Popunder ads

Breaking

جمعرات، 6 فروری، 2020

الیکٹرک رکشہ: ’قیمت زیادہ ہو گی مگر سواری سستی‘

آٹو رکشے میں بیٹھنے سے قبل کرائے پر رکشہ ڈرائیور سے بحث ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ ’ارے بھائی اِدھر ہی تو جانا ہے‘ کا جواب اکثر ’جناب پٹرول اور گیس کے ریٹ بڑھ گئے ہیں‘ کی صورت میں ملتا ہے اور تھوڑی بحث اور گلے شکوؤں کے بعد عموماً قابل قبول کرائے پر اتفاق ہو جاتا ہے۔
پاکستان کے اکثر چھوٹے بڑے شہروں میں لوگ آمد و رفت کے لیے تین پہیوں والی گاڑی استعمال کرتے ہیں جسے آٹو رکشہ کہا جاتا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں رکشوں کی مدد سے کئی لوگ اپنی منزل مقصود پر پہنچتے ہیں۔
حالی ہی میں ایک پاکستانی آٹو کمپنی ’سازگار انجینئرنگ ورکس‘ نے ایک ’ماحول دوست‘ الیکٹرک رکشے کی رونمائی کی ہے۔ پٹرول یا گیس کے بجائے بجلی سے چلنے والا یہ رکشہ تاحال مارکیٹ میں متعارف تو نہیں کروایا گیا مگر خیال ہے کہ اس کی قیمت کسی عام رکشے سے زیادہ ہو گی۔ تاہم کمپنی کے مطابق اس کی سواری سستی پڑے گی۔
اس صنعت سے وابستہ لوگوں کے مطابق حکومت ملک میں الیکٹرک گاڑیاں اور موٹر سائیکل متعارف کرانے کے لیے کوشاں ہے لیکن اعلان کردہ

الیکٹرک رکشے میں کیا ہے؟

الیکٹرک رکشہ کی بیٹری، موٹر اور کنٹرولر درآمد شدہ ہیں مگر باقی تمام پارٹس پاکستان ہی میں تیار کیے گئے ہیں

اسے چارج کیسے کیا جائے گا؟

الیکٹرک رکشے کو پانچ گھنٹوں میں چارج کر کے 170 کلومیٹر تک چلایا جا سکے گا

الیکٹرک رکشے کی سواری سستی پڑے گی؟

الیکٹرک رکشہ کی قیمت روایتی رکشہ سے زیادہ ہو گی تاہم اس کو بنانے والی کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی سواری سستی پڑے گی

بجلی سے چلنے والا رکشہ ’مہنگا ہو گا‘

آمد و رفت سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی

برقی رکشے سے ڈرائیورز سالانہ ڈھائی لاکھ روپے پٹرول اور گیس یعنی فیول کی مد میں بچا سکیں گے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Please do Not enter your any spam link in the comment box.