Popunder ads

Breaking

پیر، 2 مارچ، 2020

یقین کیجیے، آپ بغیر ویزہ بھی ’بھارت‘ جا سکتے ہیں!


حلیل ترکی کے مغرب میں ایک چھوٹے اور ویران ساحل پر پانی کے کنارے کھڑے ہیں۔

ایک جزیرے کی جانب اشارہ کر کے وہ کہتے ہیں کہ ’دیکھو یہ کتنا قریب ہے، مگر اس تک پہنچنا بہت ہی مشکل ہے۔‘

ترکی کے اِس مغربی ساحل سے چند میل دور یونان کا ساموس نامی جزیرہ واضح نظر آ رہا ہے۔

چار برس قبل حلیل جنگ زدہ شام سے ترکی جانے کے لیے بھاگ نکلے تھے۔ وہ گذشتہ چار برسوں سے اپنی اہلیہ، والدہ اور پانچ بچوں کے ہمراہ ترکی میں رہ رہے ہیں۔

گذشتہ ہفتے حلیل نے ایک انسانی سمگلر کو کچھ رقم اس وعدے پر دی کہ وہ ان کو ترکی سے یونان پہنچا دے گا۔

’پچھلے ایک سال سے میرے پاس کوئی روزگار نہیں ہے اور میری معاشی حالت انتہائی نازک ہے۔ اپنے پورے خاندان میں صرف میں نوکری کرنے کے قابل ہوں۔ روزگار کی عدم موجودگی میں اگر میں گھر پڑا رہتا ہوں تو میرے بچے دو وقت کی روٹی کو ترس جائیں گے۔ میرے پاس اور کیا آپشن ہے؟‘

تاہم سمگلر کی مدد سے ان کی ترکی سے یونان بھاگنے کی کوشش ناکام رہی۔

اس کوشش کے دوران ’ہم نے چلانے کی آوازیں سنیں اور ہمیں معلوم ہو گیا کہ ترکی کے سرحدی محافظوں کو ہمارا پتا چل گیا ہے۔ انھوں نے ہم سب کو گرفتار کر لیا، انھوں نے کسی کو بھی بھاگنے نہیں دیا۔‘

سنہ 2015 کے پناہ گزیں بحران کے دوران ترکی نے یورپی یونین کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا۔ ترکی نے اربوں یوروز کے عوض پناہ گزینوں کی یورپ تک رسائی روکنے پر اتفاق کیا تھا۔

ترکی نے لمبے عرصے تک اس معاہدے کی پاسداری کی اور ترکی کے فوجیوں نے یورپ کے ساتھ لگنے والی سرحدوں اور سمندری راستوں کی نگرانی کی۔
 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Please do Not enter your any spam link in the comment box.