انڈین پنجاب کی پولیس نے دو پنجابی گلوکاروں پر اپنے ایک گانے میں تشدد اور گن کلچر کو پراموٹ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔
انڈین ٹیلی ویژن چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق سبھدیپ سدھو المعروف سدھو موسے والا اور منکرت اولکھ پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے ایک حالیہ گانے میں تشدد اور بندوق کلچر کو فروع دیا ہے۔
مزید پڑھیں
دہلی ریپ کیس کے مجرموں کی پھانسی ملتوی
Node ID: 456331
انڈیا: تلوار رقص کرتی خواتین اور برفباری میں دلہے کی بارات
Node ID: 456411
’انڈیا میں صرف ہندوؤں کی چلے گی‘: مظاہرین پر فائرنگ
Node ID: 456506
سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس بریندر بھرگاؤ کے مطابق ایف آئی آر تعزیرات ہند کے دفعہ 294، 504 اور 149 کے تحت درج کی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ گانے کو پنجاب کے منسا ضلع کے موسیٰ گاؤں میں موسے والا کے گھر ریکارڈ کیا گیا۔
ان کے مطابق اس گانے کی ایک ویڈیوں کلپ سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی گئی جس میں تشدد اور گن کلچر کو فروع دیا گیا ہے۔
ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ موسے والا کے گانے ’پکھیا پکھیا پکھیا، گن وچ پنج گولیاں‘ میں واضح طور پر تشدد اور گن کلچر کو پروموٹ کیا گیا ہے۔
جمعے کو انڈین پنجاب کے وزیر اعلیٰ ارمندر سنگھ نے پنجابی گانوں میں تشدد اور گن کلچر کے فروع پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔
پولیس کے مطابق موس والا کے گانے ’پکھیا پکھیا پکھیا، گن وچ پنج گولیاں‘ میں واضح طور پر تشدد کو پروموٹ کیا گیا ہے (فوٹو: سوشل میڈیا)وزیر اعلیٰ نے اس عزم ظاہر کیا تھا کہ ان کی حکومت ایسے سنگرز، جو نوجوانوں کو تشدد اور غنڈہ گردی کی راہ پر ڈالنا چاہتے ہیں، سے کوئی رعایت نہیں برتے گی۔
خیال رہے پنجاب اور ہریانہ کی ہائی کورٹ نے پنجاب پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ کوئی بھی ایسا گانا جس میں شراب، منشیات اور تشدد کی ترویج یا حوصلہ افزائی کی گئی ہوں اسے براہ راست شو میں بھی نشر نہ کیا جائیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Please do Not enter your any spam link in the comment box.