Popunder ads

Breaking

منگل، 3 مارچ، 2020

او آئی سی کا وفد پاکستان کے دورے پر

اسلامی کانفرنس تنظیم (او آئی سی) کا کشمیر سے متعلق سات رکنی وفد تنظیم کے سیکرٹری جنرل کے نمائندہ خصوصی کی سربراہی میں پانچ روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گیا ہے۔
وفد نے قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کے چیئرمین فخرامام سے اسلام آباد میں ملاقات بھی کی ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق دورے کے دوران وفد کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کے متعلق آگاہ کیا جائے گا۔
مزید پڑھیںکشمیر مینجمنٹ گروپ کا نام ایک بار پھر تبدیلNode ID: 448606’کشمیریوں کے لیےآواز اٹھانا تمام اسلامی ممالک کا فرض ہے‘Node ID: 457456’سعودی عرب اور پاکستان ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے‘Node ID: 462556سیکرٹری جنرل کے نمائندہ خصوصی اپنے وفد کے ہمراہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کا دورہ کریں گے۔ جہاں انھیں انڈین افواج کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات سے متعلق بریفنگ دی جائے گی اور متاثرہ خاندانوں سے ملاقات بھی کروائی جائے گی۔
ترجمان دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ’او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے کا دورہ 5 اگست 2019ء کو کیے گئے انڈیا کے غیر قانونی اور یک طرفہ اقدامات کے تناظر میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دورہ جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت پر ٹھوس پیغام ہے جس کا او آئی سی وزراء خارجہ کونسل کے اعلامیے اور سربراہی اجلاس کی قراردادوں میں واضح اظہار موجود ہے۔‘
ترجمان کا کہنا ہے کہ ’خودارادیت کے ناقابل تنسیخ حق کے حصول کی منصفانہ جدوجہد میں او آئی سی نے کشمیری عوام کی ہمیشہ بھرپور حمایت کی ہے۔‘
وفد نے کشمیر کمیٹی کے سربراہ فخر امام سے بھی ملاقات کی ہے (فوٹو: پی آئی ڈی)ترجمان نے مزید کہا کہ پانچ  اگست 2019ء سے او آئی سی انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں بگڑتی صورتحال پر فعال رہی ہے۔ ’او آئی سی اور اس کی انسانی حقوق سے متعلق تنظیم ’انڈیپنڈنٹ پرماننٹ ہیومن رائٹس کمشن‘ (آئی پی ایچ آرسی) نے انڈین اقدامات کی مذمت میں متعدد بیانات جاری کیے اور تنازع کشمیر پر اپنے اصولی موقف کا اعادہ کیا ہے۔‘
5 اگست 2019ءکے بعد سے کشمیر پر او آئی سی رابطہ گروپ کے دو اجلاس ہوچکے ہیں جبکہ 1994ء سے تنظیم نے جموں و کشمیر پر خصوصی رابطہ گروپ بھی تشکیل دے رکھا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Please do Not enter your any spam link in the comment box.