لاہور:(02 فروری 2020)انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا میں تہلکہ مچانے والی ارفع کریم رندھاوا کاپچیسواں واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے،ارفع کریم نے نوبرس کی عمرمیں مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈپروفیشنل امتحان پاس کر پاکستان کا نام روشن کیا۔
دوفروری انیس سو پچانوے کو فیصل آباد میں ایک ننھی سی کلی کھلی جس کا نام ارفع کریم رندھاوا رکھا گیا۔ ارفع کریم نے صرف نو سال جو بچوں کے کھیلنے کودنے کے دن ہوتے ہیں ،کی عمر میں مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل کی سند حاصل کر کے دنیا بھر میں پاکستانیوں کا سرفخر سے بلند کردیا۔
اس عظیم کامیابی پر دو ہزار پانچ میں مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے ارفع کریم کو مائیکرو سافٹ ہیڈکوارٹر بلا کر خصوصی ملاقات میں انہیں سند سے نوازا ۔بچپن سے اپنی حیران کن صلاحیتوں سے سب کو گرویدہ بنانے والی ارفع کریم نے فاطمہ جناح گولڈ میڈل، سلام پاکستان یوتھ ایوارڈ اور صدارتی پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سمیت کئی اعزازات حاصل کرتے ہوئے والدین کا نام روشن کیا۔
پاکستان کی سربلندی کے لیے اپنی خدمات پیش کرنا ننھی عرفہ کا مشن تھا لیکن صرف تیرہ سال کی عمر میں انہیں ذہنی پیچیدگی کا مرض لاحق ہوا اور اسی میں دل کا دورہ پڑنے سے وہ کومہ میں چلی گئیں۔
بل گیٹس نے ارفع کریم کو امریکہ لے جا کر علاج کروانے کی پیشکش بھی کی لیکن وہ سفر کے قابل نہ تھیں اور چودہ جنوری دو ہزار بارہ کو خالق حقیقی سے جاملیں ۔
حکومت پاکستان نے ان کی وفات کے بعد ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا اور حکومت پنجاب نے لاہور کے آئی ٹی پارک کو ارفع کے نام سے موسوم کررکھا ہے،ارفع کریم فیصل آباد کے گاوں چک چار ج ب رام دیوالی میں آسودہ خاک ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Please do Not enter your any spam link in the comment box.