں کسی ڈاکٹر کا رخ کرنے سے قبل بتا سکتے ہیں۔ہمیں بس ان علامات کو سمجھنا ہوتا ہے۔ یہ ممکنہ طور پر تھائی رائیڈ (سانس کی نالی کے قریب موجود غدود) میں مسائل کی علامت ہوسکتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب پیروں کی نمی کا خیال رکھنا بھی بے کار ثابت ہو۔جب تھائی رائیڈ غدود میں مسئلہ ہو تو وہ تھائی رائیڈ ہارمونز کو تیار کرنے سے قاصر ہوجاتا ہے جو میٹابولک ریٹ، بلڈ پریشر، پٹھوں کی نشوونما اور اعصابی نظام وغیرہ کے لیے کام کرتے ہیں۔ایک طبی تحقیق کے مطابق تھائی رائیڈ کے مسائل کے نتیجے میں جلد انتہائی خشک ہوجاتی ہے،


خاص طور پر پیروں کی جلد پھٹنے لگتی ہے اور حالت میں بہتری نہ آنے پر ڈاکٹر کا رخ کرنا ہی فائدہ مند ہوتا ہے۔اگر پیروں کے انگوٹھوں پر موجود بال اچانک غائب ہوجائیں تو یہ خون کی شریانوں کے امراض کی علامت ہوسکتی ہے، کیونکہ اس سے خون کی ناقص گردش کا اشارہ ملتا ہے۔


ایسا ہونے کی صورت میں پیروں میں بالوں کی نشوونما کم ہوجاتی ہے۔ یہ ذیابیطس کی علامت ہوسکتی ہے۔طبی تحقیق رپورٹس کے مطابق کنٹرول سے باہر گلوکوز لیول اعصاب کو نقصان پہنچاتا ہے اور خون کی گردش متاثر ہوتی ہے، جس کے باعث خون پیروں تک پہنچ نہیں پاتا۔ اگر اس دوران پیروں میں کسی طرح کی چوٹ لگ جائے تو وہ مناسب طریقے سے بھر نہیں پاتا۔
طبی ماہرین کے مطابق زیادہ تر افراد میں ذیابیطس کی تشخیص ہی پیروں کے مسائل سے ہوتی ہے۔انگوٹھے کا سوج کر پھول جانا، یہ ناقص غذا کے استعمال کی نشاندہی کرنے والی علامت ہے۔ کیونکہ آپ جو کھاتے ہیں اس کے اثرات انگوٹھے کے جوڑوں پر مرتب ہوتے ہیں۔


سرخ گوشت، مچھلی اور الکحل وغیرہ میں پائے جانے والا جز جسم میں یورک ایسڈ کی مقدار بڑھا دیتا ہے جس کے نتیجے میں پیر کے انگوٹھے سوج کر پھول سکتے ہیں جو انتہائی تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔پیروں کی انگلیوں کے ناخنوں پر ننھی سرخ لکیریں دل کے انفیکشن کی علامت ثابت ہوسکتی ہیں۔ ماہرین طب کے مطابق خون کی شریانوں کو پہنچنے والے نقصان کے اثرات پیروں کے ناخنوں میں سامنے آتے ہیں۔ایسا اس وقت ہوتا ہے جب ناخنوں کے نیچے ننھی رگوں کو خون کی چھوٹی رکاوٹوں سے نقصان پہنچتا ہے اور یہ دل کے اندرونی نظام میں انفیکشن کی علامت ہوتا ہے۔


یہ انفیکشن ہارٹ فیلیئر کا باعث بن سکتا ہے۔پیروں کی انگلیوں کے سروں کا ہڈی میں تبدیلی آئے بغیر نرم ہوکر پھول جانا پھیپھڑوں کے کینسر یا امراض قلب کی علامت ہوسکتی ہے۔ پیروں کی انگلیوں کے سرے اس وقت پھول جاتے ہیں جب پھیپھڑوں کا کینسر ہو یا شدید انفیکشن ہو، امراض قلب وغیرہ بھی اس کا باعث بنتے ہیں۔ پھیپھڑوں کا کینسر اور امراض قلب شریانوں کی مزاحمت کو کم کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ناخنوں اور انگلیوں میں خون کی روانی بڑھ جاتی ہے جس سے ٹشوز پھول جاتے ہیں۔
6:00 PM

خواتین کے لیے میتھی دانہ کے چند حیرت انگیز فائدے

میتھی دانہ کے بےشمار فوائد کو دیکھتے ہوئے خواتین کی صحت کو بہتر کرنے کے لیے اس کا استعمال صدیوں سے چلا آرہا ہے ۔ میتھی دانہ ہارمونز کی ترتیب کو برقرار رکھنے کے لیے ایک بہترین دوائی کے طور پر مانا جاتا ہے اور بہت سی خواتین اسے استعمال بھی کرتی ہے ۔ ذیل میں ہم کچھ ایسے گھریلو نسخے بتار رہے ہیں جن پر عمل کر کے خواتین ان مسائل سے نجات پا سکتی ہیں ۔
ہارمونز کی بے ترتیبی:


ایک چائے کا چمچ میتھی دانہ ایک کپ پانی میں شامل کر کے پینے سے ہارمونز کی بے ترتیبی درست ہوجاتی ہے ۔ اس چائے کو دن میں دو سے تین مرتبہ استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ ہارمونز کی ترتیب کے لیے یہ چائے جادوئی طرح سے کام کرتی ہے ۔
اسٹریس اور پریشانی کا علاج:


اگر آپ مسلسل پریشان ہیں اور آپ کو بہت زیادہ ذہنی تناؤ رہتا ہے تو اس نسخے پر عمل کر کے آپ اپنا اسٹریس لیول کم کرسکتی ہیں ۔اس کے لیے میتھی دانہ ، لیموں کا رس، شہد ، تلسی کے چند پتے اور ایک دار چینی کا ٹکڑا ایک کپ پانی میں اُبال کر ٹھنڈا کرکے پی لیں ۔اسٹریس لیول میں ضرور کمی آئے گی ۔
ماہواری کے درد میں کمی:


ایک چٹکی میتھی دانہ ایک گلاس نیم گرم پانی کے ساتھ پینے سے ماہواری کے درد سے نجات مل سکتی ہے ۔ ایام مخصوصہ سے دو یا تین دن پہلے بھی اگر اس نسخہ پر عمل کیا جائے تو periodsکی وجہ سے ہونے والی دوسری پریشانیوں سے بھی چھٹکارا مل سکتا ہے ۔
بلیک ہیڈ کے خاتمے کے لیے:


تین کھانے کے چمچ میتھی دانہ دو کپ پانی میں اُبالیں اتنا اُبالیں کہ پانی آدھ رہ جائے ۔ اب میتھی دانہ کا پیسٹ بنا لیں اور اس پیسٹ کو اپنے پر بلیک ہیڈز اور کھلے مسام پر لگا لیں۔ اسے خشک ہونے دیں پھر چہرے پر اسکرب کر کے اُتار لیں ۔ پہلی دفعہ کے استعمال سے آپ واضح فرق محسوس کریں گے اور روزانہ کے استعمال سے بلیک ہیڈز ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں گے۔ میتھی دانہ کے پانی کو بالوں کی جڑوں میں لگالیں اور پوری رات لگا رہنے دیں ۔ صبح نیم گرم پانی دھو لیں ۔ اس سے بالوں کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں اور بال گھنے ہوتے ہیں ۔۔
نئی ماؤں کے لیے:


میتھی دانہ دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے بہت مفید ہے ۔ اس کے علاوہ ڈیلیوری کے بعد ہونے والی کمزوری میں بھی میتھی دانے کے استعمال سے بہت افاقہ ہوتا ہے ۔ یہ ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے ۔ میتھی دانہ ہر طرح سے خواتین کے لیے بہترین ہے۔
5:57 PM

BEST SKIN SPECIALISTS IN KARACHI

Everyone desires for a fresh, healthy, and beautiful skin. For this you need to take extra care of your skin and in case you face any sort of allergy or infection, then consult a professional skin specialist. Although there are several skin specialists working in Karachi, but in order to figure out the best ones, we decided to create this write up.

Dr. Khurram Mushir

Dr. Khurram Mushir is a renowned dermatologist, model, and media person. Dr. Khurram made his mark mainly by giving problem solving beauty and health tips for long hair, acne scars, skin whitening, fair complexion & fairness on his television shows. He is associated with Surgeon Munawar Ali Hospital. His consultation timings are Monday Tuesday Wednesday from 4 PM to 10 PM.


Dr. Najia Ashraf

Dr. Najia Ashraf is yet another popular Skin Specialist based in Karachi. She possesses degrees in M.D., M.Sc. from London, UK. She specializes in diagnosis and treatment of skin tumors and its appendages. You can consult her at National Medical Centre on Monday, Tuesday, Wednesday, Thursday, and Saturday from 1:00 PM to 3:00 PM.


Dr. Noureen Sabir Chhipa

Dr. Noureen Sabir Chhipa is a Skin Specialist who possesses foreign qualification, M.B.B.S. and M.Sc. from London, UK. She is a well known dermatologist and a member of Pakistan Association of Dermatologist, a certified Aesthetician from London. She is currently serving at Imam Clinic and her consultation timings are Monday to Friday from 11:00 AM to 6:00 PM.


  

Dr. Badr.S. Dhanani

One of the finest and most renowned skin specialists you can always trust is none other than Dr. Badr. S. Dhanani. His qualifications are MBBS, MCPS, NR, FAAD (USA). He is currently serving at DHA Medical Centre from Monday to Saturday 10:00 AM to 12:30 PM. At OMI hospital his consultation timings are Monday to Saturday from 7:30 PM to 11:00 PM. At Taj Medical Complex his consultation timings are Monday to Saturday from 5:00 PM to 7:00 PM.

  

Dr. Shamim Ara Arif

Another renowned skin specialist whom you can trust for your skin problems is Dr. Shamim Ara Arif. She is associated with Dr. Ziauddin Hospital (N. Nazimabad Campus) from Monday to Friday at 6:30 PM to 7:30 PM, and on Saturday from 6:00 PM to 7:00 PM.
5:50 PM

آنکھوں کے گرد حلقے کا علاج

چہرے کی دلکشی اورخوبصورتی میں جہاں بال،ناک اور ہونٹوں کی اہمیت ہے وہیں پر آنکھ چہرے کو سب سے زیادہ دلکش بناتی ہے۔ یقیناً یہ خدا تعالٰی کا ہمارے لئے ایک انمول تحفہ ہے جس کا ہم بصد شکر بجا لاتے ہیں۔اور اس انمول تحفے کا بھر پور خیال رکھنا ہمارا فرض ہے۔ جس طرح ہم اپنے جسم کے باقی حصوں کا خیال رکھتے ہیں اسی طرح ہمیں اپنی آنکھوں کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے تاکہ ہمارے چہرے کی خوبصورتی قائم رہے۔ آج میں آنکھ کے گرد گھیرے پڑنے پر مضمون لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں اور آپ کو چند ٹوٹکے بھی دوں گا تاکہ اپنی ان گھیروں سے جان چھڑا سکیں۔
جس طرح ہمارے باقی اعضاء تھکاوٹ کا شکار ہوتے ہیں اسی طرح ہماری آنکھیں بھی تھک جاتی ہیں اور ان کے گرد گھیرے پڑ جاتے ہیں۔آج کے مصروف دور میں انسان کے پاس اپنے لئے بھی وقت نہیں ہے۔لیکن ہمیں اپنی صحت کا خاص خیال رکھنا چاہیئے۔خاص کر خواتین اس مرض کا شکار ہوتی ہیں اور وہ اس کے لئے طرح طرح کی ٹپس آزماتی ہیں جو آخرکار بے سود ثابت ہوتی ہیں۔ آج آپ کو ایسے ہی کارآمد نسخے بتانے کی کوشش کروں گا تاکہ آپ سب جو آنکھوں کے گرد گھیروں سے پریشان ہیں ان کو افاقہ ہو سکے۔سب سے پہلے ہم اس کی وجوہات دیکھتے ہیں جن کی وجہ سے یہ گھیرے پڑتے ہیں۔اگر آپ کی آنکھوں کے گرد بھی ان میں سے کسی ایک یا ایک سے زیادہ وجوہات کی وجہ سے ہوا ہے تو اس کو دور کرنے کی کوشش کریں۔

وجوہات:
٭ نیند کا پورا نہ ہونا
٭ لکھنے پڑھنے کی زیادتی
٭ کم روشنی میں کمپیوٹر کا استعمال
٭ کام کی زیادتی
٭غیر متوازن غذا کا استعمال
٭ عمر کا بڑھنا
٭مدہم روشنی میں مطالعہ یا کڑھائی وغیرہ کرنا
٭ بیماری کے بعد کمزوری
٭ ناشتہ نہ کرنا
٭ ڈائٹنگ کرنا
٭ نظر کی کمزوری میں عینک کا استعمال نہ کرنا
٭ موروثی
٭ چائے یا کافی کا زیادہ استعمال
٭ آئرن یا خون کی کمی
٭ پریشانی یاذہنی دباؤ
اب ہم پہلے دیسی علاج بتاتے ہیں تاکہ آپ گھر میں سے ہی اشیاء لے کر اپنا علاج کر سکیں ۔اس کے بعد میں آپ کو ہومیوپیتھک علاج بھی بتاؤں گا۔

دیسی علاج:
٭آنکھوں میں عرق گلاب کا استعمال کریں۔
٭امرود، پپیتا اور کیلے کا استعمال کریں۔ تینوں کی چاٹ بنا کر کھائیں تو مفید ہے۔
٭پھلوں اور سبزیوں کا استعمال بڑھا دیں۔
٭آلو کے قتلے آنکھوں کے گھیرے والی جگہ پر لگائیں۔
٭گرمیوں میں باہر جانے سے پہلے سن بلاک کا استعمال کریں۔اور آنکھوں پر چشمہ لگائیں۔
٭ کھیرے کا رس نکال کر روئی کی مدد سے آہستہ آہستہ متاثرہ جگہ پر لگائیں۔
٭ ٹماٹر اور لیمن کا جوس ملا کر دن میں تین سے چار بار لگائیں۔
٭ آنکھوں پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے ماریں۔
٭بادام کا استعمال کریں اور روغن بادام حلقوں پر لگائیں۔
٭صبح سویرے اٹھنے پر دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں رگڑیں پھر گرم گرم حرارت متاثرہ جگہ پر لگائیں ۔ایسا کرنا حلقوں کو کم کرنے میں فائدہ مند ہے۔

ہومیوپیتھک علاج:
٭خون کی کمی یا آئرن کی کمی سے حلقے پڑ گئے ہوں تو فیرم فاس 30 کا دین میں تین بار استعمال کریں۔
٭ نظر کی کمزوری کی وجہ سے ایسا ہوا ہو تو یو فریزیا 30 کا دن میں تین بار استعمال کریں۔
10:06 AM

کورونا وائرس: جرمن شہری کون سی ضروری چیزیں ذخیرہ کر رہے ہیں؟


جرمنی میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد پیر دو مارچ کو 130 تک جا پہنچی ہے۔ وائرس کے وبائی صورت اختیار کرنے کے خوف سے جرمنی کے کئی شہروں میں لوگوں نے ضروری اشیا خریدنا شروع کر دیں۔

جرمنی میں کورونا وائرس کے وبائی صورت اختیار کر جانے کے خوف سے ملک کے کئی شہروں میں عوام نے بڑی مقدار میں ضروری اشیا خریدنا شروع کر دیں۔ بون شہر میں بھی، جہاں ڈی ڈبلیو کے صدر دفتر بھی ہے، ہفتے کے روز مارکیٹوں میں اشیائے خورد و نوش، جراثیم کش اسپرے اور صابن سمیت کئی ضروری اشیا کی قلت دیکھی گئی۔

جرمنی میں عوام کے تحفظ اور آفات کے دوران مدد کے وفاقی ادارے بی بی کے نے بھی ہنگامی صورت حال کے دوران درکار ضروری اشیا کی ایک فہرست مرتب کر رکھی ہے۔ مجوزہ ضروری اشیا کی فہرست جاری کرنے کے ساتھ عوام کو یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ وہ کم از کم دس دن کے لیے ناگزیر اشیا ذخیرہ کرلیں۔

ادارے نے ہنگامی صورت کے لیے دس روز کے لیے درکار اشیا کی فہرست تجویز کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ہر فرد کو یومیہ 2,200 کیلوریز درکار ہوتی ہیں اور فہرست اسی معیار کو مدنظر رکھ کر تیار کی گئی ہے۔

ایک فرد کے لیے درکار اشیائے خورد و نوش کی تفصیلات یوں ہیں۔

پانی اور دیگر مشروبات
انسانی زندگی کے لیے پانی نہایت اہم ہے اور فی بالغ فرد روازنہ کے لیے کم از کم دو لیٹر پانی اور مشروبات ذخیرہ کیا جانا چاہیے۔ اس میں سے پینے کے لیے ڈیڑھ لٹر جب کہ نصف لیٹر پانی کھانے پکانے کے لیے استعمال ہو گا۔
 

کھانے کے لیےچاول، روٹی (بریڈ)، نوڈلز وغیرہ (دس روز کے لیے مجموعی طور پر 3.5 کلوگرام فی فرد)

ڈبہ بند سبزیاں اور دالیں (دس روز کے لیے مجموعی طور پر 4 کلوگرام فی فرد)

فروٹ اور خشک میوہ جات (دس روز کے لیے مجموعی طور پر 2.5 کلوگرام فی فرد)

دودھ اور دودھ سے بنی اشیا (دس روز کے لیے مجموعی طور پر 2.6 کلوگرام فی فرد)

گوشت، مچھلی، انڈے وغیرہ (دس روز کے لیے مجموعی طور پر 1.5 کلوگرام فی فرد)

تیل اور چکنائی (دس روز کے لیے مجموعی طور پر 357 گرام فی فرد)

چینی، نمک، پنیر، شہد، آٹا، اور دیگر تیار شدہ اشیائے خوراک حسب ضرورت

اس کے علاوہ جرمن شہریوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنے استعمال کی ادویات کے ساتھ ساتھ دیگر بیماریوں سے بچاؤ اور ابتدائی طبی امداد کے لیے مندرجہ ذیل اشیا بھی دس روز کے لیے ذخیرہ کر لیں۔

ابتدائی طبی امداد کی کِٹ
موم بتیاں

بیٹری اور ٹارچ

جراثیم کش ادویات

کوئلہ اور بار بی کیو گرِل

منگل، 3 مارچ، 2020

11:15 AM

اگر دماغ کی مضبوطی چاہتے ہیں تو اٹھک بیٹھک لگانا شروع کردیں

انسان کی بہتر کارکردگی کا دارومدار اس کی دماغی صحت پر ہوتا ہے۔ انسان کی ذہنی صحت اس کی سوچنے ، محسوس کرنے اور ردِ عمل ظاہر کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔
عموماًافراد ذہنی صحت کو بہت کم توجہ دیتے ہیںجسکے باعث جسمانی کارکردگی اور دیگر اعضاءکے کام کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔
جس طرح ورزش جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذہن پر بھی اچھے اثرات مرتب کرتی ہے۔کھلی فضامیں ورزش دماغ کی صحت کو مزید بہتر بناتی ہے۔ ایروبک یاپٹھوں کی اسٹریچنگ یا ٹوننگ جیسی ورزشیں ذہنی صحت کو بہتر بناتی ہیں۔
دوسری  جانب  عام طور پر اسکولوں   میں بچوں کی غلطیوں پر ان سے کان پکڑ کر اٹھک بیٹھک کروانے کی سزا دی جاتی  ہے۔لیکن یوگا ماہرین کا کہنا ہے کہ اٹھک  بیٹھک سے دماغ کو بہت فائدہ پہنچتا ہے اور ذہانت میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔
 کان پکڑ کر اٹھک بیٹھک کرنے کا یہ انداز دنیا بھر میں ’’سپر برین یوگا‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔سپر برین یوگا کرنے کےلیے دائیں ہاتھ سے بائیں کان اور بائیں ہاتھ سے دائیں کان کی لو پکڑ کر دبائی جاتی ہے۔
یوگا ماسٹر چو کوک سوئی نے اس بارے میں ’’سپر برین یوگا‘‘ کے نام سے ایک پوری کتاب لکھی ہے جو 2005 میں شائع ہوئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ یوگا کا یہ انداز سانس کی مشق اور آکوپریشر کا مجموعہ ہے جو دائیں اور بائیں دماغ کو ایک ساتھ تقویت پہنچاتا ہے۔
یعنی اس سے نہ صرف یادداشت بہتر ہوتی ہے بلکہ ذہانت میں بھی اضافہ ہوتا ہے جو تعلیم و تدریس کے علاوہ پیشہ ورانہ کارکردگی بہتر بنانے میں بھی ہماری مدد کرتا ہے۔
سب سے اچھی بات یہ ہے کہ کان پکڑ کر اٹھک بیٹھک (سپر برین یوگا) کےلیے آپ کو کسی خاص جگہ یا ماحول کی ضرورت نہیں، جبکہ پورے دن میں صرف تین سے پانچ منٹ تک یہ ’’یوگا‘‘ کرنے پر آپ کو اس کے بہترین نتائج حاصل ہوتے ہیں۔
مغربی ممالک میں مختلف مراکز یہ منفرد یوگا کروا رہے ہیں اور لوگ اس کے مفید ہونے کا اعتراف بھی کررہے ہیں۔ گزشتہ برس ہریانہ اسکول ایجوکیشن بورڈ نے اسی افادیت کے پیشِ نظر اپنے زیرِ انتظام تمام اسکولوں میں متعارف بھی کروایا تھا۔
شاید ہمیں بھی بچوں اور بڑوں کی ذہانت میں اضافہ کرنے کےلیے ’’سپر برین یوگا‘‘ پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

پیر، 2 مارچ، 2020

4:46 PM

اخروٹ بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے میں مددگار


اخروٹ کھانے کی عادت بلڈ شوگر لیول کو کم کرنے اور ذیابیطس ٹائپ ٹو سے تحفظ دینے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے، یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔


میڈیا رپورٹ کے مطابق جریدے جرنل نیوٹریشن ریسرچ اینڈ پریکٹس میں شائع تحقیق میں بتایا گیا


کہ روزانہ کچھ مقدار میں اخروٹ کھانا بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول کرنے کے ساتھ بلڈ پریشر کو بھی ریگولیٹ کرتا ہے۔


س کی وجہ اخروٹ میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز ہیں جو فائدہ مند کولیسٹرول کی سطح بڑھا کر گلوکوز لیول کو کم کرتے ہیں۔ تحقیق میں 119 افراد کی غذائی عادات کا جائزہ لیا
4:42 PM

پاکستان میں بچوں کی ویکسینیشن

پاکستان میں نو مولود بچوں کی ویکسینیشن ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ویکسینیشن کی اس ابتر صورتحال کے ذمہ دار عوامل درج ذیل ہیں۔
• آگاہی نہ ہونا
• بچوں تک رسائی کے مسائل
• غربت
• ویکسینیشن کے بارے میں غلط نظریات
• مانع حمل ذرائع کے بارے میں معلومات اور رسائی نہ ہونا
لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومت گزشتہ چند سالوں سے ویکسینیشن کی صورتحال کے بارے میں سنجیدہ ہے اور اسے عوام کے دروازے تک پہنچانے میں دلچسپی لے رہی ہے ،اور اس ضمن میں حکومتی سوچ اور نقطہ نظر میں کچھ اہم تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے نو مولود بچوں کے یکسینشن پروگرام کے لئے علیحدہ فنڈ بھی مختص کیے ہیں۔ سنہ 2013 کے اعداد و شمار کے مطابق نو مولود بچوں میں سے 70 فیصد بچوں کو یکشینیشن کی سہولت دستیاب تھی جس میں آنے والے سالوں میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان ویکسین میں پولیو، خسرہ، ٹی بی، خناق، تشنج اور کالی کھانسی کے علاوہ ہیپاٹائٹس بی ویکسینشن بھی اب EPI شیڈول میں شامل ہے۔ جبکہ تازہ ترین شیڈول میں گردن توڑ بخار اور نمو نیا کے خلاف ویکسین بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔ بچوں کے لیے ویکسینیشن کا جدول درج ذیل ہے:-



عمر ویکسین
پیدائش سے 15 دن BCG (Tuberculosis) + OPV (For Polio)
6 ہفتے OPV + DPT1 + HepB1 + Hib 1
10 ہفتے OPV2 + DPT2 + HepB2 + Hib 2
14 ہفتے OPV3 + DPT3 + Hep B3 + Hib 3
9 ماہ Measles Vaccine
15-18 ماہ 1st booster of OPV/DPT + MMR
5-6 سال 2nd booster of DPT
10 سال Tetanus vaccine
16 سال Tetanus vaccine

اہم نکات



• BCG یہ ٹی بی کے لیے دی جاتی ہے اور اس کی مقدار 0.1 ملی لیٹر ہوتی ہے جو کہ جلد میں لگنے والے انجیکشن کے ذریعے دی جاتی ہے۔
• OPV یہ اورل پولیو ویکسین کا مخفف ہے۔ اس کی مقدار مینو فیکچرر کے حساب سے بدلتی رہتی ہے۔
• DPT یہ ڈفتھیریا، پرٹوسس اور ٹیٹنس کا مخفف ہے جس کے معنی اردو میں خناق، کالی کھانسی اور تشنج کے ہیں۔ اس کی مقدار 0.5 ملی لیٹر ہے جو کہ پٹھوں یعنی مسلز میں لگائی جاتی ہے۔
• Hep B یہ ہیپاٹائٹس بی کا مخفف ہے۔
• Measles یعنی خسرہ کی خوراک کی مقدار 0.5 ملی لیٹر ہوتی ہے جو کہ جلد کے نیچے لگائی جاتی ہے۔
• Hib اس سے مراد میننجائٹس یعنی گردن توڑ بخار ہے۔
• MMR اس سے مراد میزلز / خسرہ، ممپس /کن پیڑے اور روبیلا کی ویکسین ہے۔ روبیلا، زرد بخار کا باعث بنتا ہے۔


اوپر دیا گیا شیڈول پاکستان میں نو مولود بچوں کی ویکسین کے لیے بنایا گیا تازہ ترین جدول ہے۔ Hibاور MMR پاکستان کے کچھ علاقوں میں دستیاب نہیں ہیں۔ اس جدول کو EPI (Extended program on immunization) کا نام دیا گیا ہے اور اسے ور لڈ ہیلتھ آرگنائزیشن WHO نے ڈیزائن کیا ہے۔
ویکسین بچوں میں بیماریوں اور اموات کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے پاکستان میں EPI پروگرام 1978 میں شروع کی گیا تھا اور شروع میں چھ بڑی بیماریوں کے خلاف ویکسین شروع کی گئی تھیں۔ ان بیماریوں میں پولیو، ٹی بی، خسرہ، خناق، تشنج اور کالی کھانسی شامل ہیں۔2001 میں ہیپاٹائٹس بی کو بھی اس لسٹ میں شامل کر لیا گیا۔ 2008 میں Hib انفلوئنزا اور 2012 میں نمو نیا کی ویکسین اس لسٹ میں شامل کی گئی۔


یہ تمام ویکسین پاکستان کے تمام علاقوں میں واقع مخصوص ویکسینیشن سنٹروں کے ذریعے پاکستان کے تمام بچوں کے لیے مفت دستیاب ہیں۔ علاوہ ازیں یہ تمام والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ویکسین بر وقت دلوائیں تاکہ وہ ا ن خطرناک اور مہلک بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔ گورنمنٹ اس بات کو دعوی کرتی ہے کہ پاکستان میں 80 فیصد بچوں کو EPI ویکسین مہیا کی جاتی ہیں ، جبکہ آز ادانہ ذرائع سے کیے گئے سروے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ تعداد 50-60 فیصد ہے ۔اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ پاکستان کے 100 فیصد بچوں کو یہ سہولت مہیا کی جائے تاکہ ان کا صحتمند اور تابناک مستقبل یقینی بنایا جا سکے۔
4:39 PM

مونگ پھلی کے مکھن کے ایسے حیرت انگیز فائدے

کیا آپ جانتے ہیں کے مونگ پھلی کا مکھن صرف سینڈوچ میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ اس کے اور بھی کئی فائدے ہیں ۔


شیونگ کریم اگر آپ کی شیونگ کریم ختم ہو گئ ہے تو پریشان نہ ہو بس تھوڑا سا مونگ پھلی کا مکھن لیں اور شیو بنا لیں ۔


فرنیچر کی بھی صفائی کی جا سکتی ہے بس تھوڑا سا مونگ پھلی کا مکھن لیں اور اسے 5 منٹ تک رگڑیں آپ کا پرانا فرنیچر بلکل نیا جیسا ہو جائے گا۔


ببل گم کو ہٹانے کے لیےبچے اور ببل گم جب ساتھ ہوں تو خطرہ تو رہتا ہے ببل گم کے بالوں میں چپکنے کا اگر کبھی ایسا ہو تو تھوڑا سا مونگ پھلی کا مکھن لیں اور کچھ دیر لگا رہنے دیں پھر اسے نرم کپڑے سے صاف کرلیں ۔


اگر آپ کا تیل ختم ہوگیا ہے تو اس کی جگہ مونگ پھلی کا مکھن لیں اور اپنا کھانا تیار کرلیں اور اس سے کھانے کا کافی اچھا ذائقہ آئے گا۔


اگر آپ نے مچھلی بنائی ہے اور گھر میں بو ہوگئی ہے تو 2 چمچ مونگ پھلی کا مکھن لیں اور اسے پکنے دیں تھوڑی دیر میں بو ختم ہوجائے گی۔