واشنگٹن — امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنے اور وہاں متحارب فریق کے ساتھ امن معاہدے کا خواہاں تھا۔ سال بھر قبل جب طالبان غیر ملکی افواج کی افغان سرزمین پر موجودگی کے دوران کسی بھی طرح مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے تیار نہ تھے۔ اس عرصے میں قطر کے شہر دوحہ میں مذاکرات کے درجن بھر ادوار کے بعد امن معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں۔ پاکستان کا دعوی ہے کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے اور سہولت کار کا کردار ادا کرنے اس نے پوری صلاحیتیں بروئے کار لائی ہیں۔
دوحہ مذاکرات میں ایسا کیا مختلف تھا کہ وہ کامیابی پر انجام پذیر ہوئے؟ آگے کا راستہ کتنا پیچیدہ ہے اور پاکستان اس بڑی پیش رفت کے بعد خود کو درپیش مسائل میں واشنگٹن سے کس طرح کی مدد کی توقع کر سکتا ہے؟
پاکستان کی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین سید کے مطابق اس سے پہلے مذاکرات کی کوششوں سے موازنہ کیا جائے تو جو واضح فرق نظر آتا ہے وہ ہے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی افغانستان پالیسی میں واضح تبدیلی۔
’’ صدر ٹرمپ نے اپنے کیمپ کے اندر مخالفت کے باوجود دلیرانہ فیصلے کیے۔ میرے خیال میں امریکہ کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو بھی اس طرح کے حل سے مسئلہ تھا اور بعض نے تو مخالفت بھی کی۔ لیکن انہوں نے دلیرانہ فیصلے کیے اور پھرٕ ماضی کی آزمودہ ناکام پالیسیوں کے تجربے سے سبق سیکھا کہ فوجی طاقت مسئلے کا حل نہیں بلکہ سیاسی مذاکرات ہیں‘‘۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Please do Not enter your any spam link in the comment box.