Popunder ads

Breaking

Science & Technology Articles لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Science & Technology Articles لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 18 فروری، 2020

11:20 AM

گوگل سے بھی پہلے ڈیٹا کی مدد سے امیر ہونے والا شخص

ایمازون، ایلفابیٹ، علی بابا، فیس بک اور ٹینسینٹ دنیا کی ان انتہائی اہم کمپنیوں میں سے ایسے پانچ نام ہیں جنھیں بنے ہوئے لگ بھگ 25 برس ہی گزرے ہیں لیکن ان میں ایک قدر مشترک یہ ہے کہ یہ سب اپنے اپنے انداز میں ’ڈیٹا‘ کی وجہ سے دولت مند بنے۔
اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ ہم ڈیٹا کو ’تیل‘ جتنی اہمیت دیں اور اسے ’نیا ایندھن‘ کہہ کر پکاریں۔ سنہ 2011 تک دنیا کی 10 بڑی کمپنیوں میں سے پانچ تیل کی کمپنیاں تھیں جبکہ اب صرف ایک ایگزون موبل ہی اس فہرست کا حصہ ہے۔
اگرچہ ڈیٹا اور تیل کے درمیان موازنہ کرنا بھی درست نہیں ہے کیونکہ ڈیٹا متعدد مرتبہ استعمال کیا جا سکتا ہے اور تیل صرف ایک بار لیکن ڈیٹا اور تیل میں ایک مماثلت ضرور ہے اور وہ یہ کہ خام حالت میں دونوں ہی قابلِ استعمال نہیں ہوتے۔
آپ کو انھیں قابلِ قدر بنانے کے لیے مختلف مراحل سے گزارنا پڑتا ہے۔
آپ ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہیں تاکہ آپ کو ایسی معلومات مل سکیں جن کے ذریعے آپ اچھے فیصلے لے سکتے ہیں، جیسے سوشل میڈیا پر کس قسم کا اشتہار لگانا چاہیے یا پیج پر کس سرچ رزلٹ کے حوالے سے معلومات رکھی جائیں۔
ذرا تصور کریں کہ آپ کو ان میں سے کوئی ایک فیصلہ کرنے کو کہا جاتا ہے۔
Getty Images
اگر یوٹیوب انھیں کوئی دلچسپ ویڈیو دکھا کر اپنی ویب سائٹ پر ہی رہنے پر مجبور کرے تو وہ ایک اور اشتہار دکھا سکتا ہے، لیکن اگر صارف کی توجہ ختم ہو جائے تو وہ ویب سائٹ چھوڑ جائیں گے
فرض کریں کوئی صارف یوٹیوب پر ویڈیو دیکھ رہا ہے۔ تو یوٹیوب اسے اگلی ویڈیو دیکھنے کے لیے کیا تجویز کرے گا؟ گوگل یوٹیوب کو چلاتا ہے جبکہ گوگل کی ملکیت ایلفابیٹ کے پاس ہے۔
اگر یوٹیوب انھیں کوئی دلچسپ ویڈیو دکھا کر انھیں اپنی ویب سائٹ پر ہی رہنے پر مجبور کرے تو وہ ایک اور اشتہار دکھا سکتا ہے، لیکن اگر صارف کی توجہ ختم ہو جائے تو وہ ویب سائٹ چھوڑ جائیں گے۔
یہ فیصلہ لینے کے لیے آپ کے پاس وہ تمام ڈیٹا موجود ہے جس کے ذریعے آپ اس صارف کو کوئی دلچسپ ویڈیو تجویز کر سکتے ہیں۔ آپ کے پاس وہ تمام ویڈیوز موجود ہیں جنھیں یہ صارف یوٹیوب پر دیکھ چکا ہے۔ تو آپ کو اس صارف کی پسند ناپسند کا اندازہ ہے۔
ساتھ ہی آپ کے پاس یہ ڈیٹا بھی موجود ہے کہ دوسرے صارفین نے اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد کون سی ویڈیوز دیکھیں۔
تو بس، میسر آپشنز کو تولیں اور ممکنات کا جائزہ لیں۔ اگر آپ دانائی سے اس ویڈیو کا انتخاب کرتے ہیں اور صارف ایک اور اشتہار دیکھتا ہے تو بہت خوب، آپ نے ایلفابیٹ کے لیے 20 سینٹ کما لیے ہیں۔
ظاہر ہے کہ ڈیٹا کا جائزہ لینے کے لیے انسانوں پر انحصار کرنا بے وقوفی ہو گی۔ ایسے کاروباری ماڈلز کو چلانے کے لیے مشینز کی ضرورت ہوتی ہے۔
ڈیٹا کی معیشت میں صرف ڈیٹا سے آپ کو فیصلوں میں آسانی نہیں ہوتی بلکہ یہاں ڈیٹا اور ایلگورتھم کا تال میل انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
ظاہر ہے کہ ڈیٹا کا جائزہ لینے کے لیے انسانوں پر انحصار کرنا بے وقوفی ہو گی۔ ایسے کاروباری ماڈلز کو چلانے کے مشینز کی ضرورت ہوتی ہے
سنہ 1880 میں ایک امریکی نژاد جرمن موجد نے اپنے خاندان کو ایک ایسی مشین کے بارے میں بتایا جس کے ذریعے ڈیٹا کا تجزیہ انسانوں سے کہیں تیزی سے کیا جا سکتا تھا۔
ہیرمن ہولیرتھ نامی موجد نے اس مشین کا ڈیزائن تو بنا لیا لیکن اسے ٹیسٹ کرنے کے لیے انھیں پیسے درکار تھے۔
اس مشین کے خدوخال ایک سیدھے پیانو کی مانند تھے لیکن اس پر پیانو کیز کی بجائے کارڈز کے سلاٹ ہیں جن کا حجم ایک ڈالر کے نوٹ جتنا ہے اور ان میں سوارخ موجود ہیں۔
Getty Images
آپ کے سامنے 40 گھڑی نما ڈائلز ہیں اور جب آپ یہ کارڈز اس مشین میں نصب کرتے ہیں تو ان ڈائلز کی سویوں میں فرق آ بھی سکتا ہے اور نہیں بھی
آپ کے سامنے 40 گھڑی نما ڈائلز ہیں اور جب آپ یہ کارڈز اس مشین میں ڈالتے ہیں تو ان ڈائلز کی سوئیوں میں فرق آ بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔
ہرمین ہولیرتھ کے خاندان کو اس مشین کی سمجھ نہیں آئی تو انھوں نے اس مشین کے لیے پیسے دینے کی بجائے ان کا مذاق اڑایا۔ ہولیرتھ یہ بات نہیں بھولے اور انھوں نے ان سے قطع تعلقی اختیار کر لی۔ یہاں تک کہ بعد میں ان کے بچوں کو یہ علم نہیں تھا کہ ان کی والد کے رشتہ دار بھی ہیں۔
ہولیرتھ کی ایجاد نے ایک انتہائی مخصوص مسئلے کا حل ڈھونڈا۔ وہ یہ کہ ہر دس برس بعد امریکی حکومت مردم شماری کرتی ہے اورحکومتیں ہمیشہ سے ہی یہ جاننا چاہتی ہیں کہ کون کہاں رہتا ہے اور کس کے کتنے اثاثے ہیں تاکہ ٹیکس کی وصولیابی بڑھائی جا سکیں اور فوج میں بھرتیاں کی جا سکیں۔
تاہم اگر آپ مردم شماری کرنے کے لیے اہلکاروں کو ملک بھر میں بھیج ہی رہے ہیں تو یقیناً اس حوالے سے مزید سوالات پوچھنے میں کوئی برائی نہیں ہے۔
جیسے لوگ کس قسم کی نوکریاں کرتے ہیں، انھیں کوئی بیماری یا معذوری ہے یا نہیں اور وہ کون سی زبانیں بولتے ہیں۔
یقیناً علم بڑی طاقت ہے اور اس بات کا علم 19ویں صدی کے بیوروکریٹس کو بھی ویسے ہی ہوا جیسے 21ویں میں کمپنیوں کو ہو رہا ہے۔
Getty Images
ہیرمن ہولیرتھ نامی مؤجد نے اس مشین کا ڈیزائن تو بنا لیا لیکن اسے ٹیسٹ کرنے کے لیے انھیں پیسے درکار تھے
تاہم سنہ 1880 کی مردم شماری میں بیوروکریٹس نے اتنا ڈیٹا جمع کر لیا کہ اسے استعمال کرنا مشکل ہو گیا۔
اس مردم شماری میں، لائبریریاں، نرسنگ ہومز، جرائم کے اعداد و شمار اور دیگر شعبوں کو بھی شامل کیا گیا۔ سنہ 1870 کی مردم شماری میں پانچ مختلف قسم کے فارم تھے جبکہ سنہ 1880 میں ان فارمز کی تعداد 215 تھی۔
بہت جلد ہی یہ بات واضح ہو گئی کہ ان فارمز میں دیے گئے سوالات کے جواب دینے میں برسوں لگ جائیں گے۔ انھیں یہ معلوم تھا کہ جب تک وہ اس مردم شماری کے جوابات اکھٹے کریں گے نئی مردم شماری سر پر ہو گی۔
تاہم اگر کوئی ان مراحل میں تیزی لے آئے تو یقیناً حکومت کی جانب سے ایک نفع بخش نوکری اس کی منتظر ہو گی۔
نوجوان ہرمین نے 1880 کے مردم شماری پر کام کیا تھا اور وہ اس مسئلے کو سمجھتے تھے۔
انھوں نے ٹرینوں کے لیے ایک نئی طرز کی بریکس ایجاد کر کے منافع کمانے کا سوچ رکھا تھا۔ شومی قسمت کہ مردم شماری کے اعداد وشمار سے متعلق مسائل کا حل بھی انھوں نے ٹرین کے ایک سفر کے دوران ہی ڈھونڈا۔
ہوا کچھ یوں کہ ریل کی ٹکٹیں اکثر چوری ہو جاتی تھیں۔ اس لیے ریلوے کمپنیوں نے اس سے بچاؤ کا ایک دلچسپ طریقہ ایجاد کیا اور ٹکٹ پر ’پنچنگ ہولز' یعنی سوراخوں کے ذریعے صارف کے خدوخال کی نشاندہی کی۔
Getty Images
ریل کے ٹکٹس اکثر چوری ہو جاتے تھے۔ اس لیے ریلوے کمپنیوں نے اس سے بچاؤ کا ایک دلچسپ طریقہ ایجاد کیا اور ٹکٹ پر 'پنچنگ ہولز' یعنی سوراخوں کے ذریعے صارف کی خدوخال کی نشاندہی کی
کنڈکٹرز ایک ہول پنچ کے ذریعے ’گہری آنکھیں، بڑا ناک، ہلکے رنگ کے بال‘ جیسے خدوخال بتانے کی کوشش کرتے۔ تو اگر کوئی گہرے رنگ کے بال اور چھوٹے ناک والا آپ کی ٹکٹ چرائے تو وہ زیادہ دیر تک ٹرین میں سفر نہیں کر پائے گا۔
اس نظام کا بغور جائزہ لینے کے بعد ہولیرتھ کو اندازہ ہوا کہ مردم شماری کے حوالے سے لوگوں کے جوابات کو بھی کارڈز میں کیے گئے سوراخوں کی مدد سے علیحدہ کیا جا سکتا ہے۔
یہ اس مسئلے کا حل ثابت ہو سکتا تھا کیونکہ سوراخ شدہ کارڈز کو 19ویں صدی کے اوائل سے مشینوں کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا، جیکرڈ کی نقش و نگار والے کپڑے بنانے والی کھڈی میں بھی ایسا ہی کیا گیا تھا۔
تو اب ہولیرتھ کو صرف ایک ایسی مشین تیار کرنا تھی جس کے ذریعے وہ ان سوراخ شدہ کارڈز سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کا جائزہ لے سکیں۔
Getty Images
یہ اس مسئلے کا حل ثابت ہو سکتا تھا کیونکہ سوراخ شدہ کارڈز کو 19ویں صدی کے اوائل سے مشینوں کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا
پیانو کی طرز کی اس مشین میں سپرنگز سے لدی پنز ان کارڈز پر موجود ہوتی ہیں۔ جیسے ہی اس مشین کو چلایا جاتا ہے اور انھیں کوئی سوراخ ملتا تو ایک الیکٹرک سرکٹ مکمل ہوتا اور اس طرح ڈائل کی سوئی ایک درجہ اوپر ہو جاتی ہے۔
ہولیرتھ کی خوش قسمتی یہ تھی کہ بیوروکریٹس کو ان کی یہ ایجاد ان کے خاندان سے زیادہ پسند آئی۔
انھوں نے اس مشین کو کرائے پر لے کر سنہ 1890 کی مردم شماری کے اعداد وشمار کا جائزہ لیا جس میں انھوں نے مزید فارمز کا اضافہ کر دیا تھا۔
پرانے نظام کے مقابلے میں ہولیرتھ کی مشین انتہائی تیز اور بہت سستی ثابت ہوئی۔
اس میں زیادہ اہم بات یہ تھی کہ انھوں نے اعداد و شمار کا جائزہ لینا مزید آسان کر دیا۔
فرض کریں کہ آپ ایسے لوگوں کی تلاش میں ہیں جن کی عمر 40 اور 45 برس کے درمیان ہے، وہ شادی شدہ ہیں، اور پیشے کے لحاظ سے بڑھئی ہیں۔ اس کے لیے آپ کو 200 ٹن کے دستاویزات کا بغور جائزہ لینا ضروری نہیں ہے۔ صرف مشین چلائیں اور کارڈز کو اس میں سے گزاریں۔
حکومت کو جلد ہی اس مشین کی افادیت مردم شماری سے بھی کہیں زیادہ لگنے لگی۔
مورخ ایڈم ٹوزے کا کہنا تھا کہ ’پوری دنیا میں بیوروکریٹس سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ انھیں ہر چیز کا علم ہونا چاہیے۔ '
امریکہ میں پہلی مرتبہ سماجی تحفظ کے فنڈز سنہ 1930 میں سوراخ شدہ کارڈز کے ذریعے ہی دیے گئے۔ اگلی دہائی میں ایسے ہی سوراخ شدہ کارڈز کے ذریعے ہولوکاسٹ جیسے خوفناک واقعے کو عمل میں لانے میں مدد ملی۔
کاروباروں کو بھی اس کی افادیت کا جلد ہی علم ہو گیا تھا۔ انشورنس کمپنیوں نے ان سوراخ شدہ کارڈز کو اعداد وشمار سے متعلق تخمینہ لگانے کے لیے اور بلنگ، ریلوے کے ذریعے تجارت جیسے کاموں میں بھی ان کا استعمال ہوا۔ جبکہ دیگر صنعت کاروں نے فروخت اور قیمت کے حوالے سے انھیں استعمال کیا۔
ہولیرتھ ٹیبولیٹنگ مشین کمپنی نے اس زمانے میں خوب تجارت کی۔ آپ نے شاید اس کمپنی کا نام سنا ہو جو متعدد مرجرز کے بعد آئی بی ایم کے نام سے جانی جاتی ہے۔
یہ ایک عرصے تک مارکیٹ لیڈر رہا کیونکہ یہ سوراخ شدہ کارڈز ڈیٹا کے مقناطیسی ذخیرے میں تبدیل ہوئے جبکہ اعداد وشمار کا جائزہ لینے والی مشین کمپیوٹرز میں۔ یہ کچھ برس پہلے تک بھی دنیا کی دس بڑی کمپنیوں میں سے ایک تھی۔
ہولیرتھ ٹیبولیٹنگ مشین کمپنی نے اس زمانے میں خوب تجارت کی۔ آپ نے شاید اس کمپنی کا نام سنا ہو جو متعدد مرجرز کے بعد آئی بی ایم کے نام سے جانی جاتی ہے
یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر ڈیٹا کی طاقت کا اندازہ ہولیرتھ کے گاہکوں کو تھا تو پھر ڈیٹا کی معیشت کی اہمیت کو اجاگر ہونے میں ایک صدی کیوں لگ گئی؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ ڈیٹا میں ایک بات نئی ہے جس کے باعث اس کا موازنہ تیل کے ساتھ کیا جا رہا ہے اور وہ یہ کہ گوگل اور ایمازون کو ڈیٹا اکھٹا کرنے کے لیے اہلکاروں کی فوج کی ضرورت نہیں ہے۔
جب بھی ہم سمارٹ فونز کا استعمال کرتے ہیں تو ہم اپنے متعلق ڈیٹا فراہم کرتے ہیں یہاں تک کہ اگر ہم الیکسا سے یہ بھی کہہ دیں کہ بتی جلا دو۔
ان اعداد و شمار کی ویسی ترتیب نہیں ہوتی جیسی مردم شماری میں پوچھے گئے سوالات کے جوابات کی ہوتی ہے جنھیں ہولیرتھ نے باآسانی کارڈز میں پنچ کر دیا۔ اس لیے انھیں مفید بنانا مشکل ہے۔ تاہم ان اعدادو شمار کی تعداد اور اقسام بہت زیادہ ہیں۔
جیسے جیسے ایلگورتھم بہتر ہو رہے ہیں اور زندگیاں انٹرنیٹ پر گزاری جا رہی ہیں تو ایک زمانے میں بیوروکریٹس کا سب کچھ جاننے کا خواب بڑی تیزی سے کارپوریٹ دنیا کے لیے ایک حقیقت بن رہا ہے۔

پیر، 17 فروری، 2020

5:13 PM

آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے نوجوان ہزاروں ڈالرز کما رہے ہیں: عثمان ڈار کا نوجوانوں کے نام اہم پیغام

تفصیلات کے مطابق معاون خصوصی عثمان ڈار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کامیاب جوان پروگرام کو تحریک کی طرح لے کر چلوں گا، کامیاب جوان پروگرام کے تحت 1 سے 10 لاکھ روپے قرض دیاجا رہا ہے۔
عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ نوجوان کامیاب جوان پروگرام کے تحت اپنا کاروبار شروع کرسکتے ہیں، ایسے پروگرامز سے پاکستان کے باصلاحیت نوجوان آگے آئیں گے، وزیراعظم عمران خان نوجوانوں پر سرمایہ لگا رہے ہیں۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے متعلق معاون خصوصی برائے امور نوجوان کا کہنا تھا کہ یہ صدر ڈاکٹر عارف علوی کا پروگرام تھا، آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے نوجوان ہزاروں ڈالرز کما رہے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ پروگرام کے تحت میرٹ پر نوجوانوں کو قرضے دیے جا رہے ہیں، ماضی کی حکومتوں نے جوانوں کو نظرانداز کیا۔
عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ پروگرام کا مقصد نوجوانون کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے،ماضی کی حکومتوں نے چھوٹے کاروبار کو بری طرح متاثر کیا۔

5:09 PM

مریخ پر ہاؤسنگ سوسائٹی کے بہترین ڈیزائن کےلئےعالمی مقابلہ

ٹیکساس:مریخ پر آبادکاری کے خواہش مند گروپ ’’مارس سوسائٹی‘‘ایک بین الاقوامی مقابلہ منعقدکررہی ہے جس کے تحت مریخ سٹی کا بہترین ڈیزائن بنانے کےلئے دنیا بھر سے لوگوں کو دعوت دی گئی ہے ۔ ٹیکنالوجی ویب سائٹ کے مطابق مریخ کی ریاست پرہاؤسنگ سوسائٹی بنانے کےلئے  بہترین ڈیزائن دینے والے فاتح کو 10،000 ملین ڈالرسے نوازا جائے گا۔یہ ایک ایسا شہر ہوگا جس میں دس لاکھ باشندے رہ سکتے ہیں اورمستقبل کے اس مریخی شہر کو ’’مارس سٹی اسٹیٹ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔
5:07 PM

کیا آپ کو بھی ایسے بیٹھنے کی عادت ہے؟ اگر ایسا ہے تو ماہرین کے مطابق آپ کی صحت کو بہت خطرہ ہے

ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھنا ایک عام عادت ہے جو بہت سے لوگوں میں پائی جاتی ہے اور اکثر بیٹھنے کے دوران اس پر توجہ بھی نہیں دیتے۔
ممکن ہے کہ اس طرح بیٹھنے سے آپ کو راحت ملتی ہو یعنی ایک گھٹنا دوسرے گھٹنے کے اوپر مگر یہ عادت آپ کے اندازوں سے بھی زیادہ صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔
ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ عادت کس طرح سنگین امراض کا باعث بن سکتی ہے۔
1.بلڈ پریشر پر منفی اثر
تحقیقی رپورٹس کے مطابق ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر کافی دیر تک بیٹھے رہنے سے جسم کے اندر بلڈ پریشر کا دورانیہ بڑھتا ہے جس کے باعث بیٹھنے کے اس طریقے سے اعصاب پر دباﺅ بڑھ جاتا ہے۔ طبی ماہرین کا مشورہ ہے کہ بلڈ پریشر کے مریضوں کو اس انداز میں بیٹھنے سے گریز کرنا چاہئے مگر تندرست افراد کو بھی زیادہ دیر تک اس طرح نہیں بیٹھنا چاہئے۔
2.اعصاب مفلوج ہونا
ایک طبی تحقیق میں معلوم ہوا کہ زیادہ دیر تک اس انداز سے بیٹھنا ایک عارضے پیلسی یا پرسنل نرو پیرالائسز کا باعث بن سکتا ہے، طویل گھنٹوں تک اس طرح بیٹھنے کے نتیجے میں اعصاب پر دباﺅ بڑھتا ہے اور انہیں نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے۔
3.دوران خون متاثر ہونا
ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھنے سے خون کا دورانیہ متاثر ہوتا ہے ، کیونکہ جب آپ اس انداز سے بیٹھتے ہیں تو دل کو زیادہ مقدار میں خون کو پمپ کرنا پڑتا ہے جس کے منفی اثرات دوران خون پر پڑتے ہیں۔
4.ٹانگوں میں ورم
اس پوزیشن میں بیٹھنا اسپائیڈر وینز کا باعث بھی بن سکتا ہے جس سے ٹانگوں پر سوجن ہو جاتی ہے اور رگیں دب جاتی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق ایسی پوزیشن سے رگوں پر دباﺅ بڑھ جاتا ہے جو دوران خون پر اثرات مرتب کر کے اس عارضے کا باعث بنتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بیٹھیں چاہیں جس انداز میں بھی ، مگر کسی ایک پوزیشن کو بہت زیادہ دیر تک اپنا کر نہ رکھیں، بلکہ بیٹھنے کی پوزیشن کو ہر تھوڑی دیر بعد بدلتے بھی رہیں۔
5:02 PM

ٹیکنالوجی کی دنیا میں نئی پیشرفت، موبائل چارج کرنے کی پریشانی ہوئی اب ختم

ٹیکنالوجی پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ کے مطابق مائنڈ پلے نامی کمپنی نے ’مائنڈ ہب‘ نامی ایسی ڈیوائس تیار کی جس کے ذریعے مختلف الیکٹرانک اشیاء کو دماغی توجہ سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔
کمپنی کے مطابق وہ تمام آلات جیسے موبائل، ڈرونز، روشنی اور موسیقی کو انسانی دماغ کی مدد سے مکمل کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔
مائنڈ ہب کو ہیڈ سیٹ سے مربوط کیا جائے تو اس سے جڑے آلات کی کارکردگی کو انسانی مزاج کے مطابق بنایا جاسکتا ہے۔
برطانوی جریدے کی رپورٹ کے مطابق کمپنی کا دعویٰ ہے کہ مائنڈ ہب ڈیوائس بنیادی طور پر انسانی دماغ کے فوکس کا ڈیٹا جمع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ماہرین کے مطابق مائنڈ ہب ایک ریڈنگ ڈیوائس ہے جس کے ذریعے جلد ہی اسمارٹ فون بھی چارج کیے جاسکیں گے۔ ٹیکنالوجی پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق صارفین جلد ہی مائنڈ ہب کی مدد سے اپنے موبائل آنکھوں کی مدد سے چارج کرسکیں گے، اس حوالے سے کام جاری ہے جس میں جلد پیشرفت ہوگی۔
4:56 PM

ہوشیار خبردار! اگر آپ بھی کھانے میں یہ 5 غذائیں مِلا کر کھانے کی غلطی کرتے ہیں تو رک جائیے۔۔۔ ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجادی

خوراک انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ایک ہے۔ غذا کو درست طریقے سے استعمال کرنا انتہائی ضروری ہے ورنہ اس کے منفی اثرات صحت پر مرتب ہوتے ہیں جس سے انسانی جِسم میں مختلف بیماریاں جنم لیتی ہیں۔
ہم میں سے بہت سے افراد ایسے ہیں جو بِنا سوچے سمجھے مختلف سبزیوں اور گوشت کو ان اشیاء کے ساتھ جوڑ لیتے ہیں جِن کا نقصان براہِ راست ہماری صحت پر ہوتا ہے۔
آئیے جانتے ہیں ان غذاؤں کے بارے میں جنہیں مِلا کر کھانا نقصان دہ ہوتا ہے۔
ٹماٹر اور کھیرا

سب سے پہلے ان کی بات کرتے ہیں جو روز مرّہ کے کھانوں میں سب سے زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔ ہم بات کر رہے ہیں ٹماٹر اور کھیرے کی جِسے ہم سلاد کے طور پر کھاتے ہیں۔ جدید تحقیق کے مطابق ان دونوں کو ملاکر کھانے سے جسم کے بائیو کیمیکل پاتھ ویز متاثر ہوتے ہیں اور سوزش کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹماٹر اگر کھیرے کے ساتھ ملا کر کھایا جائے تو دونوں سبزیوں کے وٹامنز ڈائجسٹ نہیں ہوپاتے اسی لیے دونوں سبزیوں کو ایک سلاد میں ملانے سے پرہیز کریں۔
پاستا، میکرونی کے ساتھ قیمہ

میکرونی کے ساتھ قیمہ تقریباً ہر گھر میں استعمال کیا جاتا ہے جو کہ بچوں کی پسندیدہ ڈِش بھی ہے۔ ان دونوں کو مِلا کر کبھی نہیں کھانا چاہئیے۔ اس سے معدے میں سلیوری گلائینڈز پاستا کو شوگر میں بدلتے ہیں اور شوگر پروٹین (گوشت) کے ساتھ مل کر ایک نقصان دہ کیمکل پیدا کرتی ہے جو ذیابطیس کا باعث ہوسکتی ہے۔
کیلے کے ساتھ دودھ کا استعمال

ہر گھر میں ہی تقریباً کیلے کا مِلک شیک بنایا جاتا ہے۔ بچے بڑے اسے کافی شوق سے پیتے ہیں لیکن غذائی ماہرین کے مطابق زیادہ میٹھے پھلوں کا دودھ کے ساتھ استعمال معدے پر بھاری ہوتا ہے جسے ہضم کرنا معدے کے لیے مشکل ہوتا ہے۔
آلو کا گوشت کے ساتھ استعمال

یہ سن کر کافی لوگوں کو دکھ ہو گا کہ آلو کا گوشت کے ساتھ استعمال صحت کے لیے مضر ہے کیونکہ ہر گھر میں آلو گوشت کا سالن لازمی بنایا جاتا ہے۔ ڈائیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ غذا معدے کےلیے بہت بھاری ہوتی ہے اور معدہ اس کھانے کو بہت مشکل سے ہضم کرتا ہے تاہم آلو میں اسٹارچ شامل ہوتی ہے جبکہ گوشت میں موجود پروٹین سے تیزابیت پیدا ہوتی ہے اور ان دوںوں کو ملا کر کھانے سے سینے میں جلن، تیزابیت، گیس اور کئی بیماریاں لاحق ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
کافی اور سینڈوچ

اکثر لوگ صبح جلدی میں ہوتے ہیں کیونکہ ہر کسی کو اپنے دفتر، اسکول یا کالج پہنچنا ہوتا ہے ایسے میں سینڈوچ بنانا بہت آسان لگتا ہے اور اس میں چیز (پنیر) ملایا لیا جائے تو جسم بھرپور غذائیت فراہم کرتا ہے لیکن یاد رکھیے اگر سینڈوچ کے ساتھ آپ کافی پی رہے ہیں تو یہ پنیر کے سارے فوائد ختم کردے گی الٹا نظام ہاضمہ پر بھی برے اثرات ڈالے گی۔
4:46 PM

کیا یہ کچھووں کا ’سینگ والا ڈائنوسار‘ تھا؟

زیورخ: 
سوئٹزرلینڈ، کولمبیا، وینزویلا اور برازیل کے سائنسدانوں پر مشتمل تحقیقاتی ٹیم نے وینزویلا اور کولمبیا کے ریگستانوں ایک قدیم دیوقامت کچھوے کے رکازات (فوسلز) دریافت کیے ہیں جو اندازاً 1200 کلوگرام وزنی تھا جبکہ اس کے سخت خول کی لمبائی 2.4 میٹر سے 3 میٹر تک رہی ہوگی۔ تازہ پانی میں پائے جانے والے ان کچھووں میں نروں کے خول پر سینگ بھی ابھرے ہوتے تھے۔
آج سے تقریباً 50 لاکھ سال پہلے معدوم ہوجانے والے اس کچھوے کو ’’اسٹوپینڈیمائس جیوگرافیکس‘‘ (Stupendemys geographicus) کا نام دیا گیا ہے جس کے اوّلین رکازات 1970 کے عشرے میں دریافت کیے گئے تھے۔ یہ تازہ پانی میں پایا جانے والا کچھوا تھا۔
حالیہ تحقیق میں اس دیوقامت کچھوے کے اور بھی کئی رکازات دریافت ہوئے ہیں جن میں سے کچھ خاصے مکمل بھی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کولمبیا اور وینزویلا کے موجودہ ریگستانی علاقے آج سے لاکھوں سال پہلے سرسبز و شاداب مقامات ہوا کرتے تھے جہاں ندیوں، جھیلوں اور تالابوں کے علاوہ دلدلیں بھی بڑی تعداد میں موجود تھیں۔ ماضی میں بھی یہاں سے دیوقامت معدوم مگرمچھ کی مختلف اقسام کے علاوہ کتر کر کھانے والے معدوم جانوروں کے رکازات دریافت ہوچکے ہیں، تاہم دیوقامت کچھوے کی دریافت کئی لحاظ سے منفرد اور اہم ہے۔
تازہ پانی کے موجودہ کچھووں کی بنیاد پر ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ اسٹوپینڈیمائس کی گردن، خول کے درمیان کے بجائے دائیں یا بائیں جانب سے باہر نکلی ہوتی تھی۔ نر کچھووں کے خول پر ابھرے ہوئے سینگوں کے بارے میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ کچھوا غالباً انہیں نسل خیزی کےلیے مادہ سے ملاپ (mating) کی لڑائی میں اپنے مخالف نر کچھوے سے لڑنے میں استعمال کرتا تھا۔ ان کے علاوہ یہی سینگ اسے غالباً اپنے سب سے خطرناک دشمن، دیوقامت مگرمچھ جیسے جانور سے مقابلہ کرنے میں بھی مدد دیتے تھے۔
جسمانی تجزیئے اور کچھووں کے ارتقائی شجر (ایوولیوشنری ٹری) سے موازنہ کرکے ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اسٹوپینڈیمائس کا قریب ترین زندہ رشتہ دار، ایمیزون کا دریائی کچھوا ہے جس کا سر اس کے بقیہ جسم کے مقابلے میں خاصا بڑا ہوتا ہے۔ البتہ یہ تقریباً 12 کلوگرام تک وزنی ہوتا ہے جبکہ اسٹوپینڈیمائس کا وزن اس سے 100 گنا زیادہ تھا۔
حالیہ مطالعے سے اس خیال کو بھی تقویت پہنچتی ہے کہ اسٹوپینڈیمائس صرف چند علاقوں تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ یہ براعظم امریکا کے پورے جنوبی حصے میں پایا جاتا تھا۔
اس اچھوتی دریافت کی تفصیلات تحقیقی مجلے ’’سائنس ایڈوانسز‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہیں۔
4:43 PM

چین میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے دیسی ادویات کے استعمال کا کمال سامنے آ گیا

چین میں مہلک وائرس ناول کورونا کا علاج کرنے لیے چین کی دیسی ادویات کا استعمال بھی کیا گیا۔
غیر ملکی نیوز ایجنسی کی مطابق چین کے قومی ہیلتھ کمیشن کے نائب سربراہ وانگ ہی شینگ نے اس حوالے سے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے ہوبی میں نصف سے زائد مریضوں کو مغربی ادویہ کے ساتھ چین کی روایتی ادویہ بھی دی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق COVID-19 یا کورونا وائرس کا کوئی بھی باقاعدہ علاج تاحال دریافت نہیں کیا جا سکا اس لیے اس وائرس سے متاثرہ افراد کے علاج کے لیے روایتی ادویہ کا استعمال غیر معمولی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
ہیلتھ کمیشن کے حکام کے مطابق چین کی روایتی طریقہ علاج کی یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے طبی عملے کے 2220 افراد کو ہوبی صوبے بھیجا گیا جہاں اس وائرس سے بچاؤ اورعلاج کے لیے روایتی دواؤں کا استعمال کیا گیا۔ وانگ ہی شینگ کا کہنا ہے کہ مغربی ادویہ کے ساتھ روایتی دواؤں کے استعمال سے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ دنیا میں بھر میں اس جان لیوا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 69 ہزار تک جا پہنچی ہے جب کہ چین میں کورونا سے ہلاکتیں 1500 سے تجاوز کرچکی ہیں۔

4:40 PM

امریکہ میں 50 دن میں 50 ریاستوں کی بلند چوٹیوں کو سر کرنے والے ذیابیطس کے دو مریض

بچپن سے ہی ٹائپ ون ذیابیطس کا شکار مائیکل شیلور اور پیٹرک مرٹس کو سیر تفریح اور پہاڑ سر کرنے کا شوق ہے
مائیکل شیلور اور پیٹرک مرٹس کو سیر تفریح اور کوہ پیمائی کا شوق ہے۔ مگر ان دونوں کا پِتہ کام نہیں کر رہا۔ تو پھر 50 دنوں میں امریکہ کی 50 ریاستوں میں تمام بلند چوٹیوں پر چڑھنے کے ان دونوں کے خواب کو ٹائپ ون شوگر کیسے متاثر کر رہی ہے؟
جب آپ کسی پہاڑ پر چڑھ رہے ہوں اور وہاں آپ کی شوگر کا لیول کم ہو جائے جس کی وجہ سے چکر آ سکتے ہیں یا بے ہوشی طاری ہو سکتی ہے، تو یہ بات کوئی خطرے سے خالی نہیں ہے۔
یہ وہ صورتحال ہے جس کا شوگر کے مرض میں مبتلا مائیکل اور پیٹرک کو روز ہی سامنا رہتا ہے لیکن پھر بھی ان کو یقین ہے کہ وہ 50 دن میں 50 ریاستوں کے بلند ترین مقامات کو سر کر لیں گے۔
مزید پڑھیے
ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مقدار سے بہت کم یا بہت زیادہ انسولین بھی مشکلات کا باعث بن سکتی ہے
اپنے اس مشن میں انھوں نے 16000 میل کا سفر طے کرنا ہے جس میں 315 میل کے راستوں پر ہائیکنگ بھی شامل ہے۔
ٹائپ ون شوگر کی وجہ سے ان کے جسم میں انسولین پیدا نہیں ہوتی۔ یہ وہ ہارمون ہے جو خلیوں کو خوراک میں سے گلوکوز نکالنے اور اسے استعمال کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اس کے بغیر آپ کے خلیوں میں طاقت نہیں رہتی اور وقت کے ساتھ آپ کے جسم میں گلوکوز کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے۔
اگر آپ کو ٹائپ ون شوگر ہو تو پھر آپ اسے روایتی طور پر ٹیکوں کے ذریعے یا انسولین پمپ کی مدد سے جسم میں انجیکٹ کر سکتے ہیں۔ پیٹرک اور مائیکل ایسا ہی کرتے ہیں۔
مقدار سے بہت کم یا بہت زیادہ انسولین بھی مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ توازن کئی اور عوامل کی وجہ سے بھی بگڑ جاتا ہے جو خون میں گلوکوز کو متاثر کر سکتے ہیں جیسا کہ ورزش، بلندی یا غیر ضروری دباؤ۔
پیٹرک اور مائیکل نے سب سے مشکل سفر سے آغاز کیا۔
انھوں نے شمالی امریکہ کی ریاست الاسکا میں ڈینالی کے مقام پر سب سے بلند 20310 فٹ یعنی 6190 میٹر بلندی کی چوٹی کو سر کیا۔ ان دونوں کا یہ سفر ان کے لیے بہت زیادہ اور بہت کم بلڈ شوگر سمیت جیسی کئی کیفیات سے بھرپور تھا۔
زندگی کی سب سے مشکل چیز
پیٹرک 1997 سے شوگر کے مرض میں مبتلا ہیں جب وہ صرف نو سال کے تھے، کا کہنا ہے کہ اب تک ڈینالی کی بلندی پر ان کو سب سے مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ہم نے اس سفر کو بہت جلدی طے کیا ہے عام طور پر زیادہ تر لوگ بلندی تک پہنچنے کے لیے 17 دن تک کا وقت لیتے ہیں جبکہ ہم نے صرف یہ نو دن میں مکمل کر لیا۔
اس سفر کی وجہ سے میرے بلڈ شوگر اور پھیپھڑوں پر اثر پڑا۔ میں زیادہ جذباتی انسان نہیں ہوں لیکن ڈینالی کی چوٹی تک جانا میری زندگی کا سب سے مشکل تجربہ تھا۔ مائیکل کے ساتھ یہ یہ کامیابی حاصل کرنا بہت اہم بات تھی۔
ایک اور صورتحال جس سے واسطہ پڑ سکتا تھا وہ یہ تھی کہ انسولین شدید موسم میں ٹھیک حالت میں نہیں رہ سکتی۔
مائیکل جن میں 2004 میں 10 سال کی عمر میں شوگر کی تشخیص ہوئی، کا کہنا ہے کہ ’ہم نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ہماری انسولین کو معتدل درجہ حرارت میسر رہے کیونکہ اس کے علاوہ اس کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔
ڈینالی کے مقام پر پہچ کر ہم انسولین کو کسی سامان کے اندر رکھ دیتے تھے اور پھر اسے ساتھ لے کر ہی سو جاتے تھے۔ درجہ حرارت منفی 40 سینٹی گریڈ تک گر جاتا تھا اور یہ سمٹ کے جگہ پر اوسطاً ہمارے لیے منفی 32 سینٹی گریڈ ہوتا تھا۔
انسولین کے بغیر آپ کے سیل توانائی کی کمی کا شکار ہوسکتے ہیں اور جسم میں گلوکوز کی مقدار کو خطرناک حد تک بڑھا سکتا ہے
انسولین کو زیادہ ٹھنڈ سے محفوظ بنانے کے لیے ہم اس پر اپنی جیکٹ کے اندر بھی کئی تہیں پہنے ہوئے تھے تاکہ یہ جم نہ سکے۔ ہم اس وجہ سے انسولین کو باہر نہیں نکالتے تھے کیونکہ یہ بہت جلد جم جاتی ہے۔ جمی ہوئی انسولین کا مطلب ہے کہ اس کا اثر ختم ہو گیا ہے اور اس صورت میں خطرناک حد تک بلڈ شوگر لیول بڑھ سکتا ہے۔
دوردراز علاقوں میں بھی ہم اس بات کو یقینی بناتے تھے کہ ہمارے پاس انسولین کی مقدار کافی ہے۔ اگر کسی چیز کو تبدیل کرنے کی ضرورت بھی ہو تو ہم فارمیسی سے زیادہ دور نہیں ہوتے تھے۔ ہم دور رہ بھی نہیں سکتے تھے۔

ذیابیطس کیا ہے؟

دنیا میں کئی ملین لوگ شوگر جیسے مرض میں مبتلا ہیں۔ ان کی اکثریت یعنی 95 فیصد کو ٹائپ ٹو شوگر ہے جس کا مطلب ہے ان کا جسم مناسب مقدار میں انسولین کو استعمال نہیں کر رہا ہے۔ گلوکوز کے حصول کے لیے انسولین کا استعمال ضروری ہے اور یہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب جسم میں کاربوہائیڈریٹس ٹوٹتے ہیں۔
ٹائپ ٹو ذیابیطس کو خوراک، ورزش اور ادویات کے استعمال کے ذریعے سے ہی کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ کبھی کبھار انسولین کے استعمال کی ضرورت پڑتی ہے۔ کچھ خاص ٹائپ ٹو کے شکار گروپس کو زیادہ خطرے کا سامنا رہتا ہے جس میں امریکہ میں رہنے والے افریقی، لاطینی، آبائی امریکی، ایشیئن اور بوڑھے افراد بھی شامل ہیں۔
ٹائپ ون ایک ایسی آٹوامیون مرض ہوتا ہے جس میں جسم بالکل بھی انسولین پیدا نہیں کر سکتا لہٰذا جسم میں انسولین انجیکٹ کرنی پڑتی ہے۔ اس سے کسی رنگ، نسل اور جسامت کے انسان کو چھوٹ حاصل نہیں ہے۔ یہ مرض کسی کو بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بعض دفعہ ابتدائی عمر کی ذیابیطس کہلاتی ہے لیکن یہ بات سچ نہیں ہے۔ اس مرض کی تشخیص عمر کے کسی حصے میں بھی ہو سکتی ہے۔
تقریباً 1.25 ملین امریکی ٹائپ ون ذیابیطس کا شکار ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال 40000 نئے افراد میں اس مرض کی تشخیص ہو رہی ہے۔
پیٹرک اور مائیکل 2015 سے دوست ہیں اور ایک فلاحی ادارے سے وابستہ ہیں جو ٹائپ ون کے مریضوں سے متعلق کام کرتا ہے اور متاثرہ افراد کے خاندانوں کو مدد فراہم کرتی ہے۔
انھوں نے گذشتہ برس ایک پلان بنایا جس کا مقصد ایسے افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا ہے اور فلاحی ادارے کے لیے فنڈز اکھٹا کرنا ہے تاکہ ٹائپ ون کے مریضوں کو سیر و تفریح میں مدد کی جاسکے۔
اپنی ہی ٹائپ ون کے افراد کو اپنے اردگرد جمع کرنے سے اس مرض سے متعلق آپ کے تصورات کو بدل سکتے ہیں
پیٹرک کا کہنا ہے کہ ’ہمیں سیر و سیاحت کا بہت شوق ہے۔ گذشتہ سال میں نے جون موئر ٹریل پر ہائیکنگ کی اور اس کے بعد اس بارے مائیکل کو بتایا۔ میں ٹائپ ون ذیابیطس کے شکار ذیادہ سے ذیادہ مریضوں کو کسی بڑے ایڈونچر پر لے کر جانا چاہتا ہوں۔‘
’یہ ایک بہت اچھا احساس ہے کہ آپ کے ساتھ کوئی ایسا ہو جو بلڈ گلوکوز کے اتار چڑھاؤ سے واقف ہو۔ ایسا کوئی اور نہیں ہے جس کے ساتھ میں ایسا ایڈونچر کرنا چاہوں۔‘
وہ زیادہ وقت اس بات کا پتا چلانے میں وقف کرتے ہیں کہ ان کو کون سی ٹیکنالوجی استعمال کرنی ہے جو تسلسل سے گلوکوز سسٹم کی مانیٹرنگ کر سکے اور یہ سب آپ کے فون پر یا کسی چھوٹی ڈیوائس پر مسلسل ریڈنگ کی شکل میں نظر بھی آ رہا ہو بجائے اس پرانے طریقے کے جس میں انگلی پر کٹ کے طریقے سے بلڈ گلوکوز کی ریڈنگ معلوم کی جاتی ہے۔
ان کی انسولین پمپ میں ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال بھی شامل ہے جو انسولین سپلائی کو روک سکتی ہے جب بلڈ گلوکوز کا لیول بہت ہی کم ہو رہا ہو۔
ان دونوں نے اپنا مشن 41 دن میں مکمل کرنے کا تہیہ کر رکھا تھا لیکن جب وہ ویسٹ ورجینیا میں واقع سپروس کنوب کا رخ کیے ہوئے تھے تو انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ شیڈول سے ایک دن پہلے ہی سفر پر نکل چکے تھے اور اب یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنا سفر 39 یا 40 دنوں میں ہی مکمل کر لیں۔
پیٹرک کا کہنا تھا کہ ’ان کے انرجی لیول میں اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے۔ تقریباً گذشتہ رات اڑھائی بجے ہم نے ایک منزل کو پار کیا۔ اس کے بعد صبح ساڑھے آٹھ بجے تک نو میل کی مزید ہائیکنگ کی۔ ہمیں کافی ملتی رہے اور آرام کا موقع بھی میسر رہے تو تب وہ ٹھیک رہتے ہیں۔‘
ہم لوگوں سے انرجی حاصل کرتے ہیں جو ہمیں سمٹ کے سلسلے میں آ کر ملتے ہیں اور یہ ہمیں حقیقت میں بہت خوش کر دیتا ہے۔ ذیابیطس ایک بہت تنہا کر دینے والی کیفیت ہوتی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ ہم ہر وقت ہی بیمار لگیں۔ میرے خیال میں لوگوں کو یہ سمجھنے میں مشکل درپیش آتی ہے کہ یہ مرض 24 گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن ہمارے ساتھ ہوتا ہے۔
ہم دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اگر آپ کا رویہ مثبت ہو تو پھر آپ ایسی کیفیت میں کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس طرح کے مصروف شیڈول میں صحت مند خوراک کا ہونا بھی ضروری ہے۔
لیکن مائیکل کا کہنا ہے کہ اونچائی بھی آپ کی خوراک کو متاثر کرسکتی ہے۔ ابھی میرا چیلنج یہی ہے کہ میں زیادہ کھاؤں۔ اس میں کوئی تسلسل نہیں ہوتا۔ اس دوران ہم کبھی بھی آٹھ گھنٹے نہیں سو سکتے ہیں اور نہ ہی دن میں تین بار کھانا کھا سکتے ہیں۔ ہم ایک بار میں چند گھنٹوں کے لیے سوتے ہیں، ایک وین میں رہ رہے ہیں اور اب ایک گیس سٹیشن پر کھانا کھائیں گے۔
اونچائی بھی آپ کی خوراک کو متاثر کرسکتی ہے
پیٹرک بھی اس بات پر متفق ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ ہم اچھا کھانا کھا سکیں۔ لیکن ہم ابھی چاکلیٹ بار اور پنیر پر گزارہ کر رہے ہیں۔ ہم اتنے زیادہ مصروف ہیں کہ 12 گھنٹے چلنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ کھانے کے لیے ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے یا ہم نے ابھی کچھ ہلکا پھلکا چپس اور بسکٹ وغیرہ کھائے ہیں۔
مائیکل کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ایک خواب سے کم نہیں ہے۔ ہم نے اس کی پلاننگ کے لیے کئی ماہ خرچ کیے اور پھر ایک ایسا سیلاب آیا کہ اس نے ہمارا پلان ہی بدل کے رکھ دیا۔ ذیابیطس ہے ہی ایسا مرض۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کتنے تیار ہیں کچھ بھی گڑبڑ ہو سکتی ہے۔
کئی دنوں تک میں جب جاگتا تھا تو اپنے آپ سے یہی کہتا تھا کہ میں یہ سب کیا کر رہا ہوں۔ پھر کچھ تجربات ایسے ہوئے جس سے ہمیں معلوم ہوا کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔
’شمالی کیرولینا میں ہم نے ایک ہائی سکول کے طالبعلم کے ساتھ ہائیکنگ کی جسے کچھ مشکلات کا سامنا تھا۔ جب ہم نے ہائیکنگ ختم کی تو اس کا کہنا تھا کہ اس سے اس کو یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ مستقبل روشن ہے۔‘
’اگر ہم جو کر رہے ہیں اس سے کسی ایک بھی بچے کا بھلا ہو جائے تو یہ ہمارے لیے بھی بہت قیمتی ہے۔‘

اتوار، 16 فروری، 2020

6:02 PM

پنجاب حکومت نے سرکاری دفاتر میں واٹس ایپ کے استعمال پر پابندی عائد کر دی

لاہور: پنجاب حکومت نے غیر متعلقہ افراد پر خفیہ معلومات افشاں ہونے کے خدشات کے پیش نظر دفاتر میں واٹس ایپ کے ذریعے سرکاری دستاویزات کی شیئرنگ پر پابندی عائد کردی ہے۔
ذرائع کے مطابق صوبائی حکام کو اس ضمن میں شکایات موصول ہوئی تھیں کہ سرکاری محکمے اپنے دفتری معاملات چلانے کے لئے واٹس ایپ کا استعمال کررہے ہیں اور میسجنگ سروس پر دستاویزات کا تبادلہ کیا جارہا ہے۔
مزید پڑھیں: 
بتایا گیا ہے کہ دستاویزات شیئرنگ کے لیے واٹس گروپس تشکیل دیئے گئے تھے جہاں سے یہ دستاویزات لیک ہوئے ہیں۔
اعلی افسران نے اس سنگین معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تمام محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ حکومت کو ممکنہ خطرات کے پیش نظر کراس پلیٹ فارم میسجنگ سروس پرسرکاری دستاویزات اور معلومات کا تبادلہ کرنے سے اجتناب کریں۔
صوبائی حکومت کے عہدیداروں نے انکشاف کیا کہ محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن (ایس اینڈ جی اے ڈی) نے یہ احکامات جاری کیے ہیں۔
مزید یہ کہ تمام سیکشن افسران ، لاء افسران اور ریاستی افسران کو بھی احکامات کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہےکہ احکامات کے مطابق پابندی پر فوری عمل درآمد کیا جائے گا۔
1:21 PM

آن لائن مواد پر ٹیلی مواصلات اور میڈیا قواعد لاگو ہو سکتے ہیں، زکربرگ

میونخ : فیس بک کے سربراہ مارک زکربرگ نے کہا ہے کہ ٹیلی مواصلات اور میڈیا کی صنعتوں سے متعلق موجودہ قواعد کو سامنے رکھتے ہوئے آن لائن مواد کو ضابطے میں لایا جاناچاہیے۔
انھوں نے یہ بات جرمنی کے شہر میونخ میں سکیورٹی کانفرنس میں شریک عالمی رہنماؤں اور سکیورٹی اداروں کے سربراہان سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔زکربرگ نے کہا کہ فیس بک آن لائن انتخابی مداخلت کے تدارک کے حوالے سے اپنے کام میں بہتری لایا ہے، انھوں نے اپنے گزشتہ مطالبے کو وسعت دیتے ہوئے سوشل میڈیا اداروں کو ریگولیٹ کرنے پر زور دیا۔
سوال و جواب کی نشست کے دوران، زکربرگ نے کہا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ مضر نوعیت کے مواد کو ضابطہ کار میں لایا جانا چاہیے، اس ضمن میں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے لیے آپ کون سا طریقہ کار استعمال کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ اس وقت موجودہ صنعتوں کے لیے ہمارے پاس دو قسم کے فریم ورک موجود ہیں، جیسا کہ اخبارات اور موجودہ ذرائع ابلاغ کے قواعد؛ پھر ہمارے پاس ٹیلی فون کے قسم کا ماڈل ہے، جو ڈیٹا آپ سے شروع ہوتا ہے، لیکن ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی اگر ٹیلی فون لائن پر ضرررساں بات کرے تو آپ ٹیلی مواصلات کو ذمہ دار بنائیں۔
فیس بک اور سوشل میڈیا کے بڑے ادارے، جیسا کہ ٹویٹر اور گوگل پر دباؤڈالا جا رہا ہے کہ ایسی حکومتیں اور سیاسی گروپ جو ان کے پلیٹ فارمز استعمال کرتے ہوئے جھوٹی اور گمراہ کن اطلاعات دیتے ہیں، اس کا تدارک کیا جانا چاہیے۔
زکربرگ نے کہا کہ انھوں نے اب 35000 افراد کو اس کام کے لیے تعینات کیا ہے، تاکہ وہ آن لائن مواد کا جائزہ لیتے رہیں اور سیکیورٹی کے اقدامات پر عمل درآمد کریں۔انِ دنوں یہ ٹیمیں اور فیس بک کی خودکار ٹیکنالوجی روزانہ 10 لاکھ سے زائد جعلی اکاؤنٹس کو معطل کرتی ہیں۔

1:18 PM

چین میں کرونا وائرس سے بچنے کے لیے ہوٹل میں روبوٹ کام کرنے لگے

ویب ڈیسک :کرونا وائرس کےخوف سےچین کے ایک ہوٹل میں روبوٹ کام کرنے لگے۔ ہوٹل اپنے کسٹمرز کو ربوٹ کی مددسے کھانا پیش کرے گا ۔ تفصیلات کے مطابق چین میں کروناوائرس کےموجودہ حالات کے پیش ِ نظرایک ہوٹل نےاپنےکسٹمرز کو کھانا پیش کرنے کے لیےربورٹ کا استعمال کرنا شروع کردیاہے تاکہ لوگوں کوکرونا وائرس سے بچا جاسکے ۔ ہوٹل کی16منزلہ عمارت میں ہرمنزل پرربورٹ موجودہوگاجوکسٹمرزکو اپنی خدمات پیش کرےگا۔ ژن ہوانیوزکی ویڈیومیں دیکھا جاسکتا ہے کہ ماسک لگائے ہوٹل کے مہمان روبوٹ سے کھانا وصول کرنے کے بعد اپنے کمروں میں جارہے ہیں۔
1:16 PM

ناسا کے خلائی جہاز کے مشاہدوں سے سیاروں کی پیدائش کا نیا نظریہ پیش

NASA/JHUAPL/SWRI/Roman Tkachenko
خلا میں تیرتا ایروکوتھ نامی یہ جسم نظامِ شمسی کے قدیم دور کی باقیات میں سے ہے
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہمارے نظامِ شمسی کے سیاروں کے وجود میں آنے کے متعلق موجودہ نظریے کو 'فیصلہ کن طور پر' رد کردیا ہے۔
موجودہ نظریہ یہ ہے کہ مادہ ہیجانی انداز میں ایک دوسرے سے ٹکرا کر بڑے سے بڑے ٹکڑوں کی شکل اختیار کرتا رہا یہاں تک کہ سیارے وجود میں آ گئے۔
مگر نئے تحقیقی نتائج یہ بتاتے ہیں کہ یہ مرحلہ اتنا پرتصادم نہیں تھا جبکہ مادے نے ایک دوسرے سے آہستہ آہستہ جڑ کر سیاروں کی شکل اختیار کی۔
یہ تحقیق جریدے 'سائنس' میں شائع ہو رہی ہے اور اسے سیاٹل میں امیریکن ایسوسی ایشن فار ایڈوانسمنٹ آف سائنس کی میٹنگ میں پیش کیا جا چکا ہے۔
اس تحقیقی مطالعے کے مرکزی محقق ڈاکٹر ایلن سٹرن نے کہا کہ یہ دریافت 'زبردست اہمیت' کی حامل ہے۔
NASA/Bill Ingalls
وہ لمحہ جب ایلن سٹرن (بائیں) کو تصدیق موصول ہوئی کہ خلائی جہاز نیو ہورائزنز ایروکوتھ کے اوپر سے گزرا ہے
"انھوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ '1960 کی دہائی کے اواخر سے غالب نظریہ یہی تھا کہ مادے کے درمیان تصادم ہوا اور حال ہی میں آہستگی سے مادے کے جمع ہونے کا نظریہ ابھرا ہے۔ ایک نظریہ مٹی ہوچکا ہے اور دوسرا اب بھی قائم ہے۔ سیاروں کے علوم میں ایسا کم ہی ہوتا ہے مگر آج ہم نے معاملہ نمٹا دیا ہے۔'
یہ دعویٰ ایک تفصیلی تحقیق کے بعد سامنے آیا ہے جس میں نظامِ شمسی کے دور دراز حصے میں موجود ایک چیز کا مطالعہ کیا گیا۔ ایروکوتھ نامی یہ جسم سورج سے چھ ارب کلومیٹر دور کائپر بیلٹ نامی حصے میں تیر رہا ہے۔ یہ سیاروں کے وجود میں آنے کی حیرت انگیز باقیات میں سے ہے جب 4.6 ارب سال قبل نظامِ شمسی وجود میں آیا تھا۔ ایروکوتھ دو اجسام کے مل کر ایک بڑا جسم بننے سے وجود میں آیا۔
سائنسدانوں نے ایروکوتھ کی ہائی ریزولوشن تصاویر اس وقت حاصل کیں جب قریب ایک سال قبل ناسا کا نیو ہورائزنز خلائی جہاز اس کے پاس سے گزرا تھا۔ اس سے سائنسدانوں کو یہ پرکھنے کا پہلا موقع ملا کہ سیاروں کے وجود میں آنے سے متعلق کون سا نظریہ درست ہے: کیا ایروکوتھ دو ٹکڑوں کے آپس میں ٹکرانے سے وجود میں آیا یا یہ دونوں اجسام آپس میں آہستگی سے ملے۔
ڈاکٹر سٹرن اور ان کی ٹیم کو پرتشدد تصادم کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ انھیں تناؤ سے پیدا ہونے والی کوئی دراڑیں نہیں ملیں اور نہ ہی کسی جسم کے سپاٹ ہونے کے نشانات نظر آئے جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ یہ دونوں اجسام سست روی سے ایک دوسرے میں ضم ہوئے۔
ڈاکٹر سٹرن کہتے ہیں: 'یہ مکمل طور پر فیصلہ کن ہے۔ ایروکوتھ کے قریب سے گزرنے پر ایک ہی جھٹکے میں یہ فیصلہ ہوگیا کہ کون سا نظریہ درست ہے۔'
Lund Observatory
خلائی اجسام کے ایک دوسرے سے نرمی سے جڑنے کا نظریہ 15 سال قبل پروفیسر اینڈرز جوہانسن نے پیش کیا تھا
وہ اس قدر پراعتماد اس لیے ہیں کیونکہ کائپر بیلٹ کہلانے والے علاقے میں موجود یہ اجسام نظامِ شمسی کی پیدائش سے لے کر اب تک تقریباً ویسے کے ویسے ہی رہے ہیں۔ درحقیقت یہ گزرے زمانوں کے بہترین حالت میں محفوظ فوسلز کی طرح ہیں۔
نرمی سے جڑنے کا نظریہ 15 سال قبل سوئیڈن کی لونڈ رصدگاہ کے پروفیسر اینڈرز جوہانسن نے پیش کیا تھا۔ اس وقت وہ پی ایچ ڈی کے ایک نوجوان طالبعلم تھے۔ یہ نظریہ کمپیوٹر سمولیشنز کے ذریعے ابھر کر سامنے آیا تھا۔
ڈاکٹر سٹرن سے بات کرنے کے بعد میں نے پروفیسر جوہانسن کو کال کر کے یہ خبر سنائی کہ ان کے نظریے کی تصدیق ہوچکی ہے۔ فون لائن پر کچھ وقفے کے بعد انھوں نے کہا کہ انھیں 'بہت اچھا لگ رہا ہے۔'
انھوں نے کہا: 'یہ بہت خاص موقع ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں پی ایچ ڈی کا طالبعلم تھا اور ان نئے نتائج کے بارے میں بہت بے چین ہو رہا تھا کیونکہ یہ پہلے سے موجود نتائج سے کافی مختلف تھے۔ مجھے فکر ہو رہی تھی کہ کہیں میرے کوڈ میں کوئی غلطی تو نہیں یا میں نے کہیں حساب میں کوئی غلطی تو نہیں کر دی۔'
'اور پھر دیکھا کہ حقیقت میں مشاہدے نے ان نتائج کی تصدیق کر دی ہے تو یہ بہت خوشی کا احساس ہے۔'
Anders Johansen
پروفیسر جوہانسن اپنی بیٹی لورا کے ساتھ پیزا کھا کر اپنے نظریے کی تصدیق کا جشن منا رہے ہیں
پروفیسر جوہانسن نے اس موقعے کا جشن اپنے خاندان کے ساتھ پیزا کھا کر منای
بی بی سی کے فلکیات پر پروگرام سکائے ایٹ نائٹ کی شریک میزبان انجینیئر ڈاکٹر میگی ایڈیرین پوکوک نے خبردار کیا ہے کہ صرف ایک جسم کے مشاہدے کی بنا پر ایک پورے نظریے کو رد کرنا غلط ہوسکتا ہے لیکن انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر سٹرن کی تشریح 'بہت قابلِ فہم ہے۔'
'اچھا ہے کہ ہمارے پاس یہ ثبوت ہے کیونکہ تصادم کا نظریہ اچھا تھا مگر اس کے سامنے چند مشکلات تھیں۔ تصادم کے بعد یہ جسم ایک دوسرے کے ساتھ جڑے کیوں رہ جاتے اور اچھل کر دور کیوں نہ چلے جاتے؟ بہت چیزیں ایسی تھیں جو درست نہیں لگ رہی تھیں۔
جب ایروکوتھ چھ سال قبل دریافت کیا گیا تھا تو اسے صرف 2014 ایم یو 69 کے نام سے جانا جاتا تھا۔ جب نیو ہورائزنز اس کے پاس سے گزرا تو اسے الٹیما ٹولی کا غیر رسمی نام دیا گیا۔ ویسے تو یہ نام قرونِ وسطیٰ میں معلوم دنیا کی سرحد کا کام دینے والے دور دراز خطے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا مگر نازی نظریے کے حامیوں کی جانب سے آرین نسل کی دیومالائی سرزمین کے لیے اس نام کے استعمال کی وجہ سے تنازع پیدا ہوا۔
اس کا باضابطہ نام ایروکوتھ کا مطلب امریکہ کی مقامی زبان پوہاٹن/ایلگونکوئن میں 'آسمان' ہے۔
10:27 AM

لوگ رات گئے آن لائن شاپنگ کیوں کرتے ہیں؟

Getty Images
آن لائن کاروبار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر صارفین رات گئے اور صبح کے اوقات میں آن لائن خریداری کرتے نظر آتے ہیں۔
برطانوی سٹور جان لیوس پارٹنرشپ کارڈ کے نئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 15 میں سے ایک خریداری اب آدھی رات اور صبح چھ بجے کے اوقات کے درمیان کی جاتی ہے۔ تحقیق سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس عرصے میں کی جانے والی خریداریوں کی تعداد میں 2017 کے مقابلے میں 2018 میں 23 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
آن لائن کاروبار کے تجزیہ کار کرس فیلڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹیکنالوجی کی بہتری نے اس نئے رجحان کو جنم دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اس کی ایک وجہ موبائل فونز میں آنے والی جدت بھی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کاروبار بھی بہت زیادہ سمجھدار ہو رہے ہیں۔‘
’انھیں یہ احساس ہو گیا ہے کہ اگر آپ ویب سائٹ پر جاتے ہیں اور آپ وہاں خریداری نہیں کرتے ہیں تو، انھیں آپ کو ویب سائٹ پر واپس لانے کی کوشش میں پیسہ خرچ کرنا پڑے گا۔ لہٰذا وہ ویب سائٹ اور سافٹ ویئر پر بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔‘
Getty Images
جدید آن لائن فیشن برانڈ ’آئی سا اِٹ فرسٹ‘ کا کہنا ہے کہ انھوں نے بھی اپنی ویب سائٹ پر رات کے اوقات میں خریداری میں اضافہ دیکھا ہے۔
موسم گرما 2019 میں برطانوی چینل آئی ٹی وی کے ریئلیٹی شو ’لو آئی لینڈ‘ کے مرکزی معاون کار نے بی بی سی کو بتایا کہ گاہکوں کی سب سے زیادہ آمد و رفت رات نو بجے واقع ہوتی ہے اور تقریباً رات ایک بجے ختم ہوتی ہے۔
ان اوقات کے دوران، 18 برس سے 24 برس کی عمر کے صارفین ویب سائٹ پر سب سے زیادہ متحرک رہتے ہیں، جبکہ کپڑے اور ٹاپس سب سے زیادہ مشہور آئٹم ہیں۔
الیکٹرانکس کی دکان، کریز پی سی ورلڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی ویب سائٹ پر ٹریفک عام طور پر ہفتے کے دوران رات آٹھ بجے سے 10 بجے کے درمیان رہتی ہے۔ لیکن گذشتہ برس رات 10 بجے سے رات تین بجے کے درمیان آن لائن خریداری کرنے والوں کی تعداد میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ ٹریفک وصول کرنے والی مصنوعات کے زمرے میں کمپیوٹر گیمنگ ہارڈویئر، کمپیوٹر کے آلات اور گیمنگ سے منسلک اشیا شامل ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ لوگ اتنی رات گئے شاپنگ کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کرتے ہیں؟

’بس یہ ہی وقت ہے‘

لندن میں مقیم ایک ڈاکٹر، رومانہ کوچائی کا کہنا ہے کہ رات کو بستر میں لیٹنے کا وقت ہی صرف وہ ٹائم ہوتا ہے جب انھیں آن لائن خریداری کرنے کا وقت مل جاتا ہے، چاہے وہ ضروری اشیا ہوں یا پھر ایسے ہی پسند آ جانے والی چیزیں۔
اور وہ اکیلی نہیں ہے۔ بہت سی خواتین نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ بھی رات گئے کپڑوں کی خریداری کرنا پسند کرتی ہیں اور یہاں تک کہ وہ روز مرہ کی گھریلو اشیا کی خریداری کے آرڈر بھی رات کو ہی دیتی ہیں۔
IAIN TAYLOR
ہیمپشائر میں مقیم مارکیٹنگ ڈائریکٹر کیری واٹس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دن کے وقت میرا دماغ چکرا رہا ہوتا ہے، لہٰذا میں رات کے وقت اکثر گھر کی سجاوٹ کی اشیا، کپڑے اور کھانا آرڈر کرتا ہوں۔‘
اس کا تعلق جان لیوس کی تحقیق سے ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ رات کے وقت مردوں کے مقابلے میں زیادہ خواتین آن لائن شاپنگ کرتی ہیں۔ تاہم مرد عورتوں کے مقابلے میں آن لائن شاپنگ پر زیادہ پیسے خرچ کرتے ہیں۔
صبح کے ابتدائی اوقات میں جان لیوس پر خریدی جانے والی سب سے مقبول پانچ اشیا یہ ہیں:
لحاف
ٹیلی ویژن سیٹ
لیپ ٹاپ کمپیوٹرز
موبائل فونز
فریزرز
27 سالہ لیوک نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اور ان کی ساتھی ہفتے میں 45-50 گھنٹے کام کرتے ہیں، اور وہ روزمرہ کی اشیا خریدنے کے لیے آن لائن شاپنگ کا استعمال کرتے ہیں تاکہ وہ ہفتے کے آخر میں ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزار سکیں۔
تاہم، تجزیہ کار کرس فیلڈ کا کہنا ہے کہ رات کے وقت آن لائن کی جانے والی خریداری دراصل ایک ’خریداری کے سفر‘ کا حصہ ہے جو دن کے اوائل میں شروع ہوتا ہے۔
آن لائن سٹورز کا کہنا ہے کہ بہت سی خریداری بلاوجہ نہیں کی جاتی، عام طور پر صارف نے موبائل پر کسی چیز کو خریدنے سے قبل شاید کسی کمپیوٹر پر کم از کم ایک بار اس چیز کو ضرور دیکھا ہوتا ہے۔
اس کا تعلق الیکٹروکارڈیوگرام ٹیکنیشن ٹیا جان سٹون کے تجربے سے ہے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ کمپیوٹر پر بیٹھ کر آن لائن شاپنگ کے لیے چیزوں کو چنتی ہیں اور پھر رات گئے آن لائن خریداری کرتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پتہ نہیں کیوں لیکن انتہائی بیکار لباس بھی اچانک رات کو پونے بارہ بجے کے قریب پہننے کے قابل دکھائی دیتا ہے۔‘
تجزیہ کار کرس فیلڈ کے مطابق گذشتہ دو سالوں میں رات میں خریداری کا رجحان بڑھ گیا ہے اور خریدار دن کے غیر معمولی اوقات میں نہ صرف اشیا خرید رہے ہیں بلکہ مختلف اوقات میں واپسی بھی شروع کر رہے ہیں۔
SOPA IMAGES
انھوں نے مزید کہا کہ اب آن لائن سٹورز کو اس بات پر غور کرنا ہو گا کہ آیا انھیں عملے کے ڈیوٹی کے اوقات میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے خاص طور پر جیسا کہ آن لائن شاپنگ مارکیٹ اور زیادہ مسابقتی بن گئی ہے۔
ایک آن لائن کاروبار کرنے والی کنسلٹینسی فرم الیکس پارٹنرز کی جانب سے کی گئی تحقیق سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایک آن لائن ای کامرس ویب سائٹ چلانے کے اخراجات اب اصلی دکان چلانے کے اخراجات کے برابر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کہ ’آن لائن سٹورز یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا انھیں اپنے رابطے کے مراکز میں کسی قسم کی رات کی شفٹ کی ضرورت ہو گی، فی الحال تو کچھ ہی افراد دستیاب ہیں جو آرڈرز کے حوالے سے گاہک کی مدد کرنے یا سوالوں کے جوابات دینے میں مدد فراہم کریں گے۔‘