Popunder ads

Breaking

پیر، 17 فروری، 2020

رکن سندھ اسمبلی شہناز انصاری کے قتل کا مقدمہ دریا خان مری میں درج

نوشہرو فیروز میں زمین کے تنازعے پر قتل کی جانے والی رکن سندھ اسمبلی شہناز انصاری کے قتل کا مقدمہ ان کے بھائی علی رضا کی مدعیت میں درج کر لیا گیا، پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے میں مقتولہ کے بہنوئی کا بھائی، وقار، یونین کونسل چیئرمین نامزد کیے گئے ہیں۔
مقتولہ کے شوہر حمید انصاری نے روتے ہوئے کہا کہ درخواست کے باوجود پولیس نے سیکورٹی فراہم نہیں کی، ڈی سی نوشہرو فیروز کا کہنا تھا کہ سیکورٹی کی کوئی درخواست نہیں ملی۔ پی پی چیئرمین بلاول بھٹو نے شہناز انصاری کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی ہدایت کر دی ہے، گورنر اور وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام سے واقعے کی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔
مزید پڑھیں: ایم پی اے شہناز انصاری کے قتل میں ملوث مبینہ ملزمہ کو گرفتار
گزشتہ روز شہناز انصاری اپنے بہنوئی ڈاکٹر زاہد کے گھر چہلم میں پہنچی تھیں جہاں ان پر فائرنگ کی گئی، انھیں شدید زخمی حالت میں نواب شاہ اسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ جاں بر نہ ہو سکیں۔ گزشتہ روز انھیں اسماعیل شاہ قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کو تین گولیاں لگی تھیں، واردات کے بعد قاتل بہ آسانی فرار ہو گئے، انھیں کافی عرصے سے جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں، واقعے کے وقت رکن سندھ اسمبلی کے ساتھ کوئی سیکورٹی گارڈ بھی موجود نہیں تھا اور نہ ہی پولیس کی نفری موجود تھی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Please do Not enter your any spam link in the comment box.