Popunder ads

Breaking

جمعہ، 14 فروری، 2020

محبت کرنے والوں کا عالمی دن آج منایا جارہا ہے

دنیا بھر میں آج 14فروری کو محبت کرنے والوں کا عالمی دن یعنی ’ویلنٹائن ڈے‘ منایا جاتا ہے۔ محب کے اس بین الاقوامی دن کے موقع پر نوجوان جوڑے بالخصوص آپس میں مٹھائیوں ، پھولوں اور تحائف کا تبادلہ کرتے ہیں۔
معاشی طور پر بھی ویلنٹائن ڈے کو ایک بڑی سرگرمی کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور کرسمس کے بعد یہ دوسرا بڑا تہوار ہے، جب خریدو فروخت عروج پر ہوتی ہے ۔ محتاط اندازے کے مطابق اس موقع پر محض ترقی یافتہ ممالک میں 15 کروڑ سے زائد کارڈز کا تبادلہ ہوتا ہے۔
ویلنٹائن ڈے کے پیچھے کیا کہانی ہے… آئیے اس حوالے سے قدیم رومن زمانے سے لے کر وکٹورین دور تک نظر ڈالتے ہیں، معلوم تاریخ میں تین افراد ویلنٹائن کے نام سے جانے جاتے ہیں جن سے یہ دن منسوب ہے، یعنی اس ایک دن کی تین مختلف داستانیں ہیں۔
ایک داستان یہ ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں جب رومی بادشاہ کلاڈیوس دوئم کو جب جنگ کے لیے لشکر تیار کرنے میں مشکل ہوئی تو اس نے اس کی وجوہات کا پتہ لگایا ، بادشاہ کو معلوم ہوا کہ شادی شدہ لوگ اپنے اہل وعیال اور گھربار چھوڑ کر جنگ میں چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو اس نے شادی پر پابندی لگادی لیکن ویلنٹائن پادری نے اس شاہی حکم نامے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف خود خفیہ شادی رچالی ، بلکہ اور لوگوں کی شادیاں بھی کرانے لگا۔، جب بادشاہ کو معلوم ہوا تو اس نے ویلنٹائن کو گرفتار کیا اور 14 فروری کو اسے پھانسی دے دی۔
دوسری جانب کچھ اور اساطیر کے مطالعے سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ ویلنٹائن نامی پادری کو بادشاہ وقت نے اس لیے قتل کردیا تھا کہ اس نے مسیحیوں کو رومیوں کی جیلوں سے فرار کروانے میں مدد کی کوشش کی تھی جہاں ان مسیحیوں کو مار پیٹ اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔
تیسری کہانی یہ ہے کہ جیل میں قید پادری ویلنٹائن کو قید خانے کے جیلر کی کم عمر بیٹی سے محبت ہو گئی جو جیل میں اس سے ملنے آیا کرتی تھی۔ پھانسی پانے سے قبل اس نے جیلر کی بیٹی کو خط لکھا جس کے آخر میں لکھا “تمہارا ویلنٹائن”… یہ واقعہ 14فروری 270ء کا ہے۔
یہ طریقہ بعد میں محبت کرنے والوں میں رواج پاگیا اور وہ آج تک اس دن محبت کے اظہار کے لیے کارڈز کا تبادلہ کرتے ہیں۔
تاہم ان تمام کہانیوں کے باوجود ویلنٹائن ڈے کی حقیقت آج تک پراسرار ہی سمجھی جاتی ہے۔
بعض لوگوں کے نزدیک پریمیوں کا دن منانے کے لیے 14 فروری کی تاریخ اس لیے متعین کی گئی کہ یہ ویلنٹائن کی موت کا دن ہے۔
مسیحیت سے قبل کا تہواردلچسپ بات یہ ہے کہ مسیحی دور کے آغاز سے قبل روم کے شہری فروری کے وسط میں یعنی 15 فروری کو اپنے ایک دیوتاLupercalia کے نام پر سالانہ میلے کا انعقاد کیا کرتے تھے۔
روایت کے مطابق Lupercalia میلے میں لڑکیوں کے نام ایک برتن میں ڈال دیے جاتے اور مرد بغیر دیکھے جس لڑکی کا نام نکالتے وہ ہی ان کی ساتھی بن جاتی اور بعض مرتبہ شریک حیات بھی
پانچویں صدی عیسوی کے اختتام پر اس تہوار کو کلیسا کی جانب سے ممنوع قرار دیا گیا اور پاپائے روم پوپ گیلاسئیس (Gelsius)نے ماہ فروری کے اس تہوار کو “ویلنٹائن ڈے” میں تبدیل کر دیا۔
داستانوں سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے ویلنٹائن نے سب سے پہلے محبت کا رقعہ بھیجا تاہم عوامی سطح پر محبت کی عبارتیں تحریر کرنے کا رواج 1400ء کے بعد شروع ہوا۔
اس حوالے سے ویلنٹائن ڈے کے موقع پر معلوم سب سے پرانا کارڈ وہ قصیدہ ہے جو 1415ء میں فرانسیسی شاعر چارلس (ڈیوک آف اورلیئنز) نے اپنی بیوی کو اُس وقت لکھ کر بھیجا جب وہ لندن ٹاور میں قید تھا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Please do Not enter your any spam link in the comment box.