Popunder ads

Breaking

جمعہ، 21 فروری، 2020

کم نیند موٹاپے کی وجہ بن سکتی ہے,طبی ماہرین

اگر آپ اپنے موٹاپے سے پریشان ہیں تو سب سے پہلے اس کی وجہ جاننے کی کوشش کریں کیونکہ موٹاپا ایک ایسا مرض ہے، جس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں مثلا ً توانائی میں توازن کی کمی، ماحول، خاندان، جینز، ادویات، عمر اور خوراک لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ موٹاپے کی ایک وجہ کم نیند بھی ہوسکتی ہے۔ اچھی اور پُرسکون نیند صحت کے لیے بے حداہم ہے، تاہم آج کے دور کی مصروفیات نے نیند کا اوسط دورانیہ6گھنٹوں سے بھی کم کردیا ہے (طبی ماہرین 7 سے 8 گھنٹے تک سونے کا مشورہ دیتے ہیں)۔ اگر آپ کو نیند کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے تو یہ کمی دیگر مسائل کے ساتھ موٹاپے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔طبی ماہرین موٹاپے کو نیند سے منسلک کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ نیند اور وزن کا ایک خاص تعلق ہے۔کم عمری میں اگر آپ روزانہ 10گھنٹےکے بجائے 6گھنٹے سوتے ہیں تو یہ عمل آپ کے ہارمونز پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جو لوگ پوری نیند نہیں لیتے ان کے جسم میں گریلن زیادہ اور لیپٹن لیول کم ہوتا ہے اور یہ لیول کھانے کی اشتہا بڑھا دیتا ہے۔ خاص طور پر بہت زیادہ کیلوریز (چربی ) والی غذائیں کھانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے جبکہ اپنی خواہشات کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت بھی کم ہوجاتی ہے۔ ان دونوں کا امتزاج بہت خطرناک ہے کیونکہ اس کا نتیجہ موٹاپے کی صورت میں نکلتا ہے جبکہ تھکاوٹ کا احساس الگ ہر وقت طاری رہتا ہے۔یونیورسٹی آف کولوراڈوکی جانب سے کی گئی ایک تحقیق میں 100ایسے شرکا کو شامل کیا گیا، جنھوں نے ہفتے میں صرف5گھنٹے نیند لی، ایک ہفتے بعد جب ان افراد کا وزن کیا گیا تو اس میں تقریباً 2پاؤنڈ کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔نیند کی کمی لیپٹن اور گریلن نامی ہارمونز کو متاثر کرتی ہے۔ لیپٹن چربی کا ایک خلیہ ہوتاہے، جو ہارمون سے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ خلیہ دماغ کو جسم میں توانائی حاصل ہوجانے کا اشارہ دیتا ہے۔لیپٹِن ہارمون جسم کو بتاتا ہے کہ اب مزید کھانے کی ضرورت نہیں، لہٰذا انسان کھانے سے ہاتھ روک لیتا ہے جبکہ گریلن نامی رطوبت ہمارے معدے اور چھوٹی آنت پر اثر انداز ہوتی اور بھوک کو کنٹرول کرتی ہے۔یوں لیپٹن کی کمی اور گریلن کی زیادتی موٹاپے کا باعث بنتی ہے کیونکہ جب گریلن کا لیول بڑھتا ہے تو کھانے کی خواہش بھی بڑھتی ہے۔ اگر یہ ہارمون لگاتار بڑھتا رہے تو آپ کو بھوک زیادہ لگے گی، بھوک کی زیادتی زیادہ کھانے کا سبب بنتی ہےاور زیادہ کھانا موٹاپے کا۔ایک بین الاقوامی تحقیق کے مطابق نیند کی کمی میٹابولک ہارمونز میں تبدیلیوں کا سبب بنتی ہے۔ تحقیق کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ درحقیقت کم نیند کے سبب ہمارے دماغی نیٹ ورک میں تبدیلیاں آنے لگتی ہیں اور یہ ہمیں وزن میں اضافہ کرنے والی خوراک کی جانب لے جاتی ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Please do Not enter your any spam link in the comment box.