Popunder ads

Breaking

اتوار، 2 فروری، 2020

شاہین باغ : ’دہشت گردوں کے لیے بریانی نہیں گولی‘

انڈین ریاست اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے دہلی اسمبلی کے انتخابات کے لیے اپنی مہم کا آغاز شاہین باغ میں شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں اور دہلی کے موجودہ وزیراعلیٰ آروند کجریوال کو شدید تنقید کا نشانہ بنا کر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’آروند کجریوال دہلی کے شہریوں کو صاف پانی نہیں دے سکتے مگر شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف شاہین باغ اور دیگر جگہوں پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کو بریانی فراہم کرتے ہیں۔‘
انڈین ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق سنیچر کو یوگی آدتیہ ناتھ نے دہلی میں ایک ریلی سے خطاب کے دوران مزید کہا کہ ’جب سے نریندر مودی وزیراعظم بنے ہیں تب سے ہم ہر دہشت گرد کی شناخت کر رہے ہیں اور انہیں بریانی کے بجائے گولیاں کھلا رہے ہیں۔‘
مزید پڑھیںانڈیا میں دہلی کا شاہین باغ مزاحمت کی علامت کیسے بنا؟Node ID: 455751’یہ لو آزادی‘ دہلی میں مظاہرہ کرنے والے طلبہ پر فائرنگNode ID: 456086’انڈیا میں صرف ہندوؤں کی چلے گی‘: مظاہرین پر فائرنگNode ID: 456506
انتخابی مہم کے لیے دہلی میں موجود اتر پردیش کے وزیراعلی کی زیادہ تر تقریریں پاکستان، شاہین باغ، گولی، بریانی اور آروند کجریوال کے گرد گھوم رہی ہیں۔
ان کے بقول ’پہلے کشمیر میں لوگ پاکستان سے پیسے لے کر فوج کو پتھر مارتے تھے، آروند کجریوال کی عام آدمی پارٹی اور کانگریس ان کو سپورٹ کرتی تھی لیکن یہ سب کشمیر کی خصوصی حثیت کے خاتمے کے ساتھ ہی ختم ہو گیا ہے۔‘
دہلی کے وزیراعلی کو مزید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ ’کجریوال کو میٹرو، صاف پانی یا بجلی نہیں بلکہ صرف اور صرف شاہین باغ چاہیے۔ آپ خود فیصلہ کریں کہ آپ کو میٹرو اور سڑکیں چاہئیں یا شاہین باغ۔ کجریوال ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے کے بجائے ساری رقم مظاہرین کے لیے بریانی خریدنے پر لگا دیں گے۔‘
دہلی کے علاقے کاروال نگر چوک میں ریلی سے خطاب کے دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ شاہین باغ کے مظاہرین وہی ہیں جن کے بڑے 1947 میں انڈیا پاکستان کی تقسیم کے ذمہ دار تھے۔ ’یہ لوگ شہریت کے قانون کے خلاف مظاہرے نہیں کر رہے بلکہ اس لیے مظاہرے کر رہے ہیں کہ انڈیا ورلڈ پاور نہ بنا سکے۔‘
خیال رہے کہ دہلی کے شاہین باغ میں مظاہرہ کرنے والوں کو ناصرف انڈین حکمران جماعت کے وزرا بلکہ اس کے حامیوں کی جانب سے بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انڈیا میں شہریت کے قانون کے خلاف مظاہرے ابھی بھی جاری ہیں (فوٹو: اے ایف پی)گذشتہ ایک ہفتے کے دوران مظاہرین پر دو بار فائرنگ بھی کی گئی ہے تاہم فائرنگ کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
سنیچر کو ایک شخص جو شاہین باغ کے قریب مبینہ طور پر جے شری رام کے نعرے لگا رہا تھا نے پولیس کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹوں کے پاس آ کر مظاہرین پر فائرنگ شروع کر دی تاہم پولیس نے اسے موقعے پر ہی گرفتار کر لیا اور اس کی فائرنگ سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔
عینی شاہدین کے مطابق اس شخص نے فائرنگ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’انڈیا میں صرف ہندوؤں کی چلے گی، اور کسی کی نہیں۔‘
اس سے دو روز قبل ایک اور شخص نے شاہین باغ سے چند کلومیٹر کی دوری پر واقع جامع ملیہ کے قریب مظاہرہ کرنے والے طلبہ پر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں ایک طالب علم زخمی ہوا تھا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Please do Not enter your any spam link in the comment box.