ایران نے کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اپنی جیلوں سے 54 ہزار سے زائد قیدیوں کو رہا کر دیا ہے ان جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی تھے۔
عدلیہ کے ترجمان غلام حسین اسماعیلی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ قیدیوں کے ٹیسٹ کیے گئے اور جن کے ٹیسٹ نیگیٹیو تھے انہیں طویل رخصت دی گئی یعنی ضمانت پر رہا کیا گیا ہے۔
ایسے قیدیوں کو رہا نہیں کیا گیا جنہیں پانچ سال سے زیادہ عرصے کی قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
برطانوی رکن پارلیمان کے مطابق ایرانی نژاد برطانوی امدادی کارکن نازنین زغاری کو شاید جلدی رہا کر دیا جائے گا۔
ایران میں گزشتہ دو ہفتوں میں کورونا وائرس سے 77 لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔
کورونا وائرس کے سبب امریکہ میں سود کی شرح میں کمی
امریکی سینٹرل بینک نے کورونا وائرس کے معاشی اثرات کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات کے پیشِ نظر سود کی شرح میں کمی کردی ہے۔

فیڈرل ریزرو نے اپنے بینچ مارک ریٹ کو 50 فیصد پوائنٹس سے کم کرتے ہوئے ایک اور ایک اعشاریہ پچیس فیصد کے درمیان کر دیا ہے۔
یہ ہنگامی اقدام منگل کو وزارتِ خزانہ کی جی سیون سربرارہ کانفرنس کے بعد کیے گئے۔
خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ اس وبا سے پیدا ہونے والی سست روی ممالک کو کساد بازاری کا نشانہ بنا سکتی ہے۔
ایک بیان میں فیڈرل ریزرو بنک نے کہا کہ امریکی معیشت مستحکم ہے، تاہم کورونا وائرس معاشی سرگرمیوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
آخری بار جب بینک نے کسی ہنگامی اجلاس میں سود کی شرح میں کٹوتی کی تھی تو وہ 2008 کے عالمی مالیاتی بحران کے دوران تھا۔
اس سے پہلے منگل کو آسٹریلیا اور ملائشیا نے بھی شرح سود میں کمی کا اعلان کیا۔
پاکستان میں کورونا وائرس
اس سے پہلے پاکستان میں منگل کو کورونا وائرس کا ایک اور کیس سامنے آنے کے بعد ملک میں کورونا سے متاثر ہونے والی افراد کی کُل تعداد پانچ ہتائی تھی۔
منگل کی صبح وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے پاکستان میں کورونا وائرس کے پانچویں کیس کی تصدیق کرتے ہوئے ٹویٹ کیا تھا۔ پاکستان کے علاقے گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی 45 سالہ خاتون میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ مریضہ کو ہسپتال میں آئسولیشن وارڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے پانچ افراد میں سے تین کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے جبکہ دو کا تعلق کراچی سے ہے۔
نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز کے حکام کے مطابق گلگت بلتستان سے مزید 12 مشتبہ افراد کے خون کے نمونے بھی ٹیسٹ کے لیے حاصل کیے گئے ہیں۔ گذشتہ روز گلگت بلتستان حکومت نے تمام نجی و سرکاری تعلیمی اداروں کو وائرس سے بچاؤ اور حفاظتی اقدامات کے پیش نظر 7 مارچ تک بند کر دیا تھا۔
پاکستان نے صوبہ بلوچستان کے سرحدی علاقے چمن سے ملحقہ افغانستان کی سرحد کو بھی بند کر دیا ہے۔

کورونا وائرس: تشخیص، تحقیق اور علاج

دنیا کو ’غیر یقینی خطرے‘ کا سامنا
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر دنیا کو ایک 'غیر یقینی خطرے' کا سامنا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم کہہ چکے ہیں کہ یہ وائرس'نیا' ہے لیکن درست اقدامات سے اس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔
عالمی سطح پر اس وائرس سے اموات کی تعداد 3000 سے تجاوز کر گئی ہے جن میں زیادہ تر چینی باشندے شامل ہیں۔ تاہم گذشتہ روز کے اعداد و شمار کے مطابق چین کی نسبت دیگر ممالک میں اس وائرس سے متاثرہ افراد میں نو گنا اضافہ ہوا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس نے زور دیا ہے کہ 'ہم اس وائرس کو شکست دے سکتے ہیں۔' ان کا مزید کہنا تھا کہ اس مرض کا خوف اصل مرض سے زیادہ خطرناک ہے۔
انھوں نے کہا کہ کووڈ 19 مرض کا عالمی سطح پر پھیلاؤ 'یک طرفہ عمل' نہیں تھا اور اگر دنیا کے ممالک فوری اور مؤثر طور پر اس کے عدم پھیلاؤ کے اقدامات اپنا تے تو اس سے لڑ جا سکتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ 'اب عملی اقدامات کرنے کے علاوہ کوئی حل نہیں ہے۔'
عالمی ادارہ صحت نے اور کیا کہا
ڈاکٹر ٹیڈروس کا بنیادی مشورہ یہ تھا کہ ہر ملک کو اپنی اپنی صورتحال کو دیکھنا ہوگا کیوں کہ وبا سے نمٹنے کے لیے یکطرفہ طریقہ کار نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ 'ہر ایک ملک کو اپنی اپنی حکمت عملی اپنانا ہوگی لیکن اس کی شروعات اس کے عدم پھیلاؤ کے اقدامات سے کی جانی چاہئے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ 'یہ نیا وائرس مختلف خصوصیات کے ساتھ سامنے آیا تھا' اور عالمی ادارہ صحت کے اندازے کے مطابق یہ ابتک وبا کی صورت اختیار کر سکتا تھا لیکن اس کے عدم پھیلاؤ کے اقدامات نے بظاہر کام کیا اور اس کو وبائی صورت اختیار کرنے سے روکا ہے۔ کیونکہ 62 متاثرہ ممالک میں سے 38 ممالک ایسے ہیں جہاں اس سےمتاثرہ افراد کی تعداد دس یا اس سے کم ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'تقریباً آٹھ ممالک میں دو ہفتوں سے نئے کیسز سامنے نہیں آئے ہیں اور وہ اس وباء پر قابو پانے میں کامیاب ہوئے ہیں جبکہ چین نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ بڑی تعداد میں اس سےمتاثر ہونے کے بعد بھی اس پر قابو پانا ممکن ہے۔
ڈاکٹر ٹیڈروس نہ کہا کہ 'عالمی ادارہ صحت اس کی نگرانی کرتا رہے گا کہ آیا اس وبا کو عالمی وبا قرار دیا جائے یا نہیں۔'
عالمی سطح پر صورتحال کیا ہے؟

اب تک اس وائرس سے دنیا کے 70 ممالک میں تقریباً 90 ہزار افراد متاثر ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر کا تعلق چین کے صوبے ہوبائی سے ہے جہاں سے یہ پھیلا ہے۔
8800 متاثرہ افراد کا تعلق دیگر ممالک سے ہے جبکہ اس وائرس سے متاثرہ 81 فیصد افراد کا تعلق چین، جنوبی کوریا، اٹلی اور جاپان سے ہے۔ چین کے علاوہ کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا دوسرا ملک اٹلی ہے، جہاں گذشتہ روز ہلاکتوں کی تعداد 34 سے بڑھ کر 52 ہو گئی ہے۔ جبکہ 1835 افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
ایران میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی ہلاکتوں کی تعداد 66 ہو گئی ہے۔
جنوبی کوریا میں بھی اس وائرس سے مزید دو ہلاکتوں کے ساتھ کل ہلاکتوں کی تعداد 28 ہو گئی ہے جبکہ ملک میں اس وائرس سے 4000 افراد متاثر ہیں۔
امریکہ میں صحت حکام کے مطابق کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔ جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوا ساز اداروں کو اس وائرس کے خلاف ویکسین تیاری میں تیزی لانے کے لیے کہا ہے۔
برطانیہ میں بھی 39 کیسز کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ وزیر اعظم بورس جانسن نے اس وائرس سے مزید افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
فرانس میں بھی گذشتہ روز 61 نئے کیسز کی تصدیق کی گئی اور ملک میں متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 191 تک پہنچ گئی۔ پرتگال، آئس لینڈ، اردن، تنظانیہ، ارمینیا، لاٹویا، سنیگال اور اندورا میں بھی پیر کو کورونا وائرس سے متاثرہ پہلے کیسز کی تصدیق کی گئی ہے۔
جبکہ قطر، ایکواڈور، لیگزمبرگ،چیک ری پبلک اور ائرلینڈ میں اتوار کے روز کورونا وائرس سے متاثرہ پہلے کیس کی تصدیق کی گئی۔
امراض کے قابو کے حوالے سے یورپی ادارے یورپین سنٹر فار ڈیزز کنٹرول نے اس بات کی تصدیق کی کہ یورپی یونین میں اس وائرس سے خطرے کی حد کو 'اعتدال پسند' سے بڑھا کر 'بلند' کر دی گئی ہے۔
کورونا وائرس کووڈ-19 کتنا مہلک ہے؟
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ یہ وائرس خاص طور پر 60 سال سے زیادہ عمر والوں کو اور ان افراد کو زیادہ متاثر کرتا ہے جو پہلے ہی بیمار ہیں۔ چین میں 44000 سے زیادہ واقعات کے پہلے بتجزیے میں درمیانی عمر کے مقابلے میں انتہائی عمر رسیدہ افراد میں اموات کی شرح 10 گنا زیادہ تھی۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مریضوں میں اس بیماری کی صرف ہلکی علامات ہوتی ہیں اور اموات کی شرح دو فیصد سے پانچ فیصد کے درمیان ہوتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Please do Not enter your any spam link in the comment box.