سابق وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کی پوتی اور مرتضیٰ علی بھٹو کی صاحبزادی فاطمہ بھٹونے گھوسٹ سکولوں کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پرایک ٹویٹ میں فاطمہ بھٹونے ایک سکول کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ’ یہ کرپشن ہے جس پر عمل ہورہا ہے،یہ گورنمنٹ سرشاہنواز بھٹو بوائزسکول ہے جو کہ سندھ کے شہر سجاول میں واقع ہے۔ (اس کا نام میرے پرداداکے نام پر رکھا گیاہے اور شاید مقامی حکومت کی نگرانی میں ہے)یہ سکول گزشتہ بارہ سالہ سے یونہی بند پڑ اہے“۔اپنے سلسلہ وار ٹویٹ میں فاطمہ نے مزیدتصاویر بھی شیئر کیں ، ایک تصویر کو انہوں نے کیپشن دیا کہ ’یہ کھڑکی ہے جو چھوٹی ہونے کے ساتھ کوڑے اور گندگی سے بھری ہوئی ہے۔اس کی چھت گرچکی ہے،بارہ سال ہوچکے (تقریبا ایک نسل)میں سے کوئی بھی سجاول کے ایک گاوں میں واقع اس سکول میں نہیں پڑھ سکا“۔انہوں نے کہا”سجاول کے رکن قومی و صوبائی اسمبلی کا شمار پاکستان کے انتہائی طاقتور اور امیر ترین طبقے میں ہوتا ہے۔ کیا وہ اپنے علاقے کے لوگوں کو بنیادی حق دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے یا پھر انہیں پرواہ ہی نہیں ہے؟‘واضح رہے کہ سجاول IIکے حلقہ پی ایس 76سے منتخب ایم پی اے محمد علی ملکانی صحت اور ریونیوسمیت دیگر کئی کمیٹیوں کے ساتھ ساتھ سٹینڈنگ کمیٹی برائے سکول ایجوکیشن(میٹرک تک)کے رکن بھی ہیں۔
جمعرات، 20 فروری، 2020
فاطمہ بھٹونے سندھ میں گھوسٹ سکولوں کےخلاف علم بغاوت بلند کردیا
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Please do Not enter your any spam link in the comment box.