پاکستان کے سرحدی علاقوں کے لوگوں کی اپنی تہذیب و اقدار ہوتی ہیں- شدید گرمی اور شدید سردی کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ ایسی غذاؤں کا استعمال کرتے ہیں جو کہ خشک ہوتے ہیں اور دیر تک خراب نہیں ہوتیں۔ ڈرائی فروٹ ان کی غذا کا سب سے اہم جز ہوتا ہے اور ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کہ شدید سردی کے موسم میں ان کے پاس پہاڑوں میں پڑنے والی برف کے سبب کچھ اگانا ممکنات میں سے نہیں ہوتا ۔ ان کا کلی طور پر انحصار ان کے مویشیوں پر یا گرمی کے موسم میں خشک کی جانے والی غذاؤں پر ہوتا ہے۔ اس لیے اپنے مشکل دنوں کے لیے یہ لوگ بھیڑوں اور بکریوں کے دودھ سے ایک خاص غذا کرت تیار کرتے ہیں یہ کرت شہری علاقے کے لوگوں کے لیے باعث لذت ہوتا ہے تو ان پہاڑی علاقے کے لوگوں کے لیے ہر غذا میں شامل کیے جانے والے جز کی طرح ہوتا ہے- جو ان کو طاقت کے ساتھ ساتھ گرمی اور غذائی ضروریات کی تکمیل کا ایک ذریعہ ہوتا ہے-
کرت کیسے تیار ہوتا ہے کرت بھیڑ یا بکری کے دودھ سے تیار کیا جاتا ہے اس کی تیاری کے لیے دودھ کو پہلے تو دہی میں تبدیل کیا جاتا ہے- اس کے بعد اس دہی کو ایک بوری یا جانور کی کھال میں ڈال کر اس وقت تک پھینٹا جاتا ہے جب تک کہ اس کا سارا پانی اس میں سے جدا نہ ہو جائے- اس کے بعد پانی کو چھان لیا جاتا ہے اور بغیر پانی والے اس آمیزے کو چھوٹے چھوٹے گولوں کی شکل میں خشک کرنے کے لیے رکھ دیا جاتا ہے ۔ کپڑے سے ڈھانپ کر اس کو کئی دن تک خشک کیا جاتا ہے-
|
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Please do Not enter your any spam link in the comment box.