Popunder ads

Breaking

Urdu Articles لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Urdu Articles لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 6 مارچ، 2020

10:46 AM

کیا انڈیا میں ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگانا غداری ہے؟


گذشتہ ماہ انڈیا کے شہر بنگلور میں 19 برس کی طالبہ امولیہ لیونہ پر ایک ریلی میں ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے پر انڈین پینل کوڈ کی دفع 124 اے کے تحت غداری کا مقدمہ درج کیا گیا تھا اور وہ تاحال پولیس کی حراست میں ہیں۔

20 فروری کو شہریت کے متنازع قانون سی اے اے کے خلاف ہونے والی اس ریلی میں جب امولیہ نے ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگایا تو ان کو اپنی بات پوری کرنے کا موقع نہیں دیا گیا تھا اور انھیں سٹیج سے کھینچ کر ہٹا دیا گیا تھا۔

امولیہ کا پورا ویڈیو دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ وہ اس نعرے کو سمجھانے کی کوشش کر رہی تھیں لیکن کسی نے انہیں بولنے ہی نہیں دیا ساتھ ہی اس بات کو بھی نظر انداز کیا گیا کہ وہ بھارت زندہ باد کے نعرے بھی لگا رہی تھیں۔

لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان زندہ باد کے نعرہ لگانا ’غداری‘ اور پاکستان مردہ باد کہنا ’دیش بھکتی‘ یعنی حب الوطنی کا ثبوت ہے؟
 

سپریم کورٹ کے ممتاز وکیل دشینت دوے کہتے ہیں 'پاکستان زندہ باد‘ کہنا غدادری نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’غداری تو دور کی بات ہے یہ کوئی گناہ بھی نہیں ہے جس کی بنیاد پر پولیس کسی کو گرفتار کر لے۔‘

دوے کہتے ہیں کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کی بات آئین میں درج ہے۔

’جنھیں لگتا ہے کہ پاکستان سے نفرت دیش بھکتی ہے وہ انڈیا کے وجود کو نہیں سمجھتے۔

’کسی ایک ملک سے نفرت اتنے بڑے ملک کے لیے وفاداری کا ثبوت نہیں ہو سکتی انڈیا کے آئین میں بھی اس کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔‘
 

31 اکتوبر 1984 کو اس وقت کے وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد پنجاب حکومت کے دو ملازمین بلونت سنگھ اور بھوپیندر سنگھ کو خالصتان زندہ باد اور راجکریگا خالصہ کا نعرہ لگانے کے معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

بلونت اور بھوپیندر نے اندرا گاندھی کے قتل کے کچھ ہی گھنٹے بعد چنڈی گڑھ میں یہ نعرے لگائے تھے۔

ان کے خلاف بھی انڈین پینل کوڈ کی دفع 124 اے کے تحت غداری کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ جب یہ کیسں سپریم کورٹ میں گیا تو سنہ 1995 میں جسٹس اے ایس آنند اور جسٹس فیضان الدین کی بینچ نے واضح طور پر کہا کہ اس طرح سے ایک دو لوگوں کے نعرے لگانا غداری نہیں ہے۔
 

سپریم کورٹ کی اس بینچ نے کہا تھا ایک دو لوگوں کی جانب سے ایسے نعرے لگانا حکومت اور انتظامیہ کے لیے خطرہ نہیں ہے اس میں نفرت اور تشدد بھڑکانے والی بھی کوئی بات نہیں ہے، ایسے میں غداری کا الزام لگانا غلط ہے۔

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ان دونوں نے ہندوستان مردہ باد کے نعرے بھی لگائے تھے تو جج کا کہنا تھا کہ ایک دو لوگوں کی جانب سے اس طرح کے نعرے لگانے سے ریاست یا امن و قانون کو کوئی خطرہ نہیں ہو سکتا۔

انھوں نے کہا کہ غداری کا چارج اسی وقت لگایا جانا چاہیے جب کوئی فرقوں میں نفرت پیدا کرے۔ انھوں نے کہا کہ پولیس نے انہیں گرفتار کر کے کوئی سمجھداری کا ثبوت نہیں دیا کیونکہ کشیدہ حالات میں اس طرح کی گرفتاریوں سے صورتِ حال مزید بگڑتی ہے۔
 

اسی طرح کے الزامات جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالبِ علم کنہیا کمار پر بھی لگائے گئے ہیں تاہم ابھی تک ان کے خلاف چارج شیٹ داخل نہیں کی گئی تاہم دلی حکومت کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد ان کے خلاف چارج شیٹ دائر کی جا سکتی ہے۔

اگر عدالت میں یہ ثابت ہو بھی جاتا ہے کہ نعرے لگائے گئے تھے تو بھی جسٹس اے ایس آنند کے فیصلے کی مثال ضرور دی جائے گی۔

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس بی سدرشن ریڈی نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ امولیہ کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنا قانون کے غلط استعمال کے مترادف ہو گا۔
 

ان کا کہنا تھا کہ اس میں غداری کا معاملہ کہاں سے بنتا ہے اس لڑکی نے جو بھی کہا اس کے لیے تازیراتِ ہند کے تحت کوئی کیس ہی نہیں بنتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ غداری تو دور کی بات ہے امولیہ پر کسی طرح کا کوئی مجرمانہ کیس بھی نہیں بنتا۔

جسٹس ریڈی نے کہا کہ اگر امریکہ زندہ باد اور ٹرمپ زندہ باد کہنے میں کوئی پریشانی نہیں ہے تو پھر پاکستان زندہ بار کہنے میں بھی کوئی دقت نہیں ہونی چاہیے۔

امولیہ بنگلور یونیورسٹی میں صحافت کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور اس کیس میں انھیں عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔ جسٹس ریڈی کا کہنا تھا کہ عدالت کو اس میں از خود نوٹس لینا ہو گا ورنہ حملوں میں اضافہ ہوتا جائے گا۔
 

ان کہنا تھا کہ پاکستان زندہ بار کے نعرے لگانا اس وقت تک جرم نہیں ہے جب تک انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ نہ ہو رہی ہو یا پھر پاکستان کو دشمن ملک قرار نہ دیا گیا ہو۔

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والی دفعہ 370 ختم کیے جانے کے بعد سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی ضرور ہے لیکن دونوں ملکوں کے درمیان رسمی سفارتی تعلقات ابھی بھی برقرار ہیں۔

تو کیا انڈیا اور پاکستان کے درمیان میچ میں پاکستان کی جیت پر خوشی منانا بھی غداری ہے۔ 2017 میں کرکٹ چیمپیئن ٹرافی میں انڈیا کے خلاف پاکستان کی جیت پر جشن منانے کے الزام میں 20 مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ معاملہ ریاست مدھیہ پردیش اور راجھستان کا تھا۔ ان لوگوں پر غداری کا مقدمہ درج کیا گیا تھا لیکن بعد میں مدھیہ پردیش کے 15 لوگوں پر سے یہ مقدمہ ہٹا لیا گیا تھا۔

حال ہی میں آسٹریلیا میں خواتین کا ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میچ کور کرنے والے صحافی وویک کمار کا کہنا تھا کہ جب بھی انڈیا اور آسٹریلیا کے درمیان کرکٹ میچ ہوتا ہے تو بڑی تعداد میں وہاں بسنے والے انڈین سٹیڈیم میں میچ دیکھنے آتے ہیں اور سٹیڈیم میں بیٹھ کر ’بھارت ماتا کی جے‘ اور ’وندے ماترم‘ کے نعرے لگاتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اس پر کوئی یہ سوال نہیں اٹھاتا کہ آپ یہاں کی کھاتے ہیں اور انڈیا کی گاتے ہیں بلکہ وہاں کے لوگ اس سے محظوظ ہوتے ہیں۔ یہاں پسند کے حوالے سے کسی کو غدار قرار نہیں دیا جاتا۔‘

دوسری جانب انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان ویراٹ کوہلی سے جب نومبر 2018 میں ایک مداح نے کہا کہ اسے انڈین کھلاڑیوں سے زیادہ انگریز اور آسٹریلیائی کھلاڑی پسند ہیں تو کوہلی نے اسے انڈیا چھوڑ کر دوسرے ملک میں بسنے کی صلاح دے ڈالی تھی۔
 

وویک کہتے ہیں کہ انڈین لڑکیاں عمران خان، وسیم اکرم یا شعیب اختر کو خوب پسند کرتی تھیں اور ایسا بھی نہیں کہ صرف مسلمان لڑکیاں ہی انھیں پسند کرتی ہوں۔ اسی طرح اداکار فواد خان بھی انڈین لڑکیوں میں کافی مقبول تھے۔

غداری کے معاملے میں دفعہ 124 اے پر سپریم کورٹ نے سب سے اہم فیصلہ 1962 میں کیدار ناتھ بمقابلہ بہار حکومت میں سنایا تھا۔

سنہ 1953 میں کیدار ناتھ نے بیگو سرائے کی ایک ریلی میں اس وقت بہار کی کانگریس حکومت پر جم کر تنقید کی تھی۔

اپنی تقریر میں کیدار ناتھ نے کہا تھا کہ ’سی آئی ڈی کے ’کتے‘ یہاں گھوم رہے ہیں اور کچھ اس ریلی میں بھی موجود ہیں انڈیا کے لوگوں نے برطانوی راج کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا اور اب انگریزیوں کی طرح کانگریس کے ان ’غنڈوں‘ کو بھی اکھاڑ پھینکیں گے۔‘

اس معاملے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ حکومت کے خلاف سخت الفاظ کا استعمال غداری نہیں ہے۔ عدالت نے واضح کیا تھا کہ جب تک کوئی تشدد اور نفرت نہیں پھیلاتا اس پر غداری کا مقدمہ نہیں بن سکتا۔

عدالت نے کہا تھا کہ لوگوں کو حکومت کی نکتہ چینی کرنے اور اپنی پسند اور ناپسند ظاہر کرنے کا حق ہے۔

قوم پرستی اور غداری کی سیاست
2014 میں مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے کئی ایسی چیزیں سامنے آئیں جنھیں حب الوطنی یا قوم پرستی سے جوڑ دیا گیا۔

جیسے سینما گھروں میں فلم شروع ہونے سے پہلے بجنے والا قومی ترانے پر کھڑا ہونا لازمی قرار دیا گیا۔ کچھ لوگوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو ان کی پٹائی کی گئی۔کیا بولنا چاہیے اورکیا نہیں یہ بھی طے کیا جانے لگا۔

مؤرخ مردولہ مکھرجی لفظ قوم پرستی کا مطلب اور اس کی باریکیوں کو انڈیا کی آزادی کی لڑائی کے پسِ منظر میں دیکھتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ہٹلر کی قوم پرستی نہرو اور گاندھی کی قوم پرستی سے مختلف تھی۔ یورپ کی قوم پرستی میں دشمن اندر ہی تھے جبکہ انڈیا میں یہ برطانوی سامراجیت کے خلاف پیدا ہوئی تھی۔

جس نے لوگوں کو برطانوی حکومت کے خلاف متحد کیا تھا اور جہاں بنیادی شناخت انڈین تھی اور اس میں ذات پات، زبان یا مذہب کی اہمیت نہیں تھی۔

1922 میں مہاتما گاندھی کو غدار قرار دیا گیا، انگریز اس قانون کا استعمال کر کے آزادی کا نعرہ لگانے والوں کو جیل میں ڈالتے تھے۔ انڈیا کے غداری کا یہ قانون آزاد انڈیا میں آج بھی چل رہا ہے اور اس کا بھر پور استعمال کیا جا رہا ہے۔

انگریزوں کا بنایا ہوا یہ قانون آج بھی انڈیا میں نہ صرف موجود ہے بلکہ آج کے دور میں اس کا استعمال بھی ہو رہا ہے جبکہ خود برطانیہ نے سنہ 2009 میں اس قانون کو ختم کر دیا تھا۔
 

غداری کا یہ قانون 17ویں صدی میں بادشاہ اور حکومت کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانے کے لیے لگایا گیا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ حکومت کے بارے میں صرف اچھی باتیں کریں اسی قانون کو انگریزوں نے 1870 میں بھارت میں نافذ کر دیا تھا اور اس قانون کا خوب استعمال کیا تھا۔

نہرو ، پٹیل اور شیاما پرساد مکھرجی
آئین نافذ ہونے کے تقریباً 17 مہینے بعد اس بات پر بحث شروع ہوئی کہ آزادی اظہار کی کیا حد ہونی چاہیے۔

آخرکار سنہ 1951 میں آئین میں پہلی ترمیم کر کے تین نئی شرطیں جوڑی گئیں، پبلِک آرڈر، دوسرے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور جرم کرنے کے لیے اکسانہ یعنی آپ ایسا کچھ نہ لکھیں اور نہ ایسا بولیں جس سے امن و امان خراب ہو۔

مشہور وکیل ابھینو چندر چور نے اپنی کتاب ’رپبلِک آف ریٹرک فری سپیچ اینڈ دی کنٹینیوایشن آف انڈیا‘ میں لکھا ہے کہ آئین کی پہلی ترمیم کے ذریعے بھارتیہ جنگ سنگھ کے بانی شیام پرساد مکھرجی کو پاکستان کے خلاف لڑائی چھیڑنے کی بات کرنے سے روکا گیا تھا انھیں دوسرے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا حوالہ دے کر نہرو اور پٹیل نے روکا تھا۔

ابھینو چندر چور نے اپنی کتاب میں لکھا کہ نہرو نے پٹیل کو خط لکھ کر کہا کہ شیم پرساد ہندو مہا سبھا اکھنڈ بھارت کی بات کر کے پاکستان کے ساتھ جنگ کی باتیں کر رہے ہیں اور انھیں اس پر تشویش ہے۔ جواب میں پٹیل نے کہا کہ اس کا حل آئین میں موجود نہیں ہے۔

سنہ 1940 میں نہرو لیاقت پیکٹ کی مخالفت کرتے ہوئے مکھرجی نے نہرو کی کابینہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے بعد مکھرجی کھلے عام انڈیا پاکستان جنگ کی باتیں کرنے لگے تھے۔
 

جس کے بعد ہی آئین میں پہلی ترمیم کی گئی تھی۔ جس میں نئی شرطیں جوڑی گئیں، پبلِک آرڈر، دوسرے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور جرم کرنے کے لیے اکسانہ شامل کیا گیا۔ اس میں دوسرے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو شیام پرساد مکھرجی کو روکنے کے لیے شامل کی گیا تھا۔

نہرو نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ جو کوئی بھی ایسا کرے گا جس سے جنگ بھڑکنے کا خطرہ ہو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا کیونکہ اظہارِ آزادی رائے کے نام پر جنگ نہیں جھیلی جا سکتی۔

جواب میں شیام پرساد مکھرجی نے کہا تھا کہ ملک کا بٹوارہ ایک غلطی تھی اور ایک نہ ایک دن اسے ختم کرنا ہو گا چاہے اس کے لیے طاقت کا ہی استعمال کیوں نہ کرنا پڑے۔

دشینت دوے کہتے ہیں کہ بی جے پی کے اراکان پرویش ورما اور مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر پر غداری کا مقدمہ درج ہونا چاہیے تھا کیونکہ انھوں نے جو کچھ بھی کہا وہ ریاست میں امن و قانون کے لیے خطرہ اور تشدد بھڑکانے کے لیے تھا لیکن ابھی تک ان دونوں پر کوئی مقدمہ نہیں کیا گیا۔
10:39 AM

سبز مرچ کھانے میں تھیکی لیکن فوائد میں لاجواب


(تحریر: ڈاکٹر تنویر سرور - لاہور)
صدیوں سے انسان ذائقہ دار اشیاء کا دلداہ رہا ہے چٹ پٹی اشیاء کو پسند کرتا ہے- یوں تو سرخ مرچ اور کالی مرچ بھی ہیں لیکن سبز مرچ جو کہ ایک سبزی بھی ہے اور ہمارے ہاں ہر کھانے میں استعمال کی جاتی ہے-

اس کے استعمال سے کھانوں میں ایک نیا ذائقہ آ جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اس کے فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔سبز مرچ دیکھنے میں بھلی لیکن کھانے میں بہت تھیکی ہوتی ہے لیکن اسے کھانے سے بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

سبز مرچ ہمیں سرد موسم میں اس کے اثرات سے محفوظ رکھتی ہے اس لیے سوپ وغیرہ میں اس کا استعمال ضرور کریں- سبز مرچ میں وٹامن اے، وٹامن بی، وٹامن سی ، آئرن، پروٹین، کاپر، کاربوہائیڈریٹس، تانبا اور پوٹاشیم شامل ہے اور یہ تمام وٹامنز اور اجزاء صحت کے حوالے سے انتہائی ضروری ہیں-
 

ہم نے آپ کو صحت مند رکھنے کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے تاکہ آپ جو کچھ بھی کھاتے ہیں اس کے فوائد سے بھی واقف ہوں۔ ایک بات یاد رکھیں کہ مرچوں کا استعمال اعتدال سے ہی کرنا ہے ایک دن میں ایک سے دو مرچ کافی ہیں کیونکہ اگر آپ ان کا استعمال حد سے زیادہ کریں گے تو یہ معدے کو نقصان پہنچاسکتی ہیں۔

خواتین کے لیے ضروری ہے کہ جب مرچوں کی کٹائی کریں اسے کسی ماربل یا لکڑی کے دستے پر رکھ ہی کاٹیں تاکہ ان کے ہاتھ اس سے محفوظ رہیں ورنہ اس سے ہاتھوں میں جلن ہو سکتی ہے اب اس کے فوائد دیکھتے ہیں۔

٭ہری مرچ میں وٹامن اے کافی مقدار میں ہوتا ہے اس لیے یہ ہماری آنکھوں کے لیے بہت مفید ہے آنکھوں کی بیئنائی بھی تیز ہوتی ہے اور آنکھوں کی تھکاوٹ اور درد سے بھی نجات مل جاتی ہے ۔
٭وٹامن سی کی موجودگی مرچ کو ہماری جلد کے لیے مفید بناتی ہے سبز مرچ کا مسلسل استعمال آپ کی جلد کو چمکدار بناتا ہے
٭سبز مرچ ہاضمہ کو درست رکھتی ہے
٭سبز مرچ ہمارے قوت معدافعت کو مظبوط بناتی ہے اور اس کی کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے
 

٭سبز مرچ کا روزانہ استعمال کرنے والے افراد میں پھیپھڑوں کا کینسر نہیں ہوتا
٭سبز مرچ ہماری ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہے
٭سبز مرچ کا استعمال کرنے والوں پر بڑھاپا دیر سے آتا ہے
٭سبز مرچ جسم سے فاضل مادوں کے اخراج میں مددگار ہے
٭سبز مرچ استعمال کرنے والوں کو قبض جیسی موذی بیماری نہیں ہوتی
٭سبز مرچ کو کھانوں کے علاوہ سلاد اور رائیتہ میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے
٭سبز مرچ کے استعمال سے ہماری آنتیں درست کام کرتی ہیں
٭سبز مرچ کا روزانہ کا استعمال وزن میں کمی کا سبب بنتا ہے
٭سبز مرچ موڈ کو خوشگوار بنانے میں مدد کرتی ہے ٭سبز مرچ معدے کی بیماریوں سے نجات دلاتی ہے
٭سبز مرچ کھانے سے منہ میں لعاب بنتا ہے۔

بدھ، 4 مارچ، 2020

10:06 AM

کورونا وائرس: جرمن شہری کون سی ضروری چیزیں ذخیرہ کر رہے ہیں؟


جرمنی میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد پیر دو مارچ کو 130 تک جا پہنچی ہے۔ وائرس کے وبائی صورت اختیار کرنے کے خوف سے جرمنی کے کئی شہروں میں لوگوں نے ضروری اشیا خریدنا شروع کر دیں۔

جرمنی میں کورونا وائرس کے وبائی صورت اختیار کر جانے کے خوف سے ملک کے کئی شہروں میں عوام نے بڑی مقدار میں ضروری اشیا خریدنا شروع کر دیں۔ بون شہر میں بھی، جہاں ڈی ڈبلیو کے صدر دفتر بھی ہے، ہفتے کے روز مارکیٹوں میں اشیائے خورد و نوش، جراثیم کش اسپرے اور صابن سمیت کئی ضروری اشیا کی قلت دیکھی گئی۔

جرمنی میں عوام کے تحفظ اور آفات کے دوران مدد کے وفاقی ادارے بی بی کے نے بھی ہنگامی صورت حال کے دوران درکار ضروری اشیا کی ایک فہرست مرتب کر رکھی ہے۔ مجوزہ ضروری اشیا کی فہرست جاری کرنے کے ساتھ عوام کو یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ وہ کم از کم دس دن کے لیے ناگزیر اشیا ذخیرہ کرلیں۔

ادارے نے ہنگامی صورت کے لیے دس روز کے لیے درکار اشیا کی فہرست تجویز کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ہر فرد کو یومیہ 2,200 کیلوریز درکار ہوتی ہیں اور فہرست اسی معیار کو مدنظر رکھ کر تیار کی گئی ہے۔

ایک فرد کے لیے درکار اشیائے خورد و نوش کی تفصیلات یوں ہیں۔

پانی اور دیگر مشروبات
انسانی زندگی کے لیے پانی نہایت اہم ہے اور فی بالغ فرد روازنہ کے لیے کم از کم دو لیٹر پانی اور مشروبات ذخیرہ کیا جانا چاہیے۔ اس میں سے پینے کے لیے ڈیڑھ لٹر جب کہ نصف لیٹر پانی کھانے پکانے کے لیے استعمال ہو گا۔
 

کھانے کے لیےچاول، روٹی (بریڈ)، نوڈلز وغیرہ (دس روز کے لیے مجموعی طور پر 3.5 کلوگرام فی فرد)

ڈبہ بند سبزیاں اور دالیں (دس روز کے لیے مجموعی طور پر 4 کلوگرام فی فرد)

فروٹ اور خشک میوہ جات (دس روز کے لیے مجموعی طور پر 2.5 کلوگرام فی فرد)

دودھ اور دودھ سے بنی اشیا (دس روز کے لیے مجموعی طور پر 2.6 کلوگرام فی فرد)

گوشت، مچھلی، انڈے وغیرہ (دس روز کے لیے مجموعی طور پر 1.5 کلوگرام فی فرد)

تیل اور چکنائی (دس روز کے لیے مجموعی طور پر 357 گرام فی فرد)

چینی، نمک، پنیر، شہد، آٹا، اور دیگر تیار شدہ اشیائے خوراک حسب ضرورت

اس کے علاوہ جرمن شہریوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنے استعمال کی ادویات کے ساتھ ساتھ دیگر بیماریوں سے بچاؤ اور ابتدائی طبی امداد کے لیے مندرجہ ذیل اشیا بھی دس روز کے لیے ذخیرہ کر لیں۔

ابتدائی طبی امداد کی کِٹ
موم بتیاں

بیٹری اور ٹارچ

جراثیم کش ادویات

کوئلہ اور بار بی کیو گرِل
8:52 AM

بھارتی ریلوے پولیس کا کمال، پاکستانی ٹرین کو 'اپنا' بنا لیا


بھارتی ریاست گجرات کی ریلوے پولیس کو پاکستانی ٹرین کی تصویر موبائل ایپلی کیشن پر لوڈ کر کے اسے غلطی سے اپنا بتانے پر سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

گجرات میں 'سورکشت (محفوظ) سفر' کے نام سے ہفتے کو ایک نئی موبائل ایپلی کیشن متعارف کرائی گئی تھی۔ تاہم ایپلی کیشن کے ڈیش بورڈ پر بھارت کے بجائے پاکستانی ٹرین کی تصویر لگا دی گئی۔

سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے غلطی کی نشاندہی پر پاکستان کی ٹرین کی تصویر ایپلی کیشن سے ہٹا دی گئی ہے۔

سی آئی ڈی کرائم اور ریلوے کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل گوتم پرمار نے اس غلطی کی وضاحت کرتے ہوئے اتوار کو بتایا کہ ایپلی کیشن کو دلکش بنانے کے لیے پروگرام ڈویلپر نے ٹرینوں کی کچھ تصاویر استعمال کی تھیں جس کے دوران وہ 'غیر دانستہ' طور پر پاکستانی ٹرین کی تصویر بھی استعمال کر بیٹھا جسے نشاندہی کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔

اس ایپلی کیشن کو گجرات کے وزیرِ مملکت برائے داخلہ پردیپ سنگھ جڈیجا نے 29 فروری کو لانچ کیا تھا۔
اس ایپ کی مدد سے مسافر کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں گجرات کے گورنمنٹ ریلوے پولیس (جی آر پی) کی مدد حاصل کر سکتے ہیں۔

مسافر اس ایپ کا استعمال کرتے ہوئے منشیات یا انسانی اسمگلنگ سے متعلق معلومات حکام کو دے سکتے ہیں۔
 

ایپ کے ذریعے مسافر لڑکیوں کو گھورنے یا ان سے چھیڑ چھاڑ کرنے والوں کی شکایت بھی درج کرائی جا سکتی ہے۔

حکام کے مطابق ایپلی کیشن کے ذریعے کسی اجنبی کے دورانِ سفر ٹرین میں داخل ہونے، غیر قانونی تجارت کرنے یا بچوں کی گمشدگی سے متعلق فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی جا سکتی ہے۔
8:50 AM

کیا حکومت نواز شریف کو برطانیہ سے پاکستان واپس لا سکے گی؟


اتوار کو وزیراعظم پاکستان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیان دیا کہ 'علاج کے غرض سے پاکستان سے برطانیہ جانے والے وی آئی پی قیدی میاں محمد نواز شریف کو پاکستان واپس لانے کا وقت آچکا ہے۔ اس لیے وفاقی حکومت برطانوی حکومت کو یہ خط لکھنے جا رہی ہے کہ ان کو برطانیہ سے جلا وطن کیا جائے'۔

اس بیان کے ردعمل میں مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’میں تحریک انصاف کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ لندن میں علاج کی غرض سے مقیم سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ملک بدر کروانے کے لیے برطانیہ کی حکومت سے رجوع کریں۔‘

حکومت کے اس اقدام کے بارے میں بی بی سی نے چند ماہرین سے اس کے قانونی پہلوؤں پر بات کی۔

قانونی پہلو
کسی شخص کی حوالگی سے متعلق بین الاقوامی قوانین کے بارے میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے وکیل ہاشم احمد خان نے بتایا کہ نواز شریف کو پاکستان لانے کے لیے حکومت کو ایک مخصوص طریقہ کار اپنانا پڑے گا اور یہ فیصلہ برطانوی ہوم سیکریٹری پر منحصر ہے۔

ان کے مطابق ’اگر حکومت پاکستان برطانوی حکومت سے درخواست کرتی ہے کہ میاں محمد نواز شریف کو پاکستان بھیجا جائے تو اس کے لیے سب سے پہلے انھیں برطانوی ہوم سیکریٹری کی رضامندی درکار ہوگی جس کے بعد ہی برطانیہ میں نواز شریف کے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی کی جا سکے گی۔ جبکہ اس کے بعد بھی برطانوی حکومت اپنے قانون کے مطابق اس بات کا جائزہ لے گی کہ اس شخص کو وہ نکالیں یا نہیں۔‘
 

انھوں نے برطانیہ کے حوالگی کے قانون 2003 کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی حکومت سب سے پہلے یہ دیکھتی ہے کہ جس ملک کی طرف سے حوالگی کی درخواست آئی ہے کیا اس ملک کے ساتھ برطانیہ کا دوطرفہ معاہدہ ہے یا نہیں۔ کچھ ممالک ایسے ہیں جن کے ساتھ برطانوی حکومت اپنے قانون اور معاہدے کے تحت مجرموں کا تبادلہ کرتی ہے اور بعض مخصوص کیسز میں یکطرفہ حوالگی بھی کی جاتی ہے لیکن پاکستان کے ساتھ برطانیہ کا کوئی ایسا معاہدہ نہیں ہے۔

اگر برطانوی ہوم سکریٹری پاکستان کی درخواست پر میاں محمد نواز شریف کا معاملہ آگے چلانے پر رضامندی کا اظہار کر دیتے ہیں تو پھر انھیں مجسٹریٹ کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔

وکیل ہاشم احمد خان کے مطابق ’وہاں پاکستانی حکومت کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ کس بنیاد پر ان کو پاکستان واپس لے جانا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ برطانوی کورٹ میں یہ بھی بتایا جائے گا کہ میاں محمد نواز شریف کس کیس میں سزا یافتہ ہیں۔ جبکہ انھیں اس کیس کے تمام شواہد بھی عدالت کے سامنے پیش کرنے ہوں گے۔
 

اس کے بعد برطانوی کورٹ اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ کیا جو درخواست یا اپیل کی گئی ہے، وہ درست بھی ہے یا نہیں۔ اگر فیصلہ کسی شخص کے خلاف آ بھی جاتا ہے تو بھی اس شخص کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتا ہے جس میں تقریباً کم از کم دو سال لگ ہی جاتے ہیں‘۔

وکیل ہاشم احمد خان کے مطابق ’ان تمام باتوں کے علاوہ بھی برطانوی قانون میں دو اہم نکات کا بہت خیال رکھا جاتا ہے جس میں انسانی حقوق اور سیاسی طور پر ظلم کا نشانہ بنایا جانا بھی شامل ہیں۔ اس طرح میاں محمد نواز شریف کیونکہ طبی بنیادوں پر عدالت سے ضمانت لے کر گئے تھے اس لیے برطانونی عدالت یہ پہلو بھی دیکھے گی کہ کیا ایک بیمار شخص کو وطن واپسی پر جیل میں تو نہیں ڈال دیا جائے گا جو کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اگر ہم ان تمام پہلوؤں کو دیکھیں تو یہ کافی مشکل ہے کہ حکومت میاں محمد نواز شریف کو پاکستان لانے میں کامیاب ہو سکے گی۔‘

ماہر قانون سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ کیونکہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان حوالگی کے قانون کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے اس لیے برطانونی حکومت اس بات کی پابند نہیں ہے کہ وہ پاکستانی حکومت کی طرف سے نواز شریف کی حوالگی کی درخواست پر عمل بھی کرے۔

ان کا کہنا ہے ’اس سے پہلے بھی پاکستانی حکومت اسحاق ڈار کے حوالے سے کافی مرتبہ برطانیہ کو لکھ چکی ہے لیکن انھوں نے نہیں مانا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ میاں محمد نواز شریف سزا ملنے کے بعد برطانیہ گئے جبکہ اسحاق ڈار اس سے پہلے ہی وہاں چلے گئے تھے۔ اس لیے پاکستانی قانون کے مطابق یہ صرف برطانیہ کو لکھ سکتے ہیں آگے ان کا باقاعدہ ایک قانوی طریقہ کار ہے جس کے مطابق وہ کام کرتے ہیں۔‘

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک ماہر قانون نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اگر سنگین جرم جیسے دہشتگردی ہو یا کوئی ایسا شخص جس کی وجہ سے لوگوں کو کوئی نقصان پہنچ سکتا ہو، ایسی صورتحال میں ایسا ممکن ہے کہ ثابت ہونے پر برطانوی حکومت کسی بھی شخص کا ویزہ کینسل کر سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت پاکستان کے نمائندگان کی جانب سے جو بات کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ہم برطانوی حکومت کو لکھیں گے کہ وہ میاں محمد نواز شریف کو اپنے ملک سے جلا وطن کریں۔ جبکہ حوالگی کے قانون اور جلاوطن کرنے کے قانون میں یہ بات ایک جیسی ہے کہ جس شخص کے بارے میں درخواست دی گئی ہے کیا اسے سیاسی طور پر ظلم کا نشانہ تو نہیں بنایا جا رہا۔ تو وہ ایسی درخواستوں کو نہیں مانتے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’تاہم نواز شریف کو جب بھی کوئی ایسا نوٹس گیا تو ان کے وکلا انہی دلائل کا استعمال کریں گے کہ انھیں سیاسی مقاصد کے لیے پاکستان بلایا جا رہا ہے جس کی قانون میں بہت اہمیت ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ان کو ایسے واپس لانا بہت مشکل ہے۔‘
 
8:48 AM

کس ملک کے مرد اپنے بناؤ سنگھار پر سب سے زیادہ خرچ کرتے ہیں؟


جنوبی کوریا خوبصورتی اور بناؤ سنگار کے لحاظ سے دنیا کا ایک اہم ترین ملک ہے۔یہاں ہر قسم کے کاسمیٹک برانڈز کا استعمال حد سے زیادہ ہوتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں خواتین کاسمیٹک پراڈکٹس کم تعداد میں استعمال کرتی ہیں البتہ مردوں کی ایک کثیر تعداد میک اپ کرنے اور خود کو خوبصورت بنانے میں مشغول نظر آتی ہے۔

عالمی ریسرچ کمپنی''یورو-مونیٹر'' کے مطابق گزشتہ دس سالوں کے دوران، جنوبی کوریا کے مرد اسکن کئیر پروڈکٹس خریدنے پر سب سے زیادہ رقم خرچ کرتے نظر آئے ہیں۔

گلوبل ڈیٹا کے ایک حالیہ سروے کے مطابق، جنوبی کوریا کے تقریباً تین چوتھائی مرد ہفتے میں کم از کم ایک بار خوبصورتی یا گرومنگ ٹریٹمنٹ لیتے ہیں، جن میں سیلون ٹریٹمنٹ سے لے کر گھریلو ٹریٹمنٹ سب شامل ہیں۔

جس کی وجہ سے گزشتہ دس سالوں میں کورین اسکن پروڈکٹس کی مارکیٹ ویلیو میں 44 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

کوریا کے تقریباً 58 فیصد جوان لڑکے ہفتے میں ایک مرتبہ خود کو مزید خوبصورت اور حسین بنانے کے لئے گرومنگ ٹریٹمنٹ لازمی لیتے ہیں۔

آسٹریلیا کی نیشنل یونیورسٹی میں کورین انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر رالڈ مالیانگے کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کے مرد اپنے ملک کی میوزک انڈسٹری سے متاثر ہیں جہاں خوش شکل لوگوں کی اہمیت یقینی طور پر عام شکل والے مردوں سے زیادہ ہے، اور مجھے حیرت ہے کہ اب کتنے ہی مقامی نوجوان کوریائی مردوں کی شکل اور ڈھنگ کی نقل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ان جیسا دکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اب یہاں بہت زیادہ تعداد میں مرد نئے طرز کے کپڑوں، رنگ برنگے بالوں، چہروں پر ہلکا میک اور مصنوعی گھنی پلکوں میں دکھائی دینے لگے ہیں۔

جنوبی کوریا کے شہر بوسن میں مقیم حقوق نسواں اور مقبول ثقافت میں مہارت رکھنے والے ایک مصنف اور لیکچرار جیمز ٹرن بل کے مطابق کوریا میں مردوں کی خوبصورتی کو بہت اہمیت حاصل ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب بھی کوئی کورین کمپنی مردوں کو نوکریوں کی آفر کرتی ہے تو بھرتی کی درخواستوں کے ساتھ تصویر ضرور مانگتی ہے۔ جس کی بڑی وجہ مردوں پر ملازمت کی مارکیٹ میں سخت مقابلے کا دباؤ بھی ہوسکتا ہے۔ اسی لئے خود کو خوبصورت بنانے کا رجحان یہاں کے مردوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔
 

کوریا کی فیشن بلاگر کیتھرین اسپوارٹ اس بات پر فکر مندی ظاہر کرتی ہیں کہ مقامی مردوں پر خوبصورتی کے حوالے سے سماجی دباؤ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ یہاں مردانہ خوبصورتی کو ایک تصور کے طور پر لیا جاتا ہے اور عام طور پر جنس پسندی کے علاوہ جنسی انتخاب کے بارے میں بات نہیں کی جاتی ہے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ رجحان اب مغرب میں بھی پھیل رہا ہے؟

چند بیوٹی برینڈز مالکان کے مطابق بہت سے مرد اپنی خوبصورتی پر عورتوں کے مقابلے میں زیادہ متوجہ ہیں اور عورتوں سے زیادہ اسکن کئیر پروڈکٹس خریدنے میں دلچسپی لیتے ہیں۔

مغربی مردوں میں بھی کورین مردوں کی طرح اب باریک بھنویں اور مصنوعی گھنی پلکیں چہرے پر سجانے کا شوق بڑھتا جارہا ہے۔ اور آئے روز چہروں کی چمک بڑھانے کے لئے بہت سے فیس ماسک مارکیٹ میں متعارف کروائے جا رہے ہیں جنہیں بڑی تعداد میں مرد حضرات خرید رہے ہیں۔۔۔۔

پیر، 2 مارچ، 2020

5:11 PM

ملازمت سے نکالے جانے کی افواہیں سنیں تو فوراً 7 کام کریں

کاروباری حالات خراب ہونے کی صورت میں دفتر میں اخراجات کو کم کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے جاتے ہیں۔ اور اس کا سب سے آسان طریقہ ملازمین کی تعداد کو کم کرنا سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ سے کمپنی کے ملازم ہر وقت خوف کا شکار رہتے ہیں- اگر آپ کے دفتر میں بھی ایسی صورتحال ہو تو ذہنی دباؤ کا شکار ہونے کے بجائے بتائی گئی ان باتوں کا خیال رکھیں جس کی وجہ سے آپ ایسی صورتحآل سے نکل سکیں۔
 

Keep your resume up to dateایسی صورتحال میں اپنے Resume کو اپ ڈیٹ رکھیں اور آپ کا یہ عمل اس کشیدگی کو آسان بنانے میں آپکی مدد کرے گا - موجودہ کام کو کھونے کے بارے میں فکر کرنے کے بجائے تیار رہیں اور اس کے علاوہ خود کے لیے بہتر سے بہتر مواقع تلاش کرتے رہیں۔

Strengthen your network
کسی بھی جگہ ملازمت کریں وہاں کے ماحول کو سمجھیں اور لوگوں سے اچھے تعلقات قائم کریں تاکہ ان سے آپ کے رابطے مضبوط اور برقرار رہ سکیں- کسی معاشی بحران کی صورتحال میں وہ آپ کے کام آسکیں-
 

Focus on your daily tasks
ایسی صورتحال میں اپنے کام کی طرف توجہ دیں اور اسے جلد از جلد نمٹائیں- بے شک یہ آپ کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ لیکن پھر بھی ایسی صورتحال کے دوران چیزوں کو حاصل کرنے اور اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے یہ بہت اہم ہے کہ اپنے پیشہ ورانہ امور کی جانب خاص توجہ دی جائے۔

Volunteer to do more work
ایسی صورتحال میں ملازم کے اوپر زیادہ کام کی ذمہ داری ڈال دی جاتی ہے اور اگر آپ اس بوجھ کو اٹھانے کے لیے تیار ہوں گے تو یہ آپ بھی کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگا ۔

Boost your income/savingsنوکری کے دوران ہی اضافی آمدنی یا بچت کے طریقے تلاش کر کے کچھ رقم محفوظ کرلیں تاکہ آپ ایسی صورتحال میں کسی ذہنی اور معاشی دباؤ کا شکار نہ ہوں ۔
 

Go through your paperwork
جب بھی کسی ملازمت کو اختیار کریں تو مکمل قانونی کاغذات اور معاہدوں کے ساتھ کریں- اور ان کاغذات پر آپ کے دستخط موجود ہوں اس سے آپ کا ہی فائدہ ہوگا کیونکہ اس سے آپ کو اپنی تمام مراعات کے بارے میں علم ہوگا۔

Get details on your severance package
بہت سی ملازمتوں میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ عام طور پر تنخواہ کے پیکچ کے حوالے سے بڑے تنازعات جنم لے لیتے ہیں۔ اس لیے نوکری سے پہلے تمام تفصیلات کو جانیں اور زیادہ سے زیادہ فوائد کے بارے میں بات چیت کریں۔
5:06 PM

کامیاب اور ناکام لوگوں میں 5 بنیادی باتوں کا فرق

یہ بات آپ سب جانتے ہی ہیں کہ اس دنیا میں کامیابی کا مفہوم ہر فرد کے لئے مختلف ہے ۔ کسی کے لئے خوشحال ہونا کامیابی ہے تو کسی کے مشہور یا اثر و رسوخ والا ہونا کامیابی کی شناخت ہے ۔ مگر مفہوم جو بھی ہو ، کامیابی کو پانے کے لئے خاص طرزِ زندگی اختیار کرنی ہی پڑتی ہے ۔ جہاں کچھ اچھی عادتوں کو اپنانا پڑتا ہے وہیں پر ہی ہمیں کچھ باتوں سے دوری اختیار کرنی پڑتی ہے ۔
 

اس آرٹیکل میں آپ کے سامنے ایسی کی کچھ بنیادی باتوں کا ذکر ہو گا جو کامیابی اور ناکامی کے درمیان واضح فرق ظاہر کرتی ہیں ۔ اگر ہم ان سے رہنمائی حاصل کرتے اپنی عملوں میں تبدیلی لائیں تو مثبت طرزِ زندگی کا حصول قدرے آسان ہو گا ۔ تو آئیے پھر ان خاص باتوں کو جانتے ہیں ۔

1۔ کامیاب لوگ گولز سیٹ کرتے ہیں جبکہ ناکام لوگ بے مقصد وقت گزراتے ہیں ۔
یہ نہیں کہ لوگ کچھ بننے کا خواب نہیں دیکھتے مگر ان میں ان خوابوں کو حقیقت بنانے کے لئے کوئی واضح پلان نہیں ہوتا ۔وہ کسی مقصد کو پانے کے لئے پہلے گولز سیٹ کر کے ان کو مہینوں یا دنوں پر تقسیم کرتے ان پر نظر نہیں رکھتے جبکہ کامیاب لوگ گولز سیٹ کر کے روزانہ پلان کے مطابق اس کو پانے کے قریب تر ہوتے جاتے ہیں۔

2۔ کامیاب لوگ ہر مفید عادت اپنانے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ ناکام لوگ سوچتے ہی رہتے ہیں ۔
لوگوں کو پتا بھی ہوتا ہے کہ فلاں کام کو کرنا یا اس سے رک جانا مفید ہے مگر اس کو کبھی اپنانے کی کوشش نہیں کرتے ۔ اگر کرتے بھی ہیں تو جلد ہی ہمت ہار کر پیچھا چھڑا لیتے ہیں مگر کچھ لوگ کامیاب بننے کے لئے اپنی قوت ِ ارادی کو مضبوط بناتے اچھی عادات کو پختہ کرنے کے لئے جتے رہتے ہیں ۔

3۔ کامیاب لوگ دلی شکر گزار ہوتے ہیں جبکہ ناکام لوگ حسد و منافقت کا جذبہ رکھتے ہیں۔
کچھ فرد ہر مشکل و ناکامی میں بھی اچھے اخلاق و صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ ہر حال میں شکر و عاجزی اپناتے ہیں ۔ وہ دوسروں کو بھی کامیاب بنانے میں مدد کرتے ہیں اور ان کو کامیاب ہوتا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں ۔ مگر ناکام لوگ اس کے برعکس ہوتے ہیں۔ اوپر سے خوش ہونے ہی اداکاری کرتے اندر ہی اندر ان کی جڑیں کاٹنے میں مصروف ہوتے ہیں یا پھر حسد کے مارے جلتے کڑھتے دوسروں پر صرف تنقید کرتے رہتے ہیں ۔
 

4۔ کامیاب لوگ اپنے آپ پر فوکس رکھتے ہیں جبکہ ناکام دوسروں پر انگلی اٹھاتے ہیں ۔
اچھے افراد اپنے آپ کو بہتر بنانے کی تگ و دو میں مصروف رہتے ہیں اور دوسروں کی کمیوں و کوتاہیوں کو نظر انداز کرتے ہیں ۔ مگر ناکام بننے والے لوگ دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ کسی کے بارے میں کوئی منفی بات ہاتھ آ جائے سہی تو پھر اس کو ذلیل کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور اپنی کمزوریوں و غلطیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

5۔ کامیاب لوگ دوسروں ساتھ خیالات و معلومات شیر کرتے ہیں جبکہ ناکام لوگ چھپا چھپا کر رکھتے ہیں ۔
دوسروں کے ساتھ اپنے علم کو بیان کرنا اور نیے نیے آئیڈیاز کو ڈسکس کرنا جہاں کامیاب فرد کی بہترین عادت ہوتی ہے وہیں پر ناکام لوگ اپنے علم و ہنر کو اپنے تک محدود رکھنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ ایسے کرنے سے وہ زندگی میں آگے نکل سکتے ہیں مگر یہ ان کی بھول ہوتی ہے ۔

تو صاحبو بہت ساری فرق والی باتوں میں یہ چند اہم باتیں ہیں جن کو ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے ۔ تاکہ ہم ان باتوں سے دوری اختیار کر سکیں جو ہمیں ناکامی کے سفر اختیار کرنے سے روک لیں ۔ امید ہے کہ آپ کو کوئی مفید رہنمائی دینے کی میری یہ کوشش رائیگاں نہیں جائے گی ۔
4:57 PM

انٹرویو کے دوران ان 5 پانچ غلطیوں سے بچیں

کسی بھی نوکری کو حاصل کرنے کا پہلا مرحلہ انٹرویو کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ آج کل ملازمتیں کم ہیں اور امیدوار زیادہ اور اسی وجہ سے نوکری حاصل کرنے کے لیے انٹرویو لینے والے کے اوپر اپنا اچھا تاثر چھوڑنا لازمی ہوتا ہے۔ آج ہم آپ کو انٹرویو کے دوران ہونے والی ایسی 5 غلطیوں سے بچنے کے طریقے بتائیں گے جس سے آپ کو ملازمت ملنے کی امیدیں بڑھ جائیں گی۔

Appearance
جب آپ انٹرویو کے لیے جاتے ہیں تو سب سے پہلے جو چیز اہم ہوتی وہ آپ کا حلیہ ہوتا ہے۔ اس لیے کسی بھی قسم کی نوکری کے انٹرویو کے لیے جائیں تو آفس ڈریس میں اچھی طرح تیار ہوکر جائیں یہ وہ چیز ہے جو انٹرویو لینے والے پر آپ کا اچھا تاثر ڈالتی ہے ۔

Talking too much
جب آپ کو کسی ملازمت کے انٹرویو کا سامنا ہوتا ہے تو دوران انٹرویو آپ سے سوالات کیے جاتے ہیں اور آپ ان سوالات کا جواب دیتے ہیں۔ جوابات دیتے ہوئے اگر آپ سوال پر غور کریں اور صرف اس بات کا جواب دیں جو سوال آپ سے کیا جارہا ہے تو بہتر ہوگا کیونکہ آپ زیادہ بولیں گے تو غلطی کے امکانات بڑھ جائیں گے ۔ لہٰذا اس بات کا خاص خیال رکھنا آپ کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہونا چاہیے اگر انٹرویو لینے والے کو آپ سے اضافی معلومات لینی ہوگی تو وہ آپ سے خود پوچھ لے گا۔

Being unprepared
جس کمپنی میں آپ کا انٹرویو ہو وہاں انٹرویو پر جانے سے قبل لازمی ہے کہ آپ اس نوکری اور اس کمپنی کے حوالے سے تھوڑی بہت معلومات حاصل کرلیں ۔ کیونکہ آپ کو اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ جس کمپنی میں آپ ملازمت کے لیے انٹرویو دے رہے ہیں وہ کام کیا کرتی ہے اور اس کمپنی کے کام کا طریقہ کار کیا ہے ۔ اگر آپ کو اس بات کا علم ہی نہیں ہوگا اور آپ سے اس حوالے سے سوال کرلیا جائے تو آپ کے پاس جواب نہ ہونا آپ کی سب سے بڑی غلطی میں شمار ہوسکتا ہے ۔

Body language
جب آپ نوکری کے لیے انٹرویو کا سامنا کرتے ہیں تو آپ کا پیشہ ورانہ طریقے سے برتاؤ کرنا ضروری ہے ۔ آپکا جسم پرسکون نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی آپ گھبرائے ہوئے نظر آئیں کوشش کریں کہ دوستانہ رویہ اپنائیں کیونکہ یہ دونوں چیزیں آپ کے انٹرویو میں برا اثر ڈال سکتی ہیں-

Commenting negatively about you past job
سب سے اہم اور آخری بات جس کمپنی میں آپ کا آخری تجربہ رہا ہے اور وہ کچھ خاص اچھا نہیں رہا یا کمپنی یا باس سے آپ کے تعلقات اچھے نہیں رہے ہوں تو انٹرویو کے دوران اس بات کا اظہار کرتے ہونے اپنے تاثرات منفی نہ رکھیں اور ایک خوشگوار تجربات کو پیش کریں تاکہ انٹرویو لینے والے پر اس کا اچھا تاثر پڑے اور اسکی نظر میں بھی آپ کے لیے منفی تاثر جنم نہ لے۔
4:54 PM

ڈیجیٹل میڈیا میں کامیابی کیلئے درکار مہارتیں

ڈیجیٹل میڈیا کے بڑھتے رجحان کے پیش نظر دنیا بھر کے ملکوں خاص طور پر ترقی یافتہ ملکوں میں طالب علموں کی اکثریت ڈیجیٹل میڈیا میں کیریئر بنانے کو ترجیح دے رہی ہے لیکن اس شعبے میں کامیابی کے لیے ذہانت، فطری استعداد، سائنس وٹیکنالوجی، آرٹ اور ڈیزائننگ سے متعلق منفرد مہارتوں کا ہونا ضروری ہے۔ اگر آپ بھی مستقبل میں ڈیجیٹل میڈیا پر کاروبار کرنے یا کسی بھی مد میں اس سے فائدہ حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں تو درج ذیل مہارتوں اور خوبیوں سے مستفید ہونے کی کوشش کریں۔

ڈیزائن پروسیس
ڈیجیٹل میڈیا میں دلچسپی رکھنے والے تمام طالب علموں کے لیے ڈیزائن پروسیس سے متعلق واقفیت بے حد اہم ہے، چاہے وہ پراجیکٹ منیجر ہوں، پروگرامر ہوں یا پھر ڈیزائنر۔ ڈیزائن پروسیس سے مراد وہ تمام امور ہیں، جو کسی بھی پراجیکٹ کو مکمل کرنے کے لیے ڈیزائن کیے جاتے ہیں۔ مثلاً آپ کے لیے یہ جاننا اہم ہے کہ کسی بھی پراجیکٹ کی پائپ لائن میں کون سے اہم معاملات ہیں، جو زیر غور آئیں گے۔ پراجیکٹ کے دوران تیزی سے تبدیل ہوتی پروٹو ٹائپنگ پر آپ کی توجہ ضروری ہے۔ مسابقتی دور میں نت نئے آئیڈیاز کی تخلیق بھی ڈیزائن پروسیس کا اہم حصہ ہے۔ ٹیم کے ساتھ آپ کی قوتِ فہم اور ہمدردی جیسے جذبات کا ہونا بھی بے حد ضروری ہے۔ یہ جذبات کسی بھی ٹیم کو متحد کرنے اور کسی بھی پراجیکٹ کو متاثر کن طریقہ کار کے تحت پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔
 

خود آگہی
ڈیجیٹل میڈیا پراجیکٹ پر کام کرنے کے لیے آپ کو ذاتی اہداف اور اپنی شناخت سے واقفیت ضروری ہے۔ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ کسی بھی پراجیکٹ کے پیچھے آپ کا ہدف کیا ہے، آپ کے لیے نہ صرف اپنی خوبیوں بلکہ کمزوریوں کو جاننا بھی ضروری ہے۔ غیر جانبداری کے ساتھ اپنی کمزوریوں کو پہچان کر درست کرنا کسی بھی پراجیکٹ میں آپ کی ذاتی کامیابی کی ضمانت ہوتا ہے۔

خیالات کی وضاحت کا فن
خیالات و تصورات ہر ذہن میں آتے رہتے ہیں۔ اصل فن ان تصورات کی وضاحت ہے جو آپ کے دماغ میں نمو پارہے ہیں۔ ایک ڈیجیٹل میڈیا لیڈر میں ان خیالات کی مکمل وضاحت پیش کرنےکا فن ہونا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ لب ولہجہ کے فن سے واقفیت بھی ضروری ہے، جس کے تحت آپ اپنی ٹیم، اعلیٰ افسران اور کلائنٹ تک اپنے خیالات پہنچاسکیں۔ ایک اچھے ڈیجیٹل میڈیا لیڈر میں لب و لہجہ کے فن اور بہترین باڈی لینگویج کے ذریعے خیالات و تصورات کو واضح اور مبہم لفظوں میں بیان کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔

ٹائم مینجمنٹ
مشہور فاتح نپولین بونا پارٹ کا خوبصورت مقولہ ہے، ’’میں بھلے کوئی بھی مقابلہ ہار جاؤں، مگر میں کبھی ایک لمحہ نہیں ہاروں گا‘‘۔ ٹائم مینجمنٹ کو کسی بھی کاروبار کی کامیابی کا راز کہا جاتا ہے اور جب بات ہو ڈیجیٹل میڈیا کی تو یہ اہمیت دگنی ہوجاتی ہے۔ کسی بھی پراجیکٹ کی تکمیل کے لیے اہداف مقرر کرنے سے لے کر انھیں پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے دوران وقت کا درست استعمال ہی اصل ہنر ہے۔ اس لیے ڈیزائن پروسیس کے دوران تمام اہداف مقرر کرنا ضروری ہیں اور ہر ہدف کی تکمیل کے لیے ایک وقت مقرر کیا جائے، تاہم مقررہ وقت میں اتنی لچک ضرور ہو کہ وہ کام اس میں پورا کیا جاسکتا ہو۔

معلومات سے آگہی
اس شعبے میں کامیابی کے خواہشمند کسی بھی فرد کے لیے تمام تر ضروری معلومات سے واقف ہونا ضروری ہے، جو ڈیجیٹل میڈیا کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہیں۔ یہ اصلاحات وقوانین آپ کے لیے اس شعبے میں کامیابی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ ان قوانین پر عمل کرنے سے آپ کی آڈیئنس اور قارئین کی تعداد میں ڈرامائی حد تک اضافہ ممکن ہے۔ جن اصولوں اور قوانین کی آگاہی کسی بھی ڈیجیٹل میڈیا سے منسلک لیڈر کے لیے ہونا ضروری ہے،ان میں سننے کا اصول، توجہ کا اصول، معیار کا اصول، وسعت کا اصول، متاثر کرنے کا اصول وغیرہ شامل ہیں۔

ڈیجیٹل میڈیا جہاں مختلف شعبوں کے فروغ کا ذریعہ بنا ہے، وہیں صحافت کی دنیا میں بھی اس نے اپنے قدم جمانے شروع کردیے ہیں۔ پرنٹ میڈیا، ریڈیو اور ٹی وی کے ساتھ اب ڈیجیٹل میڈیا پر صحافت کی انٹری کو عوام نے خوش دلی سے قبول کیا ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں کہیں بھی سیکنڈوں میں خبر پہنچتی ہے، جو محض ایک کلک پرملٹی میڈیا فنکشن کے ساتھ آنکھوں کےسامنے ہوتی ہے۔ علمی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آئندہ وقتوں میں ڈیجیٹل میڈیا میں مزید ترقی اور اصلاحات ہوں گی۔
4:51 PM

یقین کیجیے، آپ بغیر ویزہ بھی ’بھارت‘ جا سکتے ہیں!


حلیل ترکی کے مغرب میں ایک چھوٹے اور ویران ساحل پر پانی کے کنارے کھڑے ہیں۔

ایک جزیرے کی جانب اشارہ کر کے وہ کہتے ہیں کہ ’دیکھو یہ کتنا قریب ہے، مگر اس تک پہنچنا بہت ہی مشکل ہے۔‘

ترکی کے اِس مغربی ساحل سے چند میل دور یونان کا ساموس نامی جزیرہ واضح نظر آ رہا ہے۔

چار برس قبل حلیل جنگ زدہ شام سے ترکی جانے کے لیے بھاگ نکلے تھے۔ وہ گذشتہ چار برسوں سے اپنی اہلیہ، والدہ اور پانچ بچوں کے ہمراہ ترکی میں رہ رہے ہیں۔

گذشتہ ہفتے حلیل نے ایک انسانی سمگلر کو کچھ رقم اس وعدے پر دی کہ وہ ان کو ترکی سے یونان پہنچا دے گا۔

’پچھلے ایک سال سے میرے پاس کوئی روزگار نہیں ہے اور میری معاشی حالت انتہائی نازک ہے۔ اپنے پورے خاندان میں صرف میں نوکری کرنے کے قابل ہوں۔ روزگار کی عدم موجودگی میں اگر میں گھر پڑا رہتا ہوں تو میرے بچے دو وقت کی روٹی کو ترس جائیں گے۔ میرے پاس اور کیا آپشن ہے؟‘

تاہم سمگلر کی مدد سے ان کی ترکی سے یونان بھاگنے کی کوشش ناکام رہی۔

اس کوشش کے دوران ’ہم نے چلانے کی آوازیں سنیں اور ہمیں معلوم ہو گیا کہ ترکی کے سرحدی محافظوں کو ہمارا پتا چل گیا ہے۔ انھوں نے ہم سب کو گرفتار کر لیا، انھوں نے کسی کو بھی بھاگنے نہیں دیا۔‘

سنہ 2015 کے پناہ گزیں بحران کے دوران ترکی نے یورپی یونین کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا۔ ترکی نے اربوں یوروز کے عوض پناہ گزینوں کی یورپ تک رسائی روکنے پر اتفاق کیا تھا۔

ترکی نے لمبے عرصے تک اس معاہدے کی پاسداری کی اور ترکی کے فوجیوں نے یورپ کے ساتھ لگنے والی سرحدوں اور سمندری راستوں کی نگرانی کی۔
 
4:42 PM

پاکستان میں بچوں کی ویکسینیشن

پاکستان میں نو مولود بچوں کی ویکسینیشن ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ویکسینیشن کی اس ابتر صورتحال کے ذمہ دار عوامل درج ذیل ہیں۔
• آگاہی نہ ہونا
• بچوں تک رسائی کے مسائل
• غربت
• ویکسینیشن کے بارے میں غلط نظریات
• مانع حمل ذرائع کے بارے میں معلومات اور رسائی نہ ہونا
لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومت گزشتہ چند سالوں سے ویکسینیشن کی صورتحال کے بارے میں سنجیدہ ہے اور اسے عوام کے دروازے تک پہنچانے میں دلچسپی لے رہی ہے ،اور اس ضمن میں حکومتی سوچ اور نقطہ نظر میں کچھ اہم تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے نو مولود بچوں کے یکسینشن پروگرام کے لئے علیحدہ فنڈ بھی مختص کیے ہیں۔ سنہ 2013 کے اعداد و شمار کے مطابق نو مولود بچوں میں سے 70 فیصد بچوں کو یکشینیشن کی سہولت دستیاب تھی جس میں آنے والے سالوں میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان ویکسین میں پولیو، خسرہ، ٹی بی، خناق، تشنج اور کالی کھانسی کے علاوہ ہیپاٹائٹس بی ویکسینشن بھی اب EPI شیڈول میں شامل ہے۔ جبکہ تازہ ترین شیڈول میں گردن توڑ بخار اور نمو نیا کے خلاف ویکسین بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔ بچوں کے لیے ویکسینیشن کا جدول درج ذیل ہے:-



عمر ویکسین
پیدائش سے 15 دن BCG (Tuberculosis) + OPV (For Polio)
6 ہفتے OPV + DPT1 + HepB1 + Hib 1
10 ہفتے OPV2 + DPT2 + HepB2 + Hib 2
14 ہفتے OPV3 + DPT3 + Hep B3 + Hib 3
9 ماہ Measles Vaccine
15-18 ماہ 1st booster of OPV/DPT + MMR
5-6 سال 2nd booster of DPT
10 سال Tetanus vaccine
16 سال Tetanus vaccine

اہم نکات



• BCG یہ ٹی بی کے لیے دی جاتی ہے اور اس کی مقدار 0.1 ملی لیٹر ہوتی ہے جو کہ جلد میں لگنے والے انجیکشن کے ذریعے دی جاتی ہے۔
• OPV یہ اورل پولیو ویکسین کا مخفف ہے۔ اس کی مقدار مینو فیکچرر کے حساب سے بدلتی رہتی ہے۔
• DPT یہ ڈفتھیریا، پرٹوسس اور ٹیٹنس کا مخفف ہے جس کے معنی اردو میں خناق، کالی کھانسی اور تشنج کے ہیں۔ اس کی مقدار 0.5 ملی لیٹر ہے جو کہ پٹھوں یعنی مسلز میں لگائی جاتی ہے۔
• Hep B یہ ہیپاٹائٹس بی کا مخفف ہے۔
• Measles یعنی خسرہ کی خوراک کی مقدار 0.5 ملی لیٹر ہوتی ہے جو کہ جلد کے نیچے لگائی جاتی ہے۔
• Hib اس سے مراد میننجائٹس یعنی گردن توڑ بخار ہے۔
• MMR اس سے مراد میزلز / خسرہ، ممپس /کن پیڑے اور روبیلا کی ویکسین ہے۔ روبیلا، زرد بخار کا باعث بنتا ہے۔


اوپر دیا گیا شیڈول پاکستان میں نو مولود بچوں کی ویکسین کے لیے بنایا گیا تازہ ترین جدول ہے۔ Hibاور MMR پاکستان کے کچھ علاقوں میں دستیاب نہیں ہیں۔ اس جدول کو EPI (Extended program on immunization) کا نام دیا گیا ہے اور اسے ور لڈ ہیلتھ آرگنائزیشن WHO نے ڈیزائن کیا ہے۔
ویکسین بچوں میں بیماریوں اور اموات کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے پاکستان میں EPI پروگرام 1978 میں شروع کی گیا تھا اور شروع میں چھ بڑی بیماریوں کے خلاف ویکسین شروع کی گئی تھیں۔ ان بیماریوں میں پولیو، ٹی بی، خسرہ، خناق، تشنج اور کالی کھانسی شامل ہیں۔2001 میں ہیپاٹائٹس بی کو بھی اس لسٹ میں شامل کر لیا گیا۔ 2008 میں Hib انفلوئنزا اور 2012 میں نمو نیا کی ویکسین اس لسٹ میں شامل کی گئی۔


یہ تمام ویکسین پاکستان کے تمام علاقوں میں واقع مخصوص ویکسینیشن سنٹروں کے ذریعے پاکستان کے تمام بچوں کے لیے مفت دستیاب ہیں۔ علاوہ ازیں یہ تمام والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ویکسین بر وقت دلوائیں تاکہ وہ ا ن خطرناک اور مہلک بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔ گورنمنٹ اس بات کو دعوی کرتی ہے کہ پاکستان میں 80 فیصد بچوں کو EPI ویکسین مہیا کی جاتی ہیں ، جبکہ آز ادانہ ذرائع سے کیے گئے سروے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ تعداد 50-60 فیصد ہے ۔اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ پاکستان کے 100 فیصد بچوں کو یہ سہولت مہیا کی جائے تاکہ ان کا صحتمند اور تابناک مستقبل یقینی بنایا جا سکے۔
4:39 PM

مونگ پھلی کے مکھن کے ایسے حیرت انگیز فائدے

کیا آپ جانتے ہیں کے مونگ پھلی کا مکھن صرف سینڈوچ میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ اس کے اور بھی کئی فائدے ہیں ۔


شیونگ کریم اگر آپ کی شیونگ کریم ختم ہو گئ ہے تو پریشان نہ ہو بس تھوڑا سا مونگ پھلی کا مکھن لیں اور شیو بنا لیں ۔


فرنیچر کی بھی صفائی کی جا سکتی ہے بس تھوڑا سا مونگ پھلی کا مکھن لیں اور اسے 5 منٹ تک رگڑیں آپ کا پرانا فرنیچر بلکل نیا جیسا ہو جائے گا۔


ببل گم کو ہٹانے کے لیےبچے اور ببل گم جب ساتھ ہوں تو خطرہ تو رہتا ہے ببل گم کے بالوں میں چپکنے کا اگر کبھی ایسا ہو تو تھوڑا سا مونگ پھلی کا مکھن لیں اور کچھ دیر لگا رہنے دیں پھر اسے نرم کپڑے سے صاف کرلیں ۔


اگر آپ کا تیل ختم ہوگیا ہے تو اس کی جگہ مونگ پھلی کا مکھن لیں اور اپنا کھانا تیار کرلیں اور اس سے کھانے کا کافی اچھا ذائقہ آئے گا۔


اگر آپ نے مچھلی بنائی ہے اور گھر میں بو ہوگئی ہے تو 2 چمچ مونگ پھلی کا مکھن لیں اور اسے پکنے دیں تھوڑی دیر میں بو ختم ہوجائے گی۔
12:01 PM

’رات بھر ڈانس کیا، میلہ لوٹ لیا۔‘ گانے کو لاکھوں افراد دیکھ چکے ہیں، علی ظفر کا دعویٰ

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گلوکار علی ظفر نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا گانا میلہ لوٹ لیا یوٹیوب پر 10 لاکھ ویوز آئے ہیں اور یوٹیوب پر گانے کو دس لاکھ سے زائد لوگوں نے دیکھ لیا ہے۔
علی ظفر کا کہنا ہے کہ گانے کا وعدہ کیا تھا جو مداحوں کے لیے پورا کردیا، مجھے اس گانے میں کسی نے اسپانسر نہیں کیا، میلہ لوٹ لیا صرف مداحوں کے لیے بنایا ہے۔
گلوکار کا کہنا تھا کہ میں جو بھی کام کرتا ہوں صرف مداحوں کے لیے کرتا ہوں، میں نے یہ گانا صرف مداحوں کے لیے ہی بنایا ہے۔علی نے اپنی اہلیہ عائشہ کو پروگرام میں سالگرہ کی مبارک باد بھی پیش کی، انہوں نے اہلیہ کو گانا گاکر پروگرام میں سالگرہ کی مبارک باد دی۔
واضح رہے کہ آج علی ظفر نے اپنے وعدے کے مطابق گانا ریلیز کیا جس کے بول ہیں ’رات بھر ڈانس کیا، میلہ لوٹ لیا۔‘ گانے کو مداحوں کی جانب سے خوب پذیرائی مل رہی ہے۔
خیال رہے کہ علی عظمت کی جانب سے الزامات لگانے کے بعد علی ظفر نے مداحوں کے اصرار پر گانا بنانے کا فیصلہ کیا تھا، علی عظمت نےایک ٹی وی پروگرام میں کہا تھا کہ ’تیار ہیں‘ گانے کو ناکام کرنے کے لیے بلاگرز کو استعمال کیا گیا۔