Popunder ads

Breaking

جمعرات، 6 فروری، 2020

16 ملین پاؤنڈ کی شاپِنگ کرنے والی خاتون ضمیرہ حاجی ایوا کے املاک ضبط ہونے کا خطرہ

PA Media
ضمیرہ حاجی ایوا کو یہ بتانا ہوگا کہ انکے پاس اتنی دولت کہاں سے آئی
لندن کے مہنگے ترین شاپنگ مالز میں سے ایک ہیرڈز سے شاپِنگ میں سولہ ملین پاؤنڈز اڑانے والی خاتون نیشنل کرائم ایجنسی کے خلاف اپنی اپیل ہار گئی ہیں جسکے بعد وہ لندن کے مہنگے علاقے میں اپنا عالیشان گھر گنوا سکتی ہیں۔
ضمیرہ حاجی ایوا برطانیہ میں انسداِدِ بدعنوانی کے قانون 'ان ایکسپلینڈ ویلتھ آرڈر' (وہ دولت جس کی وضاحت نہ کی گئی ہو) کی زد میں آنے والی پہلی فرد ہیں اور لندن میں اپنا 15 ملین پاؤنڈ کا گھر اور ایک گالف کورس بچانے کی کوشش کر رہی تھیں۔
ضمیرہ حاجی ایوا کو یہ وتانا ہوگا کہ ان کے پاس اتنی دولت کہاں سے آئی جس سے انہوں نے ہیرڈز کے نزدیک ایک بنگلہ اور برک شائر میں ایک گولف کورس خریدا ہے۔

اس بارے میں

Getty Images
ضمیرہ حاجی ایوا کا عالیشان مکان
ضمیرہ حاجی ایوا کے شوہر آذربائیجان میں بینکر ہیں اور غبن کے جرم میں جیل میں ہیں۔ یہ دونوں میاں بیوی کسی بھی طرح کے غلط کام کی تردید کرتے ہیں اور ضمیرہ حاجی ایوا پر برطانیہ میں ابھی تک کسی معاملے میں بھی فرد جرم عائد نہیں کی گئی ہے۔
بدھ کو ان کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے جج نے ضمیرہ حاجی ایوا کو یہ کیس سپریم کورٹ میں لے جانے کی اجازت نہیں دی اور ساتھ ہی انہیں نیشنل کرائم ایجنسی کے مقدمے کی فیس یا خرچہ بھی ادا کرنے کا حکم دیا۔
اپنے فیصلے میں لارڈ جسٹس برنیٹ اور دیگر دو سینیئر ججوں نے کہا کہ ضمیرہ حاجی ایوا پر انسداِدِ بدعنوانی کے نئے قانون 'ان ایکسپلینڈ ویلتھ آرڈر' (وہ دولت جس کی وضاحت نہ کی گئی ہو) کے تحت کارروائی درست تھی۔
اس نئے قانون کے تحت عدالت کو یہ اطمینان کرانا ضروری ہوتا ہے کہ کسی پر یہ شبہہ کرنے کے مناسب شواہد موجود ہیں کہ اس نے جو املاک خریدی ہیں وہ اس کی آمدنی سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
Getty Images
ضمیرہ حاجی ایوا نے دس سال میں ہیرڈز سے سولہ ملین پاؤنڈز کی شاپِنگ کی تھی
نیشنل اکنامک کرائم سینٹر کی سارہ پرٹچارڈ کا کہنا ہے کہ یہ ایک اہم فیصلہ ہے اور عدالت کے اس فیصلے سے مستقبل کے ایسے معاملات کے لیے ایک مثال قائم ہو گئی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اب حکام بدعنوان غیر ملکی حکومتوں کے ساتھ تعلقات رکھنے والے ایسے مشتبہ جرائم پیشہ افراد، خاص کر کہ ان کے اہل خانہ کے اثاثے منجمد کر سکتے ہیں جو لندن میں کروڑوں پاؤنڈ کے علیشان گھروں میں رہتے ہیں۔

اب آگے کیا ہوگا

اب ضمیرہ حاجی ایوا کے پاس سات دن ہیں اس دوران انہیں نیشنل کرائم ایجنسی کو اپنی دولت اور آمدنی کی تفصیلات مہیا کرنی ہوں گی اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکیں تو ایجنسی ان کے اثاثے منجمد کر سکتی ہے۔
اگر وہ اپنی آمدنی کی تفصیلات مہیا کر دیتی ہیں تو پھر ایجنسی 60 دنوں میں ان کا جائزہ لیکر یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا یہ تفصیلات جائز ہیں یا ان کے اثاثے منجمد کیے جانے چاہییں۔
اگر ایجنسی کو لگا کہ یہ اکاؤنٹس جعلی یا جھوٹے ہیں تو ان پر مقدمہ چلا کر انہیں جیل بھیجا جا سکتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Please do Not enter your any spam link in the comment box.