Popunder ads

Breaking

پیر، 17 فروری، 2020

ایک ایسے ڈاکٹر کی کہانی جس نے گاجر کے سوپ سے ہزاروں بچوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچا لیا


ڈاکٹر ارنسٹ مورو کے نام کو سننے سے کسی شناسا شخص کا خاکہ ہماری آنکھوں کے سامنے سے نہیں گزرتا ہے ۔ اور ہم میں سے بہت سارے لوگ ایسے ہوں گے جنہوں نے یہ نام بھی پہلی بار سنا ہوگا مگر آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے بچوں کے ماہر ڈاکٹر نہ صرف ڈاکٹر ارنسٹ مورو سے واقف ہیں بلکہ وہ ڈاکٹر ارنسٹ مورو کو ایک استاد کے طور پر جانتے اور مانتے ہیں اور اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ انہی کی وجہ سے دنیا کے لاکھوں بچوں کی جان بچانا ممکن ہو سکا ہے-

ڈاکٹر ارنسٹ مورو کا تعلق سولوینیا ہنگری سے تھا انہوں نے اپنی تعلیم کی تکمیل آسٹریلیا میں کیا اور پھر بچوں کے ماہر ڈاکٹر کے طور پر وہیں کے ایک ہسپتال میں بطور چائلڈ اسپیشلسٹ کام کرنے لگے ۔ بچوں کی بیماریوں کا شعبہ اسی زمانے میں میڈیکل کی ایک الگ شاخ کے طور پر شناخت حاصل کر رہا تھا-
 

اس وقت بچوں کی صحت کی حالت بہت مخدوش تھی اور ہر 25 میں سے ایک بچہ کسی نہ کسی بیماری کے سبب موت کے منہ میں جا رہا تھا جن میں سے زیادہ تر بچوں کی موت کا سبب ڈائیریا ہوتا تھا- اس وقت میں ڈاکٹر مورو نے اپنی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے اس بیماری کا ایک سادہ اور آسان علاج دریافت کیا-

ڈاکٹر نے ڈائیریا میں مبتلا بچوں کو اپنا تیار کردہ گاجر کا سوپ پینے کے لیے دیا جس سے جادوئی طور پر ان بچوں کو افاقہ ہوا اور ان کی جان بچ گئی- ڈاکٹر ارنسٹ کے گاجر کے سوپ کی ترکیب کچھ اس طرح تھی پانچ سو گرام گاجر کو اچھی طرح چھیل کر صاف کر کے ابالنے کے لیے رکھ دیں اور اس وقت تک ابالیں جب تک کہ گاجر اچھی طرح نرم نہ ہو جائے- اس کے بعد اس گاجر کے سوپ کو کسی برتن میں چھان لیں اور اگر پانی کم ہو تو اس میں سادہ پانی شامل کر کے ایک لیٹر تک سوپ حاصل کر لیں اور اس میں چٹکی بھر نمک شامل کر دیں-
 

اس کے بعد اس سوپ کو تھوڑا تھوڑا کر کے بچے کو پلایا گیا جس سے سب نے دیکھا کہ ڈائیریا کا مریض بھی اس سوپ سے صحت یاب ہو گیا ۔ سائنسی تحقیقی کے مطابق گاجر کے سوپ میں ایسے اجزا موجود ہوتے ہیں جو کہ آنتوں کی دیواروں کے ساتھ ڈائیریا کے بیکٹیریا کو چپکنے نہیں دیتے ہیں جس کے سبب معدہ تیزی سے روبہ صحت ہوتا ہے-

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Please do Not enter your any spam link in the comment box.