آپ نے بہت پر جوش ہو کر ایک مقصد بنایا، پکا ارادہ کیا کہ فلاں فلاں طریقوں و راستوں کو اختیار کر کے اپنے بنائے ہوئے گولز کو حاصل کرنا ہے ۔ آپ نے اپنے پلان کو بار بار دیکھا، پڑھا اور خیالوں میں اس کو مکمل محسوس کرتے بہت خوش ہوئے ۔ آپ نے واقعی میں بہت اچھی شروعات کی ہیں میرے دوست۔مگر اصل کہانی اس کے بعد شروع ہوتی ہے ۔ آپ نے پلان کے مطابق قدم اٹھانے شروع کیے ۔ ۔ ایک دن، دو دن، ایک ہفتہ ، ایک مہینہ۔ ۔ ۔ پھر ۔ ۔ ۔دل اچاٹ ہو گیا، مزہ و شوق کم ہونے لگا۔ ۔ "پلان زبردست نہیں بنا، چلو دوبارہ بناتے ہیں۔ ۔ ۔اتنے دن ہو گئے کام کرتے ، جیسا سوچا تھا ویسا نہیں ہو رہا، اچھا اس پلان پر مزید ابھی کام روک دیتا ہوں ، فلاں والے مقصد پر کام کر لوں " وغیرہ، وغیرہ۔
تو دوستو، اوپر لکھی گئی سب باتیں اور سوچیں کوئی انہونی نہیں ہیں، کسی بھی مقصد پر کام جب شروع کیا جاتا ہے تو رکاوٹیں آتی ہیں مگر یقین مانیں کہ سب سے بڑی اور بری رکاوٹ ہم خود ہوتے ، ہماری اپنی سوچیں ہوتی ہیں ۔اپنی سستی و کاہلی ہوتی ہے ۔ اگر ان کو ہم قابو میں کرنا سیکھ جائیں تو مقصد پر جمے رہنا آسان ہو جاتا ہے ۔ یاد رکھیں کہ کسی بھی مقصد کو مکمل کرنے کے " فوکس" کو قائم رکھنا اور بتدریج بڑھائے جانا بہت اہم ہوتا ہے ۔ اب اس فوکس کو اختیار کرنا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے ۔ صرف بار بار کی پریکٹس کی ضرورت ہے ۔ کچھ اصولوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے بس۔ اور انہی صرف 5 اہم اصولوں کی آج میں آپ کو اس آرٹیکل میں آگاہی دوں گا۔ چلیں پھر اب میری اگلی لکھی باتوں کو لفظ بالفظ سمجھ کر پڑھنے اور ان پر عمل کرنے کے لیےتیار ہو جائیں ۔
|
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Please do Not enter your any spam link in the comment box.