Popunder ads

Breaking

بدھ، 19 فروری، 2020

کیا اِدلب کی دلدل ترکی کو غرق کر رہی ہے ؟

ایسا نظر آتا ہے کہ شام کے صوبے ادلب کے معاملے نے ترکی کو پھنسا دیا ہے۔ ادلب اور حلب میں روس کی سپورٹ سے شامی حکومت کا فوجی آپریشن جاری ہے۔ ادھر نیٹو اتحاد بھی یہ باور کرا چکا ہے کہ وہ شمال مغربی شام میں ترکی کے فوجیوں کی ہلاکت کا جواب دینے کے لیے ہر گز مداخلت نہیں کرے گا۔
برسلز میں نیٹو اتحاد کے ایک رکن ملک کے مشن میں کام کرنے والے سفارت کار نے پیر کے روز روسی نیوز ایجنسی "ٹاس" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو اتحاد شمالی شام میں ترکی کے حملے کی صورت میں انقرہ کو عسکری سپورٹ پیش کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
نیٹو کا یہ موقف انقرہ کی جانب سے دی گئی کئی دھمکیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ انقرہ یہ عندیہ دے چکا ہے کہ بشار کی شامی فوج حال ہی میں ادلب اور حلب کے اطراف کنٹرول میں لیے جانے والے علاقوں سے پیچھے نہ ہٹی تو رواں ماہ (فروری) کے آخر میں ترکی فوجی آپریشن کرے گا۔
شام کے صوبوں ادلب اور حلب میں ترکی کی فوجی کمک داخل ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے منگل کے روز بتایا کہ ترکی کا ایک نیا فوجی قافلہ ادلب کے شمال میں کفرلوسین کی سرحدی گزر گاہ کے راستے شام کی اراضی میں داخل ہوا۔ ہے۔ پیر کی شب داخل ہونے والا یہ فوجی قافلہ 70 کے قریب عسکری گاڑٰیوں پر مشتمل ہے۔
اس طرح س طرح دو فروری سے اب تک شامی اراضی میں "کم جارحیت کے علاقے" میں پہنچنے والے ترکی کے فوجی ٹرکوں اور گاڑیوں کی مجموعی تعداد 2225 کے قریب ہو چکی ہے۔ ان گاڑیوں میں ٹینکوں، فوجیوں کی بسوں، بکتربند گاڑیوں اور پہرے کے متحرک کیبنوں کے علاوہ عسکری ریڈار موجود ہیں۔ اسی عرصے کے دوران شام کے صوبے ادلب اور حلب میں تعینات کیے جانے والے ترک فوجیوں کی تعداد 7000 سے زیادہ ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Please do Not enter your any spam link in the comment box.