واشنگٹن — پاکستان میں سماعت سے محروم افراد میں کان کے اندرونی پردے یا کاکلیہ کی امپلاٹیشن بالکل مفت کی جا رہی ہے۔
وائس آف امریکہ اردو سروس کے ایک راؤنڈ ٹیبل پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیپیٹل اسپتال اسلام آباد کے ای این ٹی سرجن ڈاکٹر جواد احمد نے بتایا کہ ان کا اسپتال پاکستان بھر کا وہ پہلا اور واحد سرکاری اسپتال ہے جس میں مستحق افراد کے لیے یہ انتہائی مہنگی سرجری بالکل مفت کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کیپیٹل اسپتال میں آڈیٹری امپلانٹ کا شعبہ 2016 میں قائم ہوا تھا اور اس میں اب تک سماعت سے محروم تین سو مریضوں کا سرجری کے ذریعے علاج کیا جا چکا ہے، جن میں سے دو سو کا علاج بالکل مفت کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے یہ سہولت وفاقی ملازمین یا نادار افراد کے لیے فراہم کی جا رہی ہے جس کے لیے سرجن، ای این ٹی اسپیشلسٹ، سپیچ تھیرپسٹس اور آڈیولوجسٹس پر مشتمل ایک ٹیم مریض کا معائنہ اور ٹیسٹ کرتی ہے جس کے بعد اس کی سرجری کی جاتی ہے۔
ڈاکٹر جواد نے بتایا کہ پیدائش کے بعد دو سال تک بچے کے دماغ میں اسپیچ سینٹر تیار ہو جاتا ہے۔ اگر بچہ سن نہیں رہا تو اس کا اسپیچ سنٹر تیار نہیں ہو گا، جس کے بعد وہ پوری زندگی نہ تو سن سکے گا اور نہ ہی بول سکے گا۔ اس لیے پہلے دو سال میں یہ تشخیص کرنا بہت ضروری ہوتا ہے کہ آیا بچہ سن رہا ہے یا نہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Please do Not enter your any spam link in the comment box.