کومل عزیز خان ان کی بہن اور والدین امریکہ میں رہتے تھے پھر کومل عزیز خان کے والدین نے پاکستان شفٹ ہونے کا پلان بنا لیا تو کچھ عرصہ تک کومل عزیز کی فیملی پاکستان آگئی تو کومل عزیز خان کی فیملی ایک یوٹل کے ڈیپارٹمنٹ میں شفٹ ہونے کا ارادہ کر لیا وہ لوگ کچھ وقت ہی ہوٹل میں رکے تھےاور خاشگوار زندگی گزار رہے تھےابھی ان کو شفٹ ہوئے کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ کومل عزیز کے والد صاحب کا انتقال ہو گیاکومل عزیز اپنے والد کے انتقال کے بعد دونوں بہنیں اپنی والدہ کے ساتھ رہتی تھیں ڈیپارٹمنٹ کا مالک ایک سندھی وڈیرااور بدمعاش تھااس نے ان لوگوں کو تنگ کرنا شروع کر دیا اور ان سے پیسے چھین کر لے جاتا تھا اس علاقے کے لوگ اس آدمی سے ڈرتے تھے کومل عزیز اواسکی فیملی نے گیارہ مہینے ہی اس ڈیپارٹمنٹ میں گزارے تھے اور جب ڈیپارٹمنٹ چھوڑنے لگے تو ایڈوانس والی رقم واپس مانگ تو وڈیرے نے ان کو تنگ کرنا شروع کر دیا اور پیسے دینے سے انکار کر دیا اور کومل عزیز پر فائرنگ کر دی کومل عزیز روتی چلاتی رہی سارے لوگ اکھٹے ہو گئے لیکن کسی نے بھی ان کی مدد نہیں کی اور وہ آدمی بھاگ گیا اور اس نے کومل عزیز کے گھر کی بجلی کاٹ دی کومل عزیز کے جاننے والے ایک انکل تھے اس نے سوچا کہ اپنے انکل کو اس وڈیرے کے پاس لے کر جائے تاکہ ان سے پیسے واپس لے سکے اس آدمی نے کومل کی بہن کو اور اس کے انکل کو بہت ماراتو کومل عزیز نے وی فلیٹ چھوڑنے کا ارادہ کر لیا اس واقع کے بعد کومل عزیز خان کو پتہ چل گیا کہ اگر والد کا سایہ سر پر نہ ہو تو دنیا والے جینا دشوار کر دیتے ہیں کومل عزیز نے اپنی محنت اور لگن سے ڈراموں میں کام کرنا شروع کر دیا اور کومل عزیز نے اپنے والد کی وفات کے بعد اپنے پورے گھر کی ذمہ داری کو اُٹھایا اور کومل عزیز نے اپنی والدہ اور اپنی بہن کی تمام ضروریات کو پورا کیا اور پھر اپنی فیملی کے ساتھ خاشگوار زندگی گزارنے لگیں
ازقلم رمشہ نوریز

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Please do Not enter your any spam link in the comment box.