Popunder ads

Breaking

World لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
World لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 8 مارچ، 2020

9:51 AM

Coronavirus: اٹلی میں 1 کروڑ 60 لاکھ افراد کو لاک ڈاؤن کا سامنا

Getty Images
اٹلی نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ افراد کی آبادی پر مشتمل علاقے کو لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس میں لمبارڈی اور شمالی اور مشرقی اٹلی کے گیارہ صوبے بھی شامل ہیں۔
قرنطینہ کا دورانیہ اپریل کے اوائل تک جاری رہے گا۔
ملک میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں اور جمنیزیم، سوئمنگ پولز، میوزیم اور سکینگ ریزارٹ بند کر دیے جائیں گے۔
اٹلی یورپ میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔
اتوار کو شروع ہونے والے ان اقدامات کی زد میں ملکی اقتصادیات کے اہم مراکز میلان اور سیاحتی مقام وینس بھی آئیں گے۔
اٹلی میں ہلاکتوں کی تعداد 230 سے تجاوز کر گئی ہے۔ حکام کی جانب سے جاری رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 50 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
سنیچر کو سامنے آنے والے اعدادوشمار کے مطابق متاثرہ افراد کی تعداد 1200 سے بڑھ کر 5883 تک پہنچ چکی ہے۔

چین میں قرنطینہ کے لیے مختص ہوٹل منہدم

AFP
یہ ہوٹل 2018 میں کھلا اور اس میں 80 کمرے تھے۔
چین کے شہر کونزو میں شینجیا ہوٹل کی عمارت زمیں بوس ہوگئی ہے۔ اس عمارت کو کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے لیے قرنطینہ کی سہولت کے لیے استعمال کیا جارہا تھا۔
پانچ منزلہ اس عمارت میں کل 70 افراد تھے جن میں سے 40 کو ملبے سے نکال لیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں ایمرجنسی ورکرز کو عمارت کے ملبے میں لوگوں کو تلاش کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس بات کی ابھی تک نشاندہی نہیں ہو سکی کہ یہ عمارت کیوں گری اور ابھی تک کتنے لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔
یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق ساڑھے سات بجے پیش آیا۔ چینی مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ ہوٹل قرنطینہ کے لیے استعمال کیا جارہا تھا اور ان میں وہ افراد موجود تھے جن کا کورونا وائرس لاحق ہونے والے افراد کے ساتھ قریبی تعلق رہ چکا تھا۔
یہ ہوٹل 2018 میں کھلا اور اس میں 80 کمرے تھے۔
EPA
چینی مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ ہوٹل کرنتھینا کے لیے استعمال کیا جارہا تھا
یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق شام سات بجکر 30 منٹ پر پیش آیا۔
یہ ہوٹل سنہ 2018 میں کھلا تھا اور اس میں 80 گیسٹ روم ہیں۔
چین کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ اس عمارت کو کورونا وائرس کے مریضوں سے رابطے میں رہنے والے افراد کی مانیٹرنگ کی غرض سے قرنطینہ کی سہولت کے لیے استعمال کیا جارہا تھا۔
بیجنگ نیوز سے بات کرتے ہوئے ایک عورت نے کہا کہ ان کے رشتہ دار جن میں ان کی بہن بھی شامل تھیں، اس عمارت میں قائم قرنطینہ میں موجود تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ خود بھی ایک دوسرے ہوٹل میں جو قرنطینہ کے لیے استعمال ہو رہا ہے، میں موجود ہیں۔
Twitter/ Global Times
جمعے کے روز چینی ریاست فوجیان کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں کورونا وائرس کے 296 کیسز ہیں جبکہ دس ہزار سے زائد لوگوں کو نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
صحت کے عالمی ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً ایک لاکھ لوگوں کو وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، زیادہ تر ہلاکتیں چینی صوبے ہوبائی میں ہوئی ہیں جہاں سے اس وائرس کی شروعات ہوئی۔

دنیا بھر میں کورونا وائرس کی صورتحال

پوپ فرانسس کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر اتوار کے روز کی دعا ِ خصوصی اینجلس پریئر، اجتماع کے بجائے انٹرنیٹ پر لائیو سٹریم کے دوران کریں گے۔
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ساحل کے نزدیک روکے گئے بحری جہاز میں موجوں لوگوں میں سے اکیس میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
صحت کے عالمی ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً ایک لاکھ لوگوں کو وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
15 امریکی شہریوں کو بیتلیہم میں قرنطینہ میں ڈال دیا گیا ہے۔
سنیچر کو شائع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق چین کی درآمدات کو وائرس سے شدید نقصان ہوا ہے۔
سلوواکیا، پیرو اور ٹوگو میں کورونا وائرس کے پہلے کیسز سامنے آئے ہیں۔
برطانیہ میں ایک 80 برس کے شخص کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے دوسرے فرد بن گئے ہیں۔
فرانس نے کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے بعد ملک بھر میں سکول بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کینیڈا نے پہلے ایسے کیس کی تصدیق کردی ہے جس میں تشخیص شدہ شخص ملک سے باہر نہیں گیا اور ایسے کیس شخص سے رابطے میں نہیں تھا جسے کورونا وائرس ہو۔
مالٹا میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کی دھمکی کے بعد ایک بحری بیڑے کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔

9:50 AM

کورونا وائرس،متحدہ عرب امارات میں سکول ایک ماہ کے لیے بند

دبئی: کورونا وائرس کے خدشے کے پیش ِ نظر متحدہ عرب امارات نے اتوار سے سکول ایک ماہ کے لیے بند کرنے کا اعلان کردیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق چین سے پھیلنے والا کورونا وائرس اب متحدہ عرب امارات میں بھی اپنے پنجے گاڑنے لگا ہے ۔متحدہ عرب امارات میں کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 30 سے بڑھ کر 45 ہوگئی ہے ۔ کویت میں کورونا وائرس کے  3نئے مریض جبکہ  قطر میں 12 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں ۔
9:48 AM

اپنے سٹاف کی تنخواہ 70 ہزار ڈالر کرنے والا امریکی باس


GRAVITY
ڈین پرائس
سنہ 2015 میں امریکی شہر سیئٹل میں واقع ایک کارڈ پیمنٹ کمپنی کے باس نے اپنے 120 افراد پر مشتمل سٹاف کی کم سے کم تنخواہ 70 ہزار امریکی ڈالر سالانہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اس میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ انھوں نے ایسا اپنی تنخواہ میں سے ایک ملین ڈالر کاٹ کر کیا۔
پانچ سال بعد بھی وہ اپنے فیصلے پر برقرار ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کا یہ جوا کامیاب رہا۔
کمپنی کے مالک ڈین پرائس اپنی دوست ویلیری کے ساتھ سیئٹل کے قریب پہاڑوں میں ہائیکنگ کر رہے تھے جب ان کے سامنے ایک پریشان کُن انکشاف ہوا۔
چہل قدمی کے دوران ویلیری نے ڈین کو بتایا کہ ان کی زندگی بہت مشکلات کا شکار تھی۔ ان کے مالک مکان نے کرایہ 200 ڈالر تک بڑھا دیا تھا اور وہ بمشکل بل ادا کر پا رہی تھیں۔
یہ سن کر ڈین کو غصہ آیا۔ ایک زمانے میں ویلیری ڈین کی گرل فرینڈ تھیں۔ ویلری نے 11 سال فوج میں گزارے اور دو مرتبہ عراق گئیں۔
ہفتے میں 50 گھنٹے کام کر کے اور دو نوکریاں کرنے کے باوجود ان کا گزارہ مشکل سے ہو رہا تھا۔
ڈین کہتے ہیں ’وہ ایک ایسی خاتون ہیں جو خدمت، وقار اور سخت محنت جیسے الفاظ کی مجسم تصویر ہیں۔‘
حالانکہ ویلیری سالانہ 40 ہزار ڈالر کما رہی تھیں لیکن سیئٹل جیسے شہر میں تھوڑے بہتر گھر کے لیے یہ تنخواہ بہت کم تھی۔
ڈین کو غصہ آیا کہ دنیا کس قدر عدم مساوات کی جگہ بن چکی ہے اور پھر انھیں احساس ہوا کے وہ بھی اسی مسئلے کا ایک حصہ ہیں۔
GRAVITY
ڈین پرائس اور ان کی والدہ
31 برس کی عمر میں ڈین پرائس ایک لکھ پتی تھے۔ ان کی کمپنی ’گریویٹی پیمنٹس‘ جسے انھوں نے اپنے لڑکپن میں بنایا تھا، کے 2000 سے زائد کسٹمرز تھے۔
وہ سالانہ 11 لاکھ ڈالر کما رہے تھے لیکن ویلیری کے ساتھ بات چیت نے انھیں سوچ میں ڈال دیا۔ انھوں نے تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا۔
مسیحی گھرانے میں پرورش پانے والے ڈین پرائس کی شخصیت نہ صرف مثبت اور حوصلہ افزائی کرنے والی تھی بلکہ وہ دوسروں کی تعریف کرنے میں فراخ دل اور مکمل طور پر شائستہ مزاج تھے۔ وہ امریکہ میں عدم مساوات کے خلاف مہم جو بن گئے۔
وہ کہتے ہیں ’لوگ بھوک کا شکار ہیں، انھیں بھلا دیا گیا ہے یا ان کا استحصال ہو رہا ہے تاکہ نیویارک کے کسی ٹاور کے اوپر کوئی گھر بنا سکے، جس میں سونے کی کرسیاں ہوں۔‘
’ہماری تہذیب میں ہم لوگ بحثیت ایک معاشرہ لالچ کو عظمت دیتے رہتے ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ فوربز کی فہرست اس کی بدترین مثال ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سنہ 1995 سے پہلے امریکہ کی نصف غریب آبادی قومی دولت کا بڑا حصہ کماتی تھی ان امیروں کی نسبت جو صرف ایک فیصد تھے لیکن پھر پانسہ پلٹا اور ایک فیصد امیر لوگ 50 فیصد غریب آبادی سے زیادہ کمانے لگے اور یہ فاصلہ بڑھتا رہا۔
سنہ 1965 میں کمپنیوں کے سربراہ ایک عام ملازم سے 20 گنا زیادہ کما رہے تھے لیکن سنہ 2015 تک یہ فرق بڑھ کر 300 گنا ہو گیا۔
ویلیری کے ساتھ پہاڑ چڑھتے ہوئے انھیں ایک خیال آیا۔ انھوں نے نوبیل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات ڈینیئل کاہنمین اور انگس ڈیٹن کا ایک مضمون پڑھا تھا جس میں جائزہ لیا گیا تھا کہ امریکیوں کو خوشحال رہنے کے لیے کتنے پیسے درکار ہوتے ہیں۔
انھوں نے ویلیری سے اسی وقت وعدہ کیا کہ وہ اپنی کمپنی گریویٹی میں کم سے کم اجرت میں نمایاں اضافے کریں گے۔
غور و فکر کے بعد وہ 70 ہزار ڈالر کے نمبر تک پہنچے۔ انھیں احساس ہوا کہ انھیں نہ صرف اپنی تنخواہ کم کرنی چاہیے بلکہ اپنے دو گھر گروی رکھنے پڑیں گے اور اپنے حصص اور بچت بھی چھوڑنا ہو گی۔
GRAVITY
انھوں نے اپنے عملے کو جمع کر کے یہ خبر دی۔ انھیں توقع تھی کہ وہاں جشن کا سماں ہو گا لیکن پرائس ڈین بتاتے ہیں کہ انھوں نے جب یہ اعلان کیا تو ایسا نہیں ہوا اور انھیں اپنی بات کو دہرانا پڑا۔
پانچ سال بعد ڈین ہنستے ہوئے بتاتے ہیں کہ انھوں نے پرنسٹن کے پروفیسروں کی تحقیق کا اہم جز نہیں دیکھا تھا۔ جس کے مطابق لوگوں کو خوش رہنے کے لیے 75 ہزار ڈالر درکار تھے۔
اب بھی کمپنی کے ایک تہائی ارکان کی تنخواہیں فوری طور پر دگنی ہونا تھیں۔ تب سے ’گریویٹی‘ بدل گئی۔
عملے کی تعداد دگنی ہوئی اور کمپنی کے توسط سے ہونے والی ادائیگیاں سالانہ 3.8 ارب ڈالر سے بڑھ کر 10.2 ارب ڈالر ہو گئیں۔
لیکن کچھ دیگر پیمائشیں بھی ہیں جن پر پرائس کو فخر ہے۔
ان کا کہنا تھا ’عملے کی تنخواہ کم سے کم 70 ہزار ڈالر کیے جانے سے قبل ہمارے ٹیم کے لوگوں کے ہاں ہر سال اوسطاً دو بچے پیدا ہوتے تھے۔
’جب سے یہ اعلان کیا گیا ہے چار سال کے عرصے میں ہمارے عملے کے ہاں 40 بچے پیدا ہوئے ہیں۔‘
کمپنی کے 10 فیصد سے زائد اراکین ایسے علاقے میں اپنا گھر خریدنے کے قابل ہو گئے جو امریکہ میں کرائے پر رہنے والوں کے لیے مہنگی ترین جگہوں میں شامل ہوتا ہے۔ اس سے پہلے یہ تعداد ایک فیصد سے بھی کم تھی۔
خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ لوگوں کو جو فائدہ ہو گا وہ فضول خرچی میں چلا جائے گا لیکن جو ہوا وہ اس کے برعکس تھا۔ لوگوں نے اپنے پنشن فنڈ میں پیسہ ڈالا اور 70 فیصد کے قریب ملازمین نے کہا کہ انھوں نے اپنے قرضے ادا کر دیے ہیں۔
یہ ایسے وقت میں ہوا جب سیئٹل میں کم سے کم اجرت 15 ڈالر فی گھنٹہ مقرر کرنے کی بحث چل رہی تھی۔ چھوٹے بزنس والے لوگ اس کی مخالفت کر رہے تھے کہ اس اضافی مالی بوجھ سے ان کا کاروبار بند ہو جائے گا۔ پرائس کو ’کمیونسٹ‘ ہونے کا طعنہ بھی دیا گیا۔
’گریویٹی‘ کے دو سینیئر اہلکاروں نے احتجاجاً استعفیٰ بھی دے دیا۔ وہ جونیئر عملے کی راتوں رات تنخواہیں بڑھنے پر خوش نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے یہ لوگ کاہل ہو جائیں گے اور کمپنی کا بچنا مشکل ہو گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ مالی پریشانیوں سے آزاد ہو کر لوگوں نے زیادہ توجہ سے کام کرنا شروع کر دیا۔
سینیئر سٹاف پر سے دباؤ کم ہوا اور لوگ زیادہ اچھی طرح اپنی چھٹیوں کا فائدہ اٹھانے لگے۔
پرائس نے بتایا کہ ان کے عملے کے ایک رکن ہر روز 90 منٹ گاڑی چلا کر دفتر آتے تھے اور ہر وقت اس فکر میں رہتے تھے کہ اگر ان گاڑی کا ٹائر پھٹ گیا تو اس پر کتنا خرچ آئے گا لیکن جب سے ان کی تنخواہ بڑھی ہے انھوں نے دفتر کے قریب گھر لے لیا ہے۔ ان کے پاس اپنے لیے زیادہ وقت ہوتا ہے اور وہ ورزش کے لیے وقت نکال رہے ہیں اور ان کی صحت بھی بہتر ہو گئی ہے۔
اسی طرح کچھ لوگوں نے اپنے والدین کے قرضے بھی اتار دیے اور اپنے خاندان کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے لگے ہیں۔
پرائس کا خیال ہے کہ ’گریویٹی‘ کے زیادہ منافع کمانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے سٹاف میں کام کا جذبہ پہلے بھی تھا لیکن وہ زیادہ توجہ نہیں دے پا رہے تھے۔ ان کے مطابق اب وہ پیسے کے لیے کام پر نہیں آتے بلکہ اچھا کام کرنے کے لیے کام پر آتے ہیں۔
کمپنی کے ایک سینیر اہلکار نے کہا کہ ملک میں سنہ 2008 کے مالی بحران کے دنوں میں زیادہ زور پیسے بچانے پر تھا اور اس وقت روایتی سوچ کے مطابق انھیں 35 میں سے کم سے کم 12 لوگوں کو فارغ کر دینا چاہیے تھا لیکن پرائس نے خرچہ کم کرنے پر توجہ دی۔
YOUTUBE
اسی طرح کچھ لوگوں نے اپنے والدین کے قرضے بھی اتار دیے اور اپنے خاندان کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے لگے ہیں
چند مہینوں میں کمپنی پھر سے منافح کمانے لگی لیکن لوگوں کی تنخواہیں پھر بھی کم سطح پر رکھی گئیں۔ اسی دوران کمپنی کی ملازم روزیٹا بارلو نے مالی مشکلات کی وجہ سے خفیہ طور پر شام کو میکڈونلڈز میں کام کرنا شروع کر دیا جہاں انھیں کچھ عرصے بعد ترقی کی آفر دی گئی۔
جب یہ بات ان کی کمپنی کو پتہ چلی تو پرائس نے ان کو ملاقات کے لیے بلایا۔ بارلو نے یہ سمجھتے ہوئے کہ انھیں نوکری سے نکال دیا جائے گا، رونا شروع کر دیا۔
لیکن ان سے پوچھا گیا کہ انھیں تنخواہ میں کتنا اضافہ چاہیے جس سے سے وہ کمپنی میں رک جائیں گی اور ان کی تنخواہ 40 ہزار ڈالر بڑھ گئی۔
پرائس کو سٹاف کی مشکلات سمجھنے میں مزید کچھ سال لگ گئے۔ سنہ 2015 تک انھوں نے سالانہ تنخواہوں میں 20 فیصد اضافہ دینا شروع کر دیا تھا۔ پھر پرائس کی ویلری سے بات چیت ہوئی جس کے بعد انھوں نے مزید اقدامات کیے۔
پرائس کا خیال تھا کہ ان کی دیکھا دیکھی امریکہ میں دیگر کاروبار بھی ملازمین کی فلاح کے لیے ایسے اقدامات کریں گے لیکن زیادہ بڑے پیمانے پر ایسا نہیں ہوا۔ ان کا خیال ہے کہ ایمازون میں کم سے کم اجرت بڑھنے میں بھی ان کا ہاتھ ہے۔
اپنی تنخواہ کم کرنے سے پہلے پرائس ایک عام سفید فام امیر آدمی تھے۔ وہ ایک مہنگے گھر میں رہتے تھے اور مہنگے ہوٹلوں میں جانا اور مہنگی شراب پینا ان کے شوق میں شامل تھا۔
لیکن پھر انھوں نے اپنے گزارے کے لیے اپنے گھر کا ’ایئر بی این بی‘ پر اشتہار دے دیا۔ ان کی کمپنی کے ملازمین نے پیسے ملا کر ان کی پرانی گاڑی کی جگہ انھیں نئی ٹیسلا کار لے کر دی۔
یوٹیوب پر اس لمحے کی ویڈیو موجود ہے جب انھیں نئی کار کا سرپرائز دیا گیا۔ پرائس فرط جذبات سے رو رہے تھے۔
پانچ سال بعد بھی پرائس اسی کم تنخواہ پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت وہ اتنے مطمئن ہیں جتنے وہ اس وقت بھی نہیں تھے جب ان کی آمدن کئی ملین تھی۔ تاہم یہ سب اتنا آسان بھی نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہر روز ایک امتحان جیسا ہوتا ہے۔
’میری اور مارک زکربرگ کی ایک ہی عمر ہے اور میں منفی سوچ کے لمحات سے گزرتا ہوں جب مجھے خیال آتا ہے کہ مجھے بھی مارک زکربرگ جتنا امیر ہونا چاہیے۔‘
’میرے اندر بھی امیر لوگوں کی فہرست میں اپنا نام دیکھنے کی خواہش جنم لیتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ سب کچھ ترک کر دینا اتنا آسان نہیں لیکن ’اب میری زندگی بہت بہتر ہے۔ ‘
9:43 AM

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج خواتین کا دن منایا جا رہا ہے

اسلام آباد (92 نیوز) پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج خاتون کا دن منایا جا رہا ہے۔ پاکستانی خواتین ہر شعبہ زندگی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ اقوام متحدہ امن مشنز میں بھی کئی سالوں سے پاکستانی خواتین کا کلیدی کردار رہا۔۔ دنیا بھر میں پاکستان خواتین انگیج منٹ ٹیمز تعینات کرنے والا پہلا ملک ہے ۔۔آج بھی 78پاکستانی خواتین امن کا ہروال دستہ ہیں۔
پاکستان کا اقوام متحدہ چھتری تلے امن کا سفر1960ء سے جاری ہے۔ 28 ممالک کیلئے 46 امن مشنز میں مادروطن کے سرفروش سپوتوں نے 157 جانیں نچھاور کیں توبہادر بیٹیاں بھی پیچھے نہ رہیں۔ امن خدمات میں پیش پیش پاکستانی خواتین، دنیا میں پہلی انگیج منٹ ٹیمزکا حصہ بنیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئتیرس بھی معترف ہیں۔
اقوام متحدہ امن مشن کے تحت 19 جون 2019 ء کو کانگو میں خواتین افسران پر مشتمل پہلی ٹیم تعینات کی گئی، اس وقت دوخواتین ٹیمیں متعین ہیں جبکہ تیسری ٹیم وسطی افریقی جمہوریہ میں رواں سال 20 مارچ سے کام شروع کرےگی۔ تاحال امن مشنز میں 78 پاکستانی پیس کیپرز خواتین کلیدی خدمات انجام دے رہی ہیں جبکہ مجموعی طور پر 450 خواتین افسران امن خدمات سرانجا م دے چکیں۔
کانگو میں پاکستانی خواتین امن فوجیوں کا 15 رکنی دستہ بہترین کارکردگی پرتمغے حاصل کر چکا۔ اس ٹیم میں ماہر نفسیات، ڈاکٹرز، نرسز، انفارمیشن آفیسر، لاجسٹک آفیسر سمیت دیگر افسران شامل ہیں۔ خواتین نے انتہائی لگن اور انتھک محنت سے پیشہ وارانہ کارکردگی کی بنیاد پردنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا۔
2019 کانگو مشن میں بہترین خدمات پر میجر سمیعہ کواقوام متحدہ سیکرٹری جنرل سند، ڈینکون مارچ میں 5 گھنٹے میں 25 کلومیٹر فاصلہ طے کرنے والی واحد خاتون آفیسر کا اعزاز میجر عروج عارف اوراقوام متحدہ تربیتی ٹیم کا دو سال کیلئے حصہ بننے کا اعزاز میجر سعدیہ کو حاصل ہوا جبکہ پاکستانی خواتین آج بھی امن کیلئے خدمات کی فراہمی کیلئے پرعزم ہیں۔
عالمی سطح پر پاکستانی خواتین نے امن ،استحکام اورسماجی بہبود کیلئے کلیدی کردارادا کرکے پاکستان کیلئے نیک نامی کا موجب بنیں۔ اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل نے گزشتہ دورہ میں کہا تھا پاکستان دنیا بھر میں امن مشنز میں شامل، امن کا مستقل مزاج، قابل بھروسہ حصہ دار ہے۔
9:41 AM

گوگل کا خواتین کے عالمی دن پر زبردست خراج تحسین، ڈوڈل تبدیل کردیا

کیلیفورنیا (92 نیوز) خواتین کے عالمی دن کے موقع پر سرچ انجن گوگل نے زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔، گوگل نے اپنا ڈوڈل تبدیل کردیا۔
سرچ انجن گوگل کی ویڈیو میں مردوں کے شانہ بشانہ دنیا کا مقابلہ کرنے والی خواتین نمایاں ہیں۔

جمعہ، 6 مارچ، 2020

2:01 PM

مسجد الحرام کے مطاف کی وائرل ویڈیوز پر سعودی عرب کی وضاحت سامنے آگئی

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر آج جمعرات کے روز ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں کعبۃ اللہ کے ارد گرد کا حصہ (مطاف) بالکل خالی نظر آرہا تھا اور وہاں پر چند ملازمین ہی موجود تھے۔
حکومت کی جانب سے جاری ہونے والی وضاحت میں کہا گیا ہے کہ جمعرات کی صبح مطاف کو صفائی اور حفاظتی تدابیر کی وجہ سے خالی کرایا گیا، محکمہ صحت کے عملے نے کعبۃ اللہ کے صحت میں کرونا وائرس کے درپیش خطرات کے یپش نظر صفائی اور جراثیم کش اسپرے کیا۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے روزانہ جراثیم کش اسپرے کیا جائے گا جس کے دوران حرمین نماز عشاء سے فجر کی نماز تک بند رہیں گے۔
سعودی گیزیٹ کی رپورٹ کے مطابق مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ میں نماز عشاء کے بعد سے فجر کی نماز سے پہلے تک جراثیم کش اسپرے کیا جائے گا، اس دوران متعلقہ عملے کے علاوہ کسی بھی فرد کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق انتظامیہ نے مسجد الحرام کے اندر نمازیوں کو بقیہ اوقات میں نماز ادا کرنے کی اجازت بھی دے دی جبکہ عمرہ ادائیگی پر پابندی کی وجہ سے مطاف اور صفا مروہ کو بند رکھا جائے گا۔
انتظامیہ کی جانب سے کعبۃ اللہ کے صحن (مطاف) کو مکمل خالی کرانے کی ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شیئر کی گئیں جس میں مسجد الحرام کی صفائی پر مامور عملے کے علاوہ محکمہ صحت کے اہل کار بھی موجود تھے جو مطاف میں جراثیم کش اسپرے کررہے تھے۔
یاد رہے کہ حج اور عمرہ کرنے والے تمام زائرین کو کعبۃ اللہ کے گرد سات چکر لگانے کا حکم ہے، یہ عمل طوار کہلاتا ہے۔ حج اور عمرے کے علاوہ بھی عبادت کی نیّت سے عام عبادت گزار کسی بھی وقت کعبۃ اللہ کا طواف کرسکتے ہیں۔
#VIDEO: The circling area around Holy Kaaba at the Holy Mosque in #Makkah was emptied of people temporarily in order to clean and sterilize it, due to #Coronavirus fears and to insure the safety of pilgrims. pic.twitter.com/8CivSYbS29
— Saudi Gazette (@Saudi_Gazette) March 5, 2020 
1:59 PM

دنیا کے 90 فیصد لوگ عورت مخالف ہیں: یو این ڈی پی

اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی نے کہاہے کہ دنیا میں نوے فیصد لوگ خواتین کے خلاف تعصب رکھتے ہیں اور پچاس فیصد کے خیال میں عورتوں کی نسبت مرد بہتر لیڈر ثابت ہوتے ہیں۔میڈیارپورٹس میں بتایاگیاکہ ادارے کے ایک تازہ مطالعے کے مطابق تقریباً تیس فیصد لوگ آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ شوہر کی طرف سے بیوی کی مار کٹائی جائز ہے۔ یو این ڈی پی نے یہ اعداد و شمار دنیا کے 75 ممالک سے اکھٹے کیے ہیں۔ صنفی مساوات میں جو ممالک سب سے زیادہ پیچھے رہ گئے ہیں ان میں اردن، قطر نائیجیریا، زمبابوے اور پاکستان شامل ہیں۔

1:58 PM

جنگلی جانور کھانے پر پابندی عائد، کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے چین کا بڑا فیصلہ

چینی حکام نے جنگلی جانوروں کو پالنے اور فروخت کرنے پر بھی پابندی لگا دی، ماہرین نے حکام کے فیصلے کو احسن اقدام قرار دے دیا۔
حکام نے چمگادڑیں ،سانپ اور دیگر جنگلی جانور کھانے پر پابندی عائد کر دی۔ماہرین صحت نے پہلے بھی خبردار کیا تھا کہ جنگلی جانورکو خوراک کا حصہ بنانے سے مہلک وائرس کو پھیلنے میں مدد مل رہی ہے۔مگر اہل چین بھی کیا کرتے زبان کا چسکا چھوڑے نہیں چھٹتا۔ 
چینی حکام نے جنگلی حیات کو فارمز میں بھی پالنے پر پابندی عائد کی ہے اور ان جانوروں کی مارکیٹ میں فروخت بھی ممنوع ہو گی۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ دو ہزار دو میں سارس وائرس بھی سانپوں کی وجہ پھیلا تھا۔ اب کورونا وائرس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ جنگلی حیات خاص طور پر چمگاڈروں کی وجہ پھیلا ہے۔
1:56 PM

کورونا وائرس کا انسان سے جانور میں منتقلی کاپہلاکیس

فوٹو : اے ایف پی
کورونا وائرس کی انسان سے جانور میں منتقلی کا پہلا کیس رپورٹ ہوگیا، محکمہ صحت کے مطابق ہانگ کانگ میں مہلک مرض سے متاثرہ شخص کے پالتو کتے کا ٹیسٹ بھی پازیٹو آگیا۔
ہانگ کانگ کے طبی ماہرين نے لوگوں کو خبردار کيا ہے کہ کورونا وائرس کے مريض انسانوں کے ساتھ ساتھ پالتو جانوروں سے بھی دور رہيں۔
دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہلاک افراد کی تعداد 3 ہزار 300 سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ متاثرہ مریضوں کی تعداد 96 ہزار سے بھی زیادہ ہے، 53 ہزار مریض صحتیاب ہوچکے ہیں۔
ہانگ کانگ کے محکمہ صحت نے تصدیق کی ہے کہ کورونا وائرس کے ايک مريض کے پالتو کتے ميں ہلکے درجے کا انفيکشن پايا گيا ہے۔
چین سے شروع ہونیوالے مہلک مرض سے ایران، اٹلی، پاکستان، جاپان، جنوبی کوریا، امریکا، برطانیہ، فرانس سمیت دنیا کے 60 کے قریب ممالک میں پھیل چکا ہے۔
12:53 PM

کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلاﺅ کو روکنے کےلئے عمرہ اور مسجد نبوی میں اجتماعات پر عارضی پابندی عائد کی گئی ہے، ترجمان سعودی وزارت خارجہ

ریاض۔ 5 مارچ (اے پی پی)سعودی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلاﺅ کو روکنے کے لئے عمرہ اور مسجد نبوی میں اجتماعات پر عارضی پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ حرمین الشریفین میں پانچ وقت کی نمازوں کی ادائیگی باقاعدگی سے جاری ہے۔ ترجمان سعودی وزارت خارجہ کے مطابق کرونا وائرس کے باعث عمرہ کی ادائیگی کا عمل عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ عمرہ کی ادائیگی کا عمل عارضی طور پر معطل کرنے کا مقصد کرونا وائرس کے ممکنہ پھیلاﺅ کو روکنا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ حرم کے ساتھ ساتھ مسجد نبوی میں زائرین کے اجتماع پر عارضی پابندی عائد کی گئی ہے تاہم حرمین الشریفین میں پانچ وقت کی نمازوں کی ادائیگی باقاعدگی سے جاری ہے۔

بدھ، 4 مارچ، 2020

5:04 PM

کورونا وائرس نے برطانیہ میں پنجے گاڑنا شروع کردیئے، کاروباری سرگرمیوں کو شدید خطرہ

سچ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق برطانوی حکام نے خبر دار کیا ہے کہ وائرس کے حملوں میں تیزی کی صورت میں ہر پانچواں شخص بیماراپڑاسکتا ہے اور ہلاکتیں بھی متوقع ہیں۔
صورتحا ل بدترین ہوئی تو چھوٹے بڑے کاروبار سے منسلک چھ ملین افراد ایک ساتھ رخصت پر چلے جائیں گے جس کے باعث کاروبار کو شدید نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق حکومت نے کمپنیوں سے کہا ہے کہ ملازمین کو گھروں پر رہ کر کام کرنے کی ہدایت کی جائے۔
ورکرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ کام کے دوران چہرہ کو مکمل ڈھانپ کررکھیں، حالات و واقعات کے مطابق ہر شخص شدید دباؤ اور بیماری سے لڑنے کے لیے تیار رہے اور زمہ دارانہ رویہ اپنائے۔ حکام کی جانب سے اسکولوں کو تین ماہ کے لیے بند کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
5:02 PM

افغانستان : طالبان کاحملہ، 16 افغان فوجی ہلاک

افغان طالبان کےافغان فوج پر حملے میں 16 فوجی اہلکار ہلاک  جبکہ 10 کو یرغمال بنالیا گیا ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق طالبان نے صوبہ قندوز کے ضلع امام صاحب میں فورسز پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 16 فوجی ہلاک ہوگئے۔
افغان فورسز کی جانب سے بھی طالبان کے حملے میں فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق طالبان نے 10 بارڈر سیکیورٹی آفیسرز کو یرغمال بھی بنالیا ہے۔
 افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے افغان حکومت پر حملوں کے دوبارہ آغاز کرنے کے اعلان کے بعد سے ملک بھر میں حملوں میں اضافہ ہواہے  ۔
 خیال رہےکہ طالبان قیادت کی جانب سےمقامی کمانڈرزاورمیڈیا کوایک خط جاری کیا گیاتھا جس میں افغان فوجیوں پرحملےجاری رکھنے کا عندیہ دیتےہوئےکہاگیاتھاکہ اب غیرملکی فوجی ان کے نشانے پرنہیں ہوں گے۔
خط پرترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کے دستخط بھی موجودتھےجبکہ اس سے قبل ہی صوبے قندھارمیں پانچ افغان چیک پوسٹوں پر حملے کیے گئےہیں اور بدغیس میں بھی جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ ایک روزقبل  خوست میں فٹبال گراؤنڈ میں ہونے والے دھماکے میں 3 شہری ہلاک اور 11 زخمی ہوگئے تھے۔
واضح رہے کہ دوحہ میں امریکا اور افغان طالبان کے دوران ہونے والے امن معاہدے میں 5 ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی بھی طے پائی تھی تاہم افغان صدر نے اس شق کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ قیدیوں کی رہائی امریکا کی نہیں بلکہ کابل حکومت کی صوابدید ہے۔ جس پرطالبان نے قیدیوں کو رہا نہ کرنے کی صورت میں انٹرا افغان مذاکرات میں شرکت سے انکارکردیا تھا۔
5:01 PM

کروناوائرس:عالمی بینک کا12ارب ڈالرکےامدادی پیکج کااعلان

عالمی بینک نےکروناوائرس سےنمٹنےکے لیے ہنگامی بنیادوں پر 12 ارب ڈالرکےامدادی پیکج کااعلان کیا ہے۔
فرانسیسی خبررساں ادارےکےمطابق عالمی بینک کےصدرڈیوڈ ملپاس نے پریس  کانفرنس کےدوران کہناتھا کہ ’ہمارا مقصد برق رفتار اور موثر حکمت عملی اپنانا ہے جس کی اشد ضرورت ہے۔
  خبررساں ادارے کےمطابق عالمی  بینک کےصدرڈیوڈ ملپاس کاکہناہےکہ اس رقم میں آٹھ ارب ڈالرنئےہیں جوان ممالک کو دیے جائیں گے جو مدد کی درخواست کریں گے۔
  عالمی بینک کےصدرکامزیدکہناتھا کہ یہ بہت اہم ہےکہ ’ہم غریب ممالک پرپڑنےوالے بوجھ کو سمجھیں‘ جو کووڈ 19 وائرس کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں اور مشکلات کا شکار ہیں۔
عالمی بینک کی جانب سےجاری کردہ بیان کےمطابق اس امدادی رقم کا کچھ حصہ دنیا کےغریب ترین ممالک کےلیےمختص ہےاور اس رقم سے طبی سازوسامان اورطبی خدمات کابندوبست کیاجا ئےگا۔ اس کےعلاوہ ماہرین کی خدمات اورمشاورت بھی لی جاسکیں گی۔
دوسری جانب گزشتہ روز(منگل) کوعالمی ادارہ صحت نےدنیا بھرمیں حفاظتی سامان کی مقدار کم ہونے پرتشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا یہ دنیا بھرمیں وائرس سےنمٹنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے لیے خطرہ ہے۔
ڈبلیوایچ اوکےایمرجنسی پروگرام کےسربراہ مائیکل ریان نےجینیوامیں صحافیوں سےبات کرتے ہوئےکہناتھاکہ ’کئی ممالک میں یہ بیماری بڑے پیمانے پر پھیل چکی ہے۔‘ان کے مطابق جن ممالک میں وائرس بڑی پیمانے پر پھیل چکا ہے وہاں اس کوروکنا مشکل ہے مگر ناممکن نہیں۔
واضح رہےکہ دسمبرمیں وسطی چین سے سامنے آنے والے اس وائرس سےدنیا بھرمیں تین ہزارسےزائد افراد ہلاک  جبکہ 90 ہزار افراد اس وائرس سےمتاثرہو چکے ہیں۔
4:58 PM

جمائما اپنے پڑوسیوں کےلئے پریشان

وزیر اعظم عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ اپنے پڑوسیوں کےلئے پریشان ہیں جس کی وجہ بھی سامنے آ گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق جمائما نے سماجی رابطے کی ویب سا ئٹ ٹوئٹر ایک پیغام جاری کیاہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے شبہ میں ہمارے پڑوس میں پوری فیملی کو طبی عملے کی جانب سے ایمبولینس میں لے جایا گیا ہے۔
Meanwhile, I’m still not panicking but my neighbour’s entire family were taken off in an ambulance by medics in full suits this morning with suspected corona virus and my (hypochondriac) son is now convinced he has a strain so insidious it has no symptoms.
— Jemima Goldsmith (@Jemima_Khan) March 3, 2020
جما ئما کا مزید کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے متعلق وہ خود پریشان نہیں ہیں البتہ میرے بیٹے کو تشویش ہوگئی تھی مگر اب اس نے بھی مان لیا ہے کہ اس میں ایسی کوئی علامت نہیں ہے۔
واضح رہے کہ کورونا وبا کے سبب انگلینڈ میں انتہائی درجے کا الرٹ جاری کردیا گیا ہے اور سڑکوں پر فوج تعینات کرنے کا بھی امکان ظاہر کیا جاچکا ہے۔
4:57 PM

امریکا ، پھسلن کے باعث گاڑیاں آپس میں ٹکراگئیں

امریکا میں پھسلن کے باعث 100 سے زائد گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں۔یہ واقعہ امریکی ریاست وائیومنگ کی ہائی وے پر اُس وقت پیش آیا جب سخت سردی سے سڑک پر پھسلن پیدا ہوئی اور یوں 100 سے زائدگاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں۔گاڑیوں کے خطرناک تصادم کے باعث درجنوں گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔حادثے میں تین افرادجان سے ہاتھ دھو بیٹھے اوردرجنوں زخمی ہوئے ہیں۔
4:55 PM

عالمی ادارہ صحت کرونا وائرس کی روک تھام کےلئے پاکستانی اقدامات کا معترف

عالمی ادارہ صحت کرونا وائرس کی روک تھام کے لئے پاکستانی اقدامات کا معترف ہو گیا۔مقامی سربراہ کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے نمنٹنے کے لئے پاکستان کے اقدامات کئی ممالک سے بہتر ہیں۔اسلام آباد میں موجود علمی ادارہ صحت کے مقامی سربراہ ڈاکٹر پیلتھا مہیپلا کا کہنا تھا کہ پاکستان نے نہ صرف 2 ہفتوں میں نہ صر ف اس کی تشخیص کی سہولیات حاصل کیں، بلکہ اسے 5 مختلف مقامات پر اسے متعارف بھی کروایا۔پاکستان کی جانب سے اس طرح کے اقدامات قابل تعریف ہیں۔یاد رہے کہ چین کے شہر وہان سے شروع ہونے والا کرونا وائرس اس وقت 73 ممالک میں پہنچ چکا ہے جس سے ابھی تک 90 ہزار افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد3 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔ پاکستان میں بھی یہ وائرس پہنچ گیا ہے جس کے بعد پاکستانی حکومت کی جانب سے بھی اس سے بچنے کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں۔پاکستانی اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کے مقامی سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستا ن کے احکامات باقی کئی ممالک سے بہتر ہیں۔امریکہ ، ہالینڈ اور ہانگ کانگ نے کرونا وائرس کی تشخیص کے لئے 3 لیبارٹریز بنائی ہیں جبکہ پاکستان نے صرف 2 ہفتے میں 5 مقامات پر اس کے تشخیص کا بندوبست کیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کئی ممالک میں تو کرونا وائرس کی تشخٰص کا انتظام ہی نہیں ہے۔

4:54 PM

کرونا وائرس: عالمی بنک کا 12 ارب ڈالر کی ہنگامی امداد دینے کا اعلان

عالمی بنک نے ترقی پذیر ملکوں کے لئے 12 ارب ڈالر کی ہنگامی امداد دینے کا اعلان کیا ہے کیونکہ دنیا بھر کے70 سے زائد ملکوں میں کرونا وائرس پھیل چکا ہے۔
 عالمی بنک گروپ کے صدرDavid Malpass نے بی بی سی کو بتایا کہ ہنگامی امدادی پیکیج میں کم شرح سود کاقرض امداد اور تکنیکی معاونت شامل ہے۔
 انہوں نےکہا کہ امداد کی تقسیم کے دوران انتہائی غریب ترین اور انتہائی خطرے سے دوچار ملکوں کو ترجیح دی جائے گی تاکہ وائرس کے اثرات سے نمٹا جاسکے۔
اُدھرعالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کےلئے عالمی سطح پر حفاظتی آلات کی قلت سے خبردار کیا ہے۔
 ڈبلیو ایچ او نے کمپنیوں اور حکومتوں سے کہا ہے کہ ان آلات کی پیداوار میں چالیس فیصد تک اضافہ کرے جبکہ اس وائرس سے ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
 چین کے قومی صحت کمیشن کی رپورٹ کے مطابق مزید 119 مریضوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جو گزشتہ روز کے 125 کیسز سے کم ہیں۔
 چین میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی کل تعداد اب اسی ہزار دو سو ستر ہوگئی ہے۔
 چین میں مزید اڑتیس ہلاکتیں ہوئی ہیں جس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد دوہزار نو سو اکیاسی ہوگئی ہے۔
جنوبی کوریا میں کورونا وائرس کے516 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس سے ان کیسز کی تعداد پانچ ہزار ہوگئی ہے اور چونتیس ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
 امریکہ میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد نو ہوگئی ہے، اٹلی میں 79 جبکہ فرانس میں چارافراد ہلاک ہوئے ہیں۔
 جاپان میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی ہے،انڈونیشیا ،یوکرین، ارجنٹائن اور چلی میں کورونا وائرس کا پہلا  کیس سامنے آیا ہے۔

4:52 PM

ادلب میں شامی فوج کاحملہ،ایک ترک فوجی ہلاک،9 زخمی

ترکی نے کہا ہے کہ شام کے شمال مغربی علاقے ادلب میں شامی فوج کے حملے میں اس کا ایک فوجی ہلاک اور نو زخمی ہوگئے ہیں۔
 وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تازہ ترین ہلاکتوں کے ساتھ علاقے میں ہلاک ہونےوالے ترک فوجیوں کی تعداد 57 ہوگئی ہے۔
 بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی نے اپنے فورسز پر حملے کے بعد شام کے 82 عسکری اہداف پر حملے کئے ہیں۔
4:51 PM

کورونا وائرس، امریکا شرح سود کم کرنے پر مجبور

 امریکا کے مرکزی بینک نے منگل کے روز کورونا وائرس کے پھیلائو سے عالمی معیشت کو درپیش خطرات کے باعث ہنگامی بنیادوں پر شرح سود میں کمی کا اعلان کردیا، امریکی صدر اس کا بہت عرصے سے مطالبہ کررہے تھے تاہم وہ اس کمی سے بھی مطمئن نہیں ہیں اور مزید کمی خواہاں ہیں۔ تاہم کئی معاشی ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ شرح سود میں کمی کے جارحانہ اقدام کے دور رس نتائج مرتب ہوں گے اور دنیا بھر میں پریشانی کے شکار سرمایہ کار اس اقدام کو امریکی مرکزی بینک کے دیوالیہ ہونے کے امکان کے طور پر دیکھیں گے۔ ورلڈ بنک نے کورونا سے نمٹنے کے لیے 12 ارب ڈالر امداد کا اعلان کردیا ہے۔ امریکی فیڈرل پالیسی کمیٹی نے شرح سود میں نصف پوائنٹ کمی کرتے ہوئے اس کی حد 1.0 سے لیکر 1.25 تک مقرر کردی، یہ 2008 کے آخر میں عالمی معاشی بحران کے بعد امریکا میں سب سے بڑی کمی ہے۔ دوسری جانب اوپیک ممالک کورونا وائرس کے باعث تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے حوالے سے ویانا میں کل جمعرات کو مذاکرات کریں گے۔
4:49 PM

کاغذ کے کسی بھی کرنسی نوٹ کو چُھونے کے فورا بعد اپنے ہاتھوں کو دھو لیں:عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کاغذ کے کسی بھی کرنسی نوٹ کو چُھونے کے فورا بعد اپنے ہاتھوں کو دھو لیں۔ اس لیے کہ کرونا وائرس ان نوٹوں کے ذریعے ایک شخص سے دوسرے شخص کو منتقل ہو سکتا ہے۔ ادارے نے تجویز پیش کی ہے کہ مالی معاملات کے لیے مختلف طریقوں کا استعمال کیا جائے کیوں کہ کرونا کا وائرس کئی روز تک کاغذی کرنسی نوٹ کی سطح پر باقی رہ سکتا ہے۔
گذشتہ ماہ چین اور جنوبی کوریا میں بینکوں نے استعمال شدہ کرنسی نوٹوں کی تطہیر اور ان کو علاحدہ رکھنے کا کام انجام دیا۔ چین کے مرکزی بینک کا جائزہ لینے والوں نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ مرکزی بینک کرنسی نوٹوں کی تطہیر اور انہیں جراثیم سے پاک کرنے کے لیے الٹراوائلیٹ شعاؤں یا بلند درجہ حرارت کا استعمال کر رہا ہے۔ اس کے بعد دوبارہ سے زیر گردش لانے سے قبل ان نوٹوں کو 14 روز تک الگ تھلگ رکھا جاتا ہے۔
چین کے مرکزی بینک کے اقدامات ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب کہ چینی شہریوں کی اکثریت کئی برسوں سے مالی معاملات اور ادائیگیوں کے لیے اپنے اسمارٹ فونز کا استعمال کر رہی ہے۔ چین کے مرکزی بینک نے ہوبی صوبے میں 4 ارب یوآن (5.3 کروڑ یورو) مالیت کے جراثیم سے پاک کرنسی نوٹ پیش کیے ہیں۔ واضح رہے کہ ہوبی صوبہ چین میں کرونا وائرس کا مرکزی گڑھ ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ترجمان نے گذشتہ روز برطانوی اخبار " ڈیلی ٹیلی گراف" سے گفتگو میں کہا کہ مالی رقوم بار بار ہمارے ہاتھوں کے بیچ منتقل ہوتی ہیں اور یہ تمام نوعیت کے جراثیم اور وائرس کی حامل ہو سکتی ہیں۔ لہذا لوگوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ نوٹوں کو چھونے کے بعد اپنے ہاتھوں کو دھو لیں تا کہ متعدی وبا کی منتقلی کے خطرے پر روک لگائی جا سکے۔