Popunder ads

Breaking

جمعہ، 6 مارچ، 2020

عورت مارچ رکوانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

عورت مارچ رکوانے کے لیے دائر درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے سماعت کی اوردرخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ہم عورت مارچ یا ان کے حقوق کے نہیں، ان کے پلے کارڈز اور سلوگنز کے خلاف ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ عورت مارچ کے پلے کارڈز اور سلوگن اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں۔
چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ان کے سلوگن تو وہی ہیں کہ جو اسلام نے ان کو حقوق دیے، ان کے سلوگنز کی کیا ہم اپنے طور پر تشریح کر سکتے ہیں؟ سب سے پہلے جس نے اسلام قبول کیا وہ خاتون تھیں۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ خواتین کو جو حقوق دیئے گئے ہیں میں ان کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
عدالت نے ان سے سوال کیا کہ کس نے بچیوں کو زندہ دفن کرنے کو ختم کرایا ہے؟
وکیل نے جواب دیا کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بچیوں کو زندہ دفن کرنا ختم کرایا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آج بھی ہمارے معاشرے میں بچیوں کے پیدا ہونے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا، یہ عورت مارچ تو ابھی ہونا ہے، آپ کی درخواست قبل از وقت ہے۔
عدالتِ عالیہ نے عورت مارچ رکوانے کی درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Please do Not enter your any spam link in the comment box.