وزیراعظم کی زیرصدارت سوشل میڈیا کے مجوزہ قوانین پر نظرثانی اجلاس منعقد ہوا جس میں وزارت اطلاعات، داخلہ، قانون، آئی ٹی اور پی ٹی اے حکام نےشرکت کی۔
اجلاس میں حال میں بنائےگئے سوشل میڈیا رولز پر ردعمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جب کہ مجوزہ قوانین کے پیش نظر آزادی اظہار پر اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا، مشاورت کے بعد وزیراعظم نے مجوزہ قوانین پر عملدر آمد سے پہلے اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینےکی ہدایت کی۔
اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا سے متعلق قانون لانے کا بنیادی مقصد صرف اور صرف شہریوں کا تحفظ ہے، یہ قانون بچوں اور مذہبی معاملات سمیت قومی سلامتی کےتحفظ کے پیش نظر بنایا جا رہا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سنگاپور اور برطانیہ سمیت بہت سے ممالک ایسے قوانین لا رہے ہیں اور اب پاکستان بھی بدلتےحالات و واقعات کے پیش نظر ایسے قوانین لارہا ہے۔
وزیراعظم نے ہدایت دی کہ قانوں پر عملدرآمد سے پہلے تمام اسٹیک ہولڈرز سےمشاورت کی جائے اور ان اسٹیک ہولڈرز کی دی گئی تجاویز کو مجوزہ قانون میں شامل کیا۔
مزید پڑھیں: سوشل میڈیا قوانین: وزیراعظم عمران خان نے اجلاس طلب کر لیا
سوشل میڈیا کے قوانین کے حوالے کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Please do Not enter your any spam link in the comment box.