عراق میں امریکی فضائی حملے میں ایرانی القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد اٹھنے والا طوفان خاموش ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی امریکی فوج کے عراق سے انخلاء کے مطالبات بھی دھیمے پڑ گئے ہیں۔ شاید تمام فریقوں بالخصوص امریکیوں اور ایرانیوں کا یہ موقف ہے کہ انہیں ایک نئی حقیقت کا سامنا ہے۔جہاں تک امریکیوں کا تعلق ہے تو وہ مختصرا اپنا موقف اس طرح بیان کرتے ہیں کہ "امریکا خطے کو چھوڑ کر ہر گز نہیں جائے گا"۔ وہ اب عراق اور مشرق وسطی میں باقی رہنے کے انتظامات کر رہے ہیں۔
اس بات کا یہ مطلب ہوا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ارکان مشرق وسطی میں ایک نئے انداز سے خطرات کا مقابلہ کرنے کے واسطے کام کر رہے ہیں۔ اس کا مرکزی پہلو "مشرق وسطی میں بقاء" اور نیٹو اتحاد اور علاقائی قوتوں کے ساتھ زیادہ تعاون ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Please do Not enter your any spam link in the comment box.