اب یہی معاملہ لیجئے کہ امارات نے بھارتی ہٹلر مودی کو "خلعت فاخرہ " سے نوازا تو امارات کی مذمت لازمی ہے ورنہ حب الوطنی مشکوک ہے -
جہاں تک تعلق ہے امارات کی اس "حرکت" کا تو اس کے دو پہلو ہیں ..
ایک امت دوسرا کاروبار
اگر تو آپ امت مسلمہ والا چورن پھانک کے پا بہ سیخ ہیں تو مجھے مت کوسیے کہ یہ دروازہ ہمارے مشرف صاحب نے خود مدت پہلے امت کے نظریئے کا باقاعدہ تمسخر اڑا کے بند کیا تھا - ان دنوں افغانستان پر امریکی دہشت گردی کا آغاز تھا ...امریکہ نے پاکستان کو دھمکی دی اور ہم "امت امت " کھیلنا بند کر کے "سب سے پہلے پاکستان " ہو گئے - اور پھر حالت یہ ہوئی کہ نہتے افغان عوام پر بمباری کے لیے ہماری سرزمین استعمال کی گئی -
دوست ! مجھے بتائیے ، یا اگر ضمیر زندہ ہے تو سوچئے کہ کیا اللہ ہمارے اس گناہ کو معاف کر دے گا کہ جس کا حصہ تمام قوم تھی ؟
عزیز ! اللہ نے کہیں ہمیں اس جرم میں تو آج تنہا نہیں کر دیا ؟
اس جرم کی فوری سزا تو ہمیں یہ ملی کہ ہزاروں پاکستانی بھی اس جنگ کے اگلے مرحلے میں شہید ہوے ..وہی امریکی قاتل اور قصائی بعد کو ڈرون حملوں کی صورت ہم پر ہی چڑھ دوڑے ..اور ہزاروں پاکستانی اس امریکی دہشت گردی کا شکار ہو گئے -
پھر ہمارے ساتھ ہی سنکیانگ میں مسلمانوں کے ساتھ جو ظلم جاری ہے اس پر ہم سب کے سب مجرمانہ طور خاموش ہو گئے ... حد یہ ہے کہ مذہبی جماعتیں بھی اس پر خاموش ہیں ..تو بھائی کون سی امت ؟ یقین جانیے ہمارے جرائم کی ہمیں سزا مل رہی ہے -
رہے یہ امارات والے تو ان کی دینی حمیت اور غیرت تو کب کی ختم ہو چکی ہے ، ان سے آپ کو کیا امید تھی - دوبئی والوں کا اسلام سے تعلق اگر دیکھنا ہو تو ان کے ساحل دیکھ لیجئے ، ان کے ہوٹل دیکھ لیجئے ...عجیب جہالت ہے کہ کسی کے سر پر عربی "ٹائر " کسا دیکھ لیا تو اس کو اسلام کا نمایندہ سمجھ لیا جاتا ہے .اور امت کا ٹھیکے دار ________
دوسری بات سمجھ لیجئے کہ دبئی والے اب مکمل کاروباری ہیں اور انڈیا ان کا بڑا کاروباری پارٹنر - سو وہ کس طرح ایک کاروباری ساتھی کو آپ کی خاطر ناراض کر لیں کہ ہم جو خود کشمیر کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں -
ہماری اپنی حالت آج کے دن تک یہ ہے کہ انڈیا کے ساتھ کاروبار ، سرحدیں ہر شے بحال ہے اور ہم امید کر رہے ہیں کہ دوسرے ہماری جنگ لڑیں - بھائی لوگو کوئی دوسرے کی جنگ نہیں لڑتا - دنیا بدل گئی ہے _
بہت تلخ بات ہے ایک عزیز الجھ سا گیا ..لیکن کیا الجھنے سے حقیقتیں بدل جاتی ہیں ؟
دیکھئے میانمار یعنی برما کی قاتل عورت آنگ سان سوچی وہ تھی کہ کبھی بہت لبرل بنتی تھی ...لیکن ہزاروں مسلمان برما میں قتل ہوے تو وہ بھی مودی بنی رہی ..لیکن پاکستان نے اس کو اسی طرح ایوارڈ دیا جس طرح دوبئی والوں نے ..اسی طرح چینی صدر کو ابھی آپ کے صدر نے ویسی ہی پٹی پہنائی جیسی دوبئی کے عربوں نے مودی کے گلے میں ڈالی - کیا چینیوں نے کشمیریوں سے زیادہ ایغور مسلمانوں پر زندگی تنگ نہیں کی - کیا برما جیسی وحشت کسی اور نے کی ؟
لیکن ان ہر دو ملکوں کے ساتھ ہم نے وہی معاملہ کیا جو امارات والوں نے کیا ؟
اگر امارات والے مجرم ہیں تو ہم کیوں پاک اور پوتر ؟؟؟
اور ہاں بیس لاکھ ہاں جی بیس لاکھ شامی مسلمان کس نے قتل کیے ؟
کیا آپ روسی جلاد اور قصائی پیوٹن کو بھول گئے ؟
اس اس جلاد پیوٹن کے ساتھ ہماری موجود حکومت نے کیا محبت بھرا سلوک کیا تھا ؟
یاد ہے ؟
بس اپنے زخم ہی دکھائی دیتے ہیں ؟
آپ اس پیوٹن کے جس طرح صدقے وار جا رہے تھے امارات والوں نے بھی وہی کیا ہے اور بس ....
اور ہاں چہار بہار ایرانی بندرگاہ کہ جو گوادر کے مقابل انڈیا کو دی گئی وہ بھی یاد کر لیجئے گا ضرور ، کیا ایران کی یہ "محبت " امہ کے تصور کو مجروح نہیں کرتی ؟
مذمت کیجئے ، ظلم کی کہ جو بھی کرے ..لیکن عورتوں کی طرح رونا ختم کیجئے -
حقیقت یہ ہے کہ عرب ہوں یا ایشیائی اور افریقی مسلمان حکمران سب ہی اس کھیل میں ننگے ہیں ...
جب ہم ضرورت آن پڑی تو "امہ امہ " کھیلنا شروع کر دیتے ہیں ..یہ بھلا کیا بات ہوئی ... جان لیجئے کہ ہمارا رونا دھونا اسی اخلاق باختہ عورت کی طعنہ زنی ہے کہ جو دوسری اخلاق باختہ عورت کو عزت لٹ جانے کا طعنہ دیتی ہے -
ہاں آخری بات ! امہ ہے آج بھی ہے ..لیکن معصوم عوام ، مسلمان عوام کے دلوں میں ، ایمان میں .. کبھی کسی عام عرب ، ترک ، مصری اور پاکستانی سے پوچھئے ...سب ایک دوسرے کے غم میں شریک ہیں ..ہاں یہ ایوارڈ دینے والے ، قاتلوں کے گلوں میں پٹیاں ڈالنے والے امہ نہیں ..یہ تو سب سے پہلے اقتدار والے ہیں .استعمار کے نمائندے ---
ازقلم ابوبکر قدوسی

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Please do Not enter your any spam link in the comment box.